458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 49

Tadbeer by Umme Hani

میں کامران رضا ۔۔۔۔رضافاروق کا بڑا بیٹا ۔۔۔۔۔لوگ مجھے خود سر اور حاسد سمجھتے ہیں تو ۔۔۔میراسوال آپ سب سے یہ ہے کہ آج کے دور میں کون ہے ۔جو حسد نہیں کرتا یا ہر شخص دوسری کی جیت سے جلتا نہیں ہے ۔۔۔۔کسی کی کامیابی پر واہ کے نعرے لگانے والوں میں سے پچھتر فیصد اس کامیاب شخص کو غصے اور نفرت سے دیکھتے ہوئے تالیاں پیٹتے یہ سوچ رہے ہوتے کہ کمبخت ۔۔۔کاش اسکی جگہ میں ہوتا ۔۔۔بس باقی کے پچیس پرسن لوگ ہی ہوتے ہیں جو اس کامیاب شخص کو دل سے داد دیتے ہیں ۔۔۔میرا شمار بھی ان پچھتر فیصد لوگوں میں سے ہے ۔۔۔۔لیکن میں خود کو قصور وار نہیں سمجھتا کیوں؟ اس کا فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں ۔۔۔ہم سب انسان ہیں ۔۔۔اور میرے خیال سے ۔۔۔۔آپکے اندر بھی میرے دل کی طرح ۔۔۔۔محبت ۔۔۔نفرت ۔۔۔احساس ۔۔حسد ۔۔جلن بغض کینہ ۔۔۔بے ایمانی ۔۔۔۔ایمان داری ۔۔۔انسانیت ۔۔۔بے حسی ۔۔خود غرضی سب جذبے موجود ہوں گئے انسان اپنے اندر ساری زندگی انہیں جذبوں سے جنگ کرتے ہوئے گزار دیتا ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔اور ہاں ایک بہت اہم بات یہ کہ دوسروں کی نظر میں خود کو نمایاں کرنے کی چاہ بھی ضرور ہوگی ۔۔۔۔ایسی ہی خواہش میری بھی تھی۔۔۔۔۔ٹھیک ہے

مجھے جو پسند آ جاتا تھا اس پر میں صرف اپنا ہی حق سمجھتا تھا ۔۔۔۔۔میں نے اپنی عمر کے پانچ سال اپنے ماں باپ کے کے ہمراہ ایسے ہی تو گزارے تھے ۔۔۔۔مجھے نہیں یاد کہ میں نے کسی چیز کی خواہش کی ہو تو وہ مجھے اسی وقت ۔ملی نا ہو ۔۔۔۔۔۔داھیال میں کوئی تھا نہیں کیونکہ میرے والد اکلوتے تھے ننھیال میں میں بڑا تھا اس لئے جو اہمیت

مجھے ملی وہ میری ماموں زاد کزنز کو نہیں ملی ۔۔۔۔میرے پاس ایک سے ایک کھولنا ہوتا تھا ۔۔۔جسے میں صرف دوسروں اترانے کے لئے دیکھانے پر ہی اکتفا کرتا تھا کسی کے شیر نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔بازار میں بھی میرے کپڑوں کی کلیکشن ہمیشہ منگنی شاپ سے ہی ہوتی تھی

“صفیہ یہ بہت مہنگے ہیں ۔۔۔۔اور پہلے بھی اسکے پاس بہت کپڑے ہیں ۔۔”

“رضا پلیز ایک ہی تو بیٹا ہے ہمارا ۔۔۔کیوں کنجوسی کرتے ہیں “میں مما کی بات پرپنے اکلوتے ہونے پر جتنا سینہ چوڑا کر سکتا تھا کرتا تھا ۔۔۔

۔۔۔۔میں۔ اپنے گھر کا بے تاب بادشاہ تھا ۔۔۔جب تک عفان میری زندگی میں نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔۔عفان نے آتے ہی جسے میرے حق پر ڈاکہ ڈالا تھا ۔۔۔۔پہلی بار اسے مما کی گود میں برجمان ۔ دیکھ کر پہلی بار میری پیشانی پر تیوری چڑھی تھی ۔۔۔۔۔

“کامران دیکھوں کتنا پیارا بے بی ہے ۔۔۔یہ بڑا ہو کر تمہارے ساتھ تمہارے ٹوائز سے کھیلے گا “”مما نے س ننھے منے کو ایک پل میں میری چیزوں کا حقدار بنا دیا تھا جو مجھے اچھا نہیں لگا تھا ۔۔۔

“وہ کیوں “مجھے اپنے اندر پہلی بار جلن کا احساس ہوا تھا ۔۔۔۔پہلے کب کسی نے اتنی جرت کی تھی کہ میری چیزوں کو ہاتھ بھی لگائے ۔۔۔۔۔

“اس لئے یہ تمہارا بھائی ہے “

“مجھے ایسا بھائی نہیں جاہیے جو میرے ٹوائز لینے کی کوشش کرے ۔۔۔آپکو پتہ ہے کامران اپنی چیزیں کسی سے شیر نہیں کرتا ۔۔۔”میں منہ بنائے بولا ۔۔۔۔۔مگر میری اس بات کو شاید میرے ماں باپ نے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا ۔۔۔۔مگر عفان جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا ۔۔۔۔میری اہمیت ثانوی سی ہونے لگی سب گھرمیں صرف عفان عفان کی ہی بات ہوتی تھی ۔۔۔

“کامران دو عفان کو اپنا کھلونا ۔۔۔وہ بھائی ہے تمہارا اس کا بھی حق ہے ہر چیز پر ۔۔۔’ہر بات پر جب مجھے یہی سنے کو ملتا تو میری سوچ بھی اپنے ملک کے ان حکمرانوں جیسی ہو جاتی جو اپنی کرسی کی خاطر کچھ بھی کر گزرتے ہیں ۔۔۔۔کسی بھی حد سے تجاوز کر جاتے ہیں ۔۔۔۔۔میں بھںی اپنا کھلونا عفان سے چھین کر اسے منہ چڑھاتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا جاتا اب دو سالہ عفان میں اتنی عقل تو تھی۔ نہیں اس لئے میرے آڑے ٹہرے منہ پربھی ہسنے لگتا جیسے میں کوئی جوکر ہوں ۔۔۔۔عفان سے مجھے نفرت اسوقت شروع ہوئی جب میں نے اسکول سے آتے ہی لاونج میں عفان کو اپنا نیو ماڈل کا ایروپلین چلاتے ہوئے دیکھا ۔۔۔غصے سے میرا منہ سرخ ہونے لگا اس نے ہاتھ کیسے لگایا تھا میرے ایروپلین کو ۔۔۔۔پاپا وہیں صوفے پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے میں نے عفان سے ایرو پلین چھینا اور اسے دھکا دے دیا وہ بری طرح سے پیچھے گرا سر بھیں بھیں کر کے رونے لگا ۔۔۔پھر میں نے وہ ایرو پلین بھی روز سے زمین پر پٹخ کر توڑ دیا ۔۔۔۔ایرو پلین کافی مہنگا تھا اور میں نے ضد کر کے لیا تھا ۔۔۔پاپا نے پہلی بار مجھے بہت روز سے ڈانٹا تھا یہاں تک کہ ایک تھپڑ میرے منہ پررسید کیا تھا

“شرم نہیں آتی تمہیں ۔۔۔عفان کو مارتے ہوئے۔۔۔۔”مما عفان کو گود میں لئے پیار کرنے لگیں ۔۔۔پاپا کی ڈانٹ پھٹکار سننے کے بعد میں اپنے کمرے میں چلا گیا پورے کمرے کا حشر میں نے پل میں خراب کے رکھ دیا تھا سامنے رکھے ریک پر اپنے سارے کھلونے میں زمین بوس کر دیے ۔۔۔پھر بھی میرا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا ۔۔۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی ۔۔۔اب ہر وقت مما پاپا کی توجہ کا مرکز عفان تھا ۔۔۔۔۔مجھےتو جیسے میرے ماں باپ نے پس پشت ڈال دیا تھا ۔۔۔۔اب آپ خود ہی سوچیں پانچ سال جس نے حکمرانی کا مزہ چھکا ہو اسے اس کا سب کچھ چھین لیا جائے تو کیا اسے اس شخص سے محبت ہو سکتی ہے جس نے اسکے حق پر ڈاکہ ڈالا ہو ۔۔۔میں عفان سے بلکل بھی بات نہیں کرتا تھا لیکن وہ ضرور میرے پیچھے بھائی بھائی کرتا جہاں میں ہوتا وہاں پہنچ جاتا ۔۔۔۔مجھے اسے دیکھتے اپنی گال سلگتی ہوتی محسوس ہونے لگتی جس نے پہلی بار تھپڑ کا مزہ اس عفان کے بچے کی وجہ سے چکھا تھا ۔۔۔۔۔۔عفان کیا کم تھا جو میرے ماں باپ پر ہمدردی کرنے کا جذبہ عود آیا جو ماہم میڈیم کو بھی اٹھا کر گھر لے آئے ۔۔۔۔۔خالہ خالو کی حادثاتی موت کے باعث ماہم اب لمبا قیام یہیں فرمانے والی تھی ۔۔۔۔پہلے تو میرا خون ہی کھول گیا ۔۔۔۔کہ اب یہ بھی میری ہر چیز پر حق جمائے گی ۔۔۔۔مگر نہیں ۔۔۔۔۔پہلی نظر میں مجھے وہ ڈری سہمی دبلی پتلی سانولی سی ماہم ذرا بھی اچھی نہیں لگی ۔۔۔ہم دونوں بھائی دیکھنے میں۔ گڈ لکنکگ تھے ۔۔۔۔لیکں ماہم نے کبھی بھی میری چیزوں میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی ۔۔۔وہ ہر وقت مما کے ساتھ ساتھ ہی نظر آتی ۔۔۔اسکے آنے سے میرا یہ فائدہ ہوا کہ عفان سے میری جان چھٹ گئ اب وہ ماہم کے ساتھ ہی کھیلتا نظر آتا ۔۔۔۔ماہم مجھے چور آنکھوں سے دیکھتی مگر میری گھرکی دیکھتے ہی مما کے پیچھے چھپ جاتی ۔۔۔۔وقت یونہی آگے بڑھنے لگا عفان پڑھنے میں بہت ذہین ثابت ہو تھا ۔۔۔شروع سے ہی پوزیشن ہولڈر تھا ۔۔۔۔اور میں بس پاس ہو جاتا تھا پھر میری ایسی کوئی خاص پڑھائی میں دلچسپی بھی نہیں تھی ۔۔۔۔پہلے پہل تو ان دونوں کو پڑھانا میری زمہ داری تھی اس وقت میں اپنے دل کی بھڑاس خوف عفان پر نکالتا ۔۔۔ماہم میرے لئے ۔۔۔۔بے ضرر اور غیر دلچسپ سی تھی ۔۔۔۔اور عفان کی طرح پوزیشن ہولڈر بھی نہیں تھی جس کی وجہ سے مجھے پاپا سے کچھ سننا پڑتا ۔۔۔مجھے عفان پر زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی تھی وہ خود ہی بہت ذہین تھا ۔۔۔لیکن۔ اسکے رزلٹ کا کریڈٹ ہمیشہ میں اپنے سر لے لیتا مگر وہ بھی شاید بہت ہوشیار تھا ۔۔۔۔اس لئے خود پڑھنے کا عندیہ مجھے سنانے لگا ۔۔۔مجھے لگا یہ جتنی بھی کوشش کرلے میرے بغیر کبھی پوزیشن نہیں لے سکتا مگر یہ میری خام خیالی ہی ثابت ہوئی۔۔۔۔عفان۔ کا رزلٹ اپنی جگہ برقرار تھا ۔۔۔۔پھر تو وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے بس مات ہی دینے لگا۔۔۔۔کھیل کے میدان میں بھی تعلم میں رشتے داروں کے ساتھ میل ملاپ میں ۔۔۔میرے دوست عفان کے گن گاتے نظر آنے لگے میری ماموں زاد کزنز جو میرے غصے سے خوف لگاتی تھیں عفان کے ساتھ کھیلنے کو ترجعی دینے لگیں ۔۔۔۔۔ میرے اندر کی جلن اب مجھے چین نہیں لینے دیتی تھی میں نے اپنا حلقہ احباب ہی الگ کر لیا ۔۔۔۔پاپا نے میرے انٹرکی سپپلی پر میری مارک شیٹ میرے منہ دے ماری۔۔۔

“عفان سے ہی سیکھ لو ۔۔۔پورے اسکول میں ٹاپ کرتا ہے وہ ہر سال۔۔۔ وہ بھی بنا کسی ٹیوشن کے اور ایک تم ہو ۔۔۔۔اچھے اور معیاری کوچنگ اور اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ کے زیر نگرانی پڑھ کر یہ رزلٹ لائے ہو ۔۔۔۔دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔۔”پاپا کو بس عفان ہی نظر آتا تھا میں پوچھتا ہوں کون سے سرخاب کے پر لگیں تھے اسے ۔۔۔ اسکول میں پوزیشن لینا آسان ہے ۔۔۔سب اساتذہ کا چہتا جو بن چکا ہے انکی جی حضوری کر کے اس لئے جان بوجھ کر ٹیچر اسکو ٹاپ کرتے ہیں۔۔۔۔لیکن جب میٹرک بھی عفان نے اے ون گریٹ سے پاس آؤٹ کیا تو میرے غصے کی انتہا نہیں تھی ۔۔۔گریٹ تو ماہم کا بھی اے ہی آیا تھا لیکن وہ بھی عفان کی محنت کا نتیجہ تھا ۔۔۔۔کیونکہ وہ دونوں کمبائنڈ اسڈی کرتے تھے ۔۔۔۔میں عفان کے ساتھ اپنی جلن نکالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا ۔۔۔۔اب بھی عفان کے چہرے پر چمک تھی اور وہ پری انجینئرنگ لینا چاہتا تھا ۔۔اور ماہم

کو بھی اپنے ساتھ اسی فلیڈ میں لے جانے کا خواہش مند تھا ۔۔۔ماہم کچھ بھی لیتی میری بلا سے ۔۔۔۔مجھے کوئی خاص غرض نہیں تھی لیکن جو عفان چاہتا ہے وہ میں کیسے ہونے دیتا ۔۔۔۔میں یہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ماہم مجھ سے بہت ڈرتی ہے مجھے نہیں یاد کہ میں نے ماہم کو کسی بات سے منع کیا ہو اور وہ اس نے کیا ہو اس لئے میں نے ماہم کے لئے سمپل بی سے کو ترجعی دی ۔۔۔مگر عفان ماہم سے پوچھنے لگا ماہم سہمی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھنے لگی میں نے آنکھوں کے اشارے سے اسے منع کیا تھا ۔۔۔وہ ڈرپوک لڑکی میری بات مان گئ ۔۔۔۔مجھے لگا میرے اندر کی جلتی آگ پرجسے ٹھنڈی میٹھی پھوار سی گرنے لگی ہو عفان غصے سے اوپر اپنے کمرےمیں چلا گیا ۔۔۔۔کتنے عرصے بعد مجھے یہ چین نصیب ہوا تھا ۔۔۔۔عفان کو غصے میں دیکھ کر میرا دل شاد تھا مجھے اب ایسے ہر موقعے کی تلاش رہتی تھی جب میں عفان کو تکلیف دے سکوں۔۔۔انہیں دنوں میری لڑکیوں سے بھی دوستی ہونے لگی جیسے آج کل کے اکثر وبیشتر لڑکے میری عمر میں کرتے ہیں تو میں کیوں پیچھے رہتا ۔۔۔۔۔ اگر کہا جائے کہ میں حسن پرست ہوں تو غلط نہیں ہو گا ۔۔۔بلکہ حسن کے ساتھ اعلی معیار کا ہونا بھی میرے لئے خاص اہمیت رکھتا تھا ۔۔۔۔اسی طرح میرے دوست بھی زیادہ تر ہائی اسٹینڈ کلاس کے بگڑے ہوئے شہزادے تھے ۔۔۔ان کے ساتھ میں کبھی کبھی کلب بھی جانے لگا تھا ۔۔۔۔وہ لوگ ڈرنک کے عادی تھے اور اپنی کلاس میں پینے پلانے کو اہم جز سمجھتے تھے پاپا کا بزنس بھی ان دونوں ترقی کہ منازل طے کر رہا تھا ہم بھی گلشن کے علاقے سے اب ڈیفنس کے بنگلے میں شفٹ ہو چکے تھے اس لئے میں بھی ایسے ہی ٹھاٹ باٹ رکھنے لگا تھا ۔۔۔۔۔انہیں دنوں کسی عزیز کی شادی پر پہلی بار میں نے شفق کو دیکھا ۔۔۔شفق میری ماموں زاد حسن اور خوبصورتی کا شہکار تھی وہ لڑکی۔۔۔۔منور ماموں حیثت میں ہمارے پاسنگ بھی نہیں تھے اس لئے میں انکے گھر جانا ذیادہ پسند نہیں کرتا تھا ۔۔۔اور جب وہ گھر بھی آتے میں بہانے سے اپنے دوستوں میں۔ چلا جاتا شفق کو میں نے شاید بچپن میں ہی دیکھا تھا لیکن اب تو جیسے میں نظریں ہٹانا ہی بھول گیا تھا ۔۔۔وہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی شاید میری شاندار شخصیت سے متاثر ہوئی تھی یا میری دولت سے مرعوب بہرحال وہ شادی میرے لئے سود مند ثابت ہوئی میری شفق سے دوستی ہو گی کئ گھنٹے ہم فون پر باتیں کرنے لگے۔۔۔اور کبھی کبھی باہر بھی ملنے لگے ۔۔۔۔لیکن یہ سب بھی وقتی وبال تھا جو لائبہ کے میرے زندگی میں آتے ہی ختم ہونے لگا ۔۔۔لائبہ شفق کی طرح خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اچھا خاصا بیک گراؤنڈ بھی رکھتی تھی ۔۔۔۔شفق سے میں پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ میری اور اسکی دوستی سے ہماری فیملی انجان ہی رہنی چاہیے ۔۔۔۔اسے بھی ایسا کوئی اعتراض نہیں تھا ۔۔۔لیکن لائبہ کے آتے ہی میں شفق سے جان چھڑوانے کے بہانے ڈھونڈنے لگا ۔۔۔۔۔اور اس کا اس بات پر اصرار بڑھنے لگا کہ میں اپنا رشتہ اسکے لئے بھیجو مجھے لگا اس سے پہلے کہ یہ مصیبت میرے گلے پڑے میں اپن اصلیت پر اتر آیا ۔۔۔شفق مجھے فون پر بات بار یہی کہہ رہی تھی

“کامران میرے رشتے آنے لگے ہیں میں کب تک بنا کسی وجہ کے امی سے انکار کرتی رہوں گی تم پھپو سے بات تو کرو “

“”شفق میری چندا کس نے کہا ہے تم انکار کرو ۔۔۔۔۔کوئی بھی اپنی حیثیت کا مل جائے تو کر لو شادی ۔۔۔۔میں نے تم سے شادی کا وعدہ تو کبھی نہیں کیا تھا “میری بات پر کچھ دیر تو وہ بول ہی نہیں سکی

“لیکن تم میری تعریفیں تو کرتے تھے”

“وہ تو میں اب بھی کرنے کو تیار ہوں مگر شادی اپنے اسٹینڈ میں کرونگا ۔۔۔۔میں۔ مخمل میں ٹاٹ کا پیوند لگانے کا عادی نہیں ہوں ۔۔۔۔ تم سے دوستی تو کر سکتا ہوں پر شادی نہیں ۔۔۔۔میری رعونت عروج پر تھی شفق کا رونا دھونا منتیں کرنا

مجھ پر جیسے بے اثر تھا

میں نے فون بند کر دیا اور اگلی کال لائبہ کی تھی۔۔۔آج کل میں اس مہ جبین کے خیالوں میں کھویا ہوا تھا ۔۔۔۔مجھے لگا شاید شفق پھر سے مجھے کال کرے گئ مگر شفق نے کوئی فون نہیں کیا ٹھیک ایک مہنے بعد ماموں اور ممانی میٹھائی کے ساتھ ہمارے گھر ہریہ عندیہ سنانے آئے کہ شفق کا رشتہ طے ہوگیا ہے ۔۔۔میں نے بہت خوشی سے انہیں مبارک باد دی اور میٹھائی بھی کھائی ۔۔۔۔دل میں سوچا چلو اچھا ہے جان چھٹی۔۔۔۔ ماموں تو بظاہر خوش نظر ا رہے تھے مگر ممانی کے تیوروں سے مجھے خطرے کی بو آ رہی تھی ۔۔۔۔

“کون لوگ ہیں منور ۔۔۔۔۔لڑکا کیا کرتا ہے “پاپا میٹھائی کھاتے ہوئے پوچھنے لگے مگر جواب ممانی صاحبہ کی طرف سے آیا

“ہماری طرح کے مناسب سے لوگ ہیں ۔۔۔۔لڑکا بھی کسی فارم میں معمولی سی ملازمت کرتا ہے مگر گھر اپنا ہے ہاں ہے ذرا چھوٹا لیکن شفق خوش رہے گی “

“نزہت اتنی کیا جلدی تھی تمہیں شفق کی شادی کی مجھ سے کہتی میں رضا سے کہہ کر بڑی اچھی جگہ بات چلاتی اسکی “مما کو شفق کا رشتہ خاص پسند نہیں آیا تھا

“,ویسے میں بھی صفیہ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں شفق ماشااللہ ماہم کی طرح بہت پیاری بچی ہے میں اپنے ملنے والوں میں جہاں بھی بات کرتا وہ مجھے انکار نہیں کرتے اس سے زیادہ اچھی جگہ بھی رشتہ طے ہو سکتا تھا ۔۔۔۔”پاپا نے اپنی رائے دی

“نہیں بھائی صاحب یہ اونچے اونچے محلوں میں رہنے والوں کو میری بیٹی کے لاکھ گن بھی کبھی نظر نا آتے ۔۔۔میری بیٹی تو انہیں مخمل میں ٹاٹ کا پیوند ہی لگتی “۔۔میں جو بڑے مزے سے شفق کے سسرالیوں کی روداد چائے کے ساتھ ملاخطہ فرما رہا تھا ۔ممانی کی بات پر مجھے اچھو لگ گیا ۔۔میں زور زور سے کھانسنے لگا

شفق نے میرے اور اپنے افیر کے بارے میں سب کچھ ممانی کو بتا دیا تھا اس لئے وہ یوں منہ بنائے بیٹھیں تھیں بہرحال مجھے کون سا فرق پڑتا تھا ۔۔۔۔خیر لائبہ سے بھی میری دلچسپی کچھ عرصے بعد ہی ختم ہو گئ تھی پھر تو میری عادت ہی بن چکی تھی ۔۔۔مریم ۔۔۔رابعہ شہلا ۔۔۔لڑکیوں کا تو تانتا سا بندھ گیا تھا ۔۔۔۔شفق بھی اپنے گھر سدھار گئ ۔۔۔۔مگر شادی پر افسردہ سی تھی مجھے دیکھ کر نفرت سے رخ بدل گئ میں بھی شادی کے ساتھ میں شفق کو بھول چکا تھا

*******۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ماہم اب گھر کے کاموں میں مما کے ساتھ ہاتھ بٹانے لگی تھی کوکنگ بھی کرنے لگی تھی مگر میں خود پر تجربے کروانے والا آدمی نہیں تھا اس لئے مما کے پکائے ہوئے پر اکتفا کرتا تھا لیکن سب کے منہ سے ماہم کے کھانوں کی تعریف سن کر کبھی ذرا سا چکھ لیتا تھا ۔۔اگرمجھے اپنے معیار کا لگتا تو کھا لیتا ورنہ رہنے دیتا ۔۔۔۔ عفان کے پری انجیرنگ کے شاندار نمبروں سے پاس کیا تھا اسی خوشی میں پوری فیملی ہوٹلنگ پر گئ تھی مگر میرے علاؤہ۔۔۔ عفان کی کوئی خوشی میرے لئے باعث مسرت تھی نہیں ۔میں سر درد کا بہانہ بنا کر رک گیا ۔۔۔کرنے کو کچھ بھی نہیں تھا اس لئے اپنا لیپ ٹاپ لیکر بیٹھ گیا ۔۔۔کچھ ای میل مجھے بھیجنی تھی مگر میرا لیپ ٹاپ کام نہیں کر رہا تھا اس لئے میں عفان کے کمرے میں ا گیا میں نے سوچا عفان کے لیپ ٹاپ سے بھیج دیتا ہوں ۔۔۔میں نے عفان کا لیپ ٹاپ کھولا تو وہ لوک تھا مگر عفان کے لوک کی چابی ضرور میرے ہاتھ لگ گئ تھی لیپ ٹاپ کھولتے ہی سامنے ماہم کی تصویر تھی کالج یونیفارم میں اور نیچے لکھا تھا “مائے لو “۔۔۔۔میں نے لیپ ٹاپ بند کیا اور اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔پہلے تومجھے عفان کی پسند پر حیرت ہوئی ماہم میں ایسا تھا ہی کیا پسند کرنے کو نا ہی گورا رنگ نا ہی حسین و جمیل حسن نا ماڈرن لک ۔۔۔۔اور سب سے بڑی بات بیک گراؤنڈ بھی صفر ۔۔۔۔میں نے تمسخرانہ انداز سے قہقہ لگایا ۔۔۔

عفان کی پسند ایسی ہی تھرڈ کلاس ہی ہوسکتی ہے ۔۔۔۔۔میرے معیار تک نہیں پہنچ سکتا۔تھا ۔۔۔۔ پھر ذرا غور کرنے پر مجھے سب کچھ آشکار ہونے لگا عفان کا ماہم کے ہر معاملے میں انوالو ہونا ۔۔۔۔ماہم کے بد ذائقہ کھانوں کی تعریف کرنا ۔۔۔۔

“عفان میاں اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے ۔۔۔تمہاری چوائس تو بلکل ہی بکواس نکلی یار ۔۔۔مگر پھر بھی میں تم سے یہ خوشی بھی چھین لوں گا ۔۔۔۔”میں خود سے ایک ارادہ باندھا میرا مقصد ماہم کا حصول ہرگز نہیں تھا بس عفان کو تکلیف میں دیکھنا مقصود تھا ۔۔۔۔ماہم میرے لئے وہ کھوٹا سکہ اور وہ مہرہ تھی جس سے میں عفان کو تکلیف پہنچا سکتا تھا ۔۔۔۔بس میں نے اپنے ارادے پر عملی جامہ پہنانے کے لئے کمرے سے نکل کر کچن کا رخ کیا ۔۔۔۔عفان کے بارے میں میرے ہاتھ جو کچھ لگ گیا تھا ۔۔۔میرے دل سے عفان کے پاس ہونے کا کانٹا نکل چکا تھا اس لئے بھوک بھی چمک اٹھی ۔۔۔میں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا ۔۔۔۔اور برتن پوری شلف پر پھیلا دیے ہاٹ پاٹ پلیٹ سب شلف پر پھیلا کر میں اپنے کمرے میں چلا گیا مجھے معلوم تھا کہ ماہم سونے سے پہلے کچن میں ضرور جاتی تھی کچن وہ رات کو خود سمیٹ کر ہی سوتی تھی ۔۔۔کچھ ہی دیر سب واپس آ چکے تھے ۔۔۔۔

*****………

ڈنر سے واپسی پر سب ہی تھک چکے تھے اس لئے سب نے ہی اپنے اپنے کمروں کا رخ کیا سوائے ماہم کے وہ کچن میں آئی تو سب کچھ بکھرا پڑا تھا ۔۔۔۔ماہم نے سالن کا باول فریج میں رکھا ہاٹ پاٹ ٹیبل پر اور گندے برتن سنک میں رکھ کر دھونے لگی

“یہ کامی بھی نا بہت بکھیرا ڈالتے ہیں “ماہم منہ میں بڑائی تھی

“ماہم “کامران کی آواز اپنے عقب میں سن کر وہ ہونق سی ہو گئ ۔۔۔۔۔کہ اگر کامران نے اسکی بات سن۔لی تو پکی شامت ہے ڈرتے ڈرتے ہیں اس نے پلٹ کر دیکھا تھا کامران ہاتھ باندھے کچن کے دروازے پر ایستادہ کیے کھڑا تھا

“کامی سچی میں نے آپ کے بارے میں کچھ نہیں کہا “ماہم نے سمجھا کامران اس کی بات سن چکا ہے اس لئے وہ وضاحت دینے لگی

“کیا نہیں کہا”وہ اندر آکر فریج کھولے پانی کی بوتل نکال کر ٹیبل پر رکھے گلاس میں پانی ڈالنے لگا

“کچھ نہیں۔۔۔بس ایسے ہی “کامران کے عام سے انداز پر ماہم نے سکھ کا سانس لیا تھا ۔۔۔۔

“تمہیں کافی بنانی آتی ہے “کامران نے پانی پینے کے بعد گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔

“ج۔ی۔۔ی ہی”ماہم نے حیرت سے آنکھیں پھیلائے پوچھا کامران کہاں اسکےہاتھ سے بنا کچھ پسند کرتا تھا

“نہیں۔ آتی ۔۔۔تو کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔”

“نن۔۔نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔آتی ہے ۔۔۔مگر پتہ نہیں۔ آپکو پسند آئے یا نہیں “ماہم سے بوکھلاہٹ کے مارے بات بھی نہیں ہو پا رہی تھی

“اس وقت توجو میسر آ جائے چلے گی سر درد سے پھٹا جا رہا ہے ۔۔۔”کامران اپنی کنپٹیاں سہلاتے ہوئے بولا

“جی ۔۔۔اپ لاونج میں جائیں میں کافی لاتی ہوں “ماہم کامران کی موجودگی سے پزل تھی

“دو کپ لانا”کامران نے کہا

“آپ دو کپ لی لیں گئے “ماہم نے حیرت سے پوچھا

“نہیں دو کیوں پیوں گا ۔۔۔ایک تم پیوں گی نا میرے ساتھ ۔۔۔کافی تو پی لیتی ہو نا “کامران نے پوچھا تھا

اور ماہم نے حیرت سے گلا پھاڑے کہا

“جی”ماہم کو لگا اس کے سننے میں غلطی ہوئی ہے وہ کہاں ۔ماہم کے ساتھ کچھ کھاتا پیتا تھا ۔۔۔

“ہاں تو پھر لے آؤں ۔۔۔۔”کامران ماہم کے جی کو اس کا اعتراف سمجھا تھا ۔۔۔۔۔یہ کہہ کر باہر لاونج میں چلا گیا ۔۔۔کچھ ثانیے تو ماہم حیرت میں غوطہ زن رہی پھر بڑی احتیاط سے کافی بنائی تا کہ کامران کو پسند آ جائے ۔۔۔۔کافی کے دو مگ اس نے ٹرے میں رکھے ساتھ شوگر پاٹ۔۔۔ اور باہر ٹیبل پر رکھ دی کامران ڈھلے ڈھے انداز سے صوفے پر دراز تھا ماہم کو دیکھ کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ماہم کامران کے برابر صوفے پر نہیں بیٹھی تھی۔۔بلکہ صوفے کے برابر رکھے کشن کر بیٹھ گئ