Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 63) 2nd Last Episode (Part - 2)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 63) 2nd Last Episode (Part - 2)
Meri Hayat By Zarish Hussain
اسٹوپڈ لڑکی کتنا کہا تھا تمہیں اپنے ریلیشنز ٹھیک کر
لو اپنے شوہر کیساتھ۔کچھ احساس ہے تمہیں۔۔تمہارے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے وہ۔۔۔رباب علوی کے ساتھ انکے افئیر کی نیوز سرخیوں میں چل رہی ہیں اسوقت اور تم اب تک چپ چاپ بیٹھی ہو۔کیوں نہیں کہتی ان سے کہ وہ میڈیا کے سامنے ان خبروں کی تردید کریں۔۔اگر تم اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی خاموشی سے تماشا دیکھتی رہی نا تو دیکھنا۔ایک دن لے اڑے گی وہ بولڈ فلمی چڑیل تمہارے شوہر کو اور تم ہاتھ ملتی رہ جاؤ گی۔۔۔۔
“حیات کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔حورین کے منہ سے نکلنے والی آخری بات نے اسکا چہرہ تاریک کر ڈالا تھا۔
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے بھلا۔۔ اس نے اتنی مشکلوں سے
تو مجھے حاصل کیا ہے۔۔یہ فلمی ایکٹریسز تو اسے پہلے بھی دستیاب تھیں۔۔۔۔اگر وہ ان میں انڑسٹڈ ہوتا تو پھر
مجھ سے شادی کیوں کرتا بھلا۔۔۔اسے کوئی لڑکیوں کی
کمی تھی۔۔کسی ایکٹریس کیلئے وہ مجھے کیسے چھوڑ
سکتا ہے بھلا۔۔اتنی مشکلوں سے میری منتیں کر کے تو
اس نے مجھے پایا۔پھر مجھے کھونے دے گا۔۔۔؟؟ ہمیشہ تو اسکی آنکھوں میں اپنے لئیے محبت کا جنون دیکھا ہے میں۔۔ہمیشہ اپنی توجہ اور محبت کا طالبگار پایا ہے میں نے اسے۔۔۔نہیں وہ مجھے نہیں کھو سکتا۔۔۔اس نے
اپنے خیال کی نفی کی۔سوچوں کا لامتناہی سلسلہ وارد ہو چکا تھا۔وہ خود سے ہی سوال جواب کر کے خود کو تسلی دے رہی تھی۔۔۔۔
اب بولتی کیوں نہیں۔۔اسکی طویل خاموشی پر حورین جھنجلائی۔۔اسکا نہیں چل رہا تھا کہ اس بیوقوف لڑکی کو ایک تھپڑ رسید کر کے ہوش میں لائے۔۔۔ کہ اسکی یہ خاموشی اسکے لئیےکس قدر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔۔۔ حورین کی جھنجلاہٹ پر وہ خیالات کی دنیا سے باہر آئی۔اور ریسیور بائیں سے دائیں کان پر منتقل کرتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“یہ کوئی ایسی خاص بات نہیں حوری۔۔۔۔ جسے تم اتنا سیریس لے رہی ہو۔۔۔۔ان ایکٹرز کے جب تک اسکینڈلز نا
بنیں انکو پبلسٹی کیسے ملے گی۔۔۔۔۔ لہجہ مدھم تھا وہ لاکھ خود کو پرسکون ظاہر کرنے کی کوشش کرتی۔مگر ماحر کے حوالے سے وہم و خدشات اسے گہری یاسیت سے نکلنے نہیں دیتے تھے، اسی لئیے سجدے بھی دراز ہونے لگے تھے آجکل۔۔۔۔
وہاٹ۔۔تم پاگل ہو کیا یہ کوئی عام بات نہیں ذرا سوشل
میڈیا پر جا کر دیکھو اس وقت ٹاپ ٹرینڈنگ میں چل رہی ہے یہ خبر۔۔۔ میڈم ابھی بھی وقت ہے اپنا دماغ اور آنکھیں کھول لو۔۔۔۔ہوش کے ناخن لو تمہیں شائد معلوم نہیں یہ فلمی اداکارائیں کنواروں کی نسبت شادی شدہ مردوں میں بڑی دلچسپی رکھتی ہیں۔۔ دوسری عورتوں کے گھر اجاڑ کر انہیں اپنا گھر بسانے میں بڑا مزہ آتا ہے اگر تم یونہی چپ رہی اپنا منہ بند کر بیٹھی رہی تو وہ رباب علوی لے اڑے گی تمہارے شوہر کو۔۔کچھ عقل سے
کام لو ماحر خان جیسے لڑکے آسانی سے نہیں ملتے۔۔۔۔
ایسے سٹارز کے لڑکیاں خواب دیکھتی ہیں۔۔۔ تم لکی ہو
کہ تمہیں آسانی سے مل گیا وہ۔۔۔ جو ناجانے کتنے دلوں
میں دھڑکتا ہوگا۔۔کون ہے جو انہیں نہیں جانتا کروڑوں میں فین فالونگ ہے انکی۔پھر ایسی کونسی لڑکی ہوگی جو انکو پانا نہیں چاہتی ہوگی۔تم سمجھتی کیوں نہیں
حورین نے جھنجھلا کر کہا۔۔۔۔اسکی جھنجھلاہٹ میں تفکر بھی تھا اور اضطراب بھی۔۔۔
“حیات مضطرب ہو اٹھی اور اپنے اندر کی تشویش و
افسردگی نا چھپا سکی۔۔۔
یار میں کیا کروں بھلا۔۔۔انہیں خود احساس ہونا چاہیے کہ وہ اب شادی شدہ ہیں۔۔۔ لہذا اس قسم کی حرکتوں سے گریز کرنا چاہیے۔۔۔۔۔ جب وہ خود چپ ہیں تو ایسے میں، میں کیسے انہیں کچھ کہوں۔۔کس حق سے سوال کروں جب انہوں نے مجھ سے اس حوالے سے بات کرنا وضاحت دینا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔ تو میں کس بنیاد
پر ان سے جواب طلبی کروں۔۔۔۔کیا انہیں خود احساس
نہیں ہوتا ہوگا کہ انکے افئیر کی خبر سن کر میں ہرٹ ہو رہی ہوں گی۔وہ روہانسی ہو کر بولی حورین پل بھر کیلئے خاموش ہو گئی۔۔۔
“شکر ہے کم از کم یہ ثابت تو ہو گیا کہ تمہارے دل میں ان کیلئے کچھ فیلنگز ہیں۔۔۔۔۔ انکی اسطرح کی حرکتوں
سے تمہیں کچھ فرق پڑتا ہے۔۔ کچھ دیر بعد ریسیور سے
حورین کی آواز ابھری۔اور کیا کہہ رہی ہو کہ تم ان سے
جواب طلب نہیں کرو گی۔۔۔۔ یعنی ایسے خاموش رہ کر انہیں من مانیاں کرنے دو گی۔۔اپنے حق کیلئے آواز نہیں اٹھاؤ گی۔۔۔۔۔ حورین کے لہجے میں صرف دکھ ہی نہیں رنج و ملال بھی تھا۔۔
تو اور کیا کروں۔اسکی ماں اور بہن نے یہ کہہ کر تسلی
دے دی مجھے کہ یہ صرف اسکینڈل ہے اس میں کوئی سچائی نہیں۔۔جسکو تسلی دینی چاہیے تھے اسے کوئی پروا ہی نہیں۔۔وہ بدل گیا ہے حوری شائد دل بھر گیا ہے اسکا مجھ سے۔۔۔۔ میں کہتی تھی نا یہ فلمی مرد کسی
ایک عورت کے بن کر نہیں رہ سکتے۔۔اسکا لہجہ بے بس ہی نہیں گلوگیر بھی تھا۔۔۔
تم نے اپنا بنا کر رکھا تھا اسے۔۔۔؟؟ حورین کا سوال تھا یا تازیانہ۔۔۔وہ چند ثانیے کچھ بول ہی نہیں سکی۔۔۔اس
نے بھلا کب اسے اپنا بنا کر رکھا یا شوہر کا درجہ دیا۔۔
اسکے اندر سے آواز آئی تو وہ لب کچلنے لگی۔۔۔۔
میں نے تمہیں پہلے بھی سمجھایا تھا اپنی عورت توجہ
نا دے تو مرد لازمی باہر کی عورتوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے لیکن تم۔۔۔”اسکی خاموشی اسے قصوروار ثابت کر گئی تھی۔۔۔حورین نے حسب عادت پھر سمجھانا چاہا مگر حیات نے بہت ناراضگی اسکی بات کاٹ دی۔۔
“میں نہیں مانتی اس فضول بات کو کہ بیوی توجہ نا
دے تب ہی شوہر باہر منہ مارتے ہیں۔ان مردوں کی اصل
میں سائیکی ہی ایسی ہوتی ہے عورت کو دیکھ کر ہی
پھسل جاتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا انہیں کہ
وہ گھر کی ہے یا باہر کی۔اور یہ شوبز والے انکے تو رات
دن گزرتے ہی اپنی ڈریسنگ اور اداؤں سے بہکانے والی نامحرم عورتوں کے درمیان میں ہیں پھر تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ میں نے اپنا بنا کر نہیں رکھا تبھی وہ باہر
دل بہلا رہا ہے عشق لڑا رہا ہے۔۔۔۔۔ اسکے لہجے میں دکھ کے ساتھ ساتھ تلخی کی بھی آمیزش تھی۔۔۔
یار تم بات کو سمجھتی نہیں ہو بلکہ سمجھنا ہی نہیں چاہتی۔تم جذباتی ہو گئی ہو اب حالانکہ پہلے تم تحمل
مزاج ہوا کرتی تھیں۔خیر چھوڑو اس بات کو مجھے یہ
بتاؤ تم بات کرو گی یا چپ چاپ اپنے شوہر کے معاشقے چلتے دیکھتی رہو گی۔۔۔۔۔حورین نے جھلا کر پوچھا
مجھے نہیں ضرورت اس سے یہ بات کرنے کی میری بلا سے جو مرضی کرتا پھرے۔آئی ڈونٹ کئیر۔۔لہجہ تلخ تھا
انداز لاپروا۔۔۔۔حورین نے لب بھینچ کر کوئی سخت بات
کہنے سے خود کو روکا۔۔۔
” اوکے ٹھیک ہے میں فارس بھائی کو کال کروں گی اب وہی بات کریں گے تمہارے اس دل پھینک شوہر سے۔۔وہ
فون بند کرنے لگی تھی جب حیات نے تیزی سے کہا۔۔۔
“نہیں حوری پلیز۔۔۔ تم فارس بھائی سے کچھ نہیں کہو گی۔۔وہ سخت غصہ ہو رہے تھے۔۔۔۔ میں نے پہلے ہی بڑی مشکل سے انہیں روکا ہے۔۔ کہ وہ اس معاملے میں نہیں
بولیں گے۔حیات ن کچھے اس قطعیت بھرے لہجے میں کہا کہ نا چاہتے ہوئے بھی وہ اسکی بات رد نا کر سکی۔
اور تمہیں آج پتہ چلا اسکے دل پھینک ہونے کا۔۔ یہ بات تو میں نے تمہیں بہت بار کہی مگر تم تو بگ فین تھی
نا اسکی۔سو تمہیں کہاں نظر آتی تھیں اسکی خامیاں”
نا چاہتے ہوئے بھی اسکی آواز بھرا گئی۔۔۔ گلابی چہرے پر حزن کا رنگ چھانے لگا۔۔۔ بڑی بڑی نیلی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی۔۔۔اسکی گلو گیر آواز سن کر حورین بالکل خاموش ہو گئی تھی۔اسکا دل بہت بوجھل ہو رہا تھا وہ مزید کوئی بات ناکر سکی اور فون بند کر کےبیڈ پر لیٹ گئی۔سامنے والی گلاس وال ریشمی پردہ ہٹا ہوا تھا۔۔۔۔۔ آکاش پر چمکتے ستاروں کے جھرمٹ میں چاند اپنی آب و تاب کے ساتھ نگاہوں کو خیرہ کر رہا تھا۔۔۔
چاند کو دیکھ کر اسے اپنی زندگی کسی اندھیرے میں ڈوبی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
رات کا ایک بج رہا تھا۔نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔ماحر کا کوئی اتا پتا نہیں تھا شائد اسکا آج
رات گھر آنے کا ارادہ ہی نہیں تھا۔۔پہلے سے بوجھل دل
مزید بوجھل ہونے لگا۔۔وہ بے چینی میں کروٹیں بدلنے
لگی وال کلاک پر سوئیاں جیسے رینگ رہی تھیں رات
طویل تر لگ رہی تھی۔۔۔۔ وہ خود کو روک نہیں پا رہی تھی آنکھوں سے موتی گر رہے تھے یہ سوچ سوچ کر کہ اسکا شوہر اس وقت غیر عورتوں کیساتھ وقت گزار رہا ہوگا۔یونہی آنسو بہاتے ناجانے کب نیند کی دیوی اس پر مہربان ہوئی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔
ماحر سر آپکو بڑے سر بلا رہے ہیں۔آج شوٹنگ ذرا جلدی
ختم ہو گئی تھی سو دس بجے ہی وہ گھر آ گیا تھا۔۔بیڈ
روم کی طرف جا ہی رہا تھا جب ملازم نے اسے سکندر
علی خان کا پیغام دیا۔۔۔
“کہاں ہیں۔۔۔۔۔؟؟ ماحر نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا
سٹڈی روم میں ہیں جی۔۔۔۔بڑی بیگم صاحبہ بھی وہیں موجود ہیں۔۔۔ ملازم کے اطلاع دینے پر وہ سر ہلاتا ہوا سٹڈی روم میں چلا آیا۔۔۔
“اسلام علیکم۔۔۔۔کمرے میں داخل ہو کر اس نے مہذبانہ انداز میں سلام کیا۔۔۔۔۔ یہ تبدیلی اس میں کچھ عرصہ پہلے ہی آئی تھی ورنہ اس سے پہلے تو وہ صرف ہیلو
ہائے سے ہی کام چلاتا تھا۔۔۔۔
“وعلیکم السلام۔آؤ یہاں میرے پاس بیٹھو۔فائزہ سکندر
نے اپنے برابر صوفے پر جگہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔سکندر علی
خان رائٹنگ ٹیبل کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔ہاتھ میں کافی کا مگ تھا جسے انہوں نے ٹیبل پر
رکھ دیا اور بہت ٹھہرے ہوئے لہجے میں مخاطب ہوئے
تمہیں معلوم ہوگا آجکل سوشل میڈیا پر تمہارے متعلق کونسی خبریں گردش کر رہی ہیں یہ سب تمہاری شادی سے پہلے بھی چلتا تھا۔۔۔ لیکن تب ہمیں زیادہ فکر نہیں ہوتی تھی کیونکہ کسی بھی سپرسٹار کے متعلق ایسی نیوز سامنے آنا عام سی بات ہے۔۔۔تمہیں خود بھی اچھے
سے معلوم ہوگا وہ پہلے والی سب خبریں جھوٹی نہیں
تھیں بہت سی لڑکیوں سے تمہاری دوستیاں رہیں مگر
اب تم شادی شدہ ہو۔۔تمہاری ایک بیوی ہے۔۔۔ تمہیں اس
بات کا احساس ہونا چاہیے کہ تمہارے متعلق ایسی خبر
کسی اور کیلئے قابل برداشت ہو نا ہو مگر تمہاری بیوی کیلئے قابل برداشت ہرگز نہیں ہوگی۔۔
بات کے اختتام پر انکا لہجہ کچھ سخت ہو گیا تھا۔۔۔
وہ جو تحمل سے سن رہا تھا زیادہ دیر چپ نا رہ سکا۔۔۔
مگر ڈیڈ وہ جسٹ میری فلم کی ہیروئن ہے اسکے علاوہ
اس نے احتجاجی انداز میں کہنا چاہا مگر ساتھ بیٹھی فائزہ سکندر نے خفگی بھرے انداز میں ٹوک دیا۔۔۔
تمہیں ہمیں مطمئن کرنے کی ضرورت نہیں ہے ماحر۔۔ہم
تم سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ تم خاموش نا رہو میڈیا
کے سامنے کہو کہ یہ سچ نہیں ہے۔۔میری بہو کو مطمئن کرو۔۔۔بے شک اس نے زبان سے کچھ نہیں کہا۔۔مگر اسکا اترا ہوا چہرہ اسکے دل کا حال عیاں کر رہا ہے۔۔۔ تم فلم میں مصروف ہو کر حیا کو اگنور کر رہے ہو اندازہ ہو رہا ہے مجھے۔کتنی منتوں سے رو دھو کر لائے تھے اسے اس
گھر میں اب تمہارا اس سے یوں بے پروا ہو جانا مجھے
بالکل پسند نہیں آ رہا۔۔۔۔
“انکا لہجہ و انداز ہی بتا رہا تھا کہ وہ کتنی خفا تھیں۔جسے محسوس کر کے وہ ہلکا سا مسکرایا اور تسلی آمیز لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
مام میں اسے اگنور نہیں کر رہا۔شوٹنگ میں بہت زیادہ بزی ہوں ٹائم نہیں نکال پا رہا۔۔۔۔ بٹ ڈونٹ وری شوٹنگ
کمپلیٹ ہونے والی چند سینز رہتے ہیں جو نیکسٹ ویک
امریکہ میں شوٹ کرنے ہیں اسکے بعد میڈیا کے سامنے اس فیک نیوز کی تردید کر دوں گا۔۔۔
فائزہ سکندر نے چونک کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔پھر انکے چہرے پر چمک آئی۔۔۔۔
تم نے شوٹ کیلئے امریکہ جانا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔امریکہ سے دعوت نامہ آیا ہے۔۔اسی ہفتے فاریہ کے بیٹے کا عقیقہ ہے میں تمہیں اور حیا کو بھیجنے کا
سوچ رہی تھی اب تم لوگ تیاری کر لو۔۔۔ ۔ اپنی شوٹنگ بھی نپٹا لینا۔ حمزہ کی عقیقہ سرمنی بھی اٹینڈ کر لینا
اور اپنا ہنی مون بھی منا لینا۔۔۔ کیونکہ جب سے شادی ہوئی ہے تم ایک بار بھی بہو کو کہیں گھمانے نہیں لے گئے۔۔۔۔انکا لہجہ تحکم بھرا تھا۔۔۔
“بالکل صحیح فرما رہی ہیں تمہاری مام۔۔۔پیکنگ کر لو تم دونوں اپنی میں مینجر کو کال کر کے سیٹس ریزرو کرواتا ہوں۔۔۔۔۔۔ سکندر علی خان نے بھی بیگم کی تائید کرتے ہوئے فائنل انداز میں کہا تو وہ گہری سانس لے کر رہ گیا۔۔۔
ایک ٹکٹ میں اتنے پلانز۔۔۔۔۔۔ ویسے آپ شائد بھول رہی ہیں مام۔۔آپکی بہو کو میں ہنی مون پر ہی لے جا رہا تھا
جب ان محترمہ نے ہنی مون سے بچنے کیلئے واش روم میں گر کر خود کو چوٹ لگوا لی تھی تب آپ دونوں نے
میری کلاس لی تھی کہ ہنی مون پر بھلا کون زبردستی اپنی بیوی کو کر جاتا ہے جو میں لے جا رہا تھا۔۔۔ماحر
نے مسکراتے ہوئے یاد دلایا تو وہ بھی مسکرا دیں۔۔۔
ہاں تو تب اسکا موڈ نہیں تھا۔۔۔فائزہ سکندر نے حیات کی حمایت کی۔۔۔تو وہ منہ بنا کر رہ گیا۔۔
اوکے مام اینڈ ڈیڈ۔آپ دونوں کا حکم سر آنکھوں پر اور
اور ہاں اپنی بہو سے خود پوچھ لیں کہ وہ میرے ساتھ جانا پسند کریں گی یا نہیں۔۔۔۔”وہ اٹھتے اٹھتے طنزیہ انداز میں کہہ بیٹھا۔۔۔۔
“بہو سے ہم نہیں بیٹا۔۔۔۔ تم خود پوچھو گے اور مجھے یقین ہے وہ انکار نہیں کرے گی۔۔۔فائزہ سکندر نے کچھ اس طرح یقین سے کہا کہ وہ انہیں دیکھ کر رہ گیا اور پھر انکے اس یقین کی تصدیق بھی ہو گئی جب کمرے میں آ کر اس نے جائے نماز سمیٹ کر رکھتی حیات سے سپاٹ لہجے میں کہا۔۔سنو مام ڈیڈ ہم دونوں کو امریکہ بھیجنا چاہ رہے ہیں ماموں نے دعوت نامہ بھیجا ہے۔۔۔
ڈو یو لائک ٹو گود ودھ می؟؟ اس نے سوالیہ انداز میں دیکھا تھا۔۔۔
“جی۔۔۔۔وہ بس اتنا کہہ پائی۔۔۔
ٹھیک ہے پھر میڈ سے اپنی پیکنگ کروا لینا۔۔۔۔ مختصراً
کہہ کر وہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا ہی تھا جب بے اختیاری میں حیات کے منہ سے نکلا اور آپکی پیکنگ”
“ماحر نے چند لمحے رک کر بغور اسکا چہرہ دیکھا پھر کندھے آچکا کر بولا زحمت نا ہو تو میری بھی کروا لینا۔ اثبات سر ہلاتے ہوئے اس نے ریموٹ اٹھایا اور وارڈ روب کھول کر کھڑی ہو گئی۔۔۔ کتنی دیر وہ وارڈ روب کھولے
ساکت کھڑی رہی۔۔روایتی بیویوں کی طرح اس نے آج
تک ماحر کا کوئی کام نہیں کیا تھا لہذا سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کون کونسے کپڑے نکالے۔۔۔۔۔ کافی دیر اسی سوچ و بچار میں کھڑے رہنے کے بعد اس نے اکتا کر الماری بند کر دی ارادہ ملازمہ سے ہیلپ لینے کا تھا
جو ہمیشہ سے اسکی پیکنگ کرتی تھی۔۔۔
“نیویارک میں خزاں کا موسم چھایا ہوا تھا۔رنجیدہ اور
ملول سا موسم۔۔۔بالکل اسکے دلی احساسات کی مانند”
انہیں نیویارک آئے آج چوتھا دن تھا۔۔۔۔۔ اسے یہاں لا کر بھی ماحر رویہ ٹھیک نہیں ہوا تھا۔۔۔وہ مسلسل اسے بے
نیازی و لاتعلقی کی مار مار رہا تھا۔ ناجانے کیوں اتنا بے حسں بنا ہوا تھا۔۔ وہ سوچ سوچ کر ہی افسردہ ہو جاتی تھی۔سمندر جیسی گہری نیلی آنکھوں میں نمکین پانی مچلنے لگتا تھا۔۔۔۔ ماحر خان کی بےحسی پر اسکی ذات اداسیوں میں سرگرداں تھی۔۔۔۔۔ اگرچہ صرف اسی ایک شخص کے علاؤہ باقی سب اسے بے حد اہمیت دے رہے تھے۔۔۔ اپنائیت و محبت سے نواز رہے تھے مگر پھر بھی اسکے اندر ویرانی اور سکوت چھایا ہوا تھا جسے وہ کوئی نام نہیں دے پا رہی تھی۔۔
‘وہ شخص جو پہلے اسکے لئیے قابل نفرت تھا۔۔۔ جسکی
محبتوں چاہتوں کے جواب میں اسکے پاس سوائے جلی
کٹی سنانے اور نفرت دکھانے کے کچھ نا ہوتا تھا اب وہ
شخص اس کیلئے اسقدر اہم ہو گیا تھا کہ اسکے چھوڑ دینے کے خیال سے جسم و جاں سناٹوں میں مقید ہونے لگتے تھے۔اسکی جدائی کا تصور اسکے لئیے سوہان روح
ہو گیا تھا یہ تبدیلی اسمیں کب آئی وہ خود بھی نہیں
جانتی تھی تاہم اتنا معلوم تھا۔۔ اسطرح کے احساسات اس میں تب گہرے ہونے لگے تھے جب اس نے اسکا نام
رباب علوی نامی ایکٹریس کے ساتھ سنا۔۔۔اور پھر اس کے بعد مسلسل سنتی آ رہی تھی۔۔۔
اسکا دھوپ چھاؤں والا مزاج دیکھ کر وہ وحشتوں کے بھنور میں خود کو جکڑا ہوا محسوس کرنے لگی تھی۔۔
ان چار دنوں میں ایک بار بھی اس نے حیات کو اپنے ساتھ اکیلے کہیں گھمانے کی آفر نہیں کی تھی۔۔ اگرچہ
فاریہ اور اصفہان اسے روز گھمانے لے جاتے تھے ماحر
بھی کبھی ساتھ ہوتا اور کبھی نہیں۔۔۔ وہ اسکی طرف سے اسپیشل توجہ کی خواہشمند تھی۔۔۔۔ مگر وہ اسے فاریہ کے حوالے کر کے خود مزے سے اکیلا گھوم رہا تھا یہی چیز حیات عبدالرحمان کو ہرٹ کر رہی تھی۔۔۔
‘اصفہان اور فاریہ تین مہینے قبل ورجینیا سے نیویارک شفٹ ہوئے تھے۔۔۔اصفہان کو یہاں کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب مل گئی تھی۔۔ساتھ ہی اس نے کولمبیا یونیورسٹی سے بین الاقوامی امور میں ماسڑ کی ڈگری حاصل کرنے کیلئے ایڈمشن لیا ہوا تھا۔۔ابراہیم علی خان مسز ابراہیم اور احمر ورجینیا میں ہی مقیم تھے احمر باپ کیساتھ مل کر انکا کاروبار سنبھال رہا تھا۔۔۔ابراہیم علی خان کے کئی گیس اسٹیشن تھے۔۔۔۔۔۔ اسکے علاؤہ ورجینیا میں ایک معروف سٹریٹ پر ان کا شاندار سا ریسٹورنٹ بھی تھا۔۔کاروباری مصروفیات کی وجہ سے پوتے کے عقیقہ اور برتھڈے کی تقریب پر وہ تو نہیں آ سکے تھے مگر آئی ہوئی تھیں۔انکے ساتھ احمر تھا جس
سے اصفہان کی طرح ہی وہ پیار کرتی تھیں اب۔اگرچہ
شروع میں انکا رویہ احمر کے ساتھ کوئی خاص اچھا نہیں تھا۔۔ مگر وقت گزرنے کیساتھ ساتھ احمر نے انکے
دل میں جگہ بنا لی تھی۔۔۔۔ اصفہان کی طرح وہ انہیں
ممی ہی بولتا تھا۔۔۔۔۔۔ ایک دن پہلے حمزہ کے عقیقہ کی تقریب ہوئی تھی۔۔ یہ تقریب تو گھر رکھی گئی مگر کل
ہی اسکی پہلی سالگرہ بھی تھی جو کہ کہ نیویارک کے
ایک مشہور کلب کے خصوصی بچہ ہال میں منعقد کی
گئی تھی جو کہ ایک حیرت کدہ تھا۔۔ ہلکی روشنی میں
ڈوبی ایک خوابناک سی جگہ۔۔۔ دیواروں پر مکی ماؤس رقص کرتے ہوئے۔۔ فرش پر سٹارز بچھے ہوئے۔رنگ برنگے
مختلف شکلوں کے غبارے۔۔۔۔ایک چھوٹا سا چلڈرن تھیڑ
بھی تھا جسکی سکرین پر بچوں کیلئے مسلسل کارٹون
فلمیں چل رہی تھیں۔ہال لوگوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔۔۔کئی پاکستانی فیمیلیز تو تھیں ہی ساتھ ہی انڈین
سیاہ فام چینی یورپی اور کئی گورے گوریاں بھی آئے ہوئے تھے۔جو تحفے تحائف لائے تھے۔انتظامیہ کی جانب
سے سالگرہ کا ایک بلند و بالا قلعہ نما کیک ہال میں لایا
گیا تھا جو کہ ماحر نے خود بھانجے کا ہاتھ پکڑ کر کاٹا
تھا۔ایک بات جو اس نے وہاں دیکھی۔۔ وہ تھی سب کی توجہ کا مرکز ماحر۔۔۔۔ گورے تھے انڈین تھے یا دوسرے غیر ملکی سب اسکے ساتھ سیلفیاں لے رہے تھے۔۔حیات متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکی۔۔ وہ شخص کتنا پاپولر تھا پوری دنیا میں۔۔۔ اسکا اندازہ اسے اسکے گرد لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر ہوا تھا۔۔ساتھ ہی حورین کی وہ بات بھی یاد آئی کہ اسے ایک ایسے شخص کی محبت اور اسکا ساتھ حاصل ہے جسکی خواہش میں لاکھوں کروڑوں دل دھڑکتے ہیں۔دل ہی دل میں تو وہ اسوقت بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئی تھی۔۔۔۔۔ جب جے_ ایف ائیرپورٹ کے باہر اس نے پاکستانی اور انڈین لوگوں کا ایک بڑا ہجوم دیکھا۔۔۔۔۔ جو ماحر خان کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے حد سے زیادہ بے تاب تھا۔۔۔اس سے شیک
ہینڈ کرنے اور اسکے ساتھ فوٹو بنوانے کیلئے لوگ ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے وہ حیرت زدہ تھی۔۔۔حالانکہ اس سے بڑی بھیڑ تو اس نے اپنی یونیورسٹی
میں اسکی شوٹنگ والے دن دیکھی تھی۔۔۔ مگر وہ لوگ
اسکے اپنے ملک کے تھے۔جبکہ یہاں تو اسکے کریزی فینز میں ہزاروں غیرملکی بھی شامل تھے جو پاکستانیوں کی اسکی جھلک دیکھنے کیلئے اتاولے ہو رہے تھے۔۔۔۔
حورین کی بات کو باتوں کو سوچتے ہوئے وہ تمام وقت اسے دیکھتی رہی تھی اور ساتھ میں سخت شاکی بھی ہوتی رہی اسکے اس دوغلے رویے سے جو ایک دن توجہ بھرا ہوتا۔۔۔اور پھر کئی کئی دن مغرور و کھٹور بے نیاز سا لگتا۔۔ماحر کے علاؤہ یہاں سب اسکا بہت خیال رکھ رہے تھے جسمیں فاریہ اصفہان اور مسز ابراہیم شامل تھے۔احمر بھی وہیں ہوتا تھا۔۔۔ حیات سے بات کرنے کی کئی بار کوشش کی اس نے۔۔۔ مگر اسکا خشک و روکھا انداز دیکھ کر چپ ہو جاتا۔۔ اسے احمر سے کیا لینا دینا
تھا بھلا جو اسے اہمیت دیتی۔۔۔ اسے تو ماحر کے علاؤہ
کچھ سوچنا سوجھ ہی نہیں رہا تھا وہ تو اسکے رویے پر آزردہ تھی جہاز میں کیسا جان لٹانے والا توجہ بھرا انداز تھا۔۔یہاں آتے ہی پھر سے اجنبی بن گیا تھا جیسے
اسکے نزدیک حیات کی کوئی اہمیت ہی نا ہو۔۔۔چاہ کر
بھی اکیلے میں وہ اپنی پلکوں کو بھیگنے سے روک نا پاتی۔۔وہ شخص اسے نظر انداز کر کے مسلسل مینٹلی ٹارچر کر رہا تھا۔۔۔ پچھلے چار دنوں کی طرح آج صبح
بھی جب وہ سو کر نو بجے اٹھی تو وہ فلیٹ پر موجود نہیں تھا۔۔۔ حیات کو دکھ کیساتھ ساتھ دل میں شدید غصہ بھی آیا۔۔۔۔ اتنا کوئی بے مروت و کٹھور انسان تھا
وہ زندگی میں پہلی بار امریکہ آئی تھی باہر جاتے ہوئے پوچھتا بھی نہیں تھا۔۔ کہ تم بھی میرے ساتھ چلو گی یا نہیں۔۔خود ہی اکیلا نکل جاتا۔۔۔ جب بھی وہ باہر گئی فاریہ اور اصفہان ہی اسے لے کر گئے۔۔ناجانے وہ گھومنے جاتا تھا یا اسکی کوئی اور مصروفیات تھیں۔۔ وہ نہیں جانتی تھی مگر اسکے اس رویے سے حیات عبدالرحمان کی انا اور عزت نفس پر ضرب لگی تھی غصے اور دکھ سے بھرے دل کے ساتھ اس نے تہیہ کیا اگر اسے اسکی پروا نہیں تو آئندہ وہ بھی اسکی پروا ہرگز نہیں کرے گی۔اسکی طرف سے بھاڑ میں جائے اب وہ۔۔اسکے رویے پر اب ایک آنسو بھی مزید نہیں بہائے گی وہ۔۔اگر رباب علوی کی خاطر اسے چھوڑتا ہے تو بے شک چھوڑ دے۔۔۔ انکے درمیان کونسا کوئی ازدواجی تعلق قائم ہوا جو وہ
اسکے ساتھ اپنے رشتے کی فکر کرے۔اس ارادے کیساتھ
وہ زبردستی اپنے آپکو اور اپنے دل کو گزری تمام شب مطمئن کرنے کی کوشش کرتی رہی۔۔۔
“۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد خود کو ہشاش بشاش ظاہر کرتی
حمزہ کو اٹھائے باہر چلی آئی۔۔۔۔۔ فاریہ اور اسکی ساس
کچن میں مصروف تھیں وہ انہیں بتا کر باہر نکلنے لگی
تھی تو وہ دونوں اسے موبائل ساتھ لے جانے کی تاکید
کرنا نہیں بھولیں۔۔۔۔۔۔۔ پھر کچھ ہی دیر میں وہ کولمبیا یونیورسٹی کے برابر میں براڈوے۔۔۔۔۔ سٹریٹ نمبر 113 فاریہ اور اصفہان کے گیارہویں منزل پر واقع فلیٹ سے نیچے سنٹرل پارک میں بیٹھی تھی۔۔” نیویارک پر خزاں کا موسم چھایا ہوا تھا۔چنار کے درختوں کے زرد پتے ہوا سے اڑ اڑ کر پرملال زردی میں آزردہ اس پر اور براڈوے سٹریٹ کے پتھریلے فرش پر گر رہے تھے۔۔سنگی بینچ پر بیٹھی حمزہ کو گود میں لئیے وہ سامنے گھاس پر کچھ انگریز بچوں کو کھیلتا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ پارک میں ہر نوعیت اور عمر کے لوگ تھے۔۔۔۔۔۔ پونی ٹیل میں بھاگتی ہوئی لڑکیاں۔ عمر رسیدہ لوگ جنمیں کئی کپل تھے جو
جوگنگ کرنے آئے ہوئے تھے۔اسکی گود میں بیٹھا حمزہ دلچسپی سے نظریں گھما گھما کر یہاں وہاں لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔یونہی ادھر ادھر نظریں گھماتے اسکی نظر
ایک سفید کتے پر پڑی جو ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ ٹہل رہا تھا۔کتے کے منہ پر سرخ دھبے دیکھ کر اسکے بے
حد سنجیدہ و رنجیدہ چہرے پر بے اختیار مسکان آ گئی۔۔۔۔
ابھی کل شام کی ہی بات تھی وہ اور مسز ابراہیم چہل قدمی کیلئے فلیٹ سے نکلنے لگے,, تو خلاف توقع ماحر بھی انکے ساتھ ہو لیا حالانکہ چند منٹ پہلے ہی وہ باہر سے ہو کر آیا تھا۔۔۔ فلیٹ سے اترنے کے بعد بائیں ہاتھ پر ایمسٹرڈیم ایونیو کی جانب جاتے ہوئے اسکی نظر ایک سفید کتے پر پڑی تو وہ چونک گئی۔۔۔اسکے چونکنے کی وجہ کتے کے منہ پر واضع طور پر نظر آتے گہرے سرخ نشان تھے اس نے بے اختیار ساتھ چلتی مسز ابراہیم کو متوجہ کیا۔۔۔۔۔
“آنٹی وہ دیکھیں کتے کے منہ پر خون لگا ہے کیا۔۔۔۔۔؟؟اسکے لہجے میں تشویش تھی۔۔مسز ابراہیم بھی چونک کر غور سے کتے کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔مگر انکے کسی نتیجے پر پہنچنے اور جواب دینے سے پہلے ماحر بول پڑا۔۔۔
“محترمہ یہ خون نہیں لپ اسٹک کے نشان ہیں۔۔۔یہاں کی گوریاں اتنا اپنے بوائے فرینڈ یا ہزبینڈ کو منہ نہیں لگاتیں جتنا اپنے کتوں کو لگاتی ہیں۔۔۔۔
اسکی اس بے باکی پر وہ تو شرم اور خفت سے سرخ پڑ گئی جبکہ مسز ابراہیم کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔۔۔۔
وہ کہتا جا رہا تھا۔۔یہاں انسانوں سے زیادہ جانوروں کو
اہمیت دی جاتی ہے۔۔۔یہ گوریاں کتوں سے بڑا پیار کرتی
ہیں انکو کتوں سے بالکل سمیل نہیں آتی۔۔۔۔ بڑی محبت
سے چومتی چاٹتی ہیں انکو۔۔۔۔۔ پھر انہیں منہ لگانے کے بعد اگر شوہر یا بوائے فرینڈ سے رومینس کرنا پڑے تو منہ بنا کر کہتی ہیں۔ڈارلنگ جاؤ برش کر کے آؤ تمہارے منہ سے بہت سمیل آ رہی ہے جبکہ کتوں کی سمیل سے انکو کوئی مسئلہ نہیں اسکی اسمیل برداشت ہو جاتی
مگر بیچارے انسانوں کی نہیں ہوتی۔۔
اسکی مزید گوہر افشانیاں سن کر وہ تو شرم سے پانی پانی ہو گئی جبکہ مسز ابراہیم ہنستے ہوئے اسکی سب
باتوں کی تائید کر رہی تھیں۔سارا وقت وہ اسکی باتوں پر شرمندگی محسوس کرتی رہی اور ساتھ ہی اپنی بے اختیاری پر پچھتاتی رہی کہ کاش نا مسز ابراہیم سے
وہ کتے والی بات کہتی نا جواب میں ماحر کی بے باک باتیں سننا پڑتیں۔۔۔ اب پارک میں اچانک کتے اور اسکے منہ پر بنے سرخ نشان دیکھ کر کل والی اسکی بے باک باتیں یاد آئیں تو شرم کے ساتھ ہنسی بھی آئی۔۔۔
حمزہ سامنے فٹ بال کھیلتے انگریز بچوں کو دیکھ کر اٹکھیلیاں کرنے لگا۔۔۔وہ ہلکا سا مسکراتے ہوئے جھک کر اسے پیار کرنے لگی۔۔
“اچھا تو آپ دونوں یہاں ہیں۔۔جانی پہچانی آواز پر سر
اٹھایا تو احمر کو سامنے کھڑا پایا۔۔۔۔۔ نیلی جینز پر ییلو
شرٹ پہنے وہ مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔
جی یونہی ذرا ہوا چہل قدمی کیلئے آ گئی۔۔۔اسے جواب دیتے ہوئے لہجے میں خود بخود رکھائی در آئی۔یہ شائد
احمر کے پچھلے رویے کا بدلہ تھا۔۔۔
“اچھا لیکن مجھے لگا تھا کہ شائد آپ اپنے شوہر نامدار کیساتھ دعوت پر گئی ہونگی۔۔۔ابھی یہاں سڑیٹ پر سے گزر رہا یونہی ادھر نظر پڑی تو گمان سا ہوا کہ شائد آپ ہیں پھر تصدیق کیلئے یہاں چلا آیا۔۔۔ اور واقعی آپ ہی نکلیں۔ ہلکا سا مسکراتے ہوئے وہ بینچ کے دوسرے سرے پر قدرے فاصلہ رکھتے ہوئے بیٹھ گیا اور ہاتھ بڑھا کر حمزہ کو بھی اس کی گود سے لے لیا جو اپنے چاچو کو دیکھ کر ہی چہکنے لگا تھا۔۔۔
“وہ دانستہ خاموش رہی۔۔۔ وہ کچھ دیر اسکے بولنے کا
انتظار کرتا رہا پھر ایک سرسری نگاہ اس پر ڈال کر کہا
“ویسے آپ گئی کیوں نہیں دعوت پر۔۔۔۔؟؟
“کس کی دعوت۔۔۔۔۔؟؟ حیات نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔
آپکو نہیں معلوم کیا۔۔؟؟ اسکے لہجے میں حیرت در آئی حیات نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
اوہو۔۔اس نے طویل تر سانس کھینچا پھر گویا ہوا۔۔۔ وہ امریکن فلم سٹار ہے نا کیٹی پیری اس نے بلایا ہے ماحر کو لنچ پر مجھے لگا وہ آپکو بھی ساتھ لے جائے گا مگر حیرت ہے ساتھ لیجانا تو دور کی بات اس نے آپکو بتایا بھی نہیں۔۔وہ حیرانی سے کہہ رہا تھا۔۔۔
حیات عبدالرحمٰن کا صبیح چہرہ دھواں دھواں ہو گیا
لاکھ وہ ماحر سے بے نیاز و لاتعلق رہتی۔۔۔۔مگر اس پل احمر کی بات سن کر ناجانے کیوں بے حد توہین و بے مائیگی کا احساس ہوا تھا۔۔۔۔ اس نے پلکیں جھپک کر ساری نمی کو اندر اتار لیا تھا۔۔۔۔۔ اچانک ہی بہت سارا اضطراب در آیا تھا اندر۔۔۔۔ جانے کیسا احساس تھا وہ
خود بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔۔۔ احمر نے اسکی کیفیت کو نوٹ کر لیا تھا۔۔۔
قدرے توقف کے بعد تسلی دینے والے انداز میں بولا۔۔۔
چلیں کوئی بات نہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے فلمسٹارز ہر جگہ تو اپنی بیویوں کو ساتھ نہیں لے کر جاتے پھر وہ بھی خاص طور پر اس وقت جب کسی خوبصورت حسینہ کے ساتھ ڈیٹ پر جانا ہو۔۔۔۔ وہ کن انکھیوں سے اسکی دیکھتے ہوئے بولا پھر ایک لمحے کو رک کر کہنے لگا۔۔۔۔۔ حسین تو خیر آپ بھی کم نہیں مگر کیٹی پیری کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔۔ایک بار بندہ دیکھے تو پھر نظر ہٹانے کو دل نہیں کرتا۔۔۔۔ جی چاہتا ہے بس دیکھتا
ہی رہے۔۔۔ ماحر بڑا لکی اسے تو وہ محترمہ رومینس کا شرف بھی بخش دیں شائد۔۔ جبکہ ہم جیسے عام لوگ
ایسی حسیناؤں کیلئے صرف ٹھنڈی آہیں ہی بھر سکتے
ہیں۔۔۔
اسکا لہجہ شرارتی و معنی خیز تھا۔حیات عبدالرحمان کا چہرہ تمتما اٹھا۔وہ اتنا آؤٹ سپوکن ہوگا اسے اندازہ نہیں تھا۔اس نے بے حد ناگوار نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔۔اسی لمحے احمر کو بھی احساس ہو گیا تھا غالباً اسکے ناگوار تاثرات سے وہ بھانپ گیا تھا تبھی معذرت خواہ انداز میں بولا۔سوری میں کچھ زیادہ ہی بول گیا۔حیات نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔ وہ سامنے درختوں پر نگاہیں جمائے بیٹھی رہی۔۔۔۔ وہ کچھ دیر اسکے بولنے کا انتظار کرتا رہا پھر چند لمحے سوچنے کے بعد گویا ہوا۔۔
“آپ غالباً مجھ سے ناراض ہیں۔۔۔وہ بتا رہا تھا یا پوچھ رہا تھا حیات سمجھ نہیں پائی۔۔۔
وہ چونکی۔۔۔پھر ترش انداز میں بولی نہیں میں کیوں آپ سے ناراض ہونگی آپ نے تو بہت مدد کی تھی میری ماحر خان جیسے بااثر شخص کے خلاف ساتھ دیا میرا مگر تب غالباً آپکو انکے ساتھ اپنی رشتہ داری کا پتہ نہیں تھا اسلئیے غلطی سے ساتھ دے بیٹھے میرا۔۔پھر جیسے ہی آپکو معلوم ہوا ہوگا کہ وہ امیر کبیر مشہور فلمسٹار تو آپکا کزن ہے پھر آپ نے سوچا ہوگا۔۔۔۔ کیوں کسی غیر انجان لڑکی کیوجہ سے اپنے اتنے امیر کبیر با
اثر کزن سے بگاڑوں اپنی رشتہ داری خراب کروں۔۔بس
پھر اسی خیال کے تحت آپ نے اس دن اسے جا کر بتا دیا تھا کہ میں آپکے فلیٹ میں پناہ لئیے ہوئے ہوں اور خود امریکہ چلے گئے۔وہ دن میں کبھی بھول نہیں پائی جب ایک انسانیت اور احساس کے درجے سے گرے ہوئے شخص کے رحم و کرم پر تھی میں۔۔۔۔بہت اچھا کیا تھا
آپ نے یقینا انعام بھی ملا ہوگا ماحر سے۔۔۔
وہ دھیمے مگر پر تپش لہجے میں بول رہی تھی۔احمر حیران سا اسے دیکھتا اور اسکے الفاظ پر غور کرتا رہا جب اسکا الزام سمجھ میں آیا تو گہری سانس لی۔۔۔ پھر کچھ توقف کے بعد گویا ہوا۔۔۔
اوہو تو آپکی ناراضگی کی یہ وجہ ہے۔میں بھی تین دن
سے سوچ رہا ہوں آخر کیا وجہ ہے آپ مجھ سے سیدھے
منہ بات نہیں کرتیں۔ویسےکتنا غلط سمجھتی رہیں آپ میرے بارے میں جان کر بہت افسوس ہو رہا ہے۔یہ سچ ہے کہ جب میں آپکی ہیلپ کر رہا تھا تب مجھے یہ بات نہیں معلوم تھی کہ ماحر میرا کزن ہے۔۔۔۔۔ لیکن جو آپ سوچتی ہیں کہ اسے میں نے آپکے پاس بھیجا تو بخدا ایسا بالکل نہیں ہے۔۔اس دن میں ہاسپٹل سے آپکی بوا کے مرڈر کی تفتیش کر کے پولیس اسٹیشن واپس آ رہا تھا جب راستے مجھ پر اٹیک ہوا اور میری گاڑی روک لی گئی نشہ آور چیز سنگھا کر مجھے بے ہوش کر دیا گیا۔۔۔ جب ہوش آیا تو دو دن بیت چکے تھے میں کسی فلیٹ میں قید تھا۔پہلا خیال ہی مجھے آپکا آیا اسلئیے بہت کوشش کی تھی میں نے وہاں سے نکلنے کی مگر کامیاب نا ہوسکا۔مجھے ان لوگوں نے باندھ کر رکھا ہوا تھا۔میرے پوچھنے پر کوئی جواب نا دیتے۔چھے روز گزر گئے پھر ساتویں روز میرے پاس وہ شخص آیا جس نے مجھے کڈنیپ کروایا تھا یعنی ماحر سکندر خان۔۔
وہ دانستہ کچھ پل خاموش رہا جیسے الفاظ ترتیب دے رہا ہو ایک نظر اسکے پرتجسس چہرے پر ڈالی اور پھر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
اس کے ہاتھ میں ایک تصویر تھی۔۔ان لوگوں نے تلاشی
کے دوران میری جیبوں سے ساری چیزیں نکال لی تھیں جن میں میرا والٹ بھی تھا وہ تصویر اسی والٹ میں
سے نکلی تھی جو اسوقت ماحر کے ہاتھ میں تھی۔۔۔
کس کی تصویر تھی۔؟؟ حیات نے حیرانی سے استفسار
کیا۔۔
میرے فادر کی۔۔۔۔ میں نے کبھی انہیں رئیل میں نہیں دیکھا تھا صرف انکی تصویر ہی میرے پاس تھی۔اصل
میں میرے فادر اور مدر کی لو میرج تھی۔۔ لیکن میری ممی سے شادی کرنے سے پہلے بھی وہ شادی کر چکے تھے یعنی اصفہان کی مام سے جو کہ انکی کزن تھیں اور وٹے سٹے میں انہیں وہ شادی کرنا پڑی تھی۔فائزہ
آنٹی کا تو آپ کو پتہ ہوگا وہ ڈیڈ کی سسٹر ہیں۔انکی
شادی سکندر انکل سے ہوئی اور بدلے میں اصفہان کی
مام جو سکندر انکل کی سسٹر ہیں انکی ڈیڈ سے۔ڈیڈ
چونکہ ممی سے بے حد محبت کرتے تھے اس لئیے ممی
سے انہوں نے یہ بات چھپائی۔مگر کچھ عرصہ بعد ممی
کو کسی نا کسی طرح یہ بات پتہ چل ہی گئی تھی تو انہیں سخت صدمہ پہنچا تھا اور وہ ڈیڈ کو بنا بتائے
انہیں چھوڑ کر ماموں کے پاس چلی آئیں ماموں جو ان
سے ناراض تھے۔۔۔اپنی ناراضگی بھلا کر انہیں اپنے گھر
میں جگہ دی۔۔۔۔ ڈیڈ کو ماموں کے گھر کا نہیں پتہ تھا
اسلئیے وہ ممی کو تلاش نہیں کر سکے اور اپنی سیکنڈ
وائف کیساتھ ہمیشہ کیلئے لندن چلے گئے۔میری پیدائش
پر ممی کی ڈیتھ ہو گئی تھی جب قدرے سمجھدار ہوا
تو ماموں ممانی نے مجھے یہی بتایا کہ میرے پیرنٹس کی ایک ایکسیڈینٹ میں ڈیتھ ہو گئی تھی۔۔۔ پھر ایک دن ممی کے پرانے سامان سے مجھے ڈیڈ کی ایک پکچر ملی۔۔ میں نے ماموں ممانی سے پوچھا تو انہوں مجھے
سب سچ بتا دیا۔۔۔۔۔ اس دن کے بعد میں چپ چاپ انکی تلاش میں لگ گیا۔میں ان سے ملنا چاہتا تھا انہیں بتانا
چاہتا تھا کہ میں انکا بیٹا ہوں۔میں ان سے ناراض نہیں تھا کیونکہ غلطی انکی نہیں ممی کی تھی چھوڑ کر وہ
گئی تھیں انہیں۔۔۔ اسلئیے میں انکی کھوج میں لگ گیا تھا۔۔اس دن ماحر کے ہاتھ میں ڈیڈ کی تصویر دیکھ کر
میں حیران تھا۔۔ کیونکہ وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ اس شخص سے میرا کیا رشتہ ہے۔۔۔ انکی تصویر میرے پاس کیوں ہے۔میں نے جب کہا کہ یہ تصویر میرے فادر
کی ہے۔ تو اس نے کہا یہ تصویر تو اسکے ماموں ابراہیم علیخان کی ہے۔یہ انکشاف میرے لئیے حیران کن تھا کہ میرے فادر سپرسٹار ماحر خان کے ماموں تھے۔ماحر کو تو بطور ایکٹر میں سالوں سے جانتا تھا۔۔۔۔ مگر یہ نہیں
علم تھا کہ وہ میرا کزن ہے۔۔۔۔ پھر اس نے ڈیڈ کو اطلاع دی وہ پہلی فلائٹ سے پاکستان پہنچے اور مجھے گلے سے لگا لیا۔۔۔۔ میں بہت خوش تھا مجھے میرے فادر مل گئے تھے لیکن آپکی بھی مجھے برابر فکر تھی۔۔۔اسلئیے میں نے آپکے بارے میں ماحر سے بات کی۔میرا ارادہ تھا اگر اس نے میری بات نا مانی تو میں ڈیڈ کو بیچ میں لاؤں گا۔مگر اسکی نوبت نہیں آئی۔آپ شائد یقین نہیں کریں گی وہ میرے سامنے نادم سا آپ کیلئے آنسو بہا رہا تھا اپنی ہر غلطی کا اعتراف کر رہا تھا۔اس دن میں نے جانا دنیا کے سامنے اسکا جو امیج بنا ہوا ہے جذباتی اور غصے والا بیشک وہ درست ہے مگر دل کا وہ سافٹ اور بہت ہی اچھا انسان ہے۔۔ وہ تمہیں ڈھونڈ کر معافی مانگنا چاہتا تھا۔تمہیں اپنے نام کا تحفظ دینا چاہتا تھا مگر تم کہیں کھو گئی تھی۔۔۔۔۔اسی وجہ سے وہ سخت ملال و رنج کا شکار تھا۔۔۔۔ یہ سب اس نے صرف مجھے ہی نہیں بتایا تھا بلکہ فائزہ پھوپھو بھی جانتی تھیں انہوں نے اسے تھپڑ بھی مارا تھا اور کہا تھا وہ ہرحال میں تمہیں ڈھونڈ کر اپنے کیے کا ہرجانہ ادا کرے۔۔ “کراچی کے کونے کونے میں وہ تمہیں تلاش کرواتا رہا۔۔
میں خود بھی بہت آزردہ تھا۔۔۔۔ کہ ناجانے آپ کہاں اور کس حال میں ہونگی۔۔ڈیڈ کے کہنے پر جاب سے میں نے ریزائن دے دیا کیونکہ میں خود بھی پولیس کی نوکری سے دل برداشتہ ہو چکا تھا۔۔۔جب کسی غریب کو اسکا حق دلانے کی کوشش کرتا تو مجھ پر بڑی پوسٹوں پر بیٹھے اعلیٰ افسران کی طرف سے دباؤ ڈالا جاتا جو کہ ملک و قوم کیلئے ناسور بنے طاقتور مگر مچھوں سے رشوت لے کر انکا کیس رفع دفع کروا دیتے۔اسی انصاف اور حق کی لڑائی میں کئی بار مجھ پر اٹیک ہوا۔۔ڈرانے کی کوشش کی گئی۔۔۔۔۔ بہت بار دل برداشتہ ہو کر میں استعفیٰ دینے کا بھی سوچا۔پھر جب ڈیڈ نے کہا تو میں
نے انکا حکم نہیں ٹالا اور ریزائن کر کے ان کے ساتھ امریکہ چلا آیا۔۔آپ کیلئے ینوز فکرمند تھا میں۔۔۔۔ لیکن ماحر نے مجھے یقین دلایا تھا کہ وہ آپ کو ڈھونڈ کر پروٹیکشن دے گا۔۔۔۔ میں مسلسل اسکے ساتھ کنٹیکٹ میں رہا۔۔۔۔۔۔ میں خود اپنے طور پر بھی آپکو ڈھونڈھنا چاہتا تھا مگر مسئلہ یہ تھا کہ ڈیڈ مجھے خود سے دور جانے نہیں دیتے تھے۔۔جتنا عرصہ آپکی کوئی خبر نہیں ملی اس تمام عرصہ میں نے ہر نماز میں اللّٰہ سے آپکی سلامتی اور تحفظ کی دعا مانگی۔اور پھر اللّٰہ نے قبول بھی کی۔۔
اسکا لہجہ بے حد سچا تھا۔۔وہ بے اختیار گردن موڑ کر اسے دیکھنے پر مجبور ہو گئی۔۔۔
آپ کو مجھ سے شائد یہ گلہ بھی ہوگا کہ آپکی ماحر سے شادی ہونے کے بعد میں نے آپ سے ٹھیک طرح سے بات نہیں کی تو ایکچولی میں نہیں چاہتا تھا کہ سب کو یہ بات پتہ چلے کہ میں آپ کو پہلے سے جانتا ہوں اگرچہ یہ بات تو عام سی ہے کسی کو فرق نا پڑتا۔۔مگر پھر یہ سوال تو لازمی پوچھا جاتا ہم ایک دوسرے کو کیسے جانتے ہیں۔۔؟؟ کہاں ملے۔۔؟؟ کب ملے۔۔۔۔؟ وغیرہ
جن حالات کیوجہ سے ہم ملے انہیں میں کبھی منظر عام پر نہیں لانا چاہتا تھا۔۔۔ کیونکہ اسمیں آپکی عزت تھی اور ماحر کا بھی بھرم تھا۔۔۔۔۔ آپ میرے لئیے قابل عزت تھیں۔ہیں اور انشاءاللّٰہ ہمیشہ رہیں گی۔میں آپکو خوش دیکھنا چاہتا تھا کیونکہ آپ نے بہت دکھ دیکھے تھے”اس لئیے میں نے اس وقت ماحر کی فیور کی تھی اور اسکا ساتھ قبول کرنے کی آپ سے التماس کی تھی لیکن آپکو یقیناً بہت برا لگا تھا اور دکھ بھی ہوا تھا۔
مگر میں جانتا تھا۔۔تب صرف اپنے جذبات و احساسات کو مدنظر رکھ کر غم و غصے اور نفرت کی کیفیت میں مبتلا تھیں آپ۔۔اسی لئیے کوئی بات نہیں سمجھ رہی تھیں لیکن میں جان گیا تھا جتنا خوش وہ آپ کو رکھ سکتا ہے آپ کے شایان شان جتنی پر آسائش لائف وہ آپ کو دے سکتا ہے اور کوئی نہیں دے سکتا۔جنون کی حد تک وہ آپ سے محبت کرتا ہے پھر آپ کوئی عام لڑکی تو ہیں نہیں جو کسی عام شخص کے نصیب میں لکھی ہوتیں۔آپکے ساتھ تو ماحر خان جیسا شاندار بندہ ہی جچتا ہے۔۔۔۔۔ بات کے اختتام پر وہ ذرا مسکرایا مگر
لہجے میں یاسیت تھی۔۔۔ عجیب حسرت آمیز انداز تھا
جسے وہ اپنے دکھ اور غصے میں نوٹ نہیں کر پائی اور زہر خند لہجے میں بولی۔۔۔۔
“جی بالکل بہت اچھا اندازہ لگایا تھا آپ نے۔۔اور اب ان کے معاشقے چلتے دیکھ کر مجھے بھی بہت اچھے سے
اندازہ ہو رہا ہے انکی محبت و جنون کا۔حیات کا لہجہ طنزیہ تھا۔۔۔۔احمر چونک کر اسکی طرف دیکھنے لگا۔۔
“میں سمجھا نہیں۔۔۔؟؟
“اتنا انجان کیوں بن رہے ہیں۔۔۔آپکے کزن صاحب کا تازہ ترین معاشقہ جتنا وائرل ہو رہا ہے مجھے نہیں لگتا کہ
اس سے انجان ہونگے آپ۔۔۔۔ جبکہ پوری دنیا کو پتہ چل چکا ہے۔۔۔پھر آپ کیسے لاعلم رہ سکتے ہیں۔۔۔حیات نے تعجب بھری نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا مگر لہجہ ہنوز طنزیہ تھا۔۔۔
وہ ہنس پڑا تھا۔اسکے ہنسنے پر حیات نے بے حد ناراض نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“یہ کونسی بڑی بات ہے انکے متعلق ایسی نیوز ہمیشہ سے وائرل ہوتی آ رہی ہیں۔۔ گوگل پہ جا کر دیکھیں تو
انکی گرل فرینڈز کی ایک لمبی لسٹ موجود ہے۔مگر یہ
سب شوبز کا حصہ ہے جس ایکٹر کے جتنے زیادہ افئیر
منظر عام پر آتے ہیں وہ اسی قدر مقبولیت پاتا ہے۔۔آپ
کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں حیا۔۔۔محبت وہ آپ سے
ہی کرتا ہے آپکی جگہ شوبز کی یا کوئی بھی لڑکی نہیں
لے سکتی۔۔۔ آپ دل پہ نا لیں یہ سب اسکے ہروفیشن کا
حصہ ہے۔احمر ہلکے پھلکے لہجے میں کہتے ہوئے سمجھا
رہا تھا۔۔۔
“کیا مطلب یہ افئیر چلانا۔۔۔ شوبز کی عورتوں کے ساتھ ڈیٹ پر جانا انکے پروفیشن کا حصہ ہے۔۔اسکا لہجہ طنز
کے زہر میں بجھا ہوا تھا۔۔۔
نہیں میرا مطلب ہے جب کوئی بڑا ہیرو کسی لڑکی کے ساتھ فلم میں کام کرتا ہے تو انکو کام کیوجہ سے کچھ حد تک ساتھ ساتھ رہنا پڑتا ہے۔۔۔ جسکو یہ میڈیا والے غلط رنگ دے کر افئیر کا نام دے دیتے ہیں اور مشہور کر دیتے ہیں۔۔وہ اسکے لہجے کی سنجیدگی اور آنکھوں سے ابھرنے والے غصیلے تاثر سے گھبرا کر وضاحت دینے
لگا۔۔
“میڈیا والے اگر کسی شخص کے بارے میں کوئی غلط نیوز وائرل کرتے ہیں تو وہ شخص لازماً اپنی ریپوٹیشن کا خیال کرتے ہوئے میڈیا کے سامنے اس خبر کی تردید کرتا ہے مگر آپکے کزن نے ایسا کچھ نہیں کیا انکی اس
خاموشی سے صاف ظاہر ہوتا ہے میڈیا غلط نیوز نہیں پھیلا رہا۔۔۔ وہ کسی صورت ماننے کو تیار نا تھی۔احمر
نے گہری سانس لے کر ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر نظروں کا زاویہ چینج کرتے ہیں کہنے لگا۔۔۔۔
“میری اس سے اس موضوع پر بات ہوئی ہے۔وہ کہتا ہے
فلم کی شوٹنگ سے لے کر پرموشن تک اسے اس ہیروئن یعنی رباب علوی کیساتھ نظر آنا پڑے گا۔۔۔فلحال اسکے پاس وقت نہیں ان خبروں کی تصدیق یا تردید کرنے کا کیونکہ اسکا سارا فوکس فلم پر ہے۔۔۔۔
تصدیق۔۔۔اسکا دل ڈوب کے ابھرا۔۔۔وہ گم صُم انداز میں بیٹھی اپنی گود میں سوئے حمزہ کو دیکھتی رہی جو
انکی باتوں کے درمیان سو گیا تھا تو اس نے ہاتھ بڑھا
کر احمر سے لے لیا تھا۔۔۔۔ احمر بلا ارادہ ہی اسکی طرف دیکھنے لگا۔سامنے چنار کے درختوں پر نظریں جمائے وہ بے حد گم صُم، خاموش لگ رہی تھی۔سرخیاں جھلکاتے اسکے گلابی چہرے پر بلا کی جاذبیت اور محسور کر
دینے والی معصومیت تھی۔۔۔۔حسین آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی تھی۔۔۔ جو اسکے حسین چہرے کو
مزید حسین بناتی تھی۔۔سورج کی روشنی براہ راست
اسکے چہرے پر پڑ کر اسے چمکا رہی تھی یہ منظر اتنا
حسین تھا کہ اسکے سحر میں ڈوبنے کے ڈر اسے اپنی
نگاہوں کا زاویہ بدلنا پڑا ۔۔
“ایک بات کہوں اگر آپ کو اسکے ان افیئرز سے مسئلہ ہوتا ہے تو اسے کہہ دیں وہ شوبز چھوڑ دے۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے وہ آپکی بات کو کبھی رد نہیں کرے گا۔۔۔۔ آپ کیلئے وہ اپنا شاندار فلمی کیریر داؤ پر لگانے سے گریز
نہیں کرے گا۔۔
میں کیوں کہوں یہ بات اسے۔۔ چھوڑنا ہے تو اللّٰہ کیلئے چھوڑے میرے لئیے نہیں۔۔۔۔۔وہ بے ساختہ کہہ گئی۔۔۔
ہممم بات تو ٹھیک ہے آپکی۔۔۔احمر نے تائیدی انداز میں کہا۔۔اچھا اگر میری کسی بات سے آپ ہرٹ ہوئی ہوں تو اس کیلئے معذرت خواہ ہوں۔۔۔۔
“نہیں میں ہرٹ نہیں ہوئی۔۔آئی تھنک بہت دیر ہو گئی ہے ہمیں چلنا چاہیے۔۔۔۔۔کہنے کے ساتھ ہی وہ اٹھ کھڑی
ہوئی۔۔۔۔
آف کورس۔۔۔وہ بھی اسکی تقلید میں کھڑا ہو گیا۔۔ایک
بات کہوں حیا۔میں نے فیل کیا ہے آپکا دل ابھی تک اس کی طرف سے صاف نہیں ہوا۔۔۔۔ وہ سپر سٹار ہے اسکی مقبولیت و نامداری میں کوئی کمی نہیں لاکھوں گرلز اسکی تمنائی ہونگی اور ان میں کئی تو بہت حسین بھی ہونگی مگر وہ سب کو چھوڑ کر آپکی طرف بڑھا ہے۔سب کو چھوڑ کر اس نے آپ کو اہمیت دی ہے تو آپ
کو اسکی قدر کرنی چاہیے۔اسکی محبت کا جواب بھی
محبت سے دینا چاہیے۔اسکے متعلق جن خبروں کو سن کر آپ ڈسٹرب ہیں ہو سکتا ہے اسکی وجہ بھی یہی ہو
اسے آپ سے وہ محبت پذیرائی و توجہ نا ملتی ہو جو باہر سے ملتی ہے۔۔۔تبھی وہ باہر”
وہ دانستہ خاموش ہو گیا۔۔میرا مطلب ہے۔۔آپ سمجھ رہی ہیں نا میری بات۔؟؟اس نے کچھ جھجھکتے ہوئے کہا۔۔۔
وہ کھل کر نہیں کہہ پایا مگر حیات اچھے سے سمجھ
گئی۔۔۔۔ہونٹ کچلتے ہوئے محض سر کو اثبات میں ہلایا تھا۔ آنکھوں کی سطح پر نمی پھیلتی چلی گئی۔حورین
کے بعد یہ دوسرا شخص تھا جو اسے یہ احساس دلا رہا
تھا کہ اسکے شوہر کے بہکنے کی قصور وار وہ خود ہے اگر اسکے شوہر کو اس سے وہ محبت و عنایت ملتی تو وہ باہر کیوں منہ مارتا۔۔
احمر نے خاموشی سے سوئے ہوئے حمزہ کو اسکی گود سے لیا اور قدموں کی رفتار بڑھائی۔۔وہ بھی رنجیدہ
اداس سی اسکے پیچھے چلنے لگی۔۔۔
