Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 63) 2nd Last Episode (Part - 4)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 63) 2nd Last Episode (Part - 4)
Meri Hayat By Zarish Hussain
اپنے اندر بلا کا سحر سموئے ہوئے وہ ایک جیتی جاگتی
قیامت تھی۔۔۔ اسکا حسن اتنا فسوں خیز تھا کہ وہ جو
اس سے بے نیاز بنا رہنے لگا تھا اس پل جیسے ساری بے نیازی ہوا ہو گئی تھی۔۔۔ حسن کی تابناکی کے آگے ٹھہر نہیں پائی۔نگاہ اسکے چہرے کی جکڑ لینے والی ملائمت اور سحر انگریزی میں اٹک گئی تھی ۔۔۔۔۔ دوسری طرف وہ اسکی محویت پر یکلخت سرخ پڑتی چلی گئی۔۔رگے و پے میں عجیب سی سنسنی پھیلنے لگی۔لمحہ بھر کو پلکیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔ پھر جھینپ کر فوراً جھکا لیں تھیں۔اسکی نظروں کا اٹھنا اور پھر ٹھہر جانا محسوس کر کے حیات عبدالرحمان کے رخسار گلابی ہو کر دہکنے لگے تھے۔ماحر تو جیسے ان لمحوں کی گرفت میں جکڑا گیا تھا۔۔۔۔
شرم و حیا اور گریز کا ایسا،خوبصورت کمبینیشن شائد ہی پہلے اسکی نظروں سے گزرا ہو۔۔۔۔ اسی لئیے وہ اپنی نظروں اور قدموں پر اختیار کھو بیٹھا۔۔۔ اس سے پہلے
وہ اسکے قریب جاتا جو چند فٹ کے فاصلے پر شرمائی گھبرائی سی رخ موڑے کھڑی اپنے بال سلجھا رہی تھی
اور کوئی گستاخی سر زد ہوتی اس سے۔معا”وہ سنبھلا۔سرعت سے اپنی بےاختیاری کیفیت کو کنٹرول کیا۔آئینے میں نظر آتے اسکے چہرے پر شرم و حجاب کے رنگوں نے اسے چونکایا ہی نہیں بلکہ حیران بھی کیا۔۔ کیونکہ آج سے پہلے اپنی چاہت سے لبریز نگاہوں کے جواب میں ہمیشہ اسکے چہرے پر ناگواری و بے زاری ہی دیکھی۔۔مگر اب اچانک وہ اس سے شرمانے کیسے لگی یہ سوال
اسے حیران ہونے کے ساتھ کنفیوژ بھی کر رہا تھا۔اس نے دھیان سے اور قدرے گہرائی سے اسکے تاثرات کا ازسر نو جائزہ لیا۔۔۔واقعی اسکے چہرے پر ناگواری کے بجائے
شرم و حیا کے انوکھے رنگ بکھرے ہوئے تھے سرشاری
و طمانیت کے ساتھ جھینپ لیا ہوا انداز تھا اسکا۔۔۔۔یہ بدلاؤ کب آیا اسمیں۔۔۔ اس نے خاموشی سے اس بات پر غور کیا۔۔۔کیا وہ اپنے اور اسکے رشتے کو قبول کر چکی تھی؟اس خیال نے ایک لمحے کیلئے اسے سرشار کیا مگر جلد ہی اس خیال کو اس نے جھٹک بھی دیا۔۔۔۔ کیونکہ اب وہ خوش گمانی میں مبتلا نہیں ہونا چاہتا تھا۔۔کیا پتہ یہ صرف وقتی کیفیت ہو اسکے دل میں اس کیلئے گنجائش پیدا ہوئی ہی نا ہو۔۔۔۔ اسکے محبت سے بڑھے ہوئے ہاتھ کو پھر نفرت سے جھٹک دے تذلیل کے اسی خوف نے اسکے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک دیا۔۔۔اسکی
طرف سے اپنا رخ موڑ کر اسے اگنور کرتے ہوئے وہ سیل
فون پر خود کو مصروف ظاہر کرنے لگا جبکہ دھیان بنا
دیکھے بھی اسی کی طرف ہی لگا ہوا تھا جو اپنے بال باندھ رہی تھی۔۔
“آپ تیار ہیں تو چلیں۔۔؟؟ جب وہ تیار ہو چکی تھی تو
ایک سرسری نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے اس نے پوچھا۔لہجہ رکھائی و سرد مہری لئیے ہوئے تھا جسکو محسوس کر
کے حیات کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔۔ چپ چاپ اسکی تقلید میں وہ ہوٹل سے باہر آ گئی۔۔۔۔۔ جہاں ایک شخص گاڑی لئیے انکا منتظر کھڑا تھا۔۔جو کہ شائد ڈرائیور تھا شکل سے ایشیائی لگ رہا تھا انتہائی مؤدبانہ انداز میں پہلے انہیں سلام کیا پھر ان کیلئے گاڑی کے پچھلے ڈور کھولے۔۔سارے راستے انکے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی
وہ اپنے سیل فون پر مصروف رہا کبھی کبھی ایک نظر ونڈو سے باہر کے مناظر پر بھی ڈال لیتا تھا۔۔ اسکی بے نیازی پر دکھی ہوتے دل۔۔ اور سپاٹ چہرے کیساتھ وہ
کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔۔آدھے گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد گاڑی سڑک کنارے رک گئی تھی۔۔۔۔۔ جسکے ایک طرف جھیل اور دوسری طرف بہت بڑا جنگل نظر آ رہا تھا۔وہ اسکے ساتھ نیچے اتر آئی تھی اور دلچسپی سے وہاں بکھری ہریالی دیکھنے لگی۔۔پہلے والی اداسی ایک
دم سے ختم ہو گئی تھی۔قدرتی مناظر اسے ہمیشہ سے اتنا اٹریکٹ کرتے تھے کہ وہ ساری چیزیں اپنے ذہن سے جھٹک کر ان میں کھو جاتی تھی۔۔اب بھی ایسا ہی ہوا
وہ جو کچھ دیر پہلے تک اسکے لاتعلق اور روکھے انداز پر اداس ہو رہی تھی خوبصورت جھیل اسکے اردگرد بکھرا سبزہ دیکھ کر خوش ہو گئی۔۔۔۔
آرلینڈو ایک شہر کے بجائے ایک وسیع ہموار کنیوس لگ
رہا تھا۔۔ وسیع علاقے پر پھیلا خوش نظر خاموش شہر۔
جھیلوں جنگلوں مگر مچھوں کا شہر جس پر سینکڑوں جھیلوں کی نیلاہٹ۔۔جنگلوں کی خوبصورت ہریالی اور خوابناک سے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔۔ ۔بڑی پرسکون اور قدرتی نظاروں سے مالا مال جگہ تھی۔۔ وہ محسور سی ان نظاروں کی خوبصورتی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ ماحول کی خوبصورتی نے جیسے اسے جکڑ لیا تھا۔۔۔۔ جنگل کے قریب واقع ایک جھیل کے کنارے انکا سیٹ لگا ہوا تھا۔۔فلم کی پوری ٹیم جن میں بیس سے پچیس لوگ شامل تھے وہاں موجود تھی تین عورتوں کے علاؤہ باقی سب
مرد تھے۔۔عورتوں میں ایک فلم کی ہیروئن رباب علوی
تھی دوسری میک اپ آرٹسٹ کی اسسٹنٹ روبی۔۔ اور ایک کوریوگرافر شہناز تھی جو کہ پکی عمر کی عورت تھی۔۔ماحر کی وجہ سے پوری ٹیم اسے میم میم کہہ کر خصوصی اہمیت دے رہی تھی۔۔ رباب علوی کو دیکھ کر اسکا موڈ نا صرف آف ہوا بلکہ دل بھی بوجھل ہو گیا اگرچہ وہ خاصی خوش اخلاقی سے ملنے کیلئے اسکے پاس آئی مگر حیات نے جواباً کسی خوش اخلاقی کا مظاہرہ نہیں کیا۔۔۔۔ کرتی بھی کیسے یہ عورت تو اسکے شوہر کیساتھ افئیر چلا رہی تھی اسے اپنی طرف مائل کر کے اس سے دور کر رہی تھی۔۔اسکے ساتھ کھڑی جب
وہ کوئی سین ڈسکس کر رہی تھی تو کچھ فاصلے پر کھڑی حیات کا دل چاہ رہا تھا کہ اس عورت کو اٹھا کر
جھیل میں پھینک دے۔۔۔ یا یہاں سے کسی طرح غائب کر دے۔۔ وہ اپنے اندر شدید قسم کی جلن محسوس کر رہی تھی۔ان دونوں پر ایک سخت قسم کی گھوری ڈال کر وہ جلے بھنے انداز میں ان سے فاصلے پر جھیل کے بالکل کنارے جا کھڑی ہوئی۔۔ابھی اسے کھڑے ہوئے پانچ منٹ ہوئے تھے کہ اسکی ٹیم کا ایک کم عمر لڑکا اسکے پاس آیا اور ماحر کا پیغام دیا۔۔۔۔۔ میم سر کہہ رہے تھے جھیل میں خطرناک قسم کے مگر مچھ پائے جاتے ہیں اس لئیے آپ کنارے سے ذرا ہٹ کر کھڑی ہوئیے کیونکہ ہر تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ جھیل سے باہر آتے ہیں۔وہ لڑکا اسکا حکم سنا کر چلا گیا مگر حیات کا کوئی ارادہ نہیں تھا اسکا حکم ماننے کا اسلئیے وہ اپنی جگہ جمی کھڑی رہی اور پانی میں غور سے دیکھتی رہی کہ آیا کوئی مگر مچھ نظر آتا ہے یا نہیں۔۔ جھیل کا پانی نیلا نہیں تھا بلکہ نچڑی ہوئی سبز رنگت کا حامل پانی تھا جیسے پورے جنگل کا رس نچوڑ کر پانی میں ڈال دیا گیا۔۔۔۔ہو اسی لمحے پانی میں زور سے چھپاک کی آواز سنائی دی۔۔وہ چونک پڑی اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر پانی میں دیکھنے لگی جہاں گول گول دائروں کی شکل میں پانی حرکت کر رہا تھا۔۔۔۔ وہ خوفزدہ ہوئے بنا مگر مچھ دیکھنے کی خواہش میں جھیل کے قریب کھڑی پانی پر نگاہیں جمائے کسی ٹھہرے ہوئے فطری منظر کی مانند حسین و دلکش اور سحر انگیز لگ رہی تھی رباب علوی کساتھ شاٹ دینے کیلئے ریہرسل کرتے ماحر کا دھیان مسلسل اسی کیطرف تھا۔۔کیونکہ ایک تو وہ سیٹ سے کافی فاصلے پر اور جھیل کے بالکل قریب کھڑی تھی جہاں مگر مچھوں اور سانپوں کے ہونے کا امکان تھا۔۔ دوسرا قریب ہی آرلینڈو کا بہت بڑا اور گھنا جنگل تھا جہاں خطرناک درندوں اور درجنوں اقسام کے سانپوں کا بسیرا تھا۔۔اگرچہ اسطرح کے خطرے سے نمٹنے کیلئے وہ آرلینڈو کے کچھ مقامی فائٹرز کو ساتھ لائے تھے جو ان گھنے جنگلوں میں بسنے والے درندوں کی جان لئیے بنا ان سے اپنے طریقے سے نمٹتے تھے۔۔۔۔ ان جنگلوں کی دلدلوں اور جا بجا پھیلے جوہڑوں میں بھی مگر مچھ رہتے تھے ان میں کئی تو انسانوں پر اٹیک بھی کر دیتے تھے۔۔۔ وہ آرلینڈو بارہا آ چکا تھا سو یہاں کے بارے میں مکمل نالج رکھتا تھا۔حیات کی طرف سے اسے بے چینی ہو رہی تھی وہ ضدی لڑکی اسکے منع کرنے کے باوجود بھی جھیل کے کنارے بڑے مزے سے ایک پتھر پر بیٹھی تھی۔ٹیم کے اتنے مردوں کی وجہ سے وہ اسے اپنے پاس بھی نہیں رکھ پا رہا تھا جو خواتین ٹیم میں تھیں وہ
چونکہ شوبز سے وابستہ تھیں۔۔ سو بڑے آرام سے انکے درمیان گھوم پھر رہی تھیں۔۔ جبکہ حیات کی نیچر کو وہ اچھے سے جانتا تھا وہ ایک شرم و حیا رکھنے والی لڑکی تھی۔اتنے مردوں میں کمفرٹیبل فیل نا کرتی۔۔اسی وجہ سے ہی تو وہ انکے سیٹ کے قریب بھی نا پھٹکی دور دور ہی رہی۔۔۔ریہرسل کیوجہ سے وہ خود بھی اس کے پاس نہیں جا سکتا تھا۔ کچھ سوچ کر اس نے میک اپ آرٹسٹ کی اسسٹنٹ روبی کو بلایا۔۔۔
“مس روبی میری مسز کے پاس چلی جائیں انہیں کہیں کہ وہ گاڑی میں جا کر بیٹھ جائیں اور دروازے بھی لاک کر لیں اور شیشوں میں سے باہر کا نظارہ کریں۔۔۔۔
اوکے سر۔۔وہ سر ہلاتی چلی گئی۔۔وہ وہیں کھڑا دیکھتا
رہا کہ آیا اس بار بات مانتی ہے یا پھر ضد دکھاتی ہے۔۔۔
جھیل کنارے ایک پتھر پر بیٹھی حیات تک جب اسکا پیغام پہنچا تو وہ جو ماحول اور اسکی خوبصورتی کو پوری طرح سے انجوائے کر رہی تھی جھنجھلا اٹھی۔۔۔
کیوں کس لئیے گاڑی میں جا کر بیٹھوں؟؟اس نے بگڑے
تیوروں کیساتھ پوچھا۔۔۔دل میں یہی خیال آیا کہ رباب
علوی کے ساتھ بےہودہ سینز فلمبند کرانے ہونگے اسلئیے چاہتا ہوگا کہ میں یہاں موجود نا رہوں۔۔اس نے بدگمان ہو کر سوچا تھا۔۔۔
اس کے تیور دیکھ کر روبی گھبرائی۔۔۔ پھر رسانیت سے کہنے لگی میم یہ جگہ سیو نہیں ہے۔۔۔ آپ باقی ٹیم سے کچھ فاصلے پر بیٹھی ہیں۔۔۔۔۔ ساتھ ہی جنگل ہے جہاں
خطرناک درندے پائے جاتے ہیں اور اس جھیل جس کے آپ بالکل قریب بیٹھی ہیں اسمیں بڑے بڑے مگر مچھ ہیں پھر جس جگہ آپ بیٹھی ہیں یہ سانپوں کا گڑھ ہے اس لئیے سر کو آپکی فکر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔ روبی نے ایسا خطرناک قسم کا نقشہ کھینچا کہ وہ ناچاہتے ہوئے بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ہونہہ فکر۔۔وہ بادل ناخواستہ گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔جو وہاں سے دس قدم کی دوری پر روڈ کنارے کھڑی تھی۔اسکی ہدایت کے مطابق اندر بیٹھ کر
ڈور لاک کیا اور ونڈو میں سے بے دلی سے باہر کا نظارہ کرنے لگی کیونکہ جیسے کھلی فضا میں بیٹھ کر نظارہ کرنے سے مزا آ رہا تھا ویسے ونڈو سے نظارہ کرنے میں نہیں آ رہا تھا۔۔ماحر نے اسے گاڑی میں بیٹھے دیکھا تو مطمئن ہو کر اپنے کام کیطرف متوجہ ہو گیا۔۔وہ جھیل جنگل اور ارد گرد کی ہریالی پر نظریں دوڑا رہی تھی۔۔جنگل سے پرندوں پنکھ پکھیروں کی چہکار سنائی دے رہی تھی۔وہ دلچسپی سے بار بار جنگل کی طرف دیکھ
رہی تھی یکایک اسمیں تجسس بیدار ہونے لگا وہ جنگل کے اندر جا کر جائزہ لے۔مگر کیسے وہ سوچ میں پڑ گئی
کیا اس سے جا کر اجازت لے۔۔مگر ہو سکتا ہے وہ منع کر
دے کیونکہ خود ہی تو کہلوایا ہے کہ جنگل میں خطرہ ہے پھر کیسے اجازت دے دے گا بھلا۔۔۔ وہ تجسس بھری
نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کہ اچانک سامنے جھیل سے پانی پیتے ایک طوطے پر نظر پڑی جو شائد جنگل والی سائیڈ سے آیا تھا۔۔۔ انتہائی گہرے سبز رنگ اور سرخ چونچ والا وہ کافی بڑا اور بے حد خوبصورت طوطا تھا۔۔وہ بے حد ایکسائیٹڈ ہو گئی۔۔آنکھیں ستائش و مسرت سے چمک اٹھیں۔۔طوطے اسکی کمزوری تھے۔۔۔
تمام پرندوں میں طوطے وہ واحد پرندے تھے جو اسے بچپن سے ہی جنون کی حد تک پسند تھے جب وہ ترکی میں رہتی تھی تب اسکے پاس ڈھیر سارے طوطے ہوا کرتے تھے۔پاکستان آنے کے بعد بھی اسکا یہ شوق جاری رہا۔۔۔عبدالرحمان علی نے اسے کئی بار طوطے لا کر دیے
ایک بار وہ آسڑیلیا سے لائے تھے اور باقی مرتبہ انہوں نے پاکستان کے ہی مختلف شہروں سے منگوا کر دیے۔۔
ان میں سے کچھ تو طبعی موت مر گئے اور کچھ بلیوں کے ہتھے چڑھے تھے۔۔۔۔ چند سال پہلے وہ اپنے اس شوق سے اسلئیے دستبردار ہو گئی تھی جب اسے یہ احساس ہوا کہ پنچھیوں کو قید کرنا گناہ ہے۔۔۔۔ لیکن اب سامنے موجود طوطے کو دیکھ کر وہ بری طرح مچل گئی اسے حاصل کرنے کو بے قرار ہو گئی۔۔۔۔۔۔ کیونکہ آرلینڈو کے جنگل کا یہ طوطا بہت ہی خوش رنگ اور پیارا تھا۔وہ
ہر قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہتی تھی اس لئیے ماحر کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ گاڑی سے اتر آئی جنگلی گھاس پر بیٹھا وہ بڑا پیارا لگ رہا تھا۔۔۔۔ اس نے نے آہستہ آہستہ طوطے کی طرف قدم بڑھانے شروع کر دیے وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسکے قدموں کی آہٹ پا کر
اڑ جائے وہ اسے اڑنے نہیں دینا چاہتی تھی تبھی بے حد
آہستگی و احتیاط سے اسکے قریب آنے لگی لیکن پھر بھی گھاس پر پڑے خشک پتوں کیوجہ سے تھوڑا بہت شور پیدا ہو رہا تھا۔اسکے قریب پہنچ کر پرجوش انداز میں دھڑکتے دل کیساتھ اسکی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ وہ اسکے ہاتھ سے نکل گیا۔ہلکا سا جمپ لگا کر تھوڑا آگے جا بیٹھا۔۔۔۔۔ حیات کو افسوس ہوا مگر اس نے ہمت
نہیں ہاری اور پھر سے دھیرے دھیرے آگے بڑھی۔۔۔ مگر
عجیب چالاک طوطا تھا۔جیسے ہی اسکے قریب پہنچ کر
وہ اسکی طرف ہاتھ بڑھاتی طوطا جمپ لگا کر آگے کو چلا جاتا۔۔۔ حیران کن بات یہ تھی کہ وہ اڑ نہیں رہا تھا
بلکہ ہلکے ہلکے جمپ لگا رہا تھا۔۔۔اگر وہ جمپ لگانے کے بجائے اڑ جاتا تو حیات لازماً مایوس ہو کر واپس پلٹ جاتی۔۔۔ مگر وہ وہیں موجود رہ کر اسکے شوق کو مزید بھڑکا۔وہ بری طرح مچلتی ایکسائیٹڈ سی اسکے پیچھے چلی جا رہی تھی۔۔۔ یونہی کرتے کرتے طوطا جنگل میں داخل ہو گیا۔۔۔۔ وہ بھی بنا ڈرے اسکے پیچھے اس گھنے جنگل میں داخل ہو گئی۔طوطا ہنوز آگے آگے چلتا جا رہا تھا وہ بھی سمت کا تعین کیے بغیر اسکے پیچھے کبھی دائیں سے بائیں تو کبھی بائیں سے دائیں چلتی جا رہی تھی۔ چلتے چلتے وہ طوطا اسے اپنے پیچھے جنگل میں کافی دور لے آیا۔۔۔۔۔ ایک درخت کی نچلی ٹہنی پر بیٹھا جب وہ اسکی طرف دیکھ رہا تھا تب حیات نے دل میں دعا مانگتے سانس روک کر آہستگی سے ہاتھ بڑھایا کہ
یا اللّٰہ اب کی بار ہاتھ آ جائے مگر اس بار طوطا جمپ لگا کر آگے بڑھ جانے کے بجائے پر پھیلاتا اوپر کی طرف اڑتا چلا گیا جبکہ وہ صدمے سے دیکھتی رہ گئی۔۔۔چند سیکنڈز میں ہی وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔۔۔ طوطے
کے نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہی اسے بھی ہوش آیا کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔۔ گھنے درخت۔۔۔ پورے جنگل میں چھایا ہولناک سناٹا۔۔۔۔۔۔ جسمیں کبھی کبھی اسنائی دیتیں جھینگروں سانپوں ناجانے کن کن جنگلی جانوروں کی آوازیں۔۔۔۔۔ طوطے کا خیال ذہن سے ہٹا تو جنگل کی خوفناکی کا احساس حواسوں پر غالب آ گیا۔
وہ وحشت بھری نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔ جنگل بہت بڑا۔۔۔ بہت گھنا تھا لہذا جنگلی جانوروں کے پائے جانے کا امکان تو یقینی تھا پھر ماحر کی ٹیم ممبر روبی نے بھی تو اسے کہا تھا کہ یہاں خطرناک درندے ہیں۔۔۔۔۔ اب ایسے میں اگر کسی طرف سے کوئی جنگلی جانور نکل آیا تو وہ کیا کرے گی۔۔۔ ماحر اور اسکی ٹیم
تک تو شائد اسکی آواز بھی نا پہنچ پائے جنگلی جانور تو آسانی سے اسے چیر پھاڑ کر کھا جائے گا۔۔۔ اس خیال
نے اسے سخت دہشت زدہ کر دیا تھا خوف سے لرزتی وہ واپسی کیلئے پلٹ کر بھاگی مگر یہ بھول گئی کہ جس طوطے کیلئے وہ یہاں تک آئی تھی وہ طوطا اسے اپنے
پیچھے بالکل سیدھ میں چلاتا ہوا نہیں لایا تھا جو اب وہ پیچھے کیطرف بالکل سیدھی ڈائریکشن میں دوڑتی
چلی جا رہی تھی یہی تو غلطی سرزد ہوئی اس سے۔۔۔بنا راستے کا تعین کیے وہ یہاں تک آ گئی۔۔۔۔۔اور پھر بنا تعین کیے واپسی کیلئے بھی اندھا دھند بھاگ رہی تھی۔خوف نے اسے جتنا تیز دوڑایا وہ دوڑی مگر جنگل سے باہر آنے کے بجائے اس نے اپنے آپ کو جنگل ہی کے کسی اور حصے میں ہی پایا۔اب تو اسکے ہاتھ پیر چھوٹ گئے
خوف سے دل بند ہونے لگا۔۔۔۔اونچی آواز میں بری طرح روتے ہوئے آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی۔۔۔۔زندگی میں پہلی بار اس نے شدت سے خواہش کی کہ کاش اسوقت وہ شخص اس تک اڑ کر پہنچ جائے۔۔۔ اسے اپنی پناہوں میں لے۔۔۔ زارو قطار روتے وہ اسی کے آنے کی دعا مانگ رہی تھی۔۔۔ واپسی کا راستہ ڈھونڈھنے کے چکر میں وہ بھٹک کر کہیں سے کہیں آ پہنچی تھی۔جس حصے میں وہ اب موجود تھی یہ جنگل کا خاصا گھنا حصہ تھا۔۔۔قدم قدم پر رکاوٹیں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔زمین پر جنگلی بیلیں بار بار اسکے قدموں سے لپٹ جاتیں کئی بار وہ ان میں الجھ کر گری۔۔۔گھنے درختوں کی وجہ سے روشنی کا گزر بھی بہت کم ہو رہا تھا۔نیم اندھیرے میں قدم اٹھاتی اونچی آواز میں روتی ایک سمت بڑھتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔ کہ یکدم ہی زمین نے اسکے پاؤں جکڑ لئیے۔۔۔ اسے محسوس ہوا جیسے اسکے پاؤں نرم زمین میں دھنستے جا رہے تھے۔۔ وہ دلدل تھی
اس انکشاف نے اسکے اوسان خطا کر دئیے۔۔مارے خوف کے اسکا سانس تک رکنے لگا۔زمین اسکے وجود کو نگلنے کے درپے تھی۔۔ایک زندہ قبر کے تصور نے اسکے ہوش اڑا دیے۔۔۔ وہ جتنے اونچی آواز میں چیخ سکتی تھی چیخ رہی تھی۔جس شخص کا نام اس نے کبھی زبان پر نہیں آنے دیا تھا اسوقت زبان پر صرف اسی کا نام تھا۔۔۔۔ اس زندہ قبر میں وہ کسی بھی قیمت پر نہیں اترنا چاہتی تھی۔ہر حال میں خود کو بچانا چاہتی تھی۔۔۔ مدد کیلئے ادھر ادھر ہاتھ مارتے اسکے ہاتھ میں ایک موٹی ٹہنی یا موٹی رسی آ گئی جو کہ ایک درخت سے لٹک رہی تھی۔ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق اس نے اس رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔۔۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ وہ جو بھی تھی ٹہنی یا رسی بہت چکنی تھی۔۔ بار بار اسکے ہاتھ سے پھسل پھسل جاتی۔۔۔ مگر وہ زندگی کی آخری سانس تک جدو جہد کرنا چاہتی تھی۔اسلیئے بھر پور کوشش کر کے اسے ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دے رہی تھی۔پھر اچانک ہی اس پر انکشاف ہوا جسکو وہ رسی
یا ٹہنی سمجھ کر پکڑے ہوئے ہے وہ درحقیقت ایک لمبا سانپ ہے۔۔اس حقیقت کا ادراک ہوتے ہی اسکے حلق سے دہشت ناک چیخیں برآمد ہونے لگیں اور اس نے سانپ کو چھوڑ دیا۔۔ سہارا چھوٹ گیا تو وہ ہوئی مزید نیچے دھنسنے لگی۔۔۔موت کو بالکل قریب پا کر اسکی آنکھیں
اور حلق خوف و دہشت اور بے بسی سے پھٹ گیا تھا۔۔ اس سے پہلے وہ دلدل میں زندہ اتر جاتی ایک شکنجہ
نما رسا فضا میں اڑتا ہوا آیا اور اسکی کمر کے گرد لپٹ گیا۔موت کی سی زردی چھائے ہوئے چہرے اور خوف و حراس سے پھٹی آنکھوں کیساتھ اس نے زندگی کی نوید دینے والے کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ ایک نہیں دو تھے۔۔ لمبا سا چغہ پہنے وہ کوئی سیاہ فام تھے جو کہ اسکی کمر کے گرد لپٹے رسے کے دونوں سرے اپنے اپنے ہاتھوں میں تھامے اسے باہر کی طرف کھینچ رہے تھے۔۔۔ اور ساتھ ہی چیخ کر عجیب و غریب زبان میں کچھ کہہ بھی رہے تھے۔۔۔ جسے وہ سمجھ تو نہیں پائی۔۔مگر اپنی کمر کے گرد لپٹے رسے کو اس نے دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑ لیا۔۔۔ وہ سیاہ فام تنومند تھے سو دس منٹ کی تھکا دینے والی کوشش۔۔ کے بعد اسے دلدل سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔۔ زمین پر بیٹھی وہ اپنے بچ جانے پر سکتہ زدہ تھی ۔۔۔۔ موت کو اتنے قریب سے دیکھنے کے اس بھیانک تجربے نے اسکے اعصاب کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔۔ان سیاہ
فاموں کی طرف دیکھنے کا اسے ہوش بھی نہیں تھا۔۔۔
پھر ہوش تب آیا۔۔۔۔ جب دونوں نے اسکے دونوں بازوؤں
کو پکڑا اور اپنی اپنی طرف کھینچنے لگے۔ساتھ ہی وہ اونچی آواز میں ایک دوسرے سے اپنی زبان میں کچھ کہہ رہے تھے۔۔انکے چہروں کے تاثرات اور چلانے سے وہ
سمجھ گئی کہ دونوں اسکو لے کر ہی جھگڑ رہے تھے۔۔۔لیکن جھگڑ کس لئیے رہے تھے یہ بات اسے اسوقت تو سمجھ نہیں آئی مگر جب ایک سیاہ فام نے اسے مکمل
طور پر اپنی گرفت میں لے کر جس انداز میں اس کو چھوا حیات کے وجود سے تو گویا جان ہی نکلنے لگی۔ان دونوں سیاہ فاموں کی آنکھوں میں چھائی ہوس اسے صاف دکھائی دینے لگی۔۔ان لوگوں نے انسانیت کے
نام پہ اسے موت کے منہ سے نہیں نکالا تھا۔۔۔کچھ دیر قبل جو دلدل میں دفن ہونے کی دہشت سے چیخ رہی
تھی اب اپنی عزت لٹنے کے خوف سے چیخ رہی تھی۔وہ دونوں سیاہ فام کسی اسے کسی کھلونے کی مانند ایک دوسرے سے جھپٹ رہے تھے۔۔۔۔۔ اسی کھینچا تانی میں اسکے کپڑے کندھوں اور بازوؤں سے پھٹ چکے تھے۔۔۔ڈوپٹہ اور جوتی تو کب کی کہیں گر چکی تھی۔۔جنگلی بیلوں نوکیلی ٹہنیوں اور پتھریلی زمین پر ان دونوں کی اٹخ پٹخ نے اسے بری طرح زخمی کر دیا تھا۔
جب پہلے سیاہ فام نے دوسرے سیاہ فام کو مکا مار کر اسے اسکی گرفت سے نکال کر اپنی گندی خواہش کی تکمیل کیلئے حیات کو بے دردی سے پتھریلی زمین پر پٹخا تو اسکی نگاہوں میں زمین و آسمان گھوم گئے۔
جسم کی ہڈیاں تک چٹخ گئیں۔۔ اسے اپنی بربادی بالکل سامنے نظر آنے لگی بے اختیار اسکے لبوں سے چیخیں برآمد ہوئیں۔۔۔ ان ناپاک وحشیوں کی ہوس کی بھینٹ چڑھنے کے خیال سے وہ حواس کھونے لگی۔۔۔ سیاہ فام کی بدبودار قربت سے اسکا دم گھٹنے لگا تھا۔۔۔۔۔ اسکی مزاحمت دم توڑ چکی تھی اس سے پہلے گھٹ گھٹ کر
نکلتی اسکی سانس رکتیں مکا کھانے والے سیاہ فام نے
انتہائی غصے سے دوسرے سیاہ فام کو کھینچ کر اس نے ہٹایا اور اسے گھونسوں اور لاتوں کی زد پر رکھ لیا
دوسرا بھی کچھ کم نہیں تھا وہ دونوں جنگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے جبکہ وہ خوف سے
ساکت انہیں دیکھ رہی تھی وہ اس حد تک ٹوٹ پھوٹ
کا شکار ہو چکی تھی کہ اسمیں اتنی ہمت نہیں تھی کہ انکی لڑائی کا فائدہ اٹھا کر وہاں سے بھاگ اٹھے۔اچانک
اس نے ایک ناقابل یقین منظر دیکھا۔۔۔۔ وہ دونوں سیاہ فام لڑتے لڑتے اسی دلدل میں جا گرے جسمیں کچھ دیر
قبل وہ تھی جہاں سے ان دونوں نے اسے نکالا تھا۔۔۔۔حیات پھٹی پھٹی آنکھوں سے قدرت کے اس کھیل کو دیکھ رہی تھی۔دونوں سیاہ فام لڑنا بھول کر اپنی اپنی جان بچانے کیلئے ادھر ادھر ہاتھ مار رہے تھے۔حیات کے
دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں سر تک دلدل میں دھنس گئے کچھ دیر میں انکا نام و نشان تک باقی نا رہا۔خوف سے سفید چہرہ لئیے وہ زمین پر اکڑوں بیٹھی تھی۔۔۔دو زندہ انسانوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے زمین میں دفن ہونے کے ہولناک منظر نے اسکے وجود اور حواسوں کو منجمد کر دیا تھا۔۔۔۔۔ ناجانے کتنی دیر تک وہ ساکت
بیٹھی اس بے رحم دلدل کو دیکھتی رہی۔۔اگر وہ دلدل
ان دونوں کو نا نگلتی تو وہ وحشی اب تک حیات کو
نگل چکے ہوتے۔اسے وہاں ساکت بیٹھے کافی وقت بیت
گیا تھا آہستہ آہستہ اسکے اکڑے ہوئے وجود میں جنبش ہوئی۔بڑی مشکل سے زمین پر قدم جما کر اس نے اپنے
وجود کو سہارا دیا۔چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ ننگے
پیر ایک طرف چلنے لگی کئی بار پیروں میں کانٹے لگے
اسکی سسکاریاں نکلنے لگتیں۔۔۔ یونہی چلتے چلتے وہ
جنگل بیلوں میں الجھ کر سخت زمین پر گری تو اپنی
بے بسی پر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔۔۔جسم میں درد کی یورش بڑھتی جا رہی تھی۔ہاتھوں کے بل نیچے پڑی وہ سسک رہی تھی جب اسکے کانوں نے ایک جانی پہچانی آواز سنی۔اس نے تڑپ کر سر اٹھایا۔۔وہ اسے جواب دینا چاہتی تھی پکارنا چاہتی تھی مگر آواز اسکے حلق میں
ہی اٹک گئی تھی آنکھوں کے آگے آنسوؤں کی چادر تن
گئی تھی۔۔ادھر ادھر دیکھتا اسے آوازیں دیتا ماحر بھی اسی طرف آ نکلا۔۔اگلے ہی لمحے اسکی نظر حیات پر پڑ چکی تھی بجلی کی سی تیزی سے وہ اسکی طرف بڑھا
تھا۔وہ تڑپ کر اسکی بانہوں میں جا سمائی تھی۔۔اگلے ہی پل اس سے لپٹی وہ زارو قطار رو رہی تھی۔۔وہ جو
اسکے یوں کھو جانے پر پہلے ہی اتنا خاک ہو کر رہ گیا
تھا۔اسکے اسطرح بکھرنے پر خود بھی بکھر گیا۔ساکت
و جامد پہلی بار وہ حیات کو اتنی شدت سے اپنے گلے
لگ کر روتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔اسکی ٹیم کے کچھ لوگ
بھی اسکے ساتھ تھے جو کچھ فاصلے پر انکے پیچھے
چپ چاپ کھڑے تھے۔۔وہ کسی کی پروا کیے بغیر اسے خود میں بھینچے اسکے سر پر بوسے دے رہا تھا۔کافی
دیر بعد جب اسکے رونے میں کمی آئی اور وہاں کھڑے
اسکی ٹیم کے دوسرے مردوں کا خیال آیا تو بے پردگی کے احساس سے وہ کٹنے لگی۔۔۔ اور اسکے گلے سے لگی
وہ اسکی جیکٹ کے اندر گھسنے کی کوشش کرنے لگی
وہ بھی شائد اسکا مسئلہ سمجھ گیا تھا تبھی رخ موڑ
کر قدرے سخت لہجے میں اس نے اپنی ٹیم کے لوگوں کو واپس چلنے کا حکم دیا۔۔ انکے جاتے ہی اس نے گلے
سے لگی حیات کو خود سے الگ کیا اور،اپنی جیکٹ اتار کر اسکو پہنا دی۔۔۔اس کا کندھوں اور بازوؤں سے برہنہ ہوتا وجود لیدر کی اس لانگ جیکٹ میں مکمل طور پر چھپ گیا تھا۔وہ چلنے کی پوزیشن میں نہیں تھی ماحر نے جھک کر دیکھا۔۔ اسکے نرم و نازک سپید پاؤں کانٹے لگنے سے زخمی ہو چکے تھے۔خوبصورت چہرہ خراشوں سے پر تھا۔اسکا دل کٹ کر رہ گیا۔اس نے انتہائی نرمی
و محبت سے اسے اپنے مضبوط و توانا بازوؤں میں اٹھا لیا۔حیات نے چپ چاپ اپنا منہ اسکے کشادہ سینے میں چھپا کر آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔ ناجانے کتنی دیر وہ اسے
بازوؤں میں اٹھائے گھنے جنگل میں چلتا رہا۔۔۔ اس نے تب آنکھیں کھولیں جب وہ اسے گاڑی کی بیک سیٹ پر لٹا رہا تھا۔ہوٹل لیجانے کے بجائے وہ اسے ہاسپٹل لے گیا تھا۔۔جو کہ آرلینڈو کا بہترین اور جدید ہاسپٹل تھا۔اس کے زخموں پر ڈریسنگ کی گئی ساتھ ہی پین کلرز بھی دی گئیں۔مرہم پٹی کروانے کے بعد جب وہ اسکے ساتھ واپس ہوٹل آئی تو تھک کر نڈھال ہو رہی تھی۔۔حالانکہ ماحر نے ایک قدم بھی اسے زمین پر نہیں رکھنے دیا تھا مگر ذہنی توڑ پھوڑ اتنی شدید تھی وہ بمشکل برداشت کر رہی تھی۔۔۔ ماحر کیلئے بھی یہ لمحات بڑے کٹھن و صبر آزما تھے جب پورے جسم میں اٹھنے والی تکلیف
سے بے حال وہ کھانے پینے سے قاصر تھی۔ اور مسلسل روئے جا رہی تھی۔اس نے زبردستی اسکے منہ میں چند
چمچ سوپ کے ڈالے تھے۔۔۔۔ اسکا گلاب کی مانند دکھنے والا چہرہ خراشوں اور زخموں کیوجہ سے کچھ حد تک سوج گیا تھا۔جا بجا سرخ و نیلے نشان تھے۔ماحر نے درد
کی گولی اسے کھلا دی تھی تو کچھ ہی دیر میں وہ بے
خبر سو گئی۔۔۔اسکے سونے کے بعد اسکے پاس بیٹھا وہ
خاصی دیر تک گم صُم اسے دیکھتا رہا۔۔کیسی کایا پلٹی
تھی کل تک اس سے متنفر ہونیوالی آج اسکے سینے سے
الگ ہی نہیں ہو رہی تھی۔جتنی دیر وہ سوئی رہی اس
کے سرہانے بیٹھا وہ اسے دیکھتا رہا۔حیات کی گمشدگی کی وجہ سے شوٹنگ بیچ میں ہی رہ گئی تھی۔دوسرے دن بھی اس نے ڈائریکٹر کو شوٹنگ کینسل کرنے کو کہا
کیونکہ حیات نے آنسو بہاتے ہوئے اسے کہا تھا وہ اسکو ہوٹل میں اکیلا چھوڑ کر نا جائے اسکی حالت کے پیش نظر وہ اسے ساتھ بھی نہیں لے جا سکتا تھا۔۔ سارا دن وہ اسکے پاس رہا ایک پل کیلئے بھی روم سے باہر نہیں نکلا۔۔حیات کی گم صُم کیفیت اور کبھی اچانک رو پڑنا
وہ اضطراب میں مبتلا تھا۔۔وہ پوچھتا کیا اسے تکلیف
ہو رہی ہے تو نفی میں سر ہلاتے،روتے ہوئے اسکی بس ایک ہی رٹ تھی کہ گھر چلیں۔۔مگر وہ اسکو اس حالت میں گھر نہیں لے جا سکتا تھا۔ اوپر سے شوٹنگ بھی ان
کمپلیٹ تھی۔۔۔ اگر وہ ایسے چلا جاتا تو ڈائریکٹر واجد علی کا بہت نقصان ہوتا۔تبھی وہ نرمی سے اسے منا رہا
تھا کہ جب تک اسکے چہرے اور ہاتھوں پیروں کے زخم ٹھیک نہیں ہو جاتے تب تک وہ یہیں رک جاتے ہیں اور
وہ اسے بالکل اکیلا نہیں چھوڑے گا بادل ناخواستہ وہ
مان گئی تھی تیسرے دن وہ چلنے لگی تو وہ اسے اپنے
ساتھ ہی شوٹنگ پر لے گیا۔شوٹنگ اسی جگہ پر ہی تھی
تمام وقت کچھ فاصلے پر وہ گاڑی میں بیٹھی رہی تھی
مگر اکیلی نہیں روبی بھی اسکے ساتھ تھی۔ اور گاڑی سے باہر ایک گارڈ بھی اسکی حفاظت کیلئے موجود رہا۔
اگلے دن بھی وہ جنگلوں کے آس پاس شوٹنگ کرتے رہے
اس دوران وہ حیات کو لمحہ بہ لمحہ خیال رکھ رہا تھا
اسے بھی اسکی توجہ اچھی لگ رہی تھی۔۔۔ اسکا خیال
رکھنا اسے مسرور کر رہا تھا۔اسکی پہلے والی اٹینشن پا
کر رباب علوی نامی وہم بھی اسکے دل سے نکلتا جا رہا تھا۔۔۔چار دن لگے تھے شوٹنگ ختم ہونے میں اور ان چار دنوں میں وہ بھی مکمل طور پر ٹھیک ہو گئی تھی۔۔۔پانچویں دن صبح کو فلم کی تمام ٹیم آرلینڈو سے نیو یارک کیلئے روانہ ہو گئی۔۔ وہاں سے انہوں نے پاکستان
کیلئے فلائٹ پکڑنی تھی۔۔۔ ماحر نے اپنے ذاتی عملے کو بھی روانہ کر دیا تھا اسکی اور حیات کی رات دو بجے کی سیٹیں تھی۔وہ دونوں ہوٹل کے روم نمبر 142 میں
موجود تھے ماحر فون پر گھر والوں سے بات کر رہا تھا
جبکہ وہ روم کے ساتھ چھوٹی سی بالکنی میں کھڑی آرلینڈو کے موسم کا نظارہ کر رہا تھی جو خوبصورت ہو چکا تھا۔۔۔آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ہوا میں ہلکی ہلکی پھوار تھی۔ماحر اس
کے پاس اپنا فون لے کر آیا تھا کہ مام ڈیڈ اس سے بات
کرنا چاہتے ہیں اس نے پندرہ منٹ تک باری باری ان سے
بات کی پھر فون اسے تھما کر بالکنی سے ہٹ آئی پانچ
منٹ بعد وہ روم میں آیا تو اس سے پوچھنے لگا لنچ کیلئے کہیں باہر چلیں۔۔۔ دن کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے
ایسےخوبصورت موسم میں باہر کہیں جانے کا سن کر
وہ دل ہی دل میں ایکسائیڈڈ ہوئی مگر اس کے سامنے ظاہر کیے بنا تابعداری سے سر ہلاتی تیار ہونے لگی جب
وہ تیار ہو کر آئی تو وہ اسے ہمیشہ کی طرح دیکھتا رہ گیا۔۔اس نے بلیک پیروں تک آتا شیفون کا لباس پہنا ہوا تھا۔۔گلے پر باریک سنہری تلے کا بے حد سٹائلش سا کام تھا۔۔دودھیا بازو بارک شیفون میں سے ایسے دمک رہے تھے جیسے سیاہ رات اچانک مشعلیں جل اٹھی ہوں۔۔۔کانوں میں پرل کے ٹاپس پہنے وہ کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔۔۔
“۔۔ماحر نے آگے بڑھ کر بھرپور استحقاق سے اسکا ہاتھ تھام کر پوچھا چلیں۔۔۔۔۔؟؟ جواب میں اس نے سر ہلایا
وہ اسی طرح اسکا ہاتھ تھامے اسے ہوٹل سے باہر لے آیا
اسکا انٹرسٹ دیکھ کر مختلف راستوں سے گزرتے ہوئے وہ ساتھ ساتھ اسے انفارمیشن بھی دیتا جا رہا تھا۔۔۔۔
یہ ڈاؤن ٹاؤن ہے۔۔وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے چند عمارتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتا رہا تھا۔دو سیٹوں والی یہ چھوٹی سی گاڑی ناجانے اس نے کہاں سے لی تھی یہ سوال کئی بار اسکے مائنڈ میں آیا تو پوچھ بیٹھی
جواب میں اس نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ اسکی اپنی
ہے یہاں ایک دوست کے پاس ہوتی ہے جب بھی یہاں
آتا ہوں اسی پر گھومتا رہتا ہوں آرلینڈو بہت حسین
شہر ہے یوں سمجھو جنگلوں جھیلوں کا شہر قدرتی
مناظر سے مالا مال اگر ہماری آج رات کی فلائٹ نا
ہوتی تو میں تمہیں پورا آرلینڈو گھماتا۔۔۔ اسپیشلی
ڈزنی لینڈ تو دیکھنے کی جگہ ہے۔۔۔۔
“تو ہم یہاں مزید رک نہیں سکتے۔۔۔آرلینڈو کی تعریفیں سن کر اسکا اشتیاق بڑھا تو اسے کہہ بیٹھی۔۔
“کیوں نہیں اگر تم آرلینڈو دیکھنے میں انڑسٹڈ ہو تم میں سیٹیس کینسل کروا دیتا ہوں۔۔۔ وہ خوشدلی سے کہہ رہا تھا۔پھر اسی وقت ہی اس نے کسی کو فون کر کے سیٹیں کینسل کرنے کو کہا تھا۔۔پورا دن جانے کہاں
کہاں وہ اسے گھماتا رہا۔ہوٹلوں۔۔ریستورانوں۔۔ عجائب گھروں۔مصنوعی اور اصلی جھیلوں شراب خانوں جوا خانوں سینما گھروں سے آباد اس آرلینڈو میں وہ شام تک گھومتے رہے۔ماحر اسے مختلف شاپنگ مالز میں لے کر گیا جہاں اسکے نا نا کرنے کے باوجود زبردستی اسے
شاپنگ کروائی۔۔۔لنچ انہوں نے ایک ریسٹورنٹ میں کیا تھا۔وہ تو رات تک اسے باہر گھمانا چاہتا تھا مگر حیات تھک گئی تھی سو وہ واپس ہوٹل چلے آئے۔۔اس دوران دونوں کے بیچ خاصی بے تکلفی بھی پیدا ہو چکی تھی
واپسی پر اسکا دماغ کچھ الجھا ہوا تھا۔وجہ تھی ایک شاپنگ مال میں چند سیکنڈ کیلئے نظر آنے والا شناسا سا چہرہ۔۔۔ جسے بھیڑ کی وجہ سے نا وہ سہی طور پر دیکھ پائی تھی اور نا بھول پا رہی تھی۔۔۔ایک عجیب احساس ہو رہا تھا جیسے وہ چہرہ اسکے بہت قریب رہا
تھا۔شائد دل کے۔۔۔ کیسا احساس تھا یہ وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔۔ تاہم اس پل ماحر کی سنگت میں وہ کوئی
اور بات نہیں سوچنا چاہتی تھی اس لئیے اس احساس و خیال اس نے اپنے ذہن سے جھٹک دیا۔آئینے کے سامنے
کھڑا بالوں میں برش کرتا ماحر آئینے میں اسے دیکھ کر
مسکرایا اور پھر بیڈ پر اسکے پاس آ بیٹھا۔۔۔
“مجھ سے دوستی کرو گی۔۔۔۔؟؟ اس نے اپنا ہاتھ اسکے آگے پھیلایا۔۔۔۔۔ آنکھوں میں امید اور لبوں پر مسکراہٹ
تھی۔۔۔ حیات جو اسکے قریب آ بیٹھنے پر ذرا سمٹ سی گئی تھی۔۔شرمگیں مسکان کیساتھ اپنا نازک ہاتھ اسکے
مضبوط ہاتھ پر رکھ دیا۔۔۔۔ماحر کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔۔
“حیا آج میں اتنا خوش ہوں کہ تمہیں بتا نہیں سکتا۔۔
آج میرا وہ سپنا پورا ہو گیا ہے جو میں شادی کے بعد بار بار دیکھا کرتا تھا یعنی تمہارا ہاتھ تھام کر گھومنا۔
اس خوف کے بغیر کہ تم میرا ہاتھ جھٹک نہیں دوگی۔
وہ اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئیے بڑی گرمجوشی اور
محبت سے بول رہا۔سرخوشی اور والہانہ پن اسکے ہر ہر
انداز سے ظاہر ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ سر جھکائے کچھ نروس سی بیٹھی تھی اسکا شرمانا اسے مزا دے رہا تھا۔ویسے
تمہاری شکل میں مغربیت کی جھلک تو ہے لیکن تمہارا
ہر ایک انداز مشرقی ہے۔۔۔۔۔۔ وہ اسکے چہرے کی طرف جھکا۔۔وہ پیچھے تو نہیں ہوئی اور نا اسے کیا مگر اپنا سانس ضرور روک لیا۔۔ جسے محسوس کر کے وہ ہنس دیا۔۔۔ سانس تو لو یار میرا رومینس کا ارادہ نہیں بلکہ
میری اوقات نہیں فلحال۔۔ کیونکہ تمہارا حق مہر بھی ادا کرنا ہے جو کہ تمہاری شرط کے مطابق میری فلمی کمائی سے نہیں ہوگا۔۔۔۔ ڈیڈ سے میں نے بات کی ہے وہ
اپنے بزنس میں سے مجھے میرا حصہ دے رہے ہیں جو
کہ کروڑوں میں ہوگا۔۔۔۔۔۔ اس سے میں اپنا کوئی بزنس
شروع کروں گا۔۔ اور پھر شائد سال بھر میں تمہارا حق
مہر ادا کرنے کے قابل ہو جاؤں۔۔۔۔ آخر کو کوئی معمولی رقم نہیں پورا پانچ سو کروڑ ہے اتنے پیسے جمع کرنے میں ٹائم تو لگے گا نا۔۔۔۔مگر تب تک تم بیوی نا سہی دوستی کے فرائض تو ادا کر سکتی ہو نا۔۔۔۔۔
وہ چھیڑنے کے انداز میں بولا۔۔۔۔۔
مجھے حق مہر نہیں چاہیے۔۔۔۔ میں نے آپ کو معاف کیا ویسے بھی عورت کا زیادہ حق مہر طلب کرنا مکروہ ہے
وہ سر جھکائے بہت آہستہ سے بولی۔۔۔۔
“رئیلی۔تم نے اپنا حق مہر معاف کیا۔۔؟ماحر نے حیرانی سے تصدیق چاہی۔۔
جواباً اس نے سر ہلایا۔وہ کچھ دیر غور سے اسے دیکھتا
رہا۔اسکے نروس انداز کو انجوائے کرتا رہا۔۔ اچھا یہ بتاؤ یہ پورا ہفتہ جو ہم یہاں گزاریں گے آرلینڈو میں اسکو ہم اپنا ہنی مون ٹرپ تصور کر سکتے ہیں۔۔؟اس نے اپنی پرکشش آنکھیں حیات عبدالرحمان کے حسین چہرے پر
جماتے ہوئے پوچھا۔۔جواباً وہ کنفیوژ ہونے لگی تھی۔اس
کا چہرہ حیا سے مزید سرخ ہو کر دہکنے لگا تھا۔۔۔زندگی جیسے تمام تر دلکشی کے ساتھ بانہیں کھولے اسے اپنی آغوش میں سمیٹنے کیلئے منتظر تھی۔۔۔۔
وہ مجسم سوال تھا۔۔اس نے کچھ کہے بنا اپنا سر اسکے شانے پر رکھ دیا۔۔چاہت بھری مخمور نگاہوں سے اسکی طرف دیکھتے ماحر کے دل میں دور دور تک محبت پھول کھل گئے۔شہزادیوں کا طمطراق اور تمکنت رکھنے والی اس لڑکی پر اسکا دل بری طرح آیا تھا۔۔۔ وہ اسکی آنکھوں کو بڑی عقیدت سے چوم رہا تھا۔۔۔۔
“ہمیں ہمیشہ وہی ملتا ہے جو ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے۔میرے لئیے اللّٰہ نے جب اسی شخص کا ہی ساتھ لکھا
ہے تو میں اس کو ٹھکرا کر کیوں اللّٰہ کی ناشکری کروں
اس نے اگر میرے لئیے اس شخص کو چنا ہے تو یقیناً یہ انسان میرے لئیے بہتر ہوگا۔۔پھر میں کیوں اپنے فرائض
سے پہلو تہی کر کے اللّٰہ اور اسکے بندوں کی نافرمان کہلاؤں۔آج میں دل سے اقرار کرتی ہوں اس شخص کا ساتھ اور اسکی محبت مجھے قبول ہے۔۔۔۔
“اپنے لئیے اسکی والہانہ اور شدید محبت کا اقرار سنتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی۔۔۔
“اللّٰہ تعالیٰ محبتوں کو کبھی رائگاں نہیں جانے دیتا۔۔
دل کے بالکل قریب موجود اس لڑکی کو اس نے کتنی
شدت سے چاہا تھا۔جو اسے مل تو گئی تھی مگر وہ پا
کر بھی اسے نہیں پا سکا تھا۔۔کتنی حسرت تھی اسکے
دل میں اترنے کی۔۔اسے چھونے کی۔۔اسے پانے کی۔۔۔۔
آج یہ ساری حسرتیں کسی خواب کی تعبیر کی صورت میں اسے مل رہی تھیں۔۔۔۔ وارفتگی اور بے خودی سے تکتے ہوئے اس نے کسی قیمتی متاع و حیات کی طرح اسے بازوؤں میں سمیٹا تھا۔۔۔۔۔۔آرلینڈو کی یہ حسین شام انکے بیچ نزدیکیاں لے آئی تھی۔۔۔۔۔۔
