Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 59)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 59)
Meri Hayat By Zarish Hussain
پیروں کو چھوتے سیاہ ریشمی فراک میں ملبوس جس
کے گلے اور دامن پر سفید نگ لگے ہوئے تھے سیاہ ڈوپٹہ
ڈوپٹہ کندھوں پر پھیلائے وہ آئینے میں اپنا جائزہ لے رہی تھی۔مکھڑے پر بھی نفاست سے لائٹ میک اپ کیا گیا تھا۔ سیاہ لباس میں اسکی دودھیا شفاف رنگت اس قدر نگاہوں کو خیرہ کر رہی تھی کہ ڈریسنگ روم سے باہر آتے ماحر کو اپنی نگاہ پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔۔اس سادگی میں بھی وہ انتہائی نوخیز، چارمنگ اور اپنی عمر سے کافی کم لگ رہی تھی۔۔ سیاہ رنگ اس پر اسقدر جچ رہا تھا کہ اسے نہیں لگ رہا تھا کہ آج تک یہ کلر کسی اور لڑکی پر اس نے اسقدر جچتا ہوا دیکھا ہو۔
پلکوں کی خمیدہ جھالریں اٹھاتی گراتی وہ اسکے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی۔۔حیات کی نظر اس پر ابھی تک
نہیں پڑی تھی وہ اب پنوں کی مدد سے سر پر بلیک کلر
کا ریشمی سٹالر سیٹ کر رہی تھی۔سٹالر پر بھی کہیں
کہیں سفید نگ لگے ہوئے تھے۔۔۔
سٹالر سیٹ کر کے جونہی وہ اپنا مکمل جائزہ لینے کو پیچھے ہٹی نظر سیدھی آئینے میں نظر آتے اس کے عکس پر پڑی۔۔
وہ ٹھٹھک گئی۔۔۔۔
ٹھٹھکا تو وہ بھی تھا مگر اس کے سر پر اسکارف دیکھ کر۔۔۔
یہ اسکارف لینا ضروری ہے کیا۔۔۔۔۔؟؟ اسکے قریب آ کر
ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا پرفیوم اٹھا کر خود پر اسپرے
کرتے وہ بظاہر عام سے انداز میں بولا
آپکو اعتراض ہے میرے اسکارف پر تو پھر میں جاتی
ہی نہیں۔۔۔اسکے ماتھے پر فوراً بل نمودار ہوئے تھے۔۔
ارے نہیں میں تو ایسے ہی پوچھ رہا ہے۔۔۔۔مجھے کوئی اعتراض نہیں۔اسکے تیوروں سے خائف سا ہوا تھا۔مبادا سچ میں کہیں جانے سے انکار ہی نا کر دے۔اسے نظروں
کے حصار میں لئیے وہ اسکے بالکل قریب کھڑا ہوگیا تھا اور آہستہ سے گنگناتے ہوئے بال بنانے لگا۔۔
رائٹ سائیڈ والی سیفٹی پن ذرا صحیح نہیں لگ رہی تھی۔وہ اسے دوبارہ سے سیٹ کرنے لگی۔باہر جاتے وقت
وہ زیادہ تر سر پر دوپٹہ لیتی تھی۔۔ سٹالر کبھی کبھار لے لیا کرتی تھی مگر جب بھی لینا پڑتا تو سیٹ کرنے میں خاصا ٹائم لگ جاتا تھا۔اب بھی وہ تنقیدی نگاہوں سے جائزہ لیتی بار بار پنیں لگا اتار رہی تھی۔۔۔۔۔ کبھی رائٹ سائیڈ سے ڈھیلا لگتا کبھی لیفٹ سے کبھی اوپر والی لئیرز ٹھیک نہیں لگتی تھیں۔اسے سٹالر کے ساتھ الجھتا دیکھ کر وہ آفر کرنے لگا۔۔۔
میں ہیلپ کروں۔۔۔؟؟
حیات نے آئنیے میں نظریں اٹھائی ہاتھ میں ہیئر برش پکڑے وہ سوالیہ نگاہوں سے اسی کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
نو تھینکس۔۔۔۔وہ رکھائی سے کہہ کر اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئی۔۔۔ڈریسنگ مرر اتنا کشادہ تھا وہ آرام سے
ایک ساتھ کھڑے یوز کر رہے تھے۔۔۔
اللّٰہ اللّٰہ کر کے پانچویں مرتبہ سٹالر ٹھیک کرنے کے بعد کہیں مطمئن ہوئی۔۔۔۔ وہ بھی ابھی تک بالوں کو سیٹ
کرنے میں مصروف تھا۔۔۔تیار ہونے میں تو یہ بھی میری
طرح لیزی ہے دل ہی دل میں سوچتے ہوئے کن انکھیوں
سے اسکا جائزہ لینے لگی۔۔۔
بلیک کلر کے ویسٹ کوٹ سوٹ میں وہ ہمیشہ کی طرح وجہیہ و خوبرو دکھائی دے رہا۔۔انکی جوڑی اس قدر جچ رہی تھی کہ وہ دل ہی دل میں یہ اعتراف کیے بنا نا رہ سکی ارتضیٰ حسن میجر نعمان اور علی محمدی کسی کیساتھ بھی اسکی جوڑی اس قدر حسین اور مکمل نا لگتی جس قدر اس شخص کے ساتھ لگ رہی تھی۔۔۔۔ارتضیٰ حسن اور میجر نعمان پرکشش مرد تھے اچھی پرسنالٹی رکھتے تھے۔۔۔۔ مگر ماحر خان نا صرف پرکشش تھا۔اچھی پرسنالٹی رکھتا تھا بلکہ ایک حسین مرد تھا۔سرخ و سپید رنگت روشن آنکھیں جنمیں خود سری و غرور کی چمک نظر آتی تھی۔۔۔۔۔اسکی پرسنالٹی اتنی سحر انگیز اور زبردست تھی کہ صنف مخالف کو تو کسی مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچتی ہی تھی مردوں کی بھی بڑی تعداد اسکی کریزی فین تھی۔
لڑکے اسکے سٹائل کاپی کرتے۔۔۔۔چاہے وہ ڈریسنگ سٹائل
ہو ہئیر اسٹائل ہو یا بولنے کا سٹائل۔۔۔۔ اسکی فلموں کے ڈائیلاگز کاپی کرتے آج بیس سال پہلے فلم دل سے دل تک میں اس نے لمبے بالوں کا ایک ہئیر اسٹائل اپنایا تھا۔۔۔لمبے والے اس ہئر سٹائل کا ٹرینڈ بہت عرصہ تک نوجوانوں میں چلا تھا۔۔دنیا اگر اس پر فدا تھی تو وہ
بالکل اس قابل تھا کہ اس پر فدا ہوا جاتا اسکی تمنا
کی جاتی۔رہ گیا علی محمدی تو اسکی تو بات ہی کچھ الگ تھی۔۔
بنا بنایا انگریز تھا وہ۔۔۔
براؤن بال۔۔۔ براؤن مونچھیں۔۔ سرخ و سفید رنگت۔ایسا یونیک قسم کا حسن تھا اسکا جسمیں کشش فیل نہیں ہوتی تھی۔وہ اسے مجبوری میں قبول کر رہی تھی ورنہ صرف مونچھوں اور وہ بھی بھورے رنگ کی مونچھوں
والے مرد اسے بالکل نہیں اچھے لگتے تھے۔۔۔
انہی خیالوں میں گم وہ چونکی اسوقت تھی جب اسکے بے حد نزدیک آجانے کی وجہ سے اسکے ڈریس سے پھوٹتی مدہوش کن مہک اسے اپنے حصار میں لینے لگی۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ گھبرا کر دور ہٹتی وہ اسکے دونوں شانوں پر ہاتھ رکھ کر اسے روک چکا تھا۔۔
پلیز اتنا تو حق تسلیم کر لو میرا۔۔۔۔اسے منع کرنے کیلئے
منہ کھولتا دیکھ کر اس نے کافی ملتجی انداز میں کہا
جواباً وہ چاہ کر بھی اسکے ہاتھ نا جھٹک پائی نا اسے
منع کر پائی جب اس نے سیل فون جیب سے نکالا اور
کہا کہ وہ اسکے ساتھ سیلفی لینا چاہتا ہے۔۔۔چپ چاپ
مان گئی وہ ہاں البتہ اسکے کہنے کے باوجود فوٹو بنانے کیلئے اس نے سمائل نہیں دی۔۔۔
تم پر ہر کلر ہی اتنا سوٹ کرتا ہے کہ میں یہ سوچ کر
کنفیوژ ہو جاتا ہوں تم پر کونسا کلر زیادہ اچھا لگتا ہے۔
دونوں ہاتھ ہنوز اسکے کندھوں پر رکھے وہ چاہت سے مخمور لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔وہ کنفیوژ ہو کر پیچھے ہٹنے لگی تھی مگر اس نے ہٹنے نہیں دیا اور نرمی سے اس کے چہرے پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
عورت چاہے جتنی بھی نارض اور غصے میں ہو مرد
کی اسطرح کی والہانہ حرکتوں پر کنفیوژ ضرور ہوتی ہے اس سمے وہ بھی بری طرح پزل ہو رہی تھی۔۔
شو سے بارہ بجے ختم ہوگا اسکے بعد میں تمہیں کہیں لے کے جاؤں گا۔۔ میرے پاس تمہارے لئیے ایک سرپرائز ہے جو کہ یقیناً تمہیں بہت پسند آئے گا۔۔۔
کیسا سرپرائز۔۔۔۔۔؟؟وہ اسکے دونوں اپنے شانوں پر سے
ہٹاتی دور ہو گئی۔۔۔
بتاؤں گا نہیں دکھاؤں گا یار۔۔۔۔۔ وہ ٹیبل پر رکھی اپنی رسٹ واچ پہننے لگا۔پھر جب رات دس بجے وہ اس کے ساتھ شو کے سیٹ پر پہنچی تو وہاں بیٹھی عوام تو جیسے پاگل ہوگئی تھی اتنے بڑے سٹار کو سامنے دیکھ کر ۔۔۔ لوگ اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر دیر تک تالیاں بجاتے رہے تھے۔۔۔۔۔ شو میں پوچھے جانے والے زیادہ تر سوالات انہیں شو شروع ہونے سے پہلے ہی بتا دیے گئے تھے۔جن کے جوابات ماحر نے اسے سمجھا دیے تھے اور اس نے سمجھنے میں یوں تابعداری کا مظاہرہ کیا تھا کہ وہ مطمئن سا ہو گیا تھا اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اسے پوری دنیا کے سامنے ذلیل کروانے کی نیت سے آئی ہے اس شو میں۔۔۔ورنہ وہ اسے کبھی نا لاتا۔۔۔
جب تالیوں کا طوفان تھما لوگ اپنی نشستوں پر بیٹھے تو شو کا باقاعدہ ہوا۔۔۔
Commedy night with Arsal Qureshi
شو کے ہوسٹ ارسل قریشی نے سوالات کا آغاز کیا۔۔۔
(نوٹ۔۔۔کپل شرما شو۔ کامیڈی سرکس۔کامیڈی نائٹس وغیرہ۔۔ان تمام شوز کو مدنظر رکھ کر ناول میں شو
کا نام سلیکٹ کیا گیا۔اس سین میں لکھے گئے،سوالات ڈائیلاگز فارمیٹ کچھ بھی ان شوز سے میچ کر سکتا ہے۔۔۔ جسکو اعتراض ہو وہ کمنٹ کے بجائے ان بکس میسج کرے )
سر آپ نے بہت ساری فلموں میں رومینٹک سین کیے
ہیں جیسا کہ ہیروئنز کے ساتھ کسنگ وغیرہ والے سین
تو میم جب آپکی کوئی فلم دیکھتی ہیں تو ایسے سین دیکھ کر انہیں غصہ تو آتا ہوگا۔۔۔۔؟؟
چند سیکنڈ سوچنے کے بعد مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا نہیں میں نے آن سکرین اتنے کسنگ سین تو نہیں کیے اور”۔۔۔
ابھی وہ مزید بھی کچھ بولتا جب ساتھ بیٹھی حیات
نے تیزی سے اسکی بات کاٹی تھی۔۔
’’آف سکرین جو اتنے کر لیے آن سکرین زیادہ کرنے کی
ضرورت ہی نہیں پڑی۔۔۔
وہ اسکے الفاظ و انداز پر ششدر رہ گیا۔۔اگر یہ بات وہ
مسکرا کر ہلکے پھلکے لہجے میں کہتی تو وہ یقیناً مذاق سمجھتا مگر اس نے اچھی طرح محسوس کیا
تھا اسکے لہجے میں مذاق کا شائبہ تک نہیں تھا۔صرف
اور صرف طنز اور حقارت تھی۔۔
اینکر سمیت آڈینس کی جانب سے زور دار قہقے بلند ہوئے۔۔ وہ اندر تک خجالت محسوس کر کے رہ گیا۔۔مگر آن ائیر شو چل رہا تھا۔دنیا کے سامنے اپنا بھرم تو قائم رکھنا تھا سو ایسے مسکرایا جیسے باقی سب کی طرح اس نے بھی اس بات کو مذاق سمجھ کر انجوائے کیا۔۔ حیات کے چہرے پر جو کاٹ دار مسکراہٹ تھی لہجے میں جو طنز و تنفر تھا صرف وہی سمجھ سکتا تھا کہ اس نے یہ بات مذاق میں تو ہرگز نہیں کہی تھی۔۔۔
ہنسی کا طوفان تھما تو ہوسٹ نے نیکسٹ سوال اس
سے کیا۔۔۔
میم آپکی سر سے پہلی دفعہ ملاقات کہاں پر ہوئی تھی اور کتنی ملاقاتوں کے بعد آپ نے اپنے دل میں ان
کیلئے خاص فیلنگز محسوس کی تھیں یا پھر پہلی نظر
میں ہی آپ انہیں دل دے بیٹھی تھیں۔۔
ہوسٹ نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔
اس سوال کا جواب ماحر اسے پہلے ہی سمجھا چکا تھا۔
اسکے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ سمجھائے
گئے جواب کے بجائے وہ اپنی مرضی کا جواب دے گی۔۔
ہوسٹ سمیت وہاں بیٹھے سب لوگوں کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔۔۔اس نے خاصی سنجیدگی سے کہنا
شروع کیا۔۔۔۔
ہماری پہلی ملاقات میری یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔
ماحر خان کا دل اچھل کر حلق میں آیا۔وہ اسے سمجھا
چکا تھا کہ اس نے شو میں بولنا ہے انکی ملاقات ایک
پارٹی میں ہوئی تھی پھر وہیں سے انکے درمیان فرینڈ
شپ ہوئی جو محبت میں بدل گئی اور پھر انہوں نے شادی کر لی۔۔
مگر حیات عبدالرحمٰن اسکی سمجھائی گئی تمام باتوں پر تین حرف بھیجتے ہوئے سچ بول رہی تھی۔۔۔
اچھا پھر وہیں سے دوستی ہوئی آپکے درمیان اور آپ انکی فین تو نہیں تھیں؟ہوسٹ نے دلچسپی سے پوچھا
نہیں فلمی ایکٹرز مجھے ہمیشہ سے ناپسند رہے۔۔ ہماری
یونی میں یہ اپنی کسی فلم کی شوٹنگ کیلئے آئے تھے
میری فرینڈز انکی فینز تھیں وہ زبردستی مجھے اس
جگہ لے گئیں جہاں یہ شوٹنگ کر رہے تھے وہیں انکی
نظر مجھ پر پڑی تھی اسکے یہ ہاتھ دھو کر بلکہ نہا
دھو کر میرے پیچھے پڑ گئے۔۔۔
ساتھ بیٹھے ماحر کا دل چاہا اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ دے یا جادو کی چھڑی گھما کر اسے اس شو سے غائب
کر دے۔۔۔۔
اچھا تو پھر کیا ہوا تھا۔۔۔۔؟؟ ہوسٹ نے بے صبری سے پوچھا۔۔آڈینس بھی دلچسپی سے ہم تن گوش تھی۔۔
پھر مجھے اپنی فلم آفر کی جو میں نے ریجیکٹ کر دی
تو فرینڈ شپ آفر کی میں نے وہ بھی ریجیکٹ کر دی۔پھر اسکے بعد شادی کیلئے منتیں کرنے لگے تو مجھے ترس آ گیا اور میں مان گئی۔۔۔ وہ طنزاً مسکرائی
سر میم کی بات بالکل صحیح ہے کیا۔۔۔؟؟ ہوسٹ نے حیرت بھرے لہجے میں اس سے استفسار کیا
وہ اثبات میں سر ہلا کر زبردستی مسکرایا۔۔اب آن ائیر
یہ تو نہیں کہہ سکتا تھا کہ اسکی بیوی جھوٹ بول رہی ہے۔۔اور جھوٹ تھا بھی نہیں وہ اچھی طرح جانتا
تھا۔میری وائف مذاق کر رہی ہیں۔۔۔ یہ بات بھی وہ اس ڈر سے نہیں کہہ سکا کہ کہیں وہ آگے سے یہ نا کہہ دے کہ وہ مذاق نہیں کر رہی اس نے جو کہا وہ سچ ہے۔۔۔
اچھا میم ماحر سر کی تو نہیں مگر کسی اور ایکٹر کی فین ہیں آپ یا پھر کوئی اور ایسی شخصیت جو آپ
کو پسند ہو۔۔۔؟؟
نہیں میں پہلے بھی بتا چکی ہوں شوبز کی فیلڈ مجھے ہمیشہ سے ناپسند رہی ہے سو کسی ایکٹر ایکٹریس کی
تو میں فین نہیں۔۔۔ ہاں ایک ایسی شخصیت ضرور ہیں جنکی میں بہت بڑی فین ہوں اور وہ ہیں رجب طیب اردگان۔۔۔۔
چلو ہماری نا سہی کسی کی تو فین ہے۔۔۔وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہتا۔۔۔۔۔ مسکرایا تھا۔۔۔۔
آڈینس میں جو جو بھی ماحر خان کے کریزی فیز ہیں
وہ ایک ایک کر کے ان سے اور میم سے سوال کر سکتے ہیں۔۔۔ہوسٹ ارسل قریشی نے جیسے ہی کہا جینز شرٹ میں ملبوس ایک لڑکی نے فوراً ہاتھ اوپر کیا کہ پہلے اسے موقع دیا جائے۔۔۔ہوسٹ کے کہنے پر مائیک اس تک
پہنچایا گیا۔ سب اس لڑکی کی طرف متوجہ تھے۔۔۔اس
نے مائیک پر کہنا سٹارٹ کیا۔۔۔
ہیلو سر ہیلو میم۔۔۔۔ میرا نام مدیحہ ہے تین سال پہلے میں نے پہلی بار ماحر سر کی فلم درد دل دیکھی تھی اسکے بعد سے میں انکی بہت ہی کریزی فین ہوں میری بڑی خواہش تھی انکو رئیل میں دیکھنے کی جو آج پوری ہو گئی ہے۔۔۔ وہ لڑکی بہت ہی ایکسائیٹڈ لگ رہی تھی۔ماحر خان مدھم سی مسکراہٹ لئیے اسکی طرف متوجہ تھا حیات بڑے غور سے اس لڑکی کی طرف
دیکھ رہی تھی اپنے فیورٹ ایکٹر کو سامنے پا کر اس
کی آنکھوں سے بے پناہ خوشی جھلک رہی تھی۔۔۔
تو مدیحہ پھر کیا سوال کرنا چاہیں گی آپ ماحر خان سے۔۔۔۔؟؟ہوسٹ ارسل قریشی نے اس لڑکی سے پوچھا۔۔
میرا سوال ماحر سر سے نہیں انکی مسز سے ہے۔۔میم
آپ کے ہزبینڈ ایک سپرسٹار ہیں لاکھوں لڑکیاں انہیں
پسند کرتی ہے ان پر مرتی ہیں میرے سمیت۔۔ابھی اس
نے اتنا ہی کہا تھا جب آڈینس کی طرف سے قہقے بلند ہوئے۔۔۔وہ سب بھی مسکرائے سوائے حیات کے جو بہت
سنجیدگی سے اس لڑکی کی طرف متوجہ تھی۔۔۔
آڈینس کو ہنستا دیکھ کر چند پل کیلئے وہ لڑکی نروس
ہوئی پھر دوبارہ اعتماد سے کہنے لگی۔۔۔
تم میم میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ کو
سر کے ساتھ شادی کر کے کیسا فیل ہو رہا ہے۔۔۔۔یعنی
اتنے بڑے سپر سٹار کے ساتھ۔۔۔۔؟؟
لڑکی نے سادگی سے سوال کیا تھا۔۔آڈینس ایک بار پھر ہنس رہی تھی مگر اب وہ لڑکی خود بھی سمائل کرتی اسکے جواب کی منتظر تھی۔۔۔۔ آڈینس کس قسم کے سوالات کرسکتی ہے یہ بھی اسے بتایا گیا تھا۔۔۔
ویسا ہی فیل ہو رہا ہے جیسا کسی بھی شخص کیساتھ شادی کر کے فیل ہو سکتا ہے۔۔۔ ان میں کیا انوکھی بات ہے۔ سپر سٹار بھی عام انسان ہی ہوتا ہے کوئی آسمان سے نہیں اترا ہوتا۔۔۔۔ یہ ہم ہی لوگ ہوتے ہیں جو ان کو کسی اور سیارے کی مخلوق سمجھتے ہیں۔۔تعریفیں کر
کر کے ان لوگوں کا دماغ خراب کر دیتے ہیں۔۔انکو غرور و تکبر میں مبتلا کر دیتے ہیں حالانکہ یہ کوئی انوکھی
مخلوق نہیں ہوتے ہم ہی جیسے عام انسان ہوتے ہیں۔۔
میں اپکو ایک نصیحت کرنا چاہونگی ان فلمی سٹارز سے امپریس ہونا چھوڑ دیں۔ان فلمی ایکٹرز نے خود کو پالش کیا ہوتا ہے پردے پر جو دکھتا ہے وہ صرف اور صرف ظاہری چمک دمک ہوتی ہے ورنہ حقیقت اس سے بہت مختلف ہوتی ہے۔سو مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑا کہ میری شادی کسی سپرسٹار سے ہوئی۔۔۔اپنی بات کہہ کر اس نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔۔۔
آڈینس کو سانپ سونگھ گیا۔۔۔
شو کا ہوسٹ تک کچھ بول نہیں سکا۔۔۔
اور ماحر خان اسے تو ایسا لگا جیسے اسکی بیوی نے بیچ چوراہے پر اسے برہنہ کر دیا ہو۔۔۔
حیات نے مسکراتے ہوئے مزا لینے والی نگاہوں سے اس گھمنڈی چرب زبان لفظوں سے کھیلنے والے شخص کی طرف دیکھا جو یقیناً اپنی بے عزتی پر دل ہی دل میں
تلملا رہا تھا۔۔۔
حقیقت میں واقعی اسکے دل و دماغ میں جھکڑ چلنے لگے تھے۔۔۔۔۔۔مگر اس نے چہرے کے تاثرات کمال مہارت سے بالکل نارمل رکھے اور مسکراہٹ لبوں پر سجا کر کہنے لگا۔۔۔
ایگزیکٹلی آئی ایگری مائی وائف۔۔۔۔ایک سپر سٹار بھی
عام انسان ہی ہوتا ہے یہ تو آپ لوگ اسے خاص بنا دیتے
ہیں۔ویسے تو کوئی بھی انسان خاص یا عام نہیں ہوتا کیونکہ خدا نے سب کو برابر قرار دیا ہے۔سو ہم بھی آپ
کے جیسے ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ یہ آپ لوگوں کی محبت آپ لوگوں کا پیار ہے جو ہمیں اتنی اہمیت عزت قدر دیتے ہیں۔۔آپکا یہی پیار و محبت اور حوصلہ افزائی ہی تو ایک ایکٹر کو سپر سٹار بناتی ہے۔۔۔آپ لوگوں کے بنا تو
ایک سٹار کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔
وہ بڑی مہارت و سلیقے سے بات کو گھما پھرا کر کور
کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔ اسے بات سنبھالنے کی کوشش کرتے دیکھ کر ایک خفیف سی مسکراہٹ حیات کے ہونٹوں پر رینگ گئی۔۔ اسکی آن ائیر تذلیل کرنے میں اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔
لاکھوں کروڑوں لوگ ٹی وی پر لائیو شو دیکھ رہے تھے یقیناً یہ انڑویو سرخیوں میں آنے والا تھا۔اس لئیے وہ حیات کی کہی گئی تلخ باتوں کو اس انداز میں کور کر رہا تھا ضرور بنیں گی مگر وہ معاملے کو اس طرح سے کور کرنا چاہتا تھا کہ میڈیا زیادہ نا اچھال سکے۔۔کسی کو ایسا فیل نا ہو کے انکے بیچ حالات ٹھیک نہیں اسکی بیوی نے یہ سب غصے سے کہا۔۔۔
“۔۔اسے بات سنبھالنے کی کوشش کرتے دیکھ کر ایک خفیف سی مسکراہٹ حیات کے ہونٹوں پر رینگ گئی تھی۔۔بارہ بجے تک شو چلتا رہا۔۔۔ حیات سے جتنے بھی سوال کیے گئے اس نے ہر ممکن حد تک اسکی تذلیل کرنے والے جوابات دئیے جبکہ وہ سوائے صبر کیساتھ سننے کے کچھ نا کر سکا۔۔ اس سے جتنا ممکن ہو سکا
اسکی تلخ باتوں کو شیریں لبادے میں لپیٹ کے پیش
کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر اسے آنے والی صورتحال کا اندازہ ہو گیا تھا جب شو کہ بعد لوگ اسکی باتوں
پر غور کریں گے کڑی سے کڑی ملے گی تو تب لوگوں کیلئے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ ڈیڑھ سال پہلے
جس باپردہ لڑکی نے ایک ٹی وی چینل پر آ کر ماحر خان کے خلاف بیان دیا تھا وہ کوئی اور نہیں اسکی
یہی بیوی حیات عبدالرحمٰن خان تھی۔۔
وہ ظاہری طور پر تو خود کو پرسکون اور نارمل شو کر رہا تھا تاہم مینٹلی طور پر وہ شدید اضطراب کا شکار تھا۔۔ان کے لئیے شو انتظامیہ کی جانب سے ایک پر تکلف ڈنر کا اہتمام بھی تھا۔پھر شو ختم ہونے کے بعد جب وہ اسکے ساتھ چلتی ہوئی پارکنگ میں موجود گاڑی تک آئی تو اپنے کیے پر خوش ہونے کے بجائے اسے ملال نے گھیر لیا۔۔
ایک بڑے سٹار کی پبلک کے سامنے تذلیل کوئی معمولی
بات نہیں تھی۔کچھ پاپا راضی بھی باہر کھڑے تھے جو انہیں دیکھتےہی فوٹو کیلئے شور مچانے لگے۔مگر ماحر نے انکو کوئی رسپونس نہیں دیا۔اس سے پہلےجب بھی وہ باہر نکلتا اور میڈیا والے اسکو دیکھ کر فوٹو کیلئے آوازیں لگاتے شور مچاتے تو وہ لازمی چند منٹ ان کے
لئیے رکتا۔۔اپنا فوٹو کھینچنے دیتا۔۔۔ ان کی طرف ہاتھ ہلاتا سمائل پاس کرتا۔۔۔۔ مگر اس وقت انکو مکمل نظر انداز کرتا وہ اپنے باڈی گارڈز کے حصار میں گاڑی میں جا بیٹھا۔۔اسکی طرف سے افسوس میں مبتلا ہونے کے
باوجود حیات کیلئے اس نے خود دروازہ کھولا تھا۔۔۔دو گارڈ بیک سیٹ پر بیٹھے تھے۔۔جبکہ باقی دوسری گاڑی میں آرہے تھے ڈرائیور کے بجائے ڈرائیونگ سیٹ اس نے خود سنبھالی تھی۔۔۔راستے میں حیات نے کئی بار چور نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔انتہائی سرد و سپاٹ چہرہ بے تاثر آنکھیں لئیے لب بھینچے وہ کافی رش ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔حیات سے اس نے کوئی بات نہیں کی تھی اسے گھر کے گیٹ پر اتار کر گاڑی واپس موڑ کر لے گیا۔وہ عجیب سی کیفیت کا شکار ہوتی اندر آئی اپنے کمرے میں وہ اسکارف اتار رہی تھی جب اس کے سیل پر حورین کی کال آنے لگی۔۔
رات کے پونے ایک ہورہے تھے۔۔
’’مجھے لگتا ہے تمہارے ہوش و حواس اپنے ٹھکانے پر نہیں ہیں۔۔جیسے ہی اس نے کال ریسیو کی حورین نے
اسے آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔۔
کیوں میں نے کیا کر دیا۔۔۔۔؟؟ ایک ہاتھ سے سیفٹی پن
نکالتے ہوئے اس نے انجان بن کر پوچھا۔۔۔
زیادہ معصوم مت بنو۔۔ارسل قریشی کا سارا شو دیکھا ہے میں نے۔۔کس قدر غلط کیا ہے تم نے یار۔۔کیا ضرورت
تھی ایسی باتیں کرنے کی۔۔۔حورین کے لہجے میں خاصا افسوس تھا۔۔۔
میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔۔بلاوجہ کے جھوٹ مجھ سے نہیں بولے جاتے۔۔۔۔۔جو میرے محسوسات ہیں وہی بیان کیے۔۔۔اس نے لہجے کو لاپرواہ ظاہر کیا۔
تم سمجھتی کیوں نہیں اپنے ہاتھوں سے تم اپنا گھر خراب کر رہی۔۔۔ شو صرف میں نے نہیں دیکھا پورے ملک نے دیکھا ہوگا۔۔کتنی باتیں کریں گے لوگ سوشل ویب سائٹس پر اس حوالے سے۔۔۔ اور تمہارے سسرال
والے جو تمہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں کیا تمہاری
اس حرکت سے انہیں افسوس نہیں ہوگا کہ تم نے
پوری دنیا کے سامنے انکے بیٹے کی انسلٹ کی۔۔
حورین جھنجھلائی تھی۔۔۔
مائی گاڈ۔۔۔۔ میں سخت تھکی ہوئی ہوں دو گھنٹے اس
واہیات شو میں بیٹھ بیٹھ کے میری کمر اکڑ گئی ہے
اب تم لیکچر دے کر مزید دماغ خراب کر رہی ہو میرا
اسے خفگی سے بولی۔۔
تو پھر نا جاتی اس واہیات شو میں۔۔۔حورین کو غصے
آ گیا تھا۔۔
تم کیوں غصہ کر رہی ہو اس لئیے کہ تمہارے فیورٹ
سٹار کی آن ائیر شو میں بے عزتی ہو گئی۔۔۔۔ اس نے
مسکراہٹ دبائی۔۔۔کچھ دیر پہلے جو ذرا سا افسوس
ہوا تھا وہ اب ختم ہو گیا تھا۔۔۔
ہاں اس لئیے بھی اور سب سے بڑی وجہ یہ کہ میری
بہنوں جیسی دوست اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر اجاڑنے
کی کوشش کر رہی۔۔۔ایسے شوہر ۔۔۔۔ ایسے سسرال اور
ایسے گھر کی تو لڑکیاں تمنا کرتی ہیں جو تمہیں بن
مانگے مل گیا۔ان سے بلاوجہ کی دشمنی میں تم حد سے گزر گئی ہو قدر کرو لڑکی قدر کرو انکی۔۔۔
تم میری دوست ہو کر میرا ساتھ نہیں دیتیں۔۔۔۔ اسکی
تمہیں بہت فکر ہے۔۔۔۔ اسکی وجہ سے جتنی پریشانیاں میں نے اٹھائی ہیں نا وہ میں جانتی ہوں۔۔آج پہلی بار
ذرا سکون پہنچا ہے مجھے۔۔۔ شکر کرے میں نے زیادہ کچھ نہیں کہا ورنہ دل تو کر رہا تھا اگلے پچھلے سارے
حساب بے باق کر دوں۔۔۔۔اسکا لب و لہجہ خاصا تیکھا
ہو گیا تھا۔۔
یار دیکھو میں جانتی ہوں کہ۔۔۔۔” حورین نے کچھ کہنا
چاہا مگر وہ اسکی بات کاٹ کر بولی۔۔۔
تم یہ بکواس چھوڑو اور یہ بتاؤ۔۔ یہ جو تم اسکی اتنی وکالت کر رہی ہو کہیں اس نے تم سے کنٹیکٹ کر کے
میری شکایتیں تو نہیں کیں۔۔۔؟؟؟ اسے اچانک خیال آیا
’ ہائے۔۔۔۔نہیں یار میری ایسی قسمت کہاں کہ وہ مجھ سے کنٹیکٹ کریں۔اچھا میں فون رکھنے لگی ہوں میری
بیٹی اٹھی گئی ہے مگر تم پلیز میری باتوں پر ناراض نا ہونا۔ایک بار سوچنا ضرور۔۔۔ جب تم ٹھنڈے دماغ سے سوچو گی تم تب سمجھو گی بلاوجہ انکو نیچا دکھانے کیلئے اپنا امیج خراب کروگی سسرال والوں کی نظروں میں۔۔۔اس نے خلوص سے سمجھانا چاہا مگر وہ بگڑ گئی
بلاوجہ بلاوجہ۔۔۔تم کب سے ایک ہی لفظ کی گردان کیے جا رہی ہو میں نے کچھ بھی بلاوجہ نہیں کیا سمجھی
اس نے غصے سے کال کاٹ کر موبائل آف کر کے بیڈ پر
اچھالا۔۔کتنی ہی دیر وہ اضطراب میں مبتلا کمرے میں ادھر ادھر ٹہلتی رہی۔۔۔ایک ہی سوال بار بار اسکے دماغ
میں گھوم رہا تھا کیا اس نے غلط کیا۔۔۔؟؟
پھر تھک کر ایزی چئیر پر آ بیٹھی اور ہولے سے آنکھیں موندے وہ سوچوں کا رخ موڑنے کی کوشش کرنے لگی۔دھیان بٹانا چاہ رہی تھی۔۔۔ بقیہ ساری رات وہ عجیب سی کیفیت میں مبتلا رہی تھی دل افسوس میں مبتلا کرتا تو دماغ تاویلیں دے کر کہتا افسوس نا کرو تم نے جو کیا بالکل ٹھیک کیا۔۔ساری رات اسکی یونہی بیٹھے
بیٹھے گزر گئی جبکہ وہ ساری رات روم میں نہیں آیا تھا۔اسے ندامت سی محسوس ہوئی تھی۔پھر یہ ندامت
اسوقت مزید گہری ہو کر شرمندگی میں بدل گئی تھی
جب ناشتے کی ٹیبل پر فائزہ سکندر نے اسے کہا کہ اس
نے رات وہ ٹی وی شو دیکھا تھا۔۔دکھنے میں تو تم بہت
گم گو لگتی ہو مگر وہاں کافی کرارے جواب دیے تم نے
بہت اچھا کیا۔۔ماحر کی تو شکل دیکھنے والی تھی بے
چارے کا بس نہیں چل رہا تھا کہ تمہارے منہ پر ہاتھ رکھ دے۔۔۔۔انہوں نے تو بظاہر ہنستے ہوئے کہا مگر اسے
ڈھیروں شرمندگی پچھتاوے ندامت و ملال نے آ گھیرا
پھر جب باری باری اسکی دونوں جٹھانیوں نے ہنس ہنس کر تبصرے کیے تو وہ زمین میں گڑ گئی۔۔۔
مجھے لگتا ہے حیا کا دیور جی سے کوئی جھگڑا ہوا تھا
جسکا بدلہ اس نے بیچارے سے آن ائیر شو میں لیا۔۔۔
یہ لیزا کا کمنٹ تھا۔۔۔
ہاں مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔بیچارے دیور جی
کو کتنی سبکی اٹھانے پڑی ہوگی مگر مجال ہے جو شکل سے ظاہر ہونے دیا ہو۔۔سارا ٹائم مسکرا مسکرا کر بیوی کی بگڑی باتیں سنبھالنے کی کوشش میں لگا رہا
زین کی بیوی ماریہ ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔
سوشل میڈیا پر دیکھا ہے تم نے۔۔۔۔۔۔۔ انٹرویو کے کلپس وائرل ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ یہی کہا جا رہا ہے کہ دونوں کے درمیان خوشگوار تعلقات نہیں لگتے۔۔۔ وہ ایک دوسرے
کے ساتھ اظہار خیال کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مرے مرے قدموں سے اپنے کمرے میں آ گئی۔۔۔فضا بھابھی کا فون
آیا تو انکے بھی یہی خیالات تھے۔۔۔سوائے فارس بھائی کے جنہوں نے اسے صرف اتنا کہا حیا تمہیں ضرورت کیا تھی کسی ٹی وی شو میں جانے کی۔۔۔۔
اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا۔۔۔دن کے سوا بارہ بج رہے تھے۔۔کل رات اسے گھر کے گیٹ پر اتارنے کے بعد وہ جو
گیا تو پھر واپس نہیں آیا۔۔۔۔۔ اسے یاد آیا وہ اسے کوئی
سرپرائز دینے کی بات کر رہا تھا۔۔۔پتہ نہیں کیا سرپرائز ہوگا۔۔۔
اسے گھر ڈراپ کر کے وہ اپنے کلفٹن والے فلیٹ پر چلا آیا تھا۔۔۔اس سے محبت ہونے کے باوجود اسوقت اس کا
بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ اسے دیکھے۔۔روم میں
اس کے ساتھ رہے۔۔۔۔۔ سرد موسم کیطرح اسکے دل کے احساسات بھی سرد پڑ گئے تھے۔۔۔انسان پر کیسے کیسے
حالات آتے ہیں وہ ناچاہتے ہوئے بھی انکی لپیٹ میں الجھتا چلا جاتا ہے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔اس
وقت وہ شدید غم کی کیفیت میں مبتلا تھا۔۔۔۔ حیات
عبدالرحمن کو شو میں لے کر جانا اسکی زندگی کی
بھیانک ترین غلطی تھی۔۔پہلے شو کے نام پر بھڑک اٹھنا
پھر ایک دم سے ہاں کر دینا۔۔۔۔ وہ اسوقت تو حیرانی و
سرشاری کی کیفیت میں مبتلا نہیں سمجھ سکا تھا مگر اب اسے اچھی طرح سمجھ آ چکا تھا کہ اس نے
شو میں جانے کیلئے ہاں کیوں کی۔۔۔
آن ائیر اسکی تذلیل کرنا یہ باقاعدہ طے شدہ پلان تھا اسکا۔۔شو میں اس کے کہے گئے تمام تضحیک آمیز تند و ترش جملوں کی بازگشت سارے راستے سماعتوں میں ہوتی رہی تھی۔
وہ اسکی محبت تھی اسکی بیوی تھی تبھی وہ کچھ نہیں کہہ پایا تھا اسے۔۔۔۔ورنہ کوئی غلطی کرنے پر وہ سر عام فلمی ہیروئنز کو بھی پیٹ دیا کرتا تھا۔۔۔
آج سے پانچ سال پہلے نتالی مائیکل نامی ایک کرسچن
اداکارہ جو کہ اسکی گرل فرینڈ بھی اسے اس نے فلم
کے سیٹ پر چھڑی سے پیٹا تھا۔وجہ یہ تھی جب چینج کر کے نتالی وین سے باہر آئی تھی تو اس نے سفید کلر کا اتنا مہین اتنا باریک ڈریس پہنا ہوا تھا جس سے اس
کے جسم کا ایک ایک خد و خال واضع ہو رہا تھا۔۔۔ماحر خان کا تو دیکھتے ہی خون کھول اٹھا تھا۔پھر سیٹ پر موجود لوگوں کی پرواہ کیے بنا اسے پیٹ ڈالا تھا۔۔فلم کے ڈائریکٹر نے بیچ میں مداخلت کر کے نتالی کو اس کے عتاب سے نجات دلائی تھی۔۔۔۔ نتالی کے ساتھ اسکا افئیر زیادہ عرصہ نہیں چل سکا تھا کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کے بریک اپ کی وجہ یہی بنی تھی۔۔ ساری رات وہ اپنے فلیٹ کی گیلری میں کھڑا بارش سے بھیگتا رہا تھا۔۔۔تیز ہواؤں کی وجہ سے بارش کی بوچھاڑ نے اسے مکمل بھگو دیا تھا۔۔۔۔گرج چمک بھی ایسی طوفانی اور زور دار تھی کہ سماعتوں پر اثر انداز ہوتی تھی۔۔۔
مگر اس پر بارش بادلوں کی گڑگڑاہٹ بجلی کی چمک کسی چیز کا اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ وہ بس آنکھیں موندے وہیں گیلری میں بیٹھا بھیگتا رہا تھا۔۔۔۔
آنکھوں کے پردے پر ایک ہی شبہہ لہراتی رہی تھی۔۔۔۔
دماغ میں متواتر انہی باتوں کی تکرار ہوتی رہی تھی۔۔
وہ جو کسی کے ساتھ کبھی سیریس نہیں ہوا۔ نا ماضی میں اپنی کسی گرل فرینڈ کی محبت کی پذیرائی کی۔۔
بس دوستی کی۔۔۔کچھ خوشگوار وقت گزارا۔۔ٹائم پاس
کیا۔۔۔۔دل بھرتے ہی بریک اپ کر لیا۔۔۔جتنی بھی لڑکیاں اسکی زندگی میں آئیں چاہے انکا تعلق شوبز سے تھا یا کسی اور فیلڈ سے وہ سب کی سب اسکے سیریس نا ہونے کی وجہ سے مجبوراً کسی اور کا ہاتھ تھام کر اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئیں۔۔۔
آج وہ خود اسی محبت کے مقام پر تھا۔۔۔ جس مقام پر دوسروں کو دیکھ کر مذاق اڑایا کرتا تھا۔۔وہ بے حس و مغرور لڑکی اسے تڑپانے کیلئے ہر حربہ آزما رہی تھی۔۔۔
محبت کے جواب میں اسے تضحیک اور نفرت مل رہی تھی مگر کل رات محبت کے ہاتھوں ذلت بھی اٹھانا پڑی تھی وہ بھی سب کے سامنے۔۔۔
ساری رات اسکے دل سے آہیں نکلتی رہی تھیں۔۔۔
کاش تم یہ نفرت کی پٹی اپنی آنکھوں سے ہٹا کر ایک بار مجھ پر یقین کر لو دنیا جہان کی خوشیاں تمہارے
قدموں میں ڈھیر کر دوں گا۔۔۔وہ بہت دیر یہی سوچتا
رہا تھا۔۔۔۔رات گزر گئی۔۔۔ صبح ہوئی تو وہ چینج کر کے
سیدھا پروڈکشن ہاؤس چلا آیا۔۔۔۔۔ جہاں اپنے مینیجر فرقان کو بڑی بے صبری سے اپنا انتظار کرتے پایا۔۔۔
سر آپ سے بہت ہی ضروری بات کرنی ہے موبائل پر آپ رسپونس نہیں دے رہے تھے۔۔۔ میں آپکے آنے کا ویٹ کر رہا تھا۔۔۔۔ فرقان کے لہجے سے ہی لگ رہا تھا کوئی بہت ہی خاص بات ہے۔۔۔۔۔
کونسی ضروری بات۔۔۔۔؟؟ وہ بادل ناخواستہ متوجہ ہوا
سر وہ کبیر کل سے آپ سے ملنے کی بہت ضد کر رہا ہے
کوئی دس چکر تو یہاں کے لگا چکا ہے کہتا ہے کوئی
بہت ضروری بات بتانی ہے اسے آپکو۔۔۔۔
کون کبیر۔۔۔۔؟؟ اسے نے بے تاثر لہجے میں پوچھا۔۔۔
سر وہی کبیر جو بہت پہلے آپ کا گارڈ ہوا کرتا تھا پھر بعد میں آپ نے اسے بینک میں سرکاری سیکیورٹی گارڈ کی نوکری دلائی تھی اور پھر جیسے میڈم حیات کے فادر کے مرڈر ۔۔۔۔” وہ دانستہ چپ ہو گیا۔۔۔۔
ماحر خان کے پورے وجود میں سنسنی دوڑ گئی تھی حیات عبدالرحمٰن کو پانے کی خوشی میں وہ یہ بات تو فراموش کر چکا تھا۔۔ کہ ایک سال قبل اس سے کیا گناہ ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اور گناہ بھی ایسا اگر حیات عبدالرحمٰن کو پتہ چل جاتا تو شائد وہ مر کر بھی اسکے ساتھ رہنے کو رضامند نا ہوتی۔۔۔۔
