Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 62) Part - 1
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 62) Part - 1
Meri Hayat By Zarish Hussain
“خان پیلس کے گیٹ پر کھڑی ثمرہ کو وہ پہچان گئی تھی۔لاہور میں قیام کے دوران جسکے گھر اتنے مہینے گزارے تھے بھلا کیسے بھول سکتی تھی وہ اسے۔۔۔۔۔”
یہ ثمرہ ہی تو تھی جو اپنی ماں اور چچی کے آگے اس کی ڈھال بنی رہی۔۔۔۔ خون کا رشتہ نا ہونے کے باوجود بھی اس نے سگی بہنوں کی طرح اسکا خیال رکھا بہت
مخلص اور حساس دل لڑکی تھی وہ۔۔۔۔ جب اسکی ماں اور چچی نے مل کر اسے اور مون کو گھر سے نکالا تھا تو اسوقت وہ گھر پر نہیں تھی اپنے سکول میں تھی۔۔ایک لمحے کیلئے حیات کے دل میں یہ خیال آیا تھا کہ وہ سکول جا کر ثمرہ کو سب بتا دے لیکن پھر یہ سوچ کر اپنا ارادہ ترک کر دیا تھا کہ وہ اس کیلئے بھلا کب تک اپنے گھر والوں سے لڑتی رہے گی۔۔پھر اسکے منگیتر فہد کے جذبات بھی تو اس پر آشکارا ہو چکے تھے۔۔اس کے حوالے سے وہ کیسی خواہش،، کیسے جذبات رکھتا تھا حیات جان چکی تھی کیونکہ جب وہ اپنی ماں سے اس کیلئے لڑ رہا تھا تو دروازے کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے بائی چانس سن لیا تھا۔۔ دکھ کیساتھ بہت غصہ بھی آیا تھا کہ وہ کوئی بالکل لاوارث یا مفت کا مال ہے جو کوئی بھی اس سے پوچھے بنا اپنی مرضی سے اس کے متعلق یہ سوچ لے کہ وہ اس سے شادی کرے گا۔۔۔
مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ وہ اسوقت لاوارث تھی۔۔۔ثمرہ کا منگیتر فہد اس سے شادی کرنا چاہتا تھا،، ثمرہ اس بات سے لاعلم تھی اگر یہ بات اسے پتہ چل جاتی تو ہو سکتا تھا کہ اسکا رویہ بھی حیات سے بدل جاتا اسی خدشے کے تحت اسوقت ثمرہ کے پاس نہیں گئی تھی وہ۔اب پتہ نہیں بعد میں اسے اس بات کا پتہ چلا ہوگا یا نہیں” اس نے حیات کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہوگی یا نہیں”۔۔ یہ تو وہ نہیں جانتی تھی مگر اب اسکا یہاں کراچی حیات کے گھر آنا اس بات کا ثبوت تھا۔۔۔ کہ جب سوشل میڈیا پر اس نے ماحر سکندر خان کی شادی کی تصاویر دیکھی ہونگی تو دلہن کے روپ میں اس کے پہلو میں کھڑی حیا عبدالرحمان کو پہچان گئی ہوگی تبھی وہ یہاں پہنچی تھی۔معروف فلمسٹار ماحر خان کی شادی کا چرچا تو بہت دنوں تک مختلف سوشل ویب سائٹس پر ہوتا رہا تھا۔۔ پھر ثمرہ جو ماحر کی بگ فین تھی اسے کیسے پتہ نا چلتا بھلا۔۔۔حیات نے تو خود اسکا سیل فون دیکھا تھا۔۔ فیس بک انسٹا گرام ٹوئٹر۔ہر جگہ اس نے ماحر خان کو فالو کر رکھا تھا پھر وہ کیسے بھلا اپنے فیورٹ ایکٹر کی شادی کی خبر سے لاعلم رہ سکتی تھی۔۔اسکے پسندیدہ ایکٹر نے شادی کر لی وہ بھی اس لڑکی سے جو اتنے مہینے لاوارثوں کی طرح اسکے در پر پڑی رہی اب اس خبر سے اسے خوشی ہوئی ہوگی یا پھر صدمہ پہنچا ہوگا۔۔۔۔ اسکا اندازہ تو بہرحال اس سے مل کر ہی ہو سکتا تھا۔یہی سوچتے وہ
گیٹ پر چلی آئی۔۔ ملازمہ کو بھیجنے کے بجائے اس نے خود جا کر اسے ریسیو کیا تھا۔تحیر مسرت جوش رشک اشتیاق۔۔۔ ان تمام احساسات کیساتھ آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسو لئیے ثمرہ اس سے لپٹ گئی تھی۔۔فہد بھی اسکے ساتھ تھا۔۔۔ مگر وہ اندر نہیں آیا ثمرہ کو باہر سے ہی چھوڑ کر ہی پلٹ گیا تھا۔۔۔ البتہ جاتے وقت حسرت بھری نگاہ اس نے حیات پر ضرور ڈالی تھی۔۔۔ جس کے حصول کو کبھی اس نے بے حد آسان سمجھا تھا اب وہ حصول مشکل ہی نہیں ناممکن لگا۔۔۔۔ وہ اسے ان خوش قسمت لوگوں میں سے لگی جن تک ہر کسی کی رسائی ممکن نہیں ہوتی خاص طور پر اس جیسے عام انسان کی تو بالکل نہیں۔۔۔ بہت دور آسمان پر چمکتے ستارے کی مانند لگی تھی جسے صرف دور سے دیکھا جا سکتا ہے دسترس میں نہیں لایا جا سکتا۔۔اپنی احمقانہ سوچ پر اس دن اسے ہنسی آئی تھی جس دن ثمرہ نے صدمے بھرے انداز میں اسے اپنے فیورٹ ایکٹر ماحر خان کی شادی کی خبر سنائی تھی۔۔ وہ بھی کسی اور کے ساتھ کیساتھ نہیں بلکہ حیا عبدالرحمان کے ساتھ۔۔ وہ لڑکی جو انکے گھر پناہ گزین رہی۔۔ جس کے حسن پر پر مٹنے کے بعد اس نے بے حد آسانی سے سوچ لیا تھا کہ اسکا
چونکہ آگے پیچھے کوئی نہیں ہے سو وہ اگر اسے پرپوز
کرے گا تو اسکے پرپوزل کو لازماً قبول کر لے گی۔اسکی خوبصورتی سے وہ بری طرح گھائل ہوا تھا۔۔ اسی حسن کی کشش میں خود غرض ہو کر بچپن کی منگیتر ثمرہ کو چھوڑنے پر تیار ہو گیا تھا۔۔۔۔ یہ تو اسکی بدقسمتی تھی کہ اسے حیا سے بات کرنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔۔پھر جب اسے ماں اور چچی کے غیر انسانی سلوک کا پتہ چلا تھا تو وہ دکھ کیساتھ پچھتاوے میں مبتلا ہو گیا تھا کہ نا ماں کے سامنے اسکا نام لیتا نا وہ اسے گھر سے نکالتیں۔ثمرہ جو فہد کی خواہش سے تو لاعلم تھی لیکن ماں اور چچی کی بدسلوکی نے اسے بے حد
تکلیف سے دوچار کیا تھا بہت دنوں تک وہ حیات کیلئے روتی رہی تھی۔۔ثمرہ کے کہنے پر وہ بہت دنوں تک اسے ڈھونڈھتا بھی رہا لیکن اسکا کچھ پتہ نا چلا پھر تلاش کا سلسلہ موقوف کر کے جاب کی وجہ سے اسے کراچی جانا پڑا۔دلی طور پر وہ بھی آزردہ تھا۔۔ لیکن ثمرہ بہت
یاد کرتی تھی حیات کو۔۔ شروع شروع میں ہر فون کال پر وہ حیا عبدالرحمان کا ذکر کیا کرتی تھی۔۔ پھر آہستہ آہستہ یہ ذکر کم ہوتا گیا لیکن وہ اسے بھلا نہیں سکی”
بھول تو وہ بھی نہیں سکا۔۔ثمرہ کے سامنے اس نے خود سے کبھی حیات کا نام نہیں لیا مبادا کہیں اسے شک نا ہو جائے۔۔ یہ بات صرف اسکی ماں اور چچی کو معلوم تھی ثمرہ کے چیخنے چلانے کے باوجود انہوں نے کبھی یہ بات اسے نہیں بتائی کہ حیا کو اصل میں کس خوف
سے نکالا تھا انہوں نے۔فہد خود بھی نہیں چاہتا تھا کہ ثمرہ کو کبھی یہ بات معلوم ہو کیونکہ اگر ثمرہ کو یہ بات پتہ چل جاتی شائد اسکے دل میں فہد کیلئے میل آ جاتا وہ اس سے شادی نا کرتی حیا تو اسکی قسمت میں تھی لہذا ثمرہ کو نہیں کھونا چاہتا تھا۔پھر اب تو
وہ حقیقت جان چکا تھا۔۔۔ کہ اگر اسکی ماں راضی ہو بھی جاتی لیکن حیا عبدالرحمان کبھی راضی نا ہوتی جسکو اتنا بڑا سپرسٹار مل سکتا ہے وہ بھلا اس جیسے معمولی شخص کا ساتھ کیوں قبول کرتی۔اپنی قسمت پر ٹھنڈی سانس بھرتا وہ ثمرہ کو چھوڑ کر چلا گیا تھا تاہم جاتے وقت تاکید کر گیا تھا کہ جیسے ہی وہ فری ہو اسے کال کرے وہ لینے آ جائے گا۔۔حیات ثمرہ کو اندر لے آئی تھی ثمرہ کے چہرے پر ایک طرف حیا سے ملنے کی خوشی تھی تو دوسری طرف وہاں بکھری شان و شوکت نگاہوں کو خیرہ کر رہی تھی۔۔۔
“خان پیلس تھا یا کوئی شاہی محل۔۔وہ آنکھیں پھاڑے تعجب سے کئی کنال پر مشتمل پودوں پھولوں پتھر کے خوبصورت مجسموں سے سجا لان۔۔ بلند و بالا چھتوں بیش قیمت لکڑی کے منقش دروازوں قیمتی فانوسوں۔۔فرنیچر۔۔خوبصورت دبیز کارپٹ۔۔۔ اور دیگر نادر و نایاب چیزوں کو دیکھ رہی تھی۔مختلف راہداریوں سے گزرتے
ہوئے وہ اسے لیونگ روم میں لے آئی تھی۔۔فائزہ سکندر بھی وہاں آئیں اور پیاری بہو کی سہیلی ہونے کے ناطے بڑے تپاک سے ثمرہ سے ملیں۔۔۔دولتمند ہونے کے باوجود انکے انداز میں ذرا بھی غرور و تکبر نظر نہیں آ رہا تھا۔بڑی اپنائیت سے انہوں نے ثمرہ سے حال احوال دریافت کیا۔۔۔ ایک پل کیلئے بھی انکی آنکھوں میں تحیر نہیں ابھرا اور نا ہی انہوں نے انکی دوستی کے متعلق کوئی سوال کیا وہ ثمرہ سے اسکی فیملی اور مصروفیات کے بارے میں ہلکے پھلکے سوال کرتی رہیں پھر فون آ جانے پر معذرت کرتی باہر چلی گئیں۔۔اگرچہ چہرے سے کسی قسم کی حیرانی ظاہر نہیں ہونے دی تھی انہوں نے۔۔۔ لیکن ثمرہ کو پکا یقین تھا دل ہی دل میں انہیں تعجب ضرور ہوا ہوگا کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی عام سی لڑکی انکی بہو کی دوست بنی کیسے؟؟ حیات کا رویہ بھی بہت متاثر کن تھا۔۔اس نے ایک بار بھی ثمرہ سے ماضی کی کسی تلخی کا ذکر نہیں کیا اور نا اسکی ماں اور چچی کے حوالے سے کوئی حرف شکایت زبان پر لائی بلکہ وہ تو بڑی سادگی سے اسکے گھر والوں کی
خیریت دریافت کر رہی تھی۔۔کتنا بڑا ظرف رکھتی تھی وہ۔اس نے دل میں اعتراف کیا۔اسے سراہا۔لیکن یہ نہیں
جانتی تھی کوئی اور انسان بھی ہے معاملے میں اسکا ظرف بہت چھوٹا پڑ جاتا ہے۔۔حیا عبدالرحمان کے حسن سے تو وہ پہلے دن ہی متاثر ہوئی تھی مگر اب دیکھ رہی تھی گزرے وقت کیساتھ ساتھ اسکی خوبصورتی میں مزید نکھار آ چکا تھا۔ثمرہ کو اس پر رشک آنے لگا اللّٰہ نے صورت کے ساتھ قسمت بھی کتنی اچھی بنائی تھی کہ ماحر خان جیسا شاندار بندہ نصیب میں لکھ دیا۔۔۔ لیکن اسکی خوبصورتی صرف چہرے تک محدود نہیں تھی چہرے کیساتھ ساتھ وہ خوبصورت دل بھی رکھتی تھی جو ماحر کے علاؤہ سب کیلئے موم تھا۔وہ
دل ہی دل میں بری طرح ندامت محسوس کرنے لگی کہ
اسکی ماں اور تائی نے کتنا برا سلوک کیا تھا حیات کے ساتھ۔۔۔ اسکی ماں تو اسے گھر سے بھاگی ہوئی کوئی آوارہ لڑکی سمجھتی تھیں۔حیات کا رویہ دیکھ کر اور
اپنی ماں اور تائی کی باتیں یاد کر کے وہ شرمندگی محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔ دوسری طرف حیات اس کے خیالات سے بے خبر بڑی اپنائیت اور خلوص سے اصرار کر کر کے کھانے پینے کے لوازمات سرو کر رہی تھی جو میڈ وہاں رکھ گئی تھی۔۔۔ حیات امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اتنا تو ثمرہ کو اسکے رکھ رکھاؤ سے اندازہ ہو گیا تھا مگر وہ محلوں کی شہزادی نکلے گی یہ نہیں سوچا تھا اس نے۔۔۔وہ سمجھ رہی تھی جتنا امیر ماحر ہے اتنی ہی حیات بھی ہوگی۔۔ اسے حیا عبدالرحمان پر رشک آ رہا تھا۔۔۔ ساتھ ہی فخر بھی محسوس ہوا ہائی
فائی سٹیٹس رکھنے والی خوبصورت مگر سادہ مزاج
لڑکی جو اسکے فیورٹ سٹار کی بیوی بھی ہے اسکی دوستی اسے حاصل ہے۔۔۔۔
“حیا آئی ایم سوری۔امی اور تائی امی نے تمہارے ساتھ
بہت غلط کیا تھا مجھے افسوس ہے اس بات کا۔ثمرہ نے
ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ دیا اور ملتجی
و افسوس بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اسکے ہاتھ تھام لئیے۔جواب میں حیات نے کچھ بھی کہے بنا بڑی محبت
سے اسے گلے لگا کیا۔۔۔ ثمرہ اسکے اس محسن کی بیٹی تھی جس نے اسوقت ایک باپ کی طرح اسے پروٹیکٹ
کیا تھا جب ایک انجان شہر میں خوف و سراسیمگی میں مبتلا مون کیساتھ بھٹک رہی تھی تب وہ انجان
مگر نیک انسان اسے اپنے گھر لے گیا تھا۔بعد میں اسکے ساتھ جو بھی ہوا مگر وہ انسان جب تک زندہ رہا اسے اپنےگھر میں تحفظ دیے رکھا۔ وہ انکی احسان مند تھی پھر دوسرا احسان ثمرہ کا تھا۔۔۔۔ جس نے باپ کے مرنے
کے بعد بھی انکا قول نبھایا حیات کا خیال رکھا۔۔۔جب اسےگھر سے نکالا گیا تھا تو وہ سب ثمرہ کی لاعلمی و غیر موجودگی میں ہوا تھا جسمیں اسکا کوئی قصور
نا تھا۔پھر وہ اس سے کیوں گلہ رکھتی”تبھی ہلکا سا
ڈانٹتے ہوئے وہ اسکے آنسو صاف کر رہی تھی۔۔۔
“یہ بتاؤ تم یہاں کراچی کب آئی؟؟ جب وہ اپنی ماں
اور چچی کے کیے کی معذرت کر کے ڈھیر سارے آنسو بہا چکی تھی تو حیات نے اس سے سوال کیا۔۔
تین دن پہلے آئی ہوں دو مہینے پہلے شادی ہوئی میری اور فہد کی۔۔چونکہ میں امی اور تائی امی سے ناراض تھی اس لئیے وہ مجھے اپنے ساتھ یہاں لے آیا۔۔یار میں نے جب ماحر خان کی شادی کی خبر سنی تھی تو مت پوچھو کیا بیتی میرے دل پر۔بہت سخت صدمہ پہنچا
ماحر خان اگرچہ میرا خواب تھا لیکن میں اس حقیقت کو بھی مانتی تھی کہ وہ میرا نہیں ہوسکتا میری پہنچ سے بہت دور ہے اسلئیے میں ہمیشہ اللّٰہ سے دعا مانگا
کرتی تھی وہ کبھی شادی نا کرے۔۔ ساری زندگی سلمان خان کی طرح کنوارا رہے۔۔”یہ کہہ کر وہ زور سے ہنسی
“بڑی کوئی حاسدانہ سوچ تھی۔۔حیات بھی ہنس پڑی “
ہاں نا کیونکہ مجھے تو وہ مل نہیں سکتا تھا پھر کسی اور کو بھی کیوں ملے۔۔اسی لئیے جب سوشل میڈیا پر اسکی شادی کی خبر سنی مجھے بہت سخت صدمہ پہنچا تھا۔کیونکہ اتنا محبوب کے اپنا نا ہو سکنے کا دکھ
نہیں ہوتا جتنا اسکے کسی اور کا ہو جانے کا ہوتا ہے۔۔۔۔
“ہاں یہ تو صحیح کہہ رہی ہو حیات نے سر ہلا کر تائید
کی۔اچھا پھر اس وقت تمہارا کیا ری ایکشن تھا جب ان
کی شادی کی تصاویر میں انکے کیساتھ دلہن کے روپ میں تم نے مجھے دیکھا۔۔”شاک لگا۔۔؟؟ جیلسی ہوئی۔۔؟
یا خوشی۔۔؟؟
حیات نے کیک کا ٹکڑا منہ میں رکھتے پر دلچسپی سے
سوال کیا۔۔۔۔
شاک لگا تھا یار۔۔۔۔سخت شاک۔۔۔ بلکہ کئی دن تک اسی
کیفیت میں مبتلا رہی۔تم یقین نہیں کروگی مگر مجھے
واقعی تم سے بالکل بھی جیلسی نہیں ہوئی تھی بلکہ
حیرت کیساتھ رشک آیا تھا۔مگر اس رشک میں حسد کا احساس شامل نہیں تھا۔۔بلکہ اس بات کی خوشی تھی کہ اب تمہارے ذریعے میری ان سے رئیل میں ملنے کی دیرینہ خواہش پوری ہو سکتی یے۔۔۔۔ البتہ تمہاری جگہ
کوئی اور ہوتی تو میں رشک و حسد کے مارے جل کر خاک ہو جاتی۔وہ ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی۔اور پتہ ہے صرف میں ہی نہیں فہد بھی سخت حیران ہوا۔میں تم
سے ملنے کیلئے اڑ کر یہاں پہنچنا چاہتی تھی اسی لئیے
فہد کے پیچھے لگ گئی کہ مجھے جلد از جلد کراچی لے
جائے مگر ساتھ یہ خوف بھی تھا کہ پتہ نہیں تم مجھ سے ملو گی بھی یا نہیں کہیں پہچاننے سے ہی نا انکار کر دو بہت ڈر رہی تھی میں یار۔۔۔ مکان کا انتظام کرنے میں تھوڑا ٹائم لگ گیا۔۔۔ لیکن یہاں پہنچتے ہی تمہارے گھر کا ایڈریس ڈھونڈ نکالا۔۔ گیٹ پر موجود گارڈ نے تو مجھے بھگانے کی بہت کوشش کی مان ہی نہیں رہا تھا کہ میں تمہاری فرینڈ ہوں منت سماجت پر بڑی مشکل سے تم تک اطلاع دینے پر راضی ہوا۔۔ اور شکر ہے تم نے مجھے پہچان لیا۔۔۔۔ ایک ہی سانس میں وہ ساری باتیں بولتی چلی گئی حیات مسکرا دی۔۔۔۔
“پاگل ہو اتنا ٹائم تمہارے ساتھ رہی تم نے بالکل سگی بہنوں کی طرح میرا اور مون کا خیال رکھا۔۔۔پھر کیسے بھول سکتی تھی میں تمہیں بھلا۔۔۔۔حیات نے خلوص
سے کہا۔۔۔
مون۔۔۔اوہو مون سے یاد آیا۔۔۔وہ موٹو کیسا ہے۔۔۔؟؟ثمرہ
نے اچانک یاد آنے پر مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔ حیات کے چہرے پر اذیت پھیل گئی آنکھوں میں نمی اترنے لگی”
“کیا ہوا حیا۔۔؟؟اس نے بے حد حیران ہو کر اسے دیکھا پھر جب حیات نے بھرائی ہوئی آواز میں مون کی ڈیتھ کا بتایا تو کئی لمحے وہ بے یقینی اور سکتے کے عالم میں چپ بیٹھی رہی۔۔۔جب یقین ہوا تو بے اختیار آنسو نکل آئے کافی دیر بعد وہ دونوں اس دکھ بھری کیفیت سے نکلیں تو ثمرہ نے اس سے سوال کیا۔۔
مجھے اپنے بارے میں بتاؤ حیا۔۔ ہمارے گھر سے جانے
کے بعد تم کہاں رہی اور تمہاری ماحر خان سے ملاقات
کیسے یوئی۔۔۔۔ ؟؟ حیات نے اسے مختصراً اپنے حالات سے آگاہ کیا لیکن زیادہ تر باتیں اس نے فرضی بتائیں جیسا کہ ماحر سے کسی پارٹی میں ملاقات ہونا۔۔ پھر اسکا پرپوز کرنا اور انکی شادی ہو جانا۔۔بہت ہی سمپل سی سٹوری تھی بظاہر۔۔۔مگر حقیقت میں کتنی کٹھن تھی اس سے صرف وہ دونوں اور انکے قریبی لوگ ہی آگاہ تھے جو لوگ اسکی قسمت پر رشک کرتے تھے وہ کیا جانیں اس نے کیا کیا کھو کر کیا پایا۔اس پر گزرے مصائب سے بے خبر ثمرہ برملا اسکی قسمت پر رشک کر رہی تھی اور ساتھ میں ماحر کے بارے میں سوال کر رہی تھی کہ سکرین پر جسطرح ڈیسنٹ رومینٹک دکھتا ہے رئیل لائف لائف میں بالکل ویسا ہے کیا۔۔۔؟؟
وہ بڑی دلچسپی و تجسس سے اسکے بارے میں چھوٹے چھوٹے سوال پوچھ رہی تھی۔جنکے جوابات حیات بڑی دقتوں سے شارٹ لفظوں میں دے رہی تھی۔۔ ثمرہ ماحر کی کریزی فین ہے اس سے ملنے کی شدید خواہشمند ہے یہ بات وہ اچھی طرح جانتی تھی اسکی یہ خواہش وہ
ابھی پوری کر بھی دیتی لیکن ماحر کہیں شوٹ پر گیا ہوا تھا کہاں گیا تھا یہ اسے نہیں معلوم تھا۔ صبح ہونے والی جھڑپ کے بعد اس نے اسے تیار ہو کر جاتے دیکھا تھا، ڈائننگ ہال میں مسز سکندر کے پاس کھڑا انہیں بتا رہا تھا کہ وہ شوٹ پر جا رہا ہے۔۔۔ وہاں سے گزرتے ہوئے اس نے سنا تھا۔کہاں ہو رہی ہے شوٹ اور وہ کب واپس آئےگا یہ نہیں سن پائی تھی۔اب اگر وہ اسکی ماں سے یہ بات پوچھتی کہ انکا بیٹا کہاں گیا ہے اور کب واپس آئے گا تو کتنا اکورڈ لگتا کہ بیوی ہونے کے باوجود شوہر کے معمولات سے لاعلم ہے پھر فائزہ سکندر بھی ناجانے کیا سوچتیں۔ثمرہ زیادہ دیر رک نہیں سکتی تھی اسکو آئے ہوئے ایک گھنٹہ ہو چکا تھا اس دوران دو بار فہد کا فون آ چکا تھا کہ وہ فارغ ہوئی یا نہیں ہر بار اس نے اسے یہی کہا کہ بس تھوڑی دیر۔۔۔۔
یار تم انہیں فون کر کے پتہ کر لو نا کہ وہ کب آئیں گے
ثمرہ نے بے چینی بھرے انداز میں مشورہ دیا۔۔وہ کچھ
بول نہیں پائی۔۔۔کیا کہتی اسے کہ آج تک اس نے کبھی اسے فون ہی نہیں کیا۔۔اور اب کرے بھی تو کیسے کرے
صبح ہی تو وہ اسکی اتنی توہین کر چکی تھی۔لیکن یہ
سب وہ ثمرہ کو تو نہیں بتا سکتی تھی۔۔وہ پریشان ہو
کر سوچنے لگی کہ کیا کرے۔۔۔۔ وہ ناجانے کب گھر آتا۔۔۔۔ ثمرہ اس سے ملنے کا اشتیاق لئیے بیٹھی تھی۔۔۔ آخرکار انا کو ایک سائیڈ پر رکھ کر اس نے اسے فون کرنے کا فیصلہ کیا۔۔چوتھی بیل پر کال ریسیو ہوئی۔موبائل اس کے اسسٹنٹ کے پاس تھا حیات نے اپنا تعارف کروایا تو احترام آمیز لہجے میں اس نے ہولڈ کرنے کو کہا۔۔پانچ منٹ بعد وہ لائن پر آیا۔۔
“ہیلو۔۔ایوری تھنگ از اوکے حیا۔۔۔تم نے فون کیسے کیا اسکی آواز خوشگوار حیرت کیساتھ تشویش کا عنصر بھی نمایاں تھا۔ کیونکہ حیات عبدالرحمٰن نے اسے پہلی بار خود فون کیا تھا۔سو حیران پریشان ہونا تو بنتا تھا
وہ جھجھکتے ہوئے اس سے کچھ دیر کیلئے گھر آنے کا کہہ رہی تھی۔وہ حیران رہ گیا۔۔آنکھوں میں استعجاب آمیز تحیر اتر آیا۔حیات کا لب و لہجہ انداز نارمل بلکہ کسی حد تک درخواست آمیز تھا۔۔ اسکے انگ انگ میں خوشی کااحساس بھرنے لگا اسی وقت شوٹنگ ادھوری چھوڑ کر سب کو ویٹنگ پر لگا کر وہ بھاگا چلا آیا اس کیلئے تو یہ بہت اہم اور بہت بڑی بات تھی کہ حیات نے خود فون کر کے اسے بلایا تھا تو کیوں نا خوش ہوتا سب چھوڑ چھاڑ کر گھر چلا آیا۔۔۔ ابھی پورچ میں آ کر گاڑی سے اترا ہی تھا کہہ حیات کو وہاں آتے دیکھ کر مزید حیران ہوا اسکے چہرے سے ہی لگ رہا تھا کہ وہ کتنی بے قراری سے اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
“کیا ہوا سب خیریت تو ہے؟اسے اپنا انتظار کرتا دیکھ کر خوشگواریت کے عجیب سے احساس نے چھوا تھا جسے چھپاتا وہ سوالیہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
“حیات کو یکدم عجیب سی شرمندگی نے آن گھیرا۔۔۔
وہ کنفیوژ ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔پھر کچھ توقف کے بعد لہجے کو پراعتماد بناتے بنا اسکی طرف دیکھے گویا ہوئی۔۔۔
وہ ایکچولی میری ایک فرینڈ ہے لاہور سے آئی ہے۔۔آپکی فین ہے ملنا چاہتی ہے آپ سے۔۔۔۔ ادھر لیونگ روم میں بیٹھی ہے آپ تھوڑی دیر کیلئے اس سے مل لیں گے۔۔؟؟
انگلیاں مروڑتے نظریں جھکائے وہ جھجھکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔میں آپکو یوں فون کر کے ڈسڑب نا کرتی۔مگر
ایک تو وہ بہت دور سے آئی ہے۔۔۔ دوسرا مجھ پہ کچھ احسانات ہیں اسکے۔۔ آپ سے ملنے کی خواہشمند ہے اگر آپ تھوڑی دیر کیلئے اس سے مل لیں گے تو احسان ہو گا آپ کا۔ہنوز ہاتھوں کو مروڑتے نظریں چرا کر دھیمے لہجے میں کہتے وہ اسے نروس لگی۔۔۔ شائد اسلیئے کہ انسان اگر ہر وقت کسی کے ساتھ برا رویہ رکھتا ہو پھر اپنا کام پڑنے پر لہجہ اور انداز بدل کر التجائیہ طریقے سے بات کرنی پڑے تو پھر ایسے ہی نروس ہو جاتا ہے۔۔وہ اسکی کیفیت سمجھ رہا تھا تبھی لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ ابھرنے لگی تھی جسے اس نے لبوں میں ہی روک لیا تھا۔۔حیات نظریں جھکائے کھڑی اس کے جواب کی منتظر تھی۔ جبکہ وہ گہری نظروں سے اسکا جائزہ لے رہا تھا۔۔شہد رنگ ریشمی بالوں کے بیچ لو دیتا اسکا اجلا صبیح چہرہ چودھویں کے چاند کو بھی مات دے رہا تھا۔۔۔سرخ و فیروزی امتزاج کی کڑھائی والی شارٹ فراک پر فیروزی ٹراؤزر۔۔۔۔۔ سرخ و فیروزی شیفون کے ڈوپٹے کو شانوں پر پھیلائے وہ بے حد دلکش و دلنشیں لگ رہی تھی۔۔ سرخ و سفید دمکتا چہرہ اس پر اٹھتی گرتی پلکوں کی جھالریں ماحر کیلئے نگاہ چرانا دوبھر ہو گیا۔۔
“اوکے میں اگر آپکی فرینڈ کو ملاقات کا شرف بخش دوں تو بدلے میں مجھے آپ سے کیا ملے گا۔۔؟؟ دفعتاً ایک لطیف سی شرارت اسکے دماغ میں آئی تھی ۔۔۔
“کیا مطلب۔۔؟؟ حیات نے اچنبھے سے دیکھا
مطلب اگر میں آپ پر احسان کرتا ہوں تو پھر آپکو بھی
بدلے میں مجھ پر کوئی احسان کرنا ہوگا۔۔۔اسکا لہجہ
گہرا تھا۔۔۔
“کیا کہنا چاہتے ہیں آپ صاف صاف کہیں۔۔۔؟حیات نے الجھن بھرے لہجے میں کہا۔۔۔آنکھوں میں حیرانی تھی
اس میں اتنا حیران ہونے والی کونسی بات ہے بھلا۔میرا مطلب بالکل صاف اور واضع ہے۔۔۔مجھ سے ملنے کیلئے
پہلے میرے سیکریٹری سے اپائنٹمنٹ لینا پڑتا ہے اور یہ
پروسیس بھی آسان نہیں۔بڑی تگ و دو کے بعد ہی لوگ مجھ سے ملنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔لیکن تم میری
وائف ہو سو تمہیں انکار تو نہیں کر سکتا لیکن تمہاری
خاطر اگر میں تمہاری فرینڈ کو اپنے قیمتی ترین وقت میں سے دس پندرہ منٹ دے دوں تو بدلے میں مجھے بھی تو کچھ ملنا چاہیے۔۔اب دیکھو نا ڈئیر تمہاری کال سنتے ہی فلم کی شوٹنگ وہیں روک کر بھاگا چلا آیا۔۔۔
بظاہر وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔مگر متبسم نگاہوں سے شریر سی چمک ضرور چھلک رہی تھی جسے وہ اپنے غصے میں نوٹ نہیں کر پائی۔۔۔
اوکے بہت شکریہ بہت مہربانی آپکی۔۔۔اپنا قیمتی وقت اپنے پاس سنبھال کر رکھیے۔غصے سے کہتی وہ جھٹکے سے واپسی کیلئے پلٹی مگر آگے قدم نہیں بڑھا پائی اور دھک سے رہ گئی۔اس نے بہت نرمی و ملائمت سے اس کی کلائی تھام لی تھی۔۔مسز ناراض ہونے کی ضرورت نہیں یہ بندہ ناچیز تو مذاق کر رہا تھا اپنا وقت تو کیا
میں تو ساری زندگی ہی آپکے نام کر چکا ہوں آپ حکم کریں اور ہم نا مانیں ایسا ہو سکتا ہے کیا۔مخمور لہجے
میں کہتے ہوئے اسکے چہرے کے گرد جھولتی لٹ کو دو انگلیوں سے چھوا۔۔۔۔ دلنشین لہجہ۔۔۔۔۔ مچلتی وارفتانہ نگاہیں۔۔۔ ہاتھ کی حرکت۔۔۔۔ اسکا دل بڑی بے ترتیبی سے دھڑکا۔ گھبرا کر اپنا ہاتھ چھڑا کر آگے بڑھ گئی جبکہ وہ مسکراتا بالوں میں ہاتھ چلاتا اسکے پیچھے ڈرائنگ روم چلا آیا۔۔۔ ۔۔حیات کی دوست کو دیکھ کر اسکی آنکھیں
ایک پل کیلئے سکڑیں ایک بہت ہی عام سے نقوش والی سانولی سی لڑکی جسکا حلیہ ہی اسے مڈل گھرانے کی لڑکی ظاہر کر رہا تھا سامنے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی اسے دیکھ کر کرنٹ کھانے کے انداز میں صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
ہیلو میم ہاؤ آر یو۔۔۔؟؟ وہ ہلکا سا مسکرا اسے بیٹھنے کا
اشارہ کرتا سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔ ثمرہ ساکت سی اپنی جگہ جمی رہی۔۔ سالوں کے کرش کو سامنے پا کر بری طرح کنفیوژ ہو گئی تھی۔دل اتنی زور سے دھک دھک کر رہا تھا کہ اسے خود بھی باآسانی سنائی دے رہی تھی دھک دھک کی آواز۔۔۔ گلیمرس ورلڈ کے کسی ستارے کو جسے آپ نے ہمیشہ سکرین پر دیکھا ہو اور آپ اس پر بری طرح فریفتہ بھی ہوں پھر اسے اچانک رئیل میں دیکھنا ایک ناقابل بیان خوشی سے بھرپور شاکنگ لمحہ ہوتا ہے اسوقت ثمرہ بھی کچھ ایسی ہی کیفیت کا شکار تھی۔اسکے خوابوں کا ہیرو اپنی بلا کی وجاہت سمیت اس کے سامنے تھا۔۔۔شادی شدہ ہونے کے باوجود اسکے دل کی دنیا زبر زیر ہونے لگی۔۔۔۔۔ لمبا قد کسرتی وجود۔۔۔۔ بلا کے پرکشش مغرور نقوش۔۔۔سکرین پر دکھنے میں وہ جتنا خوبرو حسین و دلکش لگتا تھا۔۔ حقیقت کی یہ جلوہ گری تو قیامت ہی تھی۔۔۔ ثمرہ کی سکتہ زدہ نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں ہونٹ نیم وا انداز میں کھلے ہوئے تھے۔۔۔۔ آج اسکی برسوں کی تمنا پوری ہو گئی تھی وہ ہنوز کھڑی تھی۔۔ماحر نے دانستہ پھر اسے مخاطب نہیں کیا نا اسکی طرف دیکھا۔۔ بلکہ
حیات کو اشارہ کیا کہ اپنی دوست کو سکتے کی اس کیفیت سے نکال کر بٹھائے وہ جانتا تھا کہ اسکے فینز خاص طور پر ینگ گرلز اسکے سامنے یونہی اعتماد کھو دیتی ہیں۔۔۔۔
“ثمرہ۔حیات نے کچھ خجل انداز میں اسے دیکھا۔اسکی محویت پر جزبز ہو کر اسے پکارا تو وہ ہوش میں آئی۔
بیٹھ جاؤ۔۔۔ کہنے کے ساتھ اس نے اسے بازو سے پکڑ کر
بٹھا دیا۔۔ ثمرہ جو بہت سی باتیں سوچ کر آئی تھی کہ
ماحر خان سے یہ کہے گی۔۔۔ وہ کہے گی۔۔۔۔ اس کیساتھ سیلفی لے گی اسکے سامنے سب کچھ بھول گئی۔۔ ایک
لفظ بھی نا بول سکی۔اسکی اتنی زیادہ نروسنس دیکھ
کر جز بز ہوتی حیات نے خود ہی اپنے موبائل سے اسکی
ماحر کیساتھ چند تصویریں بنا دیں۔۔دس منٹ وہ بیٹھا
پھر چلا گیا۔تاہم جاتے وقت وہ اس نے جھک کر حیات سے سرگوشی کی تھی۔میں تو تمہاری خاطر مزید ٹائم بھی دیتا تمہاری فرینڈ کو مگر خود دیکھ لو بیچاری میرے حسن کی تاب ہی نہیں لا پا رہی سو چلتا ہوں۔ماحر مسکراتا ہوا باہر نکل گیا جبکہ وہ تاسف سے ثمرہ کو دیکھنے لگی جس نے ماحر خان کے سامنے اسقدر بدحواسی کا مظاہرہ کیا جیسے وہ زمینی نہیں بلکہ کوئی آسمانی مخلوق ہو۔۔۔۔۔
