171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 04)

Meri Hayat By Zarish Hussain

فرحین اپنے تایا تائی کے ساتھ رہتی تھی۔۔۔اسکے ماں باپ کی اسکے بچپن میں ہی ڈیتھ ہوگئی تھی۔۔۔اسکے تایا تائی کی کوئی اولاد نہیں تھی تو انہوں نے فرحین کو پالا تھا۔۔۔۔۔۔۔نیچر کے لحاظ سے اس کا تایا ارشد ایک لالچی آدمی تھا اور اسکی تائی بھی اپنے شوہر کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ فرحین کے نام پہ اسکے باپ کی کچھ پراپرٹی تھی،اسکے اکاؤنٹ میں اسکی سٹڈی کیلئے سیونگ تھی جو کہ اس کا باپ اپنی بیٹی کے فیوچر کیلئے سیو کر گیا تھا،،اسکے علاؤہ فرحین کے اپنے گھر اور دو دکانوں کا کیرایہ بھی آتا تھا۔۔ جس سے انکی اچھی گزر بسر ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ سو اسکا آرام پسند تایا اور تائی سکون سے کھا پی رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رات کے کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آئی تو اس کا موبائل بج رہا تھا،،نمبر انجان تھا،چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے رسیو کر کے کان سے لگایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیلو کون،،،،،،،،،؟؟

اسلام علیکم میڈم……….

میں ماحر سکندر خان کا سیکرٹری فراز احمد بات کر رہا ہوں،،،مہذب انداز میں تعارف کروایا گیا،،،،،،،،،،،

کون ماحر سکندر،،،؟وہ حیران ہوئی اور اگلے ہی پل جوش سے چیخی،،فلمسٹار ماحر سکندر،،،آآآ آپ فلمسٹار ماحر سکندر کے سیکریٹری بات کر رہے ہیں،،؟

جی۔۔جی میڈم،،، فلمسٹار ماحر سکندر خان،،،، اگلا بندہ اسکے اتنے چیخنے پر فوراً بولا تھا۔۔۔۔

تو،،،،،، تو پھر،،،،فرحین کی سمجھ میں نہیں آیا کہ آگے کیا بولے،،،،،،،،،،، کچھ دیر بعد اسکی دوبارہ آواز آئی

ایکچولی میڈم آپکو اس لئے فون کیا ہے کہ ماحر سر آپکو اپنی فلم میں بطور ہیروئن لینا چاہتے ہیں،،تو کیا آپ آنکی فلم میں کام کریں گی،،،،،؟؟؟بتانے کے ساتھ پوچھا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مممم مجھے،،،،،، وہ مجھے اپنی فلم میں ہیروئن لینا چاہتے ہیں،،،؟؟ فرحین سخت حیران تھی

جی۔۔ جی آپ کو،،،،،،، کریں گی کام آپ۔۔۔۔؟؟

وہ حیرت کے مارے اب گنگ ہوگئی تھی۔۔۔۔۔اسکی جانب سے خاموشی لمبی ہوئی تو وہ پھر سے بولا

تو پھر کیا جواب ہے آپ کا،،،،؟؟؟

جی جی،، میری طرف سے ہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میری خوش قسمتی ہوگی کہ مجھے انکے ساتھ کام کرنے کا موقع مل رہا ہے۔۔۔۔۔۔

میری طرف سے پکی ہاں سمجھیں،،،،،اس نے خود کو سنبھالا اور جھٹ سے ہاں کر دی۔۔۔۔

اوکے۔ میڈم پھر میں ماحر سر کو انفارم کرتا ہوں،،جلد ہی ہم آپ سے کنٹیکٹ کریں گے،،،،،،،دوسری طرف سے کال بند ہوگئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔O my God میری luck اتنی اچھی کیسے ہو سکت ہے وہ حیرانی اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں گھری کھڑی تھی۔ماحر سکندر جیسے سپرسٹار کی جانب سے فلم کی آفر کوئی معمولی بات نہیں تھی۔وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کا خواب حقیقت میں بدل سکتا ہے۔وہ بے حد خوش تھی کہ اس بہانے ماحرسکندر سے ملنے اسکے قریب رہنے کا موقع ملے گا۔۔۔۔ واؤ۔۔۔۔۔۔جا کے تایا تائی کو بتاتی ہوں موبائل ہاتھ میں پکڑے سر شار سی فوراً انکے کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔ ۔یہ سوچے بغیر کہ بھلا ماحر سکندر کو اس میں ایسا کیا نظر آیا جو اس نے اسے فلم کی آفر کر دی۔۔۔۔۔۔

سر۔ فراز نے اس لڑکی سی بات کرلی ہے اور اس نے ہاں کر دی ہے۔ اب آپ بتائیں کب اسے فلم سائن کرنے کیلئے بلائیں،،،،مینیجر کی کال اٹینڈ کر کے ماحر سکندر نے موبائل کان سے لگایا تو وہ اسے بتانے لگا،،،،،،،،،،

گڈ یہ تو بہت اچھی بات ہے،،،،وہ خوش ہوا

کل تو واجد صاحب کی فلم کی شوٹنگ کا لاسٹ ڈے ہے اور پرسوں ہماری میٹنگ ہے تو میٹنگ کے بعد میں تمیں بتادوں گا۔ پھر اسے بلا لینا،،،،،،

اوکے سر ۔۔۔۔۔ وہ کچھ حیران سا تھا۔۔۔ اسے لگا تھا کہ شائد وہ فوراً سے ہامی نہیں بھرے گی کیونکہ جس طرح کا اٹیٹوڈ لگ رہا تھا اس میں پھر وہ ایک بار کہنے میں کیسے مان گئی،،،خیر جو بھی ہے وہ خوش تھا۔فلم کے ساتھ وہ اسے اب اپنی گرل فرینڈ بنانے کا ارادہ بھی رکھتا تھا ۔ کیونکہ اب مثال شیرانی سے اس کا دل بھر چکا تھا۔۔۔۔

کیا———- ماحر سکندر خان نے تمیں کال کر کے اپنی فلم کی آفر کی،،،،؟؟جس نے بھی سنا اسے حیرت اور بے یقینی کا شاک لگا۔۔فرحین نے پہلا کام صبح یونی آتے ہی یہی کیا تھا۔۔۔۔۔۔

۔۔۔اپنی پوری کلاس کو فخر سے بتانے کا کہ نامور فلمسٹار ماحر سکندر کی طرف سے اسے فلم کی آفر آئی ہے، لہذا سب کا حیران ہونا تو بنتا تھا۔ کیونکہ فرحین سانولی سی انتہائی واجبی نقوش والی لڑکی تھی۔تو سب کے ذہنوں میں جھٹ سے یہی سوچ ہی آئی تھی کہ ماحر سکندر نے آخر اس میں ایسا کیا دیکھا بھلا جو اسے فلم کی آفر کر ڈالی۔پیریڈ شروع ہونے میں ابھی ٹائم تھا۔۔ سو ساری کلاس فرحین کی طرف متوجہ تھی جو کہ فخر سے گردن اکڑائے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔حورین اور حیات بھی موجود تھیں۔سب طرح حیرانی سے تو نہیں پر تھوڑی دلچسپی سے حیات بھی متوجہ تھی۔لیکن حورین کا ردعمل مختلف تھا باقی سب کی طرح اسے بھی رتی بھر یقین نہیں آ رہا تھا۔مگر خاموشی سے سب کے کمنٹس سن رہی تھی۔

مگر ہوا کیسے۔۔؟؟ردا عالم جو کہ فرحین کے ساتھ بیٹھی تھی۔پوری بات جاننے کی خواہاں تھی۔یار وہ اس دن جب ہماری یونیورسٹی میں شوٹنگ کیلئے آئے تھے نا تو تب اسکے مینیجر نے ہمارا نمبر لیا تھا۔۔

ہمارا مطلب۔۔۔؟

مطلب میرا حورین اور حیات کا۔۔۔۔۔۔۔مگر کال صرف مجھے آئی فلم کی آفر کیلئے،،،وہ خاصی اترا کر بولی

جبکہ حیات نے نمبر والی بات پہ حورین کو گھور کے دیکھا۔جواب میں حورین نے شرمندہ سی سمائل دی۔۔۔اب سب ایک دوسرے کی طرف ایسے دیکھنے لگے جیسے بات ہضم نا ہوئی ہو۔۔۔

سچ کہوں تو مجھے بالکل یقین نہیں آرہا۔اگر یہ بات تمہارے بجائے حورین کہتی تو ہم کچھ حد تک کوشش کر کے مان لیتے۔اور اگر یہ بات حیات کہتی تو پھر میں تو کیا پوری یونیورسٹی بھی آنکھیں بند کر کے یقین کرتی۔

مگر تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔بات ادھوری چھوڑ کر وہ

مزاق اڑانے والے انداز میں مسکرائی۔۔۔۔۔یہ انکی کلاس کی سب سے منہ پھٹ+صاف گو لڑکی مریم تھی۔جو بنا کسی ہچکچاہٹ کہ جو دل میں آتا منہ پہ کہہ دیتی۔۔

۔۔۔۔۔تمہارا مطلب ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں۔۔۔؟فرحین کو تو گویا آگ ہی لگ گئی،،،،،،ہاں بالکل۔۔۔مریم ڈھٹائی سے پھر ہنسی۔۔۔اس سے پہلے فرحین اسے کوئی سخت جواب دیتی سر ارتضیٰ حسن کے آنے سے کلاس میں سناٹا چھا گیا۔۔۔۔بلیک پینٹ پر وائٹ شرٹ اور بلیک کوٹ پہنے،ہینڈسم+ چارمنگ اور مغرور سے ارتضی حسن کا انداز پہلے دن کی طرح ہی انتہائی سنجیدہ اور سرد تھا۔ لڑکیاں تو لڑکیاں لڑکے بھی اسکی پرسنالٹی سے امپریس تھے۔حیات کا اسکی کلاس میں آج دوسرا دن تھا۔خلاف توقع آج کسی سٹوڈنٹ کو ڈانٹ نہیں پڑی۔۔۔کیونکہ پہلے دن کے بعد سب سنبھل گئے تھے۔۔

لیکچر کے بعد وہ چلے گئے مگر جاتے جاتے کل کی پریزنٹیشن کیلئے وارن کرنا نہیں بھولے۔۔۔۔۔

کلاس ختم ہونے کے بعد پھر سے فرحین+ماحرسکندر فلم آفر نامہ شروع ہوگیا۔۔۔۔

یار حیا تمہیں کیا لگتا ہے۔۔ کیا فرحین سچ بولی رہی ہوگی۔۔۔۔؟

وہ دونوں لائبریری آ کے بیٹھیں تو حورین نے حیا کی رائے لینا چاہی۔۔۔

۔۔۔ وہ جھوٹ کیوں بولے گی۔۔حیا نے بال پوائنٹ کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے الٹا سوال کیا۔۔۔

ہاں یہ بھی ہے اتنا بڑا جھوٹ وہ کیوں بولے گی بھلا۔۔بٹ یہ بات اگر سچ ہے تب بھی دل مان نہیں رہا۔۔۔

ویسے حیا اگر وہ یہ آفر تمہیں کرتا تو۔۔۔۔

تو میں فوراً انکار کر دیتی۔۔حیا نے فائل کھولتے ہوئے کہا۔۔۔۔

اب چھوڑو اس ٹاپک کو مجھے اسائنمنٹ لکھنے دو۔۔

پہلا اسائنمنٹ ہے سر ارتضیٰ کا۔۔۔اسلئے فرسٹ امپریشن تو اچھا پڑنا چاہیئے نا۔۔۔۔

ہاں۔۔ہاں بالکل ویسے مجھے لگتا ہے سر ارتضیٰ پہ فرسٹ امپریشن تمہارا تو اچھا ہی پڑا تھا۔۔ دیکھا نہیں تھا کیسے مجھ معصوم سمیت ساری کلاس کھڑی تھی اور صرف تم بیٹھی تھی۔۔۔۔۔وہ خاموشی سے اپنی فائل کی طرف متوجہ رہی۔۔۔۔

ویسے حیا سر ارتضیٰ بہت ہینڈسم ہیں۔۔سچ بتانا ہم سب کی طرح تم بھی انکی پرسنالٹی سے امپریس ہوئی ہو یا نہیں۔۔۔اس نے شرارتی لہجے میں پوچھا

حیا نے ایک پل کیلئے اسکی طرف تنبیہی نگاہوں سے دیکھا اور پھر سے اپنی فائل کی طرف متوجہ ہوگئی

حورین نے بھی مسکراتے ہوئے اپنے سامنے رکھی بک کھول لی۔۔۔۔۔۔

دوسرے دن شام کو ماحر سکندر واجد علی کی فلم کی شوٹنگ کمپلیٹ کروا کے آیا۔ تو ڈرائنگ روم سے آتی باتوں کی آواز سن کر سیدھا وہیں چلا آیا۔سامنے ہی صوفے پر سکندر علی خان بیٹھے چائے پی رہے تھے۔وہ آج دوپہر کو ہی لندن سے واپس آئے تھے۔عبیر، زین فاریہ اور اسکی مام سب وہیں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔ڈیڈ سے ملنے کے بعد وہ بھی وہیں بیٹھ گیا۔۔۔

کیا گپ شپ ہو رہی ہے۔؟؟ملازم سے چائے لیتے ہوئے اس نے پوچھا۔وہ صرف ایک ٹائم ہی چائے پیتا تھا اور وہ بھی شام کو۔۔۔۔بھائی آپکی شادی کی ڈسکشن چل رہی ہے۔۔فاریہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔

میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ سو میرا مشورہ ہے پہلے انکی کریں۔سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس نے اپنے چھوٹے بھائیوں اور بہن کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔

جی جی برخوردار ہم جانتے ہیں آپ کبھی شادی کیلئے سیریس نہیں ہونگے اسلئے ہم اب آپ سے امید لگانے کے بجائے ان تینوں کے بارے میں ہی سوچ رہے ہیں۔۔

سکندر صاحب نے بھی سنجیدگی سے کہا۔۔لیکن پاپا صرف زین کی میری ابھی نہیں۔۔ میں ماحر بھائی کے بعد ہی کروں گا۔ عبیر نے بھی مطلع کرنا ضروری سمجا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر تمہاری یہی سوچ ہے تو اسے فوراً بدل لو کیونکہ میرا تو شادی کا سرے سے ارادہ ہی نہیں ہے۔۔ماحر مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا بھائی۔۔۔۔۔۔فاریہ کو صدمہ ہوا۔۔۔۔۔

اور میرے پوتے پوتیوں کی خواہش کا کیا ہوگا۔۔۔۔۔؟؟ سوری مام مجھ سے یہ امید نا لگائیے گا یہ دو ہیں نا یہ پوری کر دیں گے آپکی یہ خواہش۔۔۔اشارہ پھر چھوٹے بھائیوں کی طرف تھا۔۔

اس کے صاف انکار پر اس کی ماں فائزہ نے ناراضگی سے اسکی طرف دیکھا۔مگر وہ نظر انداز کر کے باپ کی طرف متوجہ ہوگیا۔

ڈیڈ کل آفس میں میٹنگ ہے ہماری نئو فلم کیلئے۔ سکرپٹ تو آپ دیکھ چکے ہیں بس کل سب فائنل کرنا ہے۔فرقان کو میٹنگ کا ٹائم بتانا ہے۔ تو کتنے بجے کا ٹائم دوں اسے۔؟؟

دو بجے کا ٹائم دے دو۔تب تک آفس کے معاملات بھی دیکھ آونگا۔سکندر نے اپنے فون کو دیکھتے ہوئے جواب دیا جس پر انکے کسی دوست کی کال آرہی تھی۔ جسے سننے کیلئے وہ ڈرائنگ روم سے باہر چلے گئے۔فائزہ رات کے کھانے کا مینیو دیکھنے باورچی خانے چل دیں۔

پیچھے وہ چاروں بہن بھائی بیٹھے تھے۔آپ نئی فلم بنا رہے ہیں بھائی تو ہیروئن کون ہوگی۔۔۔؟؟ فاریہ نے اشتیاق سے پوچھا۔۔

ہاں بھائی یہ تو آپ نے بتایا بھی نہیں کہ ہیروئن کسے لے رہے ہیں۔۔۔؟زین بھی فوراً بولا

ہیروئن بہت خوبصورت ہے۔۔۔ماحر کے کچھ بولنے سے پہلے ہی عبیر کے منہ سے نکلا۔

تم نے کب دیکھا۔۔؟ وہ حیران ہوا کیونکہ اسکے اور فرقان کے علاوہ توکسی کو معلوم ہی نہیں تھا اس لڑکی کے بارے میں۔۔۔

نا۔نئیں دیکھا تو نہیں مگر اندازہ ہے کیونکہ فلم بھی تو

آپ خاصے بھاری بجٹ والی بنا رہے ہیں۔ماحر کے حیرانی سے پوچھنے پر وہ پہلے گڑ بڑایا پھر سنبھل کر بولا۔اصل میں عبیر نےمینیجر فرقان سے ہی ہیروئن کے بارے میں معلوم کیا تھا۔سو وہ بھی اسے دیکھنے کا اشتیاق رکھتا تھا۔۔

ماحر نے فرقان کو منع کیا ہوا تھا کہ جب تک سارے معاملات طے نہیں ہو جاتے ہیروئن کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے۔۔اسلئے عبیر ذرا گھبرایا

ہاں ہیروئن بالکل نیئو فیس ہے۔یونیک اینڈ انوسنٹ بیوٹی۔۔۔آئی ایم ہینڈدڈ پرسنٹ شیور کہ یہ فلم ہماری باقی تمام فلمز کا ریکارڈ توڑے گی۔۔اور کمال لڑکی کی بیوٹی کا ہوگا۔۔وہ حیات عبدالرحمان کا ترکش حسن تصور میں لاتے ہوئے مسکرایا۔۔۔۔۔۔

بھائی کیا وہ لڑکی اتنی خوبصورت ہے۔؟مجھے تو دیکھنے کا بہت شوق ہو رہا۔۔فاریہ کو تجسس ہونے لگا

اتنی خوبصورت کا تو نہیں پتا۔۔بٹ اسکی خوبصورتی بہت ڈفرنٹ ہے۔اور ایسا حسن میں نے انڈسٹری کی کسی ہیروئن میں نہیں دیکھا۔۔حلیے سے تو وہ خالص پاکستانی لگتی ہے لیکن شکل سے خالص پاکستانی بالکل نہیں لگتی۔۔شائد کسی اور کنٹری سے بھی اس کل تعلق ہو۔مصر یا ترکی ان میں سے ہی کسی کنٹری سے۔وہ پرسوچ انداز میں گویا ہوا۔۔

تو آپ نے اس سے بات نہیں کی۔۔؟

نہیں فراز نے کی ہے۔

وہ راضی ہوگئی۔ اب کل میٹنگ کے بعد اسے بھی ملاقات کا کوئی ٹائم دیتا ہوں۔پھر معاوضہ وغیرہ اور دوسرے معاملات فائنل کرتے ہیں۔۔اس نے اپنی بات ختم کر کے خالی کپ ٹیبل پر رکھا۔اور اٹھ کر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔۔

مجھے پکا یقین ہے ماحر بھائی کی اپ ۔کمنگ گرل فرینڈ وہی ہیروئن ہوگی۔۔پیچھے سے عبیر نے سرگوشیانہ انداز میں زین اور فاریہ سے کہا

مجھے بھی لگ تو ایسا رہا ہے۔زین نے بھی تائید کی۔فاریہ مسکرائی۔۔۔

اور وہ مثال شیرانی بھائی کی حالیہ گرل فرینڈ۔۔؟؟

اسکی چھٹی اب پکی سمجھو۔فاریہ کے پوچھنے پر عبیر ہنسا۔۔۔۔۔ویسے بھائی اچھا نہیں کرتے اتنی خوبصورت خوبصورت لڑکیوں کے دل توڑ کر۔۔

تم ہو نا ساری دکھی لڑکیوں کے دل پر مرحم رکھنے کیلئے۔۔زین نے اس پر چوٹ کی۔۔کیونکہ عبیر ان لڑکوں میں سے تھا جن کی رال ہر لڑکی کو دیکھ کر ٹپکنے لگتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں تو کیا کروں دل تو رکھنا پڑتا ہے نا۔اب ماحر بھائی کی طرح دل توڑ کر گناہ تو نہیں کرسکتا میں۔۔وہ کہاں شرمندہ ہونے والوں میں سے تھا۔۔سو ڈھٹائی سے مسکرایا۔۔۔زین اور فاریہ دونوں نے اسے تاسف سے دیکھا۔۔۔۔۔۔

یونیورسٹی سے واپس آ کر وہ سو گئی تھی۔۔۔عصر کے وقت اسکی آنکھ کھلی تو عصر کی نماز ادا کر کے ملازمہ سے چائے اور سیڈوچ لانے کو کہا۔۔ کیونکہ کھانا کھائے بغیر سوئی تھی لہذا اب بھوک محسوس ہونے لگی تھی۔ملازمہ چائے اور سینڈوچ لے کر آئی تو پیٹ پوجا کر کے کمرے سے نکل کر بالکنی میں آ گئی تھی۔ اس کا کمرہ فرسٹ فلور پر تھا۔۔اور اس کے کمرے سے ملحق ایک بالکنی بھی تھی۔۔۔۔ وہ بالکنی میں کھلنے والا دروازہ کھول کر باہر آگئی۔۔ریکنگ پر بازو ٹکا کر وہ گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے شام کی ٹھنڈی ہوا اپنے اندر پہنچانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔بالکنی سے پورچ کا کچھ حصہ لیکن لان تو تقریباً پورا کا پورا بڑا واضع نظر آ رہا تھا۔۔لان میں نظر آتی ہریالی اسے سکون پہنچانے لگی تھی۔۔۔۔

پورچ میں کسی گاڑی کے رکنے کی آواز پر اس نے اس سمت دیکھا تو ڈرائیونگ سیٹ پر اسے بابا اترتے نظر آئے انکے ساتھ سائرہ ممی اور مون بھی تھے۔۔۔وہ مون کو کہیں گھمانے لے کر گئے تھے۔۔۔جب وہ یونیورسٹی سے واپس آئی تھی تو مون کہاں ہے یہ پوچھنے پر ملازمہ نے اسے بتایا تھا کہ صاحب اور بیگم صاحبہ اسے گھمانے لے گئے ہیں۔۔۔۔عبدالرحمان اور سائرہ بیگم کے درمیان میں ان کا ایک ایک ہاتھ پکڑ کر کھلکھلا کر چلتے ہوئے مون کو دیکھ کر اسے اپنا بچپن یاد آگیا جب وہ ایسے ہی انکا اور مام ہاتھ پکڑ کر چلتی تھی تو ناچاہتے ہوئے بھی اسکی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے۔۔۔

اسکی ماں کی وفات کے بعد وہ بہت سیریس رہنے لگے تھے۔۔۔حتی کہ بیٹی پر سے انکی توجہ کم ہوگئ تھی۔۔

وہ اسکی ساری ضرورتوں کا خیال رکھتے تھے۔۔مگر پہلے کی طرح اسکے ساتھ ہنستے مسکراتے باتیں نہیں کرتے تھے۔۔۔مام کے بعد اس نے پہلی دفعہ انہیں مون کی پیدائش پر مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔وہ اس پر نظر ڈالے بغیر آگے بڑھ گئے جبکہ وہ کافی دیر وہیں بالکنی میں کھڑی رہی۔۔پھر شام کی آذان کے وقت اپنے کمرے میں آگئی۔۔نماز سے فارغ ہوئی تو مون اسے پکارتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اسے دیکھ کر وہ مسکرا دی۔۔بیڈ پر اسے اپنے ساتھ لٹائے وہ سٹوری سنا رہی تھی کہ ملازمہ کھانے کیلئے بلانے آئی۔۔۔مون کو لے کر وہ نیچے ڈائننگ ہال میں آئی تو عبدالرحمان نے اسے ایک خبر سنا کر خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔۔

حیا تمہارے فرسٹ سمسٹر کا ایگزامز کب ہو رہا ہے۔؟

کھانا کھاتے ہوئے انہوں نے اچانک پوچھا۔۔۔۔

نیکسٹ منتھ بابا۔۔۔حیا جو رشین سلاد اپنی پلیٹ میں ڈال رہی تھی۔ایک پل کیلئے ہاتھ روک کر جواب دیا۔۔۔

میں نے سوچا ہے تمارے ایگزامز کے بعد ہم ترکی جائیں گے۔۔۔۔

۔۔۔وہ جو جوس کا گلاس منہ سے لگانے والی تھی عبدالرحمان کی اس غیر متوقع بات پر ساکت ہو کے انہیں دیکھنے لگی۔۔آج تیرا سال کے بعد انہوں نے اس سے ترکی جانے کی بات کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا بیٹا آپکو خوشی نہیں ہوئی۔۔۔؟انہوں نے اسے خاموش دیکھ کے پوچھا۔۔۔

پاس بیٹھی سائرہ بھی اسے دیکھنے لگیں۔۔

نا نئیں نئیں بابا۔مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔۔۔ایکچولی آپ نے اتنے سالوں بعد ترکی جانے کی بات کی نا تو تبھی مجھے خوشی کے مارے شاک لگا۔۔اب وہ کھل کے مسکرا رہی تھی۔۔۔۔بیٹی کے خوشی سے جگمگاتے چہرے کو دیکھ کر وہ بھی مبہم سا مسکرائے تھے۔۔

جبکہ سائرہ بیگم مون کی طرف متوجہ ہو گئیں تھیں ۔۔۔انہیں نا حیات سے سگی ماؤں والی محبت تھی نا سوتیلی ماؤں والی پرخاش تھی۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔البتہ مون کی جان تھی اس میں اور حیا بھی اس سے سگی بہنوں کی طرح ہی پیار کرتی تھی۔۔۔۔

ساری رات اسے خوشی کے مارے نیند نہیں آئی۔۔تیرہ سال کے بعد وہ اگلے منتھ اپنی ماں کے ملک جائے گی۔۔۔

وہ ملک جہاں اسکا آدھا بپچن گزرا ۔۔اسکے بپچن کے دوست تھے۔۔۔۔جو کہ سب اب بڑے ہوگئے ہونگے۔۔نا جانے وہ انہیں مل پائے گی یا نہیں۔۔۔

اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔۔۔اب یہ آنسو دکھ کے تھے جانے کی خوشی کے وہ خود بھی نہیں سمجھ پائی۔۔۔۔

تم کیوں رو رہی ہو حیات۔۔یہ پوچھنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔۔۔اسے اپنے آنسو خود ہی صاف کرنے تھے۔۔سو اس نے خود ہی انہیں صاف کر لیا تھا۔۔۔

ہمیشہ کی طرح صبح چھے بجے ہی اسکی آنکھ کھل گئی تھی۔۔رات ناجانے کس پہر اسے نیند آئی تھی۔۔ناشتے کے بعد وہ یونیورسٹی چلی آئی تھی۔۔۔آج پہلی دفعہ وہ خود کو خوش محسوس کر رہی تھی۔۔اور خوشی کی وجہ یہ تھی کہ ایگزامز کے بعد وہ بابا کے ہمراہ ترکی جانے والی تھی۔۔ترکی اس کا ڈریم کنٹری تھا۔۔۔اس کی پیاری مام کا کنٹری۔۔۔۔۔ جسکی مٹی میں اسکی مام سو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

وہ جیسے ہی یونیورسٹی پہنچی تو سامنے گراؤنڈ میں ہی حورین کو اپنے انتظار میں پایا۔اور خلاف توقع اداس سی لگ رہی تھی۔اسے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح چہکی بھی نہیں۔کیا بات ہے کوئی مسئلہ ہے۔؟بیگ اور فائل بینچ پر رکھتے ہوئے حیا نے پوچھا۔۔ہاں یار خوش بھی ہوں اور اداس بھی حورین ٹھنڈی سانس بھر کر بولی

خوش اسلئے ہوں کہ میری شادی ہو رہی ہے۔ کہ آج شام کو ماموں ممانی لندن سے آرہے ہیں شادی کی ڈیٹ لینے۔اور اداس اسلئے کہ تم سے دور چلی جاؤں گی اور یونیورسٹی بھی چھوڑنی پڑے گی۔۔

حیا صدمے سے اسے دیکھنے لگی۔۔

کیا تم مجھے چھوڑ کر لندن چلی جاؤ گی۔۔اس نے شکوہ کن نظروں سے اسے دیکھا۔۔حورین اسکی اکلوتی بیسٹ فرینڈ تھی۔۔۔۔۔۔

مجبوری ہے جانی کیا کروں۔ماموں ممانی کو بہت جلدی ہے۔۔اور شایان کی جاب سٹارٹ ہوچکی ہے۔سو وہ دیر نہیں کرنا چاہتے۔خیر تم ٹینس نا ہوں میں تمہاری جان تو بالکل نہیں چھوڑنے والی۔دن میں دس بار تمہیں کال کیا کرونگی۔ لیکن رات کا وعدہ نہیں کرتی کیونکہ رات کو انہیں بھی تو ٹائم دینا پڑے گا نا۔آخر میں شرمانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا تو حیا بھی ہنس دی۔۔۔۔۔۔

ویسے آج میں بہت خوش تھی بٹ تم نے اپنے یونیورسٹی چھوڑنے کی خبر سنا کے سیڈ کر دیا۔۔حیا نے ساتھ چلتے ہوئے اسے بتایا

ہائیں خوش کیوں۔۔۔ بتاؤ۔۔بتاو مجھے۔۔۔حورین رک گئی اور بے صبری سے اس کا ہاتھ پکڑا کیونکہ اتنے سالوں میں اس نے حیا کو بہت کم خوش دیکھا۔۔

ایگزامز کے بعد میں ترکی جارہی ہوں۔۔۔۔

او واؤ۔۔۔تم ترکی جارہی ہو۔۔؟حورین کے کچھ بولنے سے پہلے انکی کلاس فیلو حرا چیخنے کے انداز میں بولی جو کہ اپنے گروپ کے ساتھ وہاں سے گزر رہی تھی۔۔۔وہ ایک شوخا قسم کی لڑکی تھی۔ادھر کی بات ادھر کرکے آگ لگانے میں اس کا گروپ مشہور تھا۔تبھی انکی کلاس کے سب سٹوڈنٹس انکے منہ لگنے سے گریز کرتے تھے۔۔۔۔حورین کو تو اسے اور اسکے گروپ سے سخت خار تھی۔۔۔۔۔

ہاں کیوں تم نے ساتھ جانا ہے۔۔۔حورین نے طنزیہ کہا

ہائے میری ایسی قسمت کہاں۔۔۔

ویسے حیا تمہاری امی بھی ترکی سے تھیں نا۔۔ ؟؟حیا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔۔

—- یقینا بہت خوبصورت ہونگی۔۔اور تم بھی شائد ان پہ ہی گئی ہو۔۔۔

یار پلیز ایک کام کرنا میرے لئے وہاں سے کوئی ہینڈسم سا ترکش لڑکا تو لیتی آنا۔۔ترکی کے ڈراموں میں دیکھا ہے میں نے قسم سے بڑے ہینڈسم ہوتے ہیں۔۔وہ یوں بے تکلفی سے بولی جیسے حیا کی گہری دوست ہو۔۔۔

۔حیا تو صرف مسکرا کے رہ گئی جبکہ حورین نے خاصا چبا چبا کے طنزیہ کہا۔۔۔

کیوں یہاں کے لڑکوں نے گھاس ڈالنا بند کر دیا ہے کیا۔۔؟

۔۔۔اور یہ لڑکا لیتی آنا سے کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔۔ترکی میں لڑکے کیا راستے میں پڑے ہوتے ہیں جو تمہارے لئے اٹھا لائے گی۔۔اور لانے کی بات تو ایسے کر رہی ہو جیسے لڑکا نا ہوا کوئی موبائل یا گفٹ ہوا جسے حیا پرس میں ڈال کے محترمہ کیلئے لے آئے گی۔۔اور ویسے ترکی کی لڑکیاں بھی بہت حسین ہوتی ہیں۔۔تو وہ تمہیں کیوں گھاس ڈالنے لگے بھلا۔۔۔۔۔

تم اپنا منہ بند رکھو میں نے تم سے نہیں حیا سے کہا ہے۔۔حرا کو اسکے انداز پہ سخت تاؤ آیا۔۔۔۔

ہاں تو حیا میری دوست ہے۔ہم آپس میں بات کر رہے تھے۔۔۔تمہیں کس نے کہا خوامخواہ میں بیچ میں گھسنے کو۔۔ حورین نے تیز لہجے میں کہا۔۔۔

تو میری بھی کلاس فیلو ہے۔۔تمہارے منہ تو نہیں لگی میں۔۔اگر یہ بات حیا کہتی تو بھی ٹھیک تھا۔۔لیکن تم کون ہوتی ہو بکواس کرنے والی۔۔۔حرا چیخی

۔۔۔

اب انکی لڑائی سٹارٹ ہوچکی تھی۔۔۔اس پاس سےگزرتے سٹوڈنٹس مزے لینے کیلئے رک گئے تھے۔۔۔

حیا بے بسی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔کبھی حورین کو چپ کروانے کی کوشش کرتی کبھی حرا سے ریکوئسٹ کرتی مگر دونوں ہی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھیں۔۔۔۔۔

چچچچ۔۔۔۔بڑے افسوس کی بات ہے ترکی کے لڑکوں کے پیچھے لڑائی ہو رہی ہے ۔۔۔ہم مر گئے ہیں کیا۔۔اک بار بول کے تو دیکھو۔۔۔ویسے ترکی کے لڑکے کیا ہم سے زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں۔۔ جو ان کیلئے یہ بچاریاں عشق کی ماریاں مرنے مارنے پر اتری ہوئی ہیں۔۔۔

کوریڈور کے سرے پر کھڑا کب سے انکی بحث سنتا ارسلان بھٹی بھی آگے آیا اور استہزایہ انداز میں بولتے ہوئے اپنے ساتھ کھڑے لڑکے سے پوچھا۔۔۔

نہیں بھائی خوبصورت کہاں ہوتے ہیں۔۔۔انگریزوں کی طرح تو لگتے ہیں۔۔سب کے سب بھوری مونچھوں والے۔۔اسکے ساتھی نے جواب دینا ضروری سمجھا۔۔

تم اپنی بکواس بند کرو تمہیں کس نے کہا کہ ہم ترکی کے لڑکوں کے پیچھے لڑ رہے ہیں۔۔اور بائی۔ دا۔ وے۔۔۔تم کون ہوتے ہو ہمارے معاملے میں انٹرفئر کرنے والے۔۔۔۔۔

حرا اب حورین کو بھول کے ارسلان بھٹی کے ساتھ الجھ چکی تھی۔۔۔۔حرا کو اس بندے سے سخت پرخاش تھی۔۔۔بلکہ اسے کیا تقریباً یونیورسٹی کا ہر سٹوڈنٹ بھٹی اور اسکے گروپ کو ناپسند کرتا تھا۔۔

حرا کی ناپسندیدگی کی وجہ وہی ریگنگ تھی۔۔۔جس کا شکار انکے ہاتھوں پہلے دن حرا ہوئی تھی۔۔۔

حرا کو اس لڑکے کی طرف متوجہ دیکھ کے شکر کرتی حیا نے حورین کا ہاتھ پکڑا اور کلاس روم کی طرف کھینچ کے لے گئی۔۔۔ ورنہ حورین کا ارادہ ابھی بھی حرا سے مغز ماری کرنے کا تھا۔۔۔۔۔

۔۔۔ بھٹی جواب تو حرا کو دے رہا تھا جبکہ نظریں اسکی زنک کلر کے ڈریس میں ملبوس حیا پر تھیں جو کہ حورین کا ہاتھ پکڑے کلاس روم کی طرف جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔وہ انکی بحث میں شامل بھی حیا کو وہاں کھڑا دیکھ کر ہوا تھا۔۔۔پہلے دن جب اس نے انکی ریگنگ کرنا چاہی تھی تو حیا سے تھپڑ کھایا تھا۔۔جس کا اسے ابھی تک غصہ تھا۔تھپڑ کا بدلہ لینا چاہتا تھا مگر ابھی تک کوئی ایسا موقع ہاتھ لگا نہیں تھا۔۔۔۔ سو اسے اپنے کلاس روم کی طرف جاتا دیکھ کر وہ حرا کو مزید کوئی جواب دیے بنا وہاں سے چلا گیا۔۔۔کب سے مزے لیتے وہاں کھڑے سٹوڈنٹس بھی ادھر ادھر ہوگئے۔۔۔۔۔

جب وہ کلاس روم میں پہنچیں تو سر ارتضیٰ حسن

ابھی کلاس میں نہیں آئے تھے۔باقی سٹوڈنٹس کی طرح وہ بھی کافی دیر انتظار کرتی رہیں مگر وہ نجانے کیوں آج کلاس لینے نہیں آئے ۔آج حیا کو سائیکالوجی کا اسائنمنٹ بھی جمع کروانا تھا۔جو کہ ایک دن پہلے ہی سب سٹوڈنٹس جمع کرواچکے تھے سوائے حیا کہ جو چھٹی پر تھی۔ایک ایک کر کے سب سٹوڈنٹس کلاس روم سے نکل گئے تو وہ دونوں بھی باہر آ گئیں۔۔یار حوری آج سر تو آئے نہیں اب اسائنمنٹ کیسے جمع کرواؤں حیا فکرمند ہوئی۔

چلو انکے آفس چلتے ہیں شائد وہاں ہونگے تو وہیں جمع کروا دینا۔۔۔۔۔۔سیڑھیاں چڑھ کر وہ اوپری منزل پر وائس چیئرمین ارتضیٰ حسن کے روم کے سامنے پہنچیں۔۔باہر ہی انکے نام کی تختی لگی ہوئی تھی۔

“۔ سر اندر ہیں۔۔۔؟ باہر بیٹھے پیون سے پوچھا۔۔

پیون کے ہاں میں جواب دینے پر وہ دونوں دروازے کے پاس گئیں۔۔میں یہاں باہر کھڑی ہوں تم اندر جاؤ۔حورین نے کہا تو حیا نروس ہونے لگی۔۔۔” آہستہ سے کہا۔ یار مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے۔” ارتضیٰ سر بہت ہی سرد مزاج اور سخت ہیں۔ کہیں مجھے ڈانٹ ہی نا دیں کہ لیٹ کیوں جمع کروا رہی۔۔نہیں کہیں گے کچھ تم پریشان مت ہو۔حورین نے اسکے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کے تسلی دی۔ ” اس نے دروازے پر ناک کیا۔۔

“یس کی آواز آئی تو دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔سامنے ہی ہلکے نیلے رنگ کے کوٹ میں ملبوس ارتضیٰ حسن لیب ٹاپ پر جھکے ہوئے تھے۔وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ان کی ٹیبل کے قریب جا کھڑی ہوئی۔وہ ابھی بھی لیب ٹاپ کی طرف متوجہ تھے۔اوپر سر اٹھا کر دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔حیا کنفیوز کھڑی تھی اسے کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا انہیں کیسے متوجہ کرے۔آخر چند منٹ بعد انہوں نے لیب ٹاپ بند کیا اور اسکی طرف سر اٹھا کے دیکھا مگر بولے کچھ نہیں۔حیا نظریں جھکائے اس انتظار میں کھڑی تھی کہ اب وہ اس سے آنے کا مقصد پوچھیں۔ مگر وہ خاموشی سے اسے دیکھتے رہے۔۔”

کچھ لمحے کے بعد حیا نے بھی نظریں اٹھا کر انکی طرف دیکھا تو اسے عجیب سا لگا۔کلاس میں اتنے روڈ لگتے تھے۔کہ سرسری انداز میں نظر ڈالتے سب پر۔”اور اب یہاں ناجانے کیوں دیکھے ہی جارہے تھے- جی مس فرمائیں۔۔۔۔۔۔ بالاخر کچھ دیر کے بعد اسی سرد سپاٹ انداز میں پوچھا۔۔”” ۔۔سر وہ اسائنمنٹ۔۔۔اس نے ڈرتے ڈرتے اسائنمنٹ ٹیبل پر انکے سامنے رکھا۔۔”ارتضی حسن کے چہرے کے عضلات تن گئے”۔آپکو اب یاد آیا۔میں نے کیا کہا تھا کل سب کے ہرحال میں جمع ہو جانے چاہئیں- اور آپ اب کروا رہی ہیں۔۔۔اس نے خاصی سرد مہری سے کہا۔۔۔بے عزتی کے ڈر سے حیا کا حلق تک خشک ہوگیا۔۔۔۔۔

“۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ایکچولی سر کل میں چھٹی پر تھی۔تو اسلئیے آج۔۔ حیا نے تھوک نگل کے اپنے گلے کو تر کیا۔۔۔۔۔

اوکے جائیں آپ۔۔۔یہ فرسٹ ٹائم ہے-آگین اگر ایسا ہوا تو آپکا اسائنمنٹ سبمٹ نہیں ہوگا- ارتضی حسن نے اسائنمنٹ اٹھا کے سائیڈ پر رکھ دی اور اسے جانے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔۔وہ مرے مرے قدموں سے باہر آئی۔۔۔۔

۔۔کیا ہوا۔سر نے کچھ کہا تو نہیں۔۔۔؟حورین باہر ہی انتظار میں کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔

نہیں زیادہ کچھ نہیں کہا۔۔۔چلو کینٹین چلتے ہیں آج میں نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔اوکے چلو

سارا دن معمول کی طرح گذرا۔رات کو حورین کی کال آگئی کہ اسکے ماموں ممانی آچکے ہیں اور اسی ہفتے کو اسکی شادی کی ڈیٹ فائنل ہو گئ ہے۔۔

۔۔حیا سن کہ اداس ہوگئی کہ حورین کے بنا یونیورسٹی

میں دل کیسے لگائے گی۔۔۔۔

ڈونٹ وری میں تم سے روز بات کرونگی۔ اور کوئی فرینڈ بھی بنا لینا۔ حورین نے مشورہ دیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔ ویسے لڑکے تو لڑکے تمہارے حسن سے تو لڑکیاں بھی امپریس ہیں۔۔جسکو لفٹ دوگی فوراً ہی تم سے دوستی کرلے گی۔۔۔۔۔خیر اب تم نے سیڈ نہیں ہونا اور میری شادی کو انجوائے کرنا ہے۔اور شادی سے تین دن پہلے آنا ہے۔۔۔اوکے۔۔۔۔؟ اوکے ٹھیک ہے۔۔حیا نے ہامی بھری۔۔۔پھر اگلے صرف دو دن حورین یونیورسٹی آئی

اسکی شادی کی تقریبات شروع ہو گئیں۔۔حیا اسکی مایوں سے صرف ایک دن پہلے حورین کے گھر پہنچی

اگرچہ حورین خاصی ناراض بھی تھی کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ حیا یہ پورا ہفتہ اسکے ساتھ گزارے

مگر پھر حیا کی سٹڈی کے حرج سے راضی ہوگئ تھی۔

کیونکہ خود تو اس نے اب یونیورسٹی جانا نہیں تھا ۔

اور حیا پورا ایک ویک چھٹیاں افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔اور دوسرا مون بھی اسکے بغیر نہیں رہتا تھا۔۔

اب بھی بڑی مشکل سے مون کو بہلا کے یہاں آئی تھی۔

ماحر اپنے پروڈکشن ہاؤس میں بنے اپنے پرائیویٹ روم میں داخل ہوا۔وہ ابھی ابھی اپنی فلم کے سلسلے میں ہوئی میٹنگ ختم کر کے آیا تھا۔میٹنگ روم نچلی منزل پر تھا۔میٹنگ میں سکندر علی خان اسکے دونوں بھائیوں کے علاوہ موسیقار،رائٹر،کمپوزر،جو جو فلم کی تیاری میں شامل ہونے تھے۔سب لوگ شامل تھے۔

دو گھنٹے کی اس میٹنگ میں سب لوگوں کے ساتھ ڈسکشن کر کے معاملات طے کیے گئے تھے۔۔فلم کو بھاری بجٹ پر تیار کیا جانا تھا۔فلم کے ایک گانے کیلئے تین سو ڈانسرز فارن سے منگوانا طے پایا گیا۔پہلا سونگ آئٹم سونگ ہوگا اور اس کیلئے بولڈ ایکٹریس ریا ڈوگرا کو لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔۔۔۔۔اب صرف فلم کی لیڈ ہیروئن سے کنٹریکٹ سائن کروانا تھا اور معاوضہ طے کرنا تھا۔۔یہ کام پھر فراز کے ذمے لگایا گیا کہ وہ اسی آنے والے ہفتے کو ہیروئن سے ملاقات کا ٹائم فکس کرے۔۔۔۔۔

وہ ریلیکس انداز میں صوفے پر بیٹھا ڈرنک کرنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ فرقان نے میڈیا کے لوگوں کے آنے کی اطلاع دی جو کہ پروڈکشن ہاؤس کے باہر کھڑے

اسکی آنے والی فلم کے بارے میں جاننے کیلئے بے تاب تھے۔Uff۔یہ میڈیا والے بھی نا۔دل ہی دل میں انہیں کوستے ہوئے وہ باہر کی جانب بڑھا۔میڈیا والوں کو منہ لگانا بھی مجبوری تھی۔فلم کی پرموشن میں یہی میڈیا کام آتا تھا۔۔سوال انکے وہی تھے۔۔ کب شوٹنگ شروع ہورہی ہے۔؟ فلم کا نام کیا ہوگا۔؟ہیروئن کون ہونگی۔؟پہلے سوالوں کے بارے میں تو فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتا کہہ کر جواب دیا ۔۔مگر ہیروئن کے بارے میں بالکل نیئو اور فرش فیس ہے مشرقی+مغربی حسن کا حسین امتزاج ہے کہہ کر میڈیا والوں کو تجسس میں ڈال دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرحین خوشی خوشی تیار ہو رہی تھی۔آج ماحر سکندر کے سیکریٹری نے اسے بلایا تھا کہ ماحر اس سے ملاقات کر کے معاملات طے کرنا چاہتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔سو وہ ہواؤں میں آڑ رہی تھی۔۔۔۔۔

فرحین کب جاؤ گی۔۔؟اسکی تائی اندر داخل ہوئیں

بس جا ہی رہی ہوں تائی۔۔اس نے اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔

ویسے فرحین مجھے یقین نہیں ہو رہا تجھے فلم میں کام مل جائے گا کیا۔۔۔۔۔۔تائی ابھی بھی مشکوک تھی

اف او تائی اس نے بلایا ہے اور فلم میں کام دینے کیلئے ہی بلایا ہے تو کیوں نہیں ملے گا۔۔۔فرحین بھڑکی۔۔۔۔

یہ گھر چونکہ فرحین کے باپ کے پیسوں سے ہی چل رہا تھا اور تایا تائی اسی کے ہی محتاج تھے۔ انکی لالچی فطرت سے بھی وہ اچھی طرح واقف تھی۔ ۔۔سو وہ انکی کوئی خاص عزت نہیں کرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔نہیں میں تو۔۔۔۔۔تائی اسکے انداز سے گڑبڑائی

اوکے میں جا رہی ہوں دروازہ بند کر لیجیے گا۔۔۔۔فرحین نے پرس اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔ٹیکسی میں بیٹھ کر وہ مطلوبہ جگہ پہنچی۔۔۔۔ٹیکسی والے کو کیرایہ دے کر اس نے اس اونچی بلڈنگ کو دیکھا۔۔۔۔

کچھ دیر کھڑی وہ دیکھتی رہی پھر آگے بڑھ کر کھڑے گارڈ سے اپنا تعارف کروانا چاہا ہی تھا مگر اسے شائد پہلے سے احکام مل چکا تھا سو سوالیہ انداز میں فوراً بولا۔۔مس حیات عبدالرحمان۔۔۔۔۔؟

فرحین چونک کر اسے دیکھنے لگی کہ بلایا تو اسے گیا تھا۔ مگر گارڈ حیات کا نام کیوں لے رہا۔۔۔وہ اسی تذبذب میں تھی کہ نفی میں سر ہلائے یا اثبات میں کہ گارڈ نے اسکی مشکل آسان کر دی اور اسے اندر جانے کا اشارہ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔گیٹ سے اندر پہنچی تو سامنے کوریڈور تھا جسکے سرے پر بنے چھوٹے سے کیبن میں ماحر سکندر خان کا سیکرٹری فراز بیٹھا تھا۔ عنایہ اسکے پاس پہنچی۔۔مسٹر فراز۔۔؟ سوالیہ انداز میں اسکی طرف دیکھا اسکے اثبات میں سر ہلانے پر بولی۔۔

آپ نے بلایا مجھے۔ماحر سکندر اپنی کسی فلم کے سلسلے میں مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔

جی۔جی میڈم اچھا تو وہ آپ ہیں۔۔۔یہاں بیٹھیں آپ میں انہیں انفارم کرتا ہوں۔۔۔سامنے پڑے صوفے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فراز نے انٹرکام اٹھایا۔دل میں وہ بے حد حیران تھا کہ ماحر سر نے تو کہا تھا کہ وہ کوئی غیر معمولی حسن کی مالک ہے اور یہ لڑکی تو انتہائی واجبی شکل وصورت والی سانولی سلونی سی تھی۔۔پھر انہوں نے ایسا کیوں کہا اور اس عام سی شکل والی لڑکی کو اتنے بھاری بجٹ کی فلم میں بطور ہیروئن کیوں لے رہے آخر۔۔۔حیرانی سے سوچتے ہوئے اس نے انٹرکام پر ماحر کو اسکے آنے کی اطلاع دی۔۔۔۔۔۔۔۔

میم آپ کا نام کیا ہے۔۔۔۔؟ ارد گرد سجے ماحر سکندر کے فلمی پوسٹرز کا جائزہ لیتی فرحین سے فراز نے سوال کیا

وہ اچنبھے سے فراز کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔

بلایا ہے اور نام نہیں معلوم۔۔۔۔؟؟

او سوری میں بھول آج فرقان سر نے نام تو لیا تھا آپکا

شائد حیات کہا تھا۔اس نے ذہن پر زور دیتے ہوئے کہا

ہاں آیا حیات۔۔۔۔حیات عبدالرحمان یہی نام ہے نا آپکا زرا سا مسکرایا۔۔۔

جی۔۔۔۔فرحین حیران ہوکے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ کہ یہ کیا چکر ہے باہر گارڈ نے بھی اس کا یہی نام سمجھا اور اب یہ۔۔۔۔۔

کہیں ان لوگوں نے حیات کے چکر میں غلطی سے مجھ سے تو کنٹیکٹ نہیں کر لیا۔اس نے سوچا

جی نہیں میرا نام فرحین عنایہ عارف ہے۔۔۔اب اپنا نام حیات عبدالرحمان تو نہیں بتا سکتی تھی۔۔فراز اور گارڈ نے تو اسے پہلی دفعہ دیکھا تھا مگر ماحر سکندر اور اس کا مینیجر وہ تو حیات عبدالرحمان کو دیکھ چکے تھے سو جھوٹ تو نہیں چل سکتا تھا۔۔۔تبھی سوچا کہ انکی غلط فہمی دور کر دوں۔۔

اب حیران ہونے کی باری فراز کی تھی۔۔۔

اور حیران تو حیات کی جگہ اس لڑکی کو وہاں دیکھ کر ایک تیسری شخصیت بھی ہوئی۔جس کو ماحر نے اسے ریسیو کرنے کیلئے بھیجا کہ اسے لیکر اوپر آفس میں آئے۔اور وہ تھا مینیجر فرقان۔۔۔۔۔۔

اب غلطی کس کی تھی اسکی یا فراز کی۔۔۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا-مگر اتنا جانتا تھا کہ ماحر کا عتاب بھگتنا اسے ہوگا………….