171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 39)

Meri Hayat By Zarish Hussain

ڈوبتی ابھرتی ناؤ کی سی کیفیت اس کے ذہن کی تھی۔کچھ بے چینی اور اضطراب اسکے اندر اٹھتا مگر لمحے بھر کو جیسے کوئی غیر مرئی طاقت سب احساسات چھین کر اسی بے خبری اور سکون کی وادی میں غوطہ زن کر دیتی۔یہ کیفیت نا معلوم کتنی دیر سے تھی۔اس کی آنکھیں کھلیں تو چند لمحے کسی مجسمے

کی طرح بے حس و حرکت پڑی رہی۔۔۔۔۔دھیمی دھیمی قرآن پاک کی آوازوں نے اسے حواسوں میں لوٹا دیا تھا۔

بابا۔۔۔۔۔اسکے لبوں سے درد میں ڈوبی سسکی ابھری۔

حیات۔۔۔رحمت بوا کی مانوس پر شفقت آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔وہ برق رفتاری سے اٹھ کر بیٹھ گئی

حیات بیٹا مجھ سے بات نہیں کرو گی کیا۔۔۔انہوں نے محبت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔

بوا۔۔۔۔وہ بلکتی ہوئی انکے سینے سے لگ گئی۔۔بابا کہاں ہیں بوا۔۔۔وہ وہ ہاسپٹل والے کہہ رہے تھے کہ وہ۔۔۔بابا

اب نہیں رہے۔۔وہ وہ جھوٹ بول رہے تھے نا۔۔۔میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔۔اس کا انداز اس کا لہجہ اسکی بکھری کیفیت بوا کی آنکھیں بھی نم کر گئی تھی۔

۔آج پانچواں دن تھا عبدالرحمان صاحب کی وفات کو حیات کی مسلسل یہی حالت تھی وہ حقیقت کو قبول نہیں کر پا رہی تھی۔

بیٹا آپ تو بہت بہادر ہو اتنے سخت حالات کا مقابلہ کیا ہے سنبھالو خود کو۔۔۔۔۔۔۔وہ کسی معصوم سہمے ہوئے خوفزدہ بچے کی طرح اسے سینے سے لگائے بیٹھی تھیں۔۔

دیکھو بیٹا آپ کے بابا نے آپ کو کبھی رونے نہیں دیا تھا۔آپ اسطرح سے رؤگی تو ان کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔۔آپ تو ان کی اچھی بیٹی ہو پھر انکی روح کو تکلیف پہنچانے کا سبب کیوں بن رہی۔۔۔۔۔

روح۔۔۔۔وہ بری طرح سسک پڑی

ہاں بیٹا حقیقت کو تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے۔اللّٰہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں فرماتے ہیں ہر جاندار کو ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔تو ہم سب کو اس ذائقے کو چکھ کر ابدی نیند سو جانا ہے قیامت تک کیلئے۔آپ کے بابا کے بعد اب ہماری باری ہے۔

اوہو یہ خواب نہیں حقیقت ہے بابا مجھے چھوڑ کر جا چکے ہیں میں یہ سب خواب سمجھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

اب کیسے زندہ رہوں گی بابا کہتے تھے وہ میری ایک پل کی جدائی برداشت نہیں کر سکتے۔اب مجھے اسطرح خاموشی سے جدا کر کے چلے گئے۔اس کا لہجہ سوز اور درد میں ڈوبا ہوا تھا۔زخمی دل کا لہو آنکھوں سے بہہ رہا تھا۔اب اس نے حقیقت کو سمجھا تھا۔

بوا اسے دلاسہ دے رہی تھیں چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھیں۔مگر وہ اس طرح بکھر کر رو رہی تھی جیسے خود کو آنسوؤں میں بہا دے گی۔۔

میں بالکل تنہا رہ گئی۔۔۔۔بابا مجھے ہمیشہ کیلئے تنہا کر گئے۔۔۔

ایسا نہیں کہتے بیٹا میں آخری سانس تک تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔۔۔⁦وہ اسکے سر کو چومتے ہوئے بولیں

پانچ دن ہو گئے تم نے ڈھنگ سے کچھ نہیں کھایا میں تمہارے لئیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔رحمت بوا کہتے ہوئے اٹھیں وہ پھر سے لیٹ رونے لگی۔۔کچھ دیر بعد وہ کھانا لے کر آئیں تو اسے ہنوز روتا دیکھ کر وہ ناراضگی سے ڈانٹنے لگیں۔میں نے ابھی کیا سمجھایا تھا تمہیں یہی اثر ہوا میرے سمجھانے کا۔۔۔۔۔۔وہ ٹرے سائیڈ پر رکھ کر اسے زبردستی اٹھاتے ہوئے بولیں۔

۔پھر چاروناچار اسے انکی بات ماننا پڑی۔تھوڑا سا کھانا کھا کے اس نے چائے پی۔رحمت بوا نے چائے میں نیند کی گولی مکس کر دی تھی تاکہ وہ کچھ دیر سکون سے سو جائے تو دماغ فریش ہو جائے گا۔۔۔چائے پیتے ہی وہ سو گئی۔بوا خالی برتن اٹھا کر کچن میں لے گئیں۔

ڈور بیل کی آواز پر وہ کچن سے باہر نکلیں مگر لاؤنج میں ٹی وی دیکھتا مون ان سے پہلے ہی دروازہ کھول چکا تھا۔آنے والے کو دیکھ کر ان کے چہرے پر رونق آ گئی۔کیونکہ آنے والے نے اپنے چہرے پر اچھائی کا نقاب

اس خوبصورتی سے چڑھایا ہوا تھا کہ رحمت بوا جیسی جہاندیدہ عورت بھی نا بھانپ سکی تھیں۔

اسلام علیکم بوا۔۔۔۔ماحر نے مسکراتے ہوئے سلام کیا اب وہ بھی آنٹی کے بجائے انہیں بوا کہتا تھا۔۔رحمت بوا کے ساتھ اسکی اب خاصی بے تکلفی ہو چکی تھی۔وہ اسے بیٹا ماننے لگی تھیں۔

وعلیکم السلام کیسے ہو بیٹا ٹھیک ہو۔۔۔۔آج تو لیٹ آئے

ہو خیر تو تھی۔۔۔(پچھلے پانچ دنوں سے وہ مسلسل آ رہا تھا)

خیریت پوچھتے ہوئے انہوں نے لاؤنج میں لگی گھڑی کی طرف دیکھا جو رات کے ساڑھے گیارہ بجا رہی تھی۔۔۔۔۔

جی بس وہ کچھ بزی تھا ابھی فری ہوا تو سوچا جا کر آپ لوگوں کی خیریت معلوم کر آؤں۔لہجے میں شیرینی

گھولتے ہوئے کہا۔۔

حیات کی طبیعت اب کیسی ہے اس نے ایک لمحے کو رک کر اسکے کمرے کے بند دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔۔۔

طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسکی بہت رو رہی تھی میں نے زبردستی چائے میں نیند کی گولی ڈال کر پلا دی تاکہ سکون سے نیند لے لے۔۔۔انہوں بتاتے ہوئے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔

یہ آپ نے اچھا کیا۔ارے آؤ بھئی یہاں میرے پاس بیٹھو بوا سے بولتے ہوئے اس نے قریب کھڑے بلیک نیکر اور لال شرٹ پہنے مون کو اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ بے تکلفی سے اسکے ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔

میں تمہارے لئیے کافی بنا کے لاتی ہوں۔۔۔۔۔رحمت بوا کچن میں چلی گئیں۔۔۔

ہاں بھئی کونسی کلاس میں پڑھتے ہو آپ۔۔۔؟وہ ساتھ بیٹھے مون کی طرف متوجہ ہوا۔

فائیو کلاس میں۔۔اور ہمیشہ فرسٹ آتا ہوں اپنی کلاس میں۔۔۔اس نے فخر سے بتایا

واؤ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔اس نے مسکرا کر تعریف کی

آپ ٹی وی میں آتے ہیں نا۔۔۔۔؟؟ٹکٹکی باندھ کر اس کے چہرے کی طرف دیکھتے مون نے جھٹ سے پوچھا

ہاں تمہیں کس نے بتایا۔۔۔۔؟؟وہ مسکرا کر بولا

بتایا کسی نے نہیں میں نے اس دن آپ کو ایک ڈرامے میں دیکھا تھا۔آپی دیکھ رہی تھیں وہ ڈرامہ۔۔میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا آپ ایکٹر ہیں اس لئیے ڈراموں میں آتے ہیں۔۔وہ سادگی سے بتا رہا تھا۔۔۔۔

اوہو تمہاری آپی بھی میرے ڈرامے دیکھتی ہیں ویسے میں ڈراموں میں نہیں فلموں میں کام کرتا ہوں۔۔

وہ ہنستے ہو بولا

انکل میں بھی فلموں میں کام کرنا چاہتا ہوں آپ اپنی فلم میں مجھے لیں نا پلیز۔۔۔۔وہ اسکا بازو پکڑ کر اصرار کرنے لگا۔۔

یار پہلے بڑے تو ہو جاؤ پھر آ جانا فلموں میں۔۔۔۔ماحر نے اس کے سر پر مسکرا کر چپت لگائی۔۔

نہیں مجھے ابھی آنا ہے۔۔میں نے بچوں کو بھی دیکھا ہے فلموں میں۔۔۔۔وہ بضد ہوا

اچھا ٹھیک ہے میری نیکسٹ فلم میں چائلڈ آرٹسٹ کی ضرورت ہوگی تمہیں ہی کاسٹ کروں گا۔۔۔

پرامس۔۔۔۔مون نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔پرامس۔۔۔اس نے ہنس کر ہاتھ ملاتے ہوئے اسی کے انداز میں کہا۔۔۔

اچھا آپ میری آپی سے پیار کرتے ہیں نا۔۔۔۔۔تو ان کے ساتھ شادی کر لیں۔جیسے دوسری لڑکیاں آپ کے ساتھ ٹی وی پر آتی ہیں وہ بھی آئیں گی اور میری آپی تو سب سے زیادہ پیاری ہے۔آپ ان کے ساتھ ٹی وی پر بہت اچھے لگو گے۔۔سچی۔۔۔۔اس نے جیسے پتے کی بات بتائی۔۔ماحر نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔

عمر کیا ہے تمہاری۔۔۔؟؟

اسی ہفتے برتھڈے ہے میری پورے نو سال کا ہو جاؤں گا۔۔اس نے فخریہ انداز میں کہا

نو سال۔۔۔۔ تمہاری صحت اور باتیں دیکھ کر مجھے لگا تھا کہ شائدہ بارہ تیرہ سال کے ہو گے تم۔۔وہ حیرانگی سے گویا ہوا۔۔۔

ہاں اپنی عمر سے تھوڑا بڑا لگتا ہےاسی وقت رحمت بوا چائے لئیے چلی آئیں۔۔۔۔۔پھر چائے کے دوران باتیں ہوتی رہیں موضوع گفتگو حیات ہی تھی۔کافی دیر وہ ان کے پاس بیٹھا اپنی چکنی چپڑی باتوں سے انہیں شیشے میں اتارتا رہا۔۔پھر چائے پینے کے بعد وہ ان سے اجازت لے کر حیات کو دیکھنے اس کے کمرے میں آیا۔۔۔۔

یہ اسکی مصنوعی شرافت انہی چکنی چپڑی باتوں کا اثر تھا جو انہوں نے کوئی اعتراض کیے بنا ایک نامحرم کو اس کے کمرے میں بھیج دیا۔ورنہ حیات کو کم عمری میں ہی محرم نا محرم کا فرق بتانے اور اچھے برے کی تمیز سکھانے والی وہی تھیں۔۔

سامنے ہی بیڈ پر وہ گہری نیند سو رہی تھی۔بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سوتے میں بھی خوبصورت لگتے ہیں حیات عبدالرحمان کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا تھا۔۔۔ماحر کی بے تاب نگاہیں اسکے حسین چہرے دلربا اور دلکش سراپے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی تھیں۔لائٹ پنک کاٹن کے شکن زدہ لباس میں بکھرے بالوں متورم آنکھوں اور ویران چہرے کے باوجود اس کا نوخیز سوگوار حسن نگاہوں کو خیرہ کر رہا تھا۔۔وہ مشرق اور مغرب کے سنگم کا بہترین شاہکار تھی۔۔۔مرد تو حسن و شباب کا ازل سے پروانہ ہے پھر ماحر تو کلی کلی منڈلانے والا بھنورا تھا۔اسکی نگاہوں کے زاویے کیوں نا بہکتے جبکہ وہ اس کی نگاہوں سے بے خبر نیند کی وادیوں میں گم تھی۔⁩

دکھ جتنا بھی بڑا ہو ساری زندگی سوگ نہیں منایا جا سکتا زندگی کی طرف لوٹنا ہی پڑتا ہے۔۔۔سو اسے بھی لوٹنا ہی پڑا غم کے اس مشکل وقت میں ماحر خان نے بظاہر بہت ساتھ دیا اب تو وہ آزادانہ ان کے فلیٹ میں آنے جانے لگا تھا۔یہاں تک کہ آس پاس کے فلیٹس میں رہنے والے لوگوں کو بھی بھنک پڑ گئی کہ فلمسٹار ماحر خان اس فلیٹ میں آتا جاتا۔کچھ تو تجسس اور رشک کے مارے تصدیق کرنے بھی آ گئیں۔آگے بھی رحمت بوا تھیں صاف مکر گئیں نا جی وہ تو ہمارا رشتہ دار ہے اس کی شکل ملتی ہے اس فلموں والے سے۔۔۔۔

مگر پھر گارڈز کیوں ہوتے ہیں ساتھ میں اگر وہ کوئی عام بندہ ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔؟ایک عورت سوال کیا۔

ہاں تو گارڈز کیا صرف فلموں والوں کے ساتھ ہوتے ہیں کیا ہمارے رشتے دار بھی امیر کبیر لوگ ہیں گارڈ نوکر چاکر انکے پاس بھی ہیں۔انہوں نے فخر سے کہا۔

اوہو ہم نے سوچا تھا اگر وہی ایکٹر ہے جو دو چار سیلفیاں اور آٹو گراف ہی لے لیں گی۔۔اپنی ماں کے ساتھ آئی ایک لڑکی نے مایوسی سے کہا۔۔۔

کچھ فاصلے پر بیٹھ کر سنتی حیات کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔۔لڑکیاں اس کے ساتھ سیلفی لینے کو ترستی تھیں جبکہ اس کا تو وہ نصیب بننے جا رہا تھا پھر کیوں نا رشک کرتی خود پر

“۔۔۔عبدالرحمان کے چالیسویں کے دو دن بعد ماحر نے رحمت بوا سے حیات کے رشتے کی بات کی وہ تو پہلے ہی اسے اتنا پسند کرتی تھیں جھٹ سے راضی ہو گئیں مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کو لے کر آئے جس کا ماحر نے یہ بہانہ کیا کہ اسکی اپنے ماں باپ سے کسی بات پر ناراضگی چل رہی ہے جس کی وجہ سے وہ الگ رہ رہا ہے مگر شادی کے بعد وہ اپنی بیوی کو ماں باپ کے پاس لے کر جائے گا تو وہ بہو کو دیکھ کر اپنی ناراضگی بھول جائیں گے۔یہ سب اس نے کچھ اس انداز میں کہا تھا کہ وہ اعتراض نا کر سکیں پھر اسکے احسان بھی تو بہت تھے۔البتہ حیات کو اس کے ماں باپ کے شامل نا ہونے پر اعتراض تھا مگر رحمت بوا نے اسے راضی کر لیا تھا۔⁩

کچھ کہو گی نہیں کیا محسوس ہو رہا ہے۔آفٹر آل مجھ جیسے اتنے بڑے سپر سٹار سے وابستہ ہونے جا رہی ہو۔۔۔کار ڈرائیو کرتے وہ بڑے ترنگ میں گویا ہوا۔۔

لہجے میں لفظوں سے زیادہ غرور تھا۔۔وہ اسے نکاح کی شاپنگ کرانے لے جا رہا تھا۔۔حیات نے انکار کیا تھا اس کا کہنا تھا وہ اپنی مرضی سے جو کچھ لے آئے اسے پسند آئیگا۔۔مگر ماحر بضد تھا کہ وہ اسے اسی کی پسند سے ہی شاپنگ کرائے گا۔۔اس ضد میں رحمت بوا نے بھی ماحر کا ساتھ دیا تو چاروناچار اسے ماننا پڑا تھا۔

فلحال تو پتہ نہیں۔۔۔۔وہ سادہ سے لہجے میں بولی

کوئی بات نہیں جب میری پاس آؤ گی تو محسوس ہو جائے گا کہ کیسا لگتا ہے۔۔۔وہ خمار بھرے لہجے میں بولا

اسکی بے باک بات پر وہ چپ کی چپ رہ گئی”

لیکن بات کیا اسکی اگلی حرکت نے تو اسے سن ہی کر دیا جب دائیں ہاتھ سے اسٹیرنگ سنبھالتے اس نے بائیں ہاتھ سے اسکا نازک سا بے حد سفید گلابی ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا۔۔۔

اسکی یہ حرکت بالکل غیر متوقع تھی۔

ایک لمحے کیلئےحیات کا ہاتھ اس کے ہونٹوں سے مس ہوا تھا۔وہ سرتاپا نئے احساس سے جھنجھنا کر رہ گئی تھی رگ و پے میں برق سی دوڑ اٹھی تھی۔

فہم و ادراک کے ناآشنا محسوسات سے دوچار ہوئی تھی۔دل کی دھڑکنیں اتھل پتھل تھیں اور سانسیں منتشر ہوئیں جنکی صدا ماحر کی سماعتوں میں بھی گونج اٹھی تھی۔

اس کا چہرہ شرم اور غصے کی ملی جلی کیفیت سے سرخ ہو گیا۔۔

اس نے دھیمے سے ہنستے ہوئے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔

ٹیک اٹ ایزی۔۔اب کوئی شرارت نہیں ہوگی۔حیات کو سمٹتے دیکھ کر وہ بولا۔۔۔⁦

آج اس کا نکاح تھا۔ آئینے کے سامنے کھڑی وہ تیار ہو رہی تھی۔بیس لگانے کے بعد اس نے صرف مسکارا اور لپ اسٹک ہی لگائی تھی ریڈ اور کریم کلر کے کمبینیشن کا گھٹنوں تک آتا فراک پہنے وہ کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔۔۔نکاح کا یہ جوڑا وہ ماحر کے ساتھ جا کر لائی تھی۔اسے زیادہ تیار ہونا نہیں آتا تھا۔ماحر نے بیوٹیشن بھیجنی چاہی تھی مگر حیات نے سختی سے منع کر دیا تھا کہ اس کے باپ کو مرے تھوڑے ہی دن ہوئے ہیں سو وہ دلہن نہیں بنے گی جو تھوڑی بہت تیاری کرنی ہوگی وہ خود ہی کرے گی تو غیر متوقع طور پر وہ مان گیا تھا۔۔۔۔۔۔چینج کرنے کے بعد اس نے لائٹ سا میک اپ کیا تھا۔۔اپنی تیاری مکمل کر کے وہ رحمت بوا کے کمرے میں آ گئی۔۔

کیا بات ہے بوا آپ پریشان کیوں لگ رہی ہیں؟ وہ ان کے کمرے میں آئی تو انہیں بیڈ پر لیٹے پایا انکے چہرے کا رنگ اسے تشویش میں مبتلا کر گیا۔۔

سر میں درد ہو رہا تھا اس لئیے لیٹ گئی۔۔وہ اٹھتے ہوئے آہستہ سے بولیں۔

نہیں آپ لیٹی رہیں۔وہ آگے بڑھ کر انہیں بیڈ پر دوبارہ سے لٹاتے ہوئے بولی۔آپ سر درد کی وجہ سے تو نہیں لیٹ سکتیں۔۔البتہ کوئی اور تکلیف ہے جسے آپ مجھ سے چھپا رہی ہیں۔حیات کی پریشان نگاہیں انکے چہرے پر چپکی ہوئی تھیں جو مرجھایا ہوا لگ رہا تھا۔

آپ سے چھپا کر کیا کروں گی بیٹا۔۔کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔

یہ آپ کے ماتھے پر پسینہ کیوں آ رہا ہے۔دیکھیں آپ کے ہاتھ بھی کانپ رہے ہیں۔ میرا دل گھبرا رہا ہے آپ کی طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی میں ماحر کو فون کرتی ہوں وہ ڈاکٹر کو بھیجے گا۔حیات کے لہجے میں وحشت در آئی وہ بدحواس ہو کر باہر جانے لگی تھی کہ رحمت بوا نے اسکے ہاتھ کو تھام کر روکا۔۔

حیات میری جان میں ٹھیک ہوں پریشان مت ہو بس بوڑھی ہو گئی ہوں نا تو کمزوری تو محسوس ہو گی۔کتنی خوش نصیب تھی آپ کی ماں جس نے انمول ہیرے کو جنم دے کر میری جھولی میں ڈال دیا۔بہت خوش نصیب ہوں میں بھی جو آیا ہو کر سگی ماں جیسا پیار حاصل ہے۔۔۔

حیات نے شکوہ کن نظروں سے انہیں دیکھا۔۔۔۔

آیا کہہ کر میرے احساسات کو لہولہان مت کریں۔آپ نے مجھے اتنا زیادہ پیار دیا۔اتنی زیادہ کئیر تو میری ماں بھی شائد نا کرتی۔اب آپ کے سوا میرا کوئی نہیں ہے۔

میں آپ کو کبھی نہیں کھونا چاہوں گی پلیز مجھے کبھی اکیلا مت چھوڑئیے گا بوا۔۔۔وہ ان کا کمزور ہاتھ تھام کر گیلی آنکھوں سے لگاتی ہوئی عقیدت بھرے لہجے میں بولی۔۔۔

ایسا نہیں سوچتے بیٹا۔۔۔۔۔ابھی تو آپ کو زندگی کی مہکتی بہاریں دیکھنی ہیں۔نشاط کی کلیاں چننی ہیں

میرا وجود تو آندھیوں میں جلتے چراغ کی مانند ہے جو کسی لمحے بجھ جائے گا۔۔وہ اسے بہت ہمت سے سمجھا رہی تھیں مگر اسکے چہرے پر نظر پڑتے ہی ضبط ہار گئی تھیں آنسو تیزی سے نکل کر تکیے میں جذب ہونے لگے تھے۔۔۔

میری بیٹی آج چودھویں کے چاند سے بھی زیادہ حسین لگ رہی ہے۔۔بہتے آنسوؤں کے ساتھ وہ مسکرائی تھیں۔۔ماحر تمہیں خوش رکھے گا بیٹا میں نے اسکی آنکھوں میں تمہارے لئیے فکر اور محبت دیکھی ہے۔اگر مجھے کچھ ہو بھی گیا تو تم غمزدہ مت ہونا بس اپنے بھائی کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا اس کو پڑھا لکھا کر اچھا انسان بنانا اور اپنے شوہر کے احکامات سے کبھی انحراف مت کرنا وہ جیسا کہے ہر حال میں اسکی بات ماننا۔۔وہ اسے سمجھا رہی تھیں جبکہ وہ جھکائے سن رہی تھی۔۔

اسی وقت ڈور بیل کی آواز پر دونوں چونکیں۔۔

شائد ماحر آ گیا ہے نکاح خواں کو لے کر۔۔۔تم جا کے دروازہ کھولو مجھ سے اٹھا نہیں جا رہا۔۔۔

جی میں جاتی ہوں آپ لیٹی رہیں وہ سر ہلاتے ہوئے اٹھی۔۔۔

باہر آئی تو اس نے مون کو دروازہ کھولتے اور کسی سے کچھ لیتے دیکھا۔۔۔

کون تھا مون اور کیا ہے۔۔۔۔؟؟اس نے مون کے ہاتھ کی طرف دیکھا جس میں خاکی کلر کا لفافہ تھا۔

پتہ نہیں آپی کوئی آدمی تھا اس نے یہ آپ کیلئے دیا۔

مون نے لفافہ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔

“۔۔حیات نے فوری اس پر چپساں ٹیپ کو ہٹا کر لفافہ کھولا اندر سے ایک کاغذ نکلا۔ ایک چھوٹی سی سفید تھیلی بھی ساتھ میں تھی۔۔ حیات نے تھیلی کو کھولا تو اس میں ایک میموری کارڈ تھا۔۔

کاغذ پر نظر دوڑائی تو لکھا تھا ماحر خان سے نکاح کرنے سے پہلے اس میموری کارڈ میں موجود وائس ریکارڈنگ ضرور سن لینا تمہاری زندگی تباہ ہونے سے بچ جائے گی۔۔فقظ آپ کا Well-wisherنوٹ پڑھ کر حیات کے اندر سنسی دوڑ گئی اس نے میموری کارڈ کو فوراً اپنے موبائل میں ڈالا۔۔اس میں موجود وائس ریکارڈنگ کو پلے کر دیا۔۔۔

ایک جانی پہچانی سی آوازسنائی دی۔۔۔۔۔۔۔سر اس لڑکی نے آپ کی شہرت کو اتنا نقصان پہنچایا اور آپ اس سے شادی کر رہے ہیں۔۔ ؟؟آواز میں حیرت بھرا استفسار تھا

جواب میں ماحر کی گھمبیر دلکش آواز گونجی۔۔

گھر بسانے کیلئے شادی کون کر رہا ہے۔نکاح کی آڑ میں بدلا لینا ہے مجھے اس سے۔۔ اور یہ نکاح بھی مجبوری میں کر رہا ہوں کیونکہ بنا نکاح کے تو وہ اپنی مرضی سے میری باہوں میں آئے گی نہیں۔۔

“سو اسے مطمئن کرنے کیلئے ہی یہ نکاح کر رہا ہوں ورنہ میرا اصل مقصد تو اسے پانا اور اپنی توہین کا بدلہ لینا ہے۔۔۔اس نے میڈیا میں جا کر میرے امیج کو نقصان پہنچایا۔۔۔۔۔یہ سب کس طرح میں نے صبر سے برداشت کیا یہ صرف میں ہی جانتا ہوں بس ایک بار میری دسترس میں آ جائے اسکی ایک ایک حرکت کا حساب لوں گا۔اور پھر جب میرا دل بھر جائے گا تو اسے اسکی اوقات یاد دلا کے عرش سے فرش پر پٹخوں گا۔

کوئی مجھے چھوٹا سا نقصان پہچائے میں اسے قبر کے قریب تک پہنچا دیتا ہوں جبکہ اس لڑکی نے تو میرا بہت بڑا نقصان کیا ہے پھر اسے کیسے معاف کر سکتا ہوں۔بلکہ میں تو سوچ رہا ہوں اپنا انتقام لینے کے بعد کسی کوٹھے والی کے حوالے کر دوں گا تاکہ اس لڑکی کو پتہ چلے کے ماحر خان اپنے ساتھ برا کرنے والوں کے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا کرتا ہے۔۔۔اسکے لہجے میں نفرت حقارت طیش غصہ کیا کچھ نہیں تھا۔۔

وہ ششدر رہ گئی۔۔

ماحر کے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ پر اسکی رنگت متغیر ہوتی چلی گئی تھی۔۔اسکا پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔۔۔دھوکہ۔۔مائی گاڈ اتنا بڑا دھوکہ۔۔۔وہ منہ پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔۔کچھ دیر قبل جن آنکھوں میں اس کیلئے مسکارا لگایا تھا وہ پانیوں سے بھر چکی تھیں۔۔

اس نے بمشکل خود کو سنبھالا۔لمحے بہت تیزی سے بیت رہے تھے۔۔ وہ شخص کسی بھی وقت نکاح خواں کو لے کر یہاں پہنچنے والا تھا۔۔اسے ہر حال میں خود کو بچانا تھا۔اس شخص کو اس کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دینا تھا۔مگر کیسے۔۔۔وقت کم تھا اگر ماحر پہنچ جاتا اور اسے پتہ چل جاتا کہ وہ اسکی حقیقت جان گئی ہے تو وہ شائد کھل کر سامنے آ جاتا اور کچھ غلط کرتا۔۔

ابھی وہ کچھ سوچ بھی نہیں پائی تھی کہ مون بھاگ کر اس کے پاس آیا۔۔۔

آپی آپی۔۔۔وہ بوا گر گئی ہیں۔۔۔

ہاتھ میں پکڑا فون وہیں پھینکتے ہوئے وہ بھاگ کر اندر گئی اور سامنے بیڈ کے پاس اوندھے منہ گری رحمت بوا کو دیکھ کر اسکی چیخ نکل گئی۔۔

بوا۔۔۔۔۔۔۔وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھی اور آہستہ سے انہیں سیدھا کیا۔۔رحمت بوا کا چہرہ پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔چہرے پر تکلیف کے ایسے آثار تھے جیسے انہیں سانس لینے میں شدید مشکل ہو رہی ہو۔۔۔

بوا بوا۔۔۔۔اس نے جھک کر وحشت زدہ لہجے میں انہیں پکارا مگر وہ بے ہوش تھیں۔۔مون جاؤ لاونج سے میرا فون لے کے آؤ اس نے قریب کھڑے مون سے چلا کر کہا

وہ لاؤنج کی طرف بھاگا اور اس کا فون لے آیا۔۔۔

اس نے جلدی جلدی ریسکیو 1122پر کال ملائی۔۔

ہیلپ کا کہہ کر وہ رحمت بوا کا سر گود میں رکھے رونے لگی۔اسی پل باہر سے آوازیں سنائی دیں۔۔

وہ آچکا تھا مولوی اور چند لوگوں کو لے کر۔۔۔

حیات سن چکی تھی باہر سے اسکی آواز۔۔مگر اسوقت اسے اپنی نہیں صرف اور صرف رحمت بوا کی پروا تھی۔۔سو وہ ان کا سر گود میں لیے بیٹھی روتی رہی

کیا ہوا انہیں۔۔؟اسے شائد مون نے بتایا تھا تبھی فوراً اندر آیا اور سامنے کا سین دیکھ کر تیزی سے آگے بڑھا۔۔۔

” شائد اٹیک ہوا ہے پلیز جلدی سے انہیں ہاسٹل لے جائیں۔۔وہ روتے ہوئے ماحر سے بولی تو اس نے فوراً آگے بڑھ کر رحمت بوا کو بازؤں میں اٹھایا۔۔کوئی اور وقت ہوتا تو اسکی اصلیحت جاننے کے بعد وہ اس پر تھوکنا بھی گوارا نا کرتی مگر اسوقت وہ مجبور تھی اسکی مدد لینے پر۔۔وہ رحمت بوا کو اپنی گاڑی میں ہاسپٹل لے آیا تھا۔حیات اور مون ساتھ تھے۔۔۔

ڈاکٹرز نے فوراً ہی انجائنا کے اٹیک کی تصدیق کر دی تھی کچھ گھنٹوں کے صبر آزما انتظار کے بعد انہیں خطرے سے باہر بتایا گیا۔۔مگر ڈاکٹرز نے انڈر آبزرویشن میں رکھا ہوا تھا۔۔

لوگوں کے پہچان جانے اور میڈیا میں اسکینڈل بننے کے ڈر سے وہ ہاسپٹل نہیں رکا تھا البتہ اس کا مینجر فرقان تمام وقت وہیں ہاسپٹل میں موجود رہا تھا۔۔ہاسپٹل کا عملہ اس کے حکم پر بہترین ٹریٹمنٹ فراہم کر رہا تھا۔۔

حیات اس سارے وقت میں صرف روتے ہوئے دعا کرتی رہی تھی ماحر نے کئی بار اسے فون کیا مگر اس نے کال ریسیو نہیں کی۔وہ سمجھ رہا تھا شائد بوا کی خراب حالت کی وجہ سے وہ اتنی پریشان ہے اور اس سے بات نہیں کر رہی۔۔۔۔ مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اسکی اصلیحت جان گئی تھی اسکی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو صرف رحمت بوا کیلئے ہی نہیں بہہ رہے تھے بلکہ اس کے دھوکے پر بھی بہہ رہے تھے۔۔۔۔

سر آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔۔وہ ہاسپٹل کے کوریڈور

میں بینچ پر بیٹھی اپنی قسمت کو رو رہی تھی کہ ماحر کا مینجر فرقان وہاں آیا اور اپنا موبائل اس کی طرف بڑھایا۔۔۔

مجھے بات نہیں کرنی کہتے کہتے وہ رک گئی اور ہاتھ بڑھا کر فون لے لیا۔۔ارادہ تھا کہ اب اس پر واضع کر دے گی کہ وہ اسکی اصلیحت جان گئی ہے۔۔

رحمت بوا اب خطرے سے باہر ہیں۔۔۔۔۔۔انکی کئیر کیلئے میں یہاں سٹاف کو تعینات کر دیتا ہوں۔۔تم فرقان کے ساتھ میرے فلیٹ پر آؤ یہاں نکاح خواں اور گواہ انتظار کر رہے ہیں۔۔۔اس نے آرڈر دینے والے انداز میں کہا

کیسا نکاح۔۔۔وہ نکاح جسکی کی آڑ میں تم مجھ سے انتقام لینا چاہتے ہو۔۔۔۔وہ غصے اور دکھ کی ملی جلی کیفیت میں بولی

کیا مطلب۔۔۔۔؟؟وہ بری طرح چونکا۔۔یہ کیا کہہ رہی ہو تم۔۔

مجھے پانے کیلئے مجھ سے بدلہ لینے کیلئے نکاح کا ڈھونگ رچاؤ گے۔۔۔اتنے زیادہ گرے ہوئے انسان نکلو گے میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔بہت بڑی غلطی ہوئی مجھ سے تم جیسے کینہ پرور انسان پر اعتبار کر کے۔۔۔اسکی آواز رندھ گئی آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں۔

کس نے کہا تمہیں یہ سب۔۔۔؟؟اس نے مشتعل لہجے میں پوچھا”

جس نے بھی کہا ہو تمہاری اصلیحت تو کھل گئی نا۔میں مجھے فون مت کرنا میں اب کبھی تم سے بات نہیں کرنا چاہوں گی۔۔فون بند کر کے اس نے وہیں کچھ فاصلے پر ٹہلتے اسکے مینجر کو تھمانے کے بجائے وہیں بینچ پر پٹخا اور ڈاکٹر روم کی طرف بڑھ گئی۔فرقان نے آگے بڑھ کر فون اٹھایا ماحر کی کال چل رہی تھی۔

جی سر۔۔۔وہ تابعداری سے بولا

سنو معاملہ خراب ہو گیا ہے اسے سب پتہ چل گیا ہے۔جو نرس وہاں اندر اسکی بوا کے پاس ہے اسکی ڈیوٹی لگاؤ یہاں اسکے پل پل کی رپورٹ دے۔۔۔اوکے سر ٹھیک ہے۔۔۔فون بند کر کے وہ نرسنگ روم کی طرف بڑھ گیا

ڈاکٹر صاحب انکی طبیعت کیسی ہےاب۔۔؟؟کچھ کھلا سکتی ہوں میں انہیں۔۔۔؟؟حیات نے بوا کا چیک اپ کرتے ڈاکٹر سے استفسار کیا

پہلے سے بہتر ہے۔۔دوائی کے زیر اثر سو رہی ہیں تھوڑی دیر تک اٹھ جائیں گی آپ انہیں کوئی ہلکی پھلکی چیز کھلائیں۔۔۔۔۔سوپ جوس،دلیہ وغیرہ لیکن بہتر ہوگا یہ چیزیں خالص گھر کی بنی ہوئی ہوں۔۔

جی ٹھیک ہے اس نے سر ہلایا۔۔۔۔ڈاکٹر چیک اپ کر کے باہر نکل گیا۔۔تھوڑی دیر بعد ایک نرس اندر داخل ہوئی تو حیات اس سے مخاطب ہوئی۔۔۔۔۔سسٹر میں گھر جا رہی ہوں انکے لئیے سوپ بنانے پلیز میرے آنے تک ان کا اچھے سے خیال رکھیے گا۔۔۔

ضرور آپ بے فکر ہو کر جائیں میں اچھے سے خیال رکھوں گی ان کا۔۔۔۔نرس نے پیشہ طریقے سے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔

تھنکس۔۔۔وہ مطمئن ہو کر باہر نکل گئی۔۔پیچھے نرس کسی کو فون ملا کر کہنے لگی سر وہ اپنے گھر جا رہی ہے۔۔

مون کو لے کر وہ گھر آ گئی۔۔یہ ہوسپٹل گھر کے قریب تھا اسے پندرہ منٹ لگے تھے پیدل گھر پہنچنے میں۔۔

وہ فوراً کچن میں آئی پہلے مون کیلئے نوڈلز بنائے پھر سوپ تیار کرنے کیلئے سامان نکال کر کاؤنٹر پر رکھنے لگی۔اسی وقت ڈور بیل بجی۔۔

رکو مون۔۔۔۔گھنٹی کی آواز سن کر وہ کچن سے باہر آئی

اور دروزہ کھولنے کیلئے جاتے مون کو روکا۔اور ہاتھ میں پکڑا باؤل اسکی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔تم اندر کمرے میں جا کر نوڈلز کھاؤ میں دیکھتی ہوں۔۔۔

دروازے پر موجود شخص نے بھی تب تک کال بیل پر سے انگلی نا ہٹائی جب تک دروازہ نا کھلا۔۔۔

کون ہے۔۔۔آ آ آپ۔۔۔۔جھلاتی ہوئی آواز اس کے چہرے پر نگاہیں پڑتے ہی غصے اور خوف میں مبتلا ہو گئی۔چہرہ یکدم سفید پڑ گیا تھا۔وہ اس سے انتقام لینا چاہتا ہے۔اب تو یہ جان کر محبت کی جگہ غصے نفرت اور ڈر نے لے لی تھی۔۔

ہاں میں ہوں۔۔۔ آپ کا ہونے والا شوہر نامدار۔۔۔۔۔۔۔اتنی خوفزدہ کیوں ہو رہی وہ وہ تمسخرانہ انداز میں بولا

کہاں جا رہے ہیں۔۔۔اسے مسلسل اندر کی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ سراسیمگی سے بولی

دماغ درست کرنے آیا ہوں تمہارا کیا کہہ رہی تھی فون پر کہ میں تم سے انتقام لینے کیلئے نکاح کرنا چاہتا ہوں

ایسی فضول بات تمہارے دماغ میں آئی کیسے۔انتقام لینا ہوتا تو بنا نکاح کے بھی لے سکتا ہوں کون روک سکتا ہے مجھے۔

ایک بات کان کھول کر سن لو۔۔۔میری مرضی کے بغیر تم میری دسترس سے باہر نہیں نکل سکتیں۔۔وہ تلخ و تند لہجے میں بولتا لاؤنج میں پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔اس کا انداز بہت پر اعتماد اور اٹل تھا۔۔۔

میں اب آپ کے کسی فریب میں نہیں آؤں گی۔۔۔نا آپ سے کوئی رشتہ بنانا ہے مجھے بہتر ہے چلے جائیں یہاں سے۔۔۔وہ تلخ و ترش لہجے میں بولی

لہجہ درست کرو اپنا تمہارے حواس ٹھکانے لگانے اور تمیز سکھانے میں مجھے زیادہ ٹائم نہیں لگے گا۔۔۔۔وہ بھڑک کر صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔حیات عبدالرحمان کا کے بار بار انکار نے اسے تلملا کر رکھ دیا تھا۔

آپ کیوں ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئیے ہیں۔اب اگر بدلا نا بھی لیں تو بھی مجھے نہیں کرنا آپ کے ساتھ نکاح۔۔۔سمجھے آپ اس کا انداز ہذیانی سا ہو گیا۔۔

سنو تم اب میرے لئیے ضد بن گئی ہو۔۔حاصل تو میں تمہیں کر کے ہی رہوں گا چاہے اسکے لئیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے۔وہ دو قدم آگے بڑھا اور یکدم اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا سرد لہجے میں بولا

ہاتھ ہٹائیں اپنا کیا بے ہودگی ہے یہ۔۔۔۔۔وہ بپھرے لہجے میں بولی

میرے چھونے سے ٹوٹ نہیں جاؤ گی گھبراؤ نہیں۔۔تم تو توڑ دینے والی چیز ہو ریزہ ریزہ کر دینے والی۔تمہیں پائے کیلئے بہت ضبط کیا ہے میں نے بہت سزا بھگتی ہے۔میری چاہت۔محبت۔ خواہش۔میرے ارمانوں کو بہت سنگدلی سے ٹھکرایا ہے تم نے۔۔بہت توہین کی ہے تم نے میری۔۔۔۔اسکے ہاتھوں کی انگلیاں کسی سخت نوکیلی چیز کی طرح اس کے شانوں میں پیوست ہوئے جا رہی تھیں۔سرخ آنکھوں سے گویا لہو چھلکنے کو بے تاب تھا۔اس کے سخت سرد انداز میں کوئی ایسی پر اسرار خوفزدگی تھی کہ حیات اپنی اکڑ وغیرہ بھول کر ساکت سی ہو گئی۔میری دیوانگی کو بار بار چیلنج کیا ہے میرے جسم و جاں کو شعلوں کی بھڑکتی آگ میں جلایا ہے۔چاہوں تو تمہاری ہر زیادتی کا حساب بمعہ سود وصول کر سکتا ہوں مگر۔۔۔۔اس نے گہری نگاہ اس پر ڈالی

میری نیچر مجھے اتنی پستی اور غلاظت میں گرنے کی اجازت نہیں دیتی۔۔حیات نے ڈبڈبائی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا وہ اسی کی طرف ہی دیکھ رہا تھا نگاہوں کا تصادم اسے پوری جان سے لرزا گیا تھا۔اس کی آنکھوں سے جھانکتے سر کش اور بے لگام جذبے

اسے نگاہیں جھکانے پر مجبور کر گئیے۔وہ بے اختیار

چہرہ جھکا کر رونے لگی۔

ابھی سے رونے لگیں۔۔۔۔اس نے استہزائیہ قہقہہ لگایا

سویٹ ہارٹ ابھی تو کوئی مرحلہ بھی طے نہیں ہوا پھر یہ آنسو کیوں۔۔وہ ایک ہاتھ سے اس جھکا چہرہ اوپر کرتا شوخ مزاجی سے بولا۔۔حیات کو اس کی بے باکی بری طرح سے کھولا گئی۔۔اس نے سخت تنفر کے عالم میں اس کا ہاتھ جھٹکا۔۔

ڈونٹ ٹچ می۔۔اس کے لہجے میں نفرت ہی نفرت تھی۔۔

ابھی سے بیویوں والے نخرے دکھانے شروع کر دیے”

اگر آپ میں حمیت کی ذرا سی بھی رمق موجود ہے

تو چلے جائیں یہاں سے۔۔۔ورنہ

واؤ صحیح کہتے ہیں دشمن اگر حسین ہو اور قریب بھی ہو تو بندے کو ہوشیار رہنا چاہیے۔بہت ذہانت سے تم میری غیرت کو چیلنج کر چکی ہو۔۔۔اوکے ٹھیک ہے فلحال جا رہا ہوں میں۔۔۔۔لیکن اتنا یاد رکھنا مجھ سے بھاگنے والا تمہارا ہر راستہ میں بند کر دوں گا۔۔تمہیں ہر حال میں میرے پاس ہی آنا ہو گا۔۔۔میری بننے پر راضی نا ہوئی تو کسی اور کی بھی نہیں بن پاؤ گی اسی کے پاس واپس بھیج دوں گا جس نے تمہیں اس زمیں پر میرے لئیے اتارا۔۔۔لکھ لینا میری بات۔۔انگلی اٹھا کر وارن کرتے ہوئے وہ وہاں سے نکل گیا۔۔

حیات خوف سے ساکت کھڑی رہ گئی۔۔کچھ دیر بعد پانی پی کر اس نے اپنے حواس بحال کیے۔مجھے رحمت بوا کے ٹھیک ہوتے ہی یہاں سے نکلنا ہے جلد از جلد۔۔۔کسی ایسے شہر جہاں اس آسیب نما انسان کی سوچ بھی نا جا پائے۔۔سوپ تیار کرتے ہوئے وہ ماحر خان کی پہنچ سے دور جانے کے پلان بناتی رہی۔آدھے گھنٹے بعد جب وہ ٹفن میں سوپ اور دلیہ لے کر باہر نکلی تو مون سامنے ہی لاؤنج میں صوفے پر سو رہا تھا۔حیات نے دو تین آوازیں دیں مگر وہ بہت گہری نیند میں تھا ٹس سے مس بھی نہیں ہوا۔وہ اسے ہلا کر اٹھانے کا ارادہ رکھتی تھی پھر یہ سوچ کر رک گئی کہ بہت تھک گیا ہوگا اب دو تین گھنٹے سے پہلے نہیں اٹھے گا۔۔

ایسا کرتی ہوں ہاسپٹل چلی جاتی ہوں بوا کو سوپ پلا کر آدھے گھنٹے تک آجاؤں گی تب تک یہ بھی اٹھ جائے گا تو اسے لے کر دوبارہ ہسپتال چلی جاؤں گی۔۔

وہ فیصلہ کرتی ٹفن وہیں رکھ کر وہ کمرے سے چادر لے آئی اور سوتے ہوئے مون پر ڈال دی اور ٹفن اٹھا کر ہاسپٹل کیلئے نکل آئی اپارٹمنٹ کو باہر سے تالا لگا دیا تھا۔۔ہاسپٹل آئی تو رحمت بوا ہنوز سو رہی تھیں ساتھ میں کھڑا ڈاکٹر عارف علوی اور نرس آپس میں کھسر پھسر کر رہے تھے اسے دیکھ کر خاموش ہو گئے۔

آپ میرے ساتھ میرے روم میں آئیں مجھے پیشنٹ کے حوالے سے کچھ ڈسکشن کرنی ہے۔۔۔ڈاکٹر نے فوراً اسے باہر چلنے کیلئے کہا۔۔۔

مگر ڈاکٹر مجھے انہیں سوپ پلانا تھا یہ ابھی تک اٹھیں کیوں نہیں۔۔۔وہ پریشان سے گویا ہوئی۔

ڈونٹ وری ابھی اٹھ جائیں گی اور سسٹر سوپ پلا دیں گی انہیں۔۔۔آپ میرے ساتھ آئیں وہ باہر کی جانب بڑھتے ہوئے بولے تو وہ ٹفن نرس کو تھما کر ان کے پیچھے انکے روم میں آ گئی۔۔

دس منٹ تک وہ سامنے رکھی فائلوں کو الٹ پلٹ کرتے رہے جبکہ وہ سامنے کرسی پر انکے بولنے کا انتظار کرتی رہی۔۔۔

دیکھیے بات یہ ہے کہ پیشنٹ کے دل کا ایک والو۔۔۔ابھی اس نے بات مکمل بھی نہیں کی تھی کہ نرس ہڑبڑی میں وہاں آئی سر روم نمبر گیارہ والی پیشنٹ کو میں نے سوپ پلایا مگر سوپ پیتے ہی انکی کی طبیعت بگڑ گئی ہے۔۔۔۔

ڈاکٹر سے پہلے حیات بوکھلا کر باہر کی طرف بھاگی مگر دروازے پر پہنچنے سے پہلے ہی نرس نے پیچھے سے اس کا بازو پکڑ کر روکا۔۔۔پلیز آپ باہر رہیں

ڈاکٹر اور نرس فوراً اندر چلے گئے۔۔۔۔

وہ وہیں دروازے کے باہر پریشان ہو کر ٹہلتی دعائیں مانگتی رہی۔بیس منٹ کے جان لیوا انتظار کے بعد ڈاکٹر اور نرس باہر آئے۔۔۔۔

آپ کی پیشنٹ کی ڈیتھ ہو چکی ہے۔۔۔ڈاکٹر نے سپاٹ لہجے میں کہا۔۔ہم نے چیک کیا ہے انہیں زہر دیا گیا ہے

لیبارٹری رپورٹ کے مطابق زہر سوپ میں تھا۔ہم نے پولیس کو کال کر دی ہے وہ آتی ہی ہوگی۔۔۔۔

اس کے سر پر تو آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔۔۔۔رحمت بوا مر گئی تھیں۔۔۔وہ بھی اسکے لائے سوپ سے۔۔۔۔۔وہ اپنی جگہ سے ہل نا سکی۔۔۔پتھرائی نگاہوں سے ڈاکٹر اور نرس کو دیکھتی رہی۔۔۔ہوش تو اس وقت آیا جب لیڈی کانسٹیبلز نے آ کر اسے اپنی حراست میں لیا۔۔۔

میں نے سوپ میں زہر نہیں ملایا۔۔

جھوٹ ہے یہ سازش کی گئی ہے میرے خلاف یہ یہ سب ہاسپٹل والے ملے ہوئے ہیں اس کمینے کے ساتھ

نہیں ملایا زہر میں نے

نہیں ملایا میرا یقین کرو

اللّٰہ گواہ ہے میں سچ کہہ رہی ہوں

سازش کی گئی ہے میرے خلاف

وہ چیختی رہی چلاتی رہی قسمیں کھاتی رہی مگر لیڈی کانسٹیبلز نے اسکی ایک نا سنی اور زبردستی تھانے لے آئیں۔۔

تقدیر کی فسوں گری تھی۔۔۔۔۔قسمت کی چالبازی تھی یا مقدر کا کھیل تھا۔۔۔

اس بار وہ بری طرح سے ایسے گرداب میں پھنسی تھی جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔۔

اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی اپنوں کے بچھڑنے پر روئے یا اپنی متوقع بربادی کا ماتم منائے۔

ایک بار پھر سے اس کی آزمائش شروع ہو چکی تھی ایک بار پھر وہ ظالم وقت کے رحم و کرم پر تھی۔مگر اس بار کوئی آسرا نہیں تھا۔کوئی پرسان حال نہیں تھا۔اس بار وہ بالکل اکیلی تھی۔۔۔۔بالکل اکیلی۔۔۔۔ تقدیر کے رحم و کرم پر۔۔۔

اب ناجانے کیا ہونے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اگر جیل ہو جاتی تو پیچھے کوئی ایسا اپنا بھی موجود نہیں تھا جو اس کیلئے کچھ کرتا۔۔۔دنیا سے لڑتا۔۔۔اسکی بے گناہی ثابت کرتا۔۔۔مون کو سنبھالتا۔۔۔وہ اسے سوتا چھوڑ آئی تھی

۔اسکے گھر پر اکیلا ہونے کا خیال اسے لرزا رہا تھا۔۔۔

اس گزرتے ایک ایک پل میں وہ بار بار مر رہی تھی

اندر باہر زبردست زلزلے جیسی توڑ پھوڑ ہو رہی تھی۔۔

پولیس اسٹیشن کے ایک کمرے میں سر جھکائے بیٹھی وہ بری طرح سے سسک رہی تھی۔۔کرخت چہروں والی۔دونوں لیڈی کانسٹیبل اسکے ارد گرد کھڑی تھیں۔۔۔شائد کسی کا انتظار ہو رہا تھا۔۔

اسی وقت وردی میں ملبوس ایک انسپکٹر کمرے میں

داخل ہوا۔۔۔نظر سیدھی سامنے کرسی پر سر جھکائے بیٹھی بری طرح روتی ہوئی لڑکی پر پڑی سائیڈ پوز ہونے کی وجہ سے چہرہ واضع نہیں تھا۔۔۔۔

اسے اندر داخل ہوتا دیکھ کر دونوں لیڈی کانسٹیبلز نے الرٹ ہو کر سلیوٹ پیش کیا۔۔۔

کیا معاملہ ہے ان محترمہ کا۔۔۔وہ اپنی چئیر کی جانب بڑھتے ہوئے بولا

سر قتل کیا ہے اس نے۔۔۔۔۔ایک لیڈی کانسٹیبل نے اپنی کرخت آواز میں جواب دیا۔۔

جھوٹ ہے یہ۔۔۔بکواس ہے یہ۔۔ الزام ہے مجھ پر۔۔۔۔!!

میں نے کوئی”۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے وہ لیڈی کانسٹیبل سے مزید کچھ پوچھتا سر جھکا کر روتی ہوئی لڑکی نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا۔۔۔۔۔۔۔۔اور چیخ کر بولی

مگر سامنے وردی میں ملبوس شخص کو دیکھ کر اسکے باقی کے الفاظ منہ میں رہ گئے۔۔۔۔

احمر وقار۔۔۔۔اس کے لبوں نے بے آواز جنبش کی تھی

آپ دونوں باہر جائیں۔۔۔۔۔وہ بھی اسے پہچان چکا تھا تبھی اس نے دونوں لیڈی پولیس والیوں کو باہر جانے کو کہا۔۔

آئیے یہاں بیٹھئے۔۔۔اس نے نرمی سے اپنے سامنے رکھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھنے کا اشارہ کیا

وہ بھیگے چہرے کے ساتھ کونے والی کرسی سے اٹھ کر اسکے سامنے رکھی کرسی پر جھجھکتے ہوئے بیٹھ گئی۔بہت خوفزدہ اور سہمی ہوئی لگ رہی تھی

آرام سے بیٹھیں اور مجھے تفصیل سے اپنا مسئلہ بتائیں۔مجھ سے جہاں تک ہو سکا میں آپ کی مدد کرنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔۔حیات کا انداز دیکھ کر اس نے نرمی سے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی

مجھ پر میری بوا کے قتل کا الزام لگایا گیا ہے۔اور سب کس کے کہنے پر کیا گیا ہے میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ہاسپٹل والوں نے میری ایک نہیں سنی مجھے پولیس کے حوالے کر دیا وہ لوگ بھی ملے ہوئے ہیں اس شخص کے ساتھ۔۔وہ رندھی ہوئی آواز میں اپنا مسئلہ بتانے لگی۔۔۔

کس کے کہنے پر ۔۔کس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ہوسپٹل والے۔۔۔احمر وقار نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کچھ الجھ کر کہا۔۔۔۔

فلمسٹار ماحر خان۔۔۔وہ نفرت آمیز لہجے میں بولی

فلمسٹار ماحر خان۔۔۔وہ بری طرح چونکا اس سے کیا تعلق آپ کا۔۔۔؟؟جواباً وہ خاموش رہی

دیکھیں آپ مجھے شروع سے اور تفصیل سے اپنا مسئلہ بتائیں پھر ہی میں سمجھ پاؤں گا۔۔

حیات نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ اسے سارے حالات سے آگاہ کر دیا۔۔۔

“۔۔ساری بات سننے کے بعد احمر وقار نے اسکی طرف قدرے توجہ سے دیکھا۔۔۔جب وہ اسے جنگل میں ملی تھی خوف اور ڈر کے باوجود اسکے حسن میں بے حد

تروتازگی اور شادابی تھی۔مگر آج یہ شادابی اور ترو تازگی کچھ ماند نظر آ رہی تھی” ایسا شائد اس کے مسلسل ڈپریشن میں رہنے کی وجہ سے ہوا تھا۔۔۔

اسکے باوجود وہ خود سے اعتراف کیے بنا نا رہ سکا کہ

وہ اب بھی کافی حسین لگ رہی ہے۔ماحر خان جیسا اتنا بڑا فلمسٹار اس کے لئیے یونہی تو پاگل نہیں ہوا تھا۔۔اپنی ابتدائی کوششوں کی ناکامی کے بعد وہ اب سیدھے سیدھے نکاح کی بات پر آ گیا تھا۔۔۔۔۔۔مگر یہ نکاح بھی وہ اپنے ٹھکرائے جانے اور اپنی شہرت کو نقصان پہنچانے کا انتقام لینے کیلئے کرنا چاہتا تھا۔حیثیت کے اعتبار سے تو حیات عبدالرحمان ماحر خان کے پاسنگ بھی نہیں تھی مگر اس کا حسن ہی اتنا بھرپور تھا جو ماحر اپنی حیثیت کو اگنور کیے اسکے پیچھے پیچھے پھر رہا تھا۔۔دولت شہرت کے نشے نے اسے اتنی بری طرح سے جکڑ رکھا تھا کہ ہائی لیول کی گرل فرینڈز ہونے کے باوجود اس پر اس لڑکی کو حاصل کرنے کا جنون سوار ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔احمر وقار ان سارے خیالوں میں ڈوبا ہوا تھا۔حیات نے اسکی خاموشی پر گھبرا کر باقاعدہ سسکنا شروع کر دیا۔۔اسکی سسکیوں کی آواز سن کر وہ اسکی طرف متوجہ ہوا۔

مت روئیں آپ تو بہت بہادر لڑکی ہیں۔۔۔اب تک آپ نے سارے حالات کو بہادری سے فیس کیا ہے۔آگے بھی ہمت سے کام لیں۔مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے انسان کو آنسوؤں کی نہیں بلکہ ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔

احمر وقار کو اس کا رونا بے چین کر رہا تھا اس لئیے

وہ اسے تسلیاں دینے لگا۔اسکی تسلیوں پر حیات نے خود پر قابو پانے کی کوشش کی اور ڈوپٹے کے پلو سے اپنے رخساروں پر ڈھلک آنے والے آنسو صاف کرنے لگی۔احمر وقار نے اپنی ٹیبل پر رکھا پانی کا گلاس اٹھا کر اسکی طرف بڑھایا۔۔حیات نے تھام لیا اور دو گھونٹ پینے کے بعد واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔۔۔اب وہ خود کو سنبھال چکی تھی لیکن نم نم سی آنکھوں میں اتر آنے والے سرخ ڈوروں نے اس کی آنکھوں کو اور بھی زیادہ پر کشش بنا دیا تھا۔۔۔۔احمر وقار نے اسکی آنکھوں کی کشش سے نظریں چراتے ہوئے انڑ کام پر ایک کانسٹیبل کو اندر آنے کا حکم دیا۔

وہاب اس لڑکی سے ایڈریس لو اور فوری طور پر اسکے گھر جا کر وہاں موجود نو سال کے بچے کو لے آؤ اور اس کیلئے کسی محفوظ جگہ کا انتظام بھی کرنا ہے۔لیڈی کانسٹیبل شاہین سے کہو اسے فلحال فوری طور پر اپنے ساتھ اپنے گھر لے جائے۔۔

اوکے سر۔۔۔۔آئیے محترمہ اس نے حیات کو پکارا تو وہ جھجھکتے ہوئے اس کے پیچھے کمرے سے نکل گئی۔اس کے باہر نکلتے ہی احمر وقار کو کمرے کے بے حد خالی ہونے کا احساس ہوا۔لیکن وہ فوراً ہی اس احساس کو دماغ سے جھٹکتے ہوئے فون ڈائریکٹری میں سے کسی اچھے وکیل کا نمبر تلاش کرنے لگا۔۔۔حیات عبدالرحمان کی ضمانت کیلئے وکیل کا بندوست بھی اسی نے ہی کرنا تھا۔

لیں جی خوش ہو جائیں جس جس کو انتظار تھا جنگل والے ہیرو کا وہ آ گیا ہے۔۔ویسے جب میں نے یہ کریکٹر لکھا تھا مجھے لگا تھا آپ لوگ بھول جائیں گے۔جب دوبارہ سے اسکی انٹری ہوگی تو آپ سرپرائزڈ ہو جائیں گے بٹ ایسا نہیں ہوا۔ہر ایپی پر مجھے کمنٹ ملتے جنگل والا کب آئیگا😃