171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 51)

Meri Hayat By Zarish Hussain

حیا اٹھو۔۔۔۔۔”

اسکے گال تھپتھپانے پر حیات نے چند منٹ بعد آنکھیں کھول دیں۔چند سیکنڈز کیلئے اسے یاد نا آیا کہ وہ کہاں اور کیوں ہے۔۔۔پھر جو سامنے موجود پریشان چہرے پر نظر پڑی تو شاکڈ رہ گئی۔۔کچھ پل بے یقینی سے پھیلی

آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔پھر کپکپاتے لبوں سے نکلا فارس بھائی۔اسکی آنکھیں آنسوؤں سے دھندلا گئی تھیں۔۔فارس کو دیکھ کر اسے ایسا لگا جیسے تپتی دھوپ میں کوئی گھنا سایہ دار درخت نظر آ گیا ہو۔۔وہ بھی ششدر تھا اسے اس حال میں دیکھ کر، لیکن ابھی کچھ پوچھنے کا وقت نہیں تھا۔فوراً سہارا دے کر اپنی گاڑی میں بٹھایا اور قریبی کلینک لے آیا۔۔اسکی دونوں ٹانگوں پر زخم آئے تھے۔دائیں ٹانگ کی چوٹ ذرا گہری تھی لہذا ڈاکٹر کو تین ٹانکے لگانے پڑے تھے۔۔۔۔جب کہ بائیں ٹانگ پر صرف آئنمٹ لگا کر بینڈیج کر دی گئی۔بینڈیج کروانے کے بعد وہ سیدھا اسے گھر آیا۔۔اس نے ابھی تک حیات سے کچھ بھی نہیں پوچھا تھا کہ وہ کہاں تھی اسکی یہ حالت کیسے ہوئی۔۔۔۔۔۔؟؟فضا بھی اسے دیکھ کر سکتے میں آ گئی تھی۔۔

۔

۔۔استعجاب۔۔حیرانگی۔۔۔بے یقینی۔۔۔دکھ اور سرخوشی کے جذبے نے اسے گنگ سا کر دیا تھا۔۔

وہ بے حد کمزور لگ رہی تھی۔۔۔۔سراپا رنج و الم کی تصویر بنا ہوا تھا۔۔۔

سفید رنگت میں زردیاں گھلی ہوئی تھیں۔۔

ڈارک بلیو دراز پلکوں والی آنکھیں بجھے ہوئے دئیوں کی مانند لگ رہی تھیں۔۔۔

ڈارک براؤن ریشمی بالوں کی الجھی لٹیں چہرے کے ارد گرد بکھری ہوئی تھیں۔۔

چہرے کا حسن ماند پڑتا دکھائی دے رہا تھا۔۔۔

سلیٹی رنگ کا ملگجا سا لباس سلوٹوں سے بھرا ہوا تھا

گالوں پر موتیوں کی طرح گرتے آنسو۔۔وہ ششدر رہ گئی تھی اسکی حالت دیکھ کر۔۔یہ وہ حیات عبدالرحمان تو نہیں تھی جس سے وہ واقف تھی۔۔۔جو چمکتے دمکتے

چہرے کے ساتھ ہمیشہ فریش فریش سی رہا کرتی تھی۔۔۔۔اس حیات کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی بڑے طوفان کو جھیل کر آئی ہو۔۔فریش گلاب کے پھولوں جیسی لڑکی اسوقت مرجھایا ہوا سرسوں کا

پھول لگ رہی تھی۔

وہ بے ساختہ آگے بڑھی اور اسکے گلے لگ گئی۔۔۔حیات کی آنکھیں تو پہلے ہی مسلسل برس رہی تھیں فضا کے گلے لگنے کی دیر تھی وہ اونچی آواز میں رونے لگی۔دوسری طرف فضا بھی رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اس منظر نے فارس کو بھی جذباتی کر دیا۔۔۔۔اسکی آنکھیں بھی نم ہو گئی تھیں۔۔۔۔”

شل دماغ۔۔۔بوجھ اعصاب۔۔۔کپکپکاتا جسم۔۔اسکی حالت اتنی خراب ہوئی کہ وہ پھر سے ہوش کھو بیٹھی۔۔لیکن

اب یہ تسلی تھی کہ وہ اکیلی نہیں تھی۔۔سنبھالنے والے اپنے موجود تھے۔۔۔

! سورج کی تیز روشنی اسکی آنکھوں میں پڑی تو اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں۔۔۔کھڑکی سے پردے ہٹے ہوئے تھے تبھی آفتاب کی روشنی کمرے میں پہنچ رہی تھی۔لیکن آفتاب کا یہ نور صرف باہر ہی جھلملا رہا تھا۔اسکے اندر نہیں گیا تھا۔۔۔۔ابھی وہ خود کو تاریکیوں کا حصہ ہی سمجھ رہی تھی۔۔۔۔کچھ پل ساکت نگاہوں سے

یونہی چھت کی طرف دیکھتی رہی۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ اسکے ذہن کی گرہیں کھلتی چلی گئیں۔۔

کل شام کے وقت اس کا ماحر خان کے فلیٹ سے نکل آنا روڈ پر اچانک گاڑی سے ٹکرا کر گرنا اور پھر چند لمحوں کیلئے ہوش کھو دینا۔۔۔۔آنکھیں کھولنے پر اچانک فارس بھائی کا چہرہ نظر آنا۔ فارس بھائی کا اسے پہلے کلینک اور پھر گھر لے آنا۔۔ فضا بھابھی سے ملنا۔۔۔۔۔روتے روتے اسکی طبیعت خراب ہو جانا۔۔۔۔۔۔اسکے ذہن کی تاریک سکرین پر سب روشن ہوتا گیا تھا۔۔۔۔۔

“فارس بھائی کا اچانک مل جانا ایک معجزے سے کم نہیں تھا اس کے لئیے۔وہ تو ان دونوں سے ملنے کی آس ہی کھو بیٹھی تھی۔۔۔۔ان کو دیکھ کر وہ پھر سے جی اٹھی تھی۔۔اب اسے اس بے رحم،بے حس دنیا میں کم از کم کوئی تو کھوئے ہوئے اپنے مل گئے تھے جن سے وہ اپنا دکھ درد شئیر کر سکتی تھی۔اسے یاد آیا پوری رات وہ بخار میں مبتلا باڈی پین کی وجہ سے کراہتی رہی تھی۔۔فضا اسکے سرہانے بیٹھی کبھی اسکا سر دباتی تو کبھی اسکی ٹانگیں اور بازو۔ڈاکٹر بھی آیا تھا جس نے اسے کوئی انجکشن لگایا تھا۔جسکے بعد اسکا بادی پین پہلے سے ذرا کم ہو گیا تھا۔

۔تاہم نیند پوری رات شدید ڈسٹربنگ رہی تھی اس کی وقفے وقفے سے وہ جاگ اٹھتی۔آنکھیں کھولتے ہی اسے فضا اور فارس کے ہریشان چہرے نظر آتے۔وہ شائد رات بھر اسکے کمرے میں اس کے سرہانے بیٹھے رہے تھے۔۔۔” “اٹھ کر بیٹھتے اس نے طائرانہ نگاہ کمرے میں دوڑائی۔کمرہ خالی تھا۔۔۔گہرا سانس لے کر اس نے اپنی پیشانی کو چھوا بخار اب نہیں تھا۔۔طبعیت پہلے سے بہتر تھی۔اس نے ٹانگوں پر سے کمبل ہٹا کر بستر سے پاؤں نیچے رکھنے چاہے مگر ٹانگوں پر لگی چوٹوں میں ہلکا سا درد اور کھنچاؤ محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔اس نے کراہ کر ٹانگیں اوپر کر لیں۔ابھی اسے بیٹھے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ فضا آ گئی۔۔۔۔

اب کیسی طبعیت ہے میری چندا۔۔؟؟حیات کی پیشانی

کو چھوتے ہوئے اس نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا

بہتر ہے۔فضا کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے مدھم لہجے میں جواب دیا۔۔چلو آؤ میں تمہیں واش روم لے جاؤں

فریش ہونے کے بعد بریک فاسٹ کرنا ہے۔کل ڈاکٹر نقوی

کہہ رہے تھے تمہارا معدہ لانگ ٹائم سے بالکل خالی ہے

پاگل لڑکی یہ کیا حال کیا ہے تم نے اپنی صحت کا۔۔۔دیکھنا اب میں نے تمہیں ڈانٹ ڈپٹ کر بہت کھلانا پلانا ہے تاکہ دو تین دنوں میں تمہاری صحت بحال ہو جائے

جائے پتہ نہیں کیا دشمنی نکالتی رہی ہو تم اپنے ساتھ

وہ اسے خفگی آمیز محبت سے ڈانٹتی سہارا دے کر واش روم میں لے آئیں۔۔

بس بھابھی آپ جائیں اب میں خود کو سنبھال لونگی۔۔حیات نے انکی گرفت سے اپنا بازو نکالتے ہوئے کہا۔۔

اوکے میں دروازے کے باہر کھڑی ہوں۔۔۔۔۔میری ہیلپ کی ضرورت ہو تو بتانا۔۔۔انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا اور

واش روم سے باہر چلی گئیں۔۔۔حیات نے پہلے بیسن کا سہارا لیا پھر آہستہ آہستہ بغیر سہارے کے اپنے قدموں کو جما لیا۔۔لیکن جسم کا زیادہ بوجھ بائیں ٹانگ پر تھا

منہ ہاتھ دھوتے ہوئے اس نے واش بیسن کے اوپر آویزاں آئینے میں مدت بعد اپنا چہرہ غور سے دیکھا تھا۔۔

خشک ہونٹ۔۔سرخ و سفید رنگت میں زردی جھلک رہی

تھی۔تابانیاں بکھیرتا حسن مرجھایا ہوا لگ رہا تھا۔۔

اس نے گہری سانس لے کر فیس واش اٹھایا اور ڈھکن کھول کر نکالنے لگی۔۔۔

تھوڑی دیر بعد جب وہ منہ دھو کر کمرے میں آئی تو فضا اسکے انتظار میں بیڈ پر بیٹھی تھی۔اسکی ہدایت پر ملازمہ ناشتے کی ٹرے وہیں بیڈ پر رکھ رہی تھی۔دودھ جوس فروٹ اور بریڈ پر مشتمل ناشتہ تھا۔۔۔اسے ناشتے میں فروٹ دودھ کبھی پسند نہیں رہا تھا۔جوس پھر بھی پی لیتی تھی لیکن بریڈ وہ زیادہ تر وہ بیماری

کی حالت میں ہی کھاتی تھی۔۔عام روٹین میں اسے ہلکا پھلکا پراٹھ اور بوائل ایگ پسند تھا۔۔۔۔لیکن اپنا فیورٹ ناشتہ دل سے کیے تو لمبا عرصہ بیت چکا تھا۔۔جب اس شخص کے پاس تھی تب تو زندہ رہنے کیلئے مجبوراً کھاتی تھی۔۔

بھابھی چائے نہیں۔۔۔؟؟دودھ اور پھلوں سے بھری ٹرے

کو دیکھ کر اس نے کمزور سی آواز میں استفسار کیا

نہیں۔۔۔جب تک تم ٹھیک نہیں ہو جاتیں تب تک صرف

یہی چیزیں کھانی پڑیں گی۔۔کہنے کے ساتھ ہی وہ پھل کاٹ کاٹ کر اسے کھلانے لگیں۔۔۔۔اسی وقت فارس بھی وہاں آ گیا۔۔۔دونوں کے اصرار پر اسے دودھ اور فروٹس سے پیٹ بھرنا پڑا۔۔۔ ناشتے کے دوران وہ اس سے نارمل باتیں کرتے رہے۔۔ابھی تک دونوں میں سے کسی نے بھی اس پر بیتے حالات کے بارے میں نہیں پوچھا تھا۔اور نا باقی گھر والوں کے بارے میں کوئی سوال کیا۔۔۔شائد پہلے وہ اسکی فزیکل کنڈیشن بہتر کرنا چاہتے تھے۔۔۔”

لیکن جیسے ہی ناشتہ ختم ہوا۔۔فضا تو پہلے سے بیٹھی

ہوئی تھی۔فارس بھی صوفے سے اٹھ کر بیڈ کی دوسری

سائیڈ پر آ بیٹھا اور بے قراری سے پوچھا۔۔۔

تمہاری یہ حالت کیسے ہوئی حیا۔۔۔؟؟انکل مون بوا سب کہاں ہے۔۔۔؟؟

حیات کے حلق میں کانٹے سے آگ آئے تھے۔۔۔آنکھوں سے پھر نمکین سمندر موجزن ہونے لگا تھا۔۔۔ضبط کے بندھن

کمزور پڑنے لگے تھے۔ہونٹ کپکپکانے لگے تھے۔۔۔

خدا کیلئے جلدی بتاؤ کل سے میں اور فارس تمہارے منہ سے سننے کیلئے سخت بے چین ہیں۔فضا نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔۔۔وہ مضطربانہ لہجے میں بولی تھی۔۔

بولو حیا۔۔۔بابا۔۔۔آئی میں تمہارے بابا۔۔۔مون۔۔رحمت بوا سب کہاں ہیں۔۔۔؟؟

فارس کے لہجے میں بھی اضطراب سمٹ آیا تھا۔۔

وہ دونوں کل شام سے اسکی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے تھے۔۔اسوقت وہ دونوں شدت سے اسکے بولنے کے منتظر تھے۔۔

“۔۔۔جبکہ حیات کے ہونٹ مضبوطی سے ایسے بند تھے جیسے بولنا ہی بھول گئی ہو۔۔۔۔گردن جھکائے وہ بار بار

امڈ آنے والے آنسوؤں کو ضبط کرنے کی سعی کر رہی تھی۔ایک بار پھر سے اسے خود پر بیتی قیامتوں کو الفاظ کے روپ میں زبان کے ذریعے ادا کرنا تھا۔۔۔

وہ دونوں بغور اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔

بولتی کیوں نہیں تم۔۔۔۔؟؟

“۔۔فضا نے وحشت بھرے انداز میں اسکے بازو سے پکڑ

کر جھنجوڑا۔۔۔۔آرام سے۔۔۔۔فارس نے تنبیہی نگاہوں سے فضا کی طرف دیکھا اور اٹھ کر حیات کے قریب آ بیٹھا

کیا ہوا ہے گڑیا اپنے بھائی کو نہیں بتاؤ گی۔۔۔؟؟اس نے شفقت بھرے انداز میں اسکے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ سر اٹھا کر ڈبڈبائی آنکھوں سے فارس کی طرف دیکھنے لگی۔ ویسے بھی کسی اپنے کے کندھے کی تلاش ہی تو تھی جس پر سر رکھ کر وہ اپنا سارا دکھ کہہ سکے۔اپنا سارا درد بتا سکے۔اب قدرت نے فضا بھابھی اور فارس بھائی سے دوبارہ ملوا ہی دیا تھا تو وہ کیونکر خاموش رہتی۔۔بھیگی آنکھوں اور آنسوؤں کے بوجھ سے لرزتی دھیمی آواز میں وہ آہستہ آہستہ خود پر بیتے سارے حالات سے انہیں آگاہ کرتی گئی مون کی موت کا بتاتے ہوئے وہ ضبط کرنے کے باوجود رو پڑی۔۔۔

وہ دونوں سناٹے میں آ گئے تھے۔۔دم بخود رہ گئے تھے۔بے یقینی سے اسکی طرف دیکھ رہے تھے۔۔

فضا نے تڑپ کر اسے گلے سے لگایا۔۔

فارس گم صُم بیٹھا تھا۔۔۔

دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے خصوصاً فارس کو عبدالرحمان کی وفات کا سن کر شدید صدمہ لگا تھا فضا اسے گلے سے لگائے بری طرح رو پڑی تھی۔۔۔۔

مجھے معاف کر دو حیا۔۔۔۔۔۔سب میری غلطی ہے نا میں ارتضیٰ کی موت کیلئے تمہیں قصور وار ٹھہرا کر فارس کو لے کر لندن گئی ہوتی نا تم اور انکل اکیلے ہوتے نا تن تنہا اتنی مشکلات جھیلنا پڑتیں تمہیں۔بہت بڑی غلطی ہوئی مجھ سے مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔فارس

کو لے کر نہیں جانا چاہیے تھا۔اگر میری ضد پر ہم لندن نا جاتے فارس یہیں ہوتا تو کبھی تم پر آنچ نا آنے دیتا۔ پلیز مجھے معاف کر دو۔۔فضا روتے ہوئے معافیاں مانگ رہی تھی۔۔۔

نہیں بھابھی آپ کی کیا غلطی اس میں بھلا یہ سب تو

میری قسمت میں لکھا تھا۔آپ دونوں میرے اپنے مجھے

پھر سے مل گئے یقین کریں مجھے ایسا لگ رہا ہے۔جیسا

کہ نئی زندگی مل گئی ہو۔۔ورنہ مون کے بعد تو لگتا تھا

اب کوئی جینے کا مقصد ہی نہیں رہا۔۔۔۔۔میں دل ہی دل

میں اپنی موت کی دعائیں مانگا کرتی تھی۔اور آپ کی

طرف سے تو میں امید بھی کھو چکی تھی کہ کبھی آپ سے اور فارس بھائی سے مل سکوں گی۔۔۔۔۔”

نہیں گڑیا ہم بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔میری بہن اتنی

مشکلات سے گزرتی رہی اتنی مصیبتیں سہتی رہی اور میں بھائی ہو کر بھی بے خبر رہا۔۔چھوڑوں گا نہیں میں اس خبیث انسان کو۔جان سے مار دوں گا۔لیکن اس سے

پہلے پوری دنیا کے سامنے ذلیل کروں گا۔۔۔

بلکہ جا کر میڈیا کے سامنے ابھی اس کا سارا کچا چٹھا کھولتا ہوں۔۔ عزت سے جینے کے قابل نہیں رہے گا گھٹیا انسان۔۔۔۔ فارس نے نفرت بھرے انداز میں کہا۔۔وہ سخت

مشتعل تھا۔۔۔تیور جارحانہ تھے۔۔۔

سر جھکا کر آنسو بہاتی حیات میڈیا کے نام پر بری طرح بدک اٹھی۔۔

نن نہیں بھائی آپ اسے کچھ نہیں کہیں گے۔۔۔۔نا میڈیا

میں اسکے خلاف جا کر کچھ کہیں گے۔۔۔مجھے اس سے کوئی بدلہ ودلہ نہیں لینا۔۔ویسے بھی وہ مجھ سے بہت بار معافی مانگ چکا ہے۔۔۔۔میں نے معاف تو نہیں کیا تھا لیکن بدلے ودلے کی خواہش بھی نہیں میرے اندر اب بس مجھے ڈیورس چاہیے۔۔۔۔۔آپ بس میری جان چھڑوا دیں اس سے بس باقی مجھے کچھ نہیں چاہیے۔۔۔۔

وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بھیگے لہجے میں بولی

اس سے اب ڈرنے کی ضرورت نہیں حیا۔۔تم اکیلی نہیں ہو تمہارا بھائی تمہارے ساتھ ہے۔۔۔۔میرے ہوتے ہوئے وہ شخص اگر اب تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے گا تو میں اسکی آنکھیں نوچ لوں گا۔۔۔۔۔۔تمہاری ایک ایک تکلیف کا حساب لوں گا۔تم اپنے دل سے ہر خوف ہر وہم نکال دو اب بس۔۔

فارس نے تسلی دی۔اسکی آواز کی لرزش اور چہرے کی بدحواسی اور خوف اسکی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہا تھا۔۔۔۔

لیکن بھائی، اگر اس نے ڈیورس دینے سے انکار کر دیا اور خدانخواستہ آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو۔۔۔۔۔؟؟ وہ سخت سراسیمگی کا شکار تھی۔۔

کہا نا ہر خوف وہم خدشہ اپنے دل سے نکال دو بس اتنا یقین رکھو مجھ پر کہ اب وہ شخص تو کیا اس دنیا میں میرے جیتے جی کوئی بھی تمہیں اب گزند نہیں پہنچا سکتا۔۔۔

فارس کے لہجے میں پتھر کی سی سختی تھی۔۔۔چہرہ

پرعزم تھا۔۔

خاموش پیشمان بیٹھی فضا نے فارس کے مضطرب و مشتعل چہرے کی دیکھا تو سر جھکا لیا۔۔۔اسے شدت

سے احساس ہونے لگا اس نے فارس کو یہاں سے جانے

پر مجبور کر کے غلط کیا تھا۔۔اگر فارس یہیں ہوتا تو

کم از کم اسکے اپنوں پر اتنا برا وقت تو نا آتا۔۔۔

یقین تو ہے بھائی مگر ڈر لگتا ہے۔ مجھ میں اب مزید دکھ جھیلنے کی ہمت نہیں۔۔۔۔۔وہ آزردگی سے بھیگی آنکھوں کے ساتھ بولی

اگر مگر کچھ نہیں بس تم اب سب مجھ پر چھوڑ دو

میں دیکھ لوں گا۔۔۔فارس محبت بھرے لہجے میں بولا

اور آگے ہو کر اسکے سر پر نرمی سے بوسہ دیا تو وہ

عجیب سے احساس میں گھر گئی۔یہ لمس یہ احساس

بالکل ویسا تھا جیسے اسکے بابا کا ہوا کرتا تھا۔محبت

و سکون کا سا احساس دلاتا ہوا۔۔۔۔تسلی و تشقی دلاتا

ہوا۔۔۔۔۔وہ کچھ بے چین سی ہو گئی مگر اپنی کیفیت سمجھ نہیں پائی۔۔۔

جو ہوا سب برا خواب سمجھ کر بھول جاؤ۔۔۔۔اب میرے

ہوتے ہوئے تم پر کوئی تکلیف کوئی دکھ کوئی آنچ نہیں آئے گی۔۔

فارس کا ہاتھ ہنوز اسکے سر پر ٹھہرا تھا۔۔۔

!سب کچھ بھول بھی جاؤں پھر بھی مون کو تو نہیں بھول سکتی بھائی۔اسکی تکلیف کا سوچ کر میری روح کانپ اٹھتی ہے۔۔۔۔۔۔ظالموں کو اس معصوم بچے کا گلہ دباتے ذرا رحم نہیں آیا ہوگا۔وہ شدت سے رو دی۔فارس

اور فضا بے بسی سے اسکی طرف دیکھنے لگے۔۔۔

مت روؤ حیا۔۔۔۔تم یہ سمجھو اللّٰہ نے اپنی امانت واپس لے لی۔۔ویسے بھی وہ معصوم بچہ جنت کا پھول تھا تو

پہنچ گیا واپس جنت میں۔۔۔۔۔وہ وہاں یقیناً خوش ہوگا۔

اسکی تکلیف کا سوچ کے خود کو تکلیف میں مت ڈالو

ہم سے تمہاری تکلیف نہیں دیکھی جاتی۔فضا نے بھرائے ہوئے لہجے میں کہا۔۔

تمہاری بھابھی ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔اللّٰہ کی امانت تھی اس نے واپس لے لی۔۔۔۔۔تم اگر یونہی رو رو کر خود کو تکلیف دوگی تو ہمیں بھی تکلیف ہوگی اور ہمارا تمہیں اکیلا چھوڑ کر جانے کا فیصلہ ہمارا گلٹ بڑھا دے گا۔۔۔بھول جاؤ گزرا برا وقت ایک بھیانک خواب سمجھ کر

اب تم اکیلی نہیں ہو ہم دونوں تمہارے ساتھ ہیں اورانشاء اللّٰہ ہمیشہ رہیں گے۔فارس نے نرمی سے اس کا بھیگا گال تھپتھیایا۔۔۔۔حیات کو ناجانے ایکدم سے کیا

ہوا۔۔وہ اس کا ہاتھ تھام گئی۔۔۔۔بے حد مضبوطی سے۔۔جیسے کبھی بابا کا ہاتھ تھاما کرتی تھی۔۔فارس کے دل کو کچھ ہونے لگا۔۔۔اپنوں کو تکلیف میں دیکھ کر کتنی تکلیف ہوتی ہے اس کا اندازہ آج شدت سے ہو رہا تھا اسے۔۔حیات عبدالرحمان اسکی بہن ہی تو تھی برسوں سے ایک دوسرے کے پڑوس میں رہتے ہوئے اتنی اچھی جان پہچان تھی کہ وہ اسے ہمیشہ سے بھائی کہتی رہی تھی۔۔۔۔منہ بولا ہی سہی۔۔لیکن فیلنگز وہ حقیقی بھائیوں والی ہی رکھتی تھی اسکے لئے۔۔۔۔”

مگر فارس۔۔۔۔۔۔وہ تو واقف تھا اسکے اور اپنے رشتے کی حقیقت سے۔۔۔۔۔آج اسکی تکلیفوں کا سن کر اسے درد نا ہوتا تو کسے ہوتا۔۔۔۔

وہ سرپرائز جو وہ اور فضا اسکی اور ارتضیٰ کی شادی پر اسے دینے والے تھے پھر ارتضیٰ کی اچانک ڈیتھ ہو جانے کے باعث نہیں دے سکے تھے۔۔۔مگر آج خاص طور پر ان حالات میں اسکی ہمت بندھانے کے لئیے اسے یہ بات دینا بے حد ضروری تھا۔۔۔۔۔تاکہ یہ نا سمجھے کہ وہ سارے خونی رشتوں سے محروم ہو گئی ہے اور اب جو اسکے پاس رشتے تھے وہ صرف ترس اور ہمدردی کے

تھے۔۔۔۔

مجھے سمجھ نہیں آتی حکومت بچوں سے زیادتی کے واقعات پر سیریس ایکشن کیوں نہیں لیتی؟آئے روز ان واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔کئی ماؤں کے پھول مسل دیے جاتے ہیں انکی گود اجڑ جاتی ہے مگر کسی

حکمران کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی۔۔۔

اللّٰہ غارت کرے ایسے بے حس لوگوں کو کیا مائیں اسی دن کیلئے اتنی تکلیفیں اٹھا کر بچوں کو جنم دیتی ہیں کہ پرورش پا کر ذرا سے بڑے ہونگے تو کوئی وحشی درندہ ان سے زیادتی کرے گا اور پھر گلہ گھونٹ کر مار دے گا۔۔۔

فضا کے لہجے میں شدید کرب اور غم و غصہ تھا۔۔۔۔وہ خود اولاد کی نعمت سے چونکہ ابھی تک محروم تھی اسی لئیے وہ گول مٹول گالوں والا مون اسے بہت پیارا لگتا تھا۔۔۔۔۔۔اکثر وہ اسکے گھر آ کر لان میں کھیلا کرتا تھا۔۔۔اسکی موت اور وہ بھی اس طرح کی۔۔اسے شدید دھچکہ پہنچا تھا۔۔۔

صرف ایسے لوگ ہی نہیں بلکہ ہماری حکومت بھی بے حس بنی ہوئی ہے جب بھی اسطرح کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو چند دن نیوز چینلز اور اخبارات میں خوب اچھالا جاتا ہے۔۔۔۔وزیر اعظم صاحب سمیت کئی بڑے سیاسی وزراء کے بیانات سامنے آتے ہیں۔۔۔

۔بلند و بالا دعوے کیے جاتے ہیں کہ ملزم کو سخت سے سخت سزا دلوائی جائیگی کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا یہ وہ۔اور پھر ہوتا کیا ہے چند دن کے چرچے کے بعد کیس کی فائل بند ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔ملزم کو سزا ملی یا نہیں کوئی پتہ نہیں چلتا۔۔۔

فارس حکومتی نظام سے سخت متنفر تھا۔۔۔

فارس۔۔۔۔۔ ایسے کئی واقعات سن کر یہ بات پہلے بھی میرے مائنڈ میں آئی تھی اور اب بھی میں یہی سوچ رہی ہوں۔۔۔۔ کہ اگر ہمارے پرائم منسٹر صاحب کوئی ایسا قانون نافذ کر دیں کہ بچوں سے زیادتی کرنے والے درندوں کو جیل عدالت وغیرہ کے چکر میں ڈالے بغیر

ڈائریکٹ سزائے موت دی جائے۔۔وہ بھی سر عام۔۔۔یعنی

بیچ چوراہے پر ایسے درندوں کو سنگسار کیا جائے پھر

لاش کو تین روز چوک پر لٹکایا جائے تو لوگ عبرت حاصل کریں گے۔۔۔۔بلکہ میں یقین سے کہتی ہوں اسکے بعد اسطرح کے واقعات کی شرح کم ہو جائے گی۔۔کوئی

بھی شخص ایسا گھناؤنا فعل کرتے ہوئے سو بار سوچے گا۔۔۔فضا نے یقین سے کہا

کہہ تو تم بالکل ٹھیک رہی ہو۔۔۔۔۔مگر کاش حکمرانوں

کے ذہن میں بھی یہ بات آ جاتی۔۔۔۔گاڑی ڈرائیور کرتے

فارس نے کہا اسکے لہجے میں افسوس تھا۔۔۔وہ دونوں

اسوقت حیات کیلئے شاپنگ کرنے مارکیٹ جا رہے تھے

اگرچہ انہوں نے اسے بہت کہا تھا کہ ساتھ چلے مگر حیات نہیں مانی تھی۔۔”

زیادہ لونگ ایپسوڈ گروپ میں پوسٹ نہیں ہو پاتی لہذا شارٹ ایپی کا مت بولیے گا۔۔دوسری ایپسوڈ بہت جلدی دے کر آپ کا گلہ دور کر دونگی۔۔