458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 29

Tadbeer by Umme Hani

مجھے اپنا پورا وجود بے جان سا لگ رہا تھا مگر میں سوچ چکا تھا کہ میرا ہٹ جانا ہی بہتر ہے

کامران کے کمرے کو دستک دے کر میں نے نیب گھمایا ۔۔۔دروازہ کھل گیا میں بہت ہی شکست خوردہ قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوا

کامران نائٹ سوٹ میں ملبوس ڈرسنگ کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا جیسے ابھی نہا کر نکلا ہو۔۔۔۔شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھلے ہوئے تھے ۔۔۔۔گردن کے قریب لگے ناخن کے کھرونچ پر وہ لوشن لگا رہا تھا ۔۔۔۔مجھے دیکھ کر بوکھلا سا گیا جلدی سے اپنے بٹن بند کرنے لگا فورا سے میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔

“آ گئ تمہاری ماہی واپس “۔۔۔۔۔کامران کے طنز پر میں نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں۔ بولا

“ہاں آ گئی “۔۔۔۔۔میری نظریں خود با خود ہی جھک گئیں جو بات میں کرنے آیا تھا وہ میرے لئے بھی آسان تو نا تھی لگ رہا تھا اپنی زندگی کا کل اثاثہ اور متاع کامران کے حوالے کرنے آیا ہوں وہ بھی بے مول اور منت کے ساتھ

“چلو شکر کرو آ گئ ہے ۔۔۔اب یہاں کیا لینے آئے ہو ۔۔۔۔”۔کامران کا مدافعانہ انداز پر بھی میں دھیمے لہجے میں ہی بولا

“لینے نہیں دینے آیا ہوں” ۔۔۔۔کامران نے بڑی بے یقینی سے مجھے دیکھا پھر اپنے ٹراؤزر کی جیب میں ہاتھ ڈالے مجھے استفہامیہ انداز سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔جیسے مجھ سے پوچھ رہا کہ تم دے کیا سکتے ہو مجھے ۔۔۔۔میں نے ایک گہری سانس لی گلا کھنکھارا

“آپ چاہتے ہیں نا کہ میں ماہم کو چھوڑ دوں ۔۔۔۔طلاق دے دوں ۔۔۔۔میں چھوڑ دونگا اسے ۔۔۔سارا الزام بھی خود پر لے لوں گا ۔۔۔ یہاں رہوں گا بھی نہیں ۔۔۔۔چلا جاؤں آپ لوگوں کی زندگی سے ۔۔۔۔۔بس آپ وعدہ کریں آپ ماہم کو خوش رکھیں گئے۔۔۔۔اسے عزت سے اپنائے گئے ۔۔۔۔ “میری بات پر وہ ہسنے لگا

” کل تک تو بڑے دعوے کر رہے تھے ۔۔۔اسے نا چھوڑنے کے ۔۔۔۔اب کیا ہوا ۔۔۔۔۔ماہم کی چند گھنٹوں کی دوری نے تمہیں شک میں ڈال دیا

۔۔۔۔”۔اینی وئے ۔۔۔۔تم ماہم کو طلاق دینا چاہتے ہو شوق سے دو ۔۔۔۔ویسے یہ تمہارا ذاتی معاملہ ہے ۔۔۔مائی ڈیر بردار۔۔۔۔۔ لیکن اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری چھوڑی ہوئی بیوی کو میں اپناوں گا تو یہ بھول ہے تمہاری۔۔میں نے تو آج تک کسی کا جوٹھا پانی تک نہیں پیا اور یہ تو پھر بیوی ہے ۔۔۔وہ بھی تمہاری۔۔”۔۔پہلے تو مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ یہ کامران ہے ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ مزید کوئی گھٹیا الفاظ ادا کرتا میں نے صاف گوئی سے کہا

“ہمارے درمیان ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔”

“میں جانتا ہوں” ۔۔۔۔وہ میرے قریب آ کر استزائیہ انداز سے مسکرایا ۔۔۔۔

” میں جانتا ہوں ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔لیکن۔ن۔۔۔ن ۔۔۔۔پھر بھی ۔۔۔۔۔پھر بھی۔۔۔۔ میں اسے کیوں اپناؤ” ۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں حقارت کی چمک تھی اور چہرے پر مضحکہ خیز مسکراہٹ کچھ پل تو میں کنگ سا رہ گیا میرے لئے اسکی باتیں اور انداز دونوں ہی نا قابل فہم تھا ۔۔ ۔۔۔۔۔کہاں تو وہ ہر قیمت پر ماہم کو اپنانے کے لیے تلا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

“آپ پہلے اسی بات پر باضد تھے ۔۔۔۔اب کیا مسلہ ہے” ۔۔۔۔میں اسکی اجنبیت پر حیران تھا۔۔

“میرا مسلہ ماہم نہیں۔۔۔۔ڈیر برادر ۔۔۔۔۔میرا مسلہ تو تم ہو” ۔۔۔وہ اپنی انگشت شہادت میرے سینے کر رکھ کر بولا ۔۔۔۔۔

“تم ہو میرا مسلہ ۔۔۔۔ماہم تو میری پسند ہو ہی نہیں سکتی اور پھر محبت” ۔۔۔۔۔۔وہ پھر سے مکرو ہنسی ہسنے لگا ۔۔۔۔۔

“ڈری سہمی معمولی شکل وصورت کی ہمارے ہی ٹکڑوں پر پلنے والی یتیم سی ماہم ۔۔۔۔ تمہیں کس اینگل سے وہ میرے ساتھ اچھی لگتی ہے ۔”کامران اپنا ایک آبرو چڑھا کر بولا ۔۔۔۔یہ روپ تو کامران کا الگ ہی تھا جو میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

“۔۔میں تو بہت خوبصورت۔۔۔۔با عتماد ۔۔۔ویل ایجوکیٹیڈ ۔۔۔۔اور اعلی خاندان کی لڑکی ڈیزیو کرتا ہوں ۔۔۔۔اور شادی بھی ایسی ہی کسی لڑکی سے کرو گا جو میرے ساتھ پرفیکٹ لگے تم تو جانتے ہو مجھے ہر چیز بلکل پرفیکٹ پسند آتی ہے ۔۔۔۔۔ماہم تو میری چوائس کے پاسنگ بھی نہیں ہے” ۔۔۔۔۔اتنی ہزمیت ۔۔۔۔اتنا گھمنڈ ۔۔۔۔کامران کے تمسخر اڑانے والے انداز نے مجھے سلگا کہ رکھ دیا ۔۔۔اسکی باتیں میرے اعصاب پر قیامت بن کر ٹوٹی تھیں۔۔۔یہ سب تو میرے تصور اور گمان میں بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔ میں مشتعل ہو گیا

“وہ سب کیا تھا جو تم اتنے عرصے سے ماہم کے ساتھ کر رہے تھے” ۔۔۔۔اسے آپ کہنا مجھے ادب کی توہین لگ رہا تھا ۔۔۔۔

“محبت کا ڈرامہ ۔۔۔اور وجہ ۔”۔۔۔۔۔۔وہ زور زور سے ہسنے لگا ۔۔۔

“وجہ تم ہو عفان ۔۔۔۔۔بہت شوق ہے تمہیں مجھ سے آگے بڑھنے کا ۔۔۔۔ہر چیز میں مجھ سے سبقت لے جانے کا ۔۔۔۔بہت تکلیف ہوتی تھی مجھے جب مما پاپا عزیز و اقارب دوست واحباب سب تمہارے ہی گن گاتے نظر آتے تھے۔۔۔۔۔تم نے دنیا میں قدم رکھتے ہی میری امپوٹنس ہی مجھ سے چھین لی ۔۔۔۔۔سب کو بس عفان ہی نظر آتا تھا ۔۔۔۔عفان اسکول میں اول ۔۔۔ عفان کھیل کے میدان میں اول۔۔۔ عفان خاندان میں ادب ولحاظ میں اعلی ۔۔۔۔بس عفان ۔۔۔۔۔۔آگ لگ جاتی تھی مجھے جب ہر جگہ صرف تمہارے نام کا ڈنکا بجنے لگتا تھا ۔۔۔اسی دن میں نے سوچ لیا تھا ۔۔۔۔ایک دن تم سے تمہاری سب سے قیمتی چیز تم سے چھین کر تمہیں بھی زیر زیر کر دوں گا ۔۔۔۔مگر افسوس صد افسوس میں جان ہی نہیں پایا کہ تمہارے لئے سب سے قیمتی شے ہے کیا ۔۔۔لیکن ایک بار وقت مجھ پر بھی مہربان ہو ہی گیا ۔۔۔۔جب تمہارے ٹاپ کرنے کی خوشی میں سب ڈنر باہر کرنے گئے تھے سوائے میرے ۔۔۔۔۔تمہاری کوئی بھی جیت میرے لئے خوشی کا باعث تھی ہی نہیں جیسے میں سلیبریٹ کرتا مجھے تو خواہش تھی کہ تمہاری ہار پر جشن مناوں ۔۔۔اور وہ موقع بھی مجھے مل گیا ۔۔۔۔ اس دن میرا لیپ ٹاپ ٹھیک سے کام نہیں کر رہا تھا اور مجھے ایک ضروری ای میل بھیجنی تھی ۔۔۔۔۔۔اس لئے سوچا تمہارا لیپ ٹاپ یوز کر لوں ۔۔۔۔لیکن جب میں نے تمہارا لیپ ٹاپ آن کیا۔ تو اس پر کوڈ لگا تھا ۔۔۔لیپ ٹاپ تو نہیں کھلا مگر تمہارا راز میرے سامنے کھل گیا ۔۔۔لیپ ٹاپ آن ہوتے ہی ماہم کی تصویر سامنے لگی تھی ۔۔۔۔کچھ شک تو مجھے پہلے سے تھا ۔۔۔تم ماہم کے ہر معاملے میں انوالو ہوتے تھے یقین کی مہر اس تصویر نے لگا دی ۔”۔۔۔۔کامران کی باتیں میرے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔کس قدر نیچ سوچ تھی اسکی

“میں سمجھ گیا کہ ماہم تمہارے لئے خاص ہے ۔۔۔۔پہلے تو مجھے تمہاری پسند پر حیرت ہوئی ماہم بھی کوئی لڑکی ہے۔۔۔ جس سے شادی کی جائے ۔۔۔مگر اٹس یور چوائس مجھے کیا ۔۔۔۔پھر میں نے سوچا کہ ماہم نامی کھوٹا سکہ اگر میرے کام آ جائے تو کیا مضائقہ ہے ۔۔۔۔بس پھر میں ماہم سے باتیں کرنے لگا اسکی جھوٹی تعریفیں کرنے لگا ۔۔۔۔تمہاری پسند کے کھانے اپنی فرمائش پر بنوانے لگا ۔۔۔۔۔تمہارے سامنے اسکے کھانے کی تعریف کرتا تو تمہارا بجھا چہرہ دیکھ کر میرا دل چین کی بانسری بجانے لگتا ۔۔۔۔مجھے ماہم میں کوئی دلچسپی نہیں تھی سوائے اس کے وہ تم سے دور ہو جائے اس لئے اس کے ہر آنے والے پرپوزل پر سب سے ذیادہ میں حمایت کرتا تھا ۔۔۔مگر تم میری توقع سے ذیادہ ہوشیار نکلے،۔۔۔جب مما پاپا سے ماہم کے لئے بات کر رہے تھے ۔۔۔میں باہر کھڑا سن رہا تھا ۔۔۔کیونکہ ماہم کے آنے والے پرپوزل پر مما پاپا کی نیم رضامندی پر تمہارارنگ سا اڑ گیا تھا ۔۔۔۔اس لئے مجھے شک ہوا کہ کہیں تم ماہم کو اپنے لئے مانگ نا لو ۔۔۔اور ہوا بھی وہی ۔۔۔۔مما پاپا پہلے ہی مجھے ماہم کے حوالے سے دیکھتے تھے۔ پھر ماہم بھی میرے جال میں پھنس چکی تھی مجھے معلوم تھا کہ وہ انکار نہیں کرے گی اس لئے مجبورا مجھے ماہم سے منگنی کرنی پڑی ۔۔۔۔میرامقصد توصرف تمہیں تکلیف پہنچانا تھا اس لئے انگوٹھی بھی تمہارے ہاتھ سے پہنوائی۔۔۔۔۔مگر جب تم نے ماہم سے کنارہ کشی شروع کر دی تو مجھے اپنے فیصلے پر افسوس ہونے لگا ۔۔۔میں تمہیں تڑپتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا عفان ۔۔۔۔۔اس لئے جان بوجھ کر تمہارے ساتھ ڈنر پلاں کیا ۔۔۔تمہارے سامنے ماہم کا ہاتھ پکڑا میرے جمعلے تمہارے دل پر نشتر کی طرح لگ رہے تھے اور میں اندر ہی اندر مسرور ہو رہا تھا ۔۔۔۔پھر میں نے سوچا کہ ماہم سے شادی کر لینے میں کچھ حرج نہیں ہے۔۔۔۔کچھ تو تمہیں جلانے میں مزہ آئے گا ۔۔۔پھر جب بدلہ پورا ہو جائے گا ۔۔۔۔تودوسری شادی کر لوں گا ۔۔۔۔ماہم کا کیا ہے پڑی رہے گی گھر کے کونے میں فالتوں سامان کی طرح” ۔۔۔۔۔اسکی بے حسی کو میں گم صم کسی بے جان بت کی طرح سن رہا تھا ۔۔۔۔۔۔مجھے لگ رہا تھا آسمان میرے سر پر آن گرا ہو ۔۔۔کیسے کیسے انکشافات کر رہا تھا وہ مجھ پر میں اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا میرا چہرا سرخ ہونے لگا ۔۔۔۔۔ماہم کے بارے اسکے خیالات سنکر غصہ مجھے ماہم پر بھی آنے لگا تھا ۔۔۔۔یہ تھا ماہم کا انتخاب ۔۔۔۔اسکی وجہ سے مجھ سے پیچھا چھڑوانا چاہتی تھی ۔۔۔۔جو اسے اپنانے کو تیار ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔کامران پھر سے بولنے لگا

“مگر جب مجھے معلوم ہوا کہ تم یہاں رہنا ہی نہیں چاہتے جاب کے کے لئے اٹلی جانا چاہتے ہو ۔۔۔تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ تمہاری غیر موجودگی میں میرا ماہم سے شادی کا بھلا کیا فائدہ تھا ۔۔۔مگر اسوقت میں انکار کی پوزیشن میں بھی نہیں تھا ۔۔۔۔اور نا ہی شادی پر میرا بھاگنے کا کوئی سوچا سمجھا منصوبہ تھا مگر مجبورا مجھے بھاگنا پڑا ۔۔۔کیوں ۔۔۔وہ ایک الگ کہانی ہے ۔۔۔مگر مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ پاپا تمہارا نکاح ہی ماہم سے کر دیں گئے ۔۔۔۔۔

جب میں واپس آیا تو میری سوچ کے برخلاف ماہم میرے ساتھ لگ کر رونے لگی ۔۔۔۔حالانکہ میں تو سمجھا تھا کہ وہ شکل تک نہیں دیکھے گی میری نفرت کرنے لگی گی مجھ سے ۔مگر “۔۔کامران ہسنے لگا میں گم صم کھڑا اسے دیکھنے لگا

۔۔”۔۔وہ بھی کیا کرتی “۔۔۔کامران نے ایک گہری سانس لی میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا

“چچ چچ ۔۔۔۔۔بیچاری دل کے ہاتھوں مجبور تھی ۔۔۔محبت جو کرتی ہے مجھ سے ۔۔۔۔۔لیکن تمہارا غصے سے سرخ ہوتا چہرا بند مٹھیاں میری سمجھ سے باہر تھیں تمہیں اتنا غصہ آ ہی کیوں رہا تھا وہ تو بعد میں مجھ پر کھلا کہ وہ بیوی بن چکی ہے تمہاری” ۔۔۔۔۔کامران کا انداز مزاق اڑانے والا تھا ۔۔۔۔۔۔۔کامران نے ڈرامائی انداز سے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا

“اف ۔۔۔۔۔سو۔۔۔سوری یار ۔۔۔بیوی نہیں ۔۔۔۔۔من ۔۔۔۔۔کو۔۔۔۔حہ ۔۔۔۔۔بیوی وہ تمہاری بن ہی نہیں سکتی آفٹر آل میں اسکی محبت جو ہوں ۔۔۔۔وہ بھی پہلی اور آخری ۔۔۔۔۔تمہیں کبھی نہیں اپنائے گئ وہ ۔۔۔۔میرے اتنے سال کی محنت کچھ تو رنگ لائے گی نا عفان ۔۔۔”۔وہ اپنی آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے تمسخرانہ طریقے سے ہسنے لگا اور میں گم صم بت بنا اسکی بکواس سننے پر مجبور تھا ۔۔۔۔میرے پاس کہنے کو ایک لفظ نہیں تھا ۔۔۔۔سارے الفاظ ہی ختم ہوگئے تھے مگر کامران کے پاس مجھے سنانے کے لئے الف لیلی کی پوری داستان تھی جو وہ سنا بھی رہا تھا ۔۔۔۔

“پہلے پہل تو مجھے واقع یہ سب جان کر بہت تکلیف ہوئی کہ ماہم تمہاری ہو گئ ہے ۔۔۔۔ اپنی شکست کہاں قبول کر سکتا تھا میں۔۔۔۔مگر تمہیں اس سے ذیادہ تکلیف میں دیکھ کر میں مطمئن سا ہو گیا ۔۔۔۔ ماہم بار بار جب میرے کہنے پر تم سے طلاق مانگتی ہے ۔۔۔میری محبت کا دم بھرتی ہے۔۔۔۔تکلیف تو دیتا ہو گا تمہیں ۔۔۔اپنی بیوی کے منہ سے کسی اور کی محبت کا اظہار سننا ۔۔۔۔برا تو ۔۔۔لگتاہوگا نا عفان” ۔۔۔۔۔کامران کی بات سوفیصد سچ تھی ۔۔۔میں نا چاہتے ہو ہوئے بھی نظریں چرا گیا ۔۔۔۔۔اس تلخ حقیقت سے منہ نہیں چھپا سکتا تھا ۔۔۔۔۔ وہ میری حالت پر قہقے لگانے لگا ۔۔۔۔۔

“ہائے۔۔۔ وہ بھی کیا کرے بیچاری ۔۔۔۔مجبور ہے میری محبت کے ہاتھوں ۔۔۔۔جو بیج میں نے اسکے دل میں بویا تھا آج وہ تناور درخت بن چکا ہے ۔۔۔۔میں اسکے ساتھ کچھ بھی کر لوں کچھ بھی کہہ دو ۔۔۔۔میرا بس ایک بار سوری کہنا اسے وہیں لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔۔۔وہ میرا رویہ بھول کر پھر ویسی ہی ہو جاتی ہے۔۔ورنہ تم خود سوچوں جو شخص عین شادی کے موقع پر ساری برادری کے سامنے نکاح کے وقت غائب ہو جائے ۔۔۔ وہ لڑکی تو اس شخص کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہیں ہو سکتی ۔۔۔مگر ماہم ۔۔۔۔وہ تو یار میرے سینے سے ہی لگ گئ “۔۔۔۔کامران اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر بڑی کمینگی سے بولا میں بس ضبط کے مراحل سے گزر رہا تھا ۔۔۔۔اپنے ہونٹ بینچ کر خود کو بولنے سے باز ہی رکھا ۔۔۔۔۔۔

“اس لئے اب مجھے کوئی فکر نہیں ۔۔۔۔جاؤں عفان تمہیں تمہاری ماہی مبارک ہو ۔۔۔۔ایک ایسی بیوی جو زندگی تو تمہارے ساتھ گزارے گی مگر دم میری محبت کا بھرتی رہے گی ۔۔۔جب بھی مجھے دیکھ کر وہ ٹھنڈی آہیں بھرے گی ۔۔۔۔تو جو آگ تمہیں لگے گی نا عفان بڑا سکون ملے گا مجھے “۔۔۔۔میں نے متاسفانہ نظروں سے کامران کو دیکھا ۔۔۔۔میرا سگا بھائی ہو کر ایسی گری ہوئی سوچ کا مالک تھا

“تمہیں اگر تکلیف مجھ سے تھی کامران تو ماہی کے جذبات سے کھیلنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔وہ کوئی بے جان چیز نہیں ایک جیتا جاگتا وجود ہے ۔۔۔مرد بن کر براہ راست میرا مقابلہ کرتے ۔۔۔۔اپنی دشمنی کے لئے تم نے ایک کمزور سی لڑکی کا سہارا لیا “۔۔۔۔میری برداشت اب جواب دے چکی تھی ۔۔۔۔میں نے کامران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا

“آج جو تم نے حرکت کی ہے نفرت ہو گئ ہو گی سے تمہارے نام سے بھی” ۔۔۔۔۔میری بات پر وہ مجھے دیکھ کر استزائیہ ہنسی ہسنے لگا ۔۔۔۔

“میں نے کہا نا تم سے ۔۔۔۔۔۔میرا ایک سوری کافی ہے اس بیوقوف لڑکی کو مزید بیوقوف بنانے کے لئے ۔۔۔۔

اوہ ۔۔۔یاد آیا مجھے ۔۔۔تم نے ماہم کا ڈریس غور سے دیکھا۔۔۔میری ہی فرمائش پر پہنا تھا اس نے ۔۔۔آج تو کافی ہاٹ لگ رہی تھی یار ۔”۔۔۔جس انداز سے اس نے کہا میرے پورے وجود میں آگ دھکنے لگی

“بکواس بند کرو اپنی اس سے آگے ایک لفظ بھی کہا تو گلہ دبا دونگا تمہارا “۔۔۔۔۔میں کامران کا گریبان پکڑے شیر کی طرح چنگھار رہا تھا مگر اس پر مطلق کوئی اثر نہیں ہوا تھا وہ ہنس رہا تھا میری اذیت سے حظ اٹھا رہا تھا اور میرابس نہں۔ چل رہا تھا کہ سچ میں اس کا قتل ہی کر ڈالو ایک جھٹکے سے کامران نے اپنا گریبان مجھے سے چھڑوایا تھا ۔۔۔۔مسکراہٹ اب بھی اسکے چہرے پر تھی ۔۔۔۔چہرے کے تاثرات بدلنے میں اسے شاید کمال حاصل تھا ۔۔۔۔اپنے چہرے پر بناوٹی افسردگی لائے وہ بولا

“سوری عفان میں تو بھول ہی گیا تھا ۔۔۔۔وہ بیوی ہے تمہاری برا لگ رہا ہو گا میرے زبان سے یہ سن کر ۔۔۔ مگر میں بھی کیا کرو یار کہے بنا کہاں چین آئے گا مجھے ۔۔۔۔میرے کمرے میں۔ پھیلی کلون کی خوشبوں اچھی طرح پہچان لو عفان”۔۔۔۔کامران نے اپنے کمرے کے چاروں طرف نظریں گھماتے ہوئے کہا ۔۔۔۔اسکے کمرے میں واقع اس وقت ایک تیز قسم کے پرفیوم کی خوشبوں پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

“کیونکہ آج یہ خوشبوں تمہیں تمہاری ماہی سے بھی آئے گئ ۔۔۔میرے فیورٹ کلون کی ہے ۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا میں نے اسے” ۔۔۔۔کامران کی کمینگی پر میرا خون کھولنے لگا تھا ۔۔۔۔۔مجھے لگ رہا تھا کہ میری رگوں میں خون کی جگہ آگ دوڑ رہی ہو

“جھوٹ بول رہے ہو تم ۔۔۔۔بکواس کر رہے ہو” ۔۔۔۔۔میری آواز میرے گلے میں پھنس کر نکل رہی تھی ۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کامران کی طرف بڑھتااسنے ہاتھ سے مجھے پیچھے دھکیل دیا میری نظر اسے ہاتھ پر پڑی جہاں دانتوں کے واضع نشان تھے جیسے کسی نے بہت زور سے سے اسکے ہاتھ پر کاٹا ہو

“تمہیں یہ جھوٹ لگ رہا ہے ۔۔۔۔میں نے تو آج اپنے ہاتھ سے انگوٹھی بھی اسے پہنائی ہے ۔۔۔ماہم کے لئے ہی تو لی تھی ۔۔۔رونمائی کے تحفے کے طور پر ۔۔۔۔یقین نا آئے تو ہاتھ دیکھ لینا اس کا ۔۔”۔۔میرے لئے یہ بات ناقابل برداشت تھی میرے کان کی لوئیں سے آگ سی نکلنے لگی ۔۔۔۔ اس کی ہمت کیسے ہوئی ایسا کرنے کی ۔۔۔۔کامران خباثت سے ہنستے ہوئے اپنے سر کی پشت کو کھجاتے ہوئے کچھ کھسیا کر بولا

“سوری عفان انگوٹھی پہناتے ہوئےایک گستاخی ہو گئ مجھ سے ۔۔۔یقین جانو میرا قصور نہیں تھا اس میں ۔۔وہ لگ ہی اتنی حسین رہی تھی کوئی بھی ہوتاتو وہی کرتا جو میں نے کیا ۔۔۔۔اسے رنگ پہناتے ہوئے میں نے اس کا ہاتھ چوم لیا تھا ۔۔۔۔۔میرے ہونٹوں کا لمس تو ابھی بھی محسوس کر رہی ہو گئ وہ ۔۔۔۔ “

مجھے لگا میرے وجود کو کسی نےآگ کی جلتی بھٹی میں پھنک دیا ہو ۔۔۔۔۔میں نے کامران کا گریبان پکڑ کر ۔۔جھنجھوڑ کر رکھ دیا

“بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔۔۔۔خبر درا اپنی غلیظ زبان سے ماہی کے بارے میں کچھ بھی کہا تو ۔۔۔۔۔وہ تمہیں ایسا کرنے ہی نہیں دے سکتی ۔۔۔جھوٹ بول رہے تم ۔۔۔۔”

“چھوڑو مجھے ۔۔۔جا کر تصدیق کر لو اپنی بیوی سے ۔۔۔جھوٹ نہیں بولے گی تم سے ۔”۔۔۔کامران نے مجھ سے اپنا گریبان چھڑوا کر مجھے دھکیلتے ہوئے حقارت سے کہا

“میری ایک بات یاد رکھنا عفان عورت اپنی پہلی محبت کبھی فرموش نہیں کر سکتی ۔۔۔۔اگر اتنا ہی بھروسہ ہے اپنے رشتے اور محبت پر تو اسکے دل سے مجھے نکال کر دیکھاوں ۔۔۔۔۔بہت شوق ہے تمہیں رشتے نبھانے کا ۔۔۔۔۔جاوں نبھا کر دیکھاوں مجھے یہ رشتہ ۔۔۔۔ایک ایسی لڑکی کے ساتھ جس کا تو اب کردار بھی تمہارے سامنے مشکوک ہو چکا ہے ۔۔۔آج میرے اور ماہم کے درمیان کیا کچھ ہوا ہے وہ میں تمہیں کبھی نہیں بتاؤں گا ۔۔۔۔۔۔جاو ۔۔۔۔اب اپناو اسے ۔۔۔۔کیسے اپناوں گئے عفان ۔۔۔۔تم چھو بھی نہیں سکتے اسے ۔۔۔۔اتنا با کمال ظرف کا مالک کوئی بھی مرد نہیں ہوتا ۔۔۔۔اب نکلو میرے کمرے سے باہر ۔۔۔آوٹ “۔۔۔۔کامران نے مجھے چٹکی بجا کر نہایت سفاکی سے کہا ۔۔۔۔غم و غصے سے میرا برا حال تھا میں مزید وہاں رہ کر اپنی تذلیل چاہتا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔اس لئے اسکے کمرے سے نکل آیا ۔۔۔میرا جی چاہا زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاؤں ۔۔۔۔ماہم پر مجھے اسقدر غصہ تھا کہ جی چاہا حشر کر دوں اس کا۔۔۔۔۔ اسکی ہمت بھی کیسے ہوئی کامران کے ساتھ جانے کی ۔۔۔۔۔اس گھٹیا قسم کے لباس پہنے کی ۔۔۔۔میرے اندر اسوقت وحشت اور جنون خیزی کا جذبہ غالب آ چکا تھا اپنے کمرے کے بجائے میں سامنے ماہم کے کمرے کے پاس آ کر رک گیا ۔۔۔ماہم کی سسکیوں کی آوازیں باہر تک آ رہیں تھیں مما سے نا جانے وہ روتے ہوئے کیا کہہ رہی تھی مما اسے بس تسلیاں دلاسے دے کر چپ کروارہیں تھیں ۔۔۔میں نے بے دردی سے دستک دی ۔۔۔۔

“دروازہ کھلا ہے ۔۔۔۔کون ہے” ۔۔۔مما کی آواز پر میں نے دروازہ کھولا ۔۔۔۔ماہم اب بھی اسی شال میں لپٹی ہوئی مما کے سینے کے ساتھ لگی ہچکیوں سے رو رہی تھی

“خالہ مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔پلیز آپ میرے پاس سے مت جائیے گا” ۔۔۔۔۔۔ڈری سہمی وہ مما کے ساتھ لگی کپکپا رہی تھی۔۔۔۔کسی خوفزدہ چڑیا کی طرح ۔۔۔مگرمجھ پر جنون سوار تھا۔۔۔۔۔۔۔ اس پر ترس تو بلکل نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔مما نے مجھے ماہم کو اپنے ساتھ بینچ لیا

“میں تمہارے پاس ہوں ماہم ۔۔۔۔بس اب چپ بھی ہو جاو۔۔۔۔۔کہیں نہیں جاؤں گی تمہیں چھوڑ کر ۔۔۔۔یہیں تمہارے پاس رہوں گی میری جان” ۔۔۔مما اسے ساتھ لگائے شفقت سے بول رہی۔ تھیں

“مما آپ کو پاپا بلا رہے ہیں” ۔۔۔۔میں نے جھوٹ بولا تا کہ مما کو وہاں سے بھیج سکو جو کھولن اسوقت میرے اندر تھی مجھے ماہم سے بات کیے بغیر کہاں چین آنا تھا۔۔۔۔۔

“رضا بلا رہے ہیں ۔۔۔مگر انہوں نے تو خود مجھ سے کہا تھا کہ ماہم کے پاس ہی سو جاؤں ۔۔۔۔شاید میڈسن کون سی کھانی ہے وہ بھول گئے ہوں گئے ۔۔۔”۔مما حیرت کا اظہار کرتے ہوئے خود ہی قیاس آرائیاں لگانے لگیں

“ماہم بیٹا تم لیٹو میں بس ابھی آئی” ۔۔۔۔مما نے اسکا ماتھا چومتے ہوئے کہا وہ اب بھی رو رہی تھی ۔۔۔مجھے بھی دیکھ رہی تھی کہ شاید میں بھی اسے تسلی کے چند جمعلوں سے نواز دوں لیکن میرے اندر تو حشر بھرپا تھا ۔۔۔۔ غصے سے میں نے اپنا چہرا ہی دوسری جانب موڑ کر کمرے سے ہی باہر نکل گیا ۔۔۔ جب سے وہ آئی تھی میں نے بات تک نہیں کی تھی ۔اس سے ۔۔۔ جو آگ میرے اندر کامران کی باتوں نے دہکا دی تھی ۔۔۔مجھے ماہم سے ذرا بھی ہمدردی محسوس نہیں ہو رہی تھی اسوقت تو ایک الاؤ تھا جو میرے اندر دہک رہا تھا ۔۔۔۔غصے کا ایک طلاطم خیز طوفان تھا ۔۔۔۔جو ہر سو تباہی پھلانے کو مچل رہا تھا ۔۔۔میرے پاس آج ماہم سے کرنے کے لئے اتنے سوال تھے کہ ماہم کے لئے کہ شاید رات ہی چھوٹی پر جاتی ۔۔۔۔میرے باہر جاتے ہی کچھ ہی دیر میں مما بھی باہر آ گئی اس سے پہلے کہ وہ نیچے جاتیں میں نے مما کو پکار کر روک لیا ۔۔۔۔

“مما ۔۔۔آپ آرام کریں جا کر ۔۔۔۔میں ہوں ماہی کے پاس ۔۔۔آپ اسکی فکر مت کریں “۔۔۔۔میں نے مما سے نظریں ملائے بغیر ان سے یہ کہا ۔۔۔۔۔کچھ پل مما وہیں کھڑی مجھے دیکھتیں رہیں پھر گہری سانس لیتے ہوئے نیچے کی سیڑیاں اترنے لگیں ماہم کے کمرے کا دروازہ بند تھا ۔۔۔میں جانتا تھا کہ اس نے اٹھ کر لوک ابھی نہیں کیا ہو گا ۔۔۔اس بار ماہم کے کمرے میں جانے کا میرا انداز مختلف تھا میں نے دروازہ نوک کیے بغیر دروازہ کھولا تھا ۔۔۔۔نا ہی دروازہ نوک کر کے اسکو اپنی آمد سے مطلع کیا نا اجازت مانگی