458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 51

Tadbeer by Umme Hani

صبح ناشتے کے ٹیبل پرپاپا نے ایک پاڑٹی ارینج کرنے کا فیصلہ سنایا ۔۔۔۔پہلے تو میرا دل اس خوف سے گھبرا گیا کہ کہیں عفان اور ماہم کی منگنی کرنے کا ارادہ نا ہو پھر عفان کا ماہم کو شاپنگ پر لے جانا ۔۔۔۔مجھے اندیشوں میں مبتلہ کرنے لگا آفس میں پورا دن میرا ذہن بس انہیں باتوں میں الجھا رہا ۔۔۔۔کچھ دن بعد ہی پاڑی والے دن میں نے ماہم کو وہ ڈریس پہنے سے منع کر دیا جو وہ عفان کے ساتھ لائی تھی ۔میں نے ماہم کے کمرے کے دروازے پر دستک دی ماہم نے دروازہ کھولا مجھے دیکھ کر ہی ھے ہٹ گئ میں اندر داخل ہوا سامنے بیڈ پر وہی ڈریس رکھا تو جس ماہم نے آج پارٹی پر پہننا تھا ۔۔۔۔میں ایک نگاہ ماہم پر ڈالی اور دوسری اس ڈریس پر

“تم یہ نہیں پہنوں گی “

“مگر کیوں کامی اتنا پیارا تو ہے ۔۔۔”وہ حیرت سے مجھے دیکھ کر بولی

“اس لئے کہ یہ مجھے پسند نہیں ہے “یہ کہہ کر میں اسکے وارڈروب کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔اسکے ہینگ کیے ہوئے کپڑے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا ۔۔۔۔میں چاہتا تھا کہ ماہم وہ ڈریس ہر گز نا پہنے جو عفان کے ساتھ لائی تھی ۔۔۔مجھے یہ اپنا آخری داؤ لگ رہا تھا مجھے لگا پاپا ماہم اور عفان کی منگنی کا علان کرنے والے ہیں ۔۔۔۔۔اس لئے میں نہیں۔ چاہتا تھا کہ وہ عفان کی پسند میں ڈھل کر لان میں جائے اور کچھ نہیں۔ تو میں آج کی خوشی تو عفان کی غارت کر ہی سکتا تھا ۔۔۔۔

“کوئی ڈھنگ کا ڈریس نہیں۔ ہے کیا تمہارے پاس ۔۔۔ میں غصے سے اسکے ہینگ کیے کپڑے ایک سے دوسری سائیڈ کر کے دیکھ رہا تھا ان میں سے میری نظر ایک بلیک کلر کے ڈریس پر پڑی جو سب میں بہت مناسب سا تھا اور دیکھنے میں اس کا ڈائزان اور اسٹائل بھی پرانا تھا میں نے وہ ڈریس نکال کر ماہم کو تھمایا

“تم یہ پہنو گی “

“کامی یہ میں پہلے پہن چکی ہوں ۔۔۔اور یہ ہے بھی پرانا شفق کی شادی پر پہنا تھا ۔۔۔۔اور دو تین بار پہن چکی ہوں “

“ماہم تم آج وہی پہنو گی جو میں چاہتا ہوں ۔۔۔۔میں اب جا رہاہوں مجھے تم ایسی ڈریس میں نظر او “میں کہہ کر اسکے کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔اگر پاپا نے انکی منگنی کر دی تو میں کچھ کر نہیں پاوں گا مگر اپنے مطلوبہ لباس میں ماہم کو نا دیکھ کر جو ذرا سی تکلیف عفان کو پہنچے گی چلو وہی صحیح ۔۔۔۔مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔۔۔۔۔پاپا تو مجھے باطور خاص سب سے ملواتے رہے ۔۔۔۔بات چند دن بعد محھ پر یہ بات کھلی کہ یہ سب ارینجمنٹ میرے لئے تھا ۔۔۔۔مما اور پاپا دونوں نے مجھے اکیلے لان میں بلایا ۔۔۔۔میں کرسی پر بیٹھ گیا انہیں دنوں ایک لڑکی سے میرا نیا نیا افیر چل رہا تھا اس لئے میں اسکے میسج کا جواب بھی ساتھ ساتھ دے رہا تھا ۔۔۔۔

“کامران “پاپا نے مجھے مخاطب کیا

“جی پاپا”

“مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے “

“جی میں سن رہا ہوں “میں موبائل پر میسج ٹائپ کرتے ہوئے بولا

“میں بہت سیریس میٹر پر تم سے بات کرنا چاہتا ہوں لہذا اگر تم موبائل بند کر دو تو ۔۔۔بات ذرا سہولت سے ہو جائے گی “پاپا کے کرخت لہجے پر میں نے پاپا کیطرف دیکھا موبائل بند کر دیا مگر تھا وہ میرے ہاتھ میں ہی

“کامران میرے خیال سے اب تمہیں شادی کر لینی چاہیے ۔۔۔۔”میں نے مما پاپا دونوں کو کچھ بے یقینی سے دیکھا

“یہ بیٹھے بیٹھائے آپ کو میری شادی کا خیال کہاں سے آ گیا ۔۔۔۔۔”میں لا پروائی سے مسکرا کر بولا

“بیٹھئے بیٹھائے نہیں میں اور تمہاری ماں کب سے اس بارے میں فکر مند تھے ۔۔۔۔۔اور چند دن قبل جو دعوت گھر رکھی تھی اس کامقصد بھی یہی تھا ۔۔۔۔میں نے خاص طور پر تمہیں سب سے متعارف کروایا تھا ۔۔۔۔تم اپنے خاندان سے تو کئ بار مل چکے ہو ۔۔۔۔اور میرے دوستوں کی فیملیز سے بھی میں نے تمہاری ملاقات کروا دی ہے ۔۔۔۔۔اب اگر تمہیں ان میں سے کوئی لڑکی پسند ہے تو بتا دو “پاپا کی تفصیلی گفتگوں سن کر میں مسکرانے لگا

“اس کے لئے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی پاپا آپ مجھ سے پوچھ لیتے میں آپکی مشکل آسان کر دیتا “میں نے بے نیازی سے جواب دیا

“اچھا چلو اب کر دو میری مشکل آسان۔۔۔۔کوئی پسند ہے تمہیں”پاپا نے بہت خوشگوار موڈ سے مجھ سے پوچھا

“کوئی خاص نہیں کوئی بھی چلے گئے ۔۔۔۔ایسا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم ہے نا ۔۔۔ ماہم سے کر دیں۔۔۔۔۔ویسے بھی مما اس سے بہت اٹیچ ہیں ۔۔۔۔آپس میں انکی انڈسنڈنگ بھی اچھی ہے ۔۔۔۔۔”میں نے گویا ایسے جواب دیا جیسے میں ماہم سےشادی کر کے انپر احسان کر رہا تھا ۔۔۔۔موبائل پر بار بار میسج کی ٹیون بجنے لگی میں اپنی طرف سے بات مکمل کر کے دوبارہ موبائل آن کر کے مسیج دیکھنے لگا

“میں نے تم سے تمہاری رضا مندی پوچھی ہے تمہاری ماں کی چاہت نہیں زندگی تم نے گزارنی ہے ۔۔۔۔۔اپنی پسند بتاوں ۔۔۔۔اور میں بہت سنجیدگی سے بات پوچھ رہا ہوں تم بند کرو یہ موبائل “پاپا کے سخت اور کرخت لہجے پر میں بھی اشتعال میں آگیا ۔۔۔۔

“اور میں بھی آپ کو بہت سنجیدگی سے بتا رہا ہوں میں صرف ماہم سے ہی شادی کرونگا ۔۔۔۔۔اور یہ میرا حتمی فیصلہ ہے ۔۔۔۔۔میرے خیال سے اب اس میں مزید کسی بحث کی ضرورت نہیں بچی “میں نے پاپا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا جہاں اس وقت میرے لئے غصہ اور خفگی تھی میں کرسی سے کھڑا ہو گیا اس سے پہلے کہ وہاں سے جاتا پاپا نے غصے سے مجھے پکارا

“رکو ۔۔۔۔۔تمہاری شادی کے لئے صرف تمہاری رضامندی کافی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ماہم کی بھی ہے اگر اسے اعتراض ہوا تو بات کو یہیں ختم سمجھ لینا “پاپا نے کڑے تیوروں سے کہا

“شیور ۔۔۔۔ضرور پوچھیں “میں نے کندھے اچکا کر کہا اور وہاں سے چلتا بنا مما پوری گفتگوں میں خاموش سامعی ہی بنی رہیں ۔۔۔۔۔می اوپر اپنے کمرے کے بجائے ماہم کے کمرے کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔اسکے دروازے پر دستک دی ماہم نے دروازہ کھولا ۔۔۔

“اندر آ سکتا ہوں “

“اس وقت “ماہم نے گھڑی کی طرف دیکھا جو بارہ بجا رہی تھی

“کیوں اس وقت کیا ہے ۔۔۔۔بات کرنی ہے تم سے “میں نے لاپروائی سے کہا

“جی “ماہم پیچھے ہٹ گئ ۔۔۔۔۔میں اندر داخل ہو گیا ماہم بھی اندر آ گئ ۔۔۔

“میں اسکے۔ بیڈ پر بڑے اطمینان سے بیٹھ گیا ۔۔۔۔اور اسے بھی اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔

“وہ بھی میرے سامنے بیٹھ گئ

“ماہم ۔۔۔۔میں۔ تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔”میری بات پر ماہم نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھا

“شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے ۔۔۔۔مما پاپا سے بھی کہہ چکا ہوں ۔۔۔ہو سکتا ہے وہ کل تم سے تمہاری رائے پوچھیں ۔۔۔۔میں انکار نہیں سننا چاہتا ماہم ۔۔۔مجھے ہر صورت تمہارا اقرار چاہیے ۔۔۔۔”یہ کہہ کر میں اسکے کمرے سے نکل گیا وہاں بھی گم صم بیٹھی تھی۔۔۔۔

میں اپنے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا

۔۔۔۔یہ فیصلہ میرے دل کا نہیں دماغ تھا جہاں اس وقت عفان کو تکلیف اور اذیت دینا اہم تھا ۔۔۔۔۔ماہم کا مجھے علم تھا وہ انکار نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔میری بات کو ٹالنا ممکن نہیں تھا اسکے لئے۔۔۔۔

*******……….

ماہم کا جواب میری خواہش کے مطابق تھا اور عفان کے تاثرات ۔۔۔۔۔۔ہاہاہا ۔۔۔۔ وہ بھی میری سوچ کے عین مطابق ۔۔۔۔۔عفان کے افسردہ اور بجھا ساچہرہ روئی روئی انکھوں کو دیکھ کر میرا دل اپنی کامیابی کا جشن منا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔کتنی حسرت تھی مجھے کہ عفان کو ایسا منہ توڑ جواب دوں جس کی شکست وہ برداشت ہی نا کر سکے اور آج ۔۔۔۔۔۔آج مجھے لگ رہا تھا کہ پوری دنیا میری مٹھی میں ہے میں فاتح ہو گیا ہوں جو چاہوں تسخیر کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں جان بوجھ کر ہر مشورہ عفان سے لینے لگتا ۔۔۔۔۔ماہم کو منگنی پر کیسا لباس پہنا چاہیے کیا کرنا چاہیے کیا نہیں۔۔۔۔۔ اصل میں تو عفان کو جیلس کرنا مقصود تھا ۔۔۔۔وہ چڑ کر جواب دیتا تو میرا دل قہقے مار کر ہنستا ۔۔۔۔ میں نے ماہم کے لئے منگنی پر وہی جوڑا پہنانے کا اصرار کیا جو اس نے عفان کے ساتھ خریدا تھا ۔۔۔۔منگنی والے دن ماہم کے ساتھ بیٹھتے ہوئے ۔۔۔۔میری نظر سامنے کھڑے عفان پر پڑی جو ایک ٹک ماہم کو بڑی حسرت بھری نظروں سے ہی دیکھ رہا تھا کسی ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح ۔۔۔۔۔ اسکا رنجیدہ اور مرجھایا ہوا آزردہ چہرہ دیکھ کر مجھے عجیب طمانیت کا احساس ہونے گا میرے اندر کہیں ٹھنڈی میٹھی پھوار سی پڑنے لگی ۔۔۔۔میں ماہم سے قریب ہو کر اس کے کان میں سرگوشیاں کرنے لگا ۔۔۔

“ماہم مجھے اگر یہ معلوم ہوتا کہ تم اتنی پیاری لگو گی تو منگنی کے بجائے شادی کر لیتا تم سے “میری بات پر وہ شرمانے لگے

۔مجھے معلوم تھا کہ میری اس طرح کی حرکت سے عفان کو کتنی تکلیف پہنچے گی ۔۔۔۔اور ہوا بھی وہی عفان فوراً سے وہاں سے ہٹ گیا پھر تو وہ ایسا منظر سے غائب ہوا کہ نظر ہی نہیں آیا ۔۔۔۔منگنی کی رسم کے وقت بھی میں نے وہ سب کیا جس سے میں عفان کوتکلیف پہنچا سکتا تھا انگوٹھی تک عفان کے ہاتھ سے ماہم کو پہنانے پر مجبور کر دیا یہ سب کرتے ہوئے ایک پل مجھے ماہم کا خیال نہیں آیا کہ میری اس حرکت سے اسکے نازک سے جذبے کتنے مجروح ہوئے ہوں گئے یا اسے کتنی تکلیف ہوئی ہو گی اور اگر ہوئی بھی ہے تو اچھا ہی تھا ماہم کی تکلیف سے عفان تو ضرور تڑپتا ۔۔۔۔۔ماہم میرے لئے وہ کھوٹا سکہ تھا جیسے میں عفان کیلئے استعمال کر رہا تھا اس سے ذیادہ میرے نزدیک ماہم کی کوئی حیثیت نہیں تھی ۔۔۔۔نا ہی وہ اتنی حیسن تھی اسکے حسن سے میں متاثر ہوتا ۔۔۔۔مجھے اس لڑکی میں کبھی اٹرکشن محسوس ہی نہیں ہوئی تھی کچھ اسکا سادہ سا حلیہ مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا ۔۔۔۔۔کبھی کبھی میں یہ سوچتا کہ شاید عفان کے چکر میں میں بہت غلط فیصلہ کر بیٹھا ہوں ۔۔۔پاپا سے انکار کرنا اب اتنا بھی آسان نہیں ہے ۔۔۔۔۔میں کیسے ساری زندگی اس بیوقوف لڑکی کے ساتھ گزارو گا ۔۔۔۔۔جسے کسی پاڑیز کے مطابق پہنے اوڑھنے کا سلیقہ تک نہیں ہے ۔۔۔۔۔مجھے ویسے بھی پُر اعتماد اور آج کل کے دور کی چلبلی سی لڑکیاں پسند تھی ۔۔۔۔۔ خاص طور پر خوبصورت حسین اپنی اداؤں سے پاگل کرنے والی ۔۔۔۔۔اور ماہم میں ایسی کوئی خوبی نہیں تھی ۔۔۔۔ بہرحال وقت یونہی گزرنے لگا ۔۔۔۔۔ماہم کو ایک دن منور ماموں کے گھر جانے کا خبط سوار ہو گیا میرے ذرا سے انکار کرنے پر ۔۔۔۔اور ماہم کو ڈانٹ دینے پر پاپا آپے سے باہر ہو گئے ۔۔۔۔اس دن میں سچ میں گھبرا سا گیا تھا ۔۔۔۔۔ماہم بے شک میرے لئے غیر اہم تھی مگر مما اور پاپا کی نظر میں وہ کیا تھی اس کا اندازہ صحیح معنوں میں مجھے اب ہوا تھا ۔۔۔۔۔رات بھر میں سو نہیں پایا ۔۔۔۔۔اگر میں ماہم کو چھوڑ دوں تو کیا پاپا مجھے معاف کریں گئے ۔۔۔۔۔ہر گز نہیں ۔۔۔۔۔ اگر میرا رویہ ماہم سے ایسا ہی رہا تو پاپا ایک منٹ نہیں لگائیں گئے یہ رشتہ ختم کرنے میں اور پھر وہ با آسانی عفان کی ہو جائے گی ۔۔۔۔۔نہیں نہیں میرے خیال سے مجھے ابھی اپنا رویہ درست رکھا چاہیے ۔۔۔۔۔اور اگر ماہم سے شادی ہو بھی جاتی ہے تو کیا برا ہے اپنے دوسرے شوق تو میں باہر سے بھی پورے کر سکتا ہوں وہ بیوقوف کون سا مجھے روک سکتی ہے ۔۔۔پھر میری خاطر اس نے اتنا تو سب سیکھ ہی لیا ہے ۔۔۔۔میرے کام پرفیکٹ طور پر کرتی ہے ۔۔۔۔۔اتنا کریڈیٹ تو ماہم کو ملنا ہی چاہیے دودن بعد میں خود ماہم کو منور ماموں کے گھر لینے پہنچ گیا اور اپنا رویہ بھی قدرے بہتر کر لیا جس سے سب مطمئن ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔وقت یونہی گزرنے لگا ۔۔۔میں نے خود کو اچھا ثابت کرنے کے لئے پاپا سے ماہم کو باہر ڈنر کروانے کی اجازت مانگی ۔۔۔۔۔پاپا کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا ۔۔۔۔انہوں باخوشی اجازت دیدی میرے سامنے ہی عفان بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا میرے شیطانی دماغ نے مجھے بروقت ایسا مشورہ دیا کہ میں خود کو داد دینے لگا میں نے عفان کو بھی ساتھ چلنے کو کہا بلکہ صرف کہا نہیں اچھا خاصا زبردستی اُسے مجبور کر دیا کہ وہ ہمارے ساتھ جائے ۔۔۔۔۔رسٹورنٹ میں میں ایسی حرکتیں کرنے لگا جس سے عفان کو برا لگے یا غصہ آئے اور میں کافی حد تک کامیاب بھی ہو گیا تھا ۔۔۔۔مگر ایک مہ جیبیں نے آ کر میرے ہوش ہی اڑا دیے ۔۔۔۔۔وہ لڑکی نہیں خوابوں کی شہزادی تھی ۔۔۔۔۔سفید گورا رنگ اسٹپ میں کٹے بال بڑی اور غلافی سی آنکھیں ستواں ناک ۔۔۔۔پھر اسکا تنگ اور چست لباس اسکے پورے وجود کو نمایاں کر رہا تھا ۔۔۔۔میری اس پر جو نظر پڑی تو ہٹنے سے انکاری ہو گئ اسکاسحر مجھے مکمل اپنے حصار میں لے چکا تھا وہ لڑکی عفان کے عقب میں کھڑی تھی جب اس نے عفان کو پکارا تو میں بری طرح چونک سا گیا ۔۔۔۔وہ عفان کو بہت اچھے طرح جانتی تھی ۔۔۔۔پھر عفان نے ہی اس نے اس سے متعارف کروایا وہ قاسم کی کزن تھی اور اسکے آفس میں ہی کام کرتی تھی ۔۔۔۔۔عفان نے اس کا نام مہک بتایا تھا ۔۔۔۔اس وقت تو وہ واقع بہت سی خوشنما خوشبو سے مہک رہی تھی ۔۔۔۔عفان اس کے ساتھ دوسرے ٹیبل پر چلا گیا مگر مہک میری نظروں کو ہی مہکاتی رہی ۔۔۔۔میری خواہش تھی وہ مجھ سے امپریس ہو ۔۔۔۔میری طرف متوجہ ہوتی مگر مہک نے تو پلٹ کر بھی میری طرف نہیں دیکھا شاہد اس کی وجہ یہ تھی کہ ماہم کا تعارف عفان نے میری منگتر کی حیثیت سے کروایا تھا

ورنہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ میری شخصیت سے مرعوب نا ہوتی ۔۔۔۔۔مجھے ساتھ بیٹھی ماہم نا جانے کیوں بری لگنے لگی ۔۔۔۔ماہم اس وقت مہک سے بلکل برعکس حلیے میں میرے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔۔بلیک ٹروزر کے ساتھ فراک نما ڈھیلی ڈھالی قمیض ۔۔۔۔میک اپ سے مبرا چہرا ۔۔۔۔بال بھی کیچر میں سمٹے ہوئے ۔۔۔۔اوپر سے بڑا سا ڈوپٹہ اوڑھے وہ کھانے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔دل لبھانے والے ہر انداز سے وہ نا واقف تھی ۔۔۔۔۔میرے پاس بیٹھے اُسے یہ تک احساس نہیں تھا میری نظر کو کون سی لڑکی خیراں کر رہی ہے ۔۔۔۔میں نے بیزاری سے ماہم کی طرف دیکھا میرا دل بری طرح سے بد مزہ سا ہو گیا اپنی منگنی کا فیصلہ اپنی سب سے بڑی بیوقوفی اور حماقت لگنے لگا ۔۔۔۔۔سامنے بیٹھی مہک میں ایسی کوئی کمی نہیں تھی کے مرد اسکی محبت میں گرفتار نا ہو سکیں ۔۔۔۔۔پھر عفان کیا چیز تھا ۔۔۔۔۔اگر مہک عفان کی زندگی میں آ گئ تو ماہم کو تو پل میں بھول جائےگا ۔۔۔۔۔اور یہ معمولی شکل وصورت کی لڑکی میرے ساتھ کہاں سے جچتی ہے ۔۔۔۔۔میں تو خسارے کا سودا کر بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔میں جو یہاں عفان کو تپانے اور جلانے کے ارادے سے آیا تھا ۔۔۔۔خود ہی اپنا دل جلائے بیٹھا تھا اپنی اس جلد بازی پر خود کو ملامت کرنے لگا ۔۔۔۔۔ماہم نے مجھے پلیٹ میں چمچ سے چاول ادھر اُدھر کرتے دیکھا تو ٹوکنے لگی

“کامی آپ کھانا کیوں نہیں کھا رہے “ماہم کی بات پر میرا وژن ٹوٹ سا گیا ۔۔۔

“بس یونہی ۔۔۔۔کھانا آج اتنا مزے کا نہیں لگ رہا بس بھوک ہی ختم ہو گئ ہے ۔۔۔۔۔”

میں نے چمچ پلیٹ میں رکھی ۔۔۔۔اور پلیٹ پیچھے کھسکا دی۔۔۔نظریں پھر مہک کی طرف اُٹھنے لگیں جو کسی بات پر عفان سے ہنس ہنس کر بات کرہی تھی اور بڑے مزے سے ڈنر بھی انجوائے کر رہی تھی ۔۔۔۔

“مجھے لگتا ہے عفان اس لڑکی میں انٹسٹیڈ ہے “ماہم نے میری نظروں کا تعاقب کیا تو بولی میں نے تحیر بھری نگاہ سے ماہم کو دیکھا جس کے چہرے پر بلا کا اطمینان تھا

“تم کیسے کہہ سکتی ہو “میں جھنجلا کر بولا

“ایک بار بتایا تھا اس نے کہ وہ کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے “ماہم کی بات پر میں یقین نہیں کر سکتا تھا پھر میں نے عفان کی اور پاپا کی باتیں خود سنی تھیں

“لڑکی تو بہت پیاری ہے ۔۔۔۔ہے نا کامی “ماہم کی نظر بھی مہک پر تھی

“ہاں ۔۔۔۔بہت حسین ہے “میرے دل کی بات زبان پر آ ہی گئ تھی۔۔۔۔۔

“کیوں نا خالہ اور رضا انکل سے بات کریں عفان اور اس لڑکی کے لئے “ماہم کی بات پر میں اچھل کر رہ گیا

“دماغ تو درست ہے تمہارا “میرے یک دم چلانے پر وہ سہم سی گئ

“کامی میں نے ایسا کیا کہہ دیا ہے “ماہم نے دھیرے سے مجھ سے پوچھا میں اپنے غصے کو کنٹرول کر کے ہموار لہجے میں گویا ہوا

“ماہم ۔۔۔۔۔اگر عفان واقع سیریس ہوا تو وہ خود بھی بات کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔اور دوسری بات اس لڑکی کو دیکھ کر

مجھے نہیں لگتا کہ وہ عفان کو پسند کر سکتی ہے ۔۔۔۔”میرے نخوت بھرے لہجے سے ماہم کی پیشانی پر کئ شکینیں سی نمودار ہونے لگیں

“کیوں ۔۔۔۔کیوں نہیں کر سکتی عفان کو پسند ۔۔۔۔کیا برائی ہے اس میں اتنا اچھا تو ہے ” میری بات ماہم کو ناگوار گزری تھی

“اتنا بھی ہینڈسم نہیں ۔۔۔۔یہ لڑکی بہت خوبصورت ہے ۔۔۔۔بس اسے ڈنر پر بھی اس لئے انوایٹ کر بیٹھی کہ اکیلی تھی ۔۔۔۔کمپنی چاہتی تھی ۔۔۔۔کچھ پل گزارنے میں اور عمر گزارنے میں فرق ہوتا ہے ماہم ۔”۔۔۔

“آپ کی بات ٹھیک ہے ۔۔۔۔مگر میں لڑکی ہوں ایک لڑکی کو دیکھ کر اتنا تو جان سکتی ہوں کہ اس کی انکھوں میں کس لئے پسندیدگی ہے ۔۔۔۔اور آئی ایم شیور یہ لڑکی عفان کو لائک کرتی ہے” ۔۔۔۔

” سارے زمانے کی فضول باتیں تمہارے ہی دماغ میں آتی ہیں ۔۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے” ۔۔۔۔میرے بری طرح ڈانٹنے پر وہ خاموش سی ہو گئ ۔۔۔۔خواہ مخواہ میں یہ بیوقوف اور بدھو لڑکی مجھے نئے اندشوں۔ میں ڈال رہی تھی ۔۔۔۔میں نے پانی کا گلاس لیا تو گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگا اب بھی میری نظر سامنے بیٹھی اس حسینہ ماہ جبینہ پر تھی