Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 44) Part - 1
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 44) Part - 1
Meri Hayat By Zarish Hussain
نشیب و فراز اور دھوپ چھاؤں ہی تو ہمیں زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کرتی ہیں۔جمود تو موت ہے بیٹا
متحرک رہنا ہی حیات ہے۔دنیا میں ہر قسم کے لوگ ہوتے
ہیں غم سمیٹنے والے۔۔لبوں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے
مسرت سے۔۔۔۔۔چمکتی آنکھوں میں رنج و غم کے آنسو دینے والے۔۔بھانت بھانت کے لوگوں سے دنیا بھری پڑی ہے۔اسطرح پرانے دکھوں میں الجھی رہو گی،سوچوں کے سمندر میں ڈوبی رہو گی تو آگے کیسے بڑھو گی۔تمہارے سامنے لمبی زندگی پڑی ہے بیٹا تمہیں مستقبل بنانا ہے اپنا بھی اور اپنے بھائی کا بھی۔۔۔گزرے دکھوں
پر غم کرنا چھوڑ دو۔۔۔وقت زخم دیتا ہے تو مرہم بھی وہی لگاتا ہے۔جو تم سے چھن گیا اس پر آزردہ مت ہو۔
سمجھو وہ تمہارے نصیب میں تھا ہی نہیں۔مال و زر
تو آنی جانی چیز ہے۔اگر تم سے گھر چھن گیا تو کیا ہوا اللّٰہ نے تمہیں بے آسرا تو نہیں چھوڑا۔سر چھپانے کیلئے یہ چھت بھی دی۔۔اس پر بھروسہ رکھو انشاءاللّٰہ وہ آگے بھی تمہارے لئیے آسانیاں پیدا کرے گا۔۔
اور اس گھر سے کہیں زیادہ اچھا گھر دے گا۔۔۔
اس دور میں ڈپریشن کی وبا اسی لئیے ہی پھیلی ہے
کہ ہم نے اچھی یادیں ذہن سے کھرچ دی ہیں۔صرف
دکھ دینے والے دنوں کو ہی یاد کرتے ہیں ہم۔
یشک سوچوں پر ہمارا زور نہیں چلتا مگر اپنی زندگی کو خود ہی ہم نے ایک ایسا بوجھ بنا لیا ہے جسے نا اٹھانے کی سکت رکھتے ہیں اور نا پھینکنے کی
ہم کوشش کر کے اپنے ذہن کو پرسکون رکھ سکتے ہیں
اسکے لئیے ضروری ہے کہ اللّٰہ سے دل کا تعلق بنا کے بالکل اسکے قریب ہو جائیں۔اور دانشمندی کا تقاضا بھی یہی ہےجو گزر گیا اسے بھول جاؤ۔۔۔
شفقت حسین اسے نہایت نرمی اور اپنائیت سے سمجھا رہے تھے۔جبکہ وہ سر جھکائے خاموش بیٹھی سن رہی تھی۔
وہ سمجھتے تھے کہ اسے اپنے گھر سے بے گھر اور شہر سے بے دخل ہونے اور اس دنیا میں تنہا رہ جانے کا دکھ ستاتا ہے۔۔۔جبکہ وہ اسکے اصل دکھ سے بے خبر تھے۔۔اس نے صرف گھر اور رشتے نہیں کھوئے تھے۔۔۔اسکی محبت اسکے اعتماد کا خون ہوا تھا۔۔۔۔۔۔جس میں وہ سرتاپا نہا گئی تھی۔۔لیکن یہ سب وہ کسی سے شئیر بھی تو نہیں کر سکتی تھی۔۔۔اندر ہی اندر گھٹ رہی تھی۔چھے مہینے ہو گئے تھے اسے اور مون کو، شفقت حسین جیسے انجان، نیک دل انسان کے گھر میں رہتے ہوئے۔شفقت صاحب بالکل ثمرہ کی طرح اس کا خیال
رکھتے تھے۔ثمرہ بھی اسے بہنوں کی طرح چاہتی تھی
البتہ اسکی امی اور چچی کا رویہ ہنوز سرد تھا۔۔شروع
شروع میں جب انکے رشتہ داروں اور محلے والوں کو پتہ چلا کہ انکے گھر ایک اجنبی حسین لڑکی آئی ہوئی ہے تو محلے کی اور رشتہ دار خواتین دیکھنے کے بہانے انکے گھر آتیں۔۔یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔چھوٹا محلہ تھا کسی کے گھر میں ذرا سا کوئی واقعہ ہوتا یا
کوئی باہر کا مہمان آ کے ٹھہرتا ۔محلے کے سب گھروں میں خبر پہنچ جاتی۔۔۔۔۔۔۔ایسے میں شفقت صاحب
کے گھر آئے دو مہمانوں کا کیسے پتہ نا چلتا بھلا۔۔۔
لیکن سوال سب کا ایک ہی ہوتا۔۔۔
کون ہیں کہاں سے آئے ہیں دونوں بہن بھائی ہے۔۔۔؟؟
ایسے میں شفقت صاحب کے حکم کے مطابق سب کو یہی کہا جاتا کہ یہ انکے دوست کے بچے ہیں۔۔۔والدین کی وفات کے بعد کوئی رشتہ دار تھا نہیں تو وہ اسے گھر لے آئےاسکے حسن کے چرچے جب عورتوں کے منہ سے نکلے تو محلے کے آوارہ لڑکوں تک بھی پہنچ گئے۔جو بہانے بہانےسے ان کے گھر کے باہر چکر لگانے لگے تھے۔شفقت صاحب اور فہد کی موجودگی میں تو محلے کے کسی لڑکے کی ہمت نا ہوتی کہ وہ انکے گھر کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے۔۔۔۔تاہم جیسے ہی چچا بھتیجا کہیں باہر جاتے۔۔آوارہ گرد لڑکے انکی گلی کے چکر لگانے شروع ہو جاتے۔بانو بیگم اور فرحت چچی
جو پہلے ہی ان دونوں کو گھر میں رکھنے کے خلاف تھیں ایسے میں انہیں مزید مخالفت کرنے کا موقع مل گیا۔۔تاہم شفقت حسین اور ثمرہ ان دونوں بہن بھائیوں کے آگے ڈھال بن جاتے۔فہد بھی در پردہ سپورٹ کرتا تھا۔ مگر ماں کے ڈر سے کھل کر حیات کی فیور میں نہیں بول سکتا تھا۔کیونکہ اپنے دل کے چور کے پکڑے جانے کا خوف تھا۔لیکن اس مسئلے کے حل کے لیے اس نے اپنے ایک کلاس فیلو احمد جو کہ پولیس میں تھا
اس سے ہیلپ لی۔۔پھر اس پولیس والے نے ایسا ڈرایا دھمکایا کہ اس کے بعد محلے کے لڑکوں نے شفقت حسین کے گھر کی طرف دیکھنے سے ہی توبہ کر لی”
رہنے کو چھت اور تحفظ تو مل گیا تھا لیکن سکون کا
سانس لینا پھر بھی نصیب نہیں ہوا۔۔۔۔ہر وقت بانو اور ان کی دیورانی کی چبھتی ہوئی نگاہیں اور تلخ الفاظ اسکے گھائل دل پر مزید چرکے لگاتے۔۔۔اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ وہ دونوں اسکے کریکٹر کو لے کر مشکوک تھیں۔۔۔۔۔ایک بار انکے ایسے کچھ الفاظ حیات کے کانوں میں پڑ گئے تھے۔تب اسے حورین کی ایک کہی گئی بات یاد آئی۔۔۔۔
اگر کوئی لڑکی گھر سے غائب ہو جائے تو اس کے بارے میں کبھی بھی یہ نہیں کہا جائے گا کہ اسے کسی نے اغواہ کر لیا۔۔۔۔۔ہمیشہ یہی کہیں گے کہ کسی کے ساتھ
بھاگ گئی۔جبکہ لڑکا غائب ہو جائے تو یہ نہیں کہیں گے
کہ کسی لڑکی کو بھگا کر لے گیا۔بلکہ یہی کہا جائے گا کہ کسی نے اغواہ کر لیا۔۔
وہ دونوں دیورانی جٹھانی بھی اسے گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی ہی سمجھتی تھیں۔۔۔لیکن اس کے پاس اپنے کردار کی پاکیزگی کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔وہ یہ سب برداشت کرنے پر مجبور تھی۔ایسی پوزیشن میں نہیں تھی کہ کچھ کہہ سکتی یا کم از کم انکے گھر سے چلی جاتی۔وہ خود دار لڑکی جو کسی اجنبی سے پانی کا گھونٹ لے کر پینا پسند نہیں کرتی تھی آج غیروں کا
احسان لینے پر مجبور تھی۔۔۔۔اس نے ترکی جانے کا بھی سوچا۔وہاں اسکے اپنے تھے جو لازمی اسے سہارا دیتے
مگر جب اس نے اپنا پاسپورٹ سنبھالا تو وہ کیا اس کے سب ڈاکومنٹس بھی غائب تھے۔وہ فائل جس میں
اسکے ڈاکومنٹس اور پاسپورٹ رکھا ہوتا تھا خالی کاغذوں سے بھری ہوئی تھی۔جلدی میں وہ اس فائل کو رکھتے وقت چیک کرنا بھول گئی تھی۔۔اندازہ ہو
گیا تھا کہ یہ کارستانی کس نے کی ہوگی۔۔۔مگر اب سوائے افسوس کے کیا کر سکتی تھی۔۔۔۔
شروع شروع میں اسے فہد کی نظروں سے شدید
الجھن ہوتی تھی۔اسکی موجودگی میں ثمرہ کے لاکھ
کہنے کے باوجود بھی وہ کمرے سے باہر نہیں نکلتی تھی۔۔پھر اچانک اسکی نیوی میں سلیکشن ہوگئی اور
وہ ٹریننگ کیلئے کراچی چلا گیا تو اس نے دل میں خدا کا شکر ادا کیا۔۔وہ ان پر زیادہ بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی اسی لئیے اس نے ثمرہ سے اصرار کر کے اسی کے سکول میں جاب کر لی جس میں وہ کرتی تھی۔۔مون کا ایڈمشن بھی وہیں ہو گیا تھا۔دونوں ایک ساتھ آتی جاتی تھیں۔۔۔۔۔۔سکول سے واپسی کے بعد ثمرہ کا وہی مشغلہ شروع ہوجاتا تھا۔یعنی لیب ٹاپ پر فلمیں ڈرامے دیکھنا۔جس میں وہ حیات کو بھی زبردستی شامل کر لیتی تھی پھر ناچاہتے ہوئے بھی حیات کو احسان مندی اور مروت کے مارے اس کا ساتھ دینا پڑتا تھا۔۔شروع شروع میں تو وہ مجبوری کی وجہ سے اسکا ساتھ دیتی تھی۔پھر آہستہ آہستہ اس کا اپنا ذہن بھی ان چیزوں میں لگنے لگا۔اذیت ناک یادوں سے چھٹکارا پانے کو اس نے ڈراموں کا سہارا لے لیا۔۔
کسی وقت بیٹھے بیٹھے اچانک اسکے دل میں اور طرح کی چنگاری چمک اٹھتی۔ایک چہرہ اس کے تصور میں آتا تھا۔۔۔۔۔اور تمام تر کوشش کے باوجود وہ تصور سے چپکا رہتا تھا۔ اندر ہی اندر وہ سلگنے لگتی تھی۔۔۔پھر ایک دن معمول کے مطابق سکول سے واپس آنے کے بعد
بعد وہ ثمرہ کے ساتھ مل کر ڈرامہ دیکھ رہی تھی
جب اچانک اس نے ڈرامے کو بند کر کے فلم لگا لی,,
فلم بھی دیکھ لیتی وہ لیکن اگر وہ ماحر خان کی نا ہوتی تو۔۔۔۔۔
سکرین پر اپنی تمام تر وجاہت و دلکشی پرسنالٹی سمیت وہ ایک ہیروئن کے ساتھ ناچ رہا تھا۔کبھی ڈانس سٹیپس آتے۔۔کبھی پپی جھپی کا سین شروع ہو جاتا۔۔۔اسکے سوکھے ہوئے زخموں سے ایک بار پھر خون رسنے لگا تھا۔۔۔ثمرہ بڑی ایکسائیڈڈ ہو کے حسرت آمیز لہجے میں بتانے لگی۔۔یار تم فلمیں نہیں دیکھتی نا تو اس کو شائد جانتی نہیں ہو گی۔۔۔۔۔۔۔یہ نامور سپر سٹار ماحر سکندر خان ہے۔۔ میں اسکی اتنی بڑی فین ہوں کہ بتا نہیں سکتی۔۔یوں سمجھو کرش ہے یہ میرا۔۔۔کئی بار خوابوں میں بھی آیا ہے میرے۔۔۔پتہ ہے میری بہت بڑی خواہش بلکہ حسرت ہے کہ اسے رئیل میں دیکھوں۔۔اس سے ملوں بات کروں،تصویر کھنچواؤں۔۔۔مگر پتہ نہیں کبھی زندگی میں یہ خواہش پوری ہو بھی پائے گی یا نہیں۔۔۔۔۔۔یہ کراچی میں رہتا ہے وہاں تو میں جا نہیں سکتی مگر فہد نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ یہ جب کسی فلم کی شوٹنگ کیلئے لاہور آیا وہ مجھے ملوانے ضرور لے جائے گا۔وہ پرجوش سی اسے بتانے لگی لیکن اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ ٹھٹکی۔۔۔۔
حیا کیا ہوا۔۔۔۔۔تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔۔؟؟وہ پریشان ہو کر اسکے ماتھے کو چھونے لگی جس پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمودار ہو رہی تھیں
ہاں ٹھیک ہوں میں۔۔۔کوشش کے باوجود وہ اپنے کرب
آمیز تاثرات چھپا نا سکی۔۔۔
تمہیں پسینہ کیوں آ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟کیا ہوا ہے پلیز بتاؤ مجھے۔۔۔وہ اصرار کرنے لگی
کچھ نہیں ہوا یار۔۔۔۔بس تم نے کراچی کا نام لیا نا تو اسی لئیے دل اداس ہو گیا۔۔۔۔۔اس نے سرد آہ بھری
ثمرہ نے اس کے ہاتھ تھام لئیے اور کئی سیکنڈ تک بڑی عجیب نظروں سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔۔۔۔
حیا پتہ نہیں کیا بات ہے۔۔اس تھوڑے سے عرصے میں ہی مجھے یوں لگنے لگا ہے جیسے میں تمہیں برسوں سے جانتی ہوں۔۔جی چاہتا ہے تمہارے لئیے کچھ کروں
تمہارے کسی کام آؤں لیکن تم کچھ بتاتی بھی تو نہیں پتہ نہیں کیسے کیسے دکھ اپنے اندر چھپائے بیٹھی ہو۔
کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے۔تم خوامخواہ میں پریشان مت ہو۔۔مگر ثمرہ نے جیسے اسکی بات سنی نہیں اپنی رو میں بولتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔تمہاری ذاتی زندگی میں مجھے دخل دینے کا کوئی حق نہیں اور نا میں دینا چاہتی ہوں۔لیکن ایک بات ضرور کہوں گی اور یہ بات میرے دل کی گہرائی سے نکلتی ہے۔کہ تم شائد کسی کو چاہتی تھی لیکن اسے کھو بیٹھی۔۔۔ہے نا۔۔۔۔؟؟
ثمرہ گہری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
مون ہوم ورک کر رہا تھا میں ذرا دیکھ کے آؤں۔۔۔۔
وہ نظریں چراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور اندر کمرے میں چلی گئی۔۔ثمرہ سر ہلاتے ہوئے ماحر کی مووی کی طرف متوجہ ہو گئی۔۔۔
پھر ایک رات اچانک حرکت قلب بند ہونے سے شفقت صاحب کا انتقال ہو گیا۔۔۔ثمرہ،فرحت چچی بانو سب دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔۔۔وہ خود سکتے میں آ گئی تھی۔۔۔برستی بے یقین آنکھوں سے انکے کفن میں لپٹے وجود کو دیکھتی رہی۔۔شفقت صاحب کی موت سے اسے بری طرح صدمہ پہنچا تھا۔۔۔ان چھے مہینوں میں جس طرح انہوں نے اس کا خیال رکھا تھا وہ دل
سے انکی عزت کرنے لگی تھی۔انکی باتوں اور عادتوں
میں اسے بابا کی جھلک نظر آنے لگی تھی۔ان کے ہونے
سے بہت سہارا تھا اسے۔۔انکی موت کا صدمہ تو ایک
طرف اب اسے پھر سے بے گھر اور بے سہارا ہونے کا ڈر
رلانے لگا تھا۔۔انکی موت کے کوئی چوتھے دن کی بات
تھی جب وہ ثمرہ کے کمرے میں سہمی ہوئی پریشان بیٹھی تھی۔ثمرہ کچن میں تھی شائد۔جب اچانک بانو
بیگم نے وہاں آکر چلانا شروع کر دیا۔۔۔۔تم منحوس ہو
ناجانے کہاں سے آئی ہو۔۔۔۔میرے شوہر کو کھا گئی ہو
نکلو میرے گھر سے۔۔بانو بیگم اسے اور مون کو دھکے
دے کر گھر سے باہر نکال دیتیں اگر ثمرہ اور فہد بیچ
میں مداخلت نا کرتے۔۔۔ثمرہ تو اس کیلئے ڈٹ کر کھڑی
ہو گئی تھی۔۔۔۔۔بانو بیگم کو فہد نے سمجھا بجھا کر راضی کر لیا تھا۔۔۔۔۔۔بڑی مشکل سے کہیں جا کہ ان کا دماغ ٹھنڈا ہوا تھا۔۔اس رات وہ ایک پل کیلئے بھی نا سو سکی تھی۔۔
بند دروازوں اور کھڑکیوں سے باہر سردیوں کی وہ طویل رات آہستہ آہستہ کھسک رہی تھی۔جیسے ایک ناگن پر پیچ راستوں پر آگے بڑھ رہی ہو۔کسی کو ڈسنے
کیلئے اس سے زندگی چھیننے کیلئے۔۔۔
وہ اور مون تنہا تھے۔۔یکسر اکیلے۔۔۔بے آسرا۔۔۔۔نا خود کی حفاظت کر سکتے تھے اور نا ایک دوسرے کی۔۔
ماں کی محفوظ آغوش مدتوں پہلے چھن چکی تھی
باپ کی مضبوط باہوں کا حصار بھی ٹوٹ چکا تھا۔ان
کا گھنا سایہ سر سے سرک چکا تھا۔بوا بھی زیادہ دیر ساتھ نا دے سکیں تھیں۔۔۔۔
ارتضیٰ۔۔فضا۔۔۔۔فارس۔۔۔۔حورین۔۔۔۔۔احمر۔۔۔۔۔کتنے سارے
لوگ ملے تھے اسے۔۔۔ایک ایک کر کے سب کو کھوتی گئی وہ۔۔شفقت حسین جیسا مہربان انسان جس نے کوئی رشتہ نا ہوتے ہوئے بھی اسکی حفاظتِ کی۔۔۔۔۔باپ کی طرح تحفظ مہیا کیا۔۔۔۔۔۔۔مگر ان کی شفقت کا دورانیہ بھی زیادہ طویل ثابت نا ہوا۔۔۔ثمرہ بھی کب تک ساتھ دے سکتی تھی۔۔اپنی ماں اور چچی سے اس کے لئیے
لڑ سکتی تھی۔۔آخر ایک دن وہ بھی اس کے لئیے لڑتے لڑتے تھک جاتی۔۔دنیا کے اژدھوں سے بھرے جنگل میں وہ تنہا تھی۔کوئی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔کوئی بھی نہیں تھا۔۔
اسے اپنے سارے بچھڑے ٹوٹ کر یاد آئے۔۔۔۔۔۔۔وہ گھٹ گھٹ کر ہچکیوں سے روتی رہی۔۔تکیہ بھیگتا رہا۔اسے ٹوٹ کر بابا کی یاد آنے لگی تھی۔۔۔درد بڑھتا گیا۔۔۔اس کا تڑپنا سسکنا جاری رہا۔۔۔وہ روتے ہوئے سوچ رہی تھی کیا اسکے پیارے بابا نے کبھی سوچا ہوگا کہ انکے جانے
کے بعد ایسا وقت بھی آئے گا کہ ان کی لاڈلی مکمل طور پر غیروں کے رحم و کرم پر ہوگی۔۔
اس دن کے بعد حیات بری طرح خوفزدہ ہو گئی تھی کہ اسلئیے اس نے چپکے چپکے ایسی جابز اخباروں میں ڈھونڈھنا شروع کر دی تھیں جن میں رہائش کی سہولت بھی مہیا کی جاتی ہو۔۔۔۔۔
اس واقعے کے ایک ہفتے بعد کی بات تھی جب ایک صبح وہ اٹھی تو دیکھا مون شدید بخار میں پھنک رہا
تھا۔۔ثمرہ نے فوراً فہد کو جو کہ اپنے چچا کے وفات پر چھٹی لے کر آیا ہوا تھا اسے بھیج کر دوائی منگوائی۔۔
مون کو اٹھا کے اس نے خود کھلائی۔۔سکول سے چھٹی نہیں
کر سکتی تھی جانا ضروری تھا۔۔تاہم وہ حیات سے کہہ
گئی تھی کہ وہ جلدی آئے گی وہ پریشان نا ہو مون کا
اچھے سے خیال رکھے اور میڈیسن دیتی رہے۔۔
دن کے بارہ بج رہے تھے۔جب وہ مون کیلئے دودھ لینے کچن کی طرف جا ہی رہی تھی۔۔۔۔۔کہ فرحت چچی کے کمرے سے آتی آوازیں سن کر رک گئی۔۔اس کے رکنے کی وجہ یہ تھی اس کا اپنا نام تھا۔۔غالباً وہ کسی سے اس کا نام لے کر کسی بات پر بحث کر رہی تھیں۔۔مگر کس سے۔۔۔لیکن اگلے ہی سیکنڈ اسے دوسرے فرد کی آواز بھی سنائی دے گئی۔۔۔وہ فہد تھا۔۔اگرچہ اسے پتہ تھا کہ کسی کی چوری چھپے باتیں سننا اخلاقیات کے زمرے میں نہیں آتا مگر ان کے منہ سے اپنا نام سن کر وہ خود کو روک نہیں پائی تھی۔۔۔۔اس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا۔ ناجانے اس کے بارے میں کیا بات کر رہے تھے ماں بیٹا۔۔۔
وہ تھوڑا سا آگے ہو کر غور سے سننے لگی۔۔۔۔
آخر کیا کمی ہے حیا میں امی۔۔۔۔۔؟؟پڑھی لکھی ہے خوبصورت ہے۔۔۔۔نیک شریف اچھے کردار کی لڑکی ہے
فہد کی جھنجھلاتی ہوئی آواز اس کے کانوں میں پڑی
ہاں اسکی اسی خوبصورتی نے تو تمہیں اندھا کر دیا ہے یہ بھی بھول گئے کہ ثمرہ تمہارے بچپن کی منگیتر ہے
جواب میں فرحت چچی کی غصیلی آواز سنائی دی۔۔
ثمرہ کو کوئی بھی اچھا رشتہ مل جائے گا۔۔۔حیا بے سہارا ہے۔۔۔۔۔میں اسے اپنا نام دے کر سہارا دینا چاہتا ہوں۔۔ویسے بھی چچا جان سے میں نے وعدہ کیا تھا
کہ ثمرہ کی طرح اس کا بھی خیال رکھوں گا۔۔۔
بکواس بند کرو فہد۔۔میں سب جانتی ہوں اپنے دل کی خواہش کو سہارے کا نام مت دو۔اور بھائی صاحب نے تمہیں اس کا بھائی بن کر خیال رکھنے کو کہا تھا نا کہ یہ کہا تھا کہ تم اپنی نیت ہی اس پر خراب کر بیٹھو۔۔
وہ بھڑک کر بولیں۔۔
امی۔۔۔۔۔۔فہد کا چہرہ لفظ نیت پر سرخ ہو گیا۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے مانتا ہوں۔۔صرف ہمدردی نہیں ہے مجھے اس سے۔۔۔ پسند کرتا ہوں میں اسے۔۔۔۔محبت ہو گئی ہے مجھے اس سے۔۔۔میں شادی اسی سے ہی کروں گا۔۔۔
وہ ضدی لہجے میں بھڑک کر بولا
کچھ شرم کر لو۔اگر ثمرہ اور تمہاری چچی کو پتہ چل گیا نا تو ان کے دل پر کیا گزرے گی۔۔۔۔کتنے احسان ہیں بھائی صاحب کے ہم پر تمہارے ابو کی وفات کے بعد انہوں نے ہمیں سہارا دیا۔۔تمہیں اپنے سگے بیٹوں کی طرح پڑھایا لکھایا اور آج تم یہ صلہ دو گے۔۔۔؟
وہ غصے سے پھٹ پڑی تھیں۔۔۔
صحیح کہتی ہیں بانو بھابھی۔۔وہ لڑکی اتنی معصوم نہیں ہے جتنی بنتی ہے وہ ساری کہانی جو ہمیں سنائی جھوٹی ہے۔۔۔۔۔یقیناً کسی یار کے ساتھ گھر سے بھاگی ہوئی ہے جس نے اپنا مطلب نکالنے کے بعد دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا ہوگا۔۔کس منہ سے گھر جاتی بدکردار لڑکی تبھی”وہ آگے بھی کچھ زہر اگلتیں
جب فہد چیخ پڑا تھا۔۔۔
امی۔۔۔خدا کیلئے بس کریں۔۔۔کسی پر بہتان لگانا بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔وہ تو یتیم بھی ہے کہیں ایسا نا ہو کہ بد دعا دے دے جو ہمیں لگ جائے۔۔۔
دروازے کے باہر کھڑی حیات عبدالرحمان کا پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔۔غم و غصے سے وہ لرز رہی تھی۔اس کا دل چاہ رہا تھا اندر جا کر فہد کا منہ تھپڑوں سے لال کر دے۔۔۔۔اسکی ہمت کیسے ہوئی تھی اس کے بارے میں اسطرح سوچنے کی۔۔وہ کیا مفت کا مال تھی جو کوئی بھی اسکے بارے میں ایسا بول اور سوچ سکتا تھا۔۔۔۔۔
غم و غصے اور بے بسی کے مارے اسے رونا آنے لگا۔۔۔
اس کی ہمت نہیں ہوئی مزید کچھ سننے کی۔۔ڈولتے لرزتے قدموں کے ساتھ وہ کمرے میں آ گئی۔اگر وہ قسمت کی ستم ظریفی کا شکار ہو کر ان برے حالوں کو نا پہنچی ہوتی تو فہد جیسے لڑکے اس کے بارے میں ایسا صرف خواب میں ہی سوچ سکتے تھے۔رئیل میں ایسا کوئی تصور ممکن ہی نا تھا۔۔۔
کہاں وہ شہزادیوں جیسی آن بان رکھنے والی لڑکی اور کہاں وہ سانولا سلونا عام سا فہد۔۔۔۔
اس جیسی شہزادی کیلئے تو کوئی شہزادہ ہی اترنا چاہیے تھے۔اگرچہ اسکی زندگی میں دو شہزادے آئے
تو تھے مگر ایک کی زندگی نے وفا نا کی اور دوسرے
نے خود بے وفائی کی۔۔۔۔
وہ بے جان قدموں سے مون کے پاس پلنگ پر بیٹھ گئی اور دکھ سے سوچنے لگی اسکے غموں کا وقت کب ختم ہوگا۔اسکے حصے کی خوشیاں کہاں ہیں۔۔۔۔خوشیاں تو ایک طرف۔اسے دور دور تک کہیں سکھ کا سانس بھی نظر نہیں آتا تھا۔۔۔۔۔۔۔سانس کے نام پر زہریلی برچھیاں تھیں جو اس کے سینے پر چل رہی تھیں اور اسکی نازک جان کو ہلکان کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔غم کا ایک جلتا
ہوا ریگزار تھا۔۔ابھی اسے بیٹھے بیس پچیس منٹ ہی ہوئے تھے جب فرحت چچی اور بانو بیگم خوفناک تیوروں کے ساتھ اندر داخل ہوئیں۔۔
وہ سہم کر کھڑی ہو گئی۔
نکلو میرے گھر سے بے حیا بد کردار لڑکی۔۔اپنے نام کی بھی لاج نہیں رکھی میرے بیٹے پر ڈورے ڈالتی ہے اسے ورغلاتی ہے۔ثمرہ سے بدظن کر کے خود اس کی جگہ لینا چاہتی ہے۔۔۔۔
فرحت چچی نے آگے بڑھ کر اسے بازو سے پکڑ کر دروازے کی طرف دھکیلا۔۔۔
کک کیا کر رہی ہیں چچی۔۔؟؟میں کہاں جاؤں گی۔۔
اس اچانک آفتاد پر اس کے پیروں تلے زمین سرکی
بکواس بند کرو کوئی چچی نہیں یہ تمہاری۔۔نا کوئی رشتہ ہے ہمارا تم سے۔۔نا جانے کون ہو تم۔۔کہاں سے آئی ہو۔۔۔۔۔کس قماش کے خاندان کی ہو ہمیں کیا پتہ۔۔۔۔جو تمہیں لایا تھا مر چکا ہے وہ۔۔اب میں اور فرحت تمہیں ایک پل بھی اس گھر میں برداشت نہیں کریں گی۔۔بانو بیگم کی آواز زہر اگل رہی تھی وہ دونوں اسے انتہائی غضبناک شعلوں بھری نگاہوں سے گھور رہی تھی۔۔
دونوں کی آنکھوں میں ذرا سی بھی نرمی کی رمق دکھائی نہیں دیتی تھی۔۔۔۔ان پر حیات کا سراسیمگی بھرا انداز اس کا رونا کچھ اثر نہیں کر رہا تھا۔۔ان کے چہروں سے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ آج وہ اس پر قطعی رحم کھانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔۔ثمرہ گھر پر نہیں تھی اسی موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہ رہی تھیں وہ دونوں۔۔۔
اٹھاؤ اپنے بھائی کو اور ثمرہ کے آنے سے پہلے پہلے نکلو یہاں سے۔۔فرحت چچی کی دھاڑ نے اسے لرزا کر رکھ دیا تھا۔بخار کی وجہ سے سویا ہوا مون انکی آوازیں سن کر ہی جاگ گیا تھا۔۔۔بخار سے تپتا چہرہ لیے وہ ڈر کر بری طرح رونے لگ گیا تھا۔۔۔
خدا کیلئے ایسا مت کریں آپ لوگ۔۔۔۔اسے بخار ہے میں ایسی حالت میں اسے کہاں لے کے جاؤں گی۔۔ثمرہ کے آنے تک رک جائیں میں اس سے کسی ہاسٹل کا پتہ پوچھوں گی۔جیسے ہی اس کا بخار اترا ہم چلے جائیں گے یہاں سے۔۔
حیات نے ان دونوں کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔۔۔۔مگر ان بے رحم عورتوں پر کوئی اثر نا ہوا۔۔بانو بیگم کے اشارے پر فرحت چچی نے الماری کے اوپر رکھا اس کا بیگ اٹھا کر زمین پر پٹخا۔۔آگے بڑھ کر اس کے بازو کو جکڑا اور دوسرے ہاتھ سے گرا ہوا بیگ اٹھائے حیات کا گڑگڑانا اسکی منتیں سب نظر انداز کرتی کھنچتی ہوئی باہر لے گئیں۔۔بانو بیگم نے بستر پر بیٹھے روتے ہوئے مون کو بے دردی سے کھینچ کر بستر سے نیچے اتارا اور صحن میں لے آئیں۔۔۔جہاں فرحت چچی روتی رحم کی بھیک مانگتی حیات کو بری طرح گالیاں دے رہی تھیں۔۔
لو سنبھالو اپنے بھائی کو۔۔۔اور دوبارہ بھول کر بھی قدم مت رکھنا ہماری دہلیز پر۔۔۔بانو بیگم نے روتے ہوئے مون کو اسکی طرف دھکیلتے ہوئے غرا کر کہا
حیات اپنا رونا بھول کر مون کو ساتھ لگائے چپ کروانے لگی۔۔جس کا چہرہ بخار کی وجہ سے تمتما رہا تھا۔۔
فرحت اور بانو بے زاری سے بھائی بہن کا سیڈ ڈرامہ دیکھنے لگیں۔۔
منتیں کرنے گڑگڑانے واسطے دینے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔۔وہ عورتیں فرعون کی مونث لگ رہی تھیں۔۔۔
حیات نے بے دردی سے اپنے آنسو رگڑ کر صاف کیے نیچے گرے بیگ سے جھک کر اپنی بلیک چادر نکالی۔۔اوڑھ کر بخار میں تپتے ہوئے مون کا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔ایک آخری دکھ بھری نگاہ خون آشام نگاہوں سے گھورتیں ان عورتوں پر ڈالی اور اس گھر کی دہلیز سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نکل گئی۔۔
پہلے اس کا دل کیا سکول چلی جائے ثمرہ کے پاس اور اسے سب کچھ بتائے مگر پھر اس خیال کو رد کر دیا کیونکہ وہ لازمی ان دونوں کو واپس گھر لے جاتی اور پھر انکی وجہ سے اسے اپنی ماں اور چچی سے لڑنا پڑتا۔۔دوسری وجہ بھی تھی اگر اسے معلوم ہو جاتا کہ اس کا منگیتر حیات کے بارے میں کیا سوچ رہا ہے تو کتنا دکھ پہنچتا اسے۔۔۔وہ اپنی وجہ سے ثمرہ جیسی محبتوں سے گندھی مخلص اور پرخلوص لڑکی کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی۔۔۔
اک بار پھر اللّٰہ کے آسرے پر وہ نامعلوم منزل کی جانب بڑھتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔
بہت دیر تک آہستہ آہستہ چلنے کے بعد اسے محسوس ہوا کہ مون صحیح سے نہیں چل پا رہا۔وہ لڑکھڑا رہا تھا بخار کی وجہ سے اس کو کمزوری ہو رہی تھی۔۔
اسی وجہ سے اس میں چلنے کی طاقت نہیں رہی تھی۔اس کی آنکھیں بار بار بند ہو رہی تھیں شائد یہ اس کھانسی کے شربت کا اثر تھا جو حیات نے اسے آدھا گھنٹہ پہلے پلایا تھا۔۔
اسے لڑکھڑاتا اور نیند سے جھولتا دیکھ کر اس کے پاؤں پھولنے لگے۔نا وہ چل پا رہا تھا۔ نا اتنے بڑے بچے کو وہ نازک سی لڑکی اٹھا سکتی تھی۔۔۔
اسوقت وہ جس ایرے میں تھی وہ زیادہ پوش علاقہ نہیں تھا۔ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر بلڈنگز تھیں۔سڑک پر اکا دکا گاڑیاں آ جا رہی تھیں۔مگر کسی کا دھیان اس کا لاچار لڑکی اور نڈھال سے بچے کی طرف نہیں تھا۔۔۔۔بند ہوتی آنکھوں سے وہ مکمل نیچے گرنے کو تھا جب حیات نے اسے تھام کر وہیں فٹ پاتھ پر لٹا دیا۔اور خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس کا سر گود میں رکھے بے بسی سے رونے لگی۔۔
حالات نے اس بری طرح پلٹا کھایا تھا۔۔۔۔وہ محل میں رہنے والی نفاست پسند شہزادی روڈ کنارے دھول مٹی
سے بدحال بیٹھی اپنی قسمت پر زارو قطار رو رہی تھی۔۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔وہ کرے تو کیا کرے
وہ بالکل خالی ہاتھ تھی۔جو پیسے اسکے پاس تھے وہ
اس نے ایک دن چپکے سے منتیں کر کے شفقت صاحب
کو ان کا قرض اتارنے کیلئے تھما دیے تھے۔۔اگرچہ وہ
ہرگز نہیں لینا چاہتے تھے مگر حیات نے ایموشنلی بلیک میل کر کے انہیں رضامند کر لیا تھا۔۔آخر میں وہ بھی اس صورت پر راضی ہوئے تھے کہ یہ وہ ادھار سمجھ کر لیں گے۔۔۔
اگر آج وہ پیسے اسکے پاس ہوتے تو کم از کم اسے کسی طرح ہوسپٹل تو لے جاتی۔۔۔رہنے کیلئے کسی ہاسٹل میں کمرہ کروائے پر لے لیتی۔۔۔مگر وہ خالی ہاتھی ہو چکی تھی۔۔۔
پپ پانی۔۔۔۔۔۔بمشکل وہ مدھم آواز میں بول پایا
۔موسم سرد تھا۔۔ ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑے لگنے کی وجہ سے وہ کانپ رہا تھا۔۔۔اسکا جسم شدید گرم ہو رہا تھا۔۔حیات کے ہاتھوں
پیروں سے جان نکلنے لگی۔۔مون کا بخار کوئی عام قسم کا بخار نہیں ہوتا تھا۔۔۔
ایک بار جب وہ پانچ سال کا تھا تو اسے سخت ٹائیفائڈ بخار ہوا تھا۔۔
ڈاکٹر نے ایسی طاقتور میڈیسن دی تھی جس نے یکدم اس کا بخار توڑ دیا تھا۔۔سخت دوائی سے بخار کا ایک دم سے ٹوٹنا اس کے لئیے نقصان دہ ثابت ہوا تھا۔۔اس کے بعد وہ تھوڑا تھوڑا بیمار رہنے لگا تھا۔۔پھر جب بھی اسے بخار ہوتا پندرہ سولہ دنوں تک رہتا۔۔اس پورے ٹائم میں اس کا سخت خیال رکھا جاتا۔۔
اسپیشل پرہیزی فوڈ بنایا جاتا۔۔۔ڈاکٹر جمال بلگرامی جو سب سے مہنگا ترین چائلڈ اسپیشلسٹ تھا۔اس کو مون کے علاج کیلئے بلایا جاتا۔۔جو ایسی میڈیسن دیتا جس سے اس کا بخار آہستہ آہستہ اترتا تھا۔۔۔۔ورنہ ذرا
سی بے احتیاطی پر اسکی حالت بگڑنے لگتی تھی۔ان
دنوں میں جب وہ بخار میں مبتلا ہوتا اور عبدالرحمان اور سائرہ دونوں خاصی ٹینشن میں رہتے تھے۔۔۔
اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ مون کا بخار بگڑ رہا ہے ٹائیفائڈ یا نمونیہ ہو چکا ہے۔۔۔ایسے میں اگر اسے وہ علاج اور احتیاط نا مل پاتی جو پہلے ملتی تھی تو یقیناً وہ موت کے منہ میں جا سکتا تھا۔یہ خوف اسکے حواسوں کو معطل کر رہا تھا۔۔۔۔۔
یا اللّٰہ اپنے پیارے جبیب کے صدقے میری مدد فرما۔۔ میرے بھائی کو بچا لے۔۔۔وہ روتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھتے اللّٰہ سے فریاد کناں تھی۔۔
بیگ سے جو جو کپڑا نکل رہا تھا وہ مون کے گرد لپیٹ کر اسے سردی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
آپی پپ پانی۔۔۔۔نیم بے ہوشی کی حالت میں سردی اور بخار سے کانپتے جسم اور لرزتے ہونٹوں سے بمشکل نکل پایا تھا۔۔۔
حیات نے ادھر ادھر دیکھا دور دور تک کوئی ٹونٹی نلکا کچھ نہیں تھا۔۔۔جس جگہ وہ بیٹھی تھی وہاں سڑک
کے آر پار کوئی بلڈنگ کوئی دکان نہیں تھی۔سنسان جگہ تھی خالی پلاٹ تھے جن میں یا تو کچرا پڑا ہوا تھا یا سوکھی سڑی گھاس اگی ہوئی تھی۔۔کچھ فاصلے پر رہائشی بلڈنگز نظر آ رہی تھیں مگر جاتی کیسے۔۔مون چلنے کے قابل نہیں تھا۔۔وہ اٹھا نہیں سکتی تھی اتنی دور تک۔۔۔ساتھ میں بیگ بھی تھا۔۔۔۔اب ایک ہی صورت تھی کہ اسے یہیں چھوڑ کر وہ ادھر رہائشی ایریے میں جا کر کسی سے پانی اور ہیلپ مانگتی۔لیکن مون کو اکیلا چھوڑ کر جانے سے وہ ڈر رہی تھی۔۔وہ بری طرح شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔سڑک پر گزرتی ایک دو گاڑی کے آگے اس نے ہاتھ لہرایا تھا۔۔مگر کوئی
گاڑی رکی نہیں۔۔ شائد اسکے حلیے کو دیکھ کر اسے بھیکارن سمجھ کر نہیں رکا کوئی۔۔۔
آخر کار وہ مون کو تھوڑی دیر کیلئے یہیں چھوڑنے پر مجبور ہوگئی۔۔
نیم بے ہوش مون کو اس نے لرزتی آواز میں کہا۔۔۔
مون گھبرانا نہیں۔۔یہیں لیٹے رہو۔میں پانی لینے جا رہی ہوں تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔۔اس کا سر گود سے ہٹا کر بیگ پر ٹکا دیا۔۔۔اور اچھی طرح چادروں سے کور کر کے احتیاط سے لٹایا۔۔۔اور ڈبڈبائی بے چین نگاہوں سے اسے دیکھتی اس طرف بڑھ گئی جس طرف بلڈنگز نظر آ رہی تھی۔۔چلتے ہوئے وہ مڑ مڑ کر پیچھے بھی دیکھتی جا رہی تھی۔تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی وہ سامنے نظر آتی ایک بلڈنگ تک پہنچی۔۔گیٹ بند تھا۔۔۔۔۔اس نے تین چار مرتبہ بیل بجائی مگر کوئی رسپونس نہیں ملا تو مایوس ہو کر آگے بڑھی۔
۔اس بلڈنگ کی دوسری طرف ایک گلی نظر آ رہی تھی اس گلی میں مڑی تو سامنے ایک سبزی کی دکان نظر آئی۔۔وہ بھاگ کر دکان پر پہنچی۔۔۔
بھائی ایک گلاس پانی دے دیں پلیز۔۔میرے بھائی کی طبیعت خراب ہے ادھر روڈ پر نیم بے ہوش پڑا ہے۔۔وہ روتے کانپتے لہجے میں گڑگڑانے کے انداز میں بولی تھی
شاپ والا جو کہ ایک کم عمر لڑکا تھا۔ فوراً گلاس بھر کر دے دیا۔جلدی میں گلاس لیتے ہوئے اس کے چہرے سے چادر ہٹ گئی۔۔ حسن بے حجاب ہو گیا تھا۔۔۔
پانی تھماتا وہ لڑکا غور سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
اگر مدد چاہیے تو میں آپ کے ساتھ چلوں۔۔۔اس نے فوراً آفر کی۔۔۔۔
ہاں چلو۔۔۔وہ پلٹی اور تیز تیز قدموں سے اس طرف
بڑھ گئی۔۔۔
گلی سے نکل کر روڈ پر آئی تو دور سے بیگ اور اس پر لیٹا کپڑوں میں لپٹا مون نظر آئے تو تھوڑی سی جان میں جان آئی۔۔۔
چلتی بھاگتی رفتار سے وہ اسی جگہ پہنچی تو ساتوں کے ساتوں آسمان سر پر گر پڑے تھے۔۔۔۔۔جن کپڑوں میں وہ اسے لپیٹ کر لٹا کے گئی تھی وہ کپڑے بیگ کے اوپر پڑے ہوئے تھے جبکہ مون غائب تھا۔۔۔
اسکے ہاتھ سے پانی کا گلاس چھوٹ گیا۔۔۔۔
مون۔۔۔۔۔مون۔۔۔۔۔کہاں ہو تم۔۔۔۔ پاگلوں کی طرح ادھر ادھر بھاگنے اور چیخ چیخ کر آوازیں دینے لگی۔۔ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگی تھی۔بھیانک وسوسوں سے
اس کا دل بے قابو ہو رہا تھا۔۔۔
مون کی حالت ایسی نہیں تھی کہ خود اٹھ کر کہیں گیا ہوتا۔۔ خود سے کہیں جانا تو دور وہ تو اٹھنے کے قابل بھی نہیں تھا۔۔بخار میں سخت نڈھال تھا۔۔۔
کون لے گیا اسے۔۔۔۔؟؟
کیا یہ آخری رشتہ بھی وہ کھو چکی تھی۔۔۔؟؟
مون کو ڈھونڈھتے، آوازیں دیتے روڈ پر اندھا دھند بھاگتے وہ دیکھ نہیں پائی تھی اور کسی گاڑی سے بری طرح ٹکرائی تھی۔۔اسکے آنکھوں کے سامنے زمین و آسمان گھوم گئے تھے۔سر میں بری طرح کوئی چیز لگی تھی۔۔آخری احساس جو اسے ہوا تھا وہ درد سے بے حال چکراتے سر کو دونوں ہاتھوں سے جکڑے نیچے گرنے کا تھا۔۔۔
اسے ہوش آیا تو نگاہوں کے سامنے سب سے پہلے ایک سفید چھت آئی۔۔۔اسے ڈرپ لگی ہوئی تھی۔۔ایک نرس اس کا بلڈ پریشر چیک کر رہی تھی۔۔۔۔وہ کچھ دیر تک بالکل خالی الذہن رہی۔اسکی سمجھ میں کچھ نہیں آیا
کہ وہ کہاں ہے اور کیوں ہے۔۔؟؟
پھر جیسے کوئی رکی ہوئی مشین برقی رو بحال ہونے
پر ایک دم سے چل پڑتی ہے اس کا ذہن بھی کام کرنے لگا۔۔۔مون کا بخار سے تپتا سرخ نڈھال چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے آیا تو یکلخت باقی سب بھی یاد آتا
گیا۔او میرے خدایا۔۔اس نے تڑپ کر اٹھنے کی کوشش کی۔یوں اٹھنے سے سر میں ناقابل برداشت ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں۔اسکے ہاتھ بے ساختہ اپنے سر پر پہنچ گئے
جہاں پٹی بندھی ہوئی تھی۔۔ڈرپ کی سوئی بھی ہاتھ
کے کھنچنے سے نکل گئی تھی۔۔۔سوئی والی جگہ سے ننھی ننھی خون کی بوندیں نمودار ہونے لگیں۔۔
ارے کیا کر رہی ہیں آپ۔۔۔سوئی بھی نکل گئی۔۔ نرس
نے لپک کر اسے پکڑا اور زبردستی دوبارہ لٹانا چاہا۔
۔مگر حیات نے اسکے ہاتھ جھٹک دیے۔۔اٹھنے دو مجھے
جانا ہے۔۔میرے بھائی کو بخار تھا وہ وہ روڈ پر تھا۔۔
وہ بری طرح بوکھلا کر بستر سے اترنے لگی تھی۔جب
نرس نے اسکے ہاتھ پکڑ لیے تھے۔۔۔اسوقت آپ کہیں نہیں جا سکتیں رات کا ایک بج رہا ہے۔۔۔
کیا۔۔وہ ساکت نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
سائیڈ کی دیوار پر وال کلاک موجود تھا۔سوئیاں رات ایک بجےکا وقت بتا رہی تھیں۔وہ جب مون کے ساتھ ثمرہ کے گھر سے نکلی تھی دن کے ساڑھے بارہ کا وقت تھا۔کافی دیر تک وہ دونوں ادھر ادھر بھٹکتے رہے تھے۔تب بھی زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ بجے کا وقت ہوا ہوگا مگر اب تو رات کا ایک بج رہا تھا۔یعنی دوسرا دن سٹارٹ ہو چکا تھا۔۔۔وہ سرتاپا لرز گئی تھی
مون کہاں ہوگا۔۔۔؟؟
اس نے ڈرپ کھینچ کر دور پھینکی اور وحشت زدہ سی ہو کر اٹھی۔۔۔۔اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک ڈاکٹر اندر داخل ہوا۔۔
کہاں جا رہی ہیں بی بی۔۔۔آپ کو چوٹ لگی۔۔۔ابھی آرام کی ضرورت ہے آپ کو۔۔۔۔اس نے روکا
نن نہیں مجھے جانا ہے۔۔۔میرا جانا بہت ضروری ہے
میرا چھوٹا بھائی باہر روڈ پر تھا۔۔۔اس کو بخار تھا
پلیز خدا کے واسطے میری مدد کریں ناجانے کون لے
گیا اسے۔۔وہ بری طرح روتے ہوئے ڈاکٹر سے مدد کی درخواست کرنے لگی۔۔
دیکھیں یہ ایک پرائیویٹ ہاسپٹل کا وارڈ ہے۔۔آپ کا جہاں ایکسیڈنٹ ہوا وہ جگہ یہاں سے کافی دور ہے
آپ کا بھائی غالباً وہیں گم ہوا ہوگا۔۔۔۔جس کار سے
آپ ٹکرائی تھیں وہی کار والا آپ کو یہاں لایا ہے
وہ باہر موجود ہے۔۔۔آپ یہیں رکیں میں اسے بلواتا
ہوں شائد وہی آپ کی مدد کر سکے۔۔۔
سسٹر پیشنٹ کے ساتھ جو آئے تھے ان کو بلا لائیں
ڈاکٹر نے تفصیل سے بتاتے ہوئے روکا اور نرس کو اس شخص کو بلانے کو کہا جو اسے ہاسٹل لایا تھا۔۔
نرس سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئی چند منٹ بعد واپس آئی تو وہ شخص اسکے ہمراہ تھا۔۔۔۔سوٹ بوٹ پہنے
وہ کوئی ادھیڑ عمر آدمی تھا۔۔۔۔حلیے سے کافی امیر
لگ رہا تھا اس نے حیات کی بات سننے کے بعد تسلی
دی اور کہا کہ وہ اس کے بھائی کو ڈھونڈنے میں ہیلپ کرے گا۔۔
حیات کے کہنے پر اس نے ڈاکٹر سے بات کی وہ چھٹی دینے پر راضی ہو گیا۔۔۔شال اوڑھ کر وہ اس آدمی کے ہمراہ ہاسپٹل سے باہر آئی یہ شال اس نرس کی تھی جسے اس نے سردی کی وجہ سے آذرہ ہمدردی اوڑھا دی تھی۔اس شخص کے ہمرہ ہاسپٹل کی پارکنگ میں آئی تو سامنے ہی اس کی گاڑی کھڑی تھی۔۔
سارے راستے وہ روتی آئی تھی اور آدمی اسے تسلیاں
دیتا رہا تھا۔۔آدھے گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد وہ اسے
ایک بلڈنگ میں لے آیا تھا۔۔
آؤ بیٹی یہ میرا گھر ہے۔۔اس نے کہا اور کھلے دروازے سے دیوڑھی میں داخل ہو کر اوپری منزل کی طرف جاتی سیڑھیوں پر اسے لئیے چڑھنے لگا۔۔۔
حشمت علی یہ کسے لے آیا۔۔۔۔۔؟؟میک زدہ چہرے والی عورت نے حیات کی طرف جانچتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بڑے میاں سے استفسار کیا۔۔
کچھ مت پوچھو نرگس بائی۔۔۔ہیرا ہے ہیرا۔۔۔سڑکوں پر رل رہا تھا۔۔۔میں تمہارے پاس لے آیا۔اسے سجاؤ سنوارو مالا مال کر دے گی تمہیں۔۔مالا مال۔۔۔ گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں ایسا ہیرا تمہارے کوٹھے پر پہلی بار آیا ہوگا
حشمت علی نے خباثت بھرے لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا۔۔
ساکت کھڑی حیات عبدالرحمان چکرا کر گر پڑی تھی اس کے ساتھ دھوکا ہو چکا تھا۔۔۔
رات بادل خوب ٹوٹ کر برسے تھے کسی کے اشکوں کی طرح۔۔۔ہر شے دھل کر نکھر گئی تھی۔آسمان ابھی بھی سرمئی بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ہواؤں میں نمی تھی۔وہ
ٹیرس پر کھڑا خلاؤں میں کچھ تلاشنے کی سعی میں
مصروف تھا۔اپنے دل میں پھیلی ویرانی اسے ہر سو
بکھری ہوئی نظر آ رہی تھی۔ہر شے سے جیسے اداسی
و حزن جھلک رہا تھا۔دنیا جو پہلے اسے پھولوں سے
مہکتی اور رنگوں سے چمکتی ہوئی لگتی تھی۔اب ایک دم سے روکھی پھیکی لگنے لگی تھی۔۔۔
آسمان کی وسعتوں پر نگاہیں جمائے وہ سگریٹ پھونک رہا تھا۔وہ ارد گرد سے بے خبر سوچوں میں گم تھا۔
حیات عبدالرحمان کو ڈھونڈھنے کی مہم اس نے شدید مایوس ہو کر ترک کر دی تھی۔۔اب وہ صرف دعا مانگتا رہتا تھا کہ وہ اسے کبھی مل جائے۔۔ تاکہ اس سے اپنے کئیے کی معافی طلب کر اپنا ذہنی اطمینان و سکون واپس حاصل کر سکے اور پچھتاوے کی دلدل سے نکل سکے۔۔جسم پر لگے زخم تو آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔مگر روح کے زخم وہ زخم ہوتے ہیں جن سے ضمیر داغدار ہو جاتا ہے۔جس سے عزت و نفس اور حمیت مجروح ہوتی ہے جو انسان کو زندہ درگور کر دیتی ہے۔
اسے بھی روح کے زخموں نے بے حال کر رکھا تھا۔
کبھی کبھی وہ شدید اضطراب میں مبتلا ہو جاتا۔جب اس لڑکی کا تصور اسے تنگ کرنے لگتا۔وہ جتنا اسکے تصور سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا۔اسی قدر وہ تصور اس کے دماغ پر حاوی ہوتا جاتا۔
آنسوؤں سے بھیگا گلاب چہرہ۔۔۔۔
خوف سے بھری سحر انگیز نیلی آنکھیں
دکھ درد اذیت سے کپکپاتے یاقوتی لب
حیات عبدالرحمان کا ہر آنسو ہر سسکی اسکے اندرونی زخموں پر نمک پاشی کرتی۔۔اپنی وحشت بھری حرکتیں
یاد آتیں تو پچھتاوے کی اذیت میں مبتلا ہو جاتا تھا۔
ناجانے کتنا وقت یونہی کھڑا رہا پھر جب اندر سے سمندر کی لہروں کی طرح مضطرب ہونے لگا تو ٹیرس سے نیچے آ گیا۔
عبیر کے بعد گھر میں اب زین کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں جسکے لئیے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو رہا تھا۔۔رات کو فاریہ اصفہان سمیت ماموں کی پوری فیملی یو۔کے آ رہی تھی۔وہ نیچے آیا تو فائزہ سکندر کی ڈرائنگ روم میں کچھ ڈیزائنرز کے ساتھ ڈسکشن رہی تھی۔ایک نظر دیکھنے کے بعد ڈرائیو وے
کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
ڈرائیور اور گارڈز مستعد کھڑے انتظار کر رہے تھے۔اس نے ڈرائیور کو پروڈکشن ہاؤس کی طرف چلنے کا حکم دیا۔۔وہ مینٹلی ڈسٹرب تھا۔ جلد سے جلد رہ جانے والی شوٹنگز کمپلیٹ کر کے کچھ عرصے کیلئے شوبز سے بریک لینا چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
ذہنی سکون نا ہو تو انسان یکسوئی سے اپنا کام نہیں کر پاتا۔۔اس کے ساتھ بھی یہی مسئلہ چل رہا تھا۔اسی وجہ سے نیو پراجیکٹس سائن کرنے کیلئے وہ کئی ڈائریکٹرز کو منع کر چکا تھا۔۔۔
وہ اندر آیا تو مینیجر سمیت ٹیم کا کوئی فرد دکھائی نہیں دیا سوائے گیٹ پر موجود گارڈ کے۔۔شائد عبیر یا
زین کوئی میٹنگ کروا رہے ہونگے تبھی کوئی دکھائی نہیں دے رہا۔۔وہ سوچتا ہوا اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔۔ارادہ اسپشل روم میں بیٹھ کر الکوحل سے غم غلط کرنے کا تھا اپنے روم کی طرف بڑھتے اسکے قدم
قریبی کیبن سے آتی دھیمی آواز سن کر رک گئے اور پھر غیر آرادی طور پر کیبن کی جانب اٹھ گئے۔۔۔
یہ کیبن اسکے سیکرٹری فراز کا تھا۔۔
اندر سے صاف آواز آ رہی تھی۔۔۔
ڈونٹ وری میم۔۔۔مجھے اپنی جان اور نوکری عزیز نہیں کیا جو میں وہ ریکارڈنگ والا راز کسی سے شئیر کروں گا۔۔۔۔آپ بے فکر رہیں یہ راز ہمیشہ میرے سینے میں دفن رہے گا۔۔
دوسری طرف سے ناجانے کیا کہا گیا۔۔جواب میں وہ بولا۔۔
نہیں ابھی تک تو ڈھونڈ رہے ہیں اسے پر مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس لڑکی کو ڈھونڈ پائیں گے کبھی۔۔کیونکہ ماحر سر تو اسے کراچی میں ڈھونڈھتے پھر رہے ہیں جبکہ وہ لڑکی کراچی چھوڑ کر جا چکی ہے۔۔
جی۔۔جی میں نے خود دیکھا تھا اسٹیشن پر اسے۔۔
جی ٹھیک ہے کوئی نئی خبر ملی تو آپ کو ضرور انفارم کروں گا۔۔۔
شائد اس نے فون بند کر دیا تھا۔۔۔
دروازے کے ساتھ لگ کر سنتے ماحر خان کے اندر اس یکطرفہ گفتگو کو سن کر زبردست توڑ پھوڑ سی مچ گئی۔وہ خود کو روک نہیں پایا اور زور دار دھماکے کے ساتھ دروازہ کھولا۔۔۔
کرسی پر بیٹھا فراز دروازہ کھلنے پر یکدم پلٹا۔۔
دروازے کے بیچوں بیچ اپنی طرف خونخوار نگاہوں سے گھورتے ماحر خان کو دیکھ کر اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔
دیکھ لڑکی سیدھی طرح لائن پر آ جا ورنہ تو مجھے جانتی نہیں تیرے جیسی حسین اڑیل گھوڑیوں کو کیسے سدھارا ہے میں نے۔۔۔۔
نرگس بائی نیم جان پڑی حیات کے سامنے غصے سے بل کھا رہی تھی۔آج تیسرا دن تھا اس لڑکی نے اسے ناکوں چنے چبوا دیئے تھے۔مار پیٹ دھمکیاں ہر حربہ ناکام گیا تھا وہ کسی طرح قابو میں نہیں آ رہی تھی۔۔۔اب بھی نرگس بائی کی چیخ و پکار پر خاموشی سے آنسو بہاتی رہی۔۔۔۔وہ دہرے غم سے نڈھال تھی۔۔۔۔
مون کے کھو جانے کا غم۔۔
اتنی غلیظ جگہ پر اپنے پھنسنے کا غم۔۔
تھک ہار نرگس بائی وہاں سے ہٹ گئی۔۔
جس کو جان کی پروا نا ہو اسے کس چیز سے ڈرایا جا سکتا ہے۔۔اس جیسی ڈھیٹ لڑکی سے پہلی بار واسطہ پڑا ورنہ اس سے پہلے جتنی بھی چڑیاں پنجرے میں آئیں پانچ چھے تھپڑوں مکے ٹھڈوں اور دو چار ٹائم کے فاقوں سے لائن پر آ جاتیں۔۔
مگر یہ کوئی ایسی ڈھیٹ خوبصورت بلا متھے لگی ہے تین دن سے مار کھائے جا رہی ہے مگر مجال ہے جو ذرا سا بھی اثر ہوا ہو۔۔۔ارےاس پر تو فاقے کا حربہ بھی بے کار ہے یہ تو پہلے ہی منہ میں روٹی کا نوالہ تک رکھنے کو تیار نہیں۔۔کیا کروں میں اس کا۔۔۔۔۔؟؟
نرگس بائی سخت جھنجھلائی ہوئی تھی۔۔
بائی جی تھوڑا سا صبر کر لیں۔۔۔آہستہ آہستہ لائن پر آ
جائے گی۔۔یہ بھی تو دیکھیں نا ہمارے کوٹھے کا سب
سے حسین ہیرا ہے۔۔یوں لگتا ہے جیسے ہمارے کوٹھے پر چاند اتر آیا ہو۔۔۔۔ساتھ کھڑی خوشبو نے ستائشی انداز
میں کہا۔۔۔
خوشبو باجی ٹھیک کہہ رہی ہیں بائی جی ذرا اس کو ٹائم دیں آخر کار مان ہی جائے گی۔۔حسن کی دولت سے مالا مال ہے۔ایک بار اس کا دھندہ شروع کروا دیا نا آپ کو مالا مال کر دے گی۔۔۔۔چندہ نے بھی تائید کی
میں اپنی جان دے دونگی مگر یہ غلیظ کام کبھی نہیں کروں گی۔۔۔سنا تم لوگوں نے۔۔۔۔
ان کی باتیں سنتے ہوئے، روتے روتے اس نے سر اٹھایا اور پوری قوت سے چیخی۔۔وہ تینوں اسکے اتنا زور سے چلانے پر حق دق رہ گئیں۔۔
بکواس بند کر میرا حکم نہیں مانے گی جانتی نہیں تو مجھے۔۔۔نرگس بائی خطرناک تیوروں سے اسکی طرف بڑھی۔۔خوشبو اور چندہ نے بپھری ہوئی نرگس بائی کو پکڑ کر روکا۔۔۔رہنے دیں بائی مزید جی مار پیٹ سے اسکی حالت اور حسن خراب ہو جائے گا۔۔۔
وہ دونوں غصے سے کھولتی نرگس بائی کو سمجھا بجھا رہی تھیں۔۔جبکہ نرگس بائی کا بس نہیں چل رہا تھا اس ڈھیٹ لڑکی کے ساتھ کیا کر دے۔۔۔۔
۔غصے کے مارے وہ بری طرح کھول رہی تھی اور ساتھ میں غضب ناک نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو مسلسل ہچکیوں سے روئے جا رہی تھی۔۔۔
ماحر خان نے کہا تھا۔۔۔وہ اپنا انتقام لینے کے بعد اسے کسی کوٹھے پر پہنچا دے گا۔۔وہ تو نا پہنچا سکا مگر بے رحم وقت اور برے حالات نے پہنچا دیا۔۔۔
ڈائریکٹ نا سہی ان ڈائریکٹ۔۔۔۔مگر وجہ تو وہی بنا تھا آج اس کے یہاں کوٹھے پر پہنچنے کی۔۔۔
بائی جی۔۔۔بڑے گرو آپ سے ملنے آئے ہیں۔۔۔اسوقت ایک لڑکی نے کمرے میں جھانک کر اطلاع دی۔۔۔۔نرگس بائی
چونکیں۔۔بڑے گرو اس کیلئے بہت مہان درجہ تھے۔۔
سمجھاؤ اس منحوس کو ورنہ ہڈیاں توڑ دونگی اسکی
وہ خوشبو اور چندہ سے کہتی سسکتی ہوئی حیات پر
ایک قہر بھری نظر ڈالتی باہر نکل گئی۔۔۔۔
آداب گرو جی۔۔۔۔مہمان خانے میں داخل ہو کر اس نے صوفے پر بیٹھے انسان کو انتہائی مودبانہ انداز میں جھک کر تعظیم پیش کی۔۔۔۔
آداب۔۔۔۔گرو نے اپنی پھٹے ڈول والی آواز میں جواب دیا۔۔۔۔۔
ارے لڑکیو کہاں مر گئی ہو۔۔۔گرو جی آئے ہیں جلدی سے اچھے سے ریفرشمنٹ کا انتظام کرو۔۔۔۔۔وہ اونچی آواز میں دروازے کی منہ کر کے بولی۔۔۔۔
اور سنائیے گرو جی آپ کی طبیعت صحت تو ٹھیک تھی نا۔۔۔۔؟؟بڑے عرصے بعد میرے کوٹھے کو رونق بخشی۔۔۔
ارے بائی جی اوپر بیٹھو کہاں بیٹھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔گرو نے اسے ایک چھوٹے سے موڑھے پر بیٹھتے دیکھ کر سامنے پڑے قیمتی گداز صوفے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا
نا نا گرو جی آپ کے سامنے میری اتنی اوقات نہیں کے صوفے پر بیٹھ سکوں۔۔۔میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔۔۔نرگس بائی نے فوراً انکار کیا۔۔۔
چل جیسے تیری مرضی۔۔۔۔گرو نے کندھے اچکائے
گرو جی۔۔اس بار آپ نے لیٹ چکر لگایا ہے۔میں تو پریشان تھی کہ خدانخواستہ آپ کہیں مجھ سے ناراض تو نہیں ہو گئے۔۔میں آج آپ کو فون کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ آپ آ گئے۔
بہت ہی خوشی ہو رہی ہے آپ کو دیکھ کر۔۔۔۔۔
کچھ دیر پہلے والی سختی کا چہرے اور آواز میں شائبہ تک نہیں تھا۔۔۔۔اسوقت وہ شہد کی طرح میٹھی بنی خوشامدی انداز میں بولتی کوئی اور ہی نرگس بائی لگ رہی تھی۔صاف لگ رہا تھا یہ گرو نرگس بائی کیلئے بڑی خاص اہمیت رکھتا تھا۔ اسی لئیے وہ اسکے سامنے اتنی بچھی جا رہی تھی۔۔۔
اس سے پہلے گرو کوئی جواب دیتے دروازے کے باہر بہت شور شرابہ ہوا۔۔۔۔وہ دونوں چونکے۔۔۔۔۔۔
ایک منٹ گرو جی میں دیکھ کر آتی ہوں۔۔۔وہ پریشان ہو کر اٹھی اور باہر کی طرف لپکی۔۔گرو جی بھی اسکے پیچھے باہر آئے۔۔۔سامنے کے منظر نے انہیں حیران کر دیا
ایک انتہائی خوبصورت لڑکی نرگس بائی کی ایک لڑکی
کے ہاتھوں بری طرح پٹ رہی تھی اور درد ناک انداز میں رو چلا بھی رہی تھی اور ساتھ میں متواتر ایک ہی بات کی گردان کیے جا رہی تھی۔
نہیں مانوں گی تم لوگوں کی بات چاہے جان سے ہی مار دو۔۔
کیا ہوا نیلم کیوں مار رہی ہو اسے۔۔۔۔؟نرگس بائی فوراً آگے بڑھی۔۔
بائی جی یہ کمینی یہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہی
تھی گلدان مار کر میری بہن خوشبو کا سر پھاڑ دیا ہے
ہانپتی کانپتی نیلم نے حیات کے منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے نرگس بائی کو جواب دیا۔۔۔۔۔اس سے پہلے نرگس بائی کوئی جواب دیتی یا اسے روکتی کچھ فاصلے پر کھڑے خاموشی سے دیکھتے گرو نے درشت انداز میں کہا چھوڑو اسے۔۔۔۔
نیلم نے ہاتھ کو تو روک لیا مگر زمین پر پڑی حیات
کو متواتر خونخوار نظروں سے گھورنے لگی۔۔
کون ہے یہ لڑکی نئی آئی ہے کیا۔۔۔؟؟گرو نے نرگس بائی سے پوچھا۔۔۔
جی گرو جی۔۔۔اسے چھوڑیں آپ اندر مہمان خانے میں چلیے یہ سب تو چلتا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔
نرگس بائی نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کو سمیٹتے ہوئے گرو جی کو مہمان خانے کی جانب چلنے کا کہا۔۔۔۔
ایک منٹ نرگس۔۔۔۔یہ لڑکی مجھے چاہیے۔۔۔گرو نے روت
