Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 49) Part - 1
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 49) Part - 1
Meri Hayat By Zarish Hussain
نفاست و خوبصورتی سے سجے ڈائننگ ہال میں شیشے کی وسیع و عریض ٹیبل مختلف انواع و اقسام کے کھانوں سے سجی ہوئی تھی۔ہال کی وسطی دیوار میں آویزاں قد آدم گلاس ڈور سے نظر آتا باہر لان کا دلکش
منظر سرسبز درختوں اور پودوں کے درمیان بے تحاشا
حسین پھولوں کی سنگت میں لگا فوارہ سحر انگیزی کا مظہر تھا۔
ٹیبل کے گرد چاروں طرف کرسیوں پر ساری خان فیملی جمع تھی۔۔یہ سب اپنی مصروفیات کی وجہ سے ایک دوسرے کو بہت کم ہی ڈائننگ ٹیبل پر جوائن کر پاتے تھے۔۔باقی سب تو پھر بھی ایک ساتھ بیٹھ کر کسی نا کسی ٹائم کا کھانا کھانے کا موقع نکال لیتے تھے مگر ماحر تو بالکل ہی کم جوائن کر پاتا تھا۔کبھی کبھار بس ڈنر پر ہی پایا جاتا۔لیکن آج وہ اسپیشلی لنچ پر موجود تھا۔وجہ تھی سکندر علی خان اور فائزہ سکندر کا لمبے عرصے کے لئیے آؤٹ آف کنٹری ٹور پر جانا۔۔۔اسی لئیے کھانے کی ٹیبل پر خوب رونق تھی۔۔۔سربراہ کی کرسی پر سکندر علی خان بیٹھے تھے انکے اطراف میں فائزہ سکندر اور ماحر بیٹھے ہوئے تھے۔باقی دائیں بائیں والی کرسیوں پر عبیر اور زین بھی اپنی اپنی بیگمات کے ساتھ براجمان تھے۔۔۔زین اور اسکی بیوی ماریہ جو کہ ایک مشہور نیوز اینکر تھی وہ بھی اپنے ہنی مون ٹور پر ساتھ ہی یورپ جا رہے تھے۔سکندر علی خان کو تین چار ملکوں میں کچھ کانفرنسز اور بزنس میٹنگز اٹینڈ کرنی تھیں۔۔۔جبکہ فائزہ سکندر کو اپنے بھائی کے گھر ورجینیا جانا تھا کیونکہ فاریہ اور اصفہان کے ہاں نیو مہمان آنے والا تھا۔۔۔۔اس سب میں کم از کم انہیں تین چار مہینے لگنے تھے۔۔۔۔۔تینوں بیٹے اور بہویں مہذبانہ انداز میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔۔۔
“جب سکندر علی خان کھانے کی میز پر ہوتے تو سب احترام سے بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔۔۔۔۔ورنہ انکی غیر موجودگی میں سب کی بے تکلفی سے گپ شپ چلتی تھی۔صرف ماحر ہی ایسا تھا جو باپ کے سامنے کھل کر بولتا تھا۔۔زین اور عبیر کے اندر بڑے بھائی کی طرح باپ کے ساتھ بے تکلفی سے گفتگو کرنے کی ہمت نہیں تھی۔سب مہذبانہ انداز میں ہلکی پھلکی گفتگو کرتے کھانا کھا رہے تھے۔جب سکندر علی خان نے اچانک اس سے پوچھا۔۔
ماحر تمہاری نئی فلم کی شوٹنگ تو کمپلیٹ ہو چکی ہے نا پھر ریلیز کب کر رہے ہو۔۔۔؟؟
منہ کی طرف کانٹا بڑھاتا اس کا ہاتھ رک گیا۔۔فلحال تو میری وہ فلم ریلیز ہونے جا رہی ہے جسے اکرم صاحب نے ڈائریکٹ کیا ہے۔۔اپنی ہوم پروڈکشن والی تو عید پر
ریلیز کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔ماحر نے سنجیدگی سے کہا
فلموں کے علاؤہ کبھی اپنی ذاتی زندگی پر بھی توجہ دے دو۔۔۔فائزہ سکندر نے اسکی پلیٹ میں مٹر قیمہ ڈالتے ناراضگی سے کہا۔۔۔
کیا ہوا مام۔۔۔۔؟؟وہ جان بوجھ کر انجان بنا پوچھنے لگا
تمہارے چھوٹے بہن بھائی اپنے گھروں والے ہو گئے تم آخر کب تک یوں اپنا ٹائم برباد کرتے رہو گے۔ تمہیں عید تک کا ٹائم دے رہی ہو۔۔۔خود کوئی لڑکی پسند کرتے ہو تو ٹھیک ورنہ میں اپنی پسند سے تمہاری شادی کر دونگی وہ بھی عید کے فوراً بعد۔۔۔۔
انہوں نے حتمی انداز میں وارننگ دی
مگر مام ابھی تو۔۔۔۔۔۔۔”اس نے کچھ کہنا چاہا مگر فائزہ سکندر نے اسکی بات کاٹ دی۔۔۔اگر مگر نہیں چلے گا اب
میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔تم پہ چھوڑ دوں تو کبھی نہیں کرو گے شادی اپنی عمر گنوا دو گے۔۔بس میں اب جلد از
جلد یہ فرض ادا کرنا چاہتی ہوں۔۔۔
مگر فرض تو لڑکیوں کے ادا کیے جاتے ہیں مام۔۔میں تو لڑکا ہوں۔۔کیا آپ لڑکیوں کی طرح میرے بھی ہاتھ پیلے کرنا چاہتی ہیں کیا۔۔۔۔۔اس نے بات کو مزاح کا رنگ دیا تو سب ہنسنے لگے۔۔سوائے فائزہ سکندر کے۔۔۔
میری بات کو مذاق میں مت اڑاؤ ماحر میں سیریس ہوں۔۔آپ سمجھاتے کیوں نہیں اسے۔۔۔انہوں نے ناراضگی بھرے انداز میں شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو کہ بیٹے کی بات پر مسکرا رہے تھے۔۔
ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔۔۔بھئی تمہاری مام ٹھیک کہہ رہی
ہیں۔۔۔۔تمہیں اب شادی کر ہی لینی چاہیے۔۔۔
ٹھیک ہے کر لیتا ہوں۔۔وہ اچانک مان گیا۔۔سب بے یقینی سے اسکی طرف دیکھنے لگے۔۔
میرا دل رکھنے کو کہہ رہے ہو۔۔۔؟؟وہ مشکوک نگاہوں
سے دیکھنے لگیں۔۔۔
نہیں۔۔۔اچھا یہ بتائیں کیسی بہو چاہیے۔۔؟؟وہ سیریس
اندازِ میں پوچھنے لگا۔۔۔
جیسی بھی ہو بس بولڈ نا ہو۔۔۔۔۔انہوں نے کن انکھیوں سے عبیر کے پہلو میں بیٹھی ٹاپ سکرٹ میلبوس لیزا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔جو اپنے کھانے کی طرف مگن تھی۔۔۔
چلو کوئی بات نہیں جیسی بھی ہو۔۔۔بس میرے لئیے تو یہی سب سے بڑی خوشی کی بات ہوگی کہ میرے سب
سے بڑے بیٹے کا گھر بھی بس گیا۔۔۔۔انہوں نے ہنس کر کہا تو وہ بھی مسکرایا۔۔وہیں بیٹھے بیٹھے فیصلہ کر لیا تھا اس نے۔۔۔
!!وہ کمرے کی کھڑکی کھولے مسلسل کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔۔دل کی حالت عجیب سی تھی
سمجھ نہیں پا رہی تھی اس نے ٹھیک فیصلہ کیا تھا یا نہیں۔۔علی محمدی سے رابط ہو چکا تھا۔۔حیات نے اسے
قبولیت کی نوید سنائی تھا۔بے پایاں خوشی کےاحساس کے ساتھ اسکی پکار پر لبیک کہتے ہوئے وہ پاکستان آ رہا تھا اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے یہاں سے لے جانے۔اب یہاں اس شہر اس ملک میں اس کے لئیے سوائے مسائل کے کچھ نہیں رکھا تھا۔۔۔۔تیسرے دن ہی وہ آ گیا تھا۔۔حیات خود گئی تھی اسے ائیرپورٹ سے لینے۔۔۔وہ ہوٹل میں ٹھہرا تھا۔۔حیات نے اسے اپنے مسائل بتا دئیے تھے سوائے ماحر والے معاملات کے۔۔۔۔۔اس نے اس کے تمام مسائل توجہ سے سنے تھے ارتضیٰ حسن کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔۔۔ساتھ ہی شکوہ بھی کیا کہ اس نے اس سے پہلے رابطہ کیوں نہیں کیا۔۔۔۔اب وہ فوری طور پر اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا تاکہ اسے جلد از جلد اپنے ساتھ ترکی لے جا سکے۔اپنی فیملی کو اس کا بعد میں بتانے کا ارادہ تھا۔۔۔لیکن اس نے حیات کو اس
بات کا یقین دلایا تھا کہ اسکی فیملی اسے کھلے دل سے قبول کرے گی۔۔۔
“مون کی ذمہ داری قبول کرنے کو بھی وہ خوشی خوشی تیار تھا۔حیات جیسی لڑکی کے ملنے کو وہ اپنی خوش نصیبی سمجھ رہا تھا۔مگر اسے نہیں پتا تھا ماحر خان کے ہوتے یہ خوش نصیبی کسی کے بھی حصے میں نہیں آ سکتی تھی۔۔۔
حیات اس سے مل کر تمام معاملات طے کر کے واپس آ گئی تھی۔۔۔۔بس آج اس اپارٹمنٹ میں اسکی آخری رات تھی۔۔۔۔کل وہ علی محمدی کے ساتھ نکاح کرنے کورٹ جاتی پھر اس کے بعد وہ تینوں ہوٹل جاتے جہاں وہ تب تک رکتے جب تک ترکی کے لئیے سیٹیں کنفرم نا ہو جاتیں۔۔۔۔بظاہر وہ مطمئن تھی مگر دل میں تھوڑا بہت خدشہ ستا رہا تھا کہ کہیں ماحر خان کچھ گڑ بڑ نا کر دے۔۔۔۔۔میڈ کے ذریعے پتہ تو یقیناً اسے چل ہی گیا ہوگا اس معاملے کا کیونکہ جب وہ اس سے فون پر بات کر رہی تھی تو اس نے میڈ کو کان لگائے سنتے دیکھا۔۔پھر
کل جب وہ علی کو ائیرپورٹ سے ریسیو کرنے گئی تھی تو اسے یقین تھا اس نے لازماً خبر دے دی ہوگی اسکے باہر جانے کی اور پھر اس کا کوئی بندہ غیر محسوس طریقے سے اسے فالو کرتا رہا ہوگا۔۔
کچھ حد تک وہم تو ہو رہا تھا مگر پھر ایک خیال یہ بھی تھا۔۔۔شائد اس بار وہ کوئی غلط حرکت نا کرے کیونکہ اسکی ضد تھی اس سے اپنی فلم میں کام کروانا۔۔اور وہ اسکی یہ ضد پوری کر چکی تھی۔
مگر اس کا یہ خیال خام خیال ثابت ہوا جب دوسرے دن تیار ہو کر علی محمدی کا انتظار کرتی رہی اور وہ نہیں آیا زیادہ پریشانی کی بات یہ تھی کہ اس کا فون
بھی سوئچ آف آ رہا تھا۔۔۔۔
“جب ٹائم زیادہ گزرنے لگا اور اسکی تشویش بھی حد سے بڑھ گئی تو اس نے خود ہی اس ہوٹل جانے کا ارادہ کیا جہاں وہ ٹھہرا ہوا تھا۔۔ابھی وہ اپنے ارادے پر عمل بھی نہیں کر پائی تھی جب ماحر خان ایک دم دروازہ کھول کر فلیٹ میں داخل ہوا۔۔۔
اسے دیکھتے ہی حیات عبدالرحمان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔۔۔وہ اسکے یوں دندناتے انداز میں وہاں آنے پر بری طرح کھول اٹھی۔مگر کیا کرتی فلیٹ اسی کا تھا۔روک
بھی نہیں سکتی تھی۔اگر علی آ گیا ہوتا تو اس شخص کا سامنا بھی نا کرنا پڑتا اور وہ کب کی یہاں سے جا چکی ہوتی۔۔
!وہ گہری نظروں سے اسکی تیاری کا جائزہ لینے لگا۔بلیک اور سی گرین کنڑاسٹ ایمبرائیڈری سوٹ میں
اس کی سرخ و سفید گلابی رنگت دمک رہی تھی۔۔۔شانوں پر بکھرے گولڈن بال۔۔اس کا چہرہ بھی اسکی قمیض پر لگے ستاروں کی مانند جھلمل کر رہا تھا۔یہ ہلکی پھلکی تیاری اسکی اپنے نکاح کے لئیے تھی۔ماحر
کے اندر جلن پیدا ہونے لگی وہ اسکے سارے پلان سے واقف تھا۔۔۔اسکے فون میں کال ریکارڈنگ کا آپشن وہ اسی دن ہی آن کر گیا تھا جس دن موبائل اسکے حوالے کیا تھا۔۔اسے یقین تھا کہ وہ چیک نہیں کرے گی۔۔
۔پھر ملازمہ نے موقع دیکھ کر اس کا موبائل اٹھایا اور ریکارڈنگ ماحر کو سینڈ کر دی۔۔۔
کل اس کا بھیجا گیا آدمی بھی اسی ہوٹل میں کچھ فاصلے پر موجود رہا تھا۔۔۔۔ جہاں اس نے اپنے ترک کزن سے ملاقات کی تھی۔۔۔۔ اس تو نے سوچا تھا وہ حیات عبدالرحمان سے معافی مانگے گا۔۔۔اسے فنانشیل سپورٹ کرے گا۔۔جب وہ اپنی لائف میں پہلے کی طرح سیٹ ہو جائے گی تو وہ چپ چاپ اسکی زندگی سے نکل جائے گا۔۔۔دوبارہ کبھی اسے ہرٹ نہیں کرے گا۔۔۔۔
۔مگر وہ اپنے اس ارادے پر قائم نہیں رہ سکا جب پہلے حیات نے اسکی فنانشل سپورٹ لینے سے منع کیا۔۔۔۔اور پھر علی محمدی والا قصہ اسکے علم میں آیا۔۔۔۔۔۔دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک بار پھر وہ غلط حرکت کا ارتکاب کر بیٹھا۔۔۔۔
نظریں اسی پری پیکر پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔۔وہ آج تک سمجھ نہیں پایا اسے حیات عبدالرحمان کی اتنی چاہ و طلب کیوں ہے۔۔وہ کوئی اس دنیا میں اکلوتی حسن کی مورت نہیں تھی۔۔حسن تو ماحر خان کے ارد گرد بکھرا رہتا تھا۔۔۔وہ خود حسیناؤں کی حسرت انکی چاہ تھا۔۔
لیکن اس کا دل جس کو دیکھ کر پرسکون ہو جاتا تھا
وہ اکلوتی یہی لڑکی تھی۔محبت جیسی لغویات پر اسے
کبھی یقین نہیں تھا۔یہ کام وہ صرف فلموں میں ہی کر
سکتا تھا۔مگر اب کچھ عرصے سے اسکی فیلنگز عجیب
سی ہونے لگی تھیں جنہیں کبھی وہ محبت کا نام دیتا
اور کبھی جھٹلا دیتا۔۔
جی فرمائیے کیسے آنا ہوا۔۔۔؟؟ روکھے لہجے میں سوال کرتے وہ ایک لمحے کے لئیے بھول گئی کہ یہ فلیٹ اسی
کا ہے اور وہ جب چاہے یہاں آ سکتا ہے۔۔
وہ نہیں آئے گا۔۔۔جواباً اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے سرد لہجے میں کوئی اطلاع دی تھی۔۔
کون۔۔۔۔؟؟حیات کے منہ سے بے اختیار نکلا
وہی جس کا انتظار کر رہی ہو۔۔۔
کیوں۔۔۔۔؟؟ اس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا
میرے قبضے میں ہے۔۔اطمینان سے جواب آیا
کیا۔۔۔۔؟؟ وہ کئی ثانیے تک حرکت نا کر سکی۔۔دوبارہ
کہیں کیا مطلب ہے آپکی بات کا۔۔۔؟؟وہ بے یقین تھی
اوکے آسان لفظوں میں بتا دیتا ہوں۔آپ کا وہ ترکی سے آنے والا مہمان جس سے شادی کر کے آپ ترکی جانے والی تھیں۔میرے مہمان خانے پر ٹھہرا ہوا ہے۔۔اس کا
لہجہ خود بخود طنزیہ ہو گیا۔۔۔
کیوں کیا ایسا۔۔؟؟کچھ پل اسکی طرف بے یقین نگاہوں سے دیکھتی وہ جیسے سمجھنے کی کوشش کرتی رہی اور پھر تیز لہجے میں چلائی۔۔
دو قدم بڑھائے وہ اسکے قریب آ کھڑا ہوا۔۔۔کیوں کہ وہ تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے یہاں سے لے جانا چاہ رہا تھا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ تم یہاں سے جاؤ۔۔۔۔
تم کون ہوتے ہو یہ چاہنے والے۔۔۔۔۔؟؟ اسکے تو تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔۔
میں بھی تمہارا چاہنے والا ہوں یار۔۔۔۔اگر تمہیں شادی کرنی ہے تو مجھ سے کہہ دیتیں۔۔۔۔۔۔میں پوری دنیا کی لڑکیوں کو منع کر سکتا ہوں شادی کے لئیے لیکن تمہیں نہیں۔۔۔عجیب سا گھمبیر لہجہ تھا
۔۔۔۔آپ جیسے شخص سے کیوں شادی کرنے لگی میں بھلا۔۔۔وہ بگڑے تیوروں کے ساتھ از حد ناگواری سے گویا ہوئی
پھر اس سے کیوں کر رہی تھی۔۔۔۔؟؟اس نے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سوال کیا
میری مرضی جس سے بھی کروں۔۔۔۔آپ کون ہوتے ہیں میری ذاتی زندگی میں انٹر فئیر کرنے والے۔۔۔۔۔جو آپ چاہتے تھے میں نے کیا۔۔۔۔۔اب میں جہاں جاؤں جسکو اپناؤں آپ کو کیا تکلیف ہے۔۔۔۔۔شائد بھول رہے ہیں آپ
ڈیل ہوئی تھی ہماری کہ فلم کے بعد آپ کا میری ذاتی زندگی سے کسی قسم کا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوگا۔۔
پھر کیوں کر رہے یہ سب۔۔۔آخر چاہتے کیا ہیں آپ۔۔۔۔؟؟
وہ چٹخ گئی تھی۔۔کافی تلخی سے پوچھا۔جواباً اسکی پریشانی و تفکر کی پروا کیے بغیر زخمی مسکراہٹ کے
ساتھ بولا۔۔
آئی ایم سوری حیا۔۔۔ میں مجبور ہوں۔۔۔پتہ نہیں کس کے ہاتھوں۔۔۔دل۔۔۔دماغ۔۔۔۔۔۔یا جذبات۔۔۔۔بس تمہارا دور
جانا مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔۔۔پہلے بھی پورے نو مہینے سلگتا رہا ہوں۔۔۔اذیت میں رہا ہوں کہ تم کب تم
ملو اور میں تم سے معافی مانگوں۔۔۔۔مگر میں فیل کر چکا ہوں میرا معافی مانگنا قطعی بے کار ہے تم مجھے معاف کرنے کے موڈ میں بالکل نہیں ہو۔۔۔ٹھیک ہے مت
کرو معاف۔۔ لیکن میری تم سے ریکوئسٹ ہے یہ فلیٹ چھوڑ کر مت جاؤ۔۔۔تم پہلے ہی میری وجہ سے بے گھر ہو کر در در کی ٹھوکریں کھاتی رہی ہو۔۔۔میرے ضمیر پر بوجھ ہے میں تمہیں تمہارا گھر اور تمہارا پہلے والا سکون لوٹانا چاہتا ہوں۔۔۔پلیز مان لو میری بات میرے
ضمیر کا بوجھ ہلکا کر دو۔۔۔۔اس کا انداز التجائیہ تھا
مگر حیات پر اسکے التجائیہ انداز کا قطعی اثر نہیں ہوا۔۔وہ انتہائی غصے سے بولی
مجھے آپ کا کوئی احسان نہیں چاہیے اب۔۔مہربانی کر کے میری جان چھوڑ دیں۔۔۔۔۔آپ کے پہلے احسانات کو بھولی نہیں میں۔۔۔۔۔۔مزید اب کچھ نہیں چاہیے مجھے
ہاں اگر احسان کرنا چاہتے ہیں تو بس یہی کریں جان چھوڑیں میری۔۔۔بری طرح تپ کر ہاتھ جوڑے تھے اس
نے۔۔
کسے چھوڑ دوں تمہاری جان۔۔۔۔۔۔اچھی بھلی پرسکون زندگی تھی تمہاری جو میری وجہ سے ڈسٹرب ہو کر رہ گئی۔۔جو جو تمہارا نقصان میری وجہ سے ہوا ہے اسکی بھرپائی تو کرنے دو مجھے۔۔جب مجھے لگے لگا کہ جس کا سکون میری وجہ سے درہم برہم ہوا وہ اب پرسکون لائف جی رہی ہے تو میں بھی پرسکون ہو جاؤں گا اور میرا ضمیر بھی مطمئن ہو جائے گا۔۔۔وہ اپنی بات پر اڑا ہوا تھا۔اسکے وجہیہ چہرے پر ازحد سنجیدگی تھی گھمبیر لہجے میں تھکن سی تھی۔۔وہ کسی طرح بھی اسے منا نہیں پا رہا تھا۔۔
حیات غصہ چھوڑ کر شدید حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔کیسا ڈھیٹ آدمی تھا۔۔۔۔۔اسے روکنے کو کیا کیا دلیلیں پیش کر رہا تھا۔۔۔
بند کرو یہ ڈرامے۔۔۔۔۔۔۔۔میں کہہ رہی ہوں نا مجھے کچھ نہیں چاہیے اب۔۔۔۔معافی چاہیے تو ٹھیک ہے معاف کیا میں نے۔۔۔۔اب مزید بحث نہیں کرنی مجھے کوئی۔۔۔بس
مہربانی کرو اور میرے کزن کو رہا کرو۔۔۔۔بمشکل ضبط کر رہی تھی وہ خود پر۔۔۔۔
جواب میں وہ بے حد خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔اس کی اجلی شفاف رنگت۔۔ہیروں کی مانند چمکدار آنکھیں
معصومیت سے بھرپور دلکش چہرہ۔۔۔۔۔یہ چہرہ اس کے
دل کو چھو گیا تھا۔اسکی اپنے سے دوری کسی قیمت
پر بھی وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔
اسے چھوڑ دوں اور پھر تم اس سے شادی کرو گی۔۔۔؟؟
اس نے عجیب سے لہجے میں پوچھا۔۔
