458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 28

Tadbeer by Umme Hani

اس وقت ماہم وہاں تنہا تھی جہاں کامران سے لایا تھا ۔۔۔۔۔کامران جا چکا تھا جو کچھ بھی انکے بیچ ہوا تھا ماہم کامران سے صرف نفرت ہی کر سکتی تھی زیر تعمیر عمارت سے ماہم باہر نکل آئی۔۔۔۔چاروں طرف گپ اندھیرا ۔۔۔۔ہلکی بارش ۔۔۔۔اور وہ تنہا لڑکی اسوقت خوفزدہ سی۔۔۔۔۔ذرا سی آہٹ بھی اسکے دل کو دہلانے کیلئے کافی تھی وہ بے تحاشہ رو رہی تھی ۔۔۔۔وہ تیز قدموں سے چلتی ہوئی کئی بار ڈگمگائی تھی اسکے پاوں میں پہنی ہوئی ہیل والے سینڈل کی ٹک ٹک بھی اسے خوفزدہ کر رہی تھی کیوں کہ اسکی گونج دور تک سنائی دے رہی تھی جلد از جلد اسنے اپاٹمنٹ کی راہداری کو عبور کیا اور وہاں سے باہر آ گئ ۔۔۔۔۔کچھ ہی فاصلہ طے کرنے پر ہی وہ مین روڈ پر آ چکی تھی مگر چونکہ وہ مین روڈ بھی اتنا استعمال میں نہیں تھا اس لئے اسوقت وہاں بھی سناٹے کا راج تھا ۔۔۔۔۔۔ماہم نے دائیں بائیں نظریں گمائیں۔۔۔دونوں جانب لمبی سڑکوں کا لامحدود سلسلہ تھا ۔۔۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ راستے کا تعین کہاں سے کرے کون سا راستہ اختیار کرنے پر وہ گھر پہنچ سکتی ہے ۔۔۔۔۔اسے اپنی بے بسی پر رونا آنے لگا ۔۔۔۔بارش کی وجہ سے اسکی شرٹ بھی مکمل بھیگ چکی تھی ۔۔۔۔اس وقت اسکے پاس نا کوئی ڈوپٹہ تھا نا چادر جس سے وہ خود کو ڈھانپتی ۔۔۔

۔رات کا نا جانے کون اسوقت تھا مگر اسے آج کی کی رات سب سے ذیادہ اندھیری لگ رہی تھی ۔۔۔۔سرد ہوا کی لہر نے اسکے وجود میں کپکپی سی طاری کر دی ۔۔۔۔ماہم نے اپنے دونوں ہاتھ باندھے اور ہمت کر کے راستے کا تعین کرتے ہوئے اپنے آنسوں صاف کر کے چلنے لگی ۔۔۔۔۔خوف اور ٹھنڈ کے مارے بنا دائیں بائیں دیکھے وہ بس سیدھا چلتی رہی حفاظت کی جتنی دعائیں اسے یاد تھیں اس نے زبان پر دہرانی شروع کر دیں ۔۔۔۔۔دل ہی دل میں دعا کرتی رہی کہ اسے کوئی ایسا مل جائے جو اسے با حفاظت گھر تک پہنچا دے ۔۔۔۔اس وقت اسے اپنے سائے سے بھی خوف آ رہا تھا ہیل کی وجہ سے وہ تیز چل نہیں پا رہی تھی اسکی رفتار اتنی تیز نہیں تھی جتنی وہ چاہتی تھی مگر ننگے پاؤں چلنا بھی مناسب نہیں تھا جس سڑک پر وہ چل رہی تھی وہاں دوسری جانب جھاڑیاں اور گھنے درخت دور تک پھیلے ہوئے تھے خاموشی اور تنہائی نے ماحول پر سراریت سی پھیلا دی تھی ماہم کی حالت اسوقت ایسی تھی کہ کاٹو تو لہو نا نکلے ۔۔۔۔زندگی میں پہلے کب وہ ایسی کسی سچویش سے دو چار ہوئی تھی خوف کے مارے وہ دائیں بائیں جانب بھی نہیں دیکھ رہی تھی بس اسے جلد ہی ایسے راستے کی تلاش تھی جہاں لوگوں کی آمدو رفت ہو ۔۔۔ ۔۔۔ایک دو گاڑیاں تیز رفتار سے اسکے پاس سے گزر گئیں۔۔۔تو اسکا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ گیا مگر گاڑیوں کو روکنے کی ماہم کی ہمت نہیں ہوئی دل میں سو طرح کے اندیشے آنے لگے ۔۔۔نا جانے گاڑی میں کون ہو ۔۔۔اچھا ہو برا ہو ۔۔۔وہ کیسے بھروسہ کر سکتی تھی کامران پر اسے جی بھر کے غصہ آنے لگا ۔۔۔۔۔۔اس وقت وہ سامنے ہوتا تو وہ اس کا قتل کرنے میں بھی دیر نا لگاتی ۔۔۔۔کاش کہ کہیں سے عفان ہی آ جائے یا خالہ اور رضا انکل میرے پاس پہنچ جائیں ۔۔۔۔اللہ میں کیا کروں ۔۔۔تیرے علاؤہ میرا اور کوئی مدد گار یہاں نہیں ۔۔۔۔بس با حفاظت میرے اپنوں کے پاس مجھے پہنچا دے ۔۔۔۔دل میں وہ اللہ کو ہی پکار رہی تھی بارش اب قدرے کم ہو چکی تھی مگر بوند باری کا سلسلہ ابھی جاری تھا ۔۔۔اسکی باریک سی شرٹ گیلی ہونے کے باعث اسکے جسم کے ساتھ چپک گئ تھی ۔۔۔۔۔جس سے اسکا وجود چھپ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔ماہم جتنی تیزی سے چل سکتی تھی چل رہی تھی ۔۔۔ ایک بلیک کرولا تیزی سے اسکے پاس سے گزری ۔۔۔۔جس میں بے ہنگم سا تیز میوزک چل رہا تھا ۔۔۔ماہم کا دل دھک سے رہ گیا ۔۔۔جان تو اسکی ااس وقت نکلی جب گاڑی کو کچھ آگے جا کر بریک لگی ۔۔۔۔ماہم کو لگا اسکے پیروں سے جان نکل گئ ہو ۔۔۔جس رفتار سے گاڑی آگے بڑھی تھی اسی رفتار سے پیچھے کو ریورس ہو کر ماہم کے برابر کھڑی ہو گئ میوزک ابھی بھی تیز تھا گاڑی کے شیشے کالے تھے اندر کون تھا اس کا اندازہ لگانا مشکل تھا ۔۔۔ماہم تیز دھڑکتے دل کے ساتھ تقریبا بھاگنے کے انداز سے چلنے لگی ۔۔۔گاڑی کے دروزہ کھل کر بند ہونے کی آواز کے ساتھ ہی تیزی سے کوئی اسکی جانب بڑھا تھا ۔۔۔ماہم نے بنا دیکھے ہی چلنے میں عافیت سمجھی ۔۔۔مگر کچھ ہی پل میں کوئی لڑکا اسکے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا

“ہائے بے بی” ۔۔۔ماہم کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ۔۔۔۔ماہم نے سرسری سی نظر اس پر ڈالی ۔۔۔۔عجیب آوارہ قسم کا نوجوان تھا ۔۔۔جینز کی بلیک پینٹ اور ریڈ شرٹ پہنے گلے میں سونے کی چین جیسے وہ اپنی انگلی سے گھما رہا تھا ماہم کو سر سے پیر تک دیکھنے لگا ۔۔۔۔ماہم کے پورے وجود میں سنسنی سی دوڑنے لگی ۔۔۔۔ماہم نے نظریں ہٹا کر اپنی رفتار مزید بڑھا دی ایک سنسان سڑک پر ایک انجان شخص کو دیکھ کر اسکے حواس کھونے لگے تھے

“کہاں جاری ہو یوں اکیلے اکیلے ۔۔۔۔میں چھوڑ دیتا ہوں تمہیں” ۔۔۔اسکی وارفتگی سے دیکھتی ہوئی نظروں سے ماہم کو اپنے وجود میں چونٹیاں رنگتی ہوئی محسوس ہونے لگیں ۔۔۔دل کا یہ عالم تھا کہ سینے سے باہر ہی نکل آئے گا ۔۔۔اسکا حلق تک خشک ہونے لگا ۔۔۔بنا جواب دیے وہ چلتی رہی وہ لڑکا اسکی گھبراہٹ بھانپ چکا تھا اس لئے ہسنے لگا

“اگر گھر سے بھاگ کر نکلی تو ۔۔۔۔میرا گھر بھی حاضر ہے کہوں تو وہاں کے چلو ۔”۔۔اپنی خباثت بھری مسکراہٹ کے ساتھ وہ گویا ہوا ۔۔۔ماہم نے اپنی ساری ہمتوں کو مجتمع کر کے کرخت لہجے میں جواب دیا

“میں خود چلی جاؤں گئ آپ جائیں یہاں سے” ۔۔۔۔ماہم اب مزید نروس ہونے لگی تھی ۔۔۔۔

“ارے ایسے کیسے بے بی ۔۔۔۔یہ تو اخلاقا بدتہذیبی ہے کہ ایک لڑکی تن تنہا بارش میں بھیگتی ہوئی پیدل جائے اور ہم ہٹے کٹے چار مرد گاڑی ہوتے ہوئے بھی اسکی مدد نا کریں ۔۔۔ایسی بے مروتی ہم سے تو نہیں ہوتی “۔۔۔۔چار مردوں کا سن کر ماہم کے اوسان خطا ہونے لگے اگلے ہی پل اس نے خود کو سنبھالا ۔۔۔۔وہ لڑکا اپنا ہاتھ ماہم کی طرف بڑھانے ہی لگا تھا کہ تا کہ اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بیٹھا سکے ۔۔۔۔گاڑی بھی دھیرے سے چلتے ہوئے ماہم کے قریب پہچنے والی تھی ماہم نے نا آؤں دیکھا نا تاؤ اس کے لڑکے کو دھکا دے کر خود جھاڑیوں میں گھس گئ ۔۔۔۔اپنے انجام سے بے خبر اور گھنے درختوں اور جھاڑیوں میں اندھا دھن بھاگنے لگی

۔۔۔۔بازوں پر کھاردارجھاڑیوں سے کھرونچیں لگتی رہیں ۔۔۔مگر وہ ہر چیز سے بے نیاز بس بھاگ رہی تھی آنسوں تسلسل سے اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے دل ہی دل میں اللہ سے اپنی عزت کی حفاظت کی دعا کر رہی تھی ۔۔۔مگر کچھ ہی دیر میں وہ بری طرح ہانپنے لگی تھی اب جھاڑیوں کا سلسلہ ختم ہو چکا تھا مگر گھنے درخت جا بجا موجود تھے ۔۔۔وہ ایک درخت کی آڑ میں بیٹھ کر اپنا سانس بحال کرنے لگی ہیل کے ساتھ بھاگتے بھاگتے اسکے پیر اب دکھنے لگے تھے سب سے پہلے تو اسنے سینڈل اتار کر اپنے پیروں کو آزاد کیا ۔۔۔مگر یہ پل بھی اسے ذیادہ دیر تک میسر نہیں ہوئے اگلے ہی پل بہت سے قدموں کی آہٹیں سنائی دینے لگییں ۔۔۔۔پھر انسانی ہیولے اسکے درخت کے آس پاس اسے دیکھائی دینے لگے ۔۔۔۔مگر وہ انکی نظروں سے ابھی اوجھل ہی تھی مگر تیز ٹارچ لائٹ کی روشنی اپنی اردگرد دیکھ کر اسکی جان نکلنے لگی ۔۔۔۔پھر اچانک اسکا ہاتھ کسی مردانہ ہاتھ کی گرفت میں تھا ماہم کی چیخ نکل گئ اسکے برابر میں ایک لڑکا تھا شاید انہیں آوارہ لڑکوں میں سے ایک

“کہاں بھاگوں گی جانے من۔”۔۔۔۔ ماہم کے دوسرے ہاتھ میں اسکے ہیل والے سینڈل تھے۔۔۔ماہم نے برق رفتاری سے وہیں اس لڑکے کو مارنے شروع کر دیے اسکی گرفت فورا ہی ڈھلی پڑ گئ ماہم نے اپنا ہاتھ چھوڑ کر پھر سے بھاگنا شروع کر دیا ۔۔۔اپنے پیچھے اسے انہیں لڑکوں کی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں۔۔۔۔کافی دیر بھاگتے ہوئے ماہم کو درختوں کی اوٹ سے روشنیاں دیکھائی دینے لگیں ۔۔۔شاید وہاں آبادی تھی ۔۔۔ماہم نے اپنا رخ ان روشنیوں کی جانب کر کے بھاگنا شروع کر دیا ۔۔۔۔مگر وہ مین روڈ تھا اور وہاں گاڑیوں کا رش بھی کافی تھا ۔۔۔۔۔۔اسکے پاؤں میں کیا چبھ رہا تھا کہاں زخم ہو رہا تھا اسے کوئی پروا نہیں تھی ۔۔وہ بس اندھا دھن بھاگ رہی تھی اسے بس جلد از جلد روشنیوں میں پہنچنا تھا۔۔۔۔مین روڈ پر پہنچتے ہی وہ رکی نہیں سامنے سے آنے والی گاڑی کے سامنے کھڑی ہو کر ہاتھ ہلا کر اسے روکنے لگی وہاں گاڑیوں کا کافی رش تھا سامنے سے آنے والی گاڑی نے یک دم ہی بریک لگائی اور جھٹکے سے اسکے بلکل قریب جا کر رکی۔۔۔۔۔وہ خوف سے وہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گی گاڑی کے مسلسل ہارن اور تیز روشنی سے اسکی آنکھیں چندیا سی گئیں اس نے روشنی کی تاب نا لاتے ہوئے اپنا بازو اپنی آنکھوں پر رکھ لیا ۔۔

۔گاڑی میں جو کوئی بھی تھا ۔۔۔تیزی سے اتر کر اسکے پاس آ گیا ۔۔۔

“سنیے ۔۔۔آپ کو یوں گاڑی کے سامنے نہیں آنا چاہیے تھا” ۔۔۔وہ اجنبی ذرا غصے سے بولا ۔۔۔۔مگر اسکی آواز ماہم کو جانی پہچانی سی لگی اس نے بازو ہٹا کر دیکھا سامنے قاسم کھڑا تھا ۔۔۔۔جتنی حیرت ماہم کو ہوئی اس سے کئ زیادہ حیران قاسم تھا ۔۔۔۔اسکی باقی کی بات منہ میں ہی رہ گئ ۔۔۔۔بھابی ۔۔۔۔آ۔۔۔۔پ ۔۔۔۔

“قاسم بھائی ۔۔۔یا خدایا تیرا شکر ہے” ۔۔۔۔قاسم کو سامنے دیکھ کر اسکی جان میں جان آئی تھی ۔۔۔۔۔قاسم ابھی حیرت میں تھا جب دو لڑکے بھی میں روڈ پر پہنچ گئے ماہم فورا سے قاسم کے پیچھے چھپ گئ

“پلیز مجھے بچا لیں “۔۔۔۔ماہم روتے ہوئے التجا کرنے لگی

“اس لڑکی کو ہمارے حوالے کر دو یہ ہمارے ساتھ ہے ۔”۔۔۔۔ان میں سے ایک لڑکے نے کہا ماہم قاسم کے پیچھے کھڑی بری طرح کانپ رہی تھی

“بکواس بند کرو اپنی اور دفع ہو جاؤں یہاں سے ۔۔۔یہ میری بہن ہے” ۔۔۔۔قاسم نے غصے سے غرا کر کہا قاسم کی گاڑی کے پیچھے آنے والی گاڑیاں بھی اب تک وہیں رک چکی تھیں ۔۔ان میں سے بھی کافی لوگ اتر کر جمع ہونے لگے وہ لڑکے رش دیکھ کر واپس جنگل کی طرف بھاگ گئے ۔۔

“آپ گاڑی میں بیٹھی۔ بھابی ۔۔۔۔قاسم نے ایک نظر اسکی طرف ڈال کر نظریں جھکا لیں تھیں ماہم تیزی سے اسکی گاڑی کی طرف بڑھی ۔۔۔سامنے فرنٹ ڈور سے باہر کھڑی فاریہ کو دیکھ کر وہ اپنے سارے ضبط کھو بیٹھی تھی اسے اسوقت ایک کندھے کی ہی ضرورت تھی فاریہ کے گلے لگ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔وہاں موجود لوگ قاسم سے پوچھنے لگے کہ آخر ماجرہ کیا ہے

“بہن ہے میری ہم ساتھ ہی آئے تھے بس ہوٹل میں کھانے کے دوران ہی یہ ہم سے مس ہوگئیں تھیں ۔۔۔”۔قاسم نا جانے کون سے بہانے بنا کر سب کو مطمئن کرنے لگا ۔۔۔۔

فاریہ خود ششدد میں تھی ہائی وئے پر اس وقت ماہم اکیلی اس حلیے میں آئی کس کے ساتھ تھی ۔۔۔بہت سے سوالات فاریہ کے ذہن میں کلبلا رہے تھے مگر ماہم کا بلک بلک کے رونا ہی اسے بوکھلائے ہوئے تھا ۔۔۔قاسم گاڑی کے پاس آکر فاریہ سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔

“فاریہ تم بھابی کے ساتھ پیچھے بیٹھ جاؤں “۔۔۔۔قاسم فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے بولا ۔۔۔فاریہ ماہم کے ساتھ پیچھے بیٹھ گئ ۔۔۔۔

“ماہم تم یہاں کیسے آئی ۔۔۔عفان بھائی کہاں ہیں ۔۔۔۔”۔فاریہ نے ساتھ لگی روتی ہوئی ماہم سے پوچھا ۔۔۔مگر وہ کچھ نہیں بولی ۔۔۔بولتی بھی کیا ۔۔۔۔کیا بتاتی کہ کیا بیتی ہے اس پر ۔۔۔۔۔

“مجھے گھر چھوڑ دو فاریہ ۔۔۔مجھے خالہ کے پاس جانا ہے ۔۔۔”

“ہاں ہم گھر ہی جا رہے ہیں ۔۔۔مگر تم یہاں کیسے پہنچی ۔”۔۔۔ماہم نے کوئی جواب نہیں دیا

“ماہم یہ لڑکے کون تھے” ۔۔۔۔فاریہ کے پے در پے سوالوں کا جواب دینے کی ہمت ماہم میں اس وقت تو بلکل نہیں تھی وہ بدستور رویے جا رہی تھی ۔۔۔یہی سب سوالات تو قاسم کے ذہن میں بھی تھے مگر ماہم کی غیر ہوتی حالت کے پیش نظر اس نے جھنجھلا کر فاریہ کو ہی جھاڑ پلائی

“بس کرو فاری یہ سوالوں کا سلسلہ تمہیں بھابی کی حالت نظر نہیں آ رہی” ۔۔۔۔قاسم کی ڈانٹ پر فاریہ نے مزید کوئی سوال نہیں کیا ۔۔۔۔بس ماہم کو تسلی دیتی رہی ۔۔۔۔ماہم تمام راستے روتی رہی ۔۔۔قاسم نے ماہم کی طرف دیکھنے سے دانستہ اجتناب ہی کیا تھا ۔وہ بارش سے بھیگی ہوئی تھی اسکا باریک لباس اس کے وجود کو چھپانے میں نا کام ہو رہا تھا ۔۔۔ماہم خود سے بھی نظریں نہیں ملا پا رہی تھی

فاریہ نے بھی گلے میں مفلر پہن رکھا تھا ورنہ وہ ماہم کو ڈھانپے میں اسکی مدد کر سکتی تھی ۔۔۔وہ فاریہ کے ساتھ لگی کانپ رہی تھی ۔۔۔۔قاسم عفان کو کال کرنے لگا۔۔۔۔

*******………….

۔۔۔۔۔۔میں بے حد پریشان تھا جب قاسم کی کال آنے لگی مگر میں اس قدر ذہنی الجھاؤ کا شکار تھا کہ کسی کی کال اٹینڈ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا ۔۔۔۔

مگر قاسم کی کال تواتر سے آئے جا رہی تھی مجبورا مجھے اٹھانی پڑی

” عفان کہاں ہو تم ۔۔۔” وہ عجلت میں۔ بول رہا تھا پیچھے سے گاڑیوں کے ہارن اور ٹریفک کا شور بھی کافی تھا ۔۔۔۔لگتا تھا کہ وہ کہیں باہر ہو

“کہیں نہیں قاسم ۔۔۔۔کوئی ضروری بات ہے تو بتاؤ ورنہ میں بعد میں کال کرونگا ابھی بات نہیں کر سکتا ۔”۔۔۔۔میں۔ کوفت سے کہا ۔۔۔قاسم سے اب میں کیا کہتا کہ کس مصیبت میں پھنسا ہوا ہوں

“بھابی کہاں ہیں عفان “۔۔۔۔قاسم کی آواز میں بے چینی سی تھی ۔۔۔میں بھی اپنا ضبط کھو بیٹھا تھا

“مجھے نہیں معلوم قاسم ۔۔۔نا جانے کہاں کھو گی ہے ۔۔پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا ہوں اسے “۔۔۔۔میں تھک چکا تھا۔۔۔۔ماہم کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ۔۔۔۔

“عفان بھابی میرے اور فاریہ کے ساتھ ہیں تم پریشان مت ہو ۔۔”۔۔قاسم کی بات پر مجھے یقین نہیں آیا

“کون ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔۔کیا کہا تم نے “۔۔۔۔مجھے لگا میں کچھ غلط سن لیا ہے

“ماہم بھابی ہمارے ساتھ ہیں اور میں تمہارے گھر ہی آ رہا ہوں ڈونٹ وری”

“ماہی تمہارے ساتھ ہے ۔۔۔۔کہاں تھی یار وہ ۔۔۔۔ ۔میری ۔۔۔میری بات کرواں اس سے “۔۔۔میں نے سکون کا سانس لیا مگر بہت سے سوال میرے اندر ہلچل مچانے لگے ۔۔۔۔

“ابھی بہت رو رہی ہیں ۔۔۔۔خوفزدہ بھی ہیں ۔۔۔بات نہیں کر پائیں گی بس میں آدھے گھنٹے تک پہنچ رہا ہوں تمہارے پاس تم بس انکل آنٹی کو تسلی دو ۔۔۔”۔میں فون کان پر لگائے اپنی گاڑی کے پاس پہنچ گیا ۔۔۔۔

********……..********………**********…….

میں جب گھر پہنچا پاپا کے دوست ایس ایچ او وہیں موجود تھے ۔۔۔۔لیکن نا وہ اپنی وردی میں آئے تھے اور نا ہی پولیس موبائل میں ۔۔۔۔مما اور پاپا ایک ساتھ سامنے رکھے صوفے پر بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔مما ڈوپٹہ سر پر لئے تسبیح میں مشغول تھی ساتھ ہی ساتھ اپنے آنسوں بھی پونچ رہی۔ تھیں ۔۔۔۔ایس ایچ او لاونج میں کھڑا تھاکامران بھی اس کے سامنے بد حواس اور اڑی ہوئی رنگت کے ساتھ کھڑا اپنے ماتھے پر آنے والے پسینے پونچ رہا تھا ۔۔۔۔۔

” آخری بار تم سے پوچھ رہا ہوں لڑکے سچ بتا دو ۔۔۔ورنہ تم تو جانتے ہی ہو کہ ہم لوگ تو گھوڑے سے بھی اگلوا لیتے ہیں کہ وہ گدھا ہے ۔۔۔۔۔”

“میں سچ کہہ رہا ہوں انکل آئی سوئیر مجھے نہیں معلوم وہ کہاں ہے ۔۔۔۔”کامران پسینے سے شرابور گھبرایا ہوا بول رہا تھا

مجھے لاونج میں داخل ہوتے دیکھ کر مما پاپا میری طرف دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے

“کچھ پتہ چلا میری بچی کا “۔۔۔۔۔مما کی بیچینی اور بے تابی ان کے ہر انداز پر عیاں تھی ۔۔۔۔

“جی ۔۔۔۔چل گیا پتہ “

“کہاں ہے وہ ساتھ کیوں نہیں لائے اسے” ۔۔۔۔پاپا برجستہ بولے

“قاسم اور فاریہ کے ساتھ ہے آ رہی ہے گھر۔۔”۔۔۔میں نے مختصر سا جواب دیا اور صوفے پر ڈھہ گیا ۔۔۔دو تین گھنٹے کی تگ ودو اور ذہنی اذیت سے مجھے اپنا آپ بے جان سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔

“سن لیا آپ نے ۔۔۔۔قاسم اور فاریہ کے ساتھ ہے ۔۔۔۔۔مجھے لگتا ہے جب میں مکینک کو لینے گیا تھا دیکھ لیا ہو گا کہیں قاسم اور فاریہ کو جاتے ہوئے ۔۔۔منہ اٹھا کہ چلی ہو گئ ان کے ساتھ ۔۔۔۔اس بات کا احساس تھوڑی ہے کہ پیچھے سب کتنا پریشان ہو رہے ہوں گئے ۔۔۔۔اور آپ لوگ بس ہر بات کے لئے مجھے ہی مجرم سمجھتے رہیے گا ۔۔۔۔میری توبہ جو اس احمق کے کہنے پر اسے آ ئسکریم کھلانے لے کر جاؤں ۔۔۔۔اگر آپ کی تفتیش پوری ہو چکی ہے تو میں جاؤں” ۔۔۔۔کامران کو تو جیسے موقع مل گیا ۔۔۔اصل بات کا علم تو ماہم کے آنے پر ہی ہونا تھا ۔۔۔۔۔مگر فی الحال کامران کا پلا بھاری تھا پاپا اور ایس ایچ او بھی خاموش ہو گئے کامران اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔

ایس ایچ او جاوید نے گہری سانس لی ۔۔۔۔

“میں نے تو رضا پہلے ہی کہا تھا جذبات سے کام مت لو ۔۔۔۔اسی لیے میں وردی اور پولیس ۔موبائل ساتھ نہیں لایا ۔۔۔۔بیٹا بھی تمہارا۔ ہے۔۔۔۔۔اور وہ بچی بھی گھر کی بہو یے۔۔۔۔اگر میں تمہارے دروزے سے موبائل پر تمہارے بیٹے کو پولیس اسٹیشن لے جاتا تو بد نامی تمہاری بھی ہوتی اور انگلیاں اس بچی پر بھی اٹھتیں ۔۔۔۔میری مانو تو اپنے بڑے بیٹے کی جلد شادی کروا دو ۔۔۔۔۔ایس ایچ او کی بات پر پاپا کی ندامت کے مارے نظریں نہیں اٹھ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔اگر وہ سچ تھا جو کامران نے کہا ۔۔۔۔اس کا مطلب ماہم کے حصول کی کوشش اور خواہش میرے لئے بیکار تھی ۔۔۔۔ پاپا اور خود ماہم کے لئے بھی بد نامی کا باعث تھی ۔۔۔۔نکاح کے بعد آج پہلی بار میں نے ماہم کو چھوڑنے کے بارے میں سوچا تھا ۔۔۔۔۔ایس ایچ او تو چلا گیا ۔۔۔۔مگر ہم تینوں شرمندگی کے مارے خود سے بھی نظریں نہیں ملا پا رہے تھے ۔۔۔۔قاسم کی کال آ رہی تھی ۔۔۔میں نے بے دلی سے فون اٹھایا

“عفان میں بس پہنچنے والا ہوں تم ۔۔۔۔ایک بڑی سے شال لیکر باہر آنا ۔۔۔۔”

“شال” ۔۔۔میں نے حیرت سے پوچھا۔۔۔۔۔مگر قاسم کافون بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔میں مما کے کمرے میں گیا ان کے کبڈ سے ایک گرم شال نکالی اور باہر مین گیٹ کے پاس چلا گیا سائیڈ کا چھوٹا سا گیٹ کھول کر باہر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ہلکی ہلکی بارش ابھی بھی ہو رہی تھی ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں گاڑی کی فرنٹ لائن کی روشنی گلی سے نمودار ہوئی ۔۔۔۔وہ گاڑی قاسم کی ہی تھی ۔۔ڈرائیونگ سیٹ پر وہ اکیلا ہی بیٹھا تھا ۔۔۔قاسم جب ہمارے گھر کے سامنے پہنچا ۔۔۔۔۔پیچھے کا دروازہ بڑی تیزی سے کھلا ۔۔۔۔ماہم باہر نکلی وہ اب بھی رو رہی تھی ۔۔۔لیکن اس کا لباس دیکھ کر میں دنگ سا رہ گیا گرے کلر کی گہرے گلے اور سلیو لیس کی چھوٹی سی شرٹ اور ٹائٹ پہنے وہ ماہم تھی ?۔۔۔۔مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔پھر وہ شرٹ اتنی باریک کپڑے کی تھی کے بارش سے بھگ کر وہ ماہم کے وجود کو چھپانے میں نا کام ہو رہی تھی ۔۔۔ایک نظر ڈالنے کے بعد میری ہمت ہی نہیں ہوئی کہ میں دوبارہ نظریں بھی اٹھا کر دیکھو ۔۔۔۔میں نظریں جھکائے شال کوکھولے ماہم کی طرف تیزی سے بڑھا تھا ۔۔۔۔میں نے پل میں اسے شال میں اچھی طرح سے لپیٹ دیا ۔۔۔۔

“عفان” ۔۔۔۔وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔۔۔۔۔اسی اثنا میں پاپا اور مما بھی گیٹ پر پہنچ گئے ۔۔۔۔

“اندر جاؤں ماہی” ۔۔۔۔میں جھکی نظروں اور دھیمے لہجے سے بولا ۔۔۔۔مجھے اپنا وجود کسی آگ کی بھٹی میں جلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔ماہم مما کے گلے لگ کر رونے لگی مما اسے اندر لے گئیں ۔

قاسم اب گاڑی سے اتر کر میرے پاس آ چکا تھا ۔۔۔پاپا بھی میرے پاس کھڑے تھے قاسم نے پاپا کو سلام کیا ۔۔۔۔پاپا بس ثبات میں سر ہی ہلا پائے تھے

“اندر آجاؤ بیٹا فاریہ کو بھی اندر لے آؤں” ۔۔۔بارش پھر سے تیز شروع ہوگئی ہے اندر بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں ۔۔۔۔۔پاپا نے قاسم سے کہا مگر اس نے سہولت سے ٹال دیا۔۔۔

“ارے نہیں انکل ہم آل ریڈی بہت لیٹ ہو چکے ہیں ۔۔۔آپ بھابی کے پاس جائیں ۔۔۔بہت خوفزدہ اور ڈری ہوئی ہیں وہ ۔۔۔۔انہیں تسلی دیں ۔۔۔اور ابھی ان سے کچھ مت پوچھیے گا۔۔”۔۔قاسم بہت سنجیدہ تھا

“بیٹا وہ تمہیں ملی کہاں ۔۔۔۔کہاں تھی وہ “

۔۔۔پاپا فکرمندی سے پوچھنے لگے

“ہائی وئے کے قریب ۔۔۔۔میں اور فاریہ تو لونگ ڈرائیو کے لئے نکلے تھے اس لئے ہائی وئے تک پہنچ گئے پھر تیز بارش کی وجہ سے راستے میں پھنس گئے مگر بھائی وہاں کیسے پہنچی یہ تو وہی بہتر بتا سکتی ہیں ۔۔۔وہ سنسان سڑک پر میری گاڑی سے ٹکرا گئیں تھیں “۔۔۔۔قاسم یہ کہہ کر خاموش ہو گیا ۔۔۔۔میں سمجھ گیا کہ قاسم پاپا کے سامنے بات کرنے سے کترا رہا ہے۔۔۔

“پاپا آپ جائیں ماہم کے پاس ۔۔۔اگر آپ بارش میں بھیگ گئے تو بیمار پڑ جائیں گئے “۔۔۔۔۔میں نے پاپا کو اندر بھیج دیا ۔۔۔۔پاپا کے اندر جاتے ہی قاسم میرے پاس آکر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔

“عفان بھابی اتنی دور کس کے ساتھ گئی تھیں” قاسم کا تفشیشی انداز سے مجھے اس اسکے خدشات ظاہر کروا رہا تھا

میں نظریں چرا سا گیا جھجکتے ہوئے میں نے کامران کا نام لیا ۔۔۔قاسم حیران نہیں ہو تھا ۔۔۔مگر تاسف بھرے لہجے میں بولنے لگا

“کامران کے ساتھ ۔۔۔۔اس حلیے میں ۔”۔۔۔قاسم کی بات مجھے پانی پانی کر گئی تھی ۔۔۔۔پہلی بار میرا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور میں اندر سما جاؤں ۔۔۔۔

کاش میں نے ماہم سے نکاح کیا ہی نا ہوتا ۔۔۔یا پھر اسے اپنانے میں دیر نا کی ہوتی ۔۔۔۔قاسم کی پہلے کی کہی گئیں باتیں مجھے ٹھیک لگنے لگیں تھیں ۔۔۔مجھے ماہم کے ساتھ ویسے ہی پیش آنا چاہیے تھا جیسا شوہر اپنی بیوی کے ساتھ پیش آتا ہے ۔۔۔اسے میری اجازت کی پروا ہونی چاہیے تھی ۔۔۔میں نظریں جھکائے کسی مجرم کی طرح اس کے سامنے کھڑا تھا

“کہاں ہے تمہارا خبیث بھائی اسوقت” ۔۔۔۔۔قاسم سخت لہجے سے پوچھنے لگا

“گھر پر ہی ہے ۔۔۔۔”

“بھابی کو اس عذاب میں۔ چھوڑ کر یہاں کیا کر رہا ہے ۔”۔۔۔قاسم بھبک کر بولا

میں وہ ساری تفصیل اسے سنا دی جو کامران نے بتائی تھی ۔۔۔۔

“سچ تو میں نہیں جانتا عفان لیکن اگر ہم اتفاق سے وہاں نا پہنچتے تو بھابی تمہیں کبھی ملتی ہی نہیں۔۔۔۔پوچھوں اپنے ذلیل بھائی سے بھابی کو اتنی دور ویرانے میں کس مقصد کے تحت لیکر گیا تھا ۔۔۔عفان جہاں بھابی تھیں وہاں دور دور تک کوئی آبادی نہیں تھی ۔۔۔جنگل جھاڑیاں تھیں اور ماہم بھابی بھی اسی جنگل سے نکل کر میری گاڑی سے ٹکرائیں تھیں۔۔۔اس وقت انکے پیچھے نہایت لوفر قسم کے دو لڑے انکا پیچھا کر رہے تھے ۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے تم سمجھ سکتے ہو کہ کیا ہو سکتا تھا انکے ساتھ ۔۔۔۔۔میرا مشورہ مانو تو کامران کو گھر سے نکال دو یا تم الگ ہو جاؤں یہ شخص انسان نہیں لگتا مجھے ۔۔۔”۔میں چپ چاپ سب سنتا رہا ۔۔۔قاسم کا غصہ بھی بجا تھا ۔۔۔۔قاسم رکا نہیں فورا گاڑی میں بیٹھ گیا فاریہ ابھی بھی پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔قاسم چلا گیا مگر وہی۔ کھڑابارش میں بھگتا رہا ۔۔۔۔”کیوں گئ تھی وہ کیسے جا سکتی ہے “۔۔۔۔میرے ذہن میں بس یہی ایک سوال اٹھ رہا تھا ۔۔۔۔”جاسکتی ہے ۔۔۔۔وہ کون سا مجھ سے محبت کرتی ہے یا یہ رشتہ نبھانا چاہتی ہے ۔۔۔۔مجھ سے پیچھا چھڑوانے کے لئے شاید گئ ہو گی ۔۔۔۔پھر واپس کامران کے ساتھ کیوں نہیں آئی ۔۔۔۔۔ہوسکتا ہے کامران اسے زبردستی اپنانا چاہتا ہو تا کہ میں ماہم کو طلاق دیدوں ۔۔۔۔ اور ہو سکتا ہے ماہم کو یہ سب برا لگا ہو اس لئے وہاں سے بھاگی ہو ۔۔۔۔۔جو بھی ہوا۔۔۔وجہ تو آ جا کر میں ہی ہوں ۔۔۔۔۔ماہم محبت کرتی ہے کامران سے ۔۔۔۔جو اسے آج غلط لگ رہا ہے ہو سکتا ہے کل کو اچھا لگے ۔۔۔میں کیوں ان دونوں کو گناہ پر اکساوں مجھے ہی بیچ میں سے ہٹ جانا چاہیے ۔۔۔۔۔میں۔ اپنے ہی خدشات کے تابے بانے بنتے ہوئے ایک فیصلے پر پہنچ گیا تھا اس لئے تھکے تھکے نڈھال قدموں سے میں اندر آ گیا ۔۔۔لان سے لاونج تک کا راستہ مجھے صدیوں جیسا طویل لگنے لگا تھا ۔۔۔۔ اندر داخل ہوتا مما اور ماہم تو نظر نہیں آئیں پاپا وہیں موجود تھے ۔۔۔۔۔

میرا ہی انتظار کررہے تھے۔۔۔۔۔مجھ سے پوچھنے لگے کہ قاسم سے کیا بات ہوئی میں نے یہی جھوٹ بول دیا کہ کامران کی گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے وہ گھبرا گئ تھی ۔۔۔قاسم اور فاریہ کو دیکھ کر ان کے ساتھ چلی گئ ۔۔۔پتہ نہیں پاپا کو میرے جھوٹ پر یقین ہوا کہ نہیں مگر میں وہاں رکا نہیں اوپر کی سیڑیاں چڑھنے لگا مجھے اپنے قدم منوں بھاری لگ رہے تھے ۔۔۔۔اپنے کمرے کا دروازہ کھولنے کے بجائے میں کامران کے کمرے کے سامنے کھڑا ہو گیا