Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 12)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 12)
Meri Hayat By Zarish Hussain
ماحر سکندر کی جارحیت پر خود کو محفوظ رکھنے کی ہر ناکام کوشش سے ہلکان ہو کر وہ بے بسی سے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تو وہ یکدم اسے چھوڑ کے پیچھے ہٹ گیا….ناصرف پیچھے ہٹ گیا بلکہ فوراً کمرے سے ہی نکلتا چلا گیا…….پیچھے وہ خود کو صحیح سلامت پا کے کچھ لمحے بے یقینی سے ساکت رہی پھر اگلے ہی پل اٹھ کے فوراً دروازہ لاک کیا اور بستر پر بیٹھ کر رونے لگی..کچھ دیر بعد زور سے دروازہ بجا تو وہ خوفزدہ نظروں سے دروازے کو دیکھنے لگی،،،،، مگر اگلے ہی پل دستک کے ساتھ
ملازمہ کی بھی آواز سنائی دی تو اسکی جان میں جان آئی…..”
حیا بی بی آپ ٹھیک ہیں…؟؟اسکے دروازہ کھولنے پہ ملازمہ نے گھبرائے ہوئے لہجے میں استفسار کیا…”
ہاں ٹھیک ہوں…..خود کو کمپوز کرتے ہوئے جواب دیا
اس نے آپکو کوئی نقصان تو نہیں پہچایا جی……؟ملازمہ نے کھوجتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
نہیں…. لیکن وہ آیا کیسے اندر…… چوکیدار کو منع کیا تھا نا میں نے کہ کسی شخص کو اندر نا آنے دے…پھر وہ کیسے گھس آیا…… اس نے یاد آنے پر غصے سے پوچھا…….”
حیا بی بی وہ تین لوگ تھے انکے پاس بندوقیں تھیں زبردستی گھس آئے تھے…. پہلے انہوں نے سراج کو مارا اور پھر اسے مالی اور مجھے ہم تینوں کو ڈرائنگ روم میں بٹھا کے ہمارے اوپر بندوقیں تانے کھڑے رہے اور پھر ایک ماسک والا بندہ آپ کے کمرے کی طرف گیا…..ہمیں معاف کر دیں بی بی ہم چا کے بھی انہیں روک نہیں سکے……ملازمہ نے تفصیل بتاتے ہوئے شرمندہ سے لہجے میں صفائی دی…….”
“ٹھیک ہے جاؤ تم…..حیات نے سر ہلاتے ہوئے دروازہ بند کر دیا اب وہ خود کو کچھ حد تک سنبھال چکی تھی مگر دل دھڑک رہا تھا اور ٹانگیں ابھی بھی ہلکی ہلکی لرز رہی تھیں….کچھ دیر بیڈ پر بیٹھی وہ گہرے سانس لیتی رہی پھر مون کا خیال آنے پہ اٹھی اور کمرے کا درمیانی دروازہ کھول کر مون کے کمرے میں جھانکا وہ سکون سے اپنے چھوٹے سے بیڈ پر سو رہا تھا شکر تھا کہ اس ساری کاروائی کے دوران وہ جاگا نہیں تھا، وہ اپنے بیڈ پر لیٹ گئی پہلی بار بابا کی غیر موجودگی میں وہ خود کو غیر محفوظ تصور کر رہی تھی…..”
مجھے جلد از جلد بابا کو اس سب کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا…..دولت، شہرت اور طاقت کے نشے میں ڈوبے اس شخص سے کچھ بعید نہیں وہ کسی بھی حد تک جا سکتا تھا….اب خاموش رہنے سے مسئلہ حل نہیں ہونے والا تھا وہ شخص کسی آسیب کی طرح اس کے پیچھے پڑ گیا……
آج تو اس نے اسے نقصان نہیں پہچایا تھا…. مگر کیا
گارنٹی تھی کہ وہ دوبارہ ایسی کوئی حرکت نا کرتا اب اسے روکنا بے حد ضروری تھا….وہ دل ہی دل میں بابا کی جلد واپسی کیلئے دعا مانگنے لگی….مگر یہ نہیں جانتی تھی کہ اسکی یہ دعا صبح ہی قبول ہونے والی تھی… اسی سوچوں میں گم بالآخر رات کے آخری پہر نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا…….
صبح فجر کے وقت اسکی آنکھ کھلی تھی نماز پڑھنے اور قرآن مجید کی تلاوت کے بعد وہ کمرے سے نکل آئی…پورے گھر میں خاموشی چھائی ہوئی تھی….. وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آ گئی پھر ریلنگ پر جھک کر ارد گرد کا جائزہ لینے لگی….سورج ابھی نہیں نکلا تھا… ٹھنڈی فضا پر خواب ناک اندھیرا چھایا ہوا تھا،پنچھی قطار در قطار آسمان پر سفر عازم تھے……آس پاس کے بنگلوں اور قطاروں میں لگے درختوں پر مکمل سکوت چھایا ہوا تھا…..بظاہر اسکی نظریں اندھیرے میں نظر آتے دھندلے مناظر پر تھیں مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا…..کچھ دیر بعد وہ واپس کمرے میں آئی اور بک کھول کے پڑھنے کی کوشش کرنے لگی مگر ذہن پر بوجھ تھا، وہ چاہ کے بھی اپنے ذہن کو ریلیکس نہیں کر پا رہی تھی جبکہ پڑھنے کیلئے مائنڈ کا ریلیکس اور ریفریش ہونا بہت ضروری ہوتا ہے….”
“ابھی وہ پڑھنے کی کوشش کر ہی رہی تھی کہ منہ اندھیرے ہی بابا کا امریکہ سے فون آ گیا، اور انہوں نے بوجھل لہجے میں اطلاع دی کہ سائرہ عبدالرحمان آپریشن سے پہلے ہی اچانک رگ پھٹ جانے کے باعث انتقال کر گئی ہیں، اور وہ اسکی ڈیڈ باڈی لے کر پاکستان آ رہے ہیں…وہ سن ہو کر رہ گئی تھی… آنکھوں سے خود بخود آنسو بہنے لگے تھے….. پھر سورج نکلنے تک یہ خبر گھر کے ملازمین کے ذریعے باہر پہنچی تو آس پاس کے بنگلوں سے عورتیں بھی آنے لگیں….ان میں سب سے پہلے فضا اور فارس پہنچے…….فضا نے اسے ایک پل کیلئے بھی اکیلا نہیں چھوڑا وہ اسکے ساتھ ساتھ رہی…اسکی دلجوئی اور خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ مہمانوں کو بھی نپٹاتی رہی،دوپہر تک رحمت بوا بھی پہنچ گئیں وہ بھی سخت آزردہ تھیں مون کو فارس بہلا کر اپنے ساتھ لے گیا تھا…. کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ اپنی ماں کی میت دیکھے اور اسکے ذہن پر کوئی اثر پڑے ، اگلے چوبیس گھنٹوں کے تھکن آمیز انتظار کے بعد عبدالرحمان سائرہ کی ڈیڈ باڈی لے کر پاکستان پہنچے…تھکے تھکے نڈھال سے عبدالرحمان نے جب گھر میں قدم رکھا تو حیات روتے ہوئے بھاگ کے ان سے لپٹ گئی…..وہ ضبط سے کھڑے اسے سینے سے لگائے دلاسہ دیتے رہے….انکی آنکھیں سرخ تھیں….شائد پہلے روتے رہے تھے……کفن دفن کے انتظامات تیزی سے ہوئے….شام تک سائرہ عبدالرحمان کو سپرد خاک کر دیا گیا…. ارتضیٰ حسن بھی جنازے میں شامل ہوا تھا مگر جنازے کے بعد واپس چلا گیا تھا…”
“حورین تو نہیں آسکی مگر اسکی ماں اور بھابھی تعزیت کیلئے آئی تھیں… حورین نے فون پر اس سے افسوس کیا…..مگر اس سب میں فضا بھابھی نے اس کا بہت ساتھ دیا تھا…آج چوتھا دن تھا مگر وہ مسلسل حیات کے ساتھ رہ رہی تھی…آدھا گھنٹہ پہلے وہ حیات کو بتا کر اپنے گھر چکر لگانے گئی تھیں…پندرہ منٹ بعد جب وہ واپس آئیں اور حیات کو سوتے ہوئے پایا تو کچن میں جا کے بوا کی ہیلپ کرنے لگی جو چوتھے دن سے مسلسل کچن میں لگی ہوئی تھیں کیونکہ عبدالرحمان صاحب کا حلقہ احباب خاصا وسیع تھا سو تعزیت کیلئے آنے والے مہمانوں کا خاصا رش لگا ہوا تھا….
حیا اٹھ گئی سو کر تم…..!!فضا بھابھی روم میں آتے ہوئے بولیں..
جی بھابھی…..آپ ہو آئیں اپنے گھر سے… حیات جو ابھی ابھی باتھ روم سے شاور لے کر نکلی تھی ہیئر ڈرائر سے بال ڈرائی کرتے ہوئے بولی…….!!کاسنی رنگ کے سوٹ میں اس کا نکھرا نکھرا گلاب جیسا چہرہ اور دلکش سراپا خوب جچ رہا تھا…..
ہاں ہو آئی ہوں ….فارس اور حسن بھی میرے ساتھ آئے ہیں…. ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں انکل نے تمہیں بلانے کو کہا ہے…..
ارتضیٰ سر آئے ہیں…!!ڈرائیر کا بٹن بند کرتے اس نے چونک کر بھابھی کو دیکھا….
ہاں فلحال تو سائرہ آنٹی کی تعزیت کیلئے ہی آئے ہیں ….اس نے کچھ زومعنی انداز میں کہا…..”
فلحال مطلب……؟؟الجھ کر پوچھا
کچھ نہیں آؤ چلیں….. انہوں نے ہلکا سا مسکرا کے ٹالا
تو حیات نے بھی ان کے ذومعنی لہجےپر توجہ نہیں دی اور سلیقے سے سر کو دوپٹے سے کور کرتی وہ فضا
بھابھی کے ساتھ ڈرائنگ روم میں آئی،تو ارتضیٰ جو فارس کے ساتھ سامنے ہی صوفے پر بیٹھا تھا حیات عبدالرحمان کو دیکھتے ہی اسکی سیاہ آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں….. نظروں کا تبادلہ ہوا حیات نے فوراً نظریں جھکا لیں….
اگرچہ وہ ہینڈسم تھا مگر حیات عبدالرحمان اسکے شخص کے عشق میں مبتلا ہرگز نہیں تھی مگر اس سے متاثر ضرور تھی،اور دل میں عزت بھی بے تحاشا تھی اس کیلئے، پھر جب سے اس نے پرپوز کیا تھا اور اپنے جذبات اس پر آشکارا کیے تھے تب سے وہ اس شخص کو دل میں جگہ دے چکی تھی، اب یہ دل ایک الگ ہی طرز میں ارتضیٰ حسن کیلئے دھڑکنے لگا تھا……. “
وہ اسکی طرف نظریں اٹھا کے دیکھ نہیں پا رہی تھی.. کیونکہ اسکی نگاہوں سے جھلکتی چاہتوں کی سرخیاں اسے نروس کر رہی تھیں…اسکی اس نروسنس کو فضا اور فارس بغور نوٹ کر رہے تھے…کئی بار فارس نے معنی خیز شرارتی نظروں سے ارتضیٰ کی طرف دیکھا بھی مگر وہ نظر انداز کر گیا…..
ارتضیٰ کی چمکتی ہوئی نگاہیں وقفے وقفے سے حیات پر ہی اٹھ رہی تھیں جو انکے سامنے والے صوفے پر بیٹھی تھی، اور فضا,فارس کی باتوں کے جواب میں ہوں ہاں کر رہی تھی مگر خود پر ارتضیٰ سر کی اٹھنے والی نگاہوں کی تپش کو بھی بخوبی محسوس کر رہی تھی…..”
ارتضیٰ پہلے تو وقفے وقفے سے اسے دیکھ رہا تھا مگر پھر فارس کی معنی خیز نگاہوں کو سمجھتے اس نے اپنی بے اختیاری کو کنٹرول کر لیا اور پہلے کی طرح سنجیدہ نظر آنے لگا…..
عبدالرحمان صاحب اس وقت وہاں نہیں تھے وہ اپنی کوئی کال سننے باہر گئے تھے…کچھ دیر بعد عبدالرحمان صاحب وہاں آئے تو ارتضیٰ حسن کے سنجیدہ چہرے پر اور بھی سنجیدگی چھا گئی….فارس بھی سنبھل کر بیٹھ گیا….” فارس فضا اور عبدالرحمان ہی آپس میں باتیں کرتے رہے جبکہ وہ دونوں زیادہ تر خاموش بیٹھے رہے …. عبدالرحمان کو ارتضیٰ کافی پسند آیا تھا جب انہیں یہ پتا چلا کہ وہ اسی یونی میں پڑھاتے ہیں جس میں انکی بیٹی پڑھتی ہے تو انہوں نے خوشی کا اظہار کیا…..
آدھا گھنٹہ وہ لوگ بیٹھے رہے پھر انکے جانے کے بعد حیات بھی اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی..دو دن بعد پیپر تھا مگر اس کا پڑھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا سو بستر پر لیٹ گئی…..”
ماحر کے بعد اب تم بھی رہتی تھی اسی طرح کے کارنامے کر کےنیوز کی ہیڈ لائن بننے کیلئے….
فاریہ ڈائننگ ٹیبل پر اکیلی بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی جب فائزہ سکندر وہاں آئیں اور ہاتھ میں پکڑا اخبار اسکے سامنے پھینکتے ہوئے غصے سے گویا ہوئیں…..”
واٹ ہیپنڈ مام…؟؟ فاریہ کا منہ میں بریڈ پیس ڈالتا ہاتھ رک گیا……”
خود دیکھ لو…..وہ دانت پیس کر بولیں تو فاریہ نے سامنے پڑے اخبار کو اٹھایا شوبز کے صفحے پہ نظریں دوڑائیں تو اسکی تصویر کے ساتھ جلی حروف میں خبر لگی ہوئی تھی معروف فلم سٹار ماحر سکندر کی بہن فاریہ سکندر کل رات کو کراچی کے مشہور ہوٹل ریجنٹ پلازہ میں اپنی فرینڈز کے ساتھ ڈنر کرنے گئی ہوئی تھی جہاں انہوں نے ویٹر کی معمولی سی غلطی پر نا صرف غصے میں ویٹر کو تھپڑ مارا بلکہ ہوٹل کی قیمتی پلیٹیں بھی توڑیں…….ان جیسی بااثر ہستیوں کا اس قسم کی حرکتیں کر کے خود کو خبروں کی زینت بنوانا معمول بن چکا ہے…..اسطرح کی اور بھی کئی باتیں لکھی ہوئی تھیں….فاریہ نے منہ بنا کے اخبار سائڈ پر رکھا اور جوس اٹھا کے پینے لگی….چہرے پر مجھے فرق نہیں پڑتا والے تاثرات تھے……”
کیا ضرورت تھی ایسی حرکت کر کے نیوز میں آنے کی
اسکے انداز نے فائزہ سکندر کا غصہ بڑھا دیا……
او کم آن مام میں نے جان بوجھ کر تھوڑی کیا اس ویٹر نے جوس گرا کے میرا ڈریس خراب کر دیا تھا….اور رہی نیوز کی بات تو یہ میڈیا والے تو ہماری فیملی کی ٹوہ میں رہتے ہیں…کہیں ذرا سا کچھ ہوا نہیں… اور فوراً خبر لگا دی…..ان کو تو ہماری فیملی کی خبریں لگا کے اپنے اخبار کی ریٹنگ بڑھانی ہوتی ہے….. دیکھا نہیں آپ نے پچھلے دنوں رشمی نیازی کی برتھڈے پارٹی پر ماحر بھائی نے اس نیو اینٹری تھرڈ کلاس ایکٹر کو ایک تھپڑ کیا مار دیا ان میڈیا والوں نے خوب مرچ مصالحہ لگا کے پیش کیا….مگر ہوا کیا… بھائی کی پبلسٹی اور بڑھ گئی…اور ان سالے میڈیا والوں کے ہاتھ کیا آیا….ٹھینگا…..وہ چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے تمسخرانہ انداز میں ہنسی….”
“تمہارے بھائی نے صرف ایک تھپڑ رسید نہیں کیا تھا اچھی خاصی پٹائی کی تھی اسکی، اور یہ غنڈوں والی لینگویج کیوں یوز کر رہی ہو…..اپنی غلطی ماننے کے بجائے میڈیا کو کوسنے اور لفظ سالا یوز کرنے پہ فائزہ سکندر نے اسے خشمگیں نگاہوں سے گھورا…….”
“سو واٹ مام اس طرح کے کام اکثر سپر سٹارز کرتے رہتے ہیں… بھائی تو ہمیشہ سے ایسے ہی پھڈوں میں ملوث پائے جاتے رہے ہیں….یہ کونسی انوکھی بات ہے..ویسے بھی اسطرح کے کاموں کے بعد بھی انکی پبلسٹی گھٹتی نہیں ہے بلکہ اور بڑھ جاتی ہے،اور رہی بات میری لینگویج کی تو یہی لینگویج آپ کے تینوں بیٹے موویز میں یوز کرتے ہیں….. لاپرواہی سے کہتے ہوئے وہ ساتھ رکھے اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہو گئی……
” اپنے بھائیوں کی بات چھوڑو مگر تم سدھر جاؤ فاریہ دو ہفتوں بعد تمہاری شادی ہے….اور میں نہیں چاہتی اسطرح کی خبریں تمہارے متعلق میڈیا میں آئیں اور تمہارے سسرال والوں تک پہنچیں…..وہ اب تبہیہ انداز میں کہہ رہی تھیں…….
“اوہو مام فکر مت کریں…..یہ کوئی پہلی خبر تھوڑی ہے جو میرے متعلق آئی ہے…. اسطرح کی ہلکی پھلکی خبریں تو بہت بار میرے متعلق آئیں… اصفہان اور ماموں کی فیملی ہمیشہ باخبر رہی ہے….آپکی طرح کوئی بھی ان فضول قسم کی میڈیا کی بکواس کی پروا نہیں کرتا…بس آپ کو ہی ٹینشن ہو جاتی ہے
ڈھٹائی کی انتہا تھی…. فائزہ سکندر افسوس سے اپنی لاڈلی بیٹی کو دیکھ کر رہ گئیں…..”
مس حیات عبدالرحمان کیسی ہیں آپ…..؟؟وہ جو بیڈ پر لیٹی واٹس ایپ میسجز چیک کر رہی تھی کہ اسے آن لائن دیکھ کے ارتضیٰ حسن کا میسیج آیا……
“میں ٹھیک ہوں سر آپ کیسے ہیں….”دھڑکتے دل سے اس نے ٹائپ کیا…. ارتضیٰ کی کال یا میسج پہ ہمیشہ اسکی ہارٹ بیٹ فاسٹ ہو جاتی تھی……
“کل والے پیپر کی تیاری ہو گئی….؟؟وہ اسکا آپ کیسے ہیں نظر انداز کر کے اگلا سوال پوچھ رہا تھا…..
“پہلے تو لگتا تھا سب یاد ہے…مگر کچھ دیر پہلے بک کھول کے دیکھا تو ایسا لگ رہا تھا جیسے پہلی بار پڑھ رہی ہوں…بہت دنوں سے کھول کے دیکھا نہیں تھا نا اسلئیے…..بہت ٹینس ہوں…..ایک فرینڈ کی طرح بے تکلفی سے لکھ دیا….
” میسج سین ہونے کے پانچ منٹ تک کوئی رپلائی نہیں آیا تو وہ بددل ہو کے آف لائن ہونے کا سوچنے لگی مگر اسکو ٹائپ کرتا دیکھ کے رک گئی…
تو اب…..؟؟دو لفظی میسیج کے آگے سوالیہ نشان تھا…
حیات عبدالرحمان کو سمجھ نہیں آیا کہ اب جواب میں کیا لکھے….کیونکہ جو اس کا دل اسوقت چاہ رہا تھا وہ کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہی کیونکہ ڈر تھا اگر وہ برا مان گیا تو….شادی پسندیدگی کی بات اپنی جگہ مگر وہ پڑھائی کے معاملے میں اصول پسند اور سخت انسان تھا یہ بات وہ اچھے سے جانتی تھی….
“کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے رسک لینے کا فیصلہ کیا اور ڈرتے ڈرتے ٹائپ کیا…اگر آپ ہیلپ کر دیں تو…”
کس قسم کی ہیلپ…..پڑھانا ہے اب آپکو…..؟؟
نہیں پڑھانا نہیں….”
تو پھر……؟؟
سائیکالوجی آپ کا سبجیکٹ ہے نا…تو اس کا پیپر بھی آپ نے بنایا ہو گا…..ہمت کرتے ہوئے لکھا…نجانے کیسا ری ایکشن ہوگا….
“تو آپ کیا چاہ رہی ہیں کل والا پیپر آپکو ابھی دکھا دوں….اسکی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے پوچھا…..
جی…….”شرمندہ سے انداز میں جی لکھ کے سینڈ کر دیا…..”جواباً سین ہونے کے بعد خاصی دیر تک خاموشی رہی تو وہ اسے مایوسی+شرمندگی ہونے لگی
“آپ جانتی ہیں….میں چیٹنگ کے سخت خلاف ہوں پھر بھی آپ مجھ سے اس قسم کی ہیلپ چاہ رہی ہیں..بڑے افسوس کی بات ہے……. میرے دل میں آپ کیلئے کیا جذبات ہیں…آپ کتنی امپورٹینٹ ہیں میرے لئیے یہ بات اپنی جگہ مگر میں اپنے اصول نہیں توڑ سکتا سوری……..خاصی دیر بعد جو میسیج آیا اسے پڑھ کے حیات عبدالرحمان پر گھڑوں پانی پڑ گیا اسے بے حد شرمندگی ہوئی اور خود پر بہت غصہ آیا کہ آخر اس نے ارتضیٰ سر سے یہ بات کہی کیوں….وہ کوئی نالائق سٹوڈنٹ نہیں تھی….اگر پیپر اسکی توقع کے مطابق اچھا نا ہوتا تو بھی فیل تو وہ ہرگز نہیں ہو سکتی تھی اتنا تو خود پر یقین تھا اسے…پھر کیا ضرورت تھی ارتضیٰ حسن سے اسطرح کی ہیلپ مانگ کر خود کو اسکی نظروں میں نالائق ثابت کرنے کی….
اسے اپنی کہی بات پہ اتنی شرمندگی اور دکھ ہوا کہ ارتضیٰ حسن کا میسیج سین کر کے بنا کوئی جواب دیے آف لائن ہو گئی اور گہری سانس بھرتے ہوئے ساتھ رکھی سائیکالوجی کی بک اٹھا لی….پڑھنے کی کوشش کرنے لگی مگر دماغ پر بوجھ مزید بڑھ گیا تھا…….
“دس منٹ بعد ساتھ رکھا موبائل بجنے لگا اس نے فوراً اٹھا کے دیکھا تو ارتضیٰ حسن کا نام جگمگا رہا تھا…”
اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا…مگر اس بار دھڑکنے کی وجہ اور تھی….اور وہ تھی اپنی کہی بات کی بے تحاشا شرمندگی….تبھی کال اٹینڈ نہیں کی…والیوم آف کر دیا…..دو فل کالز آنے کے بعد اگلے منٹ میسیج شو ہوا…اس نے اوپن کیا تو لکھا تھا واٹس ایپ چیک کرو….اس نے فوراً واٹس ایپ آن کیا…اور جو چیز اسکے سامنے آئی اس نے اسے حیرانی+خوشی سے دو چار کر دیا……وہ تھا سائیکالوجی کا کل ہونے والا پیپر
“خوشی خوشی سارے سوال نوٹ کیے..اور پر سکون ہو کے سو گئی مگر صبح اٹھنے کے بعد پیپر دینے کا ارادہ بدل دیا….اب یہ اپنے کہے کی شرمندگی تھی یا ارتضیٰ حسن کے کہے کی مگر وہ پیپر پر نہیں گئی اور اپنا سیل بھی آف رکھا تاکہ وہ کنٹیکٹ نا کر سکے فلحال…..اس پیپر کو چھوڑ کے وہ لاسٹ والے کی تیاری کرتی رہی…ارادہ نیکسٹ سمسٹر میں دینے کا تھا……….
“سارا دن موبائل آف رکھنے کے بعد رات کو اس نے آن کیا ارتضیٰ حسن کی طرف سے کوئی میسج یا کال نوٹیفکیشن نا پا کے اس نے شکر ادا کیا،اسی وقت حورین کی کال آنے لگی،،آدھا گھنٹہ اس سے بات کی،پھر ہلکے پھلکے ڈنر کے بعد وہ پڑھنے بیٹھ گئی, فضا اس سے مطمئن ہو کر اپنے گھر جا چکی تھی،جبکہ مون کل سے بابا کے کمرے میں سو رہا تھا…وہ اپنی ماں کو مس کرنے لگا تھا اسلیئے عبدالرحمان صاحب اسے اپنے کمرے میں سلانے لگے تھے….عشا کی نماز کے بعد روز کی طرح سورت ملک پڑھی….کئی سال پہلے گرینی نے قرآن پڑھتے ہوئے اسے بتایا تھا کہ سورت ملک قبر کے عذاب سے بچاتی ہے اس لئے وہ اس میں کبھی ناغہ نہیں کرتی تھی..روز مرہ کے معمولات سے فارغ ہو کر وہ سونے کیلئے لیٹی تو ٹوں ٹوں کی آواز نے کمرے کا سکوت توڑا….اس نے کروٹ بدل کے موبائل اٹھایا
ہیلو……اس نے سیدھے لیٹتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا…..
ہاو آر یو مس…طنز بھری آواز آئی تو حیات عبدالرحمان کا دل جیسے ڈوبنے لگا،یہ آواز یہ سرد طنزیہ لہجہ جسے وہ گھر میں ہونے والے سانحے کی وجہ سے بھلا بیٹھی تھی،مگر وہ آسیب آج وارد ہو گیا تھا،وہ بوکھلا کر اٹھ بیٹھی تھی….
کک…کون…؟؟بے تحاشا دھڑکتے دل کے ساتھ اٹکتے ہوئے پوچھا……
کیوں سٹیپ مدر کی موت نے اتنا شاک دیا ہے جو مجھ جیسی اتنی اہم ہستی کو بھی بھلا بیٹھیں آپ، جبکہ ماحر سکندر خان کو کوئی بھول جائے یہ نا تو آسان ہے اور نا مشکل، بلکہ نا ممکن ہے……سرد آواز میں کہا گیا….
سوری رانگ نمبر….اس نے کال ڈراپ کرنی چاہی مگر وہ فوراً اس کا ارادہ جان گیا تبھی دھمکانے والے انداز میں کہا میری کال کاٹنے اور اپنا فون آف کرنے کی غلطی مت کرنا ورنہ جو بات کرنے کیلئے تمہیں فون کیا ہے وہ بات بیس منٹ بعد تمہیں فیس ٹو فیس سننی پڑ جائے گی” …..وہ تیز لہجے میں بولا”
مجھے آپکی کوئی فضول بات نہیں سننی… نا میں اجنبیوں سے بات کرنا پسند کرتی ہوں وہ تلخ لہجے میں بولی…..”
ہائیں….اجنبی….دوسری طرف پہلے حیرانگی بھری آواز میں کہا گیا اور پھر قہقہہ بلند ہوا،اسکی پیشانی پر شکنیں پڑی گئیں…”
لگتا ہے سوتیلی ماں کی موت نے دماغ پر برا اثر ڈالا ہے جو مجھ جیسا مشہور و معروف حسین صورت بندہ آپکی یاداشت سے غائب ہو گیا ہے….”خیر کوئی بات نہیں خاصا حسن پرست بندہ ہوں تو حسین چہروں کو رعایت دیتا ہوں…ابھی آ کر آپکی یادداشت واپس لانے میں ہیلپ کروں…..بڑا پر اعتماد لہجہ تھا…..”
آپ کیا سمجھتے ہیں مسٹر آپکی ان گھٹیا دھمکیوں سے خوفزدہ ہو جاؤں گی میں….اس نے تڑخ کر کہا
مبارک ہو لوٹ آئی نا یاداشت, پہچان لیا نا اس ناچیز کو….طنز میں ڈوبی آواز آئی”
کیا سمجھتے ہیں آپ اس طرح مجھے ڈرا دھمکا کر خوفزدگی کا جال بچھا کر شکار کر لیں گے….”
نہیں نہیں فلحال میرا تمہیں شکار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں…میں prey کو زبردستی Catch کرنے والا Predator نہیں ہوں،جب میری فلم میں کام کر لو گی تو پھر بڑے خوبصورت طریقے سے اسطرح تمہیں لائن پر لاؤں گا کہ خود ہی اپنی مرضی شکار ہونے کیلئے میرے پاس آوگی….خاصے بے باک لہجے میں کہا”
حیات عبدالرحمان کا خون کھول اٹھا…غصے سے ہاتھ پاؤں بھی جھنجھنا اٹھے…اس کا دل چاہ رہا تھا کہ کاش موبائل میں کوئی گن کا آپشن ہوتا تو وہ اسی وقت اس شخص کو شوٹ کر دیتی….”
کیا ہوا…ابھی سے مسرور کن لمحات میں کھو گئں…چبھتے ہوئے لہجے میں کہا تو حیات کے اندر شرارے سے ابلنے لگے……”
شٹ اپ….آپ کوئی بہت ہی گھٹیا اور گرے ہوئے انسان ہیں..اپنی اتنی شدید ہتک پر وہ بلبلا اٹھی تھی،،انکھوں میں نمی سی تیرنے لگی تھی…”
جو لوگ اپنے حسن کے زعم میں حد سے زیادہ اکڑ دکھائیں تو پھر مدمقابل کو بھی اسی طرح گر کے دکھانا پڑتا ہے….. لہذا مجھے گرنے پہ مجبور مت کرو اگر انکار کرو گی تو گرے ہوئے ہوئے انسان کیا کچھ کر گزرتے ہیں اس کا مظاہرہ و تجربہ تمہیں بنفس و نفیس کرنا پڑے گا…..لہجہ چٹانوں جیسی سختی سموئے ہوئے تھا……..!!
شوبز کی بظاہر چمکتی دمکتی رنگین مگر اندر سے غلیظ دنیا میں رہنے والے آپ جیسے شرابی بیڈ کیریکٹر اور اخلاق سے گرے ہوئے انسان سے ہر کمینگی کی توقع کی جا سکتی ہے…..میں ڈرتی نہیں ہوں آپ سے اگر مجھے دوبارہ رنگ کیا نا تو…….”
اگر فون بند کیا تو میں خود پہنچ جاؤں گا……. دوسری طرف غراتی ہوئی آواز نے اسے سہما دیا…..”
آ….آ…..آپ مجھے تنہا سمجھ رہے ہیں….وہ فون بند کرتے کرتے رہ گئی….”
سمجھ نہیں رہا جانتا ہوں… تمہارے گھر میں کتنے ملازمین ہیں…کتنے فیملی ممبرز ہیں…تمام فون نمبرز ایک ایک چیز معلوم ہے مجھے…ان سب کو گن پوائنٹ پہ رکھ لینا میرے لئیے کوئی مشکل نہیں…یہ سب تم اس دن دیکھ تو چکی ہو، تمسخرانہ انداز میں ہنسا
کیا چاہتے ہیں آپ….؟؟وہ جیسے بے بس سی ہو گئی
“بس یہی چاہتا ہوں کہ کل آپ مجھ سے ملیں، میں اگلے ہفتے فلم کی شوٹنگ شروع کرنا چاہتا ہوں،اور اس میں ہیروئن چونکہ آپ ہونگی تو اسی سلسلے میں کچھ ڈسکشن کرنی ہے,انکار میں قطعی نہیں سنوں گا کیونکہ کنٹریکٹ آپ سائن کر چکی ہیں،اور کنٹریکٹ کی خلافت ورزی کرنے پر کیس کیا جا سکتا ہے یہ بات آپ کو معلوم ہوگی…”
اور امید ہے کہ میڈیا یا پولیس میں جانے کی دھمکی دینے سے بھی آپ گریز کریں گی….میں کیا کر سکتا ہوں اس کا ٹریلر میں آپ کو اس دن آپ کے گھر آ کے دکھا چکا….مگر یہ تو کچھ بھی نہیں تھا میں کیا کر سکتا ہوں یہ بار بار مجھے بتانے کی ضرورت نہیں، آپ خود سمجھ دار ہیں یقیناً تعاون کریں گی….. کھلی دھمکی تھی…….وہ چند منٹ گم صم موبائل ہاتھ میں لئیے بیٹھی رہی.. سائرہ عبدالرحمان کی اچانک ہونے والی موت اور پھر بابا کی ٹینشن کے خیال سے وہ ابھی تک ان سے اس شخص کے حوالے سے بات نہیں کر پائی تھی…..”
کل شام چھے بجے آپ مجھ سے ملیں…کس جگہ پہ ملیں گی…یہ میں آپ پہ چھوڑتا ہوں….آپ سوچ لیں
کل کنٹیکٹ کروں گا میں…میرا نمبر بلاک کرنے,میری کال اٹینڈ نا کرنے یا اپنے نمبر بند کرنے کی غلطی مت کیجئے گا ورنہ کل کی ملاقات آپ کے گھر میں ہی ہوگی…..”
یہ آپ بات بات پہ دھمکی کیوں دیتے ہیں…وہ دانت پیس کر بولی…..”
کیوں کہ پیار کی زبان آپ سمجھتی نہیں… فوراً سے جواب آیا……”
ٹھیک ہے ٹائم دو مجھے سوچ کے بتاتی ہوں…اس نے مجبوراً ہامی بھری اندر ایک حشر برپا تھا…”
اوکے کل تک کا ٹائم ہے تمہارے پاس ساڑھے چار بجے میں تم سے کنٹیکٹ کروں گا،،،یا تو تم میری بتائی گئی جگہ پہ ملنے آؤ گی یا مجھے بلاؤ گی…اور انکار میں قطعی نہیں سنوں گا….وہ کبھی اسے آپ اور کبھی تم کہہ کے مخاطب کر رہا تھا….. حیات عبدالرحمان نے بغیر کچھ کہے کال بند کر دی اور اپنے کمرے کا دروازہ کھول کے باہر نکل آئی…..”
امینہ بابا اپنے کمرے میں ہیں….”وہ کام کرتی ملازمہ سے مخاطب ہوئی…..
جی بی بی وہ اپنے کمرے میں ہی ہیں….شائد انکے سر میں درد ہے تھوڑی دیر پہلے انہوں سے سراج سے سر درد کی دوائی منگوائی تھی… ملازمہ کے بتانے پہ وہ فکر مندی سے انکے کمرے کی طرف بڑھ گئی…..
آہستہ سے دروازہ کھول کر انکے بیڈروم میں آئی تو وہ سکون سے اپنے بیڈ پر سو رہے تھے انکے کمزور اور زرد چہرے کو وہ کچھ دیر یونہی نگاہیں جمائے دیکھتی رہی….دل میں دھماکے سے ہو رہے تھے…وہ انہیں اپنی پریشانی بتانا چاہتی تھی مگر انکی طبیعت کے پیش نظر وہ انہیں مزید پریشان نہیں کرنا چاہ رہی تھی،
وہ خود کو تنہا مصائب و آزمائش سے گھرا ہوا محسوس کر رہی تھی،آج ایک نئے درد کا ادراک کا
ادراک ہو رہا تھا،،وہ دل کھول کے رونا چاہتی تھی
اپنے وجود کو آنسوؤں میں ڈبو دینا چاہتی تھی،،”
