171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 09)

Meri Hayat By Zarish Hussain

ماحر تم فارغ ہو تو شام کو میرے ساتھ اپنی آنٹی کی طرف چلنا…….!!

کتنے بجے جانا ہے آپ کو…..؟وہ جو سیل فون پر بزی تھا ماں کی بات قطآ نظر انداز نا کر سکا……..!!

شام چھے بجے…..!!

اوہ…..میرا تو ایک کمرشل کیلئے شام کو شوٹ ہے….

آپ کہیں تو ڈرائیور کے ساتھ گاڑی بھجوا دوں گا…اس نے معذرت کی…….!!

وہ تو ٹھیک ہے مگر میں چاہ رہی تھی کہ تم بھی ساتھ چلو……..ماں کے دل میں چھپی خواہش فاریہ سمجھ گئی تھی تبھی مسکرائی……!!

بھائی مام چاہتی ہیں آپ ساتھ چلیں اور رباب سے بھی مل لیں….رباب فائزہ سکندر کی بھانجی تھی…جو کہ حال ہی میں امریکہ سے فیشن ڈیزائنگ کی ڈگری لے کر آئی تھی اسکے علاؤہ ٹی وی کیلئے ڈرامے بھی لکھتی تھی……..!!

مام نے اسے جانچتی نظروں سے گھورا مگر وہ مسکرا دی……….!!

تم لوگ تو بات کا پتنگڑ بنا دیتے ہو۔ساتھ چلنے کا مطلب یہ نہیں اور اگر ہو بھی تو کیا حرج ہے….

تمہاری شادی کے بعد ماحر کو بھی زیادہ دیر نہیں چھوڑوں گی……مام نے اپنے ارادے ظاہر کیے

پہلے اس بیچارے کی تو کروائیں جو کرنا چاہتا ہے…ماحر نے کان کھجاتے ہوئے کہا…اشارہ عبیر کی طرف تھا……!!

اسکی تو میں اچھے سے کرواتی ہوں نا جس منحوس ماری کا نام لے رہا ہے وہ……فائزہ سکندر غصے سے بولیں……..!!

مام مان جائیں نا زندگی تو اس نے گزارنی ہے اگر وہ کرنا چاہتا ہے تو…..ماحر نے انہیں قائل کرنا چاہا…جبکہ عبیر کو وہ کہہ چکا تھا کہ اس سلسلے میں وہ اسکی کوئی ہیلپ نہیں کرے گا…..مگر پھر بھی کرنے کی کوشش کی ….!!

اس کو چھوڑو….اپنی بات کرو تم…..” فائزہ سکندر نے سپاٹ لہجے میں کہا…..”

بھائی سنبھل جائیے مام کے ارادے ٹھیک نہیں…فاریہ نے چھیڑا…….!!

بھائی کوئی پسند وسند ہے تو بتا دیں پھر نہیں کہنا کہ موقع نہیں دیا…..زین نے آئس کریم سے مکمل انصاف کرتے ہوئے سٹیئرز پر بیٹھے بیٹھے ہانک لگائی…..!!

موقع کیوں نہیں دیا گیا…..ہمارے بھائی کوئی عام سے بندے تھوڑی ہیں…ملک کے جانے مانے ہینڈسم ڈیشنگ سپرسٹار ہیں… پوری دنیا جانتی ہے انہیں… لاکھوں لڑکیوں کا خواب ہیں یہ…. انکے لئیے کوئی ایسی ویسی لڑکی تھوڑی لائیں گے….چراغ لے کے ڈھونڈنے جائیں گے..چراغ لے کے…فاریہ نے ازلی معصومیت سے کہا………!!

ماحر نے فون کا سلسلہ منقطع کیا پھر چلتا ہوا مسکراتا ہوا ان کی طرف آ گیا……!!

تم لوگ میری جان چھوڑنے کا کیا لو گے…….؟؟

کیا مطلب بھائی ہم تو آپ کا گھر بسانے کی بات کر رہے ہیں آپ کے فائدے کی بات…. کیونکہ اگر ہم نہیں سوچیں گے تو آپ تو اسطرح لڑکیوں کا دل توڑتے رہیں گے اور ساری زندگی کنوارے رہیں گے….. فاریہ نے منہ بنا کے کہا………!!

اللّٰہ نا کرے….میرے بچے کے سہرے کے بھی پھول کھلیں…..فائزہ سکندر نے فاریہ کو گھورا….پھر اٹھ کے باہر چلی گئیں…ان کے پیچھے فاریہ بھی مسکراتے ہوئے باہر نکل گئی…….!!

بھائی ایک بات پوچھوں آج کل آپ کی کس سے ڈیٹ ویٹ چل رہی ہے…..زین اٹھ کے اس کے قریب آ بیٹھا اور راز دارنہ انداز میں پوچھا……

تم کیوں پوچھ رہے ہو…….؟ماحر نے آبرو اچکا کے اسے دیکھا……!

وہ ایکچولی میں رات یو ٹیوب پر دیکھ رہا تھا لکھا تھا ماحر سکندر مثال شیرانی کو ڈیٹ کر رہے ہیں اور بہت جلد اس سے شادی بھی کرنے والے ہیں……!!

یوٹیوب پہ سب بکواس ہوتی ہے… یوٹیوب کی خبروں پہ دھیان مت دیا کرو……وہ میسیجز چیک کرتا ہوا بولا

اچھا بھائی وہ آپ کی امریکن فرینڈ آجکل کہاں ہے…؟

کونسی امریکن….. لاپرواہی سے پوچھا

وہی بھارتی نژاد امریکی پرائیویٹ سہیلی آپ کی……اس نے دانت نکالتے ہوئے کہا….ماحر نے فوراً چونک کر اسکی طرف دیکھا…اسکے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر سمجھ گیا اور دانت پیس کر بولا یہ میری ساری پرسنل نیوز تمہیں فراز دیتا ہے نا…آج اس ایڈیٹ کی خبر لوں گا میں…….!!

نہیں بھائی اس نے نہیں….زین کی مسکراہٹ سمٹ گئی

اسی وقت کال آجانے پر ماحر کی ساری توجہ کال کی طرف مبذول ہو گئی……..!!

ہاں بولو فراز…… کال پک کر کے وہ زین سے فاصلے پر چلا گیا…..انداز میں بے چینی تھی…..!!

سر کام ہو گیا……دوسری طرف فراز نے خوشخبری سنائی……….!!

ویری گڈ…..میں آ رہا ہوں…..کال کا سلسلہ منقطع کرتے ہی وہ تیز تیز قدموں سے باہر نکل گیا………….!!

میز پر کتابیں پھیلائے وہ سٹڈی میں مصروف تھی…..پرسوں سے اسکے پیپرز سٹارٹ ہو رہے تھے اسی لئیے پچھلے تین چار دنوں سے وہ یونیورسٹی نہیں جا رہی تھی ڈرائیور کو بھیج کے رولنمبر سلپ منگوا لی تھی……اسوقت دن کے 3 بج رہے تھے مون سکول سے واپس آ کے کھیل رہا تھا…… عبدالرحمان اور سائرہ کل رات کی فلائٹ سے ہی امریکہ جا چکے تھے…..گھر میں اسکے اور مون کے علاوہ رحمت بوا مالی بابا اور چوکیدار تھا……..!!

رحمت بوا کچن میں کھانا بنا رہی تھیں جبکہ وہ انہماک سے سٹڈی میں کھوئی ہوئی تھی کہ اچانک سے فون کی گھنٹی نے اسکے انہماک کو توڑ کے خلل پیدا کیا……..بیزار سے انداز میں موبائل اٹھایا تو سکرین پر فرحین کے نمبر کو دیکھ کے پیشانی پر بل پڑ گئے……..!!

اب یہ کیوں مجھے کال کر رہی ہے….. ناگواری سے بڑبڑاتے ہوئے کال کاٹ دی…..اگلے ہی پل اس کا میسیج آیا حیا خدا کیلئے میری کال اٹینڈ کرو بہت مشکل میں ہوں……. میسیج پڑھتے ہی اپنی ہمدردانہ فطرت کی وجہ سے اسکی سابقہ حرکت کو اگنور کرتے ہوئے اگلے ہی پل اسے کال ملائی……..!!

کیا ہوا…….!!ناچاہتے ہوئے بھی لہجے کی کڑواہٹ پر قابو پا کے پوچھا تو دوسری طرف سے اسکی گھبرائی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی……..!!

حیا۔حیا۔۔۔میں تمہارے گھر آ رہی تھی یہاں روڈ پہ میرا ایکسیڈنٹ ہو گیا پلیز جلدی آؤ وہ شائد رو رہی تھی….

کیا……. کا کہاں ہوا ہے ایکسیڈنٹ…….؟؟

تمہارے گھر کے سامنے والے روڈ پہ…… پلیز میری ہیلپ کرو جلدی آؤ……وہ ہنوز رو رہی تھی… حیا فوراً بوکھلا کے اٹھی……اوکے اوکے تم روؤ مت میں ابھی آ رہی…..

موبائل ٹیبل پر پھینک کے وہ باہر کی طرف بھاگی…..!!

چوکیدار نے اسے بھاگ کے آتا دیکھ کے فوراً گیٹ کھول دیا……!!

حیا بی بی کیا ہوا…….؟؟مگر وہ بنا جواب دیے بھاگ کے باہر نکلی…گلی کراس کرتے سامنے ہی مین روڈ تھا وہ بھاگ کے روڈ پہ آئی مگر فرحین اسے دکھائی نہیں دی پھولی سانسوں کے ساتھ متلاشی نگاہوں سے وہ ادھر ادھر دیکھ ہی رہی تھی کہ ایک گرے کلر کی گاڑی اسکے بالکل قریب آ رکی…..وہ نا سمجھ پائی اور نا ہی سنبھل پائی کہ نہایت ہی تیزی سے اسے اندر کھینچ لیا گیا….چیخنے کیلئے منہ کھولنا چاہا مگر کسی آہنی ہتھیلی نے اس کا منہ اپنے قبضے میں لے لیا…چند سیکنڈ تڑپنے کے بعد وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی تھی….ایک بار پھر سے وہ دوست کے ہاتھوں دھوکہ کھا گئی تھی…….!!

ارے کیا ہوا تم دونوں کے چہروں کے رنگ کیوں اڑے ہوئے ہیں…..؟؟چوکیدار اور اسکی بیوی کو بوکھلائے ہوئے انداز میں کچن میں آتا دیکھ کر کھانا بناتی بوا نے چونک کر استفسار کیا…

خالہ غضب ہو گیا…..سراج بتا رہا ہے کہ حیا بی بی بھاگتی ہوئی باہر روڈ پر گئیں وہاں کچھ لوگ انہیں گاڑی میں ڈال کے لے گئے…… چوکیدار کی بیوی امینہ نے اسے صورتحال سے آگاہ کیا…….!!

وہ ہانڈی چھوڑ کے دل پہ ہاتھ رکھ کے گرنے لگیں…..

خود کو سنبھالیں خالہ یہ گرنے کا وقت نہیں….اس سے پہلے وہ لوگ حیا بی بی کو نقصان پہنچائیں آپ جلدی بڑے صاحب کو فون کر کے بتائیں…… امینہ نے انہیں سنبھالتے ہوئے کہا…….!!

ارے وہ امریکہ میں بیٹھے ہیں انہیں کیسے بتاؤں کہ میں ان کی بیٹی کا خیال بھی نہیں رکھ سکی….!!

ہائے کون بدبخت میری بچی کو لے گئے….ہائے کیسے بچاؤں ان درندوں سے اپنی بچی کو….!!

وہ سینہ پیٹتی ہوئی کچن کے فرش پر بیٹھتی چلی گئیں…… ان کا تڑپنا بلکنا بھی جائز تھا آخر کو حیا انہی کی گود میں پل کے جوان ہوئی تھی…….!!

ارے تم میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو جاؤ پتہ کرو بچی کا وہ روتے ہوئے خاموش کھڑے چوکیدار پر بگڑیں تو وہ باہر کی طرف بھاگا……جبکہ امینہ انکے پاس بیٹھ کے تسلی دینے لگی………!!

سکندر، فائزہ سکندر، زین اور فاریہ لان میں بیٹھے چائے پی رہے تھے…معا عبیر وہاں آ کے گویا ہوا……..!!

ڈیڈ میں لیزا سے شادی کرنا چاہتا ہوں….

اس کی بات پر فائزہ سکندر نے ناگوار نظروں سے اسکی طرف دیکھا…مگر کہا کچھ نہیں…

فاریہ اور زین پھر سے جنگ کے خدشے کے باعث ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے……!!

سکندر خان خاموشی سے چائے کے سپ لیتے رہے عبیر سمیت سب انکے ری ایکشن کے منتظر تھے …….عبیر کی ضد کے بارے میں فائزہ انہیں پہلے ہی آگاہ کر چکی تھیں…….!!

لیزا ایوب سے شادی تمہارا آخری فیصلہ ہے….؟ سپاٹ نظروں سے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے انہوں نے پوچھا جسکی آنکھوں میں انہیں بغاوت صاف دکھائی دے رہی تھی……..!!

یس ڈیڈ مجھے اس سے محبت ہے میں اسکے بغیر نہیں رہ سکتا…..بنا کسی جھجک کے صاف کہا….ان کی کلاس میں پیرنٹس کے سامنے ایسی باتیں کہہ دینا عام تھا……..!!

لیکن تمہاری مام کو وہ لڑکی پسند نہیں…….!!

ڈیڈ لائف اسکے ساتھ میں نے گزارنی ہے مام نے نہیں.. بدتمیزی سے بولا……!!

اگلے ہفتے تمہارے ماموں آ رہے ہیں فاریہ اور اصفہان کی ڈیٹ فکس کرنے…. تمہاری بھی ساتھ ہی کر دیتے ہیں…….!!اپنی بات ختم کر کے وہ وہاں سے اٹھ کے چلے گئے…..ان سب کے سروں پر تو بم پھوٹا….فائزہ سکندر زین اور فاریہ پر حیرانگی کا جبکہ عبیر پر خوشی کا…

اسکی آنکھیں کھلیں تو خود کو کسی انجان کمرے کارپٹ پر لیٹا دیکھ کر گھبرا گئی….چکراتے سر کو سنبھالتے وہ بمشکل اٹھ بیٹھی…اسی وقت دروازہ کھلا اور آنے والی شخصیت کو دیکھ کے اسکے پیروں تلے زمین نکل گئی……..!!

تت تم…..وہ چکراتے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھماتے ہوئے بمشکل بول پائی……!!

ہاں میں…..وہ پنجوں کے بل اسکے سامنے کارپٹ پر بیٹھتا ہوا بولا……..!!

کیوں کڈنیپ کیا مجھے…..ہنوز سر کو تھمامے غصے سے سوال کیا……..!!

تمہارے منہ سے ہاں سننے کیلئے……بہت سن لیا انکار…..بہت کر لیا انتظار…..لیکن اب نہیں…..میں اپنا نقصان برداشت نہیں کرسکتا….. تمہارے چکر میں بہت سا پیسہ لگا دیا میں نے…… لیکن اب تمہیں میری بات ماننی ہی ہوگی……. میری مووی میں کام کرنا ہی ہوگا

ورنہ تم جانتی نہیں ہو کہ میں کس حد تک جا سکتا ہوں…….. انتہائی سرد لہجے میں کہتے ہوئے اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھیں تو وہ جو سہمی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی مقابل کی آنکھوں سے پھوٹتی چنگاریاں دیکھ کر اندر سے لرز کر رہ گئی…..

بولو کروگی نا کام…..انداز سوالیہ تھا لیکن نگاہوں میں تنبیہہ تھی…….!!

دیکھیں پلیز میری مجبوری کو سمجھیں…میں فلم میں کام نہیں کرسکتی…..لجاجت آمیز انداز اپنایا

کیوں….. کیوں نہیں کر سکتی…..؟ضد آمیز ہٹ دھرم انداز میں پوچھا………!

کیوں کہ میں ایسے کام نہیں کر سکتی … پلیز جانے دیں مجھے…….!! التجائیہ انداز میں کہا……!!

ٹھیک ہے اگر فلم میں کام نہیں کر سکتیں تو میری دوسری آفر کو ایکسیپٹ کریں پھر…..بے باکی سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا….حیات کا صبیح چہرہ غصہ ضبط کرنے کے چکر میں سرخ ہو گیا….مارے غصے کے دماغ کی رگیں پھول گئیں بمشکل خود پہ قابو پا کے سرد سپاٹ لہجے میں کہا دیکھیے میں ایک عزت دار خاندان سے تعلق رکھتی ہوں آپ کی آفرز میرے جیسی لڑکی کیلئے موت کے برابر ہیں بہتر ہوگا مجھے جانے دیں آپ کو اپنے جیسی بہت مل جائیں گی……….!!

حیات کی بات سن کر مقابل کی آنکھوں کے سرد پن کی جگہ اب شدید طیش نے لے لی تھی……!! فوراً اٹھ کھڑا

ہوا…..آپ سے تم پر آ گیا……ٹھیک میری آفرز تمہیں موت کے برابر لگ رہی ہیں تو ابھی جو میں تمہارے ساتھ کروں گا اس سے بھی زندہ رہنے کے لائق نہیں رہو گی….!!سفاکی سے کہا……!!

میرے ساتھ کچھ بھی غلط کیا نا تو زندہ رہنے کے لائق میں تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گی….کسی مڈل کلاس یا معمولی فیملی سے تعلق نہیں رکھتی جو تم کچھ بھی کرو گے اور میں خاموش رہونگی…..!!

بنا ڈرے نفرت سے بولی…….!!

دیکھتے ہیں کون کس کو زندہ رہنے کے لائق چھوڑتا ہے….. وہ پر اسرار انداز میں مسکرایا اور کسی کو آواز دی اگلے ہی پل ایک آدمی اندر آیا جس نے سٹینڈ والا کیمرہ اٹھا رکھا تھا جیسا کہ فلموں کی شوٹنگ میں استعمال ہوتا ہے….اس آدمی نے کیمرے کو دیوار کے ساتھ لگا کے چند بٹن دبائے اور باہر نکل گیا…….

اس کے باہر نکلتے ہی ماحر نے دروازے کو لاک کیا اور معنی خیزی سے نیچے بیٹھی حیات عبدالرحمان کی طرف دیکھا جو کہ کچھ نہیں سمجھی تھی اور الجھی ہوئی نظروں سے کبھی کیمرے کی طرف دیکھ رہی تھی اور کبھی اس کی طرف جو کہ پر اسرار انداز میں مسکراتے ہوئے اسکی طرف بڑھ رہا تھا………!!

اسکے بالکل قریب آ کر چند لمحے اسے بغور دیکھنے کے بعد اپنا کوٹ اتار کے ایک طرف اچھالا اور اسے اٹھانے کی غرض سے جھکا وہ جو پہلے الجھی پریشان نظروں سے دیکھ رہی تھی صورتحال کو سمجھتے ہوئے یکدم چیخی…………. گھٹیا شخص ہاتھ مت لگانا مجھے…

خوف کے مارے پیچھے کھسک کے بالکل دیوار کے ساتھ لگ گئی……!!

گھبراؤ نہیں ہاتھ نہیں لگاؤں گا تمہیں…کسی کی مرضی کے بنا اسکے قریب جانا میرا اصول نہیں…..

یہ کیمرہ دیکھ رہی ہو نا بس اس سے ایک ویڈیو ریکارڈ کرنی ہے…… ایک رومینٹک ویڈیو….. ہمارے رومینس کی…ڈرو نہیں سچ والا رومینس نہیں ہوگا….بس کچھ حد تک قریب آنا پڑے گا ہمیں ایک دوسرے کے باقی ایڈیٹنگ سے کام چلے گا لیکن سب سے امپورٹینٹ بات یہ کہ اس ویڈیو میں میرا چہرہ بالکل نظر نہیں آئے گا لیکن تمہارا کلیئر نظر آئے گا….

پھر جب بیس پچیس منٹ کی اس مووی کو انٹرنیٹ پر ڈالا جائے گا تو تم راتوں رات فیمس ہوجاو گی….یعنی ایک( Celebrity) بن جاؤ گی….. ہر طرف سے تمہیں فلموں کی آفرز ہونےلگیں گی پھر تو میری آفر قبول کرنے میں بھی تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا….وہ نہایت سفاکی سے سارا لائحہ عمل اسے بتا رہا تھا جبکہ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے ساکت بیٹھی سن رہی تھی……!!

آپ ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ…. آنکھوں سے موتیوں کی طرح آنسو اور گلے سے گھٹی گھٹی آواز برآمد ہوئی……..!!

کیوں نہیں کر سکتا ایسا….آبرو اچکا کے کہتے کے ساتھ قریبی رکھے صوفے پر جا بیٹھا…..ہاں ایک صورت میں ایسا نہیں کر سکتا وہ یہ کہ اگر تم فلم کے کنٹریکٹ پر سائن کر دو تو……..سگار سلگا کے دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے اسکی طرف دیکھا……!!

میں فلم میں کام نہیں کر سکتی آپ سمجھتے کیوں نہیں میں ویسے ڈریسز نہیں پہن سکتی جیسے فلموں میں پہنے جاتے ہیں میں ویسے سینز نہیں کر سکتی جیسے فلموں میں ہوتے ہیں….بے بسی سے کہتے ہوئے رونے لگی…….!!

ٹھیک ہے اگر تمہیں ڈریسز سے مسئلہ ہے تو وہ تم اپنی مرضی کے پہننا اور رومینس سے مسئلہ ہے تو رومینٹک سینز بھی مت کرانا……….!! یعنی فلم میں کام کرانا تو ہر حال میں تھا……..!!

حیات آنسو بہاتی رہی….جبکہ وہ خاموش بیٹھا اسکی طرف دیکھتا رہا…..رونے کے باعث آنکھیں اور چہرہ پورا سرخ ہوگیا تھا…..ترکش حسن رونے سے مزید نکھر گیا تھا…وہ اسے تکے گیا…..آج تک کسی ہیروئن کے حسن نے اسکو اتنا مسمرائز نہیں کیا تھا…جتنا حیات عبدالرحمان کے شفاف اور معصوم حسن نے اسے مسمرائز ہونے پہ مجبور کر دیا تھا….دل بہت سے ناآشنا احسات سے دوچار ہونے لگا…..!!

جبکہ وہ بھیگی ہوئی پلکوں کو صاف کرتے ہوئے بولی

ٹھیک ہے…… میں آپ کی فلم میں کام کروں گی….لیکن پھر ڈریسز بھی اپنی مرضی کے پہنوں گی اور ٹچی سین بھی نہیں کرواؤں گی۔۔۔۔۔ بالآخر کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے حامی بھر لی تھی….. !!

ماحرسکندر خان کا چہرہ تو یکدم کھل اٹھا……..گڈ گرل وہ مسکرایا اور ساتھ ہی فون کر کے کسی کو اندر آنے کو کہا…..دو منٹ بعد ہی اس کا مینیجر فرقان کچھ پیپرز لئیے اندر آیا ماحر کے اشارے پر اس نے پیپرز حیات عبدالرحمان کے سامنے رکھے….. میم ان پر سائن کر دیجیئے پلیز…..پھر ناچاہتے ہوئے بھی حیات کو سائن کرنا پڑے………!!

ایک ریکوئسٹ ہے پلیز مجھے وقت دے دیں میرے ایگزامز ہونے والے ہیں میں ایگزامز دے لوں پہلے اور میرے پیرنٹس بھی ملک سے باہر ہیں تو….. جب سائن کر چکی تو منت آمیز انداز میں کہتے ہوئے رکی

کتنا ٹائم چاہیے…..!!کب تک ایگزامز ختم ہوں گے….؟؟

گہری نظروں سے اسکے حسین چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا…….

ایگزامز تو ایک مہینہ بعد لیکن…….”

وہ اسکی بات کاٹ کر بولا ٹھیک ہے ایک مہینے بعد ہماری فلم کی شوٹنگ سٹارٹ ہوگی…. ٹھیک ایک مہینہ بعد میں آپ سے کنٹیکٹ کروں گا اور یہ بات اپنے مائنڈ میں رکھیئے گا مجھے ڈبل کراس کرنے کی کوشش ہرگز مت کیجئے گا اگر یہ بات کسی کو پتہ چلی میڈیا میں یا کہیں بھی کسی کو بھی…..پھر یاد رکھنا میں وہ کروں گا جو آپ نے سوچا بھی نہیں ہوگا….. وہ اسےدھمکا رہا تھا…. دل میں اٹھتے ہوئے غیض وغضب کو دبائےحیات عبدالرحمان نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی……..!!

وہ اسکے تاثرات بغور جانچ رہا تھا…..کہ خوبصورت نیلی آنکھیں حکم کی تعمیل کا عندیہ رہی ہیں یا حکم سے اختلاف کا سندیسہ دے رہیں…مگر کچھ اخذ کر نہیں پایا…… وہ نگاہیں جھکائے سرد+سپاٹ انداز میں بولی مجھے گھر جانا ہے……

ٹھیک ہے فرقان مس حیات عبدالرحمان کو عزت سے انکے گھر تک چھوڑ کے آؤ……وہ فرقان سے مخاطب ہوا پھر حیات کی طرف دیکھا……اوکے مس اب ٹھیک ایک ماہ بعد ملاقات ہوگی آپ سے….تب تک خود کو مینٹلی( prepare)کر لیجئے گا…..کہتے کے ساتھ ہی ایک بھرپور نظر حیات عبدالرحمان پر ڈالی اور دل کو ڈپٹتے ہوئے باہر چلا گیا جو کہ اسے بہکا رہا تھا…….

وہ لوٹی تھی تو دماغ پھٹا جا رہا تھا…اسکی ساری ہمت کسی نے نچوڑ لی تی وہ بری طرح پھنس چکی تھی اسکی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس سچویشن سے نکلے کیسے…..ایک بات تو طے تھی چاہے کچھ بھی ہو جائے اس شخص کی بات تو وہ کسی صورت بھی نہیں مان سکتی تھی….جان چھڑانے کیلئے ہی وقتی طور پر ہتیھار ڈالے تھے…..مگر اب وہ اس معاملے سے خود کی جان مکمل طور پر کیسے چھڑائے گی یہ سوچ اسے کھائے جا رہی تھی……..!!

جیسے ہی وہ گھر میں انٹر ہوئی تھی لان میں روتی اور بے قراری سے ٹہلتی بوا اسکی طرف لپکیں اور روتے ہوئے اس سے لپٹ گئیں…..اسے دیکھ کے باقی سب نوکروں کی بھی جان میں جان آئی….!!

تو ٹھیک تو ہے میری بچی….؟وہ روتے ہوئے پوچھ رہی تھیں اور ساتھ ہی چھو چھو کے اسے دیکھ رہی تھیں

حیات انکی بے لوث محبت سے واقف تھی سو نرمی سے انکے آنسو صاف کرتے ہوئے انہیں تسلی دے رہی تھی…….!!

جب انکا رونا ختم ہوا تو وہ سر درد کا کہتی اپنے کمرے میں آ گئی…اور بیڈ پر گر سی گئی….!!

حیا بتاتی کیوں نہیں ہو کون لوگ تھے وہ اور تمہیں کیوں لے گئے تھے……؟؟کھانے کی ٹرے اسکے آگے رکھتی کب سے بے چینی میں مبتلا بوا نے کوئی تیسری بار سوال پوچھا…….!!

فار گاڈ سیک بوا ایک ہی سوال بار بار مت کریں بتایا تو ہے میں ان لوگوں کو نہیں جانتی وہ مجھے کسی اور لڑکی کی غلط فہمی میں لے گئے تھے….جب انہیں پتہ چلا کہ میں ان کی مطلوبہ لڑکی نہیں ہوں تو واپس چھوڑ گئے بس……اور یہ کھانا لے جائیں مجھے بھوک نہیں ہے ……چڑ چڑے انداز میں کہتے ہاتھ سے ٹرے کو پرے کر دیا……!!

ٹھیک ہے اگر کھانا نہیں کھانا تو میں دودھ لے آتی ہوں وہ پی کے سو جاؤ…..اور اپنے بابا سے بھی بات کر لینا ان کی دو بار کال آچکی ہے….وہ ٹرے اٹھا کے جانے لگیں بابا کے نام پہ حیات فوراً اٹھ بیٹھی اور پریشانی سے پوچھنے لگی آپ نے بابا کو بتایا تو نہیں تھا کہیں..؟؟

نہیں میں نے تمہاری طبیعت خرابی کا بہانہ بنا دیا تھا

مگر وہ خاصے پریشان ہو رہے تھے تم بات کر کے اپنی خیریت بتا دینا……..

شکر ہے…..اس نے بے اختیار گہرا سانس لیا……!!

اور ہاں بوا سب ملازموں کو بھی منع کر دینا کہ وہ اس بات کا بابا سے کبھی ذکر نا کریں….میں نہیں چاہتی کہ وہ پریشان ہوں……!!

ٹھیک ہے….بوا سر ہلاتے ہوئے ٹرے اٹھائے باہر نکل گئیں

وہ پھر سے لیٹ گئی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کسی کو بتائے یا نہیں کچھ دیر سوچنے کے بعد حورین کو کال ملائی ماؤف ذہن کے ساتھ وہ دوسری طرف کال اٹھائے جانے کا انتظار کرنے لگی……!!

ہیلو…… حورین کی آواز سن کر اس سے ایک جملہ بولنا بھی دوبھر ہو گیا گلے میں جیسے گولا سا اٹک گیا ہو

ہیلو حیا……تم بول کیوں نہیں رہی…..!!

ہاں ہیلو حورین…….. بمشکل بولی

حیا بولو کیا ہوا……؟ آر یو اوکے…….؟اس ٹائم کیسے فون کیا خیریت…..آنٹی کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا…وہ اندیشوں کا شکار ہوئی…….!!

نہیں سائرہ ممی ٹھیک ہیں….مگر…..”

مگر کیا……؟تم ٹھیک نہیں ہو کیا…….؟

مجھے ڈر لگ رہا ہے حورین…اسکی آنکھوں سے نمکین پانی کے قطروں کو کوئی راہ چاہیے تھی جیسے…

گال جیسے جل رہے تھے اسکے…..

پاگل کس بات کا ڈر…..بوا ہیں تمہارے پاس سارے ملازمین بھی ہیں…. بچوں کی طرح ڈرنے والی عادت گئی نہیں تمہاری..اب میں تو اسوقت نہیں آ سکتی سات سمندر پار بیٹھی ہوں کہو تو امی اور لیلیٰ بھابھی کو فون کر کے تمہاری طرف بھیج دوں کم از کم کمبل میں سر چھپا کر سونے کی ضرورت تو نہیں پڑے گی..!!

اپنی دانست میں وہ اسے چھیڑ رہی تھی معاملے کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا اسے……!!

حوری پلیز…….اسکی بھرائی آواز سن کر وہ چونکی تھی……!!

حیا آر یو اوکے…تم رو رہی ہو…..؟ کیا ہوا ہے پلیز بتاؤ مجھے……..!!

وہ کچھ نہیں بولی صرف آواز سے روتی رہی دوسری طرف حورین نے اسے چپ نہیں کروایا بلکہ خاموشی سے سنتی رہی جب اسکی سسکیاں مدھم ہوئیں تب اس نے کہا حیا پانی پیو پہلے……اس نے سائیڈ پر رکھا پانی کا گلاس اٹھایا اور ایک ہی سانس میں پی گئی جب حواس کچھ پرسکون ہوئے تو انتظار میں بیٹھی حورین کو پکارا…….!!

اب مجھے بتاؤ حیا کیا ہوا ہے……..؟؟

اس نے مجھے آج کڈنیپ کروایا تھا……”

کڈنیپ….کس نے…..؟؟ وہ بری طرح چونکی

ماحر سکندر خان نے….مدھم لہجے میں بولی…

ماحر سکندر… لیکن کیوں….. وہ شدید حیران ہوئی

اپنی فلم میں کام پر راضی کرنے کیلئے……اس نے مجھ سے کنٹریکٹ پیپرز پر زبردستی سائن کروا لئیے…..

تو اس وجہ سے پریشان ہو…؟؟ حورین نے گہری سانس لے کے پوچھا……..!!

ہاں….اور اسکے علاؤہ……” اسکی آنکھوں سے پھر آنسو بہنے لگے آواز بھرا سی گئی…دوسری طرف حورین کو خدشہ لاحق ہوا………!!

اسکے علاوہ کیا……حیا کہیں اس نے تمہارے ساتھ…..؟

حورین نے چونک کے استفسار کیا…..!!

نن…نہیں….وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولی

تھینک گاڈ تم ٹھیک ہو….پھر اسکے علاؤہ اور کیا پریشانی ہے کہیں اس نے تمہیں کوئی نقصان پہنچانے کی دھمکی تو نہیں دی……،؟؟

ماحر سکندر نے مجھے پرپوزل دیا تھا……..

پرپوزل….. کیسا پرپوزل……؟؟کہیں شادی کیلئے تو پرپوز نہیں کیا…. اگلے ہی پل اسکی پریشانی کو اگنور کیے چہک جوش سے پوچھا…..!!

نہیں…..ان ڈیسنٹ پرپوزل……تلخ لہجے میں بولی

وہاٹ…..ان ڈیسنٹ پرپوزل……کیا کہا اس نے حیا….؟؟

وہ میرے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہے…اس نے کہا اگر میں اسکی فلم میں کام نہیں کر سکتی تو اسکے ساتھ کچھ وقت گزاروں اور یہ بھی کہ وہ اس کا معاوضہ دے گا…..اس گھٹیا شخص نے مجھے ایسی ویسی لڑکی سمجھا ہے کیا…..میرا بس نہیں چلا ورنہ اس کے منہ پہ تھپڑ مارتی….اس نے مجھے بلیک میل کر کے سائن کروا لئیے اور ایک مہینے کا ٹائم دیا ہے…کہا ایک مہینے بعد مجھے اسکی فلم میں کام کرنا ہوگا…اور کہا کہ اگر میں نے مکرنے کی کوشش کی تو وہ بہت کرے گا میرے ساتھ اور یہ بھی کہا کہ اگر یہ بات میں نے کسی کو بتائی اور میڈیا تک پہنچی تو اچھا نہیں ہوگا……!!

مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے حوری میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا کروں…..میں دوبارہ اس بندے کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی…..وہ سسکتے ہوئے کہہ رہی تھی…….!!

تم جانتی ہو ماحر سکندر صرف ایکٹر نہیں ہے سیاسی اثرورسوخ بھی رکھتا ہے….اسکے دادا کوئی وزیر رہے تھے اور اس کے باپ سکندر خان کا تعلق بھی سیاست سے ہے…یعنی اس کا گھرانہ شوبز کے ساتھ ساتھ سیاست سے بھی وابستہ ہے…. خاندانی نواب ہیں انکی پہنچ پرائم منسٹر تک ہے…..اگر اس نے تمہیں دھمکیاں دی ہیں تو سچ میں وہ کچھ بھی کر سکتا ہے….!!

اسکا رعب و دبدبہ امارات و تمکنت تو ایک طرف

ڈرانے کیلئے یہی کافی تھا کہ وہ ناقابل شکست تھا

حیات عبدالرحمان کو سن کر لگ رہا تھا اگر وہ پھنسی تھی تو بری پھنسی تھی اور نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا……..!!

تمہارا مطلب ہے اس مسئلے کا کوئی حل نہیں مجھے اس شخص سے ڈر ڈر کے جینا ہوگا…اسکی بکواس ماننی ہوگی…..!!

نہیں میرا یہ مطلب نہیں میں تو تمہیں صرف اسکی پاور کے بارے میں خبردار کر رہی تھی….

تم پریشان مت ہو ایک مہینے کا تو ٹائم ہے نا تمہارے پاس تب تک تمہارے بابا بھی آجائیں گے تم ساری بات ان کو بتا دینا…..وہ خود نمٹ لیں گے اس ہیرو سے

ہمممم….ٹھیک ہے….مگر تم یہ بات کسی کو بتانا نہیں پلیز….جب بابا آئیں گے تو انہی سے ڈسکس کروں گی پھر جیسا وہ کہیں گے ویسا کرونگی…..

بے فکر رہو….. حورین نے اسے تسلی دی……..!!