Tadbeer by Umme Hani NovelR50414

Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Last Episode (Part 1)

458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Last Episode (Part 1)

Tadbeer by Umme Hani

کامران عفان کا ماسک اتار کر جا چکا تھا ۔۔۔۔عفان کو کچھ ہی دیر میں اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہونے لگا ۔۔۔۔وہ کھنچ کھنچ کے سانس لینے لگا ۔۔۔۔۔۔لیکن سانس لینے میں اسے بہت مشکل پیش آ رہی تھی ۔۔۔۔مگر وہ اسی جدو جہد میں لگا رہا ۔۔۔کچھ ہی دیر میں پورا جسم کپکپانے لگا لزرتا ہوا ہاتھ اب عفان کے گلے تک پہنچ گیا تھا سانس کی تکلیف سے ۔۔۔اس کا پورا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا ۔۔۔۔یک دم ہی وہ کھانسنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔کھانسنے سے اس کا پوراوجود حرکت کرنے لگا تھا ۔۔۔اس وقت اس کا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں کھانسی کچھ کم ہوئی تو وہ سانس کچھ بہتر طریقے سے لے پا رہا تھا ۔۔۔۔ذرا سی کوشش پر عفان نے دونوں ہاتھوں پر زور دے کر خود بیٹھنے کی کوشش کی اسکی ٹانگیں بلکل نہیں ہل رہیں۔ تھیں اور ہاتھوں میں شدید قسم کی کپکپاہٹ تھی ۔۔با مشکل ہی صحیح مگر وہ اب ٹیک لگا کر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔مگر اس ذرا سی کوشش پر اس کا سانس بری طرح سے پھولنے لگا تھا ۔۔۔۔آنکھوں سے تشکر کے آنسوں بہنے لگے ۔۔۔۔۔پہلا لفظ جو اسکے ہونٹوں سے ادا ہوا وہ” اللہ” تھا ۔۔۔۔۔

کچھ پل تو سے اپنی آواز اپنے کانوں سے سن کر یقین نہیں آیا ۔۔۔۔ایک نرس کمرے میں داخل ہوئی عفان کو یوں بیٹھا دیکھ کر بے یقینی سے آنکھیں پھیلائے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

“آپ ۔۔۔۔آپ ہوش میں آ چکے ہیں؟ ۔۔۔”وہ نرس بے یقینی سے بولی اور وہیں سے پلٹ گئ ۔۔۔۔کچج ہی دیر میں ڈاکٹر رمشہ تیزی سے داخل ہوئی ۔۔۔۔۔عفان کو دیکھ کر اور حیرت کا اظہار کرنے لگی ۔۔۔۔پھر فورا سے اسے کا چیک اپ کرنے لگیں اس سے بات کرنے لگی ۔۔۔۔وہ اٹک اٹک کر بات کر رہا ٹھیک سے ب نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔

“ڈ۔۔اکٹر ۔۔۔۔۔میری ۔۔۔۔فی۔۔۔ملی کو ۔۔۔۔انف۔۔۔فارم ۔۔۔کر دیں “پھولے ہوئے سانس کے ساتھ اس نے یہ جمعلہ ادا کیا ۔۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ اپنے موبائل سے کال کرنے لگی ۔۔۔۔۔سب ہی اس سے ملنے پہنچ گئے گئے تھے سب سے پہلے ماہم اندر داخل ہوئی ۔۔۔آتے ہی بے اختیار اسکے گلے لگ کر رونے لگی ۔۔۔۔۔آنسوں تو عفان کے بھی بہہ رہے تھے ۔۔۔۔یہ آزمائش تھی جو گزر چکی تھی ۔۔۔۔۔۔بے شک ہر مشکل کے بعد اللہ آسانیوں راہیں کھول دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔انکی زندگی کا بھی ایک مشکل باب تمام ہو چکا تھا ۔۔۔۔سب ہی عفان سے مل رہے تھے سوائے کامران کے وہ چپ ایک کونے میں کھڑا بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا دھواں دھواں چہرے کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔عفان نے خود اسے اپنے پاس بلایا ۔۔۔ماہم نے فورا سے کامران کو پیچھے دھکیل دیا اس سے پہلے ماہم اسکی اصلیت بتاتی عفان نے اسے روک دیا ۔۔۔کامران عفان سے گلے لگ کر رونے لگا ۔۔۔۔۔۔وہ ندامت کے آنسوں تھے یا اپنی شکست کے لیکن وہ بہت دیر اسکے ساتھ لگے روتا رہا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں سب جا چکے تھے سوائے ماہم کے ۔۔۔۔۔۔وہ عفان کے پاس ہی رہی ۔۔۔۔ایستہ آہستہ عفان کا پورا جسم حرکت کرنے لگا تھا مگر ٹانگیں ابھی بھی بے جان سی تھیں۔۔۔۔رات کو ڈاکٹر رمشہ عفان کے روم میں آئی تو ۔اہم عفان کو سوپ پلارہج تھی ۔۔۔ایک سال۔ بعد وہ منہ کے زریعے سے خوراک لے رہا تھا ۔۔۔۔زبان سے کسی چیز کا ذائقہ چکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ مسکراتے ہوئے عفان کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔ماہم نے سوپ کا باول سائیڈ پر رکھ دیا اور ٹشو سے عفان کا منہ صاف کرنے لگی ۔۔۔

“اب کیسا فیل کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔۔

“بہتر ۔۔۔۔ہوں “

ایکچلی مجھے آپ دونوں سے ایک بات کرنی تھی ۔۔۔۔جسے آپ کا جانا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔آپ ک بھائی آپکی جان کا دشمن ہے ۔۔۔۔کئ بار اس نے آپ پر اٹیک کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔۔۔انہیں اسکے ارادوں سے باز رکھنے کے لیے میں نے انکا ساتھ دینے کی ہامی بھر لی ۔۔۔ ت کہ وہ اگر کچھ ایسا کرنا بھی چاہے تو مجھے ضرور انفارم کریں تا کہ میں انہیں باز رکھ سکوں ۔۔۔۔اگر پولیس کیس کرنا چاہیں تو میں آپ کا ساتھ دینے کو تیار ہوں ۔۔۔”ڈاکٹر رمشہ کو عفان نے ہاتھ کے اشارے سے مزید بدلنے سے روک دیا اور دھیرے دھیرے سے اسے کہنے لگا

“پلیز ڈاکٹر ۔۔۔۔۔۔مجھے مزید ۔۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں سننا ۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔وہ میرا بھائی ہے۔۔۔۔۔اسے اب کیسے باز رکھنا ہے ۔۔۔۔وہ میں خود ۔۔۔۔۔ہینڈل کر لوں گا ۔۔۔۔”۔۔۔ڈاکٹر تو کچھ دیر میں چلی گئ لیکن ماہم ضرور اس سے خفا ہونے لگی تھی ۔۔۔۔مگر عفان نے اسے بھی مزید بدلنے سے روک دیا ۔۔۔۔گھر آ کر بھی عفان نے کسی سے اس بات کا ذکر نہیں کیا اور ماہم کو بھی منع کر دیا ۔۔۔۔۔۔اب عفان نے باقاعدگی سے نمازشروع کر دی تھی ۔۔۔۔۔اور قرآن کی تلاوت بھی باقاعدگی سے کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔ماہم اسے کامران کی سب حرکتوں کے بارے میں بتا چکی تھی ۔۔۔۔قاسم بھی اب تقریبا روز اسے ملنے آ جاتا تھا ۔۔۔۔۔۔ماہم ہر طرح سے عفان کا خیال رکھنے لگی تھی کامران نے دوبارہ عفان سے ملنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔عفان اب قاسم سے پرجیکٹ کے لئے سری ڈسکشن کرنے لگا تھا ۔۔۔۔

******………

کچھ دنوں بعد عفان نے مجھے کال کر کے اوپر بلوایا ۔۔۔۔جب میں اسکے کمرے میں جانے لگا تو دروازہ پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا مما پاپا دونوں وہاں موجود تھے ۔۔۔۔عفان اپنی وہیل چیر پر ہی تھا ۔۔۔

“۔ آئیے نا بھائی بیٹھیں “۔۔۔۔میں بیڈ پر مما کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔۔عفان نے ماہم کو اشارہ کیا تو ماہم نے سائیڈ ٹیبل کادراز کھول کر دو انولوپ نکال کر عفان کو پکڑا دیے ۔۔۔۔عفان نے ایک پاپا کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔۔۔

“یہ کیا کے عفان” ۔۔۔۔پاپا نے انویلوپ لیتے ہوئے پوچھا

“کھول کر دیکھ لیں پاپا “۔۔۔۔عفان نے دوسرا انویلوپ میری طرف بڑھاتے ہوئے پاپا کو جواب دیا میں نے بھی انویلوپ پکڑ کر کھول کر دیکھا تو اس میں اچھی خاصی رقم تھی میں نے برجستہ حیرت سے عفان کو دیکھا ۔۔۔۔پاپا کے تاثرات بھی مجھ سے الگ نا تھے ۔۔۔۔۔

“عفان یہ’ ۔۔۔۔میں اور پاپا بیک وقت بولے ۔۔۔

“پاپا میں نے دوبارہ سے اپنا کام شروع کر دیا ہے ۔۔۔۔قاسم سے میری روز بات ہو رہی تھی ۔۔۔۔پھر لیپ ٹاپ ۔۔۔موبائل اور کچھ قاسم کی مدد سے میں نے ایک پروجیکٹ شروع کیاتھا ۔۔۔۔۔۔ویڈو کال کے ذریعے میری میٹنگ بھی کامیاب ہوئی ہے ۔۔۔۔۔بس کچھ مہینوں کی بات ہے ۔۔۔۔پھر میں خود آفس جانے لگوں گا ۔۔۔۔”

“لیکن یہ سب کیا ہے ۔”۔۔پاپا نے اس انویلوپ کودیکھتے ہوئے پوچھا

“پاپا یہ آپ رکھ لیں گھر کے اخراجات کے لئے اور بھائی آپ نے میرے برے وقت میں میرابڑا ساتھ دیا ہے جو ہاسپٹل کی فیس آپ ہے کرتے رہے ہیں ۔۔۔۔اسے ایک قسط سمجھ کر رکھ لیں باقی بھی میں جلد لوٹا دونگا “

“عفان میں نے کوئی احسان نہیں کیا تم پر ۔۔۔۔پاپا کی ہر چیز پر تمہارا بھی اتنا حق ہے جتنا میرا ۔۔۔۔میں بھائی ہوں تمہارا مجھے یوں اجنبی نا بناؤں یہ رکھوں اپنے پاس۔۔۔۔۔نا جانے ماہم نے کیا کہا ہے تمہیں میرے بارے میں جو تم یوں” ۔۔۔۔۔میں نے جان بوجھ کر ماہم کے لئے اسے مشکوک کرنا چاہا ماہم نے ایک تیکھی نظر مجھ پر ڈال کر رخ غصے سے موڑ لیا عفان مسکرانے لگا ۔

“ماہم نے کچھ نہیں کہا بھائی ۔۔۔۔ویسے بھی پاپا کے ساتھ آپ نے ہی محنت کی ہے ۔۔۔۔یہ سب آپ کا ہی ہے ۔۔۔۔”

“نہیں عفان کامران ٹھیک کہہ رہا ہے ۔۔۔۔میراسب کچھ تم دونوں کا ہی تو ہے “۔۔۔۔پاپا نے بھی میری بات کی تائید کی

“پاپا مجھے جب ضرورت ہو گئ میں آپ اور بھائی سے ہی مانگوں گا مگر اگر ابھی آپ یہ رکھ لیں گئے تو مجھے خوشی ہوگی “۔۔۔۔عفان نے بات ہی ختم کر دی تھی ۔۔۔۔میں نے وہ پیسے لیے اور باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔مگر مجھے چین کسی پل نہیں تھا ۔۔۔۔۔اس لئے میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب عفان سے صاف لفظوں سے بات کرو ۔۔۔۔۔۔مگر ماہم تو عفان کے سائے کی طرح اسکے ساتھ ساتھ رہتی تھی آج چھٹی کا دن تھا ماہم کچن میں مصروف تھی ۔۔۔۔میں اوپر عفان کے کمرے میں آگیا ۔۔۔۔۔وہ اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف تھا ۔۔۔۔۔مجھے دیکھ کر مسکرانے لگا ۔۔۔۔

“آئیں نا بھائی “۔۔۔عفان نے اپنا لیپ ٹاپ بند کر کے سائیڈ پر رکھ دیا۔۔۔۔میں اس کے سامنے بیٹھا نہیں بلکہ اس کی وہیل چیر کو پیچھے سے پکڑ کر چلانے لگا

“کیا یار تم ہر وقت کمرے میں بند رہتے ہو ۔۔۔۔چلو باہر چلتے ہیں “”میں اس کی وہیل چیر کمرے سے باہر لے آیا ۔۔۔۔باہر لاونج کے سامنے ایک بڑا سا ٹیرس تھا میں عفان کو وہاں کے آیا ۔۔۔۔۔شام کے چار بج رہے تھے موسم کافی خوشگوار سا تھا سامنے لان میں رنگ برنگے پھول کی ملی جلی خوشبوں اوپر تک آ رہی تھی

“اچھا لگا رہا ہے نا عفان تازہ ہوا اور قدرتی مناظر آنکھوں کو ہمیشہ اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔”میری بات عام ضرور تھی مگر لہجہ طنز میں ڈوبا ہوا تھا

“جی ملاوٹ اور دیکھلاوے سے پاک ہر چیز دل کو بھاتی ہے چاہے مناظر ہوں یا رشتے یا انسان کے جذبات” ۔۔۔۔عفان کی ذو معنی الفاظ پر میں ہسنے لگا ۔۔۔۔

“عفان جانتے ہو انسان کے کئ روپ ہوتے ہیں ۔۔۔۔سامنے کچھ اندر کچھ””.. میں نے وہیل چیر ٹیرس پر کھڑی کی اور خود عفان کے سامنے دو زانے بیٹھ گیا ۔۔۔۔میری معنی خیز مسکراہٹ پر عفان مسکرانے لگا ۔۔۔۔

“جی بھائی مجھ سے بہتر یہ کون جان سکتا ہے میں نے تو بند آنکھوں سے بھی لوگوں کے اصل روپ دیکھے ہیں ۔۔۔”۔عفان کی آنکھیں بہت کچھ کہہ رہیں تھیں مجھ سے جیسے اس پر سب کچھ عیاں ہو چکا ہو ۔۔۔۔ایسا تھا بھی تو اچھا ہی تھا میں کون سا کچھ پوشیدہ رکھنا چاہتا تھا

“میں سوچ رہا تھا کہ کب تک خود پر خول ڈالے رکھیں گئے ہم ۔۔۔۔یہاں میرے اور تمہارے علاؤہ تو کوئی اور ہے بھی نہیں تو کیوں نا کھل کر بات کریں ۔”۔۔۔۔میری بات پر عفان کی بے اختیار ہنسی مجھے تحیر کرنے لگی ۔۔۔

“خول تو آپ نے چڑھا رکھا ہے بھائی البتہ میں ایسا ہی ہوں جیسا آپ کو نظر آ رہا ہوں ۔۔۔۔”

“کم آن عفان ۔۔۔۔تم انجان نہیں ہو ۔۔۔۔ہو سکتا ہے جب تم مکمل طور پر کومہ میں تھے میرے ارادوں اور باتوں سے بے خبر رہے ہو مگر جس دن میں نے تمہارا ماسک اتارا تھا تم میرے منصوبے سے با خبر تھے ۔۔۔۔وہ تواتفاق ایسا ہوا کہ تم بچ گئے ۔۔۔۔۔تم چاہتے تو مجھے بے نقاب کر سکتے تھے ۔۔۔۔مجھے تمہارا یوں مجھ پر مہربان ہونا میری سمجھ سے باہر ہے۔۔۔۔اور پھر تمہارے بعد میں نے جو کچھ ماہم کے ساتھ کیا ممکن ہی نہیں کہ اس نے تم سے ذکر نا کیا ہو ۔۔۔۔۔تمہارا ریایکشن تو میرے ساتھ جارحانہ ہونا چاہیے تھا ۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔”

“مگر ایسا ہوا نہیں ۔۔۔۔یہی کہنا چاہتے ہیں نا آپ ۔۔۔۔آپ کی بات ٹھیک ہے بھائی ۔۔۔کومہ میں بھی میں آپ کے ہر ارادے سے با خبر تھا ڈاکٹر رمشہ کے ساتھ آپکی کمٹمنٹ میں سن رہا تھا ۔۔۔۔مجھ سے بار بار ماہم کی محبت کا اظہار بھی میں آپکی زبان سے سن رہا تھا ۔۔۔۔اپنے لئے نفرت کی تلخیاں بھی محسوس کر رہا تھا ۔ماہم نے مجھ سے واقع کچھ نہیں چھپایا ۔۔۔۔اسکا ایک ایک لفظ میرے دل پر کسی گھاوں سے کم تکلیف دہ نہیں ہے ۔۔۔مگر کیا ہے نا بھائی ۔۔۔۔مجھے آپ سے بدلہ نہیں لینا ۔۔۔۔اور یہ بھی نہیں کہ میں نے آپ کو سب معاف کر دیا ہے ۔۔۔۔میں آپ کو معاف بھی نہیں کرونگا ۔۔”۔۔۔مجھے عفان کی بات سرے سے پلے ہی نہیں پڑی تھی ۔۔۔۔اور نا ہی میں اس پر غور کرنے کی کوشش کی

‘اچھا چلو تمہاری مرضی ۔۔۔۔۔تم میری فطرت سے تو اب اچھی طرح واقف ہو ہی چکے ہو ۔۔۔ ۔۔یاد ہے عفان بچپن میں جب بھی تم مجھ سے میرے کسی کھلونے کو لینے کی ضد کرتے تھے ۔۔۔۔۔تو میں اسے توڑ دیتا تھا مگر تمہیں کھیلنے کے لئے ہر گز نہیں دیتا تھا ۔۔۔۔یاد ہے نا عفان۔”۔۔۔ میں آہستہ آہستہ اسے اپنے ارادوں سے آگاہ کرنا چاہ رہا تھا ۔۔۔عفان کچھ نہیں بولا بس ایک ٹک مجھے دیکھنے لگا

“میں اب بھی ویسا ہی ہوں ۔۔۔۔پہلے تو میں نے ماہم کو صرف تمہارے لئے استعمال کرنا چاہا تھا مگر کب اسے چاہنے لگا مجھے خبر ہی نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔ماہم میری ہے عفان ۔۔۔ ۔میں اسے تمہیں کبھی نہیں دے سکتا یا تو تمہیں مار ڈالوں گا یا اسے ۔۔۔۔۔مگر یہ طے ہے کہ وہ میری نہیں ہو سکتی تو تمہاری بھی کبھی نہیں ہو گئ ۔”۔۔۔۔میں نے عفان کی وہیل چیر دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دو ٹاک انداز سے کہا عفان کے چہرے پر ذرا سی بھی پریشانی کی لہر تک نہیں تھی

“مسلہ یہ ہے عفان کہ میں ماہم کو مار نہیں سکتا وہ تو جان ہے میری تو پھر میں اپنی جان کی جان کیسے لے سکتا ہوں ۔۔۔ میرے دل میں بستی ہے وہ ۔۔۔۔تو ظاہر ہے ۔۔۔اب قربانی تو تمہیں دینی ہو گی اپنی زندگی کی ۔۔۔۔۔ضروری نہیں کہ ہر بار تم میرے وار سے بچ جاؤں” ۔۔۔۔۔میں عفان کے چہرے پر غصہ نفرت ڈر ان میں سے کچھ دیکھنا چاہتا تھا مگر وہاں بلا کا اطمینان تھا ورنہ میری بات پر اسے اشتعال میں آنا چاہیے تھا ۔۔۔۔

“تم چپ کیوں ہو “۔۔۔۔میں ہی مجبورا بول پڑا اسکی چپ مجھے اندر سے کھل رہی تھی

“آپ کو سن رہا ہوں بھائی اور کہیے ۔۔۔۔اور کیا کہنا چاہتے ہیں آپ۔۔۔۔ ماہم اور کیا کیا ہے آپ کے لئے آج بہت کچھ سننے کا حوصلہ رکھتا ہوں اس لیے دل کھول کر بتائیں کیا ہے ماہم آپ کے لئے جان ہے۔۔۔۔ سوئٹ ہارٹ ہے ۔۔۔۔ڈارلنگ ہے۔۔۔ یا سویٹی اور کیا کیا ہے۔۔۔۔ ایسا کریں آج صرف ماہم کے بارے میں بتائیں۔”۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔عفان کے باتوں اور ضبط پر مجھے تاؤ آنے لگا جو جو لفظ میں ماہم کو پکارنے کے لئے استعمال کرتا تھا وہ سب اس نے کہے تھے لیکن غصے سے نہیں۔۔۔ورنہ اسے تو میرا منہ توڑ دینا چاہیے تھا

“جانتے ہو کیا کر سکتا ہوں میں تمہارے ساتھ میں ” ۔۔۔۔میں غصے سے پھنکارا ۔۔۔عفان خفیف سا مسکرایا میں غصے سے آپے سے باہر ہونے لگا اس کا یہ اطمینان مجھے اندر سے تہ و بالا کر دیتا تھا ۔۔۔۔۔میں نے عفان کی وہیل چیر کو پشت سے پکڑا اور اسے ٹیرس سے باہر لے آیا تیز قدموں سے لاونج عبور کر کے نیچے جانے والی سیڑھیوں کی عین پہلی سیڑھی کے بلکل کنارے پر لا کر اسکی وہیل چیر روک دی ۔۔۔۔مجھے لگاعفان چلا اٹھے گا ۔۔۔لیکن پھر بھی وہ اطمینان سے بیٹھا رہا ۔۔۔۔میں عفان کی طرف جھک کر دانت پیس کر بولا

“میں چاہوں تو تمہیں ابھی سیڑیوں سے پھنک سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔تم تو اٹھنے سے بھی قاصر ہو” ۔۔۔۔۔میرے غصے کو خاطر میں نا لاتے ہوئے عفان نے گہری سانس لی میں اسکی پشت کی طرف کھڑا تھا اس نے ذرا سی گردن موڑ کر میری جانب دیکھا پھر دھیرے سے سرگوشی میں بولا

“دیر کس بات کی ہے بھائی ۔۔۔۔۔۔پھنکیں مجھے ۔۔۔۔میں تو ویسے بھی معذور ہوں ۔۔۔۔خود سے اٹھ بھی نہیں سکتا۔”۔۔پھر زور زور سے ہسنے لگا ۔۔۔۔مجھےاس کے جواب پر حیرت تھی ۔۔۔۔۔نا وہ خوفزدہ تھا نا غصے میں تھا ۔۔۔

“تم عفان ۔”۔۔۔میں غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا

“بس بھائی آپ نے جو کہنا تھا آپ کہہ چکے اب میری باری ہے” ۔۔۔۔عفان نے ہاتھ سے اپنی وہیل چیر کو پیچھے دھکیلا

“آئیں میرے ساتھ “۔۔۔۔یہ کہہ کر وہ ایک سمت چلنے لگا لاونج سے ہوتے ہوئے مجھے اپنے کمرے میں لے آیا ڈرسنگ روم کے اندر جاتے ہی سامنے الماری کےآخری میں رکھی ایک چوٹی سے الماری کی طرف اشارہ کیا اسکے پہلے دراز میں چابی ہے اس سے اس الماری کو کھولیں بھائی۔۔۔۔میں نے خاموشی سے دراز کھول کر چابی نکالی اور وہ چھوٹی الماری کھول کر دیکھا تو اس میں وہ تمام کھلونے ثابت وصالم موجود تھے جنہیں بچپن میں میں نےتوڑ دیا تھا ۔۔۔۔میں نے ایک ایک کر کے سارے کھلونے حیرت سے دیکھے۔۔۔۔۔شاید جب میں انہیں توڑ کر پھنک دیتا تھا عفان اسے جوڑنے کی کوشش کرتا تھا کیونکہ ان کھلونوں کو کئ جگہ ٹیپ سے چپکایا ہوا تھا ۔۔۔۔ اور بہت احتیاط سے سنبھال کے رکھا تھا ۔۔۔میں نے عفان کی طرف دیکھا

“بھائی مجھے توڑنا نہیں آتا میں نے ہمیشہ جوڑنا سیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔چاہے وہ آپ کے ہاتھ سے ٹوٹے ہوئے کھلونے ہوں یا دل یا پھر رشتے ۔۔۔۔آپ نے کھلونوں کو میری وجہ سے توڑا ۔۔۔۔چلو یہ تو سمجھ میں آتا ہے مگر ماہم کادل کوئی کھلونا نہیں تھا ۔۔۔۔مگر آپ کو احساس ہی کہاں ہے ۔۔۔۔نا آپ نے اس کا دل توڑتے ہوئے سوچا اور نا اس سے رشتہ توڑتے ہوئے ۔۔۔۔میں بھی کیا کرتا مجھے بچپن سے جوڑنے کی عادت جو تھی اس لئے بس یہی کرتا رہا ۔۔۔۔بدلے میں دیکھیں بھائی مجھے کیا نہیں ملا ۔۔۔۔میں نے ماہم کو چاہا تھا ۔۔۔۔۔مگر اسے کبھی چھننے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔جب آپ نے اسے منگنی کے بندھن میں باندھ لیا میں نے کنارہ کشی اختیار کر لی اس لئے کہ مجھے لگا آپ اور ماہم خوش ہیں مجھے بیچ میں نہیں آنا چاہیے ۔۔۔۔مگر میری محبت سچی تھی اور مجھے ماہم کو ہر حال میں پا لینے کی حسد نہیں تھی بس اسکی خوشی عزیز تھی ۔۔۔اس لئے بنا کسی کوشش کے ہی وہ میری ہو گئ ۔۔۔۔مگر میں نے اسے زبردستی اپنانے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔جانتے ہیں کیوں ۔۔۔۔کیونکہ مجھے اسے اس وقت اپنانا تھا جب اسکا دل آپکی محبت سے خالی ہوچکا ہوتا ۔۔۔۔۔مگر اس رات جس حال میں ماہم آئی تھی میں پہلی بار ڈر گیا تھا ۔۔۔۔مجھے لگا میں خود غرض ہو گیا ہوں ۔۔۔مجھے آپ دونوں کے بیچ نہیں آنا چاہیے ۔۔۔۔مگر آپکی باتیں سن کر میں اور بھی زیادہ خوفزدہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔ ماہم واقع آپ کو بے تحاشہ چاہتی تھی بہت ٹوٹ کر چاہا ہے اس نے آپ کو ۔۔۔۔۔اسے اپنی شادی ختم ہونے یا اپنا تماشہ بننے کا اتنا دکھ نہیں تھا جتنا آپ کے نا آنے کی تکلیف تھی کہ شاید آپکے ساتھ کوئی حادثہ نا پیش آ گیا ہو ۔۔۔۔مگر آپکی باتیں مجھے اندر تک دہلا گئیں تھیں پھر آپکی ہر بات کی تصدیق مجھے ماہم کے حلیے سے ہونے لگی پہلا خیال مجھے یہی آیا کہ نا جانے آپ نے ماہم کے ساتھ کیا کیا ہے ۔۔۔۔میں مرد ہوں بھائی اؤر میری سوچ بھی عام مردوں کی طرح سب سے پہلے اسی سمت گئ تھی جہاں مردوں جاتی ہے ۔۔۔۔پھر آپ ماہم کو اپنانے کے لئے بھی تیار نہیں تھے ۔۔۔۔ظاہر ہے میں اسے بے آسرا تو نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔۔۔۔۔اس لئے اسے اپنانے میں ذرا بھی دیر نہیں کی ۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں میری بیوی صرف میری ہے ۔۔۔اور اس رات بھی وہ باحفاظت مجھ تک پہنچی تھی ۔۔۔لیکن اگر آپ کچھ کر بھی گزرتے تب بھی مجھے ماہم کو اپنانا ہی تھا ۔۔۔۔۔یہ میری محبت کا امتحان تھا ۔۔۔۔۔جو سفل ہو گیا ۔”۔۔۔ عفان کی بات میرے لئے حیران کن تھی ۔۔۔ایسا ظرف کسی کا نہیں ہوتا ۔۔۔۔عفان کچھ توقف کے بعد پھر سے بولنے لگا

“میرے لئے وہ وقت واقع کڑی آزمائش کا تھا جب میں ماہم کو آپ کے لئے روتے تڑپتے دیکھتا تھا اس کے آنسوں مجھے کس اذیت میں مبتلہ کرتے تھے یہ میرا دل ہی جانتا تھا ۔۔۔لیکن میں نے اسے دھکارنے کے بجائے اسکے آنسوں صاف کرنے کو ترجعی دی اسے ڈانٹنے جھٹکنے کے بجائے اپنایت اور محبت دی ۔۔۔۔۔بس میری محبت میں وہ کب کھو کر آپ کو بھول گئ اسکی خبر تو نا اسے ہوئی نا مجھے ۔۔۔۔میرے جذبے سچے تھے اور میرے صبر کا انعام یہ ہے کہ ماہم مکمل طور پر میری ہو چکی ہے ۔۔۔۔اب فکر نہیں ہے مجھے۔۔۔۔۔میں زندہ رہوں یا مر جاؤں ماہم میری بیوی ہی بن کر رہے گئ “۔۔۔۔میں چپ چاپ اسے سن رہا تھا ۔۔۔۔اس کا پر اعتماد لہجہ مجھے اندر سے توڑنے لگا ۔۔۔۔اس نے مجھے مسکرا کر دیکھا

“اب رہ گئ مجھے مارنے کی بات تو اس پر نا آپ کا کل کوئی اختیار تھا نا آج ہے ۔۔۔۔میری زندگی کا مالک اوپرساتویں آسمان پر بیٹھا ہے ۔۔۔۔۔آپ نے میرا ایکسڈنٹ کروایا ۔۔۔۔میں زندہ بچ گیا ۔۔۔اپ نے عمر کو بابا کہنا سکھایا تو میری آنکھوں کی پتلیاں ہلنے لگیں ۔آپ نے میرا ماسک اتارا تو میں پورے وجود کو ہلانے کے قابل ہو گیا بولنے لگا سانس لینے لگا ۔۔۔۔ڈاکٹر تو شاید یہ کام اگلے چھ مہینے میں کرتے جو آپ کی بادولت ایک گھنٹے میں ہو گیا ۔۔۔۔۔اب بھی مجھے بے تابی سے انتظار ہے کہ کب آپ مجھے سیڑیوں سے دھکا دیں ہو سکتا ہے میں اٹھ کر چلنے لگوں ۔۔۔۔ورنہ ایسے تو مجھے چند مہینے اور اس وہیل چیر ہر گزارنے پڑیں گئے اللہ کی قدرت تو دیکھی۔ اس نے مجھے آپ کے ہاتھوں زندگی کی طرف لٹا دیا ” ۔۔۔۔میں عفان بات پر ششدد سا رہ گیا ۔۔۔۔۔

“بھائی میں نے کبھی آپ کے کسی عمل پر جوابی کاروائی نہیں کی جانتے کیوں” ۔۔۔۔عفان میری طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔

“پوچھیں نا بھائی کیوں “۔۔۔۔وہ مسکرا کر کہنے لگا

“کیوں ۔۔”۔۔میری آواز ایسے نکلی جیسے میں کسی کھائی سے بول رہا ہوں

اس لئے کہ جب تک انسان کسی کے ظلم کا جواب نہیں دیتا اس کا جواب اللہ کہ ذات دیتی ہے ۔۔۔۔آپکی سازشوں پر میں نے آپکے خلاف کوئی سازش نہیں کی۔۔۔کیونکہ

میراایمان ہے ان آیات سے اور بھی مضبوط ہونے لگا جس

میں اللہ نے اپنے ایمان والوں کو تسلی دی ہے تدبیریں کرنے والوں کے خلاف میں تدبیر کرتا ہوں ۔۔۔ “بھائی ۔۔۔۔۔اگر میں بھی آپ کی طرح سازشیں بناتا تب بھی وہ سب نہیں کر سکتا تھا جو میرے رب نے آپکے ساتھ کیا ۔۔۔۔سب کچھ جاننے کے باوجود آج میں چپ ہوں تو آپ کیا سمجھتے ہیں ۔۔۔۔میں کیوں چپ ہوں کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں کوئی فرشتہ صفت انسان ہوں ۔۔۔۔نہیں ؟۔۔ کیونکہ میرا رب آپ کو آپکی ہر تدبیر پر منہ توڑ جواب دے رہا ہے ۔۔۔۔۔مجھے تو ترس آتا ہے آپ پر ۔”۔۔۔۔پھر عفان نے گہری سانس کھنچ کر لی ۔۔۔۔۔

“ذراسوچیں تو سہی بھائی ۔۔۔۔کیا میں اس قابل ہوں کہ ماہم کے دل سے آپ کی محبت کو نوچ پھنکوں ۔۔۔۔اور اپنی محبت کے دیے روشن کر دو ۔۔۔نہیں بھائی ۔۔۔۔۔میں اس قابل نہیں ۔۔۔اور ناہی آپ اس قابل ہیں ۔۔۔۔کتنی کوشش کی آپ نے ماہم کے دل سے مجھے نکالنے کی اس چکر میں کتنی تدبیریں چلائیں ۔۔۔۔ذرا اپنے دل سے پوچھیں۔ کیا نکال پائے مجھے ماہم کے دل اور زندگی سے” ۔۔۔۔۔عفان کی بات پر میرا دل زور زور سے اسکی سچائی کی گواہی دے رہا تھا ۔۔۔۔میں توواقع ماہم کے دل سے عفان کو نکال نہیں پایا تھا ۔۔۔۔۔۔

“آپ نے ماہم کوکھوٹا سکہ سمجھ کر استعمال کیا تھا ۔۔۔مجھے تکلیف پہچانے کے لئے ۔۔۔۔لیکن آپ ماہم کے لئے اسوقت گوہر نایاب تھے جسے وہ بہت پیار اور احتیاط سے رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔مگر ہوا کیا بھائی ۔۔۔۔اللہ نے آج ماہم کو آپ کے لئے گوہر نایاب بنا دیا ایسا نایاب موتی جیسے آپ کبھی پا ہی نہیں سکتے ۔۔۔۔اور ماہم کے لئے ۔۔۔۔۔ماہم کے لئے تو آپ کھوٹے سکے جتنی اہمیت بھی نہیں رکھتے ۔”۔۔۔۔عفان کے الفاظ مجھے اندر سے کسی تیز آرے کی طرح کاٹ رہے تھے ۔۔۔۔۔

“آپ نے سمجھا ماہم ساری زندگی آپ کے لئے آہیں بھر کر گزا دے گی ۔۔۔۔اور اسے یوں دیکھ کر میں پل پل مرتا رہوں گا ۔۔۔۔۔اپنی بیوی کے منہ سے اس کے عاشق کے قصے سننا واقع صبر آزما ہے ۔۔۔۔۔۔آپ تو سمجھتے ہوں گئے نا بھائی اس تکلیف کو ۔۔۔۔کیونکہ مہک بہت بولڈ قسم کی لڑکی ہے اور آپ اسکی زندگی میں آنے والے پہلے مرد بھی نہیں۔ تھے ۔۔۔۔اپنی محبت کے قصے تو سناتی ہو گی آپکو۔۔۔۔۔جس تکلیف میں آپ مجھے دیکھنا چاہتے تھے اس کا مزہ تو آپ نے بھی چکھا ہو گا اللہ کی تدبیریں تو دیکھیں” ۔۔۔۔۔عفان کی یہ بات بھی سچ ہی تھی ۔۔۔

“۔۔آپ نے مجھے مارنا چاہا مگر مار نہیں پائے ۔۔۔۔میری سانسوں کی ڈور توڑنی چاہی مگر توڑ نہیں پائے ماہم کے لئے ہر راہ بند کرنا چاہی مگر بند کر نہیں پائے میرے دل میں ماہم کے خلاف شک کا بیچ بونا چاہا مگر نا کام رہے ماہم کو خوفزدہ حراساں کرنا چاہا مگر وہ بے خوف ہوگی ۔۔۔۔میری غیر موجودگی میں اسے زبردستی پانا چاہا مگر اللہ نے ایک نا دیکھنے والی آڑ اسکے اور آپ کے درمیان ڈال دی آپ چاہ کر بھی اپنے غلط عزائم میں کامیاب نہیں ہو پائے بھائی ۔۔۔۔۔۔اور آج ۔۔۔۔آج آپ اس مقام پر ہیں کہ سچ میں ماہم سے محبت کر بیٹھیں ہیں “۔۔۔۔۔عفان خاموش ہو گیا ۔۔۔۔اور میرے پاس تو جیسے سارے الفاظ ہی گم ہو گئے تھے

“جس آگ میں آپ مجھے جلانا چاہتے تھے اس میں تو آپ خود نا جانے کب سے جل رہے ہیں ۔۔۔۔اور نا جانے کب تک یونہی جلتے رہیں گئے” ۔۔۔۔۔عفان نے اپنی وہیل چیر ہاتھوں سے چلا کر کمرے کے دروازے تک آ گیا ۔۔۔لیکن میں وہاں سے ایک قدم نہیں اٹھا پایا ۔۔۔۔۔بس کسی بے جان بت کی طرح اسے دیکھنے لگا

“چلیں بھائی اپنا آخری حربہ بھی استعمال کر لیں ۔۔۔۔میں آپ کو روکوں گا نہیں ۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے اس بار آپ کامیاب ہو جائیں” ۔۔۔۔۔میں چپ کا چپ مرے مرے قدم اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔۔اپنے کمرے آکر دروازہ بند کر کے بیٹھا رہا ۔۔۔۔۔جو آئینہ آج عفان نے مجھے دیکھایا تھا ۔۔۔۔مجھے اپنا چہرہ اس میں بہت بہانک سا دیکھائی دینے لگا تھا ۔۔۔۔۔اج تک میں کس سے لڑتا رہا کس سے دوشمنی نبھاتا رہا ۔۔۔۔۔عفان سے ۔۔۔۔ماہم سے ۔۔۔۔۔نہیں میں تو انجانے میں اپنے رب سے جنگ کر بیٹھا تھا۔۔۔۔میں نے بنا کسی قصور کے اس کے بندوں کو تکلیف دینی چاہی مگر خود کو اذیت دے بیٹھا ۔۔۔۔۔۔سامنے لگے ڈرسنگ پر میری نظر پڑی تو ۔۔۔۔مجھےاپنا آپ بد صورت لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔میری آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے ۔۔۔۔۔۔یہ سب کیا کر دیا میں نے ۔۔۔۔۔میں اٹھ کر آئنے کے پاس کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔۔مجھے لگا میرا چہرہ مسخ ہو چکا ہے ۔۔۔میرے چہرے کے خوبصورت نقوش بہت بھدے سے لگنے لگیں ہیں میری روشن اور بڑی آنکھیں اندر دھنس گئ ہیں اور بہت چھوئی سے ہو گئیں ہیں ۔۔۔۔میرے خوبصورت تراش کے ہونٹ موٹے اور بدنما سے ہو چکے ہیں رنگت ایک دم سیاہ مائل ہو گئ ہے میرے دل کی کالک کسی نے میرے منہ پر مل دی ہے ۔۔۔۔اور میرے ہاتھ ۔۔۔۔۔ میرے ہاتھ کسی خوفناک جن کی طرح سیاہ اور گندے کالے بالوں سے بھر گئے ہیں اور ان سے خون ٹپک رہا ہے۔۔۔۔۔میں یک دم گھبرا گیا ۔۔۔۔۔جلدی سے واش روم میں جا کر اپنے ہاتھ دھونے لگا اپنا چہرہ رگڑ کر صاف کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔رات تک میں تیز بخار میں پنک رہا تھا ۔۔۔۔۔شاید میری اندر کی آگ نے باہر کی راہ دیکھ لی تھی ۔۔۔۔۔یا میرے اندر کا حسد آج جل کر راکھ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔آج سمجھ آئی تھی کہ زمین جب الاوہ اگلتی ہے تو زمین کی سطح آگ کا سمندر کیوں بن جاتی ہے ۔۔۔ میرا پورا جسم بھی ایسی ہی آگ کی لپیٹ میں تھا ۔۔۔۔۔تین چار دن مجھ میں اتنی سکت بھی نہیں رہی تھی کمرے سے باہر ہی نکل سکوں مما پاپا یہاں تک عفان بھی فون پر میری خیریت پوچھ چکا تھا ۔۔۔۔۔مہک مجھ سے بات نہیں کرتی تھی میرے قریب بھی نہیں آتی تھی بس میرے کام خاموشی سے کر دیا کرتی تھی میں نے مہک کے ساتھ بھی ذیادتی ہی تو کی تھی ۔۔۔۔وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر میرے پاس آئی تھی ۔۔۔۔۔اپنے ماں باپ کی محبت سے محروم تھی اگر میں ذرا سا دل کو بڑا کر کے اسے سچے دل سے اپناتا تو وہ میرے لئے کیا کچھ نہیں کر گزرتی مگر میں تو شاید خود سے اسے چاہ بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔اپنے اندر کا سب کچھ جلا کر بھسم بھی کر لوں تب بھی ماہم کو اپنے دل سے ایک انچ بھی باہر نہیں نکال سکتا یہ میرا خوبصورت جذبہ نہیں بلکہ سزا ہے جو نا جانے مجھے کب تک بھکتنی ہے ۔۔۔۔۔۔کافی دن لگے تھے مجھے سنبھلنے میں میں نے خود کو بہت مصروف کر لیا تھا عفان اب کافی ٹھیک ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔اسٹک کی مدد سے چلنے لگا تھا ۔۔۔۔اپنا آفس بھی جوائن کر چکا تھا ہر مہینے ایک چیک مجھے دے دیتا جیسے میں خاموشی سے رکھ لیتا پاپا اور مما واپس خوش رہنے لگے تھے ۔۔۔۔گھر کی رونقیں شاید عفان کے دم سے ہی تھیں اس لئے ہنسی مزاق پاپا کی مما سے نوک جھونک سب کچھ جیسے لوٹ آیا تھا اب عفان ہمارے ساتھ ہی ڈنر کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔مہک اور ماہم میں اب بھی اتفاق محبت اول روز جیسا ہی تھا بس ایک میں کہیں بھی نہیں تھا ۔۔۔۔ نا ماہم کے لئے نا مہک کے دل میں ۔۔۔۔۔مگر میری ہزار کوشش کے باوجود کچھ چیزیں میرے اب بھی اختیار میں نہیں تھیں ۔۔۔۔ان میں سے ایک عمر سے محبت اب بھی مشعل سے سبقت لے جاتی ۔۔۔۔۔دوسرا یہ کہ ماہم پر نظر پڑتے میرا دل اب بھی بے اختیار ہو جاتا لاکھ دل کو روکنے ٹوکنے پر بھی میں ماہم سے نظر نہیں ہٹا پاتا تھا ۔۔۔۔۔میرے ہواس اس وقت بے قابو ہوگئے جب عفان نے الگ رہنے کی فرمائش کی ۔۔۔۔۔ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے ڈنر کے دوران یہ میرے دل و دماغ پر یہ ایک دھماکہ تھا ۔۔۔۔

“پاپا میں الگ رہنا چاہتا ہوں” ۔۔۔۔عفان اپنی پلیٹ میں۔ جھکا چمچ سے چاول کھانے کے بجائے اسے الٹ پلٹ کرنے میں مصروف تھا عفان۔ کی بات پر جہاں میرا چمچ رکا وہاں پاپا بھی حیرت سے کچھ ثانیے بول نہیں سکے

“کیوں عفان ۔۔۔۔یہاں کیا مسلہ ہے ۔”۔۔۔پاپا کے لہجے میں۔ خود با خود سختی عود آئی تھی

“کوئی مسلہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔بس میرے خیال میں الگ رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔۔۔۔آپ یہ گھر کامران بھائی کے نام کر دیں پاپا “۔۔۔۔عفان کی غیر متوقع بات پر میں چپ نہیں رہ پایا

“کیوں کر دیں میرے نام ۔۔۔۔اس میں تمہارا بھی حق ہے ۔۔۔۔اوریہ الگ رہنے کی بات بیچ میں کہاں سے آگئ ۔۔۔۔۔تمہیں پرابلم کیا ہے یہاں عفان” ۔۔۔۔۔میرادل زور زور سے دھڑک رہا تھا عفان کے یہاں سے جانے مطلب ماہم اور عمر کا میری نظروں سے اوجھل ہو جانا تھا ۔۔۔۔۔اور میں یہ کیسے برادشت کر سکتا تھا ۔۔۔یہ آنکھوں کی پیاس تو بجھ رہی تھی میری ۔۔۔اس میں بھی وہ مجھے تشنہ لب رکھنا چاہتا تھا

“میں اپنی خوشی سے اپکو یہ گھر دے رہا ہوں ۔”۔۔۔۔۔عفان نے مسکرا کر کہا

“بٹیا ۔۔۔۔تم بتاؤں کیا ہوا ہے عفان کو” ۔۔۔۔پاپا نے ماہم سے پوچھا جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔کچھ نہیں بولی ۔۔۔۔۔

“عفان ماہم بول کیوں نہیں رہی ہے تم نے منع کیا ہے اسے۔۔۔۔۔میرے کوئی بہت سارے بچے تو نہیں ہیں ۔۔۔۔جو یہاں رہنے میں تم لوگوں کو کوئی تنگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔۔۔۔کیوں میرا گھر خالی کر کے جانا چاہتے ہو۔۔۔”۔پاپا کہ بات پر عفان چپ ہی رہا

“عفان اگر تمہیں کوئی پرابلم ہے تو ٹھیک ہے میں کچن اوپر بنوا دیتا ہوں ویسے بھی اوپر ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔۔۔۔تم اوپر آرام سے رہ سکتے ہو” ۔۔۔۔میں اسے روکنے کی کوشش ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔

“نہیں ایسا کوئی بٹورہ نہیں ہوگا یہاں ۔۔۔۔۔عفان تم کہیں نہیں جاؤں گئے” ۔۔۔۔پاپا اٹل انداز سے بولے

“پاپا میں چند دن میں شفٹ کر رہا ہوں” ۔۔۔۔عفان نے بہت سہولت سے جواب دیا ۔۔۔۔

‘عفان “

“پلیز میں نہیں رکوں گا” ۔۔۔۔یہ کہہ کر عفان ٹیبل سے اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔ماہم خاموشی سے نظریں جھکائے کسی مجرم کی طرح بیٹھی رہی

“ماہم بٹیا کیا تم بھی یہی چاہتی ہو” ۔۔۔۔پاپا نے اسکے جھکےچہرے کو دیکھ کرکہا جہاں نیم رضامندی صاف ظاہرتھی

“جی پاپا ۔۔۔۔مگر آپکے اور مما کے بغیر نہیں” ۔۔۔۔۔اب اس نے نظریں اٹھائیں تو آنسوں آنکھوں سے چھلکنے لگے ۔۔۔

“۔۔آپ ہمارے ساتھ چلیں پاپا “

“نہیں مما پاپا یہاں سے کہیں نہیں جائیں گئے الگ رہنے کا شوق تم لوگوں کو ہے” ۔۔۔۔۔۔میں نے حتمی انداز سے کہا ۔۔۔بس ایک نظر ماہم نے مجھ پر ڈالی اس سے ایک پل ہی میری نظروں کا تصادم ہوا اتنی نفرت تھی اسکی آنکھوں میرا دل سہہ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔مجھے لگا میری زبان ہی جیسے بند ہو گئ ہو میری آنکھیں پتھرا گئ ہوں ۔۔۔۔۔ماہم نے نظروں کا زاویہ پاپا کی طرف موڑ لیا وہ پاپا کے برابر میں ہی بیٹھی تھی انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی ۔۔۔۔۔

“پاپا آپ میرے سسر نہیں باپ ہیں آپ جانتے ہیں نا ۔۔۔۔میں نہیں رہ سکتی آپ کے اور مما کے بغیر ۔۔۔۔اپ لوگ میرے ساتھ چلیں ۔۔۔۔۔”

“لیکن یہاں کیا مسلہ ہے ۔”۔۔پاپا اب نرم پڑنے لگے تھے

“عفان نہیں رکیں گئے پاپا ۔۔۔۔۔۔مجھ سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ میں ان سے اختلاف کرنے کا سوچوں بھی نا ۔۔۔۔۔پلیز میرے ساتھ چلیں ۔۔۔۔عمر بھی آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔”

“اور مشعل۔۔۔ کیا وہ رہ سکتی ہے ۔۔۔۔یا میں رہ سکتا ہوں اسکے بنا ۔۔۔۔۔بیٹھئے بیھٹائے اس لڑکے کو سوجی کیا ہے ۔۔۔امتحان میں ڈال کر رکھ دیا ہے اس نے “۔۔۔۔پاپا نے ایک ہاتھ سے ماہم کا ہاتھ تھاما اور دوسرے ہاتھ سے اسکے سر پر پیار کرنے لگے

“تم مت روں بات کرتا اس نالائق سے “۔۔۔۔

“اور اگر وہ نہیں مانے تو۔۔۔”۔

“اگر نہیں مانا چلیں گئے تمہارے ساتھ” ۔۔۔۔پاپا کی بات پر وہ خوش ہوگی ۔۔۔۔۔

مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ مہک چپ چاپ کھانا کھاتی رہی کچھ نہیں بولی ۔۔۔۔۔۔میں کھانا وہی چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔مہک جب کمرے میں آئی تو میں اس پر برس پڑا

“تم کیوں چپ تھی ڈنر پر ۔۔۔ماہم کو روکنے کے لئے ایک بار بھی تم نے نہیں کہا کیا مطلب سمجھو میں اس بات کا “

“میرے خیال سے مطلب تو تم سمجھ گئے ہو ۔۔۔۔۔میں بھی یہی چاہتی ہوں” ۔۔۔۔مہک بیڈ پر مشعل کو لیٹا کر سلانے کے لیے تھتھپانے لگی میں غصے میں اس کے پاس آکر اسے گھورنے لگا

“یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کیا اہمیت رکھتی ہے میرے لئے “

“نہیں یہ جانتے ہوئے کہ تم اسکے لئے کیا اہمیت رکھتے ہو ۔۔۔۔۔۔اور پھر میں بھی انسان ہوں کامران ۔۔۔۔تم مجھے میری حیثیت سے قبول کرو ۔۔۔۔مجھ میں ماہم کو ڈھونڈنا چھوڑ دو ۔۔۔۔”

“شکل دیکھی ہے تم نے اپنی ۔۔۔۔ماہم سمجھو گا تمہیں میں ؟…ماہم بہت معصوم اور پاکیزہ جذبوں سے گوندھی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔ اور تم ۔۔۔۔میری بات پر تکلیف ہوتی ہے تمہیں اور تم جو مجھے اپنے بوائے فرینڈز کے قصے سناتی ہو ۔۔۔۔یو آر سچ آ کریکٹر لیس “۔۔۔۔میں دانت چبا کر اسے آئنہ دیکھانے لگا مگر غصے میں آنے کے بجائے مہک بس مجھے دیکھنے لگی

“ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھ لو کامران پارسا تو تم بھی نہیں ہو ۔۔۔۔اور میں تمہارے اندر کسی بوائے فرینڈز کو ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرتی بس جو جیسا لگتا ہے وہی بتاتی ہوں” ۔۔۔۔۔میں غصے سے اپنا نائٹ سوٹ لئے واش روم میں جا گھسا

*********…….*********

چند دن میں عفان مما اور پاپا کے ساتھ اپنے گھر جانے کے لیے تیار تھا ۔۔۔۔یہاں سے سوائے اپنے کپڑوں کے انہوں نے کچھ بھی نہیں لیا ۔۔۔۔میں اپنے کمرے میں ماہم اور عمر کے جانے کا ماتم کر رہا تھا ان دونوں کو نا دیکھنے کا خیال بھی سوہانے روح تھا میرے لئے ۔۔۔۔میرے کمرے کا دروازہ ناک ہوتے ہی کھل گیا سامنے عفان کھڑاتھا اسے دیکھ کر میں رخ موڑ کر کھڑا ہو گیا سامنے کھڑی سے پردے ہٹائے اور باہر لان کی طرف نظریں جما لیں ۔۔۔۔

“بھائی ہم جا رہے ہیں “

عفان کی بات سے میری پیشانی کی شکنیں اور گہری ہوگئیں

“ہاں تو جاؤ روکا کس نے ہے “۔۔۔۔میں نے تلخی سے کہا

“گلے ملیں گئے نہیں ۔۔۔۔۔”

“نہیں “۔۔۔۔۔

“پوچھے گئے بھی نہیں کہ میں کیوں جا رہا ہوں” ۔۔۔عفان ایک ایک قدم میری طرف بڑھاتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔

“نہیں۔”۔۔۔ میں نے غصے سے کہا

“کیا کرو بھائی ماہم نے ضد ہی پکڑ لی تھی میں انکار نہیں کر سکا پھر اسکی بات بھی جائز تھی” ۔۔۔میں پل میں پلٹ گیا حیرت سے عفان کی طرف دیکھا

“ماہم ۔۔۔۔ماہم جانا چاہتی ہے یہاں سے” ۔۔۔۔میں نے بے یقینی سے کہا

“ہاں “

“کیوں ۔”۔۔۔میں نے سامنے چھوٹی شیشے کی گول میز سے سگریٹ کی ڈبیہ اٹھائی اور سگریٹ نکال کر منہ میں رکھ کر لیٹر سے جلانے لگا ۔۔۔۔اندر دہکتی ہوتی آگ شاید اس دھویں سے ہی کم ہو سکتی تھی ۔۔۔۔۔

“یہ تو اسی کو معلوم ہو گا ۔۔۔۔۔مما پاپا کو بھی وہ اپنے ساتھ لیجانا چاہتی تھی اور اس نے انہیں منا ہی لیا ۔۔۔ سچ کہو بھائی تو میں بھی یہی چاہتا تھا “۔۔۔۔عفان کی بات پر میں غصے سے سگریٹ کے لمبے لمبے کش لینے لگا ۔۔۔۔۔باہر دھواں پھینکتے ہوئے مجھے لگ رہا تھا کہ سینے میں لگی آگ بھی اس دھویں کے ساتھ اگل رہا ہوں میرے عقب سے عفان کی آواز آئی

“عورت اپنے اوپر اٹھنے والی ہر نظر کو پہنچان جاتی ہے۔۔۔۔شاید آپکی نظروں کا مفہوم اب ماہم سے برداشت نہیں ہے ۔۔۔۔اور مجھ سے بھی ۔۔۔میں کیسے سہہ جاؤں کہ میری ماہی کو کوئی اتنی بقرار نگاہوں سے دیکھے “۔۔۔۔۔۔ عفان کی آواز کی گونج اتنی تھی کہ میرے ہاتھ سے سگریٹ گر کر میرے پاؤں کے قریب قالین پر جا گرا ۔۔۔۔میرادل ایک پل کو دھڑکنا بھول گیا ۔۔۔۔تو کیا میری اس چوری کی پکڑ ابھی باقی ہے ۔۔۔۔ یا اللہ کوئی ایسا روشن دان تو میرے لئے کھلا رہنے دے کہ میں سانس لے سکوں ۔۔۔۔مجھے لگا چھپکے چھپکے ماہم کو زندگی بھر دیکھ کر جی لوں گا ۔۔۔۔مگر شاید اسکی سزا بھی مجھے ملنی تھی ۔۔۔۔وہ بھی اتنی جان لیوا ۔۔۔۔۔عفان نے سگریٹ قالین سے پکڑ کر ایش ٹرے میں رکھ کر بجھا دی۔