171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 20) Part - 2

Meri Hayat By Zarish Hussain

اللّٰہ نا کرے خود کشی کریں آپ کے دشمن۔۔۔۔وہ دہل کر بولیں

بالکل۔۔۔۔۔میرے دشمن ہی خودکشی کریں گے۔۔۔۔انہیں ژندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔خودکشی کرنے پر مجبور کر دوں گا میں انہیں۔۔۔۔۔۔”

کیا۔۔۔کیا کہہ رہے ہو کونسے دشمن۔۔۔۔؟اس کا خونخوار انداز فائزہ سکندر کو پریشان کر گیا۔۔۔۔

وہی دشمن مام جن کا خود ابھی آپ نے کہا ہے کہ خود کشی کریں۔۔۔۔لمحے کے ہزارویں حصے میں اس نے خود کو سنبھالا اور مسکرا کر شوخ لہجے میں کہا”

“میں نے تو ایسے مثال کے طور پر کہا۔۔۔۔لیکن آپ کی بات نے مجھے ڈرا دیا۔انکی پریشانی ابھی بھی رفع نہیں ہوئی۔۔۔

مذاق کر رہا تھا مام۔۔۔۔آپ تو ہر بات کو سیریس لے لیتی ہیں۔۔اینی وے کوئی کام تھا مجھ سے کیا۔۔۔ٹاول کو صوفے پر اچھالا۔۔۔

فضل کو بھیجا تھا کہ ڈنر کیلئے بلا لائے آپ کو۔۔وہ کئی بار یہاں آیا،معلوم ہوا آپ باتھ لے رہے ہیں۔جب مسلسل دو گھنٹے ہو گئے اور آپ باہر نہیں آئے تو میں گھبرا کر آئی تھی۔۔۔

“ایکچولی مام وہ انجری کی وجہ سے ایک ہفتے سے صحیح طرح سے باتھ نہیں لے پایا تھا۔۔۔۔۔۔۔زخم اب ٹھیک ہوا تو سستی اور تھکن فیل کر رہا تھا سو پچھلی ساری کسر نکالی۔۔۔۔۔۔ماں کو مطمئن کرنے لگا”

فائزہ سکندر مزید کچھ کہنے ہی والی تھیں کہ ماحر کا فون بجنے لگا۔۔۔۔۔

ہاں بولو فراز کنفرم ہوئی سیٹ۔۔۔۔؟؟

دوسری طرف سے فراز نے کچھ کہا۔۔۔۔۔اوکے بس میں تھوڑی دیر میں نکلتا ہوں ائیرپورٹ کیلئے۔۔۔۔وہ رسٹ واچ میں ٹائم دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔”

کیا ہوا یہ اچانک کہاں جا رہے ہو۔۔۔؟؟

مام ایک شو کی ریکارڈنگ کیلئے ایمرجنسی میں ترکی جانا پڑ رہا ہے۔۔۔۔فلم کیلئے لوکیشن بھی دیکھنی ہے۔۔۔میرے پاس ٹائم کم ہے۔۔۔۔۔پلیز کسی سے کہہ کر میری پیکنگ کروا دیں۔۔۔۔وہ وارڈ روب سے کپڑے نکالتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔

بیٹا کچھ دن ریسٹ کر لیتے پھر شروع کرتے اپنا کام وام۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی ایک دن بھی نہیں ہوا تمہیں مکمل صحتیاب ہوئے اور تم پھر چل پڑے۔۔۔۔۔فاریہ ادھر ڈنر پر تمہارا ویٹ کر رہی ہے۔آج رات کو وہ واپس سسرال جا رہی ہے اپنے۔۔۔”

مام پلیز ابھی آپکی باتیں سننے کا ٹائم نہیں ہے میرے پاس۔۔۔۔ڈیڈ کو بھی انفارم کرنا ہے۔۔۔۔۔۔اور سوری ڈنر پر جوائن نہیں کر سکوں گا آپ لوگوں کو۔۔فاریہ سے جا کر مل لیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ پلیز جلدی سے پیکنگ کروائیے میری۔۔۔جلدی جلدی بولتا وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔فائزہ سکندر نے گہری سانس لی اور اسکی پیکنگ کرنے لگی انکی سنتا ہی کب تھا وہ۔۔۔۔۔۔”

اسکی کیفیت سونے جاگنے کے درمیان تھی۔۔۔۔کئی پل اسی کیفیت میں گزرے۔۔چند پل خالی خالی نظروں سے چھت کو دیکھتی رہی۔۔۔۔۔۔۔ پھر یکلخت ذہن میں کوئی جھماکا ہوا۔اور ذہن کے تاریک گوشوں میں روشنی سی پھیلتی چلی گئی۔اس نے حیرانگی اور خوف سے ادھر ادھر دیکھا اور ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔اسکے حواس پوری طرح سے بیدار ہو گئے تھے۔وہ چہل قدمی کیلئے باہر نکلی تھی۔۔۔۔۔۔پہاڑوں کے درمیان جھرنے کو دیکھ کر وہ اسی طرف ہی جا رہی تھی کہ اچانک اپنے پیچھے آہٹ سنائی دی اس سے پہلے وہ مڑتی کسی نے پیچھے سے ہی اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر کھینچ لیا۔۔۔خوف سے اسکی آنکھیں پھٹنے لگیں۔۔۔۔ہاتھوں سے جد وجہد کرنے کا بھی موقع نہیں ملا اور عجیب بو والا رومال اسکی ناک کے ساتھ اس سختی سے لگایا گیا کہ وہ لمحوں میں ہوش و خرد سے بے گانہ ہو گئی۔۔۔۔اب ہوش آیا تو خود کو اس پتھروں اور اینٹوں سے بنے کمرے میں پایا۔۔۔۔۔”

اسکے ذہن میں دھماکے ہو رہے تھے۔

وہ یہ تو جانتی تھی کہ اسے اغوا کر لیا گیا ہے۔

لیکن کیوں اور کس نے کیا۔۔۔۔۔اغوا کرنے والے کے عزائم کیا تھے۔۔۔ہوش کی سرحدوں میں قدم رکھتے ہی یہ سوال اسکے اندر ہلچل مچا رہے تھے۔۔۔۔

“اس نے قریب پڑا اپنا دوپٹہ اٹھایا اور بھاگ کر سامنے لگی چھوٹی سے کھڑکی کی طرف بڑھی اور دونوں پٹ کھول کر باہر دیکھا تو وہاں مضبوط قسم کی گرل لگی ہوئی تھی جو کہ فرار کے سارے راستے مسدود کرتی تھی۔۔۔۔۔

“اس نے گھبرائی پریشان کن نظروں سے گرل میں سے نظر آتے مناظر کو دیکھ کر وقت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔جس وقت وہ باہر نکلی تھی دھوپ کا کوئی نام و نشان نہیں تھا مگر اب سورج سوا نیزے پر تھا۔اسکی سنہری رو پیلی شعاعوں کا عکس نگاہوں کو خیرہ کر رہا تھا۔منظر اگرچہ دلکش تھا۔۔۔۔۔سامنے بہتی ندی بھی نظر آ رہی تھی جو کہ ارد گرد کے پہاڑوں سے بہتے جھرنوں سے وجود میں آئی تھی۔۔۔وہ پریشانی اضطراب گھبراہٹ اور انتشار کا شکار تھی۔۔۔مناظر کی دلکشی نے بھی اس پر کوئی اثر نہیں کیا۔یہ جگہ بھی

اسے نئی لگی۔۔۔۔پتہ نہیں گرینی کے گھر سے کتنا دور تھی وہ”

کون اغوا کر سکتا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔علی۔۔۔۔دل میں پہلا خیال اس کا آیا کیونکہ وہی تھا جسکی نظریں تین دن سے بدلی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔اور پھر وہ صاف صاف اپنے جذبات بھی تو اس پر آشکارا کر چکا تھا۔۔۔۔۔”

تو کیا وہی۔۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔۔میں اسکے گھر میں مہمان ہوں وہ ایسی گھٹیا حرکت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔دل میں آئے خیال کو دماغ نے رد کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔”

تو پھر دوسرا کون۔۔۔۔۔وہ فلم ایکٹر ہی ہو سکتا ہے جو پچھلے ڈیڑھ مہینے سے ہاتھ دھو کر پیچھے پڑا تھا۔۔۔”

لیکن اسے کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ میں برسا میں ہوں۔۔اوہ گاڈ اسکے مینیجر نے مجھے ہوٹل میں دیکھا تھا۔۔۔

“کہیں وہ میرا پیچھا کرتا یہاں تک تو نہیں آ گیا۔خوف کی ایک سرد لہر اسکے جسم میں دوڑ گئی۔۔وحشت زدہ ہو کر اس نے کمرے کے دروازے کو اپنے نازک ہاتھوں سے پیٹ ڈالا۔۔دروازہ بہت بھاری تھا۔۔۔۔۔لکڑی کا تھا یا پتھر کا۔۔۔۔۔۔۔وہ سمجھ نہیں پائی۔۔۔۔۔۔۔الٹا ہاتھ دکھنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بدحواسی سے پورے کمرے میں چکرانے لگی۔”کمرہ جدید انداز میں سجایا گیا تھا۔فرنیچر پردے صوفے کارپٹ سب قیمتی اور دیدہ زیب تھا۔۔۔۔۔وہ بے جان انداز میں بیڈ پر بیٹھی تھی اسی پل باہر سے لاک کھولنے کی آواز آئی۔دھڑکنوں کے بے ہنگم شور میں اس کا پورا وجود سماعت بن گیا۔۔۔۔۔۔۔اگلے ہی لمحے دروازہ کھلا جو شخصیت اندر داخل ہوئی اسے دیکھ کر حیات عبدالرحمان کی سانس سینے میں اٹک گئی۔۔۔”پتھرائی ہوئی نگاہوں سے اس شخص کو دیکھے گئی جو بڑی شان سے چلتا ہوا اسکے قریب آیا۔۔..۔۔بلیک پینٹ پر ریڈ دھاری دھار شرٹ پہنے ریڈ گاگلز لگائے وہ اپنی تمام وجاہت اور سمارٹنس کے ساتھ سامنے کھڑا وحشت ناک نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا۔۔۔۔”

“آآپ۔۔۔۔۔وہ سراسیمگی سے اٹھ کھڑی ہوئی

ہاں میں۔”تمہیں کیا لگا ترکی بھاگ آئی تو مجھ سے بچ جاؤ گی۔۔۔میرے پرپوزل کو ریجیکٹ کر کے تم نے میری توہین کی ہے۔اور اپنی توہین تو میں کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔

اسکا لہجہ اسکی آنکھیں مسلسل شعلے برسا رہی تھیں۔۔۔۔۔”

۔۔۔۔۔بڑی نیک پارسا بنتی ہو میرے ساتھ تعلق بنانا نہیں تھا”لیکن دوسروں کیلئے تمہارا ایسا کوئی اصول نہیں۔بتاؤ کیوں اور کس رشتے سے اس پروفیسر کے ساتھ یہاں عیاشی کر رہی تھی۔۔۔۔بولو۔۔۔۔۔وہ بولا نہیں پھنکارا تھا۔۔۔”

وہاٹ۔۔۔۔لفظ عیاشی پہ نیلگوں آنکھوں میں یکلخت آگ دہک اٹھی۔سارا خوف کہیں جا سویا وہ پبھر کر بولی

شٹ اپ۔۔۔۔۔دماغ تو صحیح ہے آپ کا۔۔”

“میرا تو صحیح ہے بس تمہارا ہی صحیح کرنا ہے۔۔۔۔وہ اسے گھورتے ہوئے بولا”

کیا بکواس ہے یہ۔۔۔۔۔وہ چلائی

“میں نے آج تک اپنی بات سے کبھی کسی انکار کرتے نہیں دیکھا نا سنا۔۔مگر تم نے ایک بار نہیں بار بار انکار کیا۔میری عزت نفس میرے جذبات کی توہین کی۔۔۔۔۔تمہیں میرا پہلا پرپوزل ان ڈیسنٹ لگا تو میں نے پھر تمہیں ڈیسنٹ پرپوزل دیا مگر تم نے اسے بھی ریجیکٹ کر دیا۔۔۔۔۔”اس دو ٹکے کے پروفیسر کو مجھ پر ترجیح دی”اس سے افئیر چلاتے وقت تمہیں حرام حلال جائز نا جائز یاد رہا۔۔۔میں بدکردار ہوں بدکردار لڑکی ڈیزرو کرتا ہوں “یہی کہا تھا نا تم نے۔۔۔۔۔”سو اپنے بارے میں کیا خیال تمہارا۔۔۔۔؟سرخ آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔

“مجھے آپ کی کوئی بھی فضول بات نہیں سننی۔جانے دیں مجھے۔۔۔۔وہ متوحش ہو کر دروازے کی طرف لپکی جو کہ کھلا ہوا تھا۔۔۔

ماحر نے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی اسکے بازو کو جکڑا اور قریب رکھے صوفے پر دھکیل دیا۔۔۔

ہوش میں تو ہیں آپ۔۔۔۔۔وہ صوفے سے اٹھتے ہوئے بولی

ہوش میں آنے کی اب تمہاری باری ہے۔۔۔۔۔وہ اسے واپس صوفے پر دھکیلتے ہوئے بولا۔۔وہ اسکی اس حرکت پر سراسیمہ ہو گئی۔۔۔بھل بھل آنسو بہنے لگے

کیا چاہتے ہیں آپ۔۔۔۔اللّٰہَ کا واسطہ ہے مجھے جانے دیں اور میرا پیچھا چھوڑ دیں۔۔۔۔۔آپ جو چاہتے ہیں وہ میرے لئیے ناممکن ہے۔۔۔۔۔۔”

کیوں ناممکن ہے۔۔۔۔۔۔اس پروفیسر کے ساتھ بنا کسی رشتے کے گھوم سکتی ہو اسکا وقت رنگین بنا سکتی ہو تو میرا کیوں نہیں اور ویسے بھی میں نے تو تمہیں سیدھے طریقے سے شادی کی آفر کی تھی۔۔۔۔۔۔

اسکے ساتھ میں بنا کسی رشتے کے نہیں گھومتی رہی۔۔نکاح ہوا ہے ہمارا۔۔۔۔۔۔”وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ بولی

جھوٹ بول رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔پہلے حیران اور پھر مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا

اللّٰہ کی قسم سچ کہہ رہی ہوں،جب آپ نے مجھے پرپوز کیا تھا اس سے ایک دن پہلے میرا اس کے ساتھ نکاح ہوا تھا۔۔۔۔۔”

تم میری فلم میں بھی کام نہیں کر سکتی مجھ سے تعلق بھی نہیں رکھ سکتی۔۔شادی بھی نہیں کر سکتی کیونکہ تمہارا آلریڈی نکاح ہو چکا ہے۔۔۔۔۔رائٹ۔۔۔۔؟

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔”

مگر جانتی ہو میں تمہیں حاصل کیے بنا نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔۔تم میرے لئیے چیلنج بن چکی ہو اب

لیکن میرا تو نکاح۔۔۔۔”

“۔۔۔۔۔۔۔مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا میرے پاس ایک سولیوشن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔تم اس شخص سے طلاق لو گی اور مجھ سے نکاح کروگی۔”میرا جب تم سے دل بھر جائے گا میری ضد پوری ہو جائے گی تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔پھر تم دوبارہ اس پروفیسر سے شادی کر لینا مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔۔۔”اس طرح سے حلالہ بھی ہو جائے گا تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نہایت سکون سے بولا

جبکہ حیات عبدالرحمان کو لگا اسکے پیروں تلے جیسے کسی نے زمین کھینچ لی ہو۔۔۔۔۔۔مارے صدمے کے اسے اپنی رگیں پھٹتی ہوئی محسوس ہوئیں”