171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 57)

Meri Hayat By Zarish Hussain

کروٹیں بدل بدل کر بڑی مشکل سے آنکھ لگی ہی تھی کہ کسی چیز کے شور سے فوراً کھل گئی۔۔۔وہ چونک کر ادھر ادھر دیکھنے لگی یہ اس کا اپنا موبائل تھا۔۔۔ جس

پر پہلے سے سیٹ کیا ہوا الارم بج رہا تھا۔ ٹوں ٹوں کی

آواز کے ساتھ مسلسل وائبریشن ہو رہی تھی۔۔۔۔موبائل چونکہ تکیے کے نیچے تھا سو وائبریشن ڈائریکٹ کان

اور دماغ میں ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔

الارم پر اٹھنے کی عادت اسے پرانی تھی مگر کم از کم یہاں اس کمرے میں۔۔۔ وہ بھی شادی کی پہلی صبح تو الارم پر اٹھنے کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں تھا اس کا۔۔۔ اف کیا مصیبت ہے اسے بھی سائلنٹ پر کرنا یاد نہیں رہا۔۔

جھنجھلاتے ہوئے اس نے الارم کا گلہ گھونٹا۔ٹائم دیکھا

سوا چار بج رہے تھے نماز کا ٹائم ہو رہا تھا۔۔وہ کمبل ہٹا

کر اٹھ بیٹھی۔گردن موڑ کر دیکھا۔۔صوفے پر لیٹا وجود

سینے تک کمبل اوڑھے گہری نیند میں تھا۔وہ بے دھیانی میں اسے دیکھے گئی۔نائٹ بلب کی نیلگوں روشنی میں بھی اس کا دلکش چہرہ چاند کی مانند چمک رہا تھا۔ لائٹ براؤن سلکی بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔۔سرخی مائل لب باہم پیوست تھے۔۔نظریں اسکے چہرے سے پھسل کر مضبوط بازوؤں کا طواف کرنے لگیں جو بلینکٹ سے باہر تھے۔روم میں چھایا اسکی شخصیت کا فسوں بہت سحر انگیز تھا۔۔اس پر سے نظریں ہٹا کر وہ گہرا سانس لے کر بستر سے نکلی گلاس وال سے بھاری بھرکم ریشمی پردہ ہٹا کر باہر دیکھنے لگی۔ابھی صبح کا اجالا نمودار نہیں ہوا۔۔۔۔۔ وسیع و عریض خوبصورت گارڈن میں لگی برقی لائٹس کی مدھم روشنی کی وجہ سے وہاں اجالے کا سماں تھا۔سیاہ رات کے آنچل پر چاند و ستارے جگمگا رہے تھے۔ وہ یک ٹک انہیں دیکھنے لگی اسکی قسمت میں بھی ایک جگمگاتا ہوا ستارہ آیا تھا۔۔جو ان ستاروں کی مانند ہی چمک دمک رکھتا تھا جسے پانے کی چاہ لاکھوں دلوں میں تھی۔۔۔۔۔۔ عام لڑکیاں تو خواب میں بھی اسے پانے کا نہیں سوچ سکتی تھیں۔۔۔

شکل سے ہٹ کر شمار تو اسکا بھی انہی عام لڑکیوں میں ہوتا تھا مگر وہ خوش قسمت تھی کیونکہ جسکے

پیچھے لاکھوں لڑکیاں دیوانی تھیں وہ اسکا دیوانہ تھا

کل ریسیپشن کے موقعے پر خود پر پڑتی حسد و رشک آمیز کئی نگاہیں اس نے دیکھی تھیں۔۔۔مگر فلحال اپنی

خوش قسمتی اور اسکی قدرو قیمت کا قطعی احساس

نہیں تھا اسے۔۔افق پر نظر آتے ستاروں پر نگاہیں جمائے

وہ صرف یہی سوچ رہی تھی۔اگر خدا نے اسکی قسمت

میں شخص کا ساتھ لکھا تھا تو کیا ہوجاتا جو اس کے

خوبصورت چمکدار صاف و شفاف ظاہر کی طرح باطن بھی بنا دیتا مگر یہ بات نہیں سوچ سکی کہ ساری خوبیاں ایک انسان میں نہیں ہو سکتیں۔

کچھ دیر کھڑی وہ ستاروں پر نگاہیں جمائے سوچوں کے تانوں بانوں میں الجھتی رہی پھر واش روم میں چلی گئی وضو کر کے باہر آئی تو جائے نماز کی تلاش میں ادھر ادھر نگاہیں دوڑانے لگی مگر جائے نماز ندارد

اچانک ذہن میں خیال آیا میں بھی کتنی پاگل ہوں ایک فلمی ایکٹر جس نے پتہ نہیں زندگی میں کبھی نماز پڑھی بھی ہوگی یا نہیں اسکے روم جائے نماز تلاش کر رہی۔یہ لوگ تو نام کے مسلمان ہوتے ہیں وہ ابھی یہی بات سوچ ہی رہی تھی جب اپنے پیچھے اسکی گھمبیر

آواز سنی۔۔پلٹ کر دیکھا۔۔۔نیند سے بوجھل آنکھیں لئیے

ہاتھ میں جائے نماز پکڑے کھڑا تھا۔۔۔۔۔جائے نماز ڈھونڈ

رہی تھیں نا آپ جائے نماز اسکی طرف بڑھائے وہ پوچھ رہا تھا۔۔۔۔حیات نے کوئی جواب دیے بنا جائے نماز اسکے ہاتھ سے لی اور روم کے ایک کونے میں بچھا کر نماز ادا

کرنے لگی۔جبکہ وہ صوفے پر لیٹا آدھ کھلی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ نماز کے بعد اس نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے تو وہ اٹھ کر واش روم چلا گیا۔۔۔ نماز پڑھنے کے بعد وہ جائے نماز سمیٹ رہی تھی جب وہ وضو کر کے باہر نکلا اور اسکے ہاتھ سے جائے نماز لے لی۔۔حیات نے

قدرے حیرانی سے اسکی طرف دیکھا۔وہ اسکی حیرت

بھانپ کر جتانے والے انداز میں بولا۔۔۔ فلموں میں کام ضرور کرتا ہوں مگر الحمداللّٰہ مسلمان ہوں پانچ وقت

نا سہی مگر کبھی کبھار پڑھ لیتا ہوں۔۔۔۔۔ وہ اک پل کو اپنی سوچ پر شرمندہ ہوئی پھر سر جھٹکتے بیڈ کی طرف بڑھی اس بار لیٹتے ہی نیند آ گئی تھی۔۔نامعلوم کب تک وہ نیند کی وادیوں میں گم رہی۔۔۔ آنکھ کھلی

تو دن کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔۔۔نائٹ بلب کی وجہ سے کمرے میں ویسا ہی خوابناک سا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔اٹھ کر لائٹ آن کی اپنے حلیے پر نگاہ دوڑائی۔رات

والا سمپل کاٹن کا سوٹ شکنوں سے پر تھا۔چینج کرنے

کیلئے ڈریسنگ روم میں گئی مگر کوئی ڈریس نا تھا۔۔۔۔

واپس کمرے میں آئی۔۔۔۔ کبرڈ کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔مگر پورے کمرے میں کہیں الماری نہیں دکھی۔اس نے کمرے کا کونا کونا چھان مارا حتیٰ کہ بے

خیالی میں واش روم تک میں جھانک لیا مگر نہ کہیں

کپڑے تھے نا کپڑوں کی الماری۔۔۔ روم سارا خوبصورت قیمتی فرنیچر مہنگی پینٹگز اور غیر ملکی ڈیکوریشن

پیسز سے سجا ہوا تھا مگر کوئی بھی وارڈ روب نا تھی

وہ حیران و پریشان کمرے کے وسط میں کھڑی سوچ

ہی رہی تھی جب دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔۔

سرخ و سپید رنگت والا چہرہ لائننگ پنک شرٹ اور بلیک پینٹ کوٹ میں خاصا نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔۔۔ سنہری بال پیشانی پر خوبصورت انداز میں سیٹ تھے

وہ شائد اٹھتے ہی تیار ہو گیا تھا۔۔۔ حیات کو روم کے وسط میں بے حس و حرکت کھڑا دیکھ کر ٹھٹھکا۔۔۔

واٹ ہیپنڈ۔۔اینی پرابلم۔۔؟؟ وہ اسکے پاس آتے ہوئے بولا

میرے ڈریسز کہاں ہیں۔۔۔؟؟ حیات نے خشک لہجے میں پوچھا۔۔۔۔

ایک منٹ ویٹ۔۔اسے کہتے ہوئے اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا ایک چھوٹا سا ریموٹ اٹھایا۔۔۔روم کی دائیں طرف والی دیوار کی طرف جس پر سنہری نقش و نگار کندہ کیے گئے تھے رخ کر کے کوئی بٹن دبایا۔گھرر کی آواز کے ساتھ وہ نقش و نگار والا دیوار کا حصہ ایک طرف ہٹتا چلا گیا۔اور کپڑوں سے بھری وارڈ روب نمودار ہو گئی۔۔

دیوار میں بنی ہوئی اس خوبصورت اور اتنی لارج وارڈ

روب کو دیکھ کر وہ حیرت کی زیادتی سے کچھ یوں

ساکت ہوئی کہ اپنی طرف بڑھے اس کے ہاتھ کو بھی

نہیں دیکھ سکی۔۔

ڈریس نکالنے کے بعد یہ بلیو والا بٹن دبا دیجئے گا کبرڈ کلوز ہو جائے گی۔۔۔وہ ریموٹ اسکی طرف بڑھائے کہہ رہا تھا۔حیات نے اپنی حیرت چھپاتے سپاٹ انداز میں اسکے ہاتھ سے ریموٹ لے لیا۔۔وہ دوبارہ کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔جبکہ حیات اس ریموٹ کنٹرول جدید کبرڈ کا جائزہ لینے لگی۔۔روم کی یہ دائیں طرف والی دیوار جو بظاہر دیوار ہی لگتی تھی۔۔۔ حقیقت میں جدید ساخت والی کپڑوں کی الماری تھی۔۔۔۔ اس اتنے بڑے وارڈ روب میں اوپر نیچے صرف دو لانگ و کشادہ خانے تھے۔ جن میں سے ایک اس کے اور دوسرا حیات کے کپڑوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی کبرڈ کے سامنے نہیں۔۔۔۔۔ بلکہ کپڑوں کی بہت بڑی بوتیک کے سامنے کھڑی ہو۔۔۔کافی ٹائم لگا تھا اسے ڈریس سلیکٹ کرنے میں کیونکہ سارے کے سارے ڈریسز فینسی تھے۔کوئی بھی اسے سمپل نہیں دکھا۔۔۔ایک سے ایک بڑھ کر خوبصورت کام والا مہنگا ڈریس۔اس نے نسبتاً ذرا ہلکے کام والا ڈریس نکالا اور چینج کرنے چلی گئی۔۔۔۔۔

بلیک سلک کی اونج بارڈر والی لانگ فراک پہن کر جب وہ ڈریسنگ روم سے باہر آئی تو یوں لگا گویا گھنگھور کالی رات میں سے چاند اپنی چھب دکھا رہا ہو۔۔۔ اسی وقت فاریہ روم میں داخل ہوئی۔۔۔واؤ ماشاءاللہ۔۔اسکی آنکھوں میں ستائش ابھری تھی۔۔۔

کیسی ہیں بھابھی؟وہ اسکے پاس آ کر یوں خوشی سے چہکتے ہوئے گلے لگی تھی گویا برسوں سے جان پہچان ہو اس کے خشک و سپاٹ انداز کو وہ بالکل اہمیت نہیں دے رہی تھی۔۔اسے تو بس اسی بات کی خوشی تھی کہ اسکی بھابھی بے پناہ خوبصورت ہے اور اسکے ڈیشنگ ہینڈسم سپر سٹار بھائی کے ساتھ خوب جچتی ہے۔۔۔

آئیے بھابھی آپکا میک اپ کر دیتی ہوں۔۔وہ اس کا ہاتھ تھام کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے لے آئی۔۔۔ گو کہ آپ کو میک اپ کی خاص ضرورت تو نہیں۔ مگر نئی دلہن ہیں نا سو تھوڑا بہت تو کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کا بے زار انداز دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ابھی وہ اسکا

میک اپ کر رہی تھیں جب فائزہ سکندر کمرے میں داخل ہوئیں۔۔

اٹھ گئیں بیٹا۔۔۔؟؟ انہوں نے محبت بھرے انداز میں استفسار کیا

جی۔۔۔۔۔ وہ انکے احترام میں فوراً اسٹول سے اٹھ کھڑی ہوئی۔فائزہ سکندر کی لب و لہجہ انکی شخصیت ایسی تھی کہ وہ چاہ کر بھی فاریہ کی طرح ان سے روکھا رویہ نہیں رکھ پا رہی تھی۔۔۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔اسکی پیشانی چومی۔۔۔۔ حیات نے انکی گرفت میں ممتا بھری مہک محسوس کی تھی۔۔

ماشاءاللّٰہ بہت ہی پیاری لگ رہی ہو۔ایسا لگ رہا ہے گویا

چاند زمین پر اتر آیا ہو۔۔۔ انہوں نے دل کھول کر تعریف کی۔۔

مام آپکی تینوں بہوؤں میں سے سب سے خوبصورت یہ بہو ہیں۔۔۔۔۔فاریہ نے ستائشی لہجے میں کہا۔۔۔

آف کورس۔۔ وہ مسکرائیں۔۔ اچھا تم جلدی سے بھابھی

کو تیار کرو میں بریک فاسٹ لگوا رہی ہوں۔وہ مسکرا

کر کہتی کمرے سے باہر چلی گئیں۔۔فاریہ نے اسے تیار

کیا چند تصاویر بنانے کے بعد ناشتے کیلئے جلدی آنے

کا کہہ کر وہ بھی باہر نکل گئی تو وہ وہیں سٹول پر بیٹھی مرر میں خود کو دیکھنے لگی۔۔ستاروں کی مانند چمکتی ہوئی جھیل سی گہری آنکھیں۔۔۔۔ ڈارک گلابی لپ اسٹک سے سجے خوبصورت ہونٹ۔۔حسین و دلفریب نقوش سے سجا ساحرانہ مکھڑا جو میک اپ کے بعد دو آتشہ ہو گیا تھا۔ پہلی بار وہ پلکیں جھپکائے بغیر خود کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔معا” اسکے پیچھے آئینے میں ماحر خان کا عکس ابھرا۔اسکے وجہیہ چہرے پر دلکش و دل موہ لینے والی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔

وہ تو تھا ہی حسن کا دیوانہ۔۔۔

رعنائی و دلکشی کا اسیر۔۔۔

مخمور نگاہوں سے اس کا یہ روپ دیکھ رہا تھا وہ۔۔۔۔

اسکے وجہیہ چہرے پر عجیب سے احساسات تھے۔۔

نگاہوں میں کوئی چمک تھی۔۔۔۔کوئی پیغام تھا۔۔۔

وہ محویت سے اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ ان لمحوں

میں خود کو جکڑا محسوس کرنے لگی۔۔۔ اسکی بے باک نگاہوں کی حدت ہی تھی جو اسے حواسوں کی دنیا میں واپس لے آئی تھی۔۔۔۔ حیات عبدالرحمٰن کے چمکتے خوبصورت چہرے پر بہت ہی سرد و سپاٹ کسی حد تک ناگوار تاثرات ابھرے تھے۔۔۔۔

مقابل کی آنکھوں میں ستائش ہی ستائش تھی۔۔۔ اسکی بہکی بہکی نگاہیں صاف محسوس ہو رہی تھیں

اسکا دل دھڑک اٹھا۔ رخ موڑ کر اسکے پاس سے ہٹنے کو تھی جب اس نے بڑے استحقاق بھرے انداز میں اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا تو وہ چاہ کر بھی ہاتھ نا چھڑا سکی۔ ماحر خان کے ملبوس سے اٹھتی پرفیوم کی دلفریب مہک نے اسکا احاطہ کر لیا تھا۔حیات نے کچھ نروس ہو کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔ بلا کا اعتماد اور آسودگی تھی اسکے چہرے پر۔۔سچی خوشی تھی۔۔۔۔۔۔ اسے پا لینے کی چمک تھی۔۔اسی چمک سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ اس کے لفٹ نا کروانے کے باوجود بھی وہ بے پناہ خوش تھا

حیات کو اسکی شخصیت ہر سو چھائی محسوسں ہو رہی تھی۔۔۔

اسکا ہاتھ تھام کر وہ انتہائی چاہت و محبت بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔۔

میں نے پوری دنیا دیکھی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ملک ملک قریہ قریہ گھوما ہوں۔مگر مجھے نہیں لگتا اس چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ مجھے بھایا ہوگا۔۔تم قدرت کا ایک حسین شاہکار ہو۔۔حسن کا مجسمہ ہو۔ نزاکت کا پیکر ہو۔تمہارا شمار ان خوش قسمت لوگوں میں ہوتا جنہیں خدا نے خاصی فرصت سے بنایا۔۔مجھے یقین ہے اگر تم مقابلہ حسن میں شرکت کرو تو مس ورلڈ کا ٹائٹل یقیناً جیت کر آؤ گی۔۔سراہا جانا کسے برا لگتا تھا۔۔۔اسکا بھی دل دھڑکا تھا۔۔اسکے ستائشی انداز و الفاظ پر۔۔۔ اسکی تعریف پر عجیب سے نرم گرم احساسات کا شکار ہونے لگی تھی مگر اسکی اس آخری بات پر غصے سے تلملا اٹھی۔۔

میں لعنت بھیجتی ہوں ایسے گھٹیا کاموں پر۔۔۔۔۔ ایسے

کام آپ شوبز والوں کو ہی سوٹ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ تلخی و ناگواری سے کہتے اس نے اپنا بازو کھینچا تھا۔۔۔

میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی نگاہوں میں روشن

محبت کے دیپ حیات عبدالرحمٰن اس انداز پر بجھ سے گئے تھے۔۔۔چہرہ خفت زدہ ہو گیا تھا۔۔۔۔

میرا آپ کا کونسا مذاق ہے۔۔۔۔۔۔آئندہ مجھ سے اس قسم

کے گھٹیا مذاق کرنے کی ضرورت نہیں۔وہ فاصلے پر جا کھڑی ہوئی۔۔

ماحر نے گہری سانس لے کر اسے دیکھا پھر نرمی سے بولا اوکے آئی ایم سوری۔۔۔ آئندہ مذاق نہیں کروں گا

کہتے ہوئے وہ اسکے قریب آیا اور کوٹ کی جیب سے

ایک نیکلس نکال کر بڑی محبت سے اسے پہنا دیا۔۔۔

وہ چمکتادمکتا نازک سا ڈائمنڈ کا نیکلس اسکی شفاف

گردن پر خوب بہار دکھا رہا تھا اسے بے اختیار ارتضیٰ حسن یاد آیا اس نے بھی ایسے ہی ایک خوبصورت نیکلس اسے پہنایا تھا۔۔۔۔۔۔ مگر فرق صرف اتنا تھا یہ نیکلس ارتضیٰ حسن کے دلائے گئے نیکلس سے زیادہ قیمتی تھا۔وہ بڑی محویت سے اسکی گردن کا نظارہ

کر رہا تھا جہاں اسکا پہنایا گیا نیکلس اپنی چھب دکھا رہا تھا۔۔۔

اسکی جذبے لٹاتی نگاہوں سے گھبرا کر اس نے گردن کو ڈوپٹے سے کور کیا۔۔۔۔۔۔

اب بریک فاسٹ کیلئے چلو مام ویٹ کر رہی ہیں۔اسکی

نروسنس کا نوٹ کرتا وہ زیر لب مسکرایا اور دوستانہ انداز میں ہاتھ اسکی طرف بڑھایا جسے وہ نظر انداز کرتی دروازے کی طرف بڑھی۔۔

ماحر نے بھی اسکے پیچھے قدم بڑھائے اور کمرے سے باہر نکلتے ہی زبردستی اسکا ہاتھ تھام لیا اور ڈائننگ

ہال کی طرف بڑھاجہاں پر فائزہ سکندر اور فاریہ ان کا ویٹ کر رہی تھیں۔۔۔ ڈائننگ ٹیبل پر انواع و اقسام کی ڈشز رکھی ہوئی تھیں۔۔۔ وہ دونوں اسے بے حد خلوص سے اصرار کر کر کے ایک ایک چیز پیش کر رہی تھیں۔۔ماحر کا رویہ بھی اسکے ساتھ ٹیبل پر یوں بے تکلفانہ اور محبت بھرا تھا گویا دونوں میں بہت اچھے تعلقات ہوں۔شائد اسطرح شو کر کے وہ اپنی ماں اور بہن کو مطمئن کرنا چاہتا تھا کہ انکے بیچ سب نارمل ہے۔۔۔۔

ناشتے سے فارغ ہونے کے کچھ دیر بعد فارس اور فضا

بھی آ گئے انکے ساتھ حورین بھی تھی۔۔۔۔ فارس بھائی کو اطمینان دلانے کی غرض سے وہ انہیں ہشاش بشاش انداز میں ملی۔۔۔ فارس اور فضا دونوں نے اسکے چہرے کو کھوجنا چاہی۔۔۔۔ مگر اسے خوش دیکھ کر وہ دونوں

مطمئن ہو گئے۔۔۔وہ سب خان پیلس کے لیونگ روم میں بیٹھے تھے۔ماحر کے علاؤہ مسز سکندر انکی بیٹی فاریہ اور بہو ماریہ انکو کمپنی دے رہے تھے۔سکندر علی خان

ان سے مل کر آفس جا چکے تھے۔۔۔۔ انکی کوئی ضروری میٹنگ تھی۔۔۔ زین ابھی ابھی وہاں آیا تھا۔۔ جبکہ عبیر اور لیزا دونوں گھر پر نہیں تھے۔۔۔۔۔ انکے بچے ملازماؤں

نے سنبھالے ہوئے تھے۔سب آپس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب حورین نے چپکے سے حیات کے کان میں کہا کہ اسے اسکا بیڈروم دیکھنا ہے تو وہ اسے لے کر اپنے بیڈ روم میں چلی آئی۔۔۔

بیڈروم میں داخل ہوتے ہی حورین کی تو آنکھیں اور منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔یااللّٰہ یہ میں کہاں آ گئی۔۔ واؤ یار یہ تمہارا بیڈ روم ہے یا کسی پرنس کی خوابگاہ۔۔۔ مائی گاڈ اتنا بڑا اتنا خوبصورت۔۔۔۔ایسے بیڈرومز تو آج تک میں نے فلموں میں ہی دیکھے ہیں۔۔ یہ تو سارے کا سارا شیشے کا بنا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ باہر والوں کو اندر کے رومینٹک سین دکھتے تو نہیں نا ۔۔۔؟؟ دیواروں کو چھو چھو کر دیکھتے اس نے شرارت سے کہا۔۔۔

حیات نے کوفت سے اسے دیکھا۔۔نہیں دکھتا باہر والوں کو اندر کا منظر۔۔۔۔۔ یہ خالص شیشہ نہیں ہے پلاسٹک شیشہ۔۔۔۔ اچھا چھوڑو یہ بتاؤ زمل کو ساتھ کیوں نہیں لائی میں تو اس کا ویٹ کر رہی تھی۔۔۔۔ کتنی کیوٹ

ہے نا۔۔۔۔۔زمل حورین کی بیٹی تھی حیات کو وہ بہت پسند آئی تھی تبھی اسکا ذکر کرتے ہوئے وہ بے اختیار

مسکرائی تھی۔۔

اسکو ہلکا سا بخار تھا شایان کے پاس چھوڑ آئی ہوں

کیوٹ تو واقعی ہے کیونکہ خالہ پر جو گئی ہے۔۔ویسے

تمہیں میری بیٹی اگر اتنی پسند آئی ہے تو ٹھیک ہے آج

سے وہ تمہاری ہوئی۔۔۔۔۔ اسکے شاہی بیڈ پر پھیل کر بیٹھتے اس نے ہنس کر کہا تھا۔۔۔

میری۔۔۔وہ کیسے۔۔۔ ؟؟ اس نے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا

سمپل سی بات ہے اب تم شادی شدہ ہو۔۔۔میری بیٹی کو بہو بنا لینا۔۔۔۔۔۔وہ مزے سے کہتے ہوئے مسکرائی۔۔۔۔

بکو مت۔۔۔۔ وہ جھینپ گئی

یعنی تمہارا ساس بننے کا کوئی ارادہ نہیں۔۔؟؟

وہ مصنوعی تاسف سے پوچھنے لگی۔۔۔۔

فضول باتیں مت کرو۔۔۔اس نے جھنجھلا کر ٹوکا

میں ہمیشہ سے شوبز سپر اسٹارز سے بڑی متاثر رہی

ہوں۔میری قسمت میں تو کوئی سپر سٹار نہیں آیا لیکن

اب میری خواہش ہے کہ میرا داماد سپر سٹار ہو۔۔۔

داماد سپر سٹار۔۔۔۔۔؟؟

ہاں بھئی سپر سٹار کا بیٹا سپر سٹار ہی ہوگا دیکھو نا آجکل فلمسٹاز کے بچے بھی فلموں میں آ رہے ہیں۔۔اب

جیجا جی سٹار ہیں تو یقیناً تمہارا بیٹا بھی باپ کی طرح سٹار ہی بنے گا۔۔۔۔اس نے نچلا ہونٹ دبا کر شرارت سے کہا۔۔۔ مطلب سمجھ آنے پر حیات نے گھور کر اسے دیکھا۔۔

شٹ اپ یار بند کرو یہ چیپ مذاق۔۔اسے سچ مچ غصہ آ گیا تھا۔۔۔۔۔۔ مگر حورین پر مطلق اثر نہیں ہوا وہ ہنوز مسکراتی رہی۔۔۔

میں تو سوچ رہی ہوں جاتے ہوئے تمہارے ہزبینڈ سے بات کر کے اپنی بیٹی کا رشتہ پکا کرتی جاؤں۔تاکہ وہ

میرے داماد کو دنیا میں لانے کا جلد از جلد سوچیں۔۔

وہ مسلسل شرارت پر آمادہ تھی۔حیات نے تکیہ اٹھا کر اسے دے مارا۔۔۔

خبردار جو تم نے ان سے کوئی بکواس کی تو۔۔۔۔حیات نے اسے وارننگ دینے والے انداز میں کہا۔۔۔

وہ ڈھٹائی سے ہنستی رہی۔اچھا یہ بتاؤ رات جب جیجا جی نے تمہیں دیکھا تھا۔ تو کیا کہا تھا میرا مطلب ہے کیا کیا باتیں ہوئیں کوئی رومینٹک ڈائیلاگز وغیرہ بھی بولے تھے انہوں نے یا نہیں جیسا وہ اپنی فلموں میں بولتے ہیں۔۔۔

وہ اسکے قریب کھسکتے ہوئے تجسس بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔۔

تم کیوں وہ فضول باتیں مجھ سے پوچھتی ہو جنکو سن کر مجھے غصہ آئے اور اس بات کا جواب تو میں تمہیں رات کو ہی دے چکی ہوں۔۔۔حیات نے خفگی سے کہا

کب پوچھی میں نے یہ بات۔۔؟؟ وہ تو منہ دکھائی والی

بات کا جواب دیا تھا تم نے۔۔اسکی خفگی کو خاطر میں

نا لاتے ہوئے اس نے بھنویں اچکائیں۔۔۔

ہاں تو جب منہ دکھائی والا کوئی سین نہیں ہوا تو رومینٹک ڈائیلاگز کی کوئی گنجائش نکلتی تھی۔۔؟؟

حیات نے اسے گھورا۔۔۔۔

یار سچ بتاؤ کوئی بھی رومینٹک بات نہیں کی انہوں نے کیا۔۔؟دیکھنے میں تو بہت خوش لگ رہے ہیں۔حورین

کو ابھی تھوڑی دیر پہلے لیونگ روم میں اسکے چہرے کی ہشاش بشاش طمانیت اور آنکھوں کی چمک یاد آئی۔۔۔۔

تمہیں لگتا ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں۔۔حیات نے چڑ

کر کہا۔۔۔۔

نہیں لیکن تم نے مجھے مایوس کیا یار۔۔۔بڑی ہی کوئی

خشک مزاج قسم کی لڑکی ہو۔۔۔۔۔۔ اصل میں مجھے یہ جاننے کا شوق تھا کہ جتنے رومینٹک وہ فلموں میں دکھتے ہیں رئیل زندگی میں بھی اتنے ہی رومینٹک ہیں یا نہیں۔۔۔۔؟؟

حیات نے ہاتھ میں پکڑی چوڑیاں زور سے ٹیبل پر پٹخ

دیں پھر ناگواری سے کہنے لگی تمہاری سوئی اس لفظ

رومینٹک پر کیوں اٹکی ہوئی ہے۔۔۔۔ میرا اس سے ایسا کوئی پیار کا رشتہ نہیں جو مجھے یہ پتہ ہو کہ وہ رومینٹک ہے یا ان رومینٹک۔۔۔۔۔

اچھا غصہ تو مت ہو۔ویسے یار بڑی کوئی ناشکری لڑکی

ہو تمہیں بغیر کسی محنت کے بیٹھے بٹھائے ایسا انسان

مل گیا جس پہ لاکھوں لڑکیاں مرتی ہیں۔۔۔ کبھی تم نے ان آفیشل پیج یا انسٹا گرام چیک کیا۔۔۔۔۔؟ دنیا بھر سے کروڑوں کی تعداد میں انکی فین فالونگ ہے۔پوسٹوں پر

انکی لڑکیوں کے عاشقانہ کمنٹس کی بھرمار ہوتی ہے۔تم

سچ میں بڑی ہی کوئی ناشکری لڑکی ہو۔۔۔ ماحر سکندر

خان جیسے اتنے بڑے سپر سٹار کی قدر نہیں کر رہی۔۔

وہ افسوس بھرے لہجے میں کہہ رہی تھی۔جبکہ حیات

سنی ان سنی کرتے ٹشو سے ہونٹوں کو دبا دبا کر ڈارک لپ اسٹک کو ہلکا کر رہی تھی۔۔۔۔۔ اسے ڈارک لپ اسٹک لگانا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد فاریہ

بھی فضا بھابھی کو لئیے اندر آئیں۔۔۔۔ فضا بھی اسکے روم کو دیکھ کر خاصی امپریس ہوئی۔۔۔ دو تین گھنٹے گپ شپ لگانے کے بعد وہ لوگ چلے گئے۔حیات کو فارس اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔

مگر مسز سکندر نے ریکوئسٹ کی کہ آج رات ڈنر پر انکے بھائی بھابھی یعنی فاریہ کے سسرال والے انوائٹڈ ہیں جنکی رات ڈھائی بجے واپسی کی فلائٹ ہے۔۔۔۔وہ

سب لوگ انکی بہو سے مل کر جانا چاہتے ہیں۔۔۔۔فاریہ بھی بضد تھی جتنا ٹائم وہ یہاں ہے بھابھی کے ساتھ

گزارے گی فارس نا چاہتے ہوئے بھی مان گیا تھا۔۔۔۔۔

ان سب کے جانے کے بعد فاریہ اسے گارڈن کے اس حصے میں لے آئی جہاں ایک مصنوعی جھیل بنی ہوئی تھی سبزے میں گھری فواروں کی شکل میں بہتے ہوئے پانی والی آبشار کا پانی اسی مصنوعی جھیل میں گر رہا تھا سردیوں کی نرم گرم دھوپ میں جھیل کا سنہری پانی چمک رہا تھا۔حیات کو وہاں بیٹھنا بہت اچھا لگ رہا تھا

فاریہ کا بے پناہ خلوص اور اپنائیت دیکھ کر اسے اپنے رویے کی بد صورتی کا احساس ہوا تو اس نے اپنا رویہ اسکے ساتھ بہتر کر لیا تھا۔ اب وہ اسکے ساتھ باتیں کرنے کے ساتھ مسکرا بھی رہی تھی۔

اسوقت وہ جھیل کے پاس بیٹھیں کافی و فروٹس سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔یہاں آنے پر پہلی بار اسے کچھ اچھا لگ رہا تھا۔فاریہ اسے لیب ٹاپ میں اپنی ڈیزائننگ کلیکشن دکھا رہی تھی جب اس نے ماحر کو وہاں آتے دیکھا۔ڈریس وہ چینج کر چکا تھا سفید کاٹن کی شلوار قمیض میں اسکی سرخ و سپید رنگت دمک رہی تھی۔۔ایک سنجیدہ سی نظر اس نے حیات پر ڈالی اور فاریہ سے مخاطب ہوا جو اسے وہاں بیٹھ کر کافی پینے کی دعوت دے رہی تھی۔۔۔

وہ سہولت سے انکار کرتے ہوئے کہنے لگا میں جنازے پر جا رہا ہوں۔۔ مام کو بتا دینا ڈنر پر شائد جوائن نہیں کر پاؤں گا تم سب کو۔۔۔۔۔۔۔ تاہم تم لوگوں کی روانگی سے پہلے آ جاؤں گا۔۔۔۔اسکا لہجہ بے حد سنجیدہ تھا

اوکے بھائی۔۔۔۔بٹ پلیز کوشش ضرور کیجئے ہمیں ڈنر

پر جوائن کرنے کی۔۔۔فاریہ نے ریکوئسٹ کی

اوکے۔۔۔جواباً وہ سر ہلاتے مزید کچھ کہے بغیر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔

وہ جو اسکی موجودگی میں نظریں جھکائے خود کو مکمل لیب ٹاپ کی طرف متوجہ کیے بیٹھی تھی اسکے جاتے ہی فاریہ سے پوچھنے لگی کس کے جنازے پر جا رہا ہےتمہارا بھائی۔۔؟؟

آپکو نہیں پتہ کیا۔۔۔؟؟ فاریہ نے چونک کر کہا

کس بات کا۔۔۔۔؟اس نے ناسمجھی سے فاریہ کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔

فلم ایکٹریس مثال شیرانی نے سو سائیڈ کر لی۔سوشل میڈیا پر آج صبح سے اتنی ٹاپ ٹرینڈ میں چل رہی ہے یہ خبر۔۔بیچاری اچھی ایکٹریس تھی۔۔۔ماحر بھائی نے ہی متعارف کرایا تھا انڈسٹری میں۔۔بھائی کی کوسٹار بھی رہی ہے۔۔فاریہ کا لہجہ افسوس زدہ تھا۔۔

اوہو۔۔۔۔کیوں کی سوسائیڈ۔۔؟سینسٹو ہونے کی وجہ سے خبر سن کر اسے دلی افسوس ہوا۔۔۔

پتہ نہیں کہا تو یہی جا رہا کہ اسکے بوائے فرینڈ نے اس سے بریک اپ کر لیا اسی صدمے کی وجہ سے اس نے خود کشی کر لی۔ویسے ایک بات بتاؤں بھابھی۔۔؟؟

وہ رازدارانہ انداز میں اسکی طرف جھکی۔۔۔حیات نے

اثبات میں سر ہلایا۔۔

مثال شیرانی بھائی کی ایکس گرل فرینڈ بھی رہی ہے

ایک بار میڈیا والوں کے سامنے اس نے کہہ دیا تھا کہ

بھائی اور وہ شادی کرنے والے ہیں۔۔۔۔۔ اس بات کا میڈیا میں بہت چرچا ہوا تھا۔بھائی کو بہت غصہ آیا تھا مثال شیرانی پر اس کے آن ائیر شو میں جا کر بھائی نے اسے تھپڑ مارا اور اپنے بریک اپ کا اعلان کیا تھا۔اب اچانک

اسکا خودکشی کر لینا۔۔۔مجھے تو ڈاؤٹ ہو رہا ہے کہیں بھائی کی شادی کی خبر سن کر ہی سوسائیڈ نا کی ہو اس نے۔۔کیونکہ پاگل تھی میرے بھائی کے پیچھے۔خیر

ایک مثال شیرانی کیا انڈسڑی کی ہر ہیروئن پاگل ہے

بھائی کے پیچھے۔۔۔۔وہ ہنسی۔۔۔۔۔لہجے میں فخر تھا۔۔

حیات نے لب بھینچے۔۔۔۔

تمہارا بھائی بھی تو فلرٹ کرتا ہے شوبز کی ہر لڑکی

کے ساتھ۔۔۔ناچاہتے ہوئے بھی حیات کا لہجہ تلخ ہو گیا

اونہوں۔۔شوبز کی ہر لڑکی کے ساتھ نہیں بھابھی۔صرف

اپنے لیولز کی ہیروئنز کے ساتھ۔۔ یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے۔۔۔ شوبز میں سب ایک دوسرے کو گرل فرینڈز بوائے فرینڈز بنا کر کھلے عام ڈیٹس مار رہے ہوتے ہیں اور ویسے بھائی نے آپکے ساتھ تو فلرٹ نہیں کیا۔۔۔ آپ سے ڈائریکٹ شادی کی۔۔۔یہ ثبوت ہے انکی محبت کا۔۔میری آپ سے ایک ریکوئسٹ ہے بھابھی۔۔۔۔ پلیز میرے بھائی کی طرف سے اپنا دل صاف کر لیں۔انہیں دل سے قبول کر لیں۔۔۔آپ اتنی خوبصورت ہیں مجھے پکا یقین ہے آپکے آنے کے بعد انکی زندگی میں اور کوئی لڑکی نہیں آئے گی آپ ایک بار انکی محبت پر بھروسہ کر کے تو دیکھیں۔اپنے اور انکے رشتے کو دل سے قبول کر کے تو دیکھیں آپ کو اس رشتے کی خوبصورتی کا،احساس ہوگا۔بھائی آپکو بے حد چاہتے ہیں انکی چاہت کی اس مٹھاس کو کڑواہٹ سے کم مت ہونے دیجئیے گا۔۔فاریہ اسکے ہاتھ تھام کر ملتجی انداز میں کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔