Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 06)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 06)
Meri Hayat By Zarish Hussain
سوری میں موویز وغیرہ میں کام نہیں کر سکتی۔۔
میں پہلے ہی انہیں فون پر انکار کر چکی ہوں پھر بھی انہوں نے آپ کو بھیج دیا۔۔۔ میری طرف سے صاف معذرت سمجھئیے۔۔۔۔ناگواری سے کہتے ہوئے حیات نے صاف انکار کیا۔۔۔۔۔
دیکھئیے میم پلیز انکار مت کیجئے۔۔ ہمارا سارا سیٹ اپ ہو چکا ہے۔۔۔آپ جو بھی شرائط رکھنا چاہیں ہمیں منظور ہونگیں۔۔۔۔۔آپ جتنا بھی معاوضہ لینا چاہیں گی ہم آپ کو دیں گے پلیز انکار مت کیجئے۔۔۔ اس نے اصرار آمیز لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
حیات کی خوبصورت پیشانی شکن آلود ہوگئ۔۔
بات معاوضے کی نہیں ہے۔۔ مجھے اس طرح کے کاموں میں انٹرسٹ نہیں۔ اور نا میں اس طرح کے کام کر سکتی ہوں۔ مجھے یہ فیلڈ ہی پسند نہیں سو اسلئیے بات ختم اور میری طرف سے معذرت۔۔۔تحمل سے کہتے ہوئے وہ بات ختم کر کہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔گویا اس بات کا اشارہ تھا کہ مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتی اب آپ تشریف لے جا سکتے ہیں۔۔مگر مقابل بھی ڈھیٹ بننے پر مجبور ہوا شائد۔۔لجاجت سے کہتے ہوئے اسے روکنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔
میم پلیز میری بات سنیئے آپ ایک بار۔۔۔۔
دیکھئیے مسٹر۔۔میں شائستگی سے اسلئیے معذرت کر رہی ہوں کیونکہ آپ میرے گھر میں کھڑے ہیں اگر کہیں باہر ہوتے۔تو ایسی آفر کرنے پر میں آپ سے اتنے آرام سے بات نا کر رہی ہوتی۔۔آپ کو ایک بات سمجھ نہیں آتی۔میں نے کہا ہے نا مجھے یہ کام نہیں پسند۔۔۔نا حرام پیسہ کمانے میں انٹرسٹ ہے۔۔۔سو برائے مہربانی دوبارہ مجھ سے نا کنٹیکٹ کرنے کی کوشش کیجئے گا اور نا میرے گھر آنے کی زحمت۔۔۔اب کی بار اسے غصہ آ گیا اور وہ اپنے لہجے کی تلخی پر قابو نہیں رکھ سکی۔۔۔
فرقان کے چہرے پہ مایوسی چھا گئ۔۔۔۔
امید ہے اب بات آپ کی سمجھ میں آ گئی ہوگی۔۔ملازمہ چائے لا رہی ہے۔۔پی کر جا سکتے ہیں آپ کہتے ہوئے گیسٹ روم سے نکل گئی۔۔۔پیچھے فرقان پیشانی کو مسلتے ہوئے سوچ رہا تھا اب ماحر سر کو کیا جواب دوں گا۔۔۔۔۔
آسمان کی بلندیوں پر اڑتے اڑتے اس نے اپنے ارد گرد فضا میں محسور کر دینے والی خوشبو محسوس کی۔۔گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے اس نے خوشبو کو اپنے اندر اتارنا چاہا۔۔اس نے خوشبو کے منبع کو ڈھونڈھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔۔آسمان پر ستارے ویسے ہی جگمگا رہے تھے۔۔
آج حیات یونیورسٹی آئی تو حورین کے بغیر اس کا بالکل دل نہیں لگ رہا تھا۔۔
وہ بے دلی سے کلاس روم میں آئی۔۔فرحین اسے دیکھتے ہی پاس آ کے بیٹھ گئ۔۔۔ہائے حیا کیسی ہو۔۔۔؟
ٹھیک ہوں۔۔۔اس نے ہاتھ ملاتے ہوئے جواب دیا
حورین کی شادی ہوگئی۔۔؟وہ چلی گئی کیا۔۔؟اس نے استفسار کیا۔۔۔
ہاں۔۔۔ایک لفظی جواب دے کے اس نے کلاس پر نظر دوڑائی تو کئی لڑکوں کی نگاہیں خود پر مرکوز پائیں۔۔
کتنے ہی دل مچلتے تھے اسے دیکھ کر۔۔۔۔
مگر اسکی ریزرو نیچر کی وجہ سے کسی میں ہمت نا ہوتی تھی کہ اس سے فری ہونے کی کوشش کرے۔۔۔۔
لڑکوں کی گھورتی نگاہوں کی تو عادی ہوچکی تھی اب۔۔ویسے بھی وہ اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ اگر لڑکی خود مضبوط کردار کی مالک ہو تو کسی لڑکے میں جرات نہیں کہ وہ اس کا بال بھی بیکا کر سکے۔سر جھٹک کر اس نے نوٹ بک کھول لی۔۔
اسی وقت ارتضیٰ حسن نے کلاس روم میں قدم رکھا
پہلی نظر ہی فرنٹ چیئر پر بیٹھی حیات عبدالرحمان پر پڑی۔جو اپنی نوٹ بک کی طرف متوجہ تھی مگر کلاس روم میں اچانک سناٹا چھا جانے کی وجہ سے حیات نے سر اٹھایا تو نظر سیدھی اسی سے جا ٹکرائی جو اسے نظروں کے راستے شائد دل میں اتار رہا تھا۔۔۔
حیات کے دیکھنے پر اس نے غیر محسوس انداز میں اپنی نظروں کا زاویہ تبدیل کیا مگر حیات محسوس کر چکی تھی۔۔نا جانے کس احساس کے تحت اس کا دل دھڑ دھڑ کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگرچہ لیکچر کے دوران اس نے دوبارہ ایک بار بھی براہ راست اس کی طرف نہیں دیکھا مگر وہ اپنا سر جھکائے بیٹھی رہی اور انکے کلاس سے جانے کے بعد ہی سر اٹھایا۔۔۔
یونہی دن گزرتے گئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا اسے حورین کے بغیر یونیورسٹی آتے ہوئے سو اب وہ دھیرے دھیرے وہ عادی ہوتی جا رہی تھی۔۔اسے اکیلا دیکھ کر کئی لڑکیوں نے اسکے قریب آنے دوستی کرنے کی کوشش کی مگر اس نے ہیلو ہائے کے سوا کسی کی بے تکلفی قبول نہیں کی البتہ عینی نامی ایک لڑکی ایسی تھی جوحیات کے لفٹ نا کروانے کے باوجود بھی اسکے پاس آکے بیٹھ جاتی اور باتیں کرتی۔۔حیات اسکی کسی بات کا جواب دیتی اور کسی کا نہیں۔۔ عینی کی کمپنی اسے بری تو نہیں لگتی تھی مگر اسے بطور فرینڈ بھی قبول نہیں کیا تھا۔۔۔۔حورین سے تقریباً اسکی روز ہی بات ہوتی تھی ارتضیٰ حسن کا وہ لازمی پوچھتی تھی۔۔کہ وہ کلاس روم میں اسکی طرف دیکھتا تو ہوگا مگر حیات اسکی بات جھٹلا دیتی تھی۔۔حالانکہ یہ سچ تھا اسے بہت بار کلاس روم میں ارتضیٰ حسن کی نگاہیں خود پر محسوس ہوتی تھیں مگر جب وہ دیکھتی تو وہ اسکی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا۔۔۔
مگر وہ جانتی تھی کہ وہ اسکی طرف متوجہ نا ہو کے بھی متوجہ ہے۔۔۔۔
اپنی کیفیات کی بھی اسے سمجھ نہیں آتی تھی۔۔۔
ارتضیٰ حسن کو دیکھتے ہی وہ نروس ہو جاتی تھی اس کا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگتا تھا۔۔ناجانے کیا کشش تھی یا کوئی جذبہ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
آج کلاس کے بعد وہ فرحین کے insist کرنے پر اسکے ساتھ کیفے ٹیریا چلی آئی۔۔۔
کیا لوگی تم۔۔۔۔؟
اوکے میں ایسا کرتی ہوں جوس اور سینڈوچز لے کے آتی ہوں۔۔فرحین نے اس سے پوچھا اور اس کے جواب دینے سے پہلے ہی کاؤنٹر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
۔۔۔حیات انگلیاں چٹخاتے ادھر ادھر نظریں دوڑا رہی تھی دفتعا نظر کونے والی ٹیبل پر بیٹھے ارسلان بھٹی پر پڑی وہ بھی حیات کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔نظریں ملنے پر خباثت سے مسکرایا اور آنکھ دبائی۔۔۔۔حیات نے ناگواری سے چہرہ پھیرا۔۔ اس بندے کی حرکتوں کو وہ کئی دنوں سے برداشت کر رہی تھی۔۔ مگر چونکہ ابھی تک براہ راست وہ اسکے منہ لگا نہیں تھا اسلئے وہ اگنور کرنے پہ مجبور تھی۔۔۔۔
حیا یہ جوسز تو پکڑو میں سینڈوچز لے لوں۔۔۔فرحین نے اسے وہیں کھڑے کھڑے آواز لگائی۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں میں جوس کے گلاس پکڑے ٹیبل کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اپنی ٹیبل سے اٹھ کر کاؤنٹر کی طرف بڑھتا ارسلان بھٹی اس سے بری طرح ٹکرایا۔۔۔ٹکرانے کا انداز ایسا تھا کہ جوس نیچے گرنے کے بجائے چھلک کہ سارے کا سارا حیات پر گرا اور وہ بھی اسطرح کے اسکے گلے سے ہوتا ہوا اسکی شرٹ کے فرنٹ کو بھگوتا چلا گیا۔۔۔۔
او سوری مس۔۔۔۔۔زبان سے سوری بول رہا تھا لیکن نگاہیں مسکرا رہی تھیں جن سے جھلکتی کمینگی صاف دکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔۔
اور یہ کمینگی بھری غلیظ نظریں اسکی بھیگی شرٹ پر تھیں۔۔۔
ٹکراتے ہوئے اسکے ہاتھ بھی حیات کے جسم سے مس ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
حیات کا غصے اور خجالت سے چہرہ سرخ ہو گیا۔۔
فوراً سے اپنے دوپٹے کو کھینچ کر شرٹ کا فرنٹ کور کیا۔۔۔۔۔
آس پاس بیٹھے سٹوڈنٹس بھی انہی کی طرف
متوجہ تھے۔۔۔۔۔۔
حیات جانتی تھی کہ یہ گھٹیا حرکت اس نے جان بوجھ کے کی ہے۔۔۔ مگر ارسلان بھٹی جیسے شخص کے منہ لگنا بات بڑھانے کے مترادف تھا۔۔۔سو اسے شدید غصے سے محض اسے دیکھ کر ہی رہ گئی۔۔۔ ٹیبل پر پڑے اپنے بیگ کو اٹھا کے وہ کیفے سے جانا چاہ رہی تھی کہ ارتضیٰ حسن اور چئیرمن صبغت اللّٰہ چانڈیو کو وہاں آتا دیکھ کے رک گئ۔۔۔
۔۔چیئرمین صاحب ہر مہینے کیفے کا وزٹ کر کے کھانے پینے کی چیزوں کی کوالٹی چیک کیا کرتے تھے۔۔۔جس وقت وہ وہاں میں اینٹر ہو رہے تھے اسی وقت انہوں نے بھی یہ منظر دیکھا تھا۔۔
ارسلان بھٹی کی حرکت ارتضیٰ حسن کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہی تھی۔۔
اور جب دیکھا کہ لڑکی حیات عبدالرحمان ہے تو بمشکل اپنے اندر پیدا ہونے والے اشتعال پر قابو پایا۔۔
ورنہ دل کر رہا تھا کہ آگے بڑھ کر اس گھٹیا لڑکے کا چہرہ تھپڑوں سے لال کر دے۔۔
وہ ایسا کر بھی دیتا اگر چیئرمین صاحب ساتھ نا ہوتے تو۔۔۔۔۔۔۔
۔۔ ارسلان بھٹی جیسے لڑکوں کی نفسیات سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔۔
کیا ہو رہا تھا۔۔۔۔؟؟چئیرمن صاحب نے سخت آواز میں پوچھا۔۔ان کا مخاطب ارسلان بھٹی ہی تھا جو کہ چیئرمین اور وائس چیئرمین کو اچانک وہاں دیکھ کر تھوڑا گھبرایا۔۔۔۔۔
کیفے میں موجود باقی سٹوڈنٹس بھی سنبھل گئے۔۔۔
کچھ نہیں سر۔۔یہ محترمہ جوس پکڑے تیزی سے چلی آ رہی تھیں۔اچانک سے میرے سامنے آ گئیں میں نے بچنے کی بہت کوشش کی لیکن یہ اپنی تیزی پر کنٹرول نہیں رکھ پائیں اور مجھ سے ٹکرا گئیں۔۔۔۔خاصے اعتماد سے جھوٹ بولتے ہوئے سارا الزام حیات پر ڈال دیا۔۔۔۔
چئیرمین صاحب نے تصدیق کیلئے حیات کی طرف دیکھا۔۔
بیٹا ٹھیک کہہ رہا ہے یہ۔۔۔۔۔؟؟
جی سر۔۔۔۔حیات نے بمشکل اثبات میں سر ہلایا تو
چئیرمن صاحب مطمئن ہوتے کیفے ٹیریا کے عملے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔
ارتضیٰ حسن نے ایک سخت اور انتہائی سرد نظر حیات پر ڈالی جو کہ ایک نظر ان کو دیکھ کر آنکھوں میں آئی نمی کو پیتے ہوئے کیفے سے باہر جانے لگی تھی۔۔۔۔
پارٹی عروج پر تھی۔۔۔
ایک رنگ و بو کا طوفان تھا جو ہر سمت پھیلا ہوا تھا۔
ہر کوئی اس طوفان بدتمیزی میں ڈوبا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔مگر جو ایسی پارٹیز کی جان تھا وہ اسوقت سارے ماحول سے بے گانہ لگ رہا تھا۔۔۔
سب سے الگ تھلگ بیٹھا وہ ڈرنک کر رہا تھا۔۔
جب سے وہ اس لڑکی کے گھر سے ہو کے آیا تھا تب سے ایسی پارٹیز سے جان چھڑا رہا تھا۔بھاگ رہا تھا۔۔
اسے کچھ بھی مزا نہیں دے رہا تھا۔۔
دل میں ایک آگ سی لگی ہوئی تھی۔۔۔
اس دن جب فرقان ناامید واپس آیا تھا اور آکے اسے حیات عبدالرحمان کے انکار کے بارے میں بتایا تھا
تب وہ دوسرے دن خود اسکے گھر گیا تھا۔۔
اسکے پیرنٹس اسکے ملازمین تو اتنے بڑے سپرسٹار کو وہاں دیکھ کے حیران رہ گئے۔۔۔فلم کی آفر کے جواب میں اسکے باپ نے پہلے تو معذرت کی مگر پھر فیصلہ اپنی بیٹی پر چھوڑا۔۔
اسےہلکی سی امید تھی شائد کہ اسکو اپنے روبرو پا کے وہ انکار نہیں کرے گی مگر اسوقت ماحر سکندر کی امیدوں پر پانی پھر گیا جب اسے نے حیات کا Roudly behavior دیکھا۔۔۔
بلیک کلر کے فل ڈریس میں چمکتے ہوئے شفاف چہرے کے ساتھ وہ پہلے سے بھی زیادہ حسین لگ رہی تھی۔۔
ماحر کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ اس دن ہوٹل میں اپنی فل تیاری کے ساتھ زیادہ اچھی لگ رہی تھی یا اسوقت
سمپل حلیے میں۔۔۔۔۔
ہاتھ میں فائل اور بیگ پکڑے وہ اسی وقت
یونیورسٹی سے آئی تھی۔۔۔۔
ماحر کو ایک ٹھنڈک سی اپنے اندر اترتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
مگر اسے اپنے گھر میں دیکھ کر حیات کے خوبصورت نقوش تن گئے تھے۔۔۔چہرے پہ پہلے حیرانی اور پھر سخت ناگواری اور برہمی کے تاثرات چھا گئے تھے۔۔ پہلے کی طرح ہی صاف انکار کرتے ہوئے وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔لیکن اس بار اس نے پہلے کی طرح شائستگی سے معذرت نہیں کی بلکہ روڈلی انداز میں برہمی کا اظہار کیا۔۔۔
تاہم اسکے پیرنٹس نے شائستگی سے فلم کی آفر اور اسکے رویے کیلئے معذرت کی تھی۔۔۔۔۔
وہ کلب میں بیٹھا تھا۔ مگر اس کا دل وہاں نہیں لگ رہا تھا۔۔۔کلب میں میں اسوقت جتنے لوگ تھے زیادہ تر ان میں شوبز کے ہی تھے۔۔۔
کئی لڑکیاں صرف اسکی وجہ سے اسکے پیچھے وہاں آئی ہوئی تھیں۔۔۔
مگر اسکی طرف سے نو لفٹ کا بورڈ دیکھ کے مایوس ہو گئی تھیں۔۔۔۔
وہ لان میں رکھی چئیرز میں سے ایک پر بیٹھ گیا۔۔
ارد گرد پودوں پر لائٹنگ کی گئی تھی۔جو کہ لان کی تاریکی کو دلکش روپ دے رہی تھیں۔۔
وہ ہاتھ میں پکڑے شیشے کے گلاس سے چھوٹے چھوٹے سپ لے رہا تھا۔۔
۔۔معا” اس کا کلوز فرینڈ علی کاظمی جو کہ ایک سنگر تھا۔اسکے قریب بیٹھتا ہوا زومعنی لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔کوئی کبوتری گلے پڑنے کی کوشش کر رہی ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔؟؟
تم کیسے کہہ سکتے ہو۔۔۔۔؟اسے دیکھتے ہوئے وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔۔۔
تمہارے چہرے کی بے زاریت بتا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ ہنسا
اور ویسے بھی میں جانتا ہوں انڈسٹری میں کوئی بھی چڑیا ایسی نہیں جس کو تم دانہ ڈالو اور وہ دانہ نا چگے۔۔۔
ہاں یہ الگ بات ہے کہ دانہ چگنے کے بعد بھی کئی کبوتریاں مستقل تمہارے گلے پڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔۔اس نے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔
لیکن اس بار معاملہ الٹ ہے یار۔۔۔۔۔۔
اس بار جو چڑیا ہاتھ لگی وہ ہاتھ لگ کے بھی ہاتھ نہیں آ رہی اور ایسا میرے ساتھ پہلی بار ہوا ہے۔
اس کو پہلے اپنی فلم کی ہیروئن اور پھر گرل فرینڈ بنا کے اس صاف و شفاف گنگا میں ہاتھ دھونے کا ارادہ تھا میرا۔۔
مگر صاف انکار کر گئی وہ۔تب سے دل زخمی پرندہ بنا ہوا ہے۔۔ نا اس کروٹ چین۔۔۔ نا اس کروٹ سکون۔۔۔۔
بس ہر طرف بے قراری ہی بے قراری ہے۔۔
وہ آہ بھرتا ہوا بولا۔۔۔۔۔۔
“امیزنگ۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے یقین نہیں آ رہا۔ اتنے بڑے سپرسٹار کو بھی کوئی لڑکی انکار کر سکتی ہے۔۔۔
تم تو ہر لڑکی کا سپنا ہو۔۔ایسا کیا تھا اس لڑکی میں۔جو وہ ماحرسکندر خان کو انکار کر گئ۔۔۔ کیا وہ بہت حسین تھی۔۔۔؟ حیرانی سے کہتے ہوئے آخر میں پرتجسس ہوا۔۔۔۔
ہاں یار وہ چہرہ ہی ایسا ہے جو ایک بار دیکھ لے بار بار دیکھنے کی تمنا کرے۔۔۔۔خالص ترکش بیوٹی۔۔۔۔۔مجھے یقین تھا وہ میری فلم کی ہیروئن بنی تو فلم سپر ہٹ ہو گی۔۔مگر وہ راضی نہیں ہوئی سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں۔۔میڈیا والے بھی سن گن لینے کی کوشش میں ہیں کیونکہ میں نے کہہ دیا تھا کہ اس بار نیا اور سب سے حسین چہرہ ہوگا۔۔۔
اس لڑکی سے بات طے کرنے کی زمہ داری میں نے فرقان اور فراز کو سونپی تھی۔۔لیکن ان دونوں ایڈیٹس نے۔وہ اسے پوری بات بتانے لگا۔۔۔
تو اب تمہارا کیا ارادہ ہے۔۔۔۔؟پوری بات سن کر احمر نے استفسار کیا۔۔۔۔۔
پتہ نہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی اب بات فلم کی نہیں میری ضد کی ہے۔۔پیسوں کا نقصان تو میں برداشت کر سکتا ہوں لیکن اس لڑکی کا انکار مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا مانا کہ وہ بہت حسین ہے مگر اسکے علاوہ تو اسکے پاس ایسا کچھ نہیں ہے۔۔ نا میری طرح شہرت ۔۔ نا اتنی دولت۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اتنا اٹیٹوڈ کیوں۔۔؟وہ سلگتے ہوئے لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔۔
لگتا ہے وہ اپسرا ماحر سکندر کے دل کو گھائل کر گئی۔وہ مسکرایا۔۔۔۔۔
تم جانتے ہو میں صرف دل بہلاتا ہوں۔۔۔کوئی بھی حسین سے حسین تر لڑکی چاہے آسمان سے اترے یا زمین سے نکلے۔۔۔۔ہمیشہ کیلئے میرے دل میں نہیں ٹک پاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسین سے حسین تر چہرے بھی تب تک میرے لئے پرکشش رہتے ہیں جب تک میری دسترس میں نہیں آجاتے۔۔۔شائد اس لڑکی کیلئے میری بے چینی کی وجہ بھی یہی ہے۔۔۔ جب تک وہ ایک بار مجھے مل نہیں جاتی تب تک دل یونہی بے چین رہے گا۔۔۔۔ رعونت بھرے لہجے میں اینڈ میں کچھ بے بسی کی آمیزش شامل ہوگئ تھی۔۔۔۔
۔۔ یار چھوڑو اس لڑکی کو۔۔انڈسٹری میں کئی حسین چہرے ہیں تم انہی میں سے کسی کو ہیروئن لے لو۔۔۔
علی نے مشورہ دیا۔۔۔۔
نہیں ہیروئن ہوگی میری فلم کی تو صرف اور صرف وہی ہوگی۔۔۔۔اسکا انکار مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا
اسکے انکار نے مجھے ضد دلا دی ہے۔۔۔۔انداز بھی ضدی ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“۔ اچھا اگر یہ بات ہے تو میرے پاس ایک فل پروف پلان ہے اگر تم اس پر عمل کرو تو نا صرف وہ تمہاری فلم کی ہیروئن بننے گی بلکہ تمہاری گرل فرینڈ تک بننا پڑے گا اسے۔۔۔۔
وہ کیا۔۔۔۔؟ماحر نے سوالیہ انداز میں آبرو اچکائے
تو وہ آگے ہو کر اسے پلان بتانے لگا۔۔۔۔۔۔
تمہیں یقین ہے اسکے بعد وہ فلم میں کام کرنے پر راضی ہو جائے گی۔۔۔؟ماحر نے پر سوچ انداز میں سوال کیا۔۔۔۔۔
بالکل۔۔۔۔ وہ جوش سے بولا
ٹھیک ہے کرتا ہوں تمہارے پلان پر عمل۔۔۔اب وہ ریلیکس سے انداز میں گلاس میں پکڑا مشروب گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔۔۔۔۔
دل پر عجیب سی کیفیت طاری تھی۔۔بے زاری کے عالم میں کمپیوٹر شٹ ڈاؤن کیا اور وہاں سے اٹھ کر وہ کھڑی میں آن کھڑی ہوئی۔سامنے لان میں مالی بابا پودوں کو پانی دے رہا تھا۔۔
خوبصورت دائرے میں لگے زرد پھول سبز پتوں کے درمیان انتہائی دلفریب منظر پیش کر رہے تھے۔۔
اسے لگا ان زرد پھولوں میں یاسیت ہے۔ایک پرسوز سا حسن ان زرد پھولوں میں نپہاں ہے۔وہ کھڑکی سے ہٹ کر چیئر پر آ کر بیٹھ گئ۔۔
آج کیفے ٹیریا میں ارسلان بھٹی کی حرکت نے اسے شدید غصہ دلایا تھا مگر وہ ناچاہتے ہوئے بھی خاموش رہی۔اوپر سے ارتضیٰ سر نے جس انداز میں اس پر نظر ڈالی تھی عجیب کاٹ دار نظریں تھیں۔ وہ عجیب بے کلی بے چینی اور اضطراب میں مبتلا ہوگئی تھی۔
کہیں انہوں نے بھی اس بات کو جان تو نہیں لیا تھا کہ وہ لڑکا مجھ سے جان بوجھ کے ٹکرایا تھا۔پھر چیئرمین صاحب کے سامنے میں نے اسکی حرکت پر پردہ ڈال دیا شائد یہی بات انہیں پسند نہیں آئی ہوگی۔۔ہاں شائد یہی بات ہوگی تبھی انہوں نے اسطرح سرد انداز سے دیکھا تھا میری طرف۔۔وہ بے چینی سے اپنی انگلیاں مروڑنے لگی۔۔۔۔۔
لیکن وہ تو بات بڑھانا نہیں چاہتی تھی تبھی چیئرمین صاحب سے اسکی شکایت نہیں کی۔۔
اس نے اپنے بیڈ کی طرف نظر گھمائی مون سکون سے بلینکٹ اوڑھے اسکے بیڈ پہ سو رہا تھا آجکل وہ ڈیلی ضد کر کے اسکے پاس سوتا تھا۔۔۔
اب تو سائرہ ممی بھی اسے منع نہیں کرتی تھیں۔۔
آجکل انکے سر میں کافی درد رہنے لگا تھا جسکی وجہ سے ان کی سوشل ایکٹیویٹز بھی خاصی کم ہو گئ تھیں۔۔۔عبدالرحمان صاحب بھی کچھ پریشان سے رہنے لگے تھے مگر وہ انکی پریشانی کی وجہ جان نہیں پائی
شائد سائرہ ممی کی وجہ سے پریشان ہوں گے اسکے ذہن میں یہی سوچ آئی تھی۔۔۔۔تمام تر سوچوں کو جھٹکتی ہوئی وہ بیڈ پر آئی مون کے قریب لیٹ کر اسے سہی سے کمبل اوڑھایا اسکے ماتھے پر بوسہ دیا اور اپنا سر تکیے پر رکھ کر آنکھیں موند لیں مگر چونکہ طبیعت میں عجیب سی بے چینی تھی کوشش کے باوجود وہ آج کیفے ٹیریا والا واقعہ ذہن سے جھٹک نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔اگر اس بات کا پتا حورین کو چلتا تو وہ اس پر خوب بگڑتی کہ تم چپ کیوں رہی اس کا منہ کیوں نہیں توڑا۔۔چلو منہ نہیں توڑا تو کم سے کم چیرمین صاحب کے پوچھنے پر شکایت تو کر سکتی تھی۔۔۔
اس کا حورین کو اس بارے میں بتانے کا ارادہ بھی نہیں تھا۔۔ویسے بھی وہ دو دن سے حورین سے ناراض تھی۔اس سے بات نہیں کر رہی تھی۔۔۔ڈھیروں کالز اور میسجز آ چکے تھے اسکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر حیا نے ناراضگی ختم نہیں کی تھی۔۔۔۔
۔۔چند دن پہلے اس نے جب حورین کو ماحر سکندر کے فلم آفر کرنے اور گھر آنے کے بارے میں بتایا تو وہ ششدر رہ گئ۔ کتنے ہی پل بول نہیں سکی۔۔بعد میں اتنے زور وشور سے چیخی کہ حیات کو اپنے کانوں کے پردے پھٹتے معلوم ہوئے۔۔۔۔۔۔۔
مائی گاڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماحر۔۔۔۔۔۔۔۔ فلمسٹار ماحرسکندر تمہارے گھر آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ متحیر تھی۔۔۔۔
ہاں تو اس میں اتنا گلہ پھاڑ کے حیران پریشان ہونے کی کیا تک بنتی ہے۔۔۔۔حیا کو اس کا ری ایکشن بالکل نا بھایا۔۔۔۔۔۔
ارے یار اتنا بڑا سپرسٹار تمہارے گھر آیا اور میں حیران بھی نا ہوں۔۔۔ کمال کرتی ہو۔۔۔۔کاش میں بھی پاکستان ہوتی اور اسوقت تمہارے گھر ہوتی جب وہ تمہارے گھر آیا تھا۔۔۔۔۔۔ حورین حسرتِ سے بولی ویسے جب اسکے اسسٹنٹ نے میرا اور اس شوخی فرحین کا نمبر مانگنے کے بعد تمہارا نمبر مانگا تھا تو مجھے تو تبھی شک ہو گیا تھا کہ ہمارے نمبر تو اس نے اصل میں تمہارا نمبر حاصل کرنے کیلئے لئے تھے۔اور اس فرحین کی بات پہ تو مجھے بالکل یقین نہیں آیا تھا جب اس نے پوری یونیورسٹی میں شوشا چھوڑا کہ ماحر سکندر نے اسے فلم آفر کی ہے۔۔۔۔
۔دیکھا ہیروئن تو وہ تمہیں بنانا چاہتا تھا۔۔وہ خوش ایسے ہو رہی تھی جیسے حیات کے بجائے اسے ماحرسکندر کی آفر آئی ہو۔۔۔
پھر کیا کہا تم نے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ اس نے بے صبری سے پوچھا
تم جانتی تو ہو مجھے فلموں اور فلمسٹارز میں کوئی دلچسپی نہیں۔۔اسلئیے میں نے انکار کر دیا
۔۔ کیا۔۔۔۔۔۔۔ انکار کر دیا تم نے۔۔۔۔؟؟؟
وہ اتنا ہینڈسم۔ اتنا ڈیشنگ۔ انڈسٹری کا سب سے ٹاپ سپرسٹار ہے۔ہر لڑکی اسکے خواب دیکھتی ہے۔ اور تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم نے اسے اہمیت ہی نہیں دی اسکی آفر ریجیکٹ کر دی۔۔۔حورین کو سخت صدمہ لگا
کیا مطلب ہے تمہارا میں اسکی آفر ایکسیپٹ کر لیتی
فلم میں کام کر کے اپنے لئے گناہوں کا گڑھا کھودتی۔
تمہارے اس سپرسٹار کو خوش کرتی اور اپنے خدا کو ناراض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیا نے انتہائی ناراضگی سے کہا
نن نئیں یار۔۔۔۔میرا یہ مطلب نہیں تھا کہ تم فلم میں کام کرو۔۔حیا کی ناراضگی پر وہ گڑبڑا گئی تھی۔۔۔
پھر کیا مطلب تھا۔۔۔۔۔۔؟حیات کو غصہ آ گیا تھا
دیکھو میری جان میں صرف یہ کہنا چاہتی ہوں کہ تم اسے صاف انکار نا کرتی۔۔اتنا پڑا سپرسٹار خود چل کے تمہارے گھر آیا اس کا واضع مطلب ہے کہ وہ تم سے امپریس ہوا ہے۔۔۔تم اس سے دوستی بڑھاتی پھر اسکے دل پر مکمل قبضہ کرتی۔۔اور ہو سکتا تھا وہ جلد ہی تمہارے عشق میں پاگل ہو کے تمہیں پرپوز بھی کر دیتا
سوچو اتنے بڑے سپرسٹار کی بیوی ہوتی تم مجھ سمیت ہر لڑکی تمہاری قسمت پر رشک کرتی۔کیا سین ہوتا جب تم اسکے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔شٹ اپ حورین۔۔۔۔۔۔۔وہ ایک جذب کے عالم میں بولے جا رہی تھی جب لب بھینچے اسے سنتی حیات نے ناگواری سے ٹوکا۔۔۔۔
محترمہ وہ مجھے دوستی کی نہیں فلم کی آفر کرنے آیا تھا۔۔۔اور ویسے بھی اگر دوستی کی آفر کرتا تو بھی میری طرف سے انکار ہی ہوتا۔۔۔۔
اور میں نے تمہیں کتنی بار کہا ہے کہ مجھے اسطرح کے گھٹیا لوگ نہیں پسند جو حرام کماتے ہوں۔۔حرام کھاتے ہوں۔۔حرام پیتے ہوں۔۔گناہ کرتے ہوں۔۔۔گناہ کرواتے ہوں۔۔۔۔ناچ گانا جنکا لائف سٹائل ہو۔۔۔۔
جنکی زندگی میں گناہ ثواب حرام حلال کی تمیز نا ہو
چاہے انکے پاس کتنی ہی دولت ہو۔۔شہرت ہو۔۔ ایسے لوگ کبھی بھی میری لائک لسٹ میں نہیں آ سکتے
میں نے غلطی کی تمہیں بتا کے۔۔آئندہ سے اس ٹاپک پہ مجھ سے بات مت کرنا ۔۔۔ وہ تلخ لہجے میں بولتی گئی اور غصے سے کال کاٹ دی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیڑھیاں چڑھتا ہوا وہ جیسے ہی ہوٹل کے پرائیویٹ روم میں پہنچا۔بلیک ساڑھی میں ملبوس مثال شیرانی اسکے گلے لگ گئی۔۔۔
آپ کا دل مجھ سے بھرتا جا رہا ہے ماحر۔ نا پہلے کی طرح ملتے ہو نا بات کرتے ہو۔۔۔۔میٹھے لہجے میں شکوہ کیا گیا۔۔
نو ڈارلنگ۔ ابھی اتنا زیادہ بھی نہیں بھرا کہ بالکل ہی چھوڑ دوں۔بزی تھا بہت۔۔۔۔۔۔اسکے شانوں کے گرد ہاتھ رکھتے ہوئے صوفے پر بٹھایا۔۔۔۔۔
جتنی بھی مصروفیات ہوتیں لیکن میرے لئیے تو تھوڑاٹائم نکالنا چاہئیے تھا نا آپ کو۔۔۔آفٹر آل گرل فرینڈ ہوں آپکی۔۔جانتے ہیں کتنا مس کیا میں نے آپ کو۔۔۔۔لاڈ بھرے انداز میں سینے پر سر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اوکے آج تمہارے ساتھ بہت سا ٹائم سپنڈ کر کے اتنے دن نا مل سکنے کی ساری کسر پوری کر دوں گا۔۔۔وہ ہنسا
سنا ہے نئی فلم بنا رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔؟
ہممم۔۔۔۔وہ اسکے گھنے ریشمی گیسوؤں میں انگلیاں چلا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
کس کو ہیروئن لے رہے ہیں۔۔۔۔۔سینے سے سر اٹھا کے آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ابھی ڈیسائیڈ نہیں کیا۔۔۔۔۔اب اسکے چہرے کے
خدو خال کو انگلیوں سے چھو رہا تھا۔۔۔۔
مگر میڈیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑو نا میڈیا کو اور ان سب کو آؤ اپنی باتیں کرتے ہیں۔۔مخمور لہجے میں کہتے ہوئے اسے قریب کیا۔۔۔
پتا ہے ماحر میری خواہش ہے میں ہر فلم آپ کے ساتھ کروں۔۔۔آپ کے سوا کوئی مجھے ہاتھ نا لگائے۔۔۔۔۔
اس نے اک ادا سے کہا۔۔۔۔۔
اوکے موقع ملا پھر سےاکٹھے کام کرنے کا تو ضرور کریں گے۔۔۔۔۔۔۔وہ جان چھڑاتے ہوئے بولا اور اسکا سر اپنی گود میں رکھ کے گردن پر جھکنے لگا۔۔۔۔۔
موقعے کی کیا بات ہے اسمیں۔۔۔آپ تو خود فلمیں بناتے ہیں۔۔۔ابھی جو فلم بنانے جا رہے ہیں اس کیلئے ہیروئن تو ابھی سلیکٹ نہیں کی آپ نے تو مجھے لے لیں۔۔۔۔دل کی بات زبان پر آ ہی گئی۔۔۔۔۔
تم نے مجھے اپنے ساتھ ٹائم سپنڈ کرنے کو بلایا ہے یا فضول بکواس سنانے کو۔۔۔۔ماحر کا موڈ بگڑا۔۔۔
اسے پرے دھکیلتے ہوئے ٹیبل سے سگریٹ اور لائٹر اٹھایا۔۔۔۔۔۔۔
سوری سوری ماحر میرا ہرگز مقصد آپ کا موڈ خراب کرنا نہیں تھا۔۔۔وہ بوکھلائی اور اگلے ہی پل اس سے لپٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو مثال تم میری گرل فرینڈ بھی ہو اور کو سٹار بھی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں ہر فلم میں تمہیں ساتھ لوں گا۔۔۔۔۔صاف صاف لفظوں میں کہا
اوکے ٹھیک ہے اپنا موڈ تو ٹھیک کریں اتنے دنوں بعد آپ آئے ہیں میرے پاس۔۔۔۔۔پھر سے گلے میں بانہیں ڈال کے اس کا دھیان اپنی طرف لگانے لگی۔۔۔۔کیونکہ ماحرسکندر کو ناراض کرنے کا مطلب اسکی توجہ سے ہاتھ دھونا تھا جو کہ اسے کسی صورت منظور نہیں تھا۔۔۔
ماحرسکندر خان تمہارے دل اور تمہاری فلم کی ہیروئن مثال شیرانی ہی ہوگی۔۔۔اگر کوئی اور ہمارے بیچ آئی تو برباد ہو جائے گی۔۔یہ مثال شیرانی کاںھ تم سے وعدہ ہے وہ دل ہی دل میں اس سے مخاطب تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
