Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 31)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 31)
Meri Hayat By Zarish Hussain
آ۔۔۔۔آ۔۔۔آپ یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنا چکراتا سر پکڑ کر ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی۔اتنے دنوں سے مسلسل جس صدمے سے وہ گزرتی آئی تھی اب اعصاب مزید کسی ٹینشن کو برداشت نہیں کر پائے تھے”
ماحر نے تیزی سے آگے بڑھ کر اسے تھاما ورنہ وہ زمین بوس ہو چکی ہوتی”
بازوؤں میں بھر کر قریبی صوفے پر لٹا دیا۔۔۔حیات کا چہرہ خطرناک حد تک زرد ہو گیا تھا”وہ مکمل بے ہوش تھی۔وہ اپنا غصہ قہر بھول کر جلدی سے ریفریجریٹر سے ٹھنڈا پانی لے آیا۔۔۔جھک کر اسکے قریب دو زانوں بیٹھ گیا۔اور ٹھنڈے پانی کے چھینٹے پھینکنے لگا۔۔ماحر کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔۔پنک کلر کے سٹار ایمبرائیڈری سوٹ میں اس کا ملکوتی حسن نمایاں تھا۔پنک جھلملاتا ہوا ڈوپٹہ سر سے ڈھلک کر شانوں پر ٹھہرا ہوا تھا۔۔۔۔براؤن ریشمی بالوں کی لٹیں کیچر میں سے پھسل کر اسکے چہرے کے اطراف میں جھول رہی تھیں۔بے داغ شفاف سرخ و سفید چہرہ۔۔۔۔۔۔سیاہ دراز عارضوں پر جھکی پلکیں۔۔۔سیاہ متناسب ابرو۔۔ ستواں ناک گلابی ہونٹ۔۔۔۔۔۔وہ حسین نہیں حسین ترین تھی۔ایسا حسن جو پتھر کو بھی پگھلا کر موم کر دے اور وہ تو پتھر نہیں تھا انسان تھا جو موم سے بھی زیادہ نرم ہوتا ہے۔۔اسکے اسی حسن نے تو اسے اس بری طرح گھائل کیا تھا کہ وہ جو پہلے اسے فلم کی ہیروئن بنانے کا خواہشمند تھا اب اس کا دل اصل زندگی میں اسے اپنی ہیروئن بنانے کی خواہش کر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔اسے لگا جیسے اسکے خوابیدہ وجود سے سفید روشنیاں نکل رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑی کشش بڑا سرور تھا ان روشنیوں میں۔اسے عجیب سا کیف خود پر چھایا محسوس ہونے لگا۔۔دل کی دنیا زبر زیر ہونے لگی۔
وہ بے خودی میں اسے تکے گیا۔
پانچ منٹ ہو چکے تھے وہ اب تک ہوش میں نہیں آئی تھی تو وہ سچ میں گھبرا گیا۔۔۔۔ہاتھ میں پکڑا ٹھنڈے پانی کا گلاس سارے کا سارا اسکے چہرے پر انڈیل دیا۔۔
اتنے سارے یخ پانی کا چہرے پر پڑنا تھا کہ چند سیکنڈ بعد اس نے بے چین ہو کر آنکھیں کھول دیں۔۔ماحر دل میں شکر ادا کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔چند لمحے وہ لاشعوری انداز میں اس کی طرف دیکھتی رہی۔شعور کے بیدار ہوتے ہی ہڑ بڑا کر اٹھنے لگی۔
لیٹی رہو تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔وہ نرمی سے اسکے بازو پر ہاتھ رکھ کر بولا”اسکے لمس سے وہ ایک لمحے کیلئے فریز ہو گئی۔۔اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ جھٹک کر تیزی سے اٹھی۔۔۔۔۔۔۔بدحواسی اور پریشانی اسکی متوحش آنکھوں سے جھلک رہی تھی۔
کیا حرکت ہے یہ۔۔۔کیوں اسطرح کی چیپ حرکت آپ چوتھی بار کر رہے ہیں میرے ساتھ۔میرے شوہر کو مار کر بھی سکون نہیں ملا۔۔۔۔برباد تو کر چکے ہو مجھے۔چین سکون تو چھین چکے ہو میرا اور کیا چاہتے ہو۔کچھ خوف خدا بھی ہے یا نہیں۔۔ایک بے قصور انسان کو مارا ہے تم نے۔۔اللّٰہ کرے تمہیں بھی کوئی ایسے ہی مارے تم بھی ایسے ہی برباد ہو۔تمہارے گھر والے بھی تمہارے پیچھے روئیں تڑپیں۔۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے ہذیانی انداز میں اسے بد دعائیں دینے لگی۔۔”
میں نے اسے نہیں مارا۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز تم بیٹھ کر تسلی سے میری بات سن لو۔۔۔میں نے تمہیں کسی غلط نیت سے نہیں بلایا۔۔۔اسکی بد دعاؤں پر برا مانے بغیر ماحر نے اسے نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی۔۔
مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی جانے دو مجھے۔ورنہ نتائج کی پروا کیے بغیر تم پر اپنے شوہر کے مرڈر کا کیس کر دوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہو گے ساری شہرت عزت مٹی میں مل جائے گی۔۔اسکے نرم لہجے کا حیات پر کوئی اثر نہیں ہوا وہ اسی ہذیانی انداز میں چیختے ہوئے اسے دھمکانے لگی۔۔
اب کے ماحر خان کے چہرے پر بھی غصہ پھیلنے لگا وہ اپنے جلالی روپ میں واپس آنے لگا۔۔۔کچھ دیر پہلے والی لہجے کی نرمی غائب ہو گئی۔۔۔۔۔۔کتنی بار کہوں نہیں مارا میں اسے۔۔۔۔۔وہ دھاڑا
تم نے ہی مارا ہے اسے۔۔۔۔۔تمہارے علاؤہ اور کون مار سکتا ہے بھلا۔۔۔وہ اس سے بھی زیادہ اونچی آواز میں دھاڑ کر بولی
اوکے میں نے مارا۔۔۔۔بولو کیا کر لو گی۔۔۔۔۔۔۔؟؟انداز استہزائیہ تھا”
جان سے مار دوں گی تمہیں۔۔۔۔۔وہ دانت بھینچ کر غرائی”
ٹھیک ہے مارو پھر۔۔۔سامنے کھڑا ہوں تمہارے۔۔۔اس کا انداز مذاق اڑانے والا تھا۔
مجھے تمہارے ناپاک خون سے اپنے ہاتھ نہیں رنگنے۔۔میں اپنا معاملہ اللّٰہ پر چھوڑتی ہوں وہی تم سے حساب لے گا۔۔۔۔۔۔اب دروازہ کھولو اور مجھے جانے دو۔۔۔وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے گھورتی سخت لہجے میں گویا ہوئی۔
دروازہ کھول دوں گا۔۔۔لیکن پہلے تم سکون سے بیٹھ کر میری بات سن لو جس کیلئے میں نے تمہیں یہاں بلایا ہے۔۔۔وہ اسے کسی بچے کی طرح پچکارتے ہوئے بولا
مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی جانے دو مجھے۔وہ بے لچک انداز میں کہتی دروازے کی طرف بڑھی”
ماحر اسکے راستے میں آ گیا
بات تو تمہیں سننی ہی پڑے گی۔۔حیات کی ہٹ دھرمی پر اسے بھی غصہ آ گیا۔۔۔مشتعل انداز میں کہتے ہوئے اس نے اسے صوفے کی جانب دھکیل دیا اور خود اسکے اتنے قریب جھک کر کھڑا ہوا کہ وہ اپنی جگہ پر فریز ہو گئی کوئی حرکت نہیں کر پائی۔۔تاہم اسکی آنکھوں میں اب ڈر نہیں تھا صرف اور صرف نفرت غصہ اور اشتعال تھا”
پہلی بات تو یہ ہے اس پروفیسر کو میں نے نہیں مارا۔دوسری بات یہ ہے دوبارہ میرے سامنے اسے اپنا شوہر مت بولنا۔کیونکہ اس عہدے پر صرف اور صرف ماحر خان ہی فائز ہو گا۔۔۔اور سب سے اہم بات جس کیلئے میں نے تمہیں بلایا ہے وہ بات کرتے کرتے رکا اور اسکی طرف غور سے دیکھنے لگا جو غم و غصّے اور نفرت سے اسے گھور رہی تھی۔
میں تمہارے لئیے پرپوزل بھجوانے والا ہوں اور تمہیں اس پر پوزل کیلئے ہاں کرنی ہے ورنہ۔۔۔ماحر نے بات ادھوری چھوڑ دی۔۔
ورنہ کیا مجھے بھی مار دو گے۔۔۔مار دو میں اب ڈرتی نہیں ہوں موت سے۔۔۔وہ نڈر انداز میں بولی
نہیں تم جیسی حسین لڑکی کو مار کر اپنا نقصان نہیں کرنا مجھے۔۔۔۔حیات کے تیوروں نے اسکے اندر شوخی سی بھر دی تھی۔۔۔پل میں پینترا بدل کر مسکرایا۔۔
وہ سلگ کر رہ گئی۔۔۔
لیکن ہاں تمہارے کسی بہت قریبی رشتے کی گارنٹی نہیں اگر تم نے انکار کیا تو۔۔۔۔شوخی فوراً غائب بھی ہو گئی لہجہ دھمکی آمیز ہو گیا”
حیات اسے ویسے ہی گھورتی رہی۔۔کتنے گھٹیا انسان ہیں آپ میری زندگی برباد کر دی میرے شوہر کو مروا دیا۔۔۔۔کیا حق پہنچتا ہے آپ کو اسطرح دوسروں کی زندگی اجیرن کرنے کا۔۔۔۔۔کیوں اتنا ڈبل گیم کھیل کر مجھے یہاں بلوایا۔۔کیوں نہیں پیچھا چھوڑ دیتے میرا۔
آخر چاہتے کیا ہیں آپ۔۔۔۔وہ اپنی بے بسی پر رو دی
تم سے شادی کرنا۔۔۔۔وہ اسے گھور کر اطمینان سے بولا
ہرگز نہیں۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔۔میں مر کر بھی قبول نا کروں تم جیسےلوز کریکٹر۔۔شرابی۔۔عیاش خونی انسان کو۔۔۔۔میرے شوہر کو مار کر مجھ سے شادی کرو گے دماغ تو صحیح ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بپھر کر بولی”
جس انداز الفاظ میں وہ اس سے مخاطب ہوئی تھی۔
اس نے اسے دہکتے ہوئے کسی نادیدہ الاؤ میں دھکیل دیا تھا۔۔شرابی عیاش خونی انسان جیسے لفظوں نے اسکے خون کو ابال پر پہنچا دیا تھا۔۔ ایک دم ہی اس پر وحشت سوار ہو گئی تھی۔اس نے غصے میں آ کر حیات کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔۔۔اچانک اسکے بازو کھینچنے سے وہ اپنا توازن برقرار نا رکھ پائی۔۔۔۔۔۔اور کسی بے جان گڑیا کی طرح اسکی جانب کھینچ گئی مگر فوراً ہی اس نے اپنے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھ کر خود کو سنبھالا تھا ورنہ سیدھی اسکے سینے سے ٹکراتی۔۔۔ماحر نے اسکے دونوں کندھوں پر اپنے ہاتھ اس سختی سے جمائے کہ وہ چاہ کر بھی خود کو چھڑا نہیں سکی۔اسکے منہ سے نکلنے والی سانسیں حیات کے چہرے پر بھاپ کی طرح لگ رہی تھیں۔۔۔۔۔”وحشت و جنون سے اسکی شفاف آنکھوں میں خون سا اتر آیا تھا۔ماحر اسے دیوانگی کی حدوں سے باہر نظر آنے لگا۔
میں نے کہا نا نہیں مارا میں نے اسے۔۔۔کیوں بار بار ایک ہی رٹ لگائی ہے۔۔۔سٹوپڈ گرل تم سمجھتی ہو تمہاری محبت میں مجبور ہو کر میں تمہاری بدتمیزی دشنام طرازی اور الزام برداشت کر لوں گا۔۔۔۔۔۔”میں کبھی بھی کسی کے ساتھ اتنی نرمی سے پیش نہیں آتا جتنا تمہارے ساتھ آ رہا ہوں۔۔مگر تم میری نرمی سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو۔۔۔فلموں سے ہٹ کر رئیل زندگی میں میں نے کبھی کسی کے منہ سے اپنے لئیے گالی برداشت نہیں کی۔گالی نکالنے والے کا میں وہ حال کرتا ہوں کہ دوبارہ زبان استعمال کرنے کے بھی قابل نہیں رہتا۔۔۔۔تمہیں آفر ضرور کی تھی مگر کچھ غلط تو نہیں کیا کبھی تمہارے ساتھ حالانکہ کئی بار تم میری دسترس میں آئی۔۔لیکن کب میں تمہارے ساتھ اخلاق سے گری ہوئی حرکت کا مرتکب ہوا ہوں بولو۔۔۔اسکے بار بار کے الزام پر وہ بھی پل بھر میں آپے سے باہر ہو گیا۔۔غصے میں اسکے منہ سے وہ لفظ نکل گیا جس کو اس نے خود بھی ابھی تک ایکسیپٹ نہیں کیا تھا”مگر حیات کی توجہ اسکے لفظ پر کہاں تھی۔اسے اسکی محبت سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔۔۔اگر وہ کرتا بھی تھا تو اسکی بلا سے جہنم میں جائے۔۔۔اسکی نظروں میں تو ارتضیٰ کا قاتل تھا وہ۔۔۔۔اسے قبول کرنا اسکے لئیے مرنے کے مترادف تھا”
وہ اسکے لفظوں اور اسکی دھاڑ سے قطعی مرعوب نہیں ہوئی۔۔اپنے چہرے پر ڈر ظاہر نہیں ہونے دیا۔۔البتہ نفرت بھرے انداز میں اسکے ہاتھوں کی گرفت ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے غرائی۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔۔اپنے ناپاک ہاتھ اپنے تک محدود رکھو ماحر خان مجھے گھن آتی ہے تم سے تمہارے کریکٹر سے۔۔۔سمجھے تم”وہ بلبلا رہی تھی۔۔مزاحمت شدید تھی۔
کیوں۔۔کیوں کہتی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا کیا کیا ہے میں نے کیسے ناپاک ہوں میں بولو۔۔۔ہاتھوں کی گرفت مزید سخت کرتے ہوئے وہ چیخ اٹھا۔۔۔۔۔۔اسکے دوسری بار اپنے بارے میں بولے گئے اس لفظ ناپاک نے اسکے اندر آگ بھر دی تھی۔وہ مشتعل ہو گیا۔۔۔۔۔اس وقت غصے اور جنون کی آخری سٹیج پر تھا وہ۔۔۔اسکے اسطرح سختی سے پکڑنے سے حیات کے بازوؤں میں شدید درد ہونے لگا تھا۔مگر وہ برداشت کیے کھڑی رہی۔
جس شخص کے منہ سے شراب کی بدبو آتی ہو جسکے دن رات نامحرم عورتوں کے بیچ میں گزرتے ہوں۔۔۔حرام کماتا ہو۔۔۔حرام کھاتا ہو۔۔۔۔۔۔ وہ ناپاک نہیں ہوگا تو کیا پاک ہوگا۔۔۔۔۔۔۔؟؟وہ بنا ڈرے چلا کر بولی۔۔۔۔۔۔ماحر کے ہاتھوں کی گرفت اسکے کندھوں پر خود بخود ڈھیلی ہو گئی۔۔۔
اچھا اور تم۔ تمہارا شمار پاک اور نیک عورتوں میں ہوتا ہے کیا۔۔۔۔۔؟اس نے اپنے ہاتھ ہٹا لئیے۔۔۔غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں جوابی طنز کیا”
اپنا تو مجھے نہیں پتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لیکن ہاں تمہارے بارے میں ضرور پتہ ہے۔۔۔کہ تم ایک بدکار انسان ہو۔۔۔۔ سنا تم نے شرابی زانی بدکار۔۔۔۔۔۔تم جیسے لوگوں کیلئے پتہ ہے اللّٰہ نے جہنم میں الگ سے ایک اسپیشل خانہ تیار کر رکھا ہے۔۔۔جہاں تم جیسے لوگ اپنے برے اعمالوں کی سزا بھگتو گے اپنا بویا ہوا کاٹو گے۔۔مگر تب معافی کا ٹائم بھی گزر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔تمہاری یہ باڈی جس پہ تم فلمسٹار بڑی محنت کرتے ہو۔پیسہ لگاتے ہو۔۔۔لوگوں کو دکھا کے ان سے داد وصول کر کے خوش ہوتے ہو۔۔جانتے ہو کیا ہوگا اسکے ساتھ۔اسکے کھلے گریبان سے نظر آتے اسکے مضبوط جسم کی طرف حقارت سے اشارہ کرتے ہوئے بولی۔جہنم کی آگ میں جلے گی۔۔۔جہنم کی آگ میں۔۔۔۔اللّٰہ کا عذاب نازل ہوگا تم جیسے لعنتی انسان پر
“اس کا انداز تو نفرت اور حقارت سے بھرپور تھا ہی لیکن لفظوں میں بھی اتنی سفاکیت اتنی بے رحمی تھی۔اتنا برا نقشہ کھینچا تھا اس نے اسکے انجام کا کہ وہ بھی چند لمحوں کیلئے حق دق رہ گیا۔۔۔۔۔
تم کون ہوتی ہو اس بات کا فیصلہ کرنے والی کہ میں بدکار ہوں جہنم میں جاؤں گا۔۔۔؟؟کیا اللّٰہ نے تمہیں اختیار دیا ہے میرے بارے میں فیصلہ کرنے کیلئے کہ مجھے جہنم میں جانا یا جنت میں۔۔۔۔۔؟؟کچھ پل کے حق دق رہنے کے بعد وہ سنبھل کر زخمی لہجے میں گویا “
واقعی وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا وہ کون ہوتی تھی یہ فیصلہ کرنے والی کہ وہ بدکار اور گناہگار تھا اسکو جہنم میں جانا تھا۔۔۔یہ تو اللّٰہ کی مرضی چاہے تو کسی کی ایک چھوٹی سی خطا سے اسے جہنم میں ڈال دے اور چاہے تو کسی کے بڑے بڑے گناہوں کو معاف کر کے ایک چھوٹی سی نیکی کے عوض اسے جنت عطا کر دے۔بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔۔۔مگر یہ بات حیات عبدالرحمان کے ذہن میں نہیں تھی۔اس کے مائنڈ میں بس یہی بات گڑی ہوئی تھی کہ یہ شخص جو سامنے کھڑا ہے۔ایک فلمی اداکار ہے۔۔۔جو حرام کماتا ہے حرام کھاتا ہے۔۔۔۔۔شراب پیتا ہے۔۔۔برے کام کرتا ہے۔۔۔سب سے بڑھ کر اسکے محبوب شوہر کا قاتل ہے۔۔”
اختیار تو تمہیں بھی اللّٰہ نے نہیں دیا میری زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا۔۔پھر تم کون ہوتے ہو۔۔میرے شوہر کو مارنے اور اب اپنی گناہ آلود زندگی میں زبردستی مجھے شامل کرنے کی کوشش کرنے والے”وہ بگڑے تیوروں سے بولی
جواب میں وہ کچھ دیر اسکی شعلے برساتی نیلی آنکھوں میں دیکھتا رہا اسے گھورتا رہا پھر انتہائی سرد لہجے میں بولا۔۔
مس حیات عبدالرحمان تم نے جتنی میری توہین کرنی تھی کر لی۔جتنا مجھے دھتکارنا تھا دھتکار لیا۔۔بس اب اور نہیں میں کوئی عام یا معمولی آدمی نہیں ہوں جو تمہارے پیچھے بھاگتا رہوں گا تمہارے راضی ہونے کا انتظار کرتا رہوں گا۔۔۔۔تم مجھے اس پروفیسر کا قاتل سمجھتی ہو ٹھیک ہے شوق سے سمجھتی رہو۔۔۔۔۔آئی ڈونٹ کئیر۔۔۔۔۔۔لیکن کرنا تمہیں اب وہی ہوگا جو میں چاہوں گا۔۔۔۔۔پتہ نہیں تم اکڑتی کس بات پر ہو۔۔۔اچھی شکل کے علاؤہ اور ہے کیا تمہارے پاس۔۔۔میں چاہوں تو یہیں کھڑے کھڑے تمہیں تمہاری اس حسین شکل سے بھی محروم کر دوں۔۔کچھ نہیں بگاڑ سکو گی تم میرا اور نا وہ تمہارا باپ۔۔۔۔شکر کرو جائز طریقے سے تمہیں حاصل کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ورنہ تم جیسی لڑکیاں تو سپر سٹار ماحر خان کے قدموں کی دھول ہوتی ہیں۔۔۔۔خود کو بڑا نیک پاک سمجھتی ہو حقیقت میں یہ تم جیسی عورتیں ہی ہوتی ہو نیک نامی کا بولا پہن کر دوسروں کو ورغلانے والی۔۔بظاہر پاک باز مومنہ کا روپ دھارے ہوئے۔۔۔اسکی زبان زہر اگل رہی تھی۔۔۔۔۔حیات کا چہرہ غصے اور ذلت کے احساس سے ٹماٹر کی طرح سرخ ہو گیا”
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بھڑک کر بولی
یو شٹ اپ۔۔۔۔ماحر خان اس سے بھی زیادہ غصے سے دھاڑا تھا”
میں جو بھی ہوں تم جیسے گھٹیا گرے ہوئے انسان سے لاکھ درجے بہتر ہوں۔۔جو کسی کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔۔۔۔۔تمہاری ان تھرڈ کلاس دھمکیوں سے ڈرتی ہے میری جوتی۔۔۔۔۔۔مجھے نقصان پہنچاؤ گے تو بچو گے تم بھی نہیں اس غلط فہمی میں مت رہنا۔تم سپرسٹار ہو تو میں بھی کوئی گری پڑی لڑکی نہیں ہوں خاندانی لڑکی ہوں اپنی عزت کی حفاظت کرنا ہی نہیں جانتی بلکہ اپنے اوپر ہاتھ ڈالنے والے کے ہاتھ توڑ بھی سکتی ہوں۔بے شک آزما لینا۔۔۔۔۔”ڈوپٹے کو سر پر درست کرتے ہوئے وہ پھنکاری تھی۔۔شدید غصے سے اسکے گال تمتا رہے تھے”
ماحر نے انتہائی غیض بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔جس کی آنکھوں میں مرنے مار دینے والی کیفیت تھی
“۔۔۔۔۔لائٹ بلیو جینز و ملٹی لائنز شرٹ میں ملبوس خوشبوؤں سے مہکتا اس کا وجہیہ دراز سراپا نمایاں تھا۔موویز میں شرٹ لیس سینز کروانے کی وجہ سے باڈی بھی خوب بنی ہوئی تھی۔حیات کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اس کو اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہوئے اسکی آفر پر اپنا آپ نچھاور کر دیتی۔۔مگر وہ اس بندے سے شدید نفرت کرتی تھی جو ایک سپر سٹار ہونے کی وجہ لاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن کئی آنکھوں کا خواب تھا”
اب نگاہوں سے مارنے کا ارادہ ہے کیا۔۔اگلے ہی پل مسکرا کر بولا۔۔
عجیب آدمی تھا پل میں تولہ پل میں ماشہ۔۔کچھ دیر پہلے والے غصے کا چہرے پر شائبہ تک نا تھا”چہرے کے تاثرات یوں نارمل ہو چکے تھے جیسے انکے بیچ کو فرینڈلی بات چیت ہو رہی تھی۔۔
ہونہہ۔۔۔حیات نے نفرت سے نگاہیں پھیر لیں۔۔
کیا سمجھتے ہو خوفزدگی کا جال بچھا کر شکار کر لو گے مجھے۔۔۔۔وہ طنز سے بولی”
نہیں نہیں اتنا ظالم شکاری بھی نہیں ہوں۔۔حرام حلال کی پہچان ہے مجھے۔۔خوفزدہ کر کے نہیں بلکہ نکاح کے جال میں پھنسا کر حلال طریقے سے شکار کرنا چاہتا ہوں۔۔ماحر خان کی طرف سے بڑا بےباک اور بے ساختہ جواب ملا تھا۔
اسکے ہاتھ پاؤں جھنجھنا اٹھے۔۔۔پہلے سے سرخ چہرہ حیا کی لالی اور غصے سے مزید سرخ ہو گیا۔۔۔اس کا دل چاہ رہا تھا سامنے کھڑے شخص کا چہرہ تھپڑوں سے لال کر دے یا یہیں کھڑے کھڑے خود غائب ہو جائے”
میری سوچ سے بھی زیادہ گرے ہوئے گھٹیا انسان ہو۔اپنی شدید ہتک پر وہ بلبلا اٹھی”
بس کرو بور ہو گیا ہوں یہ لفظ گھٹیا سن سن کے اور
میری بات سنو میں اتنا برا انسان نہیں ہوں جتنا تم مجھے سمجھتی ہو۔میری ایک غلط آفر کی بنا پر تم مجھ سے بالکل ہی بدظن ہو گئی ہو۔صرف ایک غلطی کی بنا پر ہم کسی کو مکمل طور پر جج نہیں کر سکتے۔تم ایک بار ٹھنڈے دل سے میرے پرپوزل پر غور کرو۔مجھے یقین ہے تمہارا دل راضی ہو جائے گا۔۔مجھ سے شادی کر کے تم خوش رہو گی۔۔اگر تمہیں یہ ڈر ہے کہ شادی کے بعد میں زبردستی تم سے فلموں میں کام کرواؤں گا تو اس خیال کو اپنے دل سے نکال دو۔تم اپنے حساب سے اپنی لائف گزارنا اور میں اپنے حساب سے اپنی لائف۔میرا وعدہ ہے کسی بھی معاملے میں تمہیں فورس نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ قریبی صوفے پر بیٹھا رسانیت سے کہہ رہا تھا”
مجھے گھر جانا ہے پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔۔خود پر کڑا ضبط کر کے اسکی بات سنتی حیات نے اپنے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے آؤ میں تمہیں چھوڑ آتا ہوں۔۔۔۔خلاف توقع وہ اسکی بات مان گیا اور پہلے کی طرح نرمی سے کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا”
نو تھینکس میں چلی جاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔آپ ڈور کھولیں بس۔۔اپنی ناگواری و نفرت کو دبا کر وہ سپاٹ لہجے میں بولی۔۔۔
میں کہہ رہا ہوں نا کہ چھوڑ آتا ہوں۔۔۔ایکدم سے انداز میں سختی آ گئی تھی۔
“پھر سے انکار کیلئے منہ کھولتے کھولتے وہ رک گئی مبادا کہیں اسے چھوڑنے کا ارادہ ہی نا بدل دے۔”ورنہ اگر قید کر لیتا تو وہ اس کا کیا بگاڑ لیتی۔۔۔فلیٹ سے باہر نکلنے سے پہلے اس نے سرخ کیپ پہنی فیس ماسک پہنا۔۔۔سیاہ گوگلز لگائے۔۔۔۔۔ پھر وہ اسکے ساتھ لفٹ کے ذریعے نیچے آیا اور پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔۔کسی کیلئے بھی اسے آسانی سے پہچاننا ناممکن تھا۔۔۔آس پاس لوگ گزر رہے تھے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ خود کو چھپائے سپر سٹار ماحر خان پبلک پلیس پر تھا”وہ کار اسٹارٹ کر چکا تھا جو ہواؤں کے دوش پر تھی۔۔وہ نگاہیں جھکائے دانت بھینچے بالکل کھڑکی کے ساتھ لگ کر بیٹھی ہوئی تھی۔
اسکی کیفیت اس زخمی ناگن کے جیسے ہو رہی تھی جو انتہائی مجبوری میں ایک نیولے کے ساتھ بیٹھی دل ہی دل میں اسے مارنے کا پلان اور موقع سوچ رہی تھی۔ماحر خان کامرانی کے نشے میں بہت کچھ بولتا
رہا۔۔مگر وہ کان لپیٹے تصور میں صرف اور صرف اسے پھانسی کے تختے پر لٹکتا ہوا دیکھتی رہی۔کار اسکے جانے پہچانے راستوں پر دوڑ رہی تھی۔وہ کسی مجسمے کی طرح ساکت بیٹھی ہوئی تھی۔ماحر نے دو تین بار اسکی طرف دیکھا بھی مگر اس سے زیادہ وہ اپنی فطرت کے خلاف عمل نہیں کر سکتا تھا۔۔۔سو راستہ خاموشی سے کٹ گیا” ماحر نے اسکے گھر کے گیٹ سے کچھ فاصلے پر گاڑی روکی تو حیات برق رفتاری سے کار کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔اور بھاگتی ہوئی پیچھے دیکھے بغیر اندر چلی گئی۔۔۔اسکے نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہی ماحر نے بھی گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔۔”
سرور بھائی۔۔۔ڈرائیور گاڑی لے کر واپس آ گیا ہے کیا۔
وہ اندر داخل ہوتے ہی چوکیدار سے مخاطب ہوئی۔
جی بی بی گاڑی کھڑی کر کے وہ چلا گیا۔صاحب کو بتایا۔ تھا اس نے کہ اسکی بیوی کی طبیعت خراب ہے۔چوکیدار نے سادہ انداز میں کہا۔
حیات نے سر ہلایا بیوی کی طبیعت خرابی والی بات پر اس نے دانت بھینچ کر اپنا غصہ کنٹرول کیا اور اندر چلی گئی۔یہ تو اب کنفرم تھا ڈرائیور واپس آنے والا نہیں تھا اگر آتا تو لازمی وہ اس کا برا حال کرتی جو پیسوں کیلئے بک گیا تھا”
دستک کی مدھم آواز پر بیڈ پر لیٹے ہوئے عبدالرحمان صاحب نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔سامنے ملازمہ کھڑی تھی۔۔۔
آپ کیلئے ناشتہ لے آؤں صاحب جی۔۔۔وہ انہیں متوجہ دیکھ کر بولی۔
حیا نے ناشتہ کر لیا۔۔۔؟؟وہ نحیف آواز میں بولے۔۔رات سے انکی طبیعت پھر خراب تھی۔
بی بی تو ابھی اٹھی ہی نہیں۔۔آپ ناشتہ کر لیں۔۔ان کا حکم تھا کہ آپ کو وقت پر ناشتہ کھانا دوا وغیرہ دی جائے۔۔
تم حیات کو اٹھاؤ اور ٹیبل پر ناشتہ لگاؤ میں اسکے ساتھ ہی ناشتہ کروں گا۔۔اور رائم کو کروا دیا تھا ناشتہ۔۔۔؟؟وہ اٹھ کر بیٹھ گئے۔۔
جی ان کو تو رحمت بوا نے ناشتہ کروا کر سکول بھیج بھی دیا۔۔
ٹھیک ہے تم جاؤ اور جا کر حیات کو اٹھاؤ۔۔۔۔
جی اچھا کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔۔عبدالرحمان صاحب واش روم کی طرف جا ہی رہے تھے جب وہ دوبارہ تیزی سے اندر آئی۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔؟ ملازمہ کو اس طرح ہڑ بڑی میں آتے دیکھ کر انہوں نے تعجب خیز لہجے میں پوچھا۔
صاحب جی وہ میں نے تین چار بار دستک دی ہے مگر حیات بی بی دروازہ نہیں کھول رہیں۔۔وہ گھبرائے ہوئے لہجے میں بولی”
عبدالرحمان صاحب فوراً پریشان ہو گئیے۔
رحمت بوا کہاں ہے۔۔۔؟؟وہ ملازمہ کے ساتھ حیات کے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بولے۔۔۔
وہ تو جی صبح صبح گروسری کیلئے نکل گئیں۔۔
میں صبح بیڈٹی لے کر آئی تب بھی حیات بی بی نے دروازہ نہیں کھولا اور اب بھی نہیں کھول رہیں۔۔
تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔انہوں نے گھبرا کر دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا۔وہ لاک نہیں تھا فوراً ہی کھل گیا۔اندر قدم رکھتے ہی جیسمین کی مہک نے ان کا خیر مقدم کیا۔۔۔جسے حیات بہت فراغ دلی سے اپنے روم میں سپرے کیا کرتی تھی۔گولڈن سلک کے پردوں نے کمرے میں ابھی تک رات کا سماں پیدا کر رکھا تھا۔بیڈ لیمپ جل رہا تھا۔وہ بے ترتیب انداز میں بیڈ کے درمیان پڑی تھی۔نقاہت کے باوجود ان میں شائد اسکی محبت کی طاقت آ گئی تھی وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھے اور ساتھ ہی ملازمہ سے کھڑکی کے پردے ہٹانے کو کہا۔اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہی انہیں لگا جیسے دہکتے انگاروں کو چھو لیا ہو وہ تیز بخار میں جل رہی تھی۔چہرہ اس کا بے انتہا سرخ ہو رہا تھا۔۔
ملازمہ امینہ نے فوراً آگے بڑھ کر اسے ٹھیک کیا”
میں ٹھنڈا پانی اور پٹیاں لے آتی ہوں۔۔۔
ہاں فوراً جاؤ۔۔عبدالرحمان صاحب اسکے سرہانے بیٹھ گئے اور پریشانی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگے۔۔وہ بہت کمزور ہو گئی تھی۔۔ارتضیٰ کی موت نے اسے اندر سے توڑ ڈالا تھا۔۔ بہت گہرا صدمہ لیا تھا اس نے۔۔۔۔وہ بے بس نگاہوں سے اپنی بیٹی کو تک رہے تھے۔۔۔جو سرخ گلاب کے مرجھائے ہوئے پھول کی طرح لگ رہی تھی۔جسے اسکے پودے سے الگ کر دیا گیا ہو۔
ملازمہ بھاگ کر اسٹیل کی ڈش میں برف والا پانی اور سوتی کپڑے کی پٹیاں لے آئی۔عبدالرحمان صاحب خود گیلی پٹیاں اسکی پیشانی پر رکھنے لگے۔۔۔
رات کو بی بی ٹھیک تھیں مگر آواز کچھ بھاری لگ رہی تھی کھانا بھی نہیں کھایا تھا وہ تو بوا نے زبردستی دودھ کا گلاس پلا دیا تھا۔۔ملازمہ انہیں بتانے لگی۔
آدھے گھنٹے کی کوشش کے بعد بخار کی شدت میں کچھ کمی آئی تو چہرے کی سرخی بھی قدرے کم ہوئی۔۔۔
حیات۔۔۔حیات بیٹا۔۔۔بابا آہستگی سے اسکے گال تھپتپا کر اسے پکارنے لگے۔۔۔کئی آوازوں کے بعد اسکے سدھ بدھ بدن میں ہلکی ہلکی جنبش ہونے لگی۔۔
حیات آنکھیں کھولو بیٹا۔۔۔۔وہ بہت نرمی سے اسے پکار رہے تھے۔ملازمہ بھی فکرمندی سے اسکے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
ڈرنٹ ٹچ۔۔۔۔نو۔۔۔۔۔۔۔نو وہ جیسے گہری نیند میں کسی بھیانک خواب میں بہک رہی تھی۔۔۔اسکی آنکھیں بند تھیں۔عبدالرحمان صاحب کے ہاتھ اس نے اپنے چہرے سے جھٹکے سے ہٹائے تھے۔ہذیانی انداز میں وہ مسلسل بڑ بڑا رہی تھی۔ ڈونٹ ٹچ می۔۔۔۔نو۔۔۔نو۔۔۔۔۔۔نہیں کروں گی شادی۔۔قاتل ہو۔۔تم قاتل وہ بری طرح تکیے پر سر رکھتے ہوئے زور سے بڑ بڑانے لگی۔۔۔۔۔۔۔اسکی یہ حرکات غیر شعوری و اضطرابی تھیں۔۔۔۔۔۔۔عبدالرحمان صاحب نے گھبرا کر پانی کے چند چھینٹے اس کے چہرے پر مارے تو وہ ایکدم ہی خاموش ہو گئی۔پانی کی ٹھنڈک اس کو ہوش میں لے آئی تھی۔اسکے شعور بیدار کر گئی تھی۔وہ چند لمحے ساکت لیٹی بے تاثر نگاہوں سے سرہانے بیٹھے بابا کو دیکھے گئی۔ان کے پریشان اور گھبرائے ہوئے چہرے نے
جیسے اس کے حواسوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔
بابا آپ یہاں۔۔۔وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے حیرانی سے بولی
بیٹا کیا ہوا ہے۔۔کل یونیورسٹی جانے تک تو آپ ٹھیک ٹھاک تھیں۔پھر میں ایک بزنس میٹنگ میں چلا گیا تھا اور رات کو بہت لیٹ آیا۔ابھی امینہ نے بتایا کہ آپ نے کل سے کچھ نہیں کھایا اور دروازہ بھی نہیں کھول رہیں تو میں گھبرا گیا۔۔یہاں آ کر دیکھا تو آپ بخار میں نیم بے ہوش تھیں۔۔۔سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔؟
عبدالرحمان صاحب تشویش بھری نظروں سے اس کے چہرے کا جائزہ لے رہے تھے۔نیلی آنکھوں میں پھیلی سرخی از حد نمایاں ہو کر اسکے رونے کی چغلی کھا رہی تھی۔۔
ان کے دل کو گویا کسی نے مٹھی میں لے کر زور سے مسلا تھا۔
کیا ہوا میرا بیٹا میری جان۔۔۔؟؟وہ گھبرا کر پوچھنے لگے
حیات نے دیکھا باوقار شفیق نرم مسکراہٹ والا چہرہ اسوقت کس قدر پریشانی فکروں اور اندیشوں میں گھرا ساری شگفتگی و روشنی کھو بیٹھا تھا۔وہ تھکے تھکے سے نڈھال اپنی عمر سے زیادہ دکھائی دے رہے تھے۔
بولو بیٹا ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔انہوں نے شفقت سے اسکے بال سنوارے۔۔۔
حیات کی آنکھیں برسنے لگیں۔۔۔اگلے ہی پل وہ انکے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔اس کا شدت سے دل مچل رہا تھا وہ کل والا واقعہ بابا کو بتا دے مگر وہ ایسا نا کر سکی۔۔۔عبدالرحمان صاحب کافی دیر تک اسے چپ کرواتے رہے۔اسے بہلاتے رہے۔۔شام تک اس کی طبیعت ٹھیک ہو گئی تو وہ گھٹے اعصاب کو پر سکون کرنے کیلئے ٹیرس پر چلی آئی۔۔ٹھنڈی ہوا سے اسکے اندر تازگی بھرنے لگی۔سورج غروب ہو رہا تھا۔وہ ریلنگ پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔نظریں کچھ فاصلے پر نظر آتے ایک بنگلے پر جمی ہوئی تھیں جو اب ویران ہو چکا تھا۔اسکے مکین ہمیشہ کیلئے جا چکے تھے۔ جو لوگ دل میں بستے ہوں انہیں آسانی سے بھلانا ناممکن ہوتا ہے۔۔اسکی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔۔
بی بی جی فون کال ہے۔۔آپ نیچے آ رہی ہیں یا یہیں لے آؤں۔۔ملازمہ کی آواز پر اس نے بھیگی آنکھیں صاف اور کوئی جواب دینے کے بجائے نیچے لانگ روم میں کارنر پر رکھا ریسیور اٹھا لیا۔۔
ہیلو۔۔۔۔اس نے ریسیور اٹھا کر کہا”
کل میں تمہارے فادر کے سامنے اپنا پرپوزل رکھنے والا ہوں تمہاری طرف سے انکار نا سنوں میں۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف سے بنا کسی تمہید کے سخت لہجے میں کہا گیا۔
وہ آواز اور انداز سے ہی سمجھ گئی تھی کہ کون ہو سکتا ہے۔۔۔۔کالز لیک والے معاملے کے بعد وہ پہلی دفعہ فون کر رہا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں اگر بابا کو نا ہوا تو۔۔۔۔کس قدر دقتوں سے دل پر پتھر رکھ کر اس نے یہ بات بولی تھی یہ صرف وہی جانتی تھی۔۔۔”
گڈ ویری گڈ۔۔۔۔۔مقابل کا لہجہ خوشی سے بھر پور تھا”
حیات عبدالرحمان نے اذیت سے آنکھیں میچیں۔۔۔۔۔یہ خیال اچانک اسکے دماغ میں آیا تھا۔۔۔اسے پتہ تھا بابا اس شخص کو کبھی ہاں نہیں کریں گے۔۔۔انکار سن کر وہ یقیناً انہیں دھمکیاں دے گا۔۔۔۔۔بابا اسکی پروٹیکشن کیلئے یقیناً پریشان ہو جائیں گے۔۔۔تب وہ انہیں اس بات پر قائل کر سکے گی کہ اپنی حفاظت اور اس شخص کو سزا دلوانے کیلئے انہیں پولیس کے پاس جانا چاہیے۔۔اسطرح انکار کا کوئی جواز نہیں بچے گا انکے پاس”
عبدالرحمان صاحب کی طبیعت کل رات کے مقابلے میں اب بہتر تھی سو وہ دفتر چلے آئے تھے۔۔تیسرے فلور پر ان کا آفس تھا اور چوتھے فلور پر بنے آفس کو ظفر کاظمی سنبھالتے تھے۔ظفر کاظمی اگرچہ ان کے پارٹنر تھے مگر شیئرز انکے عبدالرحمان صاحب کے مقابلے میں زیادہ ہو چکے تھے۔عبدالرحمان صاحب چونکہ سائرہ کی وفات کے بعد بیمار رہنے لگے تھے سو کافی عرصے سے وہ بزنس کو صحیح طرح سے ٹائم نہیں دے پا رہے تھے سو انکی غیر حاضری میں ظفر کاظمی ہی سارا بزنس اکیلے سنبھالتے تھے۔تاہم پچھلے کچھ روز سے وہ باقاعدگی سے آفس آ رہے تھے۔آج جب انہوں نے آفس میں قدم رکھا تو غیر معمولی احساس ہوا۔۔۔۔سٹاف
میں انہیں کچھ پرجوش سی ہلچل مچی محسوس ہوئی۔انہیں حیرت ہوئی لیکن انکی حیرت زیادہ دیر تک قائم نا رہ سکی جب ان کے سکریٹری نے خاصے جوش بھرے لہجے میں اطلاع دی۔سر معروف فلمسٹار ماحر خان آپ سے ملنے آئے ہیں۔۔۔اس اطلاع نے ان کے دل کی دھڑکن کو بڑھا دیا تھا۔اس شخص کا آنا کوئی اچھی خبر نہیں تھا۔۔۔انہیں اپنے مساموں سے پسینہ پھوٹتا محسوس ہوا۔۔۔کہاں ہے وہ۔۔۔۔؟؟دل کی گھبراہٹ کو بمشکل قابو کرتے انہوں نے سیکرٹری سے پوچھا”تو اس نے انکے روم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا سر وہ اندر بیٹھے ہیں لیکن باہر انکے گارڈز بھی موجود ہیں۔
وہ مرے مرے قدموں سے اپنے روم کی طرف بڑھے جو کہ استقبالیہ کے دائیں طرف ایک کوریڈور مڑنے کے بعد آتا تھا۔انہوں نے دیکھا۔۔۔۔۔۔تین بندے انکے روم کے باہر کھڑے تھے جن میں دو گن مین تھے۔۔ان کا سٹاف اپنی سیٹوں سے اٹھ کر آپس میں سرگوشیاں کرتے ہوئے اشتیاق سے انکے کمرے کی طرف جھانکنے کی کوشش
کر رہا تھا”عبدالرحمان صاحب کے ایک سخت نظر ڈالنے پر سب بوکھلا کر اپنے اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے۔۔۔”دل کڑا کر کے وہ اندر داخل ہوئے تو سامنے ہی وہ بیٹھا تھا”
آئیے انکل۔۔۔۔۔۔۔وہ انہیں دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔نامعلوم وجہ احترام تھی یا کچھ اور تاہم عبدالرحمان صاحب کو حیرت اسکے انکل بولنے پر ہوئی”انکے اندر ناگواری کی شدید لہر اٹھی تو چہرے کے عضلات خود بخود تناؤ کا شکار ہو گئے۔
فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔۔؟جب وہ بیٹھ چکے تھے تو خود پر ضبط کر کے روکھے لہجے گویا ہوئے”
آپ تو ناراض لگ رہے ہیں۔۔۔وہ ان کا روکھا لہجہ محسوس کر کے ہنس دیا۔۔عبدالرحمان صاحب خاموشی سے اسے دیکھے گئے۔۔
خیر بہت ضروری بات کرنے آیا ہوں۔امید ہے آپ کو سن کر بہت خوشی ہوگی کیونکہ مجھ جیسے اتنے بڑے سپرسٹار کی طرف سے ایسی پیشکش تو کسی پر بھی شادی مرگ کی کیفیت طاری کر سکتی ہے۔۔۔۔۔وہ غرور بھرے لہجے میں بولا۔
عبدالرحمان صاحب اسکے غرور آمیز لہجے کو نظر انداز کر کے سوالیہ نگاہوں سے اسکی طرف دیکھتے رہے”
میں آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔بے دھڑک کہا گیا
عبدالرحمان کی پیشانی پر شکنیں پڑ گئیں۔صاف نظر آ رہا تھا کہ انہیں اسکی بات پسند نہیں آئی”
معذرت چاہتا ہوں میرا فلحال اسکی شادی کا کوئی ارادہ نہیں۔۔۔وہ ناگواری دبا کر خشک لہجے میں بولے۔دل ہی دل میں انہیں اس کی بے باکی اور ڈھٹائی پر بہت غصہ آ رہا تھا”
سوچ لیں۔۔شرافت سے رشتہ مانگ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ساری زندگی آپ اپنی بیٹی کو بٹھا کر تو نہیں رکھیں گے کسی نا کسی سے اسکی شادی تو کرنی ہوگی نا۔۔ذرا سوچیں۔مجھ جیسا اتنا بڑا آدمی جسکے پاس دولت شہرت عزت پاور ہر چیز ہے اسکے رشتے سے انکار کر کے آپ اپنی خوش قسمتی کو ٹھوکر مار رہے ہیں۔مجھ جیسا داماد آپ کو پوری دنیا میں کہیں نہیں ملے گا۔ ایک اور بات دوبارہ منہ سے انکار کا لفظ نکالنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیجئے گا جو چیز میری نا ہو سکے وہ میں کسی اور کی بھی نہیں ہونے دیتا”اس چیز کو تھوڑ پھوڑ کر پھینک دیتا ہوں کہ اگر میرے کام نہیں آئی تو کسی اور کے کیوں آئے۔۔۔۔وہ دونوں ہاتھ اسکی میز پر ٹکائے آگے کو جھک کر سرد لہجے میں کہہ رہا تھا”اسکی آنکھوں میں کچھ ایسی تنبیہہ تھی کہ عبدالرحمان صاحب اندر ہی اندر خوفزدہ ہو گئے تھے”
سو سوچ سمجھ کر فیصلہ کیجئے گا۔اور ہاں اپنی بیٹی کی فکر مت کیجئے گا اس سے میں بات کر چکا ہوں۔اسے کوئی اعتراض۔۔صرف آپکی اجازت درکار ہے۔۔وہ اٹھ کر کھڑا ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔انداز اکھڑ تھا
اس سے کب بات ہوئی تمہاری۔۔۔۔؟ابتدائی جھٹکے سے سنبھل کر انہوں نے چونک کر اسے دیکھا”
کمال ہے آپ کو نہیں بتایا آپکی بیٹی نے۔وہ استہزائیہ انداز میں بولا۔۔۔ کل ملاقات کی تھی اس نے مجھ سے۔ملنے آئی تھی میرے فلیٹ میں۔۔۔کافی سارا ٹائم اکیلے گزارا تھا ہم نے۔۔۔۔۔۔اسکے بعد انکار کا کوئی جواز بچا نہیں اس کے پاس۔۔۔وہ اکیلے پر زور دے کر معنی خیز انداز میں بولا”
انہیں لگا جیسے ان کے اطراف میں بم پھٹ گیا ہو۔انکے چہرے پر ناقابل یقین تاثرات تھے۔ایک رنگ آ رہا تھا ایک جا رہا تھا۔۔۔
انکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر ماحر خان محظوظ ہوا اس کے چہرے پر پر سکون سا تبسم تھا۔
اوکے چلتا ہوں آج رات کو کال کروں گا۔۔۔اچھی طرح سوچ کر جواب دیجئے گا۔۔کیونکہ اب آپکی بیٹی کو میرے علاؤہ کوئی قبول نہیں کرے گا۔۔۔۔۔ایک جتاتی ہوئی نظر ساکت بیٹھے عبدالرحمان پر ڈال کر مسکراتے اپنے گارڈز کے ساتھ وہ باہر نکل گیا۔۔
عبدالرحمان کا سارا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔ان کی
نظروں میں کل صبح والی حیات کی حالت آ رہی تھی۔اس کا بخار سے تپنا۔۔بے ہوشی میں بڑبڑانا۔۔۔۔ڈونٹ ٹچ می۔۔نو۔۔نو۔۔۔۔۔بلک بلک کر رونا۔۔۔۔کچھ نا بتانا۔۔۔۔تو کیا انکی بیٹی پر قیامت آ کر گزر چکی تے تھی۔۔۔اضطراب دکھ وحشت ان احساسات سے انکے اعصاب شل ہو رہے تھے۔۔۔وہ بمشکل اپنے کانپتے وجود کو سنبھالتے ہوئے لڑکھڑاتے قدموں سے باہر نکلے۔۔۔
