171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 29)

Meri Hayat By Zarish Hussain

دل مانگ رہا ہے مہلت ،تیرے ساتھ دھڑکنے کی

تیرے نام سے جینے کی،تیرے نام سے مرنے کی

تیرے سنگ چلوں ہر دم۔۔۔۔۔۔۔۔۔بن کر پرچھائی

اک بار اجازت دے مجھے خود میں ڈھلنے کی

اس نے ارتضیٰ حسن کو گولیاں لگتے دیکھا تو پہلے تو وہ شاکڈ رہ گئی پھر اسکے منہ سے دلخراش چیخیں نکلنے لگیں۔۔۔۔وہ بھاگ کر اسکی طرف جانا چاہتی تھی مگر اس کا لہنگا پاؤں کے نیچے آیا اور وہ منہ کے بل سیڑھیوں سے نیچے جا گری۔اپنی چوٹوں کی پروا کیے بنا وہ سرعت سے اٹھی اور اس تک پہنچی جسکی سانسوں کی ڈور ٹوٹ رہی تھی۔۔۔

اس نے بے تحاشا روتے ہوئے اس کا سر اپنی گود میں رکھا ارتضیٰ کی ناک اور گردن سے پانی کی طرح خون نکل رہا تھا۔۔۔۔

اسکے ارد گرد اسکے اپنے ہی خون کا تالاب بن چکا تھا۔

ٹوٹتی ہوئی سانسوں کے ساتھ اس نے حیات عبدالرحمان پر آخری بے بس نظر ڈالی۔۔۔

کیا نہیں تھا اس آخری نظر میں۔۔۔

“اسکے سنگ جینے کی حسرت

“اسے پا کر کھو دینے کا درد

ادھورے سپنے۔۔

ادھوری خواہشیں۔۔

وہ اسے چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا۔

وہ اتنی جلدی مرنا نہیں چاہتا تھا۔

حیات کے ساتھ جینے کے سپنے دیکھے تھے اس نے۔

اس کا دل موت سے مہلت مانگ رہا تھا۔

وہ اپنی ٹوٹتی سانسوں کی ڈور کو تھام کر روکنا چاہتا تھا۔

مگر موت پر کس کا آختیار چلا ہے جو ارتضیٰ حسن کا چل پاتا۔۔

بے رحم موت نے اپنے پنجے گاڑ دیے تھے۔

سانسوں کی ڈور ٹوٹ چکی تھی۔۔۔

اس کا سر ایک طرف ڈھلک چکا تھا۔۔۔

ارتضیٰ حسن موت کی آغوش میں سو چکا تھا۔

مر چکا تھا وہ شخص جو اسے دیوانہ وار چاہتا تھا۔

وہ بری طرح روتی چلاتی اسے جھنجھوڑتے ہوئے جگانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔

اسکے ہاتھ ارتضیٰ حسن کے خون سے تر ہو چکے تھے۔

بھیڑ جمع ہو چکی تھی۔۔۔

لوگ افسوس سے روتی ہوئی دلہن اور اسکی گود میں ادھوری ناتمام حسرتوں کے ساتھ سوئے ہوئے دلہا کو دیکھ رہے تھے۔۔کچھ تو ایسے بھی بے حس لوگ تھے جنکی ایکسرے کرتی نظریں صرف دلہن پر ہی ٹکی تھیں۔۔”

حیات کو کوئی ہوش نہیں تھا وہ مسلسل اسے اٹھانے کی کوشش کرتی دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔۔۔۔۔

پارلر والوں نے ہی اسکے فون سے اس کے گھر اطلاع دی۔۔۔۔

کچھ دیر پہلے جن دو گھروں میں شادی کی شہنائیاں گونج رہی تھی وہاں اب کہرام مچ گیا تھا۔۔۔

سب سے پہلے فارس وہاں پہنچا۔۔ایمبولینس بھی پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔اس نے چیخ چیخ کر روتی حیات کو ارتضیٰ سے الگ کیا۔۔اگرچہ اس میں زندگی کی کوئی رمق باقی بچی نہیں تھی مگر موہوم سی امید کے سہارے وہ اسے ہسپتال لے گیا تھا۔

ہسپتال کے سامنے ایمبولینس سے سٹریچر نکالا گیا۔۔۔

سٹریچر پر موجود سفید چادر اسکے چہرے اور سر کی جانب سے خون آلودہ ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔سڑیچر کو فوراً آپریشن تھیٹر کی طرف لے جایا گیا۔۔۔

وہ زاروقطار روتی وہیں کھڑی رہی۔۔۔اپنے حلیے تک کا کوئی احساس نہیں تھا۔اسکے تمام احساسات مفلوج ہو چکے تھے۔۔۔اگر کوئی احساس زندہ تھا تو صرف ارتضیٰ حسن کا جو کہ خود ہر احساس سے بہت دور جا چکا تھا۔۔۔

ہسپتال میں آتے جاتے لوگ روتی ہوئی دلہن کو حیرانی اور افسوس بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔جسکے ہاتھوں کی مہندی اپنے ہی سہاگ کے خون سے مزید سرخ ہو چکی تھی۔

اسکی روتی نظریں آپریشن تھیٹر کے دروازے پر ٹکی تھیں۔

کچھ دیر بعد اس نے آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلتے اور سٹریچر کو باہر آتے دیکھا۔۔۔

کانپتے دل کے ساتھ وہ بھاگ کر سٹریچر کے سامنے آئی۔۔۔نظریں خون سے بھری سفید چادر اوڑھے ارتضیٰ پر تھیں اس سے پہلے وہ ہاتھ بڑھا کر چادر ہٹانے کی کوشش کرتی فارس تیزی سے اسکے پاس آیا۔۔اسکے گرد بازو پھیلائے اسے ایک سائیڈ پر لے گیا۔حیات نے گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔

وہ ارتضیٰ۔۔۔۔اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر مسلسل رونے کی وجہ سے اسکے حلق سے آواز نہیں نکل پائی۔صرف ہونٹوں سے جنبش ہوئی تھی۔

فارس نے شکست خوردہ انداز میں سر ہلایا۔وہ رونا بھول کر صدمے اور بے یقینی سے ان کا ستا ہوا چہرہ دیکھنے لگی۔

اسی وقت اس نے سب کو وہاں آتے دیکھا۔۔

اسکے بابا۔۔۔فضا۔۔۔رحمت بوا۔۔۔۔سب کے چہرے پتھرائے ہوئے تھے۔۔

۔

پھر اس نے فضا کو فارس سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔وہ لڑکھڑا گئی۔۔۔۔۔عبدالرحمان نے فوراً آگے بڑھ کر اسے سنبھالا۔۔۔۔۔۔۔انکے سینے سے لگ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی چلی گئی۔۔۔۔بے تحاشا۔۔۔بچوں کی طرح جنونی انداز میں۔۔۔

پھر اس رونا چیخنا بلکنا کچھ بھی ارتضیٰ حسن کو واپس نا لا سکا۔۔

وہ ارتضیٰ حسن جو اسکی زندگی میں کسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند آیا تھا۔۔اسی جھونکے کی مانند نکل بھی گیا۔۔۔”

رو رو کر اس کا گلہ بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔آنکھیں سوج گئیں

زندگی میں وہ اتنا کبھی نہیں روئی جتنا اس بار روئی تھی۔۔۔

رات تک ارتضیٰ حسن کی تدفین کر دی گئی۔۔وہ چونکہ ایک نامور یونیورسٹی کا نامور اور قابل پروفیسر تھا۔ سو کئی ٹی وی چینلز پر اسکی موت کی خبر بریکنگ نیوز کے طور پر چلی۔۔۔۔۔۔۔جنازے میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی جن میں کئی بڑی شخصیات کے علاؤہ یونیورسٹی کے پرفیسرز اور بھاری تعداد میں سٹوڈنٹس نے شرکت کی۔۔۔۔کئی سٹوڈنٹس روتے ہوئے بھی نظر آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلاشبہ سٹوڈنٹس کیلئے وہ ایک آئیڈیل پرفیسر تھا جس نے اپنی پرسنالٹی اپنے پڑھانے کے انداز سے کم وقت میں ہی یونیورسٹی میں اپنا مقام بنایا تھا۔۔۔

اسکی موت پر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ایک دن کا سوگ منایا گیا۔۔۔

فضا کی حالت بہت خراب تھی وہ شدید صدمے میں تھی کسی سے بات نہیں کر رہی تھی حتیٰ کہ حیات کو دیکھ کر بھی وہ منہ پھیر لیتی تھی۔حیات اس کا رویہ سمجھنے سے قاصر تھی۔۔تین دنوں سے وہ فضا کے گھر میں تھی مگر فضا نے اس سے بات نہیں کی تھی۔شائد وہ اپنے بھائی کی موت کا ذمے دار حیات کو سمجھ رہی تھی۔۔البتہ فارس کا رویہ اسکے ساتھ پہلے جیسا تھا۔اگر دیکھا جائے تو نقصان تو دونوں کا برابر ہوا تھا۔

کچھ دن پہلے وہ اسکے رویے سے مایوس ہو کر اپنے گھر چلی آئی تھی۔۔۔دکھ جتنا بھی بڑا ہو زیادہ دیر تک نہیں منایا جا سکتا بالآخر زندگی کی طرف واپس آنا ہی پڑتا ہے۔آج ارتضیٰ کی ڈیتھ کے پورے ایک ہفتے بعد وہ صدمے سے نکل کر رونے دھونے کو چھوڑ کر اسکے قاتل کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔۔اگرچہ فارس نے نامعلوم قاتلوں کے خلاف رپورٹ لکھوائی تھی مگر پولیس ابھی تک ان نامعلوم قاتلوں کر پکڑ نہیں پائی تھی۔۔۔۔

اس کا دل بار بار کہہ رہا تھا ارتضیٰ حسن کی موت کی زمہ دار وہی ہے۔۔۔

ارتضیٰ نے اسکی وجہ سے اپنی جان گنوائی ہے۔

اس نے جتنا سوچا ذہن بار بار اسی شخص کی طرف جا رہا تھا جو کچھ عرصہ پہلے تک تو اسکے پیچھے پڑا تھا پھر اچانک اسکی شادی سے ایک دن پہلے اس کا لیٹر بھیج کر معافی مانگنا۔۔۔۔کیا تھا یہ سب۔۔۔۔۔؟؟

اپنی پوزیشن کلئیر رکھنے کا کوئی ناٹک تھا۔اس وقت سرشاری میں مبتلا میں وہ سوچ نہیں سکی تھی کہ اتنا بڑا فیمس آدمی جو کہ دولت شہرت پاور اور غرور کے نشے میں سر سے پیر تک غرق تھا وہ بھلا کیوں اس جیسی عام لڑکی سے معافی مانگنے لگا۔۔۔۔۔

تو کیا وہ معافی اس کا کوئی ڈرامہ تھا تاکہ جب وہ یہ سب کرے تو اس پر شک نا کیا جا سکے۔۔۔۔۔اس کا دل بار بار اسے کہہ رہا تھا اسی کینہ پرور شخص نے بدلہ لیا ہے۔اسی نے مروایا ہے ارتضیٰ کو۔۔۔وہ اتنی آسانی سے ہار کیسے مان سکتا تھا بھلا۔۔۔۔۔۔اب وہ جتنا سوچ رہی تھی اس کا ذہن اسی بات پر پختہ ہوتا جا رہا تھا کہ یہ کام ماحر خان کے علاؤہ کوئی نہیں کر سکتا۔۔۔آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو اس نے بائیں ہاتھ کی پشت سے صاف کیا اور ایک فیصلہ کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔اس کا رخ عبدالرحمان صاحب کے کمرے کی طرف تھے۔۔۔۔

بابا مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔وہ تیزی سے انکے کمرے میں آتے ہوئے بولی۔۔

عبدالرحمان صاحب جو کوئی فائل دیکھ رہے تھے اسکی طرف فوراً متوجہ ہوئے۔۔۔۔ملگجے سے حلیے سرخ چہرے اور کیچر میں مقید الجھے ہوئے بالوں والی حیات کو انہوں نے غور سے دیکھا۔۔۔بیٹی کے صدمے نے اندرونی طور پر انہیں بھی توڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔بڑی مشکل سے وہ خود کو سنبھالے ہوئے تھے۔۔۔۔

کہو بیٹا۔۔۔انہوں نے ہاتھ میں پکڑی فائل ایک طرف رکھتے ہوئے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔

بابا مجھے پولیس اسٹیشن جا کر بیان دینا ہے اور کسی ٹی وی چینل پر بھی جانا ہے۔۔۔میں جانتی ہوں یہ سب اسی گھٹیا انسان نے کیا ہے اسی نے جان لی ہے ارتضیٰ کی۔۔میں چھوڑوں گی نہیں اسے۔۔۔۔اسکی آنکھیں پھر سے برسنے لگیں۔۔۔عبدالرحمان نے دکھ سے اسے دیکھا

بیٹا اس سب کا کوئی فائدہ نہیں۔آپ کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ سب اسی نے کیا ہے۔۔۔

مگر بابا میں جانتی ہوں کہ اسکے علاؤہ یہ کام کوئی نہیں کر سکتا۔۔۔وہ زور دے کر بولی

پولیس بنا ثبوت کے کوئی ایکشن نہیں لیتی۔۔۔اول تو ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں اگر ہوتا بھی تو ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے بہت پاور رکھتا ہے کوئی معمولی آدمی نہیں ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔جو پولیس ہمارے کہنے پر اسکے خلاف ایکشن لے لے گی۔۔۔۔۔میں پہلے ہی اپنی غلطی پر پچھتا رہا ہوں جب اسکے خلاف میڈیا میں بیان دیا تھا وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولے

کہیں نا کہیں وہ بھی خود کو ارتضیٰ کی موت کا ذمے دار سمجھ رہے تھے۔انکے ذہن میں بھی کئی دنوں سے یہ بات چل رہی تھی جس طرح انہوں نے ماحر خان کے خلاف میڈیا میں جا کر بیان دیے کہیں ارتضیٰ حسن کی موت اسی کا نتیجہ تو نہیں تھی۔۔۔مگر یہ بات زبان پر لانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی انکی۔۔

مگر بابا۔۔۔۔۔”حیات نے پھر کچھ کہنا چاہا تو عبدالرحمان صاحب نے برہمی سے ٹوک دیا۔

بس کرو حیات جب میں منع کر رہا ہوں تو کیوں ضد کر رہی ہو۔ کیا چاہتی ہو تم ہم اسکے خلاف کیس کریں میڈیا میں شور مچائیں اور پھر بدلا لینے کیلئے وہ مزید کچھ برا کرے ہمارے ساتھ۔۔میں نے بہت مشکل سے یہ حادثہ سہا ہے اب مزید کچھ اور سہنے کی سکت نہیں ہے مجھ میں۔بھول جاؤ اس سب کو ارتضیٰ کی زندگی اتنی ہی لکھی تھی۔میں جلد ہی تمہارے لئیے کوئی اچھا سا رشتہ دیکھ کر تمہاری شادی کر دوں گا۔۔۔۔وہ حتمی انداز میں بولے۔۔۔

شائد اس شخص سے وہ خوفزدہ ہو گئیے تھے۔۔

حیات نے انکی شادی والی بات پر بے یقینی اور صدمے سے انہیں دیکھا اور اگلے ہی پل ناراضگی سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔⁩

ہاں فرقان بولو۔۔۔۔کیسا چل رہا ہے سب کوئی مسئلہ تو نہیں نا۔۔۔۔؟ مینیجر فرقان آفس روم میں بیٹھا کمپیوٹر پر کچھ حساب کتاب میں بزی تھا جب اسے ماحر کی کال موصول ہوئی۔۔۔

وہ فوراً الرٹ ہوا۔۔۔۔

نو سر سب بہت اچھے سے چل رہا ہے کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔۔۔۔

شوٹنگ تو کمپلیٹ ہو گئی ہے سب لوگ کراچی پہنچے یا نہیں۔۔۔؟؟ سیگریٹ کا گہرا کش لے کر دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے ماحر نے سوال کیا

نو سر ابھی کچھ دیر پہلے عبیر سر کا فون آیا تھا۔راستے میں ہے پوری ٹیم۔۔۔پندرہ بیس منٹ تک پہنچ جائیں گے فرقان نے رسٹ واچ میں ٹائم دیکھتے ہوئے بتایا۔

اوکے ٹھیک ہے۔۔۔عبیر آئے تو اسے کہنا مجھے کال کر لے۔راستے میں شاید نیٹ ورک کا ایشو ہے جو کال نہیں لگ رہی میری۔۔۔۔وہ سر سری انداز میں بولا

سر ایک بات بتانی تھی آپ کو۔۔۔۔۔فرقان نے جھجھکتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔وہ جو فون بند کرنے والا تھا رک گیا

کیا۔۔۔۔۔؟؟

سر مس حیات کے حوالے سے خبر ہے پتہ نہیں آپ سننا پسند کریں گے یا نہیں۔۔۔۔وہ ذرا سنبھل کر بولا کیونکہ ماحر خان کے موڈ بگڑتے یا مشتعل ہوتے پتہ نہیں چلتا تھا۔

بولو تم۔۔۔۔۔ماحر نے سپاٹ لہجے میں کہا

سر مس حیات کی شادی والے دن اسکے ہزبینڈ کا کسی نے مرڈر کر دیا تھا۔۔۔۔”

وہاٹ۔۔۔۔وہ جو صوفے پر ایزی انداز میں بیٹھا تھا ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا۔۔

کیسے ہوا۔۔۔۔کس نے کیا۔۔۔۔؟وہ حیرانی سے پوچھ رہا تھا۔۔۔

پتہ نہیں سر میرا تو خیال تھا آپ کو شائد پتہ ہوگا۔۔۔وہ چبھتے ہوئے لہجے میں بولا

کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔کیا بکواس کر رہے ہو ہوش میں تو ہو مجھے کیسا پتہ ہوگا۔۔۔پل میں ہی وہ مشتعل ہوا تھا۔۔۔۔۔

سس سوری سر۔۔۔۔۔۔۔۔فرقان گڑبڑا کر بولا

شٹ اپ۔۔اپنی اوقات میں رہو جو کام تمہارے ذمے ہے اسی پر توجہ دو۔۔دوسروں کی جاسوسی کر کے مجھے خبریں دینے کی ضرورت نہیں۔۔۔وہ درشت لہجے میں کہتے ہوئے فون بند کر گیا۔۔۔

پہلے خود جاسوسی پہ لگایا ہوا تھا۔اب بنا کہے کی تو برا لگ گیا۔۔۔فرقان بڑبڑاتے ہوئے لیب ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گیا۔

مس حیات کی شادی والے دن اسکے ہزبینڈ کا کسی نے مرڈر کر دیا تھا۔۔۔

مس حیات کی شادی والے دن اسکے ہزبینڈ کا کسی نے مرڈر کر دیا تھا۔۔۔

فرقان کی بات بار بار اسکے دماغ میں گردش کر رہی تھی۔

اسوقت وہ اٹلی کے شہر روم کے ایک فائیو سٹار ہوٹل کے وی آئی پی روم میں بیٹھا تھا۔۔۔پچھلے ایک ہفتے سے وہ اٹلی کے مختلف مقامات پر شوٹنگ کر رہے تھے۔

یہ کیا ہو گیا۔۔۔۔؟؟

وہ شخص بے شک ان دونوں کے درمیان دیوار کی طرح حائل تھا۔بے شک حیات عبدالرحمان نے اسی کی خاطر ماحر کو ٹھکرایا تھا۔۔لیکن پھر بھی اس نے اسکی موت تو نہیں چاہی تھی۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسکی موت پر افسوس کرے یا نہیں۔۔۔۔۔

بہرحال جو بھی تھا خوشی تو وہ بالکل محسوس نہیں کر رہا تھا۔۔جو کچھ ہوا تھا اچھا نہیں ہوا تھا۔۔وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے ڈائریکٹر واجد علی کھڑا ہوا تھا جسکے چہرے پر واضع پریشانی نظر آ رہی تھی۔۔

کیا ہوا واجد بھائی خیریت۔۔۔؟؟ماحر نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا۔

یار وہ منال (فلم کی ہیروئن)نے شور مچایا ہوا ہے کہ اسے بھی الگ اور وی آئی پی روم دیا جائے۔۔۔۔۔

ماحر کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرے جنہیں سنجیدگی کے لبادے میں چھپایا۔ کیونکہ واجد علی کی فلموں نے اسے سپر سٹار بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔۔۔جب اس نے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا تھا تو واجد علی کی فلم سے ہی شروعات کی تھی وہ ایک سینئر ڈائریکٹر تھے اور ماحر کے ساتھ انکی اچھی دوستی اچھے فیملی ریلیشن شپ تھے۔۔۔

تو پھر۔۔۔؟ نا چاہتے ہوئے بھی پوچھا۔۔حالانکہ دل تو یہ کہنے کو چاہ رہا تھا کہ اس فضول سی بات کیلئے مجھے ڈسٹرب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

تو پھر یہ کہ اس ہوٹل میں کوئی وی آئی پی روم خالی نہیں اور کسی اور ہوٹل میں اسے اکیلے نہیں بھیج سکتا۔مگر وہ یہ بات سمجھنے کو تیار نہیں۔۔۔وہ سخت جھنجھلایا ہوئے لگ رہے تھے۔۔۔۔

اس بار ماحر نے اپنے تاثرات چھپانے کی زحمت نہیں کی اور خاصے ناگوار لہجے میں بولا۔۔۔۔مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آتی واجد بھائی کہ آپ نے اس نئی لڑکی جسے فلم انڈسٹری میں آئے ایک دن بھی نہیں ہوا

اسے اتنا سر پہ کیوں چڑھایا ہوا ہے اس پر اتنا پیسہ لگانے کا رسک کیوں لے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوپر سے اسکی فرمائشیں اور نخرے بھی جھیل رہے ہیں۔کسی اچھی اور کامیاب ہیروئن کو لے لیتے۔نا تو وہ کوئی حسین ہے اور نا اسکی ایکٹنگ میں کوئی خاص بات ہے پھر اس کو اتنے بھاری بجٹ کی فلم میں کاسٹ کرنے کی کوئی خاص وجہ۔۔۔۔۔۔؟؟

یار ماحر کیا بتاؤں سابق وفاقی وزیر جہانزیب خٹک کی بھانجی ہے۔۔۔جہانزیب خٹک صاحب نے خود فون کر کے مجھے کہا تھا تو انکار کیسے کر سکتا تھا میں۔۔۔۔وہ بے بس انداز میں بولے۔۔

مائنڈ مت کیجئے گا واجد بھائی۔۔۔اب آپ کا ہیڈک ہے یہ کس طرح ہینڈل کرنا ہے آپ کو خود پتہ ہوگا۔۔۔۔۔مجھے اب ریسٹ کرنا ہے کیونکہ صبح شوٹنگ کیلئے جلدی اٹھنا ہے نا۔۔وہ مہذب انداز میں انہیں جانے کو بول رہا تھا۔۔۔

تم سو رہے ہو۔آج رات تو ہمارا پارٹی کا ارادہ تھا نا۔۔؟

وہ اسے اتنی جلدی سوتا دیکھ کر حیرانی سے گویا ہوئے۔

نہیں آج میرا موڈ نہیں پارٹی وارٹی کا۔۔۔۔۔سوؤں گا بس۔۔۔۔۔وہ قطعی انداز میں بولا۔۔۔

اوکے تم ریسٹ کرو صبح ملتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔گڈ نائٹ

انکے باہر نکلتے ہی ماحر نے دروازہ بند کیا اور بیڈ پر لیٹ گیا۔آنکھیں بند کیں تو چھم سے حیات عبدالرحمان کا حسین چہرہ نگاہوں کے سامنے آ گیا۔۔۔

تمہارے ساتھ ہوئے اس سانحے کا افسوس ہے مجھے سویٹ ہارٹ۔۔۔

بٹ خود کو اکیلا مت سمجھنا۔۔۔۔۔۔۔۔ماحر سکندر خان تمہارے ساتھ ہے اور جب تک اس کا دل چاہے گا تمہارے ساتھ رہے گا۔۔۔بس تھوڑا سا انتظار کرو جلد ہی تمہارے پاس آؤں گا میری حیات۔۔۔

وہ بند آنکھوں کے ساتھ اسکے تصور سے مخاطب ہو کر مسکرایا۔۔۔