171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 41)

Meri Hayat By Zarish Hussain

ماحول میں خنکی تھی۔رات کے سیاہ گیسو کائنات کی ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے چکے تھے۔۔۔۔رات اندھیری تھی یا نامعلوم اس کے اندر ہی وحشت و جنون کی سیاہ آندھی نے اس قدر اندھیرا و تاریکی پھیلا دی تھی کہ آج سے قبل اس کو رات اتنی گھور سیاہ نا لگی تھی۔۔۔۔اس کے اندر غصہ انتقام اور توہین کا احساس کسی آسیب کی طرح قبضہ جما کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔اسے

افسوس تھا کہ اس نے خوامخواہ میں کیوں صبر کر کے اپنا ٹائم برباد کیا۔اس لڑکی کو اسکے کیے کی اسی وقت سزا کیوں نہیں دی۔کیوں اسکے ساتھ اچھا بننے کا ناٹک کر کے اپنا قیمتی وقت ضائع کرتا رہا۔۔جس وقت اس نے میڈیا پر جا کر اس کے خلاف بکواس کی تھی اگر علی کاظمی اسے نا روکتا تو وہ اسے اسی وقت شوٹ کرچکا ہوتا۔۔۔ٹھنڈے موسم میں بھی وہ جلتے انگاروں پر سلگ رہا تھا۔۔

بس کل اسکی آزادی میرے انتقام اور اسکے ہمدرد کی زندگی کا آخری دن ہوگا۔ارتضیٰ حسن کی موت کے بعد اس نے اپنے ارادے بدل دیے تھے۔۔۔۔۔سچے دل سے اسے اپنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔۔۔۔مگر حیات عبدالرحمان نے

اسکی پھر سے توہین کی اس کا نیک نیتی سے بڑھایا گیا ہاتھ بے دردی سے جھٹکا تو اس کے دل میں حیات

کیلئے جو محبت و پسند کے جذبات پیدا ہوئے تھے۔۔۔”

اسکی میڈیا میں جا کر اسے بدنام کرنے والی حرکت کے بعد پانی کے بلبلے کی طرح غائب ہو گئے تھے۔اسکے بعد وہ اسکی محبت و چاہت نہیں رہی صرف اور صرف دشمن تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر کے حیات عبدالرحمان نے ناقابل تلافی جرم کیا تھا اور اس جرم پر وہ اس کو کبھی معاف نہیں کرنے والا تھا۔اچھی بھلی ہاتھ آتے آتے وہ پھر سے انکار کر گئی تھی تب سے اسکی نیند بھوک پیاس سب غائب تھا۔وہ روبوٹ کی طرح چل پھر رہا تھا۔۔مضطرب و بے چین سا وہ اپنے بیڈروم میں چکر لگا رہا تھا۔۔۔اس کے اندر آلاؤ سلگ رہا تھا۔۔۔۔بڑا بھیانک آلاؤ۔۔۔۔اس آلاؤ میں بھڑکنے والی آگ عقل شعور فہم سب جلا کر بھسم کر دینے والی ایسی سیاہ آگ تھی۔جو اسکی رگ رگ میں پھیل چکی تھی۔اپنے انتقام میں جلتے وجود کو راحت پہنچانے کیلئے وہ ہر حد سے گزرنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔۔۔

کل کا سورج حیات عبدالرحمان کے مقدر میں روشنی کے بجائے اندھیرا لے کر آنے والا تھا۔۔۔ایسا اندھیرا جو مسلسل اسے گہری تاریکیوں کی جانب دھکیلنے والا تھا

بادل بڑی زور سے گرجا تھا۔۔اسی شور سے اسکی آنکھ کھل گئی۔اس نے نیم خوابیدہ آنکھیں ارد گرد گھمائیں۔

ہر سو گھپ اندھیرا تھا۔۔۔۔وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی تھی

خوبصورت آنکھوں میں اضطراب ہلکورے لے رہا تھا۔۔۔جب سے وہ ان حالات کا شکار ہوئی تھی اسکی نیند اور بھوک دونوں ختم ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔تمام وقت وہ مضطرب و پریشاں رہتی۔۔۔۔زندہ رہنے کیلئے تھوڑا بہت

کھانا تو زہر مار کرنا ہی پڑتا تھا” مگر نیند کا کیا کرتی جو اس کا مکمل طور پر ساتھ چھوڑ چکی تھی۔

آج شام اسے الماری کی ایک دراز میں سے سلیپنگ پلز ملی تھیں۔بستر پر لیٹنے سے پہلے اس نے ایک ٹیبلٹ پانی کے ساتھ نگل لی تھی۔مگر نیند کی ٹیبلٹ نے بھی کوئی زیادہ اثر نہیں کیا تھا۔بمشکل تین گھنٹے ہی سو پائی تھی کہ ایک بھیانک خواب نے جگا دیا۔۔۔

اس کا دماغ اندیشوں وسوسوں اور پریشانیوں میں اس قدر جکڑا ہوا تھا کہ نیند کی گولی کھا کر بھی وہ زیادہ دیر نیند کے وش میں نہیں آ سکا تھا۔اس نے ہاتھ سے ٹٹول کر قریب ٹیبل پر رکھا چھوٹا سا موبائل اٹھایا اور اس کی ٹارچ آن کی۔۔۔۔۔کمرے میں ٹارچ کی روشنی چمکتے ہی ہر چیز واضع ہو گئی۔قریبی بستر پر مون بے خبر سو رہا تھا۔۔ان حالات نے اس پر بھی برا اثر چھوڑا تھا ان چند دنوں میں اپنی عمر سے بھی بڑی بڑی باتیں کرنے لگا تھا۔اور وہ کمزور بھی لگنے لگا تھا۔۔اس کا دم گھٹنے لگا تو اٹھ کر گلاس ونڈو کے آگے لگا پردہ سرکایا اور ونڈو کھول دی۔۔۔

باہر ہوتی موسلا دھار بارش اندھیرے میں بھی صاف دکھائی دے رہی تھی۔کمرے کی دبیز خاموشی میں باہر ماربل کے فرش پر گرتا بارش کا پانی بہت شدت سے شور کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔اسکی آواز اور حیات کی بے ترتیب سانسوں کی آوازیں اس تاریک ماحول میں عجیب سا ارتعاش پیدا کر رہی تھیں۔۔۔۔۔کئی لمحوں سے وہ یہی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ کچھ لمحوں پہلے جو اس نے دیکھا تھا واقعی خواب تھا۔۔۔۔یا یہ خواب ہے۔۔۔

بارش اسی طرح برس رہی تھی۔بادلوں کی گرج اور بجلی کی چمک بھی اسی طرح تھی۔۔۔۔

کار میں وہ اور ماحر۔۔۔۔اس کا حیات کے چہرے پر ایسڈ پھینکنا۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی درد میں ڈوبی اذیت ناک کراہیں۔۔۔

پھر وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی تھی۔۔۔

یہ خواب تھا۔۔۔۔۔یا آنے والی کسی نئی مصیبت کا کوئی اشارہ۔صبح ہونے تک وہ اسی طرح اندیشوں میں گھری کھڑکی کے سامنے بیٹھی بارش کو دیکھتی رہی۔۔

نماز کے وقت وہ وہاں سے ہٹی تھی۔۔۔کافی دیر سجدے میں گری اللّٰہ سے گڑگڑا کر اپنے لئیے برا وقت ٹل جانے کی دعائیں کرتی رہی۔۔۔نامعلوم کب تک وہ جائے نماز پر سجدے میں پڑی رہی جب ڈور بیل کی آواز نے کمرے کے سکوت کو جھنجھوڑا تھا۔۔۔۔۔۔وہ چونک کر اٹھی دل بھی دھڑک اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔حالانکہ کہ جانتی تھی آنے والا احمر وقار کے علاؤہ کوئی نہیں ہو سکتا مگر پھر بھی ناجانے کیوں دل کی دھڑکن معمول سے تیز ہو گئی۔

شائد کسی بری خبر سننے کے ڈر سے۔۔۔

اس نے دروازہ کھولا احمر کا چہرہ نظر آیا۔پولیس کی وردی پہنے، گندمی رنگت پر ہلکی ہلکی بیئرڈ، چہرے پر نرمی سجائے خاصا فریش فریش سا لگ رہا تھا۔۔

آج ڈیوٹی پر جانے سے پہلے پہلے ہی وہ اسکی خیریت معلوم کرنے آ گیا تھا ورنہ پچھلے تین دنوں سے وہ صرف شام کو ہی آتا اور باقی ٹائم فون پر مسلسل رابطہ رکھتا۔۔۔

کیا بات ہے آپ بہت اپ سیٹ لگ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟رویا رویا سا متورم سرخ چہرہ، خشک ہونٹ ڈوپٹے سے نظر آتے بکھرے بال اس نے بغور اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔

نہیں ٹھیک ہوں۔۔۔۔وہ پلٹ کر صوفے کی جانب بڑھتے ہوئے بولی”

لیکن مجھے آپ ٹھیک نہیں لگ رہیں۔۔۔بتائیں کیا بات ہے کہیں اس شخص نے آپ کو فون کر کے کوئی دھمکی تو نہیں دی۔۔؟وہ فوراً اسکے سامنے آیا۔۔۔کھوجتی ہوئی نگاہوں سے اسکے چہرے کی طرف دیکھتا ہوا تشویش زدہ لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔

ایسی کوئی بات نہیں میں نے اپنا وہ موبائل آن ہی نہیں کیا تو رابطہ کیسے کر پائے گا بھلا۔۔۔۔وہ سرسری لہجے میں بولی۔۔

تو پھر آپ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہیں۔ان حالات سے گھبرا رہی ہیں۔۔۔۔؟؟؟

جی پتہ نہیں ناجانے کیوں مجھے ہر پل یہ دھڑکا لگا رہتا ہے جیسے کچھ ہونے والا ہے۔۔کوئی سماعتوں میں سرگوشیاں کرتا ہے۔عجیب عجیب سے وہم ہونے لگتے ہیں۔ ذرا سی آنکھ لگ جائے تو برے خواب آتے ہیں

اس کے لہجے میں اضطراب اور بے بسی تھی”

احمر نے گہری سانس لی۔۔

ڈونٹ وری ڈئیر میں آپ کے ساتھ ہوں آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔۔آپ کی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے میرے ہاتھ ایک کلیو لگا ہے انشاءاللّٰہ ضمانت کی معیاد ختم ہونے سے پہلے پہلے آپ پر لگا الزام ختم ہو جائے گا۔۔۔۔۔

آپ سچ کہہ رہے ہیں۔۔۔وہ ڈبڈبائی آنکھوں میں امید کی چمک لئیے اسکی طرف دیکھنے لگی۔۔

آف کورس۔۔۔۔وہ مسکرایا اور اس کے برابر میں صوفے پر قدرے فاصلے پر بیٹھ گیا۔۔۔

لٹل پرنس ابھی سو رہا ہے کیا۔۔۔؟؟اس نے بیڈروم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔

جی۔۔۔وہ سر جھکائے ہوئے بولی

کچھ چاہیے تو نہیں۔۔۔۔؟؟وہ اپنائیت بھرے لہجے میں بولا

جی نہیں۔۔۔۔۔سر ہنوز جھکا ہوا تھا۔۔۔

ناشتا کر لیا۔۔۔۔؟؟ایک اور سوال

نہیں۔۔۔۔اب کی بار اسکی طرف دیکھتے ہوئے یک لفظی جواب دیا۔۔

لازمی کر لیجئے گا۔۔۔اپنی صحت کا خیال رکھیں مشکل حالات سے نپٹنے کیلئے جسمانی اور ذہنی طور پر طاقتور ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔جب آپ مجھے جنگل

میں ملی تھیں تب آپ مجھے سمارٹ لگی تھیں۔بٹ اب کمزور لگ رہی ہیں۔۔سو پلیز اپنی اور اپنے بھائی کی ہیلتھ کا خیال رکھیں۔۔۔وہ خاصے فکر مند انداز میں اسے سمجھا رہا تھا۔۔۔حیات نے سر ہلانے پر اکتفا کیا۔۔

کچھ دیر وہ اسکے جھکے ہوئے سر کو دیکھتا رہا پھر گہری سانس لے کر بولا

ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں۔۔۔۔مجھے دیر ہو رہی ہے

وہ رسٹ واچ میں ٹائم دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔

جی۔۔۔۔اسے اٹھتے دیکھ کر وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی

جب وہ جانے کیلئے صوفے پر اسکے برابر میں بیٹھا اٹھنے لگا تھا تو اس کے دل میں ایک انہونا خیال آیا۔کاش وہ اسی طرح چہرہ جھکائے ہمیشہ اس کے پہلو میں بیٹھی رہے اور یہ ٹائم یہیں پر رک جائے۔دل کی اس آرزو پر وہ ہنس پڑا تھا کہ یہ پاگل کب سے اس لڑکی سے متعلق ایسا سوچنے لگا تھا۔جو بیچاری پہلے ہی بے رحم حالات کا شکار تھی۔۔۔۔اس نے اپنے دل کو سرزنش کی اور اپنی ان سوچوں سے خود ہی نظریں چرانے لگا”

اوکے اپنا خیال رکھنا اللّٰہ حافظ۔۔۔۔۔جاتے ہوئے اسکی طرف بھرپور نگاہوں سے دیکھا”

اللّٰہ حافظ۔۔۔۔حیات عبدالرحمان کے لب بھی آہستہ سے ہلے تھے۔۔۔۔اس کے جانے کے بعد دروازہ بند کر کے چائے بنانے کی غرض سے وہ کچن میں آ گئی۔چائے بناتے ہوئے مسلسل وہ ماحر کے متعلق سوچتی رہی۔۔۔

اس ظالم شخص نے اسے عرش کی شفاف رفعتوں سے پاتال کی سیاہ ظلمتوں میں لا پھینکا تھا۔

سارا دن اس کا انہی سوچوں میں گزر گیا۔شام ہونے کا ٹائم قریب آیا تو وہ اپنے محسن کا انتظار کرنے لگی کیونکہ صبح وہ اسے جو خبر سنا گیا تھا اس خبر نے اسکے اندر نئی روح پھونک دی تھی۔

اس کے دل میں اس مشکل وقت سے نکلنے کی ایک امید پیدا کر گیا تھا وہ۔۔۔۔

جب کافی دیر گزر گئی اور احمر نا آیا تو وہ اس کو کال ملانے لگی۔مگر آگے آپ کا مطلوبہ نمبر بند ہے کا جواب اسے حیران پریشان کر گیا۔احمر کا اتنے دنوں میں پہلی بار فون بند ملا تھا۔۔صبح یہاں سے جانے کے بعد اس نے صرف ایک بار فون کیا تھا۔وہ سمجھتی رہی شائد بزی ہوگا اس لئیے حیات نے بھی اسے کال کر کے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اسکے آنے کا انتظار کرتی رہی۔۔مگر اب اسکے فون کا بند ہونا اسے پریشانی اور گھبراہٹ میں مبتلا کر رہا تھا۔۔۔کافی دیر کوشش کرتی رہی ہر بار آگے سے مطلوبہ نمبر بند ہے کو جواب ملتا۔۔

آخر تھک کر اس نے موبائل رکھا اور اپنے منتشر اعصاب کو بحال کرنے کیلئے کچن میں جا کر اپنے لئیے کافی بنانے لگی۔۔کافی بنا کر مگ تھامے وہ مون کو دیکھنے کمرے میں آئی تو وہ اپنی کاپی پر ڈرائنگ بنانے میں بزی تھا۔

کچھ دیر اسکے پاس بیٹھی اسکی ڈرائنگ دیکھتی رہی پھر مگ رکھنے کچن میں آئی تو کچن کے ساتھ والے کمرے میں جسے وہ بیڈروم کے طور پر استعمال کر رہی تھی وہاں سے آتی موبائل کی گھنٹی کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تو وہ احمر کی کال کا سمجھ کر بھاگ کے کمرے میں آئی۔۔۔۔۔مگر احمر کے بجائے لیڈی کانسٹیبل شاہین کا نمبر دیکھ کر اسے مایوسی ہوئی”

ہیلو۔۔۔۔۔۔وہ تیز سانسوں کے درمیان بولی۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی چھٹی حس مضطرب تھی۔کسی خطرے کی نشاندہی کر رہی تھی کہ کچھ ہونے والا تھا۔۔۔

سنو حیات بہت ہی بیڈ نیوز ہیں تمہارے لئیے ۔احمر سر کی گاڑی حطرناک ایکسیڈنٹ کا شکار ہو گئی۔کچھ پتہ نہیں کہ وہ زندہ بچے بھی ہیں یا نہیں۔۔

اور تمہاری ضمانت بھی کینسل ہوچکی ہے۔جتنی جلدی ہو سکے تم اس فلیٹ سے نکل جاؤ۔۔۔۔کیونکہ پولیس کسی بھی وقت تمہیں اریسٹ کرنے کیلئے وہاں پہنچ سکتی ہے۔۔۔۔۔اور ہاں فلیٹ کے باہر تمہاری سیکیورٹی کیلئے جو پولیس کے اہلکار موجود تھے انہیں بھی ہٹا لیا گیا ہے۔۔اور ایسا کس کے حکم پر کیا گیا ہے یہ تم خود بہتر جانتی ہو گی۔۔

ایک ساتھ اتنی ساری بری خبریں تھیں یا کوئی بم پھٹا تھا اسکے سر پر۔۔۔

اسے اپنے حواس معطل ہوتے محسوس ہوئے پیروں تلے زمین نکل گئی۔۔اسے محسوس ہوا جیسے چھت سر پر آ گری ہو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ کان سائیں سائیں کرنے لگے۔۔قریب و جوار گھومتے ہوئے محسوس ہوئے۔ایک اور انسان اسکی وجہ سے ماحر خان کے عتاب کا نشانہ بن گیا تھا۔۔۔

اسکے اوسان خطا ہونے لگی۔۔

مم۔۔۔میں کہاں جاؤں۔۔۔وہ بری طرح سے لرزتی کانپتی آواز میں بولی۔اس کا دل سینے میں بری طرح سے دھک دھک کرنے لگا۔اس دھک دھک سے اسکی پسلیاں تک لرز رہی تھیں۔۔

کہیں بھی چلی جاؤ یار بس اپنی جان بچاؤ۔۔اور آئی ایم سوری میں تمہاری کوئی ہیلپ نہیں کر سکتی۔

وہ معذرت خواہ لہجے میں کہہ کر کال بند کر گئی

حیات فون ہاتھ میں لئیے ہق دق کھڑی رہ گئی”

یا اللّٰہ یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ۔۔۔۔اس کے دل کی گہرائیوں سے یہ سوال دلدوز آہ بن کر نکلا”

نامعلوم کتنی دیر وہ جونہی جمی رہی۔اچانک ہوش آیا

تو اپنے لرزتے کانپتے وجود کو بمشکل سنبھالا۔۔ٹائم کم تھا پولیس کسی لمحے پہنچ کر اسے اریسٹ کر سکتی تھی۔۔۔۔وہ بری طرح بدحواس ہو کر الماری کی طرف بڑھی اپنا بیگ نکالا اور کمرے میں ادھر ادھر رکھا اپنا اور مون کا سامان اٹھا اٹھا کر اس میں ٹھونسنا شروع کر دیا۔۔۔اس کے ہاتھ بھی بری طرح کانپ رہے تھے۔۔

وہ سرتاپا لرز رہی تھی۔۔احمر کے ایکسیڈنٹ کی خبر نے اسے سخت صدمے سے دو چار کیا تھا۔۔۔آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔۔۔۔ہونٹ خشک ہو کر ایک دوسرے سے چپک گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔وہ خود کو زمین و آسمان کے درمیان معلق محسوس کر رہی تھی۔۔۔

اس کے دل سے ماحر خان کیلئے بد دعائیں نکل رہی تھیں”

“سارا سامان جب بیگ میں بھر گیا تو وہ اسے اٹھائے سخت متوحش انداز میں باہر کو لپکی اور اس کمرے میں پہنچی جہاں مون بیٹھا تھا۔۔۔چلو مون جلدی کرو اپنی بکس سمیٹو ہمیں ابھی ابھی یہاں سے نکلنا ہے کہہ کر وہ خود ہی تیزی سے اسکی کتابیں کاپیاں پنسلیں وغیرہ بیگ میں ڈالنے لگی۔۔

آپی مجھے واش روم جانا ہے میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔وہ جو جھک کر ہڑبڑی میں بیگ کی زپ بند کر رہی تھی مون کی بات پر پریشان ہو گئی۔۔۔لیکن کیا کرتی ایسی نازک سچویشن میں اسے واش روم جانے

سے روکا بھی نہیں جا سکتا تھا۔۔

ٹھیک ہے جاؤ لیکن جلدی باہر نکلنا۔۔۔۔۔مون کو بازو سے پکڑ کر اسے واش روم کی طرف دھکیلتے ہوئے وحشت بھرے لہجے میں بولی”

لیکن پانچ سے دس منٹ ہو گئے تھے وہ ابھی تک واش روم سے باہر نہیں آیا تھا۔۔۔۔وہ ہولتے دل کے ساتھ واش روم کے دروازے سے چپکی اسے مسلسل جلدی باہر نکلنے کا بول رہی تھی۔۔۔۔۔۔جبکہ وہ بچارا اندر پیٹ کے درد سے دہرا ہو رہا تھا۔۔۔

مون جلدی کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔وال کلاک پر ٹائم دیکھتے ہوئے متوحش سی ہو کر کوئی پانچویں بار اس نے اپنی بات دہرائی تھی”

آپی پلیز ویٹ میرے پیٹ میں درد ہے۔۔۔۔مون نے بھی وہی بار بار کا دیا جواب دوبارہ دہرایا۔۔۔

اچانک اسے اپنے موبائل کا خیال آیا تھا جسے وہ ساتھ والے کمرے میں چھوڑ آئی تھی۔جب تک مون باہر آتا ہے تب تک موبائل لے لوں۔۔۔۔۔سوچتے ہی بیگ سمیت برق رفتاری سے وہ کمرے سے باہر نکلی۔۔مگر باہر نکلتے ہی اس کے قدموں کو زمین نے گویا جکڑ لیا۔۔۔

جس کا اندیشہ تھا وہی ہوا۔سامنے کھڑا شخص کسی عفریت کی مانند لگ رہا تھا۔وہ عفریت جو اسے نگلنے کیلئے تیار کھڑی تھی۔۔ناجانے بند دروازے سے کیسے اندر آیا تھا وہ۔۔۔حیات تو بس سکتے کے عالم میں پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

حواس تو پہلے گم ہو رہے تھے مزید اسے وہاں اپنے روبرو پا کر اسکی حالت۔۔۔کاٹو تو بدن میں خون نہیں والی ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔پولیس تو نہیں پہنچی مگر پولیس بھجوانے والا خود پہنچ چکا تھا۔۔۔۔۔

اوہو فرار ہونے کی تیاری۔۔۔۔۔

بے حد طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے سست چال چلتا ہوا وہ اسکے قریب آیا۔۔ نظریں اسکے قدموں کے پاس گرے بیگ پر تھیں۔جو اسے دیکھتے ہی حیات کے ہاتھ سے چھوٹا تھا۔۔۔

چہرے پر مذاق اڑاتی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔آنکھوں میں ویسی چمک تھی جسے کسی شکار کو اپنے جال میں پھنسا ہوا دیکھ کر شکاری کی آنکھوں میں آتی ہے۔۔۔۔

آپ نے کیوں کیا میرے ساتھ ایسا۔۔۔؟؟کچھ دیر بعد اسکے لرزتے کانپتے ہونٹوں سے بمشکل یہ لفظ نکلے۔۔۔

خوف کے ساتھ اس لہجہ بھی آنسوؤں سے بری طرح بھیگ چکا تھا۔

تمہیں پانے کیلئے ڈارلنگ۔۔۔۔

بے حد قریب ہو کر انگلی سے اسکی پیشانی کو چھوا تو وہ خوف سے لرز گئی کیونکہ ایک تو اس کا چھونا اوپر سے اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی۔۔۔۔

کسی خیال کے تحت وہ ایسے کانپ اٹھی گویا سخت سردی لگ رہی ہو پسینہ اسکی ہتھیلیوں اور چہرے سے پھوٹ پڑا۔۔۔۔۔آنسو تیزی اور روانی سے اس کا گریبان بھگونے لگانے۔۔۔۔

پہنچا دیا اوپر تمہارے اس عاشق+ ہمدرد کو۔۔۔۔۔کیا سمجھتی تھی تم کہ وہ دو ٹکے کا پولیس انسپکٹر تمہیں مجھ سے بچا لے گا۔۔اتنی غلط فہمی میں مبتلا کیوں ہو گئی تم۔۔۔۔ کہ وہ معمولی سا انسپکٹر تمہیں اس قتل کے کیس سے جس میں ماحر خان نے پھنسایا بحفاظت نکال لے گا۔۔۔۔۔۔سچ کہتے ہیں حسین کھوپڑی میں دماغ نہیں ہوتا۔۔۔۔

اس نے قہقہ لگایا…

تم پاگل ہو لڑکی تمہیں ابھی تک میری پہنچ میری طاقت کا اندازہ نہیں ہوا۔وہ بری طرح سے ہنسنے لگا۔۔۔

صاف ظاہر تھا یہ بے ڈھنگی ہنسی شراب کے نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے نکل رہی تھی۔۔

کیوں مارا اسے کیا قصور تھا اس کا۔۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی۔۔۔

تمہارا ہمدرد بننا قصور تھا اس کا۔۔میرے متعلق تفتیش کرتا پھر رہا تھا۔۔ثبوت ڈھونڈ رہا تھا میرے خلاف کہ تمہاری طرح میڈیا میں جا کر میرے امیج پر ضرب لگا سکے۔۔۔مگر دیکھ لو اسی چکر میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔۔۔

تم ایک گھٹیا انسان ہو میری بوا کو مارا۔۔احمر کو مارا

بے گناہ لوگوں کی جان لی تم نے۔۔۔اللّٰہ تمہیں تباہ و برباد کرے گا۔۔۔وہ بری طرح سے روتے ہوئے بد دعائیں دینے لگی۔۔۔

بکواس بند کرو اپنی۔۔۔اسکی بددعاؤں پر مشتعل ہو کر دھاڑا تووہ خوف سے چپ ہو گئی اور ساکت سی ہو کر اس ہینڈسم ڈیشنگ سپر سٹار کو دیکھنے لگی جو اس وقت کسی خونخوار عفریت کی مانند لگ رہا تھا۔جسے اسکے خون کا پیاسا لگ رہا ہو۔۔۔۔

مجھے ٹھکرایا میرے خلاف میڈیا میں جا کر بکواس کی تم نے۔لوگوں کی نظروں میں میرا امیج خراب کرنے کی کوشش کی اور تمہیں لگا میں تمہیں اتنی آسانی سے معاف کر دوں گا۔۔تم سے محبت کروں گا۔۔تم سے شادی کر کے تمہیں پلکوں پر بٹھاؤں گا۔۔۔۔۔۔ہرگز نہیں اچانک وہ اس کے قریب ہو کر اتنی زور سے پھنکارا کہ خوف کے مارے حیات کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔۔۔

سنو لڑکی۔۔وہ بے حد کاٹ دار انداز میں بولا

مجھے تم سے کوئی شادی وادی نہیں کرنی تھی وہ تو تمہیں اپنی دسترس میں لانے کا بہانہ تھا۔۔کوئی اصلی نکاح نہیں کر رہا تھا میں تم سے۔۔۔تمہیں مطمئن کرنے کیلئے نکاح کا ڈراما کر رہا تھا۔۔۔۔۔تاکہ اسکے بعد تم بنا کسی اعتراض کے میری باہوں میں آجاؤ۔۔۔ پھر تم سے اپنا مقصد پورا کرنے کے بعد تمہیں اٹھا کر کچرے کے ڈھیر میں پھینک دوں تاکہ تمہیں اپنی حیثیت اپنی اوقات کا اندازہ ہو۔۔جس کے بل پر تم مجھے اکڑ دکھایا کرتی تھیں۔کس بیس پر مجھے انکار کر کے میری توہین کرتی تھی تم۔۔۔کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ تمہاری اوقات مجھ جیسے سپرسٹار کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔قدموں میں روندے جانے والے ذروں سے بھی حقیر ہو تم۔۔۔۔۔سنا تم نے

وہ بول نہیں پھنکار رہا تھا۔۔اس کا ایک ایک لفظ زہر میں ڈوبا ہوا تھا۔۔حیات کو محسوس ہو رہا تھا جیسے اسکے کانوں میں گرم گرم پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا جا رہا ہو۔۔۔وہ بے حس و حرکت کھڑی تھی

میں تمہیں برباد کر دوں گا حیات عبدالرحمان۔۔۔برباد

سنا تم نے۔۔۔۔وہ زور سے دھاڑا۔۔۔۔۔۔۔

حیات کی ہچکیاں بندھ گئیں۔۔۔۔

اسی وقت اس نے اپنے ملائم بازؤوں کو ماحر خان کے ہاتھوں کے شکنجے میں پھنسا ہوا محسوس کیا۔۔اسکی پکڑ اتنی سخت تھی کہ لگ رہا تھا شائد اس کے بازؤں کی ہڈیاں چٹخ جائیں گی۔۔مگر اس کا دھیان جسمانی تکلیف سے زیادہ ذہنی تکلیف پر تھا۔۔۔جو وہ اسے اپنے سفاک و بے رحم لفظوں کی مار مار کر دے رہا تھا۔اس کے لہجے میں بے حد سفاکی و سرد مہری تھی۔لہو رنگ آنکھوں میں وحشت و جنون بھرا ہوا تھا۔حیات تو گنگ کھڑی تھی۔زبان تالو سے چپک چکی تھی تھی۔

البتہ آنکھوں سے موتی ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے۔۔

وہ مکمل طور پر اس بے رحم انسان کے رحم و کرم پر تھی۔۔۔وہ انتقام کی آگ میں جلتا اس قدر بے حس و بے رحم بن گیا تھا کہ اسکی سراسیمہ حالت اور موتیوں کی طرح گرتے آنسو بھی اس پر کوئی اثر نا کر سکے۔

اسکی لہو رنگ آنکھوں میں وحشی چمک تھی۔۔۔ہر ہر انداز سے نفرت عیاں تھی۔اسکی زبان سے الفاظ انگارے بن کر نکل رہے تھے”

رؤ نہیں تمہارے ان آنسوؤں کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔۔۔۔۔اس نے جھک کر اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے تمسخرانہ لہجے میں کہا”

شٹ اپ۔۔۔۔۔ہاتھ نہیں لگاؤ مجھے اس نے چیختے ہوئے اس کا ہاتھ نفرت سے جھٹکا۔۔

جانتی ہو باہر پولیس انتظار میں کھڑی ہے۔۔میرے ایک اشارے کی منتظر۔۔۔اس نے انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کیا تو حیات نے بے حد خوفزدہ انداز میں دروازے کی طرف دیکھا”

آج اگر تم میرے سامنے روؤ، گڑگڑاؤ میرے پاس آنے کی بھیک مانگو تب بھی کوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔کیونکہ میں اپنے دشمنوں پر رحم نہیں کرتا۔آج تو تم مکمل میرے رحم و کرم پر ہو۔۔بہت خوشی ہو رہی ہے تمہیں اس حال میں دیکھ کر سو سارے حساب کتاب چکانے کا ارادہ ہے آج۔۔۔لیکن پہلے کچھ باتیں تمہارے گوش گزار کرنا چاہوں گا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ میں صرف ٹائم پاسنگ بندہ ہوں

شوبز انڈسٹری کی بہت سی خوبصورت ہیروئنز سمیت کئی اونچے گھرانوں کی ماڈرن لڑکیاں میری گرلفرینڈز رہی ہیں۔سب کے ساتھ ٹائم پاس کیا۔۔۔جس سے چاہتا شادی کر سکتا تھا مگر کیا ہے کہ شادی کا لفظ میری ڈکشنری میں ہے ہی نہیں۔میں آزاد بندہ ہوں۔دل جلدی بھر جاتا ہے سو زیادہ ٹائم کیلئے کسی لڑکی کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔۔۔۔کیونکہ ایک چہرہ بور کر دیتا ہے اسی وجہ سے شادی جیسے جھنجٹ میں نہیں پڑتا۔سو جب اتنی خوبصورت لڑکیوں کے ساتھ صرف وقت گزار سکتا ہوں تو تم کیا اسپیشل آسمان سے اتری ہوئی ہو جو تم سے شادی کرتا میں۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں اپنی گلابی چمڑی کچھ زیادہ ہی ناز ہے۔۔خیر آج کے بعد نہیں رہے گا۔۔۔وہ تمسخرانہ انداز میں ہنسا۔۔

اسکی وحشت بھری باتوں سے حیات عبدالرحمان کے پورے وجود میں سنسناہٹ سی دوڑنے لگی۔۔۔

جانتی ہو جب تمہیں پہلی بار یونیورسٹی میں سٹیج پر دیکھا تھا تو تمہارے حسن نے مجھے مسمرائز کیا تھا۔لیکن میں حسین چہروں کو عام مردوں کی طرح مرمٹنے یا پانے کی چاہ میں نہیں دیکھتا۔۔۔۔ بلکہ میں حسین چہروں کو اپنی فلم کیلئے دیکھتا ہوں۔سو میں تمہیں بھی اسی سوچ کے تناظر سے دیکھ رہا تھا کیوں کہ مجھے اپنی آنے والی فلم کیلئے نیو اور فریش فیس چاہیے تھا۔تمہارا فیس مجھے اپنی فلم کیلئے پرفیکٹ سکرین فیس لگا۔۔۔۔۔۔۔مگر جس چیز نے مجھے دھچکا پہنچایا تھا وہ تھی تمہاری آنکھوں میں اپنے لئیے نفرت بے زاریت اور حقارت کا تاثر۔۔۔۔۔۔

جب تمہاری فرینڈ نے تمہیں بھی شامل کر کے کہا کہ وہ میری فینز ہیں تو جن نظروں سے تم نے اسے دیکھا اس چیز نے مجھے بے حد حیران کیا تھا بلکہ شاک لگا تھا مجھے۔۔۔۔کیونکہ میں تو لوگوں اسپیشلی گرلز کی نظروں میں اپنے لئیے محبت پسندیدگی رشک اور حسرت بھرا تاثر دیکھنے کا عادی تھا۔۔۔۔۔لیکن تمہارے اٹیٹوڈ نے مجھے جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیا تھا۔۔ تمہارے حسن سے زیادہ تمہارے اس انداز نے مجھے تمہاری طرف توجہ دینے پر مجبور کیا۔اسی لئیے میں نے سوچا تمہیں اپنی فلم کی ہیروئن بناؤں گا اور پھر گرل فرینڈ بنا کر تمہیں خود سے امپریس ہونے پر مجبور کر دوں گا اور پھر اپنی ہر گرل فرینڈ کی طرح تمہارے ساتھ بھی ٹائم پاس کر کے چھوڑ دوں گا تمہیں۔۔۔۔مگر۔۔”

بولتے بولتے رک کر اسے بے حد تنفر بھری نظروں سے

اسے گھورا۔۔جس کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید ہو چکا تھا مگر اس کا دل ذرا نہیں پگھلا۔۔۔

وہ مسلسل سفاکی سے بولتا رہا۔۔

لڑکیاں ایسی آفرز کیلئے ترستی ہیں۔۔۔مگر تم نے میرے مینیجر کو صاف انکارکر کے مجھے طیش دلایا۔۔۔لیکن میں پھر بھی تمہارے گھر چلا آیا کہ شائد مجھے دیکھ کر تم انکار نہیں کرو گی۔۔۔۔۔۔بٹ تمہارا ہتک آمیز رویہ مجھے دنگ کر گیا۔۔۔۔۔اپنے غصے کو دبا کر میں مسلسل تمہیں قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر تمہاری طرف سے بھی مسلسل انکار مجھے مزید طیش دلاتا گیا۔پھر مجھے ضد ہو گئی کہ تمہارے انکار کو ہر حال میں اقرار میں بدلنا ہے۔پہلے تو میرا اصل مقصد تمہیں اپنی فلم کی ہیروئن بنانا تھا مگر پھر اچانک تمہیں پانے کو دل مچلنے لگا اور میں نے تمہیں اسکی آفر بھی کر دی

مگر جواب میں تم نے میری انسلٹ کی۔میری انا میری میری شخصیت پر یہ چیز ضرب بن کر لگی کہ ایک معمولی لڑکی مجھ جیسے اتنے بڑے سپر سٹار کو انکار کر کے اسکی بے عزتی کرے۔۔

پھر انہی دنوں مجھے پتہ چلا تم نے ایک پروفیسر کو چن لیا۔۔اس سے نکاح کر لیا۔۔۔لیکن مجھے اس بات سے زیادہ فرق نہیں پڑا میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ تم میری فلم کی ہیروئن بنو اور کچھ وقت میرے ساتھ گزارو بس۔۔۔باقی تم جس سے بھی شادی کرتی مجھے کوئی غرض نا ہوتی۔۔۔۔۔مگر تم کسی صورت راضی نا تھیں تو میں نے تمہیں پانے کیلئے تم سے وقتی طور پر شادی کا بھی سوچا مگر تم نے پہلے کی طرح حقارت سے میرا پرپوزل ریجیکٹ کر دیا۔۔۔

وہ بول رہا تھا مگر اس کی خون آشام نظریں حیات عبدالرحمان کے ساکت چہرے پر گڑی ہوئی تھیں۔۔اسکی اتنی سخت پکڑ سے اسکے بازؤوں میں شدید درد ہو رہا تھا۔مگر وہ تکلیف کو برداشت کیے اسکی سفاک باتیں سننے پر مجبور تھی۔۔

اچانک اس نے خود ہی اسے اپنی گرفت سے آزاد کر دیا اور رخ موڑ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ کچھ دیر بعد اسکی آواز گونجی۔۔۔

علی کاظمی کو تو جانتی ہو نا تمہارے فادر کے دوست ظفر کاظمی کا بیٹا۔۔۔۔اس نے مجھے مشورہ دیا کہ میں تمہارے ایکس ہزبینڈ پر اٹیک کرواؤں۔۔۔۔جس میں وہ صرف زخمی ہو۔۔۔تم ڈر کر اسے چھوڑ دو گی اور پھر میری طاقت سے ڈر کر میری بات ماننے پر مجبور ہو جاؤ گی۔۔

پہلے تو میرا اس کا مشورہ ماننے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔مگر تمہاری ہٹ دھرمی نے مجھے اس کا مشورہ ماننے پر مجبور کر دیا۔۔۔

وہ بول رہا تھا۔۔۔وہ اسکے چہرے کے تاثرات دیکھنے سے قاصر تھی کیونکہ وہ اسکی طرف پشت کیے کھڑا تھا۔۔مگر آواز میں اب غصے اور طیش کے بجائے افسوس لگ رہا تھا۔۔۔

حیات بالکل کسی مجسمے کی طرح ساکت کھڑی تھی

اسکی پکڑ کی وجہ سے اسکے بازؤوں میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں مگر وہ درد سے بے نیاز فق چہرے کے ساتھ صرف اسکی باتیں سن رہی تھی۔۔

کہیں وہ کمزور نا پڑ جائے شائد اسی لئیے رخ موڑے بول رہا تھا۔۔۔

میرے ہاں کہنے پر اس نے ایک لڑکے کو ہائر کیا کہ اس

پروفیسر پر حملہ کرنے کو۔لیکن اس حملے میں اس کی جان لینا مقصود نہیں تھا صرف ڈرانا تھا زخمی کرنا تھا۔مگر اس پروفیسر بیچارے کی قسمت اچھی نہیں تھی ہم اس بات سے انجان تھے کہ اس لڑکے کو اپنی کوئی ذاتی پرخاش تھی اس پروفیسر سے۔۔۔۔۔۔میرے دوست نے تو صرف یہ سوچ کر اسے اس کام کیلئے ہائر کیا کہ وہ چونکہ اسکی یونیورسٹی کا طالبعلم ہے تو اچھے سے پہچانتا ہوگا اس بات کی ٹینشن نہیں ہوگی کہ وہ اس پروفیسر کے بجائے غلطی سے کسی اور کو زخمی نا کر دے۔۔۔۔۔۔مگر اس ایڈیٹ نے اپنا بدلہ لینے کیلئے جان سے مار دیا اس بچارے۔۔

جس کا مجھے بے حد افسوس ہوا۔۔۔اسی گلٹ کی وجہ سے میری سوچ اور ارادے تمہارے بارے میں بدل گئے

اور میں نے اسکی تلافی کیلئے نیک نیتی سے تمہیں اپنانے کا سوچا۔میرا ارادہ تھا تم سے شادی کے بعد اس

لڑکے کو پکڑوانے کا۔۔۔۔مگر تم نے ایک بار پھر مجھے ریجیکٹ کر کے ہرٹ کیا۔۔۔تمہارے گھر تعزیت کیلئے آیا تم نے مجھے بے عزت کیا گالیاں دیں۔۔۔میں برداشت کر گیا کیونکہ کچھ حد تک میرا قصور تھا۔۔۔لیکن اگر میرا

دوست اس لڑکے کو یہ کام نا بھی کہتا تب بھی شائد بدلہ تو اس نے لینا تھا۔۔۔

خدا کی قسم اگر تم اس وقت میرا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیتی تو تمہاری ساری پچھلی باتیں بھلا کر دنیا بھر کی خوشیاں تمہارے قدموں میں لا کے رکھ دیتا۔۔۔۔مگر تم راضی نہیں ہوئی تو مجھے سخت تاؤ آیا مجبوراً مجھے تمہارے فادر کو راضی کرنے کیلئے جھوٹ بولنا پڑا کہ تمہارے ساتھ میں نے”

اس نے گہری سانس لی

خاموشی کا چھوٹا سا وقفہ۔

پھر ان کا ایکسیڈنٹ ہوا اس میں میرا کوئی ہاتھ نہیں تھا مگر تم نے میڈیا پر جا کر مجھ پر الزام تراشیاں کر کے میر امیج خراب کرنے کی کوشش کی سو تمہاری اس حرکت سے میرے دل میں تمہارے لئیے جو محبت اور احساس کا جذبہ بیدار ہو رہا تھا وہ سرد پڑ گیا اس کی جگہ غصے اور انتقام نے لے لی۔اسوقت میرا دل کرتا تھا تمہیں فوری طور پر شوٹ کر دوں مگر پھر میرے دوست نے مجھے روکا او سمجھایا کہ تم پہلے ہی میڈیا پہ میرا نام لے چکی ہو اگر تمہیں قتل کروں گا تو الزام مجھ پر آئے گا۔۔۔۔۔فلحال صبر کروں اور بدلا لینے کیلئے مناسب موقعے کا انتظار کروں۔۔۔خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا تھا۔پھر تمہیں ٹریپ کرنے کیلئے میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا۔۔۔۔

دو سیکنڈ کیلئے رک کر نفرت و حقارت کے انداز میں اسکی طرف دیکھا۔۔جو پتھرائی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھا۔۔ماحر خان کا ایک ایک لفظ اسکی روح پر چرکے لگا رہا تھا۔۔۔مگر وہ شخص بے حد سنگدل و کٹھور بنا بول رہا تھا۔۔

“جس پر عمل کرنے کیلئے میں نے ظفر کاظمی کی فیکٹری میں آگ لگوا دی۔اس بات کا کسی کو پتہ نہیں چل سکا حتیٰ کہ اس کے بیٹے یعنی میرے دوست کو بھی نہیں۔

پھر جیسا میں نے سوچا ویسا ہی ہوا فیکٹری جل جانے سے کروڑوں کا نقصان ہوا اسے۔۔۔۔وہ دیوالیہ ہو کر سڑک پر آنے والا تھا جب میں نے اس کے سامنے ایک ڈیل رکھی۔۔۔۔کہ اگر وہ تمہیں دیوالیہ کر دے تو میں اس کو اتنے پیسے دوں گا کہ وہ دوبارہ سے اپنی فیکٹری لگا سکے۔۔۔۔۔تھوڑی سی بحث کے بعد وہ مان گیا۔۔۔تمہارے باپ نے اس کا کوئی ادھار نہیں دینا تھا وہ سب جعلی کاغذات تھے جو تمہیں دکھائے گئے۔۔۔۔۔۔وکیل کو بھی خریدا گیا تھا۔۔۔تمہیں گھر سے نکلوانے کے بعد وہ آدمی جو سڑک پر ملا تم لوگوں کو۔۔۔۔۔پہلے ہاسپٹل اور پھر فلیٹ میں لایا تھا وہ بھی میرا ہی آدمی تھا اور فلیٹ بھی میرا تھا۔۔۔۔۔۔تمہارے بھائی کو میں نے خود اغواہ کروایا تھا۔۔۔۔۔۔پلان سارا کامیاب ہی جا رہا تھا کہ اچانک ناجانے تمہیں کیسے میرے ارادوں کی خبر ہو گئی اور تم اپنی پہلے والی ہٹ دھرمی پر آ گئی۔۔

بات کے اختتام پر اسکی طرف خونخوار نگاہوں سے دیکھا جو کہ اسکے انکشافات سن کر ادھ موئی ہوئی جا رہی تھی۔۔۔

پھر مجبوراً مجھے یہ سب کرنا پڑا جو ابھی تم بھگت رہی ہو۔۔اور اب تو جو بھگنتے والی ہو وہ تم سے سوچا بھی نہیں ہوگا۔۔سرد و سپاٹ لہجے میں بولتے ہوئے آخر میں اس کا لہجہ پھر سے زہر بھرا اور قہر آلود ہو گیا۔۔آواز میں سختی و رعونت حد سے زیادہ آ گئی۔۔

حیات عبدالرحمان کا چہرہ خوف سے اتنا سفید پڑ گیا تھا کہ لگتا تھا جسم میں خون کا قطرہ بھی نہیں رہا۔۔۔

جانتی ہو تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔باہر پولیس تمہیں اریسٹ کرنے کیلئے موجود ہے۔۔میں ابھی تمہیں انکے حوالے کر دوں گا۔۔۔پھر حوالات میں تمہارے ساتھ کیا کیا ہوگا تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔کیونکہ تمہارے لئیے تو میری طرف سے اسپیشل آرڈر ملے گا۔۔لیکن اس

سے پہلے تمہیں تمہاری اوقات تو بتا دوں۔۔۔۔وہ سفاکی سے کہتے ہوئے مسکرایا۔۔۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں ایک عجیب قسم کی چمک تھی۔۔۔

حیات عبدالرحمان کے ساکت مجسمے میں جنبش پیدا ہوئی۔۔اس پر بیک وقت غم و غصہ خوف طیش اور پچھتاوے کی کیفیات اس حد تک طاری ہوئیں کہ وہ لرزنے لگی۔۔۔

ماحر کے لبوں پر بڑی گہری تمسخرانہ مسکراہٹ ابھر

کر اسکے وجہیہ چہرے کو روشن کرنے لگی۔وہ بڑی کاٹ دار نگاہوں سے اسکے لرزاں وجود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

ادھر حیات کی حالت غیر ہوئے جا رہی تھی۔اس کی نظروں کی تپش اسے جھلسا رہی تھی اسے شدت سے اپنی غلطیاں یاد آ رہی تھیں۔اس شخص سے کی گئی اپنی زیادتیاں۔۔۔کس بری طرح سے وہ اسے بے عزت کیا کرتی تھی۔میڈیا میں جا کے کس قدر برا بھلا کہا تھا اسے۔۔۔واقعی اس نے سچ ہی تو کہا تھا کہ اگر وہ نا بھی کہتا تب بھی ارسلان بھٹی جیسا سانپ اپنا بدلا لینے کیلئے ارتضیٰ کو لازمی مارتا۔۔۔

اب اگر یہ شخص اس سے بدلا لینے کی سعی کرتا تو کون روک سکتا تھا اسے۔۔

اس ارادے تو ویسے ہی ٹھیک نہیں لگ رہے تھے پوری طرح سے وہ اسکی دسترس میں تھی خود کو بچانے کی اور ہمت اور طاقت بھی محسوس نہیں کر رہی تھی۔۔

باہر پولیس اور اندر یہ شخص۔یعنی آگے کنواں پیچھے کھائی والی صورتحال تھی۔

عزت بچانے کی ایک ہی صورت تھی کہ وہ اس کے پاؤں پڑ کر اس سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگ لے۔۔اس نے ایسا کیا بھی۔۔

مگر اس کا الٹا اثر ہوا

جیسے ہی وہ اسکے قدموں سے لپٹی۔اسکے لمس کو پا کر اس پر شیطان طاری ہو گیا۔۔۔۔چونکہ پہلے سے نشے میں تھا۔۔پھر آیا بھی تو اسی ارادے سے تھا کہ بدلا لے گا۔۔۔ سو اسے بہکنے میں ٹائم نہیں لگا۔۔

فوراً سے اسے اپنی مضبوط گرفت میں لیا۔۔وہ جو پہلے قدموں پر گری معافیاں مانگ رہی تھی اسکو شیطانی روپ میں آتا دیکھ کر اسکے اوسان خطا ہو گئیے۔خود کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے وہ بری طرح مشتعل ہو کر اسے گالیاں دینے لگی۔۔۔

کمینے گھٹیا ذلیل انسان۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔تم اتنے زیادہ گھٹیا اور کمینے نکلو گے میں نے سوچا نہیں تھا۔۔۔۔مر جاؤں گی لیکن تمہیں تمہارے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔۔۔

وہ حلق کے بل چلا چلا کے گالیاں دینے لگی۔۔۔۔۔وہ جو پہلے نشے میں بہکا جا رہا تھا اس کے منہ سے اپنے لئیے گالیاں سن کر تو اس کا میٹر ہی گھوم گیا۔۔۔ایک ہاتھ سے اسکے بازو کو پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے اس زور کا تھپڑ مارا کے وہ تیورا کر پیچھے پڑے صوفے پر گری۔۔۔مگر گرتے گرتے ساتھ پڑی لکڑی کی تپائی کا ایک کونہ اسکے سر میں اس بری طرح سے لگا کہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔پہلے زور دار تھپڑ اور سے سر میں لگی چوٹ نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔۔۔۔

وہ بالکل بھی مزاحمت نا کر پائی۔۔۔۔۔بس پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تو جو دونوں ہاتھ اسکے اطراف میں رکھے خون آشام نظروں سے گھورے جا رہا تھا۔۔اس سے پہلے وہ کوئی حرکت کرتا حیات نے اسے بری طرح کراہ کر پیچھے کی طرف جھکتے دیکھا۔۔

شائد اسکے سر پر کچھ لگا تھا۔۔۔۔کیونکہ اس نے اچانک اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھ لئیے تھے۔اور چہرے پر بھی تکلیف کے آثار تھے۔۔۔وہ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔۔ایک ہاتھ سے سر کو پکڑے وہ بے حد طیش کے عالم میں گھٹنوں کے بل بیٹھا بیٹھا ہی گھوما اور پلٹ کر حملہ کرنے والے کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔۔۔

حیران تو خود حیات بھی رہ گئی تھی۔

وہ نو سالہ مون تھا۔۔۔ہاتھ میں کرکٹ بیٹ لئے اسے بے حد غصے سے دیکھ رہا تھا۔۔یقیناً اسی بیٹ سے ضرب لگائی تھی اس نے ملک کے ہینڈسم ڈیشنگ نامور سپر سٹار کے سر پر۔۔۔

ایڈیٹ بوائے۔۔۔ماحر نے دانت پیسے اور طیش کے عالم میں ایک ہاتھ سے اسکی شرٹ کو پکڑ کر اپنی طرف زور سے کھینچا۔۔۔۔۔وہ نو سالہ بچہ اپنا توازن برقرار نا رکھ سکا اور کسی گیند کی طرح لڑھکتا ہوا اسکی گود میں آ گرا۔۔۔