Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 14)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 14)
Meri Hayat By Zarish Hussain
آج تین دن بعد عبدالرحمان صاحب کی طبیعت بہتر ہوئی تو حیات نے انہیں شروع سے لے کر اینڈ تک ساری بات بتا دی۔۔۔۔۔۔۔سوائے اسکی ٹائم گزارنے والی آفر کے۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ اتنی گھٹیا بات وہ اپنے باپ کو تو کم از
کم نہیں بتا سکتی تھی۔
آپ اتنا کچھ اکیلے سہتی رہیں اور مجھے اب بتا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔
ساری بات سننے کے بعد عبدالرحمان صاحب افسوس بھری نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے……!!
بابا آپ سائرہ ممی کی ڈیتھ کی وجہ سے پہلے ہی اتنے
ڈسٹرب تھے۔۔۔۔۔پھر آپکی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کو اپنی وجہ سے کوئی ٹینشن نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔وہ جو ساری بات بتانے کے بعد سرجھکائے بیٹھی تھی…شرمندہ سے انداز میں سر اٹھا کے ان کی طرف دیکھا اور بھیگے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔”
پھر بھی آپ کو مجھے ہر حال میں بتانا چاہیے تھا….اگر وہ آپ کو کوئی نقصان پہنچا دیتا تو۔۔۔۔مجھ پہ کیا گزرتی۔۔۔۔۔۔یہ نہیں سوچا آپ نے۔۔۔۔۔
.ماں کے بعد اولاد باپ کے ہی قریب ہوتی ہے آپ کو مجھے لازمی بتانا چاہیے تھا وہ ناراض لہجے میں کہہ رہے تھے… حیات خاموش رہی۔۔۔۔۔
اوکے اب میرے ہوتے ہوئے آپ کو ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں…..وہ شخص چاہے جتنا بڑا سپر سٹار ہو۔۔۔۔۔ جتنے اثرورسوخ والا کیوں نا ہو آپ کے بابا کے
ہوتے ہوئے وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔۔اسے پریشان دیکھ کر انکے لہجے میں ناراضگی کی جگہ اب نرمی نے لے لی۔۔۔۔۔۔
یونی جانا ہو تو فلحال میں خود ہی آپ کو پک اینڈ ڈراپ کروں گا….آپ کو اسکی دھمکیوں سے ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے…وہ اب اسے ساتھ لگائے تسلی دے رہے تھے…….!!
سمجھ گئی نا میری گڑیا….؟؟ اللّٰہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے…وہ اسکے سر پہ بوسہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے……!!
جی بابا……وہ آنسو پونچھتے ہوئے بولی
اب آپکے باقی کتنے پیپرز رہ گئے ہیں….؟؟
صرف ایک۔۔۔اور وہ کل ہے۔۔۔۔
ٹھیک ہے مکمل توجہ سے اسکی تیاری کریں…زرلٹ تو ہمیشہ کی طرح ہماری پرنسز کا اچھا آئے گا نا….وہ اسکا ذہن بٹانے کی خاطر مسکرائے۔۔۔۔۔
جی بابا…..اچھا تو آئے گا لیکن……
لیکن کیا……؟؟
میرا ایک پیپر ڈراپ ہو گیا ہے…جس دن ممی کی ڈیتھ ہوئی تھی نا اسی دن تھا….اسی لئیے نہیں گئی تھی پھر اس شخص کی دھمکیوں کی وجہ سے بھی میں ڈر گئی…. جھوٹ مکس کر کے سچ بتایا……!!
اوکے کوئی بات نہیں نہیں وہ پیپر آپ نیکسٹ سمسٹر میں دے دینا….حسب عادت وہ نارمل سے انداز میں بولے……..”
حیات نے بے اختیار سکھ کا سانس لیا اسے ڈر تھا کہ اگر اسکے پیپر ڈراپ کرنے کا بابا کو پتہ چلا تو وہ کہیں ناراض نا ہو جائیں مگر ایسا کچھ نہیں ہوا…..
بابا مجھے آپ سے ایک بات کہنی تھی…….”
جی بیٹا بولیں….وہ اپنا چشمہ اتار کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ رہے تھے…..سائرہ کی ڈیتھ کے بعد وہ اب خود کو کافی سنبھال چکے تھے سو پہلے کی طرح نارمل انداز میں باتیں کر رہے تھے……
بابا اس بار میں مام کی برسی پر انکی قبر پر جانا چاہتی ہوں …… حیات نے دلی خواہش ظاہر کی۔۔۔۔۔”
ٹھیک ہے تمہارے ایگزامز کے بعد میں تمہاری سیٹ کنفرم کرا دوں گا…… انہوں نے ہاں کی تو حیات کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔۔۔۔کئی سال ہو گئے تھے اسے
اپنی ماں کے ملک، انکے حسین شہر استنبول کو دیکھے ہوئے۔۔۔۔۔”
وہاں آپ اپنی ایسرا آنٹی اور حلوک انکل کے ہاں رہنا لاسٹ بار جب میں ترکی گیا تھا تو وہ لوگ آپ کو بہت یاد کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔”
تھینکس بابا۔۔۔۔وہ نم آنکھوں کے ساتھ مسکرائی…..
اوکے بیٹا میں ذرا ہمدانی کی طرف جا رہا ہوں۔۔۔تم
ریلیکس ہو کے اپنی سٹڈی کرو۔۔۔چوکیدار کو بھی
میں ہدایات دے دیتا ہوں جا کے۔۔۔۔۔وہ اٹھتے ہوئے بولے
بابا اسوقت آپ ہمدانی انکل کے ہاں۔۔۔۔؟؟وہ پریشان ہو
گئی کیونکہ رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے۔۔
ہمم۔۔۔آپ پریشان نا ہوں کچھ بزنس ڈسکشن کرنی ہے
انکے ساتھ۔۔تمہاری ممی کی بیماری کی وجہ سے میں بزنس کو ٹائم نہیں دے پایا تو کچھ گھاٹے میں جا رہا ہے۔۔۔۔۔رسٹ واچ پہن کے وہ اب ٹیبل پر رکھی گاڑی کی چابی اٹھا رہے تھے۔۔۔۔حیات چپ چاپ انہیں دیکھے گئی۔۔۔پہلے کی نسبت وہ کافی کمزور ہو گئے تھے۔۔۔۔”
اوکے بابا۔۔۔۔پلیز جلدی آئیے گا۔۔۔اس کا دل خدشات میں گھرنے لگا۔۔۔۔۔۔
بیٹا گھبرائیں نہیں آپ۔۔۔۔۔۔چوکیدار کو میں ہدایات دے کے جاؤں گا اور آدھے گھنٹے تک آ جاؤں گا۔۔۔۔انہوں نے
اس کا سر تھپتھپاتے ہوئے تسلی دی۔۔۔۔۔”
انکے جانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آئی تو بیڈ پر پڑا
اسکا موبائل بج رہا تھا۔۔۔۔نمبر دیکھا تو ارتضیٰ سر کالنگ لکھا آ رہا تھا۔۔۔۔۔”
ہیلو۔۔۔۔۔”
مس حیات آپ نے سائیکالوجی اے کا پیپر دیا
تھا۔۔۔۔ ؟؟اسکے ہیلو کے جواب میں وہ چھوٹتے ہی بولے۔۔۔۔۔۔
نن۔۔نو۔۔۔سر۔۔۔۔۔۔وہ شرمندگی سے بولی
کیوں۔۔۔۔؟؟انکی آواز میں حیرت زیادہ تھی یا صدمہ وہ سمجھ نہیں سکی۔۔۔۔۔”
میری تیاری اچھی نہیں تھی سر۔۔۔۔۔
لیکن میں نے آپ کو پیپر سینڈ تو کیا تھا۔۔۔۔پھر کیوں نے دیا آپ نے۔۔۔۔؟؟
میں نے لائف میں کبھی چیٹنگ نہیں کی سر۔۔۔۔۔سو چیٹنگ کرنے پہ میرا دل رضا مند نہیں ہوا۔۔۔۔”
ویری گڈ۔۔۔۔طنز تھا یا تعریف۔۔۔سمجھ نہیں آیا
میں ابھی پیپرز چیک کر رہا تھا۔۔آپ کا پیپر مجھے ملا نہیں پھر اٹینڈنس چیک کروائی تو پتہ چلا کہ آپ تو Absent تھیں۔۔۔۔پیپر چھوڑ دیا اور مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔۔وہ قدرے افسوس سے کہہ رہے
تھے۔۔۔۔۔”
سوری سر۔۔۔۔۔وہ اتنا ہی کہہ سکی۔۔۔۔
کل فضا آپی آپ کے گھر آئیں گی۔۔۔کس مقصد کیلئے آئیں گی یہ سمجھ گئی ہونگی آپ۔۔۔بس اب میں آپ کو
اپنی نگرانی میں پڑھانا چاہتا ہوں۔۔۔ورنہ اسطرح مجھے
بتائے بغیر آپ پیپر چھوڑتی رہیں تو آپ کا ایم۔۔ایس۔۔سی۔۔سائیکالوجی تو بس ہو گیا۔۔۔۔اب وہ قدرے ہلکے پھلکے لہجے میں چھیڑنے کے انداز میں کہہ رہے تھے۔۔
وہ شرمندگی بھرے انداز میں جھینپ گئی۔۔۔۔۔”
ویسے یہ بتائیں کل لائبریری میں مجھے دیکھ کے اتنا نروس کیوں ہو رہی تھیں۔۔۔۔ارتضی نے یاد آنے پر پوچھا
نہیں نروس تو نہیں۔۔۔۔بس سب سٹوڈنٹس ہماری طرف دیکھ رہے تھے تو مجھے عجیب سا لگ رہا تھا۔۔۔۔ اعتماد سے جواب دیا۔۔۔۔”
تو دیکھنے دیتی۔۔۔۔انہوں نے لاپرواہی سے کہا۔۔وہ جواباً چپ رہی۔۔۔کچھ دیر کی ہلکی پھلکی گفتگو کے بعد
انہوں نے خدا حافظ کہا تو وہ بابا کے انتظار میں لاونج میں صوفے پر بک لے کے بیٹھ گئ۔۔جب تک وہ آ نہیں گئے وہ وہیں لاؤنج میں ہی براجمان رہی۔۔۔۔۔۔”
ڈیڈ یہ تو بہت زبردست سٹوری ہے… اس پہ تو بہت ہی بہترین فلم بن سکتی ہے….مجھے یقین ہے اگر ہم نے فلم بنائی تو بلاک بسٹر ثابت ہو گی۔۔۔۔۔۔ وہ سٹوری کے کچھ پنے ہاتھ میں لیئے تعریفی انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ تینوں بھائی اسوقت سکندر خان کے ساتھ پروڈکشن ہاؤس کے میٹنگ روم میں بیٹھے سکندر خان کی لکھی ہوئی سٹوری کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ سکندر خان بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھے سکرین رائٹر بھی تھے 90 کی دہائی سے لے کر اب تک وہ فلم انڈسٹری کو کئی بہترین سٹوریز دے چکے تھے جن پر بننے والی کئی فلمیں سپر ہٹ ثابت ہوئیں تھیں۔۔۔۔”
یس ڈیڈ ماحر بھائی بالکل صحیح کہہ رہے ہیں۔۔۔سٹوری آپ نے واقعی بہت اچھی لکھی ہے۔۔۔عبیر اور زین نے بھی تائید کی۔۔۔۔”
ٹھیک ہے پھر تم لوگ کل پرسوں تک ساری ٹیم کو بلا کے میٹنگ رکھو۔۔۔۔۔ سارے معاملات طے ہوتے ہی شوٹنگ شروع کر دو۔۔۔۔۔۔۔
اوکے ڈیڈ۔۔۔۔ماحر نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔۔”
ماحر تمہاری اس فلم کا کیا ہوا۔۔۔؟؟جسکی سٹوری ایم۔۔ایس۔۔۔ندیم سے لکھوائی تھی تم نے۔۔۔۔۔۔”
غالباً شوٹنگ لوکیشنز بجٹ وغیرہ سب معاملات بھی طے کیے تھے۔۔۔۔۔”
اچانک یاد آنے پر سکندر خان نے پوچھا۔۔۔۔ماحر کے اعصاب تن سے گئے۔۔۔سکندر خان نے انجانے میں اسکی اسکے زخم پر نمک چھڑک دیا ہے۔۔۔۔۔”حیات کی طرف سے اس کا خون کافی کھولا ہوا تھا۔۔۔۔۔”
ایک بار پھر سے حیات عبدالرحمان اور اسکی کل کہی گئی آخری بات اسکے دماغ میں گردش کرنے لگی..(اپنی بہن کو بھیجو گے ایک رات کیلئے کسی کے پاس)اس کے اندر پھر سے اشتعال پیدا ہونے لگا جسے بمشکل دبا کے وہ بولا۔۔۔۔۔۔۔۔”
ڈیڈ اس مووی جسے ہیروئن سلیکٹ کیا تھا اسکے ساتھ کچھ مسئلہ ہو گیا تھا۔۔۔ تبھی شوٹنگ کینسل کرنا پڑی تھی…..نظریں چراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
تو تم کسی اور کو ہیروئن کو لے لیتے اس فلم میں… ڈانسرز پہ سیٹ پہ لوکیشن پہ لگے پیسے تو ضائع نا ہوتے……سکندر خان نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔۔
جواباً وہ کندھے آچکا کے بولا کوئی بات نہیں ڈیڈ چند لاکھ کا نقصان ہوا ویسے بھی جب کوئی فلم فلاپ ہو جاتی ہے تو تب بھی تو لاکھوں کروڑوں کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے…یہ تو بہت کم تھا……اس فلم کیلئے صرف وہی لڑکی پرفیکٹ ہے جب اسکا پرابلم سالو ہو جائے گا تو شوٹنگ شروع کر دیں گے……مگر فلحال پہلے اس سٹوری پر بناتے ہیں….اور میں سوچ رہا ہوں اسمیں ہیرو میرے بجائے زین کو رکھتے ہیں…میں صرف ڈائریکٹ کروں گا…….!!اسکے آئیڈے پر قریب بیٹھے زین کے چہرے پر مسکراہٹ آئی…..کافی ٹائم سے سکرین پہ آنے کا موقع نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔۔
ہمم۔۔۔۔جیسے تم لوگوں کی مرضی مگر فلم میں جان ہونی چاہیے۔۔۔ایسی ہو کہ شائقین ٹریلر دیکھ کے ہی دیوانے ہو جائیں۔۔۔۔تمہاری دیوانہ مووی کی طرح اسکے لئیے بھی پورے ملک کے سینمائوں میں لوگ ٹوٹ پڑیں۔۔۔۔۔”
انشاء اللّٰہ ڈیڈ ایسا ہی ہوگا۔۔۔۔”بٹ ڈیڈ میں چاہتا ہوں ماحر بھائی ہیرو نہیں تو کم از کم مہمان اداکار کے طور پر اپنی جھلک ضرور دکھائیں۔۔۔اس طرح لوگ زیادہ کھنچے چلے آئیں گے۔۔۔۔۔۔”زین نے عقلمدانہ مشورہ پیش کیا۔۔۔ماحر نے رائے کیلئے سکندر خان کی طرف دیکھا۔۔انہوں نے فوراً زین کے مشورے کو سراہا۔۔۔
ڈیڈ فلم فلم میں دو،دو ہیرو رکھ لیتے ہیں نا…..عبیر کا اپنا دل مچلا سکرین پہ آنے کیلئے…….”
وہ کیوں…….؟؟سکندر خان نے اچنبھے سے اسکی طرف دیکھا، کیونکہ کہانی کے مطابق ہیرو ایک ہی ہونا تھا….
وہ آآآآ ایسے ہی ڈیڈ…کوئی معقول جواب نا سوجھنے پہ وہ جزبز سا ہوا…….!!
فکر مت کرو اگلی بار تمہیں بھی ہیرو آنے کا موقع دیا جائے گا۔۔۔۔۔بلکہ اگلی بار ایک ایسی فلم بنائیں گے جس میں تین تین ہیرو ہونگے۔۔۔۔۔ فلحال سٹوری کے مطابق ایک ہی ہیرو ہوگا…..تم اس فلم کے پروڈیوسر ہو گے۔۔ اور میں ڈائریکٹر …..ماحر اس کا مطلب سمجھ چکا تھا تبھی ہلکا سا مسکرا کے تسلی دینے والے انداز میں کہا۔۔۔۔۔۔”
یہ آئیڈیا اچھا ہے برو۔۔۔۔ وہ فوراً خوش ہوا۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے تم لوگ اس فلم کیلئے تمام معاملات فائنل کرو مگر شوٹنگ فاریہ اور عبیر کی شادی کے بعد ہی شروع ہوگی….سکندر نے حتمی انداز میں کہا……!!
شور ڈیڈ ایسا ہی ہوگا….اور میں سوچ رہا ہوں فلم کیلئے سنگنگ ارمان سے کروا لیتے ہیں(ارمان خان ایک ابھرتا ہوا گلوکار۔۔۔۔۔۔ سکندر خان کا بھتیجا تھا۔۔آجکل فلموں کیلئے گانے گا رہا تھا۔۔۔۔ماحر نے فوراً اس کا نام لیا۔۔۔کزن ہونے کے ناطے اچھی ہیلو ہائے تھی)
ہاں صحیح ہے ارمان کافی اچھا گا رہا ہے ……برکھا پکچر کے دو سونگز اسی کی آواز میں ہیں نا…. بہترین گائے ہیں…. سکندر خان نے بھتیجے کی تعریف کی……!!
ایگزیکٹکلی ڈیڈ۔۔۔۔۔تینوں نے سراہا۔۔۔
اچھا میری ایک بزنس میٹنگ ہے کچھ دیر میں۔۔۔۔۔ عبیر تم میرے ساتھ چلو زین کو تو اپنے شو پہ جانا ہو گا…. سکندر خان اٹھ کھڑے ہوئے اور ساتھ میں عبیر کو بھی چلنے کو کہا۔۔۔۔۔”
عبیر جس کا ارادہ یہاں سے سیدھا اپنی گرل فرینڈ کے پاس جانے کا تھا۔۔۔سکندر خان کے حکم پر چار وناچار انکے ساتھ جانا پڑا۔۔۔۔۔۔”
روہانسے چہرے اور بجھے ہوئے دل کے ساتھ وہ انکے پیچھے باہر نکلا تو اپنی ہنسی ضبط کیے بیٹھا زین قہقہہ لگا کے ہنسا……”
کیا ہوا…..؟؟ماحر جو اپنا فون دیکھ رہا تھا۔۔۔زین کے ہنسنے پر اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔۔”
بیچارے کو اپنی محبوبہ سے ملنے جانا تھا ڈیڈ ساتھ لے گئے تو رونے والی شکل بنا کے جا رہا تھا…..”
اچھا….وہ مبہم سا مسکرایا۔۔۔۔۔ تم کب جاؤ گے اپنے شو پہ…..؟؟
زین سکندر خان آجکل ایک کامیڈی شو میں جج کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔۔۔جسکے لئیے وہ ایک ایپیسوڈ کے تیس لاکھ لے رہا تھا۔۔۔۔”
میں بس جاتا ہوں بھائی….ویسے فلم میں میری ہیروئن کون ہو گی….؟؟کب سے دل میں کلبلاتا سوال پوچھ ہی لیا۔۔۔۔۔۔۔۔”
دو تین نام زیر غور ہیں….انہی میں سے کوئی ایک سلیکٹ کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔ موبائل پر لگے مصروف سے انداز میں بولا۔۔۔۔۔۔۔”
ویسے ایک بات ہے برو فلم میں ہیرو میں ہوں گا تو ہیروئن تو میری مرضی کی ہونی چاہیے نا۔۔۔۔۔۔۔
کسے ہیروئن رکھنا چاہتے ہو…نتاشا دلال کو۔۔۔۔؟؟
ماحر نے اسکی طرف دیکھے بنا کہا جب کہ دوسری طرف زین سکندر کا منہ کھل گیا…اس کا تو ماڈل نتاشا دلال کے ساتھ پچھلے دو ہفتوں سے نہایت ہی خفیہ افئیر چل رہا تھا پھر ماحر تک خبر کیسے پہنچ گئی….
ماحر بھائی کا سورس آف انفارمیشن بھی کمال کا ہے۔۔
وہ سوچ کر رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماحر سکندر کے لئیے اپنے بھائیوں کی ایسی ایکٹیوٹیز کا پتہ لگانا مشکل نہیں تھا۔۔۔…مگر یہی کام وہ دونوں اس کیلئے نہیں کر سکتے تھے۔۔۔۔۔۔۔”
بھائی آپ کو پتا چل گیا۔۔۔وہ سر کھجاتے ہوئے مسکرایا
بیٹا تم دونوں کی ہر ایکٹیویٹی کی خبر ہوتی ہے مجھے۔۔۔۔۔اس نے طنزاً کہا
دس از ناٹ فئیر بھائی۔۔۔کچھ تو ہماری بھی پرائیویسی رہنے دیا کریں۔۔۔۔۔زین نے احتجاج کیا۔۔۔۔”
اوکے۔۔۔اب جاؤ تم دیر نہیں ہو رہی تمہیں۔۔۔۔وہ قدرے بے زار سے لہجے میں بولا۔۔۔”
آپ کا موڈ تو ٹھیک ہے برو۔۔۔؟
ٹھیک ہے یار جاؤ تم۔۔۔وہ چڑے چڑے انداز میں بولا۔۔۔۔یہ چڑ چڑا پن اور بے زاریت اس دن سے اس کے مزاج پر چھائی ہوئی تھی جس دن لاسٹ بار فون پر حیات عبدالرحمان سے منہ ماری ہوئی تھی۔۔۔۔”
اوکے بھائی۔۔۔زین مزید کچھ کہے بنا باہر نکل گیا۔۔۔جبکہ ماحر گھر میں عنقریب ہونے والی شادیوں کے انتظامات کے سلسلے میں اپنی ٹیم کو فون پر ہدایات دینے میں مصروف ہو گیا۔۔۔۔۔۔”
خان فیملی میں آجکل زور شور سے عنقریب ہونے والی
شادیوں کی تیاریاں چل رہی تھیں۔۔۔۔میڈیا بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا۔۔۔۔۔اخبارات ،ٹی وی چینلز اور دوسرے تمام سوشل پلیٹ فارمز پر ہر جگہ یہی شادیاں موضوع بحث بنی ہوئی تھیں۔۔۔۔ کئی بڑی سیاسی سماجی شوبز کی ہستیوں کی آمد متوقع تھی۔۔۔ کئی ملکی غیر ملکی معروف ہستیوں کو دعوت نامے بھیجے جا چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔”میڈیا سمیت ہر کوئی ان شادیوں کی لائیو کوریج کیلئے ایکسائیڈڈ تھا۔۔۔۔لگ یہی رہا تھا کہ یہ ملک کی مہنگی ترین شادیوں میں سے ایک ہو گی۔۔۔۔بڑے پیمانے پر اور بھاری معاوضے دے کر انتظامات کیے جا رہے تھے۔۔۔۔”
اصفہان کی فیملی بھی پاکستان آ چکی تھی۔۔۔سو وہ اپنے گھر شفٹ ہو چکا تھا۔۔۔۔۔اور آجکل انہی تیاریوں کے سلسلے میں مصروف ہونے کی وجہ سے ماحر سے
اسکی ملاقات نہیں ہو پا رہی تھی۔۔۔۔مگر آج وہ ٹائم نکال کر ماحر کے پاس چلا آیا۔۔۔جو فون پر اپنی ٹیم
کو ہدایات دے رہا تھا۔۔۔۔۔”
…تمہارا فون تو پہلے زیادہ تر تمہارے مینیجر کے پاس ہوا کرتا تھا نا۔۔۔۔۔ تمہاری ہر کال پہلے وہ اٹینڈ کرتا تھا۔۔۔ بلکہ میں نے جب بھی کال اسی نے ہی پک کی۔۔مگر اب میں جب سے آیا ہوں دیکھ رہا ہوں کہ اپنا موبائل اب زیادہ تر تم اپنے پاس ہی رکھتے ہو۔۔۔۔ خیریت…..کوئی خاص بات۔۔۔۔؟؟
!!دھپ سے چئیر پر بیٹھتے ہی اس نے استفسار کیا
بس ایسے ہی…..تم سناؤ دو دن سے کہاں غائب تھے اب چکر لگا رہے ہو……!!فون رکھ کے سیدھا ہوتے پوچھا۔۔۔
بس ایسے ہی تو نہیں ہو سکتا۔۔۔۔خیر تم نہیں بتانا چاہتے تو اور بات ہے۔۔۔رہی بات میرے غائب ہونے کی تو
شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں نا۔۔۔۔۔۔۔تو وہی انتظامات دیکھ رہا تھا اور ممی کے ساتھ بھی کچھ ہیلپ کروا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم یہ بتاؤ تمہاری اس ہیروئن کا کیا ہوا….. پاکستان آنے کے بعد پہلی بار وہ ماحر سے حیات عبدالرحمان کے بارے میں دریافت کر رہا تھا… “
اسکے سوال پہ ماحر کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے…. فلحال تو بہت نخرے دکھا رہی ہے….فاریہ اور عبیر کی شادی سے فارغ ہو جاؤں تو کرتا ہوں اس کا کوئی بندوبست……ماحر سکندر خان کو انکار کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔۔۔۔وہ بولا نہیں پھنکارا تھا۔۔
کیوں کیا ہوا۔۔۔۔۔ پھر سے انکار کر گئی کیا….؟؟ اصفہان نے چونک کے پوچھا جواباً ماحر نے تنے ہوئے نقوش کے ساتھ مختصراً بتایا۔۔۔۔۔
یار اگر وہ لڑکی راضی نہیں تو تم چھوڑو اسے… انڈسٹری بھری پڑی ہے حسین لڑکیوں سے….!!
یہی تو مسئلہ ہے مجھے ضد سی ہو گئی ہے اپنی بات منوائے بنا نہیں چھوڑ سکتا اسے….انداز بھی ضدی ہی تھا…. اصفہان نے گہری سانس لی…….”
اگر وہ تمہیں اتنی پسند ہے اور اسے نہیں چھوڑ سکتے تو پھر ایک کام کرو….اس سے شادی کر لو…..!!
وہاٹ……شادی….ماحر کا دماغ اسکی بات پہ بھک سے اڑا…… !!
ہاں تو کچھ غلط تو نہیں کہا…اچھا مشورہ دے رہا ہوں اصفہان نے مسکرا کر کہا….!!
کمٹمنٹ….. شادی…..کسی کے ساتھ عمر بھر رہنا…ساری زندگی ایک ہی شکل کو برداشت کرنا میرے مزاج کا خاصہ نہیں….. میں آزاد ہواؤں کا باسی ہوں…. وہ نخوت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔”
تو اسے اٹھوا لو۔۔۔۔اپنی ضد پوری کر کے چھوڑ دینا۔۔۔اور پھر اسی بات پہ بلیک میل کرنا تو تمہاری ہیروئن بننے پر بھی مجبور ہو جائے گی۔۔۔۔اصفہان کے بے باکانہ مشورے پر ماحر نے نفی کے انداز میں سر جھٹکا۔۔۔۔
نہیں یار یہ سب کرنا ہوتا تو بہت پہلے کر چکا ہوتا۔۔۔
اس معاملے میں زبردستی کرنا میرے اصولوں کے خلاف ہے۔۔۔۔۔۔آج تک جتنی بھی لڑکیاں میرے پاس آئیں
اپنی خوشی اور مرضی سے آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی کا ریپ نہیں کیا میں نے۔۔۔۔۔۔میں جتنا بھی لبرل سہی مگر ان معاملات مام کی تربیت آڑے آ جاتی ہے۔۔۔۔۔سو اسکی مرضی کے بغیر اسے کبھی بھی حاصل نہیں کروں گا۔۔۔وہ قطعی انداز میں بولا۔۔۔۔۔۔
پھر ایک اور آئیڈیا دوں۔۔۔۔فلم کو رہنے دو۔۔۔اگر اسے چھوڑ نہیں سکتے اور زبردستی پانا بھی نہیں چاہتے
تو شریفانہ مہذب طریقے سے پیار کا جال پھینکو۔۔۔
پیار کا جال اسکے دل میں ضرور دراڑ ڈال دے گا۔۔۔جب
اس جال میں پھنس جائے تو شادی کے نام پہ جائز طریقے سے حاصل کر لینا۔۔جب دل بھر جائے تو چھوڑ دینا۔۔۔۔۔۔”یعنی Temporary marriage
وہ جو کوٹ اتار کر کرسی کی پشت پر ڈال رہا تھا اصفہان کی بات پر جھٹکے سے مڑا۔۔۔۔۔”
Temporary marriag
وہ حیرانگی بھرے انداز میں گویا ہوا۔۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔۔اصفہان نے اطمینان سے کہا تو وہ سوچ میں پڑ
گیا۔۔۔۔اصفہان کی بات نے اسے سوچنے پر مجبور کر ہی دیا کیونکہ ایک بات تو وہ بھی اچھی طرح جان چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔ نا تو وہ اسکی فلم میں کام کرنے کیلئے راضی ہونے والی تھی کبھی اور نا بنا کسی جائز رشتے کے آسکے پاس آنے کیلئے۔۔۔۔۔۔”
لیکن نکاح کیلئے بھی اگر اس نے انکار کر دیا تو۔۔۔۔۔۔۔؟؟
یا فرض کرو وہ مان بھی جائے۔۔۔اور یہ کہے کہ اپنی فیملی کو بھیجو…سب کے سامنے اپناؤ تو پھر۔۔۔۔؟؟
میں کوئی ساری زندگی اسکے ساتھ زندگی گزارنے
کا ارادہ نہیں رکھتا جو اس عارضی شادی کو فیملی اور میڈیا کے سامنے لاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کچھ کچھ آمادہ لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔”
یار تم کسی طرح اسے خفیہ طور پر نکاح کیلئے راضی کرنا۔۔۔۔۔۔۔نا ہوئی تو کڈنیپ کر کے گن پوائنٹ پہ نکاح کر لینا۔۔۔۔۔۔اسکے بعد جب تک تم نہیں چاہو گے وہ تم سے جان نہیں چھڑا سکے گی۔۔۔اور پھر اسکے بعد اگر بنا اسکی مرضی کے بھی اسے پانا چاؤ گے نا تو یہ ناجائز نہیں ہوگا۔۔۔۔پھر اس طرح ممانی جان کی تربیت کی بھی فکر نہیں ہوگی۔۔۔کیونکہ تمہارا اس سے جائز رشتہ جو گا۔۔۔۔۔”اصفہان کی بات پہ ماحر کچھ پل غور کرتا رہا۔۔۔۔۔”
ہمممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیملی ویڈنگز سے فری ہو جاؤں تو غور کرتا ہوں تمہارے مشورے پہ۔۔۔۔۔چہرے پر شکاریوں جیسی شاطرانہ مسکراہٹ آ گئی تھی۔۔۔۔”
یار ویسے رئیل لائف میں تم ہیرو کے بجائے ولن کا رول
کر رہے ہو۔۔۔۔اصفہان کھل کر مسکرایا۔۔۔۔”
کیا کروں مجبور ہوں اپنی ضد کے ہاتھوں۔۔۔ماحر نے بھی قہقہہ لگایا۔۔۔۔۔”
حیا بیٹا اٹھ جائیں اب۔۔۔۔بوا کی آواز پہ اس نے مندی مندی آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا۔۔۔چار بج رہے ہیں۔
پانچ بجے فضا بٹیا لوگ آئیں گے آپ اٹھ کر تیار ہو جاؤ۔
وہ جھک کر اسکے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔”
بوا کے کہنے پہ اسکے ذہن میں جھماکا ہوا تو فوراً اٹھ بیٹھی۔۔۔آج شام 5 بجے تو اس کے لئیے ارتضیٰ حسن کا پروپوزل آنے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔بوا کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ انکے آنے کا مقصد جانتی تھیں۔۔۔۔”
بیڈ سے اتر کر وہ فوراً واش روم میں گھس گئی۔۔۔دس منٹ بعد فریش ہو کر کمرے سے باہر نکلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” عبدالرحمان صاحب لان میں بیٹھے کچھ فائلز دیکھ رہے تھے۔۔۔۔مون وہیں بال سے کھیل رہا تھا۔۔۔۔۔”
اٹھ گئیں آپ۔۔۔۔۔انکے چہرے پر نرم سی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔۔۔۔”
آج لاسٹ پیپر تھا۔۔خدا خدا کر کے امتحانات سے اسکی جان چھوٹی تھی تو نیند بھی خوب آئی تھی۔۔۔۔
جی۔۔۔وہ مسکرائی۔۔۔میری دعا ہے کہ اللّٰہ آپ کو تاحیات یونہی ہنستا مسکراتا رہے۔۔۔کتنی پیاری لگتی ہیں آپ یوں مسکراتے ہوئے۔۔۔اب میں کبھی آپکے چہرے پر اداسی نا دیکھوں۔۔۔۔۔”وہ بے حد محبت سے بولے
وہ وہیں انکے پاس لان میں بیٹھ گئی۔۔۔ملازمہ چائے لے کر آئی تو چائے پیتے ہوئے وہ ہلکی پھلکی گفتگو کرتے رہے۔۔۔پھر چائے ختم ہونے کے بعد اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔
بوا بتا رہی تھیں کہ کچھ مہمان آ رہے ہیں۔۔۔میں زرا سٹڈی روم میں جا رہا ہوں۔۔۔وہ آئیں تو مجھے بلا لیجئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اوکے بابا۔۔۔۔۔حیات نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
وہ سٹڈی روم کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔”
حیات ٹیرس پر آ گئی۔ ابھی پانچ بجنے میں کافی ٹائم تھا۔۔۔۔جاتی گرمیوں اور آتی سردیوں کے خوشگوار ٹھنڈے دن تھے۔ریلنگ سے ٹیک لگا کر سامنے تاحد نگاہ سمندر کے نیلگوں پانی میں اٹھتی مچلتی لہروں کی چنچل شوخیاں دیکھنے لگی۔۔۔ شام کے دھندلکے میں چھپنے کیلئے بے قرار سونا لٹاتی سنہری دھوپ کی کرنوں سےریت کے ذرات ڈائمنڈ کی طرح چمکتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ سبک رفتار سے چلتی نم ہوا نے اسکی گولڈن ریشمی بال بکھیر دے تھے۔۔۔اس کا دل بے چین ہونے لگا تھا۔۔۔۔ارتضی حسن رشتہ استوار ہونے جا رہا تھا۔۔اسے سو فیصد یقین تھا بابا اسکی رضامندی جانتے ہی ہاں کر دیں گے۔۔۔کیونکہ وہ انہیں پہلی نظر میں ہی پسند آیا تھا۔۔اب نامعلوم یہ بے چینی ارتضیٰ حسن سے رشتہ جڑنے کی وجہ سے ہو رہی تھی یا کسی اور وجہ سے وہ اپنی کیفیات سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔ڈیپ آتشی گلابی سوٹ میں ملبوس۔۔۔۔۔بکھرے ریشمی گولڈن بالوں اور اداس آنکھوں سمیت وہ کسی خوبصورت دلکش طلسماتی خواب کی طرح لگ رہی تھی۔لہروں پر جمی اسکی سمندر کے جیسی نیلی آنکھوں میں اضطراب تھا۔۔۔ ارتضیٰ حسن کی طرف سے اسے وہم ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔
