Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 21)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 21)
Meri Hayat By Zarish Hussain
نن۔۔۔۔نہیں یہ کس طرح سے ممکن ہے۔۔اس پر وحشتیں مکمل طور سے طاری ہو گئیں۔۔”
کیوں ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔میں کونسا کوئی ساری زندگی تمہیں اپنے ساتھ باندھ کر رکھنے کی بات کر رہا۔اس کا لہجہ مضبوط اور استہزائیہ تھا۔۔۔۔”
میں انسان ہوں کوئی کھلونا نہیں۔۔۔وہ چیخ کر بولی
چیخو مت کہا نا جلد چھوڑ دوں گا۔۔۔۔۔۔پھر کر لینا اس پروفیسر سے شادی۔۔۔ویسے بھی میں گلے سے لگاتا ہوں گلے سے لٹکاتا نہیں۔۔۔۔”اسکے اطمینان میں فرق نہیں آیا۔
وہ چند لمحے صدمے سے اسکی طرف دیکھتی رہی۔اگلے ہی پل شدید نفرت اور اشتعال کی لہر اسکے اندر دوڑ گئی۔۔۔۔۔۔
آپ ایک انتہائی ذلیل کمینے اور گرے ہوئے انسان ہیں میں ہزار بار لعنت بھیجتی ہوں۔جان دے دونگی اپنی لیکن آپ کی یہ ناپاک لغو خواہش کبھی پوری نہیں ہونے دونگی۔۔۔
شٹ اپ اپنی زبان کو لگام دو ورنہ کاٹ ڈالوں گا۔۔۔اسکے منہ سے اپنے لئیے گالیاں سن کر وہ بھڑک گیا”
“۔۔۔۔آپ جیسے شخص سے ہر کمینگی کی توقع کی جا سکتی ہے۔مجھ سے ایسی گھٹیا بات منوانے کی امید مت رکھنا۔۔۔” وہ اٹل انداز میں بولی
ایسا کیا ہے اس میں جو مجھ میں نہیں۔۔۔۔؟؟سلگتی ہوئی نظروں سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“عزت۔۔۔۔عورت کی عزت کرتا ہے وہ جب کہ آپ جیسے کریکٹر لیس فلمسٹار کے نزدیک عورت صرف کھلونا ہے۔۔۔۔۔
تو میں نے کونسا کھیل لیا تم سے۔۔۔۔نگاہیں گہری تھیں اسکی۔۔۔۔۔۔۔اندر تک جھانکنے والیں۔۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔۔حیات کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔
تو تم میری بات نہیں مانوگی۔۔۔۔؟؟
کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔وہ نڈر انداز میں بولی۔۔
“۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکے رویے اور حطرناک ارادوں کے باوجود وہ خوفزدہ نا ہوئی بلکہ بہت جلد خود کو سنبھال چکی تھی اور فیصلہ کر چکی تھی کہ مار دے گی یا مر جائے گی۔۔۔۔۔مگر اس درندے نما انسان کے عزائم کی تکمیل نہیں ہونے دے گی۔انسان جب تک کسی فیصلے یا انجام کا سوچ نا لے وہ کشمکش اور پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔جب دماغ فیصلے کی مہر دل پر لگا دے تو منتشر و بے اوسان اعصاب اعتدال پر آ کر پر سکون ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔حیات کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہو چکی تھی اسوقت”
میں نے کبھی کسی معمولی سے جانور سے بھی اتنی نفرت اور کراہیت محسوس نہیں کی جتنی اسوقت تم سے ہو رہی ہے۔مسڑ گھٹیا سپر سٹار تمہارے چہرے پر چڑھے اس ماسک کو میں نوچ پھینکوں گی۔۔۔ تمہارے چاہنے والے تمہارے فینز کو تمہارا یہ اصلی گھٹیا چہرہ دکھاؤں گی۔۔۔۔۔۔کہ تم کتنی دوغلی پالیسی عیاش اور گھٹیا ذہنیت کے آدمی ہو۔۔۔۔مجھے اغوا کر کے خود کو بہت طاقتور بہت زور آور سمجھ رہے ہو۔۔حقیقت میں تم ایک دولت اور شہرت کے نشے میں ڈوبے گھٹیا اور بزدل انسان ہو۔اصل میں تم سے یہ بات برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ تمہیں کوئی لڑکی ریجیکٹ کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن میں نے کیا ایک بار نہیں ہزار بار کروں گی۔۔۔۔اور پھر سے یہی کہونگی کہ تم ایک بدکردار مرد ہو سو تمہاری قسمت میں اگر کوئی عورت لکھی بھی ہوگی تو وہ حیات عبدالرحمان نہیں بلکہ تمہارے اپنے جیسی ہی کوئی بدکردار عورت ہو گی۔۔۔۔۔۔وہ غصے اور نفرت کے جنون میں مسلسل بولتی چلی گئی۔۔۔”
بکواس بند کرو اور اپنی حد میں رہو۔۔۔۔مجھے حیوان بننے پر مجبور مت کرو۔۔۔۔۔۔۔۔حیات کے جملوں اور نفرت بھرے انداز نے اس کے وجود میں آگ بھر دی۔۔اسکے پور پور سے چنگاریاں نکلنے لگیں۔۔۔۔”
تم حیوان ہی ہو مزید کیا بنو گے۔۔۔تم جیسے گھٹیا شخص سے کمینگی و پستی کی ہی امید کی جا سکتی ہے۔۔۔۔”
میں کہہ رہا ہوں نا اپنی حد میں رہو ورنہ ایسا نا ہو کہ میرے ہاتھوں تمہارا قتل ہو جائے۔۔۔۔وہ دھاڑا
تو کر دو قتل۔۔۔۔تمہارے ہاتھوں ذلت اٹھانے سے قتل ہو جانا ہی بہتر ہے۔۔۔۔باعزت زندگی تو جینے نہیں دو گے مجھے۔مارنا چاہتے ہو تو مار دو مجھے۔۔۔”
“۔۔وہ اسکی دھاڑ سے ڈرے بغیر ہذیانی انداز میں چیخنے لگی۔۔۔۔”
“میرا دماغ خراب ہے جو اتنی خوبصورت لڑکی کو قتل کروں گا۔۔۔۔اگلے ہی لمحے وہ پینترا بدل کر بولا۔چہرے پر تھوڑی دیر پہلے والے غصے اور غیض وغضب کا شائبہ تک نا تھا۔۔۔۔۔”
حیات چیخنا چلانا بھول کر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔”
میری بات مان لو۔۔یقین کرو میرے ساتھ تمہارا جتنا بھی وقت گزرے گا بہت اچھا گزرے گا۔۔۔۔۔۔انداز کے ساتھ لہجے میں بھی نرمی آ چکی تھی۔۔۔۔”
“ناممکن۔۔۔۔۔۔حیات نے نفی میں سر ہلایا
” اوکے تمہاری مرضی لیکن جب تک ہاں نہیں کروگی میں بھی نہیں جانے دوں گا۔۔۔وہ بھی ضدی انداز میں کہتے ہوے دوسرے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔”
دروازہ کھلا ہوا تھا۔۔۔۔”
“حیات نے چور نظروں سے اد کھلے دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔۔
کھلا دروازہ دیکھ کر بھاگنے کا مت سوچنا۔باہر میرے وفادار موجود ہیں۔۔۔۔وہ اسکی حرکات و سکنات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھا شائد۔۔۔”
میں آپ سے بچنے کیلئے ترکی نہیں آئی۔میری مام کی برسی ہے پرسوں اس لئیے آئی یہاں۔پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔۔انکی قبر پر جانا ہے مجھے۔۔میں اپنے تمام الفاظ واپس لیتی ہوں جو جو میں نے کہے۔۔خدا کیلئے مجھے معاف کر دیں اور جانے دیں۔کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے اچانک سر اٹھایا اور اسکی طرف بھیگی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے التجائیہ انداز میں بولی۔
“کچھ دیر پہلے والا نفرت بھرا انداز اور لہجہ غائب ہو چکا تھا۔۔۔آواز میں شکستگی تھی”
“وہ جو صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا اپنی سرخ آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا۔اس کے لہجے میں گھلی آنسوؤں اور بے بسی کی نمی نے ناجانے اس پر کیا اثر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ چند پل بے حد خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔۔۔حسن و دلکشی رعنائی اور دلربائی کا پیکر۔۔۔۔۔کلیوں کا تبسم۔۔۔۔ شوخ پھولوں سی شگفتگی۔جھلملاتے ستاروں کی کہکشاں جسکی نگاہوں میں جھلملا رہی تھی۔جسکے رخساروں پر سرخ گلابوں کے رنگ ٹھہر گئے تھے۔۔۔۔جس کے یاقوتی ہونٹوں پر گلابوں نے اپنا آپ نچھاور کر ڈالا تھا۔۔۔۔جیسے کوئی مصور حاصل زیست شاہکار بنا کر قلم توڑ ڈالے۔۔”وہ حسن و رعنائی کا نادر شاہکار تھی۔۔۔۔۔اور وہ حسن و دلکشی کا دیوانہ اسی لئیے تو اسکے پیچھے یہاں تک چلا آیا تھا۔اس سمے اس کا رویا گھبرایا بے بس حسن اسے ہی بے بس کرنے لگا تھا۔۔۔۔۔اسکی باسفورس کے سمندر جیسی گہری نیلی آنکھیں اسے اپنے سحر میں جکڑنے لگی تھیں۔۔”
عجیب سی جھنجھناہٹ اور احساسات اسکے اندر وارد ہونے لگے۔۔۔اسکی زندگی میں حسین چہروں کی کمی نہیں تھی۔۔مگر اس لمحے اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کوئی عام لڑکی نہیں بلکہ اپنے اندر اتنی جاذبیت اتنی کشش رکھتی ہے کہ کوئی بھی بڑے سے بڑا مشہور سے مشہور ترین اور دولت مند شخص اسکے قرب کی تمنا کر سکتا ہے۔وہ جو اس سے اپنے ٹھکرائے جانے کا بدلہ لینے۔ اسے جھکانے ۔۔۔۔اس سے اپنی بات منوانے اس کا غرور توڑنے کے ارادے سے ترکی آیا تھا اچانک سے اپنے بدلنے والے احساسات سے کنفیوژ ہونے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت وہ خود کو بالکل عام انسان کے جیسا محسوس کرنے لگا۔۔۔ اپنے فلمسٹار،سپرسٹار ہونے کا کوئی غرور بھرا احساس اسکے اندر نہیں جاگ رہا تھا۔۔۔۔۔”
فرقان۔۔۔۔ اپنے اندر نپننے والے احساسات سے گھبرا کر وہ صوفے پر سے اٹھ کھڑا ہوا اور حیات کی طرف سے رخ موڑتے ہوئے فرقان کو آواز لگائی۔۔۔
جی سر۔۔۔۔وہ فوراً حاضر ہوا۔۔۔۔”
انہیں اسی جگہ چھوڑ کے آؤ جہاں سے لے کر آئے تھے۔کہنے کے بعد وہ وہاں رکا نہیں۔۔۔۔۔۔بنا کسی کی طرف دیکھے وہ باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔”جب کے فرقان حیران رہ گیا۔۔۔۔۔۔”
“اگر اتنی جلدی چھوڑنا ہی تھا تو مجھے یہاں بھیج کر ان محترمہ کی تلاش میں خوار کروانے کی ضرورت کیا تھی۔۔۔۔وہ بڑبڑایا”
“آئیے مس۔۔۔۔۔وہ بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کھڑی حیات سے مخاطب ہوا اور اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔”
اونچے نیچے راستوں پر بیس منٹ چلنے کے بعد وہ ایک جگہ رک گیا۔۔۔۔”یہاں سے آگے آپ خود چلی جائیں مس وہ سامنے ہی آپکے ریلیٹوز کے گھر ہیں۔۔۔۔پلٹ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ غائب ہو گیا۔۔۔”
“حیات ارد گرد دیکھ رہی تھی۔یہ وہی جگہ تھی جہاں وہ تین گھنٹے پہلے چہل قدمی کیلئے نکلی تھی۔۔۔اور ان لوگوں کے ہتھے لگ گئی تھی۔۔۔یعنی کہ جہاں اسے رکھا گیا وہ جگہ گرینی کے گھر سے زیادہ دور نہیں تھی۔۔۔۔۔”
وہ اتنے گھنٹوں سے غائب تھی ناجانے وہ لوگ اس کیلئے کتنا پریشان ہو رہے ہونگے،اسے ڈھونڈ رہے ہونگے یہ خیال آتے ہی وہ تیزی سے چلنے لگی۔ابھی چند قدم ہی طے کیے تھے کہ نظر علی پر پڑی جو بھاگتا ہوا اسکی طرف آ رہا تھا۔۔”اسکے چہرے کی پریشانی اور بوکھلاہٹ اسے دور سے ہی نظر آ گئی”
اوہو خدا کا شکر ہے آپ بالکل ٹھیک ہیں۔۔۔کہاں چلی گئی تھیں آپ ۔۔۔۔۔۔ ہم سب سخت پریشان ہو کر آپ کو پچھلے کئی گھنٹوں سے ڈھونڈ رہے ہیں۔۔۔۔قریب آتے ہی وہ بےتابی سے بولا
وہ ایکچولی میں واک کیلئے نکلی تھی راستہ بھول گئی تھی۔ادھر ادھر بھٹکتی رہی بڑی مشکل سے ملا تو۔۔۔۔اصل بات تو کسی صورت نہیں بتا سکتی تھی سو واک کا بہانہ ہی ذہن میں آیا”
” یہاں کے راستے کسی بھی انجان بندے کیلئے آسان نہیں۔ آپ کو اگر باہر جانا ہی تھا تو اسلی ،سیلن یا سبل میں سے کسی کو ساتھ لے جاتیں۔۔۔یا پھر کم از کم اپنا فون ہی ساتھ لے لیتیں۔ہمیں اتنی پریشانی تو نا اٹھانا پڑتی۔۔دادی جان پچھلے تین گھنٹوں سے آپ کیلئے رو رہی ہیں۔۔ یہ سوچ سوچ کر ہی انکی جان نکلی جا رہی تھی کہ خدانخواستہ آپ کو کوئی نقصان پہنچا تو وہ آپ کے بابا کو کیا جواب دیں گی۔۔۔۔۔”وہ پریشانی بھرے انداز میں مہذب طریقے سے اسے اسکی لاپرواہی کا احساس دلا رہا تھا۔۔۔۔”
سوری خیال نہیں رہا مجھے۔۔۔۔۔وہ شرمندگی بھرے لہجے میں بولی۔۔۔
آئیں چلیں۔۔۔۔۔وہ اسے ساتھ آنے کا اشارہ کر کے گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔حیات بھی تیز قدموں سے ساتھ چلنے لگی۔میں کل ہی واپس استنبول چلی جاؤں گی۔۔۔واپس آتے وقت وہ سوچ چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔جب علی کے پیچھے گھر میں داخل ہوئی تو سب کے شدید پریشان چہرے دیکھ کر اسے صحیح معنوں میں شرمندگی ہوئی۔ اور اکیلے باہر نکلنے والی اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔رات کو وہ حانم خاتون سے کہنے ہی والی تھی کہ اسے واپس بھجوانے کا بندوست کریں۔ ایسرا آنٹی کی کال نے اسکی مشکل آسان کر دی۔۔۔
۔۔۔۔۔حیات میں میوج اور حلوک کل تمہیں لینے آ رہے ہیں۔کیونکہ پرسوں تمہاری امی کی برسی ہے۔۔۔۔۔۔۔”پھر برسی کے دو دن بعد تم نے واپس پاکستان چلے جانا ہے اسلیئے اب جتنا ٹائم تم یہاں ہو ہمارے ساتھ گزارو۔۔۔حیات نے سکون کی سانس لی”
“حانم خاتون اسے اتنی جلدی بھیجنے پر راضی نہیں تھیں۔۔۔مگر اسکی امی کی برسی کا سن کر وہ خود بھی ساتھ جانے کو تیار ہو گئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
ماحر نامی آسیب کا خوف مسلسل ذہن پر سوار تھا۔
اگرچہ اس شخص نے بنا کوئی نقصان پہنچائے اسے چھوڑ دیا تھا جسکی امید وہ نہیں کر رہی تھی۔اس نے بنا نقصان پہنچائے چھوڑ دیا تھا تو یقیناً وہ اسے دوبارہ بھی نقصان پہچانے کا نہیں سوچے گا۔۔۔۔”
مگر پھر بھی ناجانے کیوں دل میں اس کا خوف کنڈلی مار کر بیٹھ گیا تھا۔وہ ایسرا آنٹی اور حلوک انکل کے آنے تک دوبارہ گھر سے باہر کہیں نہیں جانا چاہتی تھی۔
مگر ایمینے آنٹی اسلیحان اور سیلن اسے بے حد اصرار کر کے برسا میں واقع آئینگول نامی سب سے مشہور شاپنگ سنٹر لے گئیں۔۔۔۔۔۔۔
“۔۔۔آئینگول شاپنگ سنٹر ترکی کا سب سے بڑا بیرونی شاپنگ سنٹر تھا۔۔۔۔۔اس شاپنگ سنٹر میں کئی سارے قیمتی برانڈز کی فروخت کی دکانیں تھیں۔۔یہاں سے کچھ خریداری کرنے کے بعد وہ ظفر پلازہ گئیں۔۔۔۔۔۔یہ شاپنگ سینٹر برسا کی مصروف ترین سڑک پر واقع تھا۔یہ ایک ایسی عمارت تھی جس میں دو عمارتیں شامل تھیں۔۔۔۔۔اسے نہایت ہی جدید انداز میں ڈیزائن کیا گیا تھا۔
“۔۔۔۔۔۔۔شام کا ٹائم تھا تو پورا شاپنگ سنٹر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔۔۔حیات کے روکنے کے باوجود انہوں نے اسکے لئیے بہت سارے گفٹس لئیے تھے۔۔.۔۔حیات نے ان کا احسان اتارنے کی چھوٹی سی کوشش کرتے ہوئے اپنی دو کافی مہنگی اور بے حد خوبصورت فراکس اسلی اور سیلن کو گفٹس کر دیں۔۔۔۔۔”
دوسرے دن حلوک انکل اسرا آنٹی اور میوج اسے لینے پہنچ گئے۔۔ان سب کی محبتوں خلوص چاہتوں کا قرض لئیے وہ شکریے کا چھوٹا سا لفط بول کر استنبول کیلئے روانہ ہو گئی۔۔۔۔ایک بار پھر سے حانم خاتون اور انکا ہوتا علی اسکے ساتھ تھے۔۔۔۔علی تو استنبول میں ہی رہتا تھا۔وہاں کسی کمپنی میں ملازمت کر رہا تھا۔۔۔۔۔”
برسی سے ٹھیک دو دن بعد اسکی پاکستان کی فلائٹ تھی۔۔۔اسکی روانگی سے پہلے علی اس سے ملنے آیا اپنی کہی باتوں کی معافی مانگی اور کہا۔۔۔۔۔۔”
“حیات میرے دل میں آپ کیلئے لئیے بہت عزت بہت محبت ہے میری ہمیشہ یہی دعا رہے گی کہ آپ اپنے ہمسفر کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزاریں۔لیکن اگر زندگی کے کسی موڑ پر بھی میری ضرورت پڑے بس ایک بار کنٹیکٹ کر لینا۔۔۔سات سمندر پار بھی پہنچ جاؤں گا۔۔۔۔اس نے اپنا کارڈ اسکی طرف بڑھایا۔جسے ناچاہتے ہوئے بھی وہ تھام گئی۔۔آخر کو اسکے گھر میں مہمان رہی تھی۔حانم خاتون سمیت اسکے تمام گھر والوں خاص طور پر انکے بیٹے یعنی ایمینے آنٹی کے شوہر اور علی کے بابا نے تو سگی بیٹیوں کی طرح اس کا خیال رکھا۔ان سب کی اس قدر محبت اور خلوص کے بدلے میں اتنی مروت دکھانا تو بنتا ہی تھا۔۔۔۔۔”
“۔۔۔فلم گینگسٹر ٹو کی پچھلے دو گھنٹوں سے جاری شوٹنگ میں وہ زین اور نتاشا کی کوئی بیس بار انسلٹ کر چکا تھا۔۔یہ شوٹنگ ترکی کے جنوب مشرقی علاقے غازینتپ میں ہو رہی تھی۔۔۔۔لوکیشنز فائنل ہو چکی تھیں۔۔۔۔شوٹنگ کیلئے جن چار ممالک کو سلیکٹ کیا گیا تھا ان میں ترکی برطانیہ روس اور یوگوسلاویہ شامل تھے۔۔۔۔۔۔یہ فلم رومینس کے مصالحے کے ساتھ بھرپور ایکشن پر مشتمل تھی”
۔۔۔ایکشن سینز کیلئے دیہاتی علاقے کی ضرورت تھی جس کیلئے غازینتپ سلیکٹ کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔”
فلم کی پوری ٹیم ڈائریکٹر پروڈیوسر ماحر خان کی ساتھ اسوقت غازینتپ کے ایک روڈ پر موجود تھی”
نتاشا دلال اور زین سکندر پہ ایک گانا پکچرائز کیا جا رہا تھا۔۔لوگوں کی بڑی تعداد شوٹنگ دیکھنے کیلئے وہاں جمع تھی جن میں ملکی غیر ملکی کئی لوگ شامل تھے
ایک گھنٹہ ہو گیا تھا گانے کا ایک بھی سین اوکے نہیں ہو پا رہا تھا۔۔۔ماحر نتاشا اور زین کے ڈانس سٹیپس سے مطمئن نہیں ہو پا رہا تھا۔اسلئیے بار بار ری ٹیک کروا رہا تھا۔۔۔اس صورتحال سے زین اور نتاشا بھی جھنجلا چکے تھے۔لیکن ڈائریکٹر سے چپ چاپ ڈانٹ کھا رہے تھے”
۔۔۔کیسے فضول سٹیپس کر رہے ہیں یہ لوگ۔۔۔گانے کی لیرکس کے ساتھ بالکل بھی میچ نہیں کر پا رہے انکے ڈانس سٹیپس۔۔۔۔۔ایسے ریہرسل کروائی تھی آپ نے انکی۔۔۔۔مجھے لگتا ہے تم سب کی وجہ سے اس فلم پہ لگا میرا کروڑوں کا پیسہ ڈوب جائے گا۔فلاپ ہو جائے گی یہ فلم۔۔۔۔۔۔اب وہ کوریوگرافر سرور علی پر اپنی جھنجلاہٹ اتار رہا تھا”
مجھے لگ رہا ہے تمہارے بھائی کسی اور کا غصہ ہم پر نکال رہے ہیں۔نتاشا زین کے کان میں دھیرے سے بولی
ہاں لگ تو ایسا ہی رہا ہے۔۔”ورنہ میں سمجھ رہا تھا کہ پہلے کی نسبت میں اچھا ڈانس کر رہا ہوں۔۔۔ماحر کے رویے سے وہ مایوس ہو رہا تھا۔کیونکہ اس سے پہلے شوٹنگز کے دوران اس نے اپنے بھائیوں کے ساتھ ایسا سلوک کبھی نہیں کیا مگر آج وہ کسی قسم کی رعایت کے موڈ میں نہیں لگ رہا تھا”
” یہ تم لوگ وہاں آرام سے کھڑے کیا کھسر پسر کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی بری ایکٹنگ سے یہ فلم فلاپ کرواؤ گے کیا۔”کروڑوں روپے لگے ہوئے ہیں میرے اس فلم پہ میرے۔۔۔
۔۔۔۔دس بار کی کہی گئی بات کو پھر سے دہرایا”
اگر تم لوگوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے یہ فلم فلاپ ہوئی اور میرا کروڑوں کا پیسہ ڈوبا نا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔ماتھے پہ بل ڈالے وہ ان دونوں کو وارننگ دے رہا تھا۔۔۔۔”
بھائی لیکن ہم”۔۔۔۔۔
“۔۔شٹ اپ ۔۔۔۔میں اس وقت صرف تمہارا ڈائریکٹر ہوں بھائی۔۔۔زین کی بات کو درشتی سے کاٹ دیا۔ابھی مزید بھی وہ انکی بے عزتی کرنے کے موڈ میں تھا۔یکلخت دھویں جیسے سفید بادلوں نے ہر چیز کو ڈھانپا شروع کر دیا۔شوٹنگ دیکھنے کیلئے آیا ہوا ہجوم منتشر ہونے لگا۔
سر پیک اپ کریں۔۔۔۔۔۔؟؟کسی وقت بھی یہ بادل برسنا شروع ہو جائیں گے۔۔۔فرقان نے اسکے پاس آ کر کہا۔۔”
ہاں پیک اپ کرو۔۔۔۔۔آج کا دن تو برباد ہو گیا۔موسم خراب نا بھی ہو تب بھی آج گانا ریکارڈ نہیں ہونے والا کیونکہ ان دونوں نالائق ہیرو ہیروئن کو ابھی مزید ریہرسل کی ضرورت ہے۔۔۔۔
وہ سخت کوفت بھرے انداز میں بولا۔ابھی وہ لوگ پیک اپ کرنے ہی والے تھے کہ آسمان پر جمع ہونے والے سفید اور سیاہ بادلوں نے بنا وارننگ کے برسنا شروع کر دیا تو پوری ٹیم بوکھلا گئی اور تیزی سے چیزیں سمیٹنے لگی۔۔۔۔”
