Tadbeer by Umme Hani NovelR50414

Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 52 (Part 1)

458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 52 (Part 1)

Tadbeer by Umme Hani

قاسم کی انگجمنٹ کا سندیسہ ہمارے پورے گھر والوں کے لئے آیا تھا ۔۔۔۔مما پاپا کا اپنا ملنا ملانا بہت تھا ۔۔۔۔آئے دن کسی نا کسی گیڈ ٹو گیدر پر جاتے رہتے تھے ۔عفان نے بس سرسری سا مجھ سے ذکر کیا قاسم کا نام سنتے ہی میری آنکھوں کے سامنے مہک کا سراپا گھوم گیا ۔۔۔۔میں نے فوراً ہامی بھر لی ۔۔۔۔۔اور تیار بھی بہت اہتمام سے ہوا تھا ۔۔۔۔۔ماہم کو بھی ساتھ چلنے کے لئے میں کہہ چکا تھا ۔۔۔۔۔قاسم کے گھر کا لان ہی اتنا وسیع وعریض تھا کہ ایسی چھوٹی موٹی رسم با آسانی ہو ہی سکتی تھی ساراارینج وہیں پر ہوا تھا ۔۔۔۔ہم تینوں ایک ہی ٹیبل پر بیٹھ گئے عفان کے کولیگ اور بہت سے کلاس فیلو بھی اس دعوت میں مدعوتھے سو وہ ان میں ہی مصروف رہا ۔۔۔۔اور ماہم۔۔۔۔ اس کے پاس ایک ہی ٹاپک تھا مجھ سے ڈسکس کرنے کے لئے اور وہ تھا وہاں کی ارینجمنٹ

“کامی بہت خوبصورت ڈیکوریشن ہے نا یہاں کی “ماہم ہر چیز کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی

“ہمم”میں بری طرح بور ہو رہا تھا بس سرسری سی طائرانہ نظر پورے لان میں دوڑائی سجاوٹ تو واقع بہت اچھی تھی مگر مجھے اس میں ایسی کوئی خاص دل چسپی نہیں تھی

“کامی ۔۔۔۔ہماری شادی پر میں ڈیکوریشن اپنی پسند سے کرواں گی ۔۔۔۔پتہ ہے مجھے یہ سادہ سا اسٹیج بلکل پسند نہیں ہے ۔۔۔۔اپنی مہندی پر سادے سے اسٹیج کے بجائےہم بہت خوبصورت سا جھولا لگوائیں گئے اور اسکو ہیلو کلر کے گیندے کے پھولوں سے سجائیں گئے۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔”وہ کسی خواب کے زیر اثر بول رہی تھی

“جھولا ۔۔۔۔۔ہاہاہا “میں استزائیہ ہنسی ہنسا تو ماہم خاموشی سے مجھے دیکھنے لگیں

“ماہم ۔۔۔۔پلیز کبھی اس بچپنے سے باہر بھی آ جایا کرو ۔۔۔۔اب ہم اپنی شادی پر یوں جھولا جھولتے ہوئے اچھے لگیں گئے ۔۔۔۔کب بڑی ہو گئ تم ۔۔۔۔۔اور یہ ارینجمنٹ کا بھوت اپنے سر سے اتار پھنکو تو بہتر ہے ۔۔۔۔اول تو تم اتنا بڑا ارنجمنٹ کر نہیں سکتی ۔۔۔دس از انپاسبل ۔۔۔۔۔اور دوسری بات مجھے کم از کم اپنی شادی پر اپنا مزاق نہیں بنوانا بہت ہائی اسٹنڈر کے دوست آئیں گئے مجھ سے ملنے “میری بات پر ماہم بس خاموش سی ہو کر بیٹھ گئ اسکے بگڑے موڑ کو دیکھ میں جی بھر کر زچ سا ہو گیا تھا وہاں موجود بہت سے کپل اپنی باتوں اس قدر مگن تھے ارد گرد سے بلکل ہی بیگانے ہوں ۔۔۔۔اور عفان کو اپنے دوستوں سے فرصت نہیں تھی ۔۔۔۔ پورے ہال میری نظریں بس مہک کی متلاشی تھیں مگر وہ مجھے نظر ہی نہیں آئی ۔۔۔مجبوراً مجھے بات تو اب ماہم سے ہی کرنی تھی وہ بھی منہ پھلائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔میں نے ٹیبل پر دھرا ماہم کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔آج اسنے بلو کلر کا بہت نفیس سا فراک سا پہنا تھا بال بھی کھلے تھے اور لائٹ سے میک اپ میں اچھی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔میرے ہاتھ پکڑنے پر وہ پھر سے بوکھلاہٹ کاشکار ہونے لگی

“کامی “

“ہمم “میں جانتا تھا کہ اُسے پسند نہیں ہے کہ میں اس کا یوں بے تکلفی سے ہاتھ پکڑو پر میں اسکی پسند نا پسند کو اہمیت کیوں دوں

“وہ ۔۔۔۔میرا ۔۔۔۔۔ہاتھ “وہ پزل سی ہو رہی تھی

“میرے ہاتھ میں ہے ۔۔۔۔مسلہ کیا ہے تمہیں ۔۔۔۔بات سنو میری ماہم ۔۔۔۔تم منگتر ہو میری ۔۔۔۔کچھ حق تو میں رکھتا ہوں تم پر ۔۔۔۔مجھے یوں بات بات پر گھبرانے والی لڑکیاں سخت نا پسند ہیں ۔۔۔۔۔اس لئے کنفڈنٹ رہا کرو جب میرے ساتھ ہوتی ہو ۔۔۔۔وہ دیکھوں سامنے “میں نے سامنے ایک لڑکے لڑکی کی طرف اشارہ کیا

“میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کے ان کے درمیان کوئی بھی رشتہ نہیں ہو گا پھر بھی بانہوں میں بانہیں ڈالے کتنے آرام سے باتیں کر رہے ہیں اور تم ہو ۔۔۔۔

“مجھے یہ سب پسند نہیں ہے کامی “ماہم اپنا ہاتھ چھوڑانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔میں نےیک دم اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔اتنا بے قیمت سمجھ رکھا ہے اس نے مجھے جو اسکی منتیں کرتا پھروں ۔۔۔۔۔خوبی کیا ہے اس میں ۔۔۔۔شہہ ۔۔۔۔۔۔مجھے ماہم پر غصہ آنے لگا ۔۔۔۔۔اسی اثنا میں عفان واپس آ کر بیٹھ گیا کچھ ہی دیر میں قاسم اور اسکی منگیتر ایک ساتھ چلتے ہوئے اسٹیج پر آکر بیٹھ گئے پھر میوزک اسٹاٹ ہوتے ہی مہک جلوہ گر ہوئی وہ گانے پر ڈانس پرفومس کرنے آئی تھی ۔۔۔۔اس نے بہت خوبصورت سا لہنگا نما کچھ پہن رکھا تھا مگر اسکی شرٹ بہت چھوٹی تھی اور سلیو لیس بھی تھی ۔۔۔۔۔کئ ڈانس کے اسٹپ پر اسکی شرٹ اوپر ہو جاتی تو کمر کا کچھ حصہ نظر آنے لگتا اس وقت تو وہ بہترین رقاصہ کو بھی مات دے رہی تھی اسکے متحرک قدم لہراتا وجود ۔کمر کی لچک نا جانے کتنوں کے دل اس کے قدموں کے نیچے بچھ گئے ہوں گئے ۔۔۔۔لڑکے تو لڑکے لڑکیوں کے بھی منہ کھلے کے کھلے رہ گئے تھے عفان تو نظریں جھکائے ہی بیٹھا رہا مگر میرا شمار تو ان میں ہوتا تھا جو ان سب سے لطف انداز ہوتے ہیں حظ اٹھاتے ہیں ۔۔۔۔۔اس وقت تو مہک میری بے باک نگاہوں کے حصار میں تھی ۔۔۔۔۔میں اس کے حسن میں مبہوت سا ہو کر رہ گیا تھا ایک ڈانس پرفومس کے بعد یہ سلسلہ جلد ہی بند ہو گیا۔۔۔۔عفان نے قاسم کے لئے گفٹ لیا تھا ۔۔۔۔اس نے مجھ سے چلنے کے لئے کہا ۔۔۔۔مگر میں نے سہولت سے انکار کر دیا ۔۔۔۔لیکن ماہم۔۔۔۔۔ اسکی پھر وہ پچکانہ سی ضد کہ اُسے دلہن دیکھنے جانا ہے ۔۔۔۔۔میں بھی اس وقت اس سے جان چھڑانا چاہتا تھا اس لئے فراخدلی دیکھاتے ہوئے اُسے اجازت دیدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان دونوں کے جاتے ہی میں غصے سے بڑبڑانے لگا

” آئسکریم میں چوکلیٹ پسند ہے ۔۔۔۔دلہن دیکھنے جانا ہے ۔۔۔۔۔اپنی ہی مہندی پر جھولے میں بیٹھنا ہے ۔۔۔۔۔ہاتھ پکڑو تو جان نکلنے لگتی ہے محترمہ کی۔۔۔۔کوئی ڈھنگ کی بات کہہ تو شرم آڑے آ جاتی ہے ۔۔۔۔ہنہ ۔۔۔۔۔کیا مصینت ہے یار ۔۔۔۔کیسے گزاروں گا اسکے ساتھ زندگی “میں بری طرح سے پریشان ہو کر رہ گیا تھا آ جا کر غصہ عفان پر آنے لگا ۔۔۔۔میں اس کی وجہ سے ماہم نامی مصیبت میں پھسنے جا رہا تھا اور اُسے تو مہک جیسی جل پری ملنے کا چانس بھی مل سکتا تھا ۔۔۔۔۔مہک ۔۔۔۔۔ہاں مہک “مہک کا خیال آتے ہی سارا غم وغصہ جیسے پل میں اڑن چھو ہو گیا ۔۔۔۔میں اپنی جگہ سے کھڑا

ہو گیا اور مہک کو ڈھونٹے کے غرض سے ادھر اُدھر لوگوں میں گھومنے لگا مگر مجھے ذیادہ مشکل پیش نہیں آئی

مہک سامنے ہی لڑکوں کے جھرمٹ کے بیچ میں کافی اترائی اترائی کھڑی تھی۔۔۔۔۔اور لڑکے بھی کسی پروانوں کی ماند مہک کے ادھر گرد کھڑے تھے جیسے پروانے بارش کے بعد جلتی شمع کے گرد مجمع لگاِئے کھڑے ہوتے ہیں ۔،۔۔۔میں بھی اس جمکھٹے میں جا گھسا ۔۔۔۔۔لڑکے ماہم کی ڈانس پرفومس پر ہی تعریفی قصیدے پڑھ رہے تھے ۔۔۔۔

“ہیلو میں کامران” ۔۔۔۔۔۔میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر مہک سے اپنا تعارف کروایا مہک نے سرسری سا مجھے دیکھا

“کون کامران ۔۔”۔۔۔۔اپنا ایک ابرو چڑھاتے ہوئے گویا وہ مجھے پہچاننے سے انکاری تھی ۔۔۔۔۔میری ڈیشنگ پرسنیلٹی پر یہ چوٹ کوئی کم تو نا تھی ۔۔۔۔پھر ان لڑکوں کا رش بھی کافی حد تک چھٹ گیا تھا

“آپ نے مجھے پہچانا نہیں “

“بلکل نہیں پہچانا ۔۔۔۔ویسے بھی اتنے لوگوں سے ملتی ہوں اتنی پارٹیز اٹینٹ کر چکی ہوں اب سب کو یاد رکھنا تو مشکل ہے “وہ بڑے ناز سے بولی

“میں ۔۔۔۔میں ۔۔۔عفان کا بھائی رسٹورنٹ میں ملاقات ہوئی تھی آپ سے “پہلی بار مجھے عفان کے حوالے سے متعارف ہونا پڑا ۔۔۔برا تو مجھے بہت لگ رہا تھا مہک کو جیسے یاد آ ہی گیا اپنے ہونٹوں کو گول کر کے وہ بڑی ادا سے بولی

“او ۔۔۔۔یادآیا ۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔ہاں ہاں اب پہچان لیا میں نے آپ کو ۔۔۔کہیے کچھ کام تھا مجھ سے “وہ لیے دیے انداز سے بولی

“جی اگر کچھ دیر آپ اکیلے میں میسر آ جائیں تو ۔۔۔۔۔میں نے اس کے پاس کھڑے چند لڑکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

“او کے گائیذ ۔۔۔۔یو پلیز انجوائے یور پاڑی میں بس تھوڑی دیر میں آپ کو جوائن کرتی ہوں “وہ لڑکے مجھے گھورتے ہوئے وہاں سے چلے گئے ۔۔۔۔۔

“جی فرمائیے ۔۔۔۔”وہ براہ راست میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی

“بس یونہی ۔۔۔۔بہت کمال کا ڈانس کرتی ہیں آپ ۔۔۔۔میں تو اب تک اسی ٹرانس میں سے خود نکال نہیں پا رہا ہوں “

“تھنکس “وہ ایسے مسکرائی جیسے مجھ پر احسان کیا ہو

“ویسے میں عفان کو لکی سمجھا ہوں ۔۔۔جسکی آپ جیسی خوبصورت دوست ہے “میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کہا مگر میری بات پر مہک متحیر سی ہو گی

“آپکو لگتا ہے وہ اب بھی میرا دوست ہے ۔۔۔”

“مطلب ۔۔۔۔میں سمجھا نہیں “اسکاعجیب سا تاثر مجھے نروس سا کر گیا

“سوری مگر مجھے افسوس ہے کے میں عفان جیسے کو دوست رکھنا پسند ہی نہيں کرتی اسے تو لڑکیوں سے بات کرنے کی بھی تمیز نہیں ہے”مہک

کی یہ بات سن کر مجھے دلی اطمینان سا ہوا تھا

“اجی ہم تو حسن کے قدر دانوں میں سےہیں ۔۔۔۔ آپ کو واقع خدا نے بڑی فرصت سے بنایا ہے اور آپ کے والدین نے آپ کا نام بھی مہک آپکے مہکتے ہوئے حسن کے عین مطابق رکھا ہے۔۔۔۔عفان تو واقع بدقسمت ہے “میری تعریف پر وہ ایک ادا سے مسکرائی

“باتیں اچھی کر لیتے ہیں آپ ۔۔۔۔۔”

“ارے یہ تو کچھ بھی نہیں آپ کبھی موقع تو دیں ۔۔۔۔میری باتیں آ پکوبلکل بور نہیں کریں گی “میں خمار آلود لہجے سے بولا

“جہاں تک مجھے یاد ہے آپ انگیجیڈ ہیں شاید “مہک کچھ سوچتے ہوئے بولی

“یہ میرابڑا اتنا بڑا جرم تو نہیں کہ آپ مجھے اپنی دوستی سے بھی محروم رکھیں ۔۔۔”میں نے بے چارگی سے کہا تو وہ ہسنے لگی

“لیکن آپکی فیانسی “

“آپ اسکی فکر مت کریں ۔۔۔یہ۔میرا کارڈ ہے اور میرا نمبر بھی اس میں موجود ہے میں آپکی کال کا بے چینی سے انتظار کروں گا”

میں نے اپنی جیب سے کارڈ نکال کر مہک کو پیش کیا مہک نے کچھ سوچتے ہوئے وہ کارڈ مجھ سے لیکر اپنے ہینڈ پرس میں رکھ لیا ۔۔۔۔میں مہک سے باتوں میں اسقدر مگن تھا کہ ماہم اور عفان کی آمد کی خبر ہی نہیں ہوئی ۔۔۔۔عفان کے بگڑے تیور دیکھ میرا دل مزیدچین کی بانسری بجانے لگا ۔۔۔۔کہ شکر ہے مہک جیسی حسین لڑکی عفان کی زندگی میں نہیں آئے گی انکی وہاں نوک جھونک کو میں نے بڑی مشکل سے رفع دفع کیا ۔۔۔۔رات کو جب مہک کی کال آئی ایک خباثت بھری مسکراہٹ میرے چہرے پرسج گئ مجھے لگا اب میں ہر بازی عفان سے جیت جاوں گا اور اسے ہمیشہ ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑے گا ۔۔۔۔میں نے رات کے ایک طویل پہر تک مہک سے باتوں میں گزار دیا ۔۔۔۔وہ شاید کچھ ذیادہ ہی خود پسند تھی میری باتوں سے جلد ہی مرعوب ہو گئ۔۔۔۔۔کچھ مجھے اسکی نظر میں خود کو عفان سے بہتر ثابت کرنا تھا ۔۔۔۔

“کاش کہ مہک تم میری زندگی میں پہلے آ جاتی ۔۔۔۔۔میری تو لائف بن جاتی “

“کیوں کامران تمہیں ماہم پسند نہیں ہے “مہک کی آوآز میں حیرانگی تھی

“تمہیں اس میں پسند ہونے کے لائق کچھ نظر آتا ہے ۔۔۔۔۔بس ماں باپ کے سامنے مجبور ہوں ۔۔۔۔اب عفان کی طرح منہ پھٹ تو ہوں نہیں کہ بے مروتی سے صاف انکار کر دیتا ۔۔۔۔مجھے تو ہمیشہ تم جیسی لڑکی کی خواہش تھی۔۔۔۔”میں اسکے سامنے خود کو معصوم ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا

“یعنی یہ سب۔۔۔۔ سب زبردستی کا نتجہ ہے۔۔۔۔سو سیڈ کیا لڑکے بھی مجبور ہوتے ہیں آج کل کے دور میں “مہک متحیر تھی

“بس کیا کروں مما کی یتیم بھانجی ہے ۔۔۔۔سہارہ تو دینا ہی پڑے گا ۔۔۔۔۔”میں آواز میں حدامکان بے چارگی پیدا کرنے کی کوشش کی بلکہ دکھ بھری ٹھنڈی آہ بھی بھری ۔۔۔مہک کی پوری ہمدردی میں جیت چکا تھا ۔۔۔۔اور میں اپنی ہنسی بامشکل روک رہا تھا یہ لڑکیاں بھی ایک بیوقوف قوم ہیں ۔۔۔۔۔فون بند ہونے کے بعد میں کافی دیر اپنی چالاکی اور عیاری پر ہنستا رہا

“بیچاری مہک باقی کی رات میرے لئے اپنے دل میں ہمدردی لئے گزار دے گی ۔۔۔۔۔اور وہ احمق ماہم ۔۔۔۔اسکی تو سوچ ہی مجھ تک محدود ہے ۔۔۔۔”نا جانے کس بات کا زعم تھا میرے اندر شاید( جیسے ۔عورت اپنی تعریف سے پگھلنے لگتی ہے…. ایسے ہی مرد بھی عورت کو تسخیر ہوتا دیکھ کر مسرور ہونے لگتا ہے )۔۔۔۔باقی مروں کا تو پتہ نہیں مگر میں ضرور اس وقت ایسے ہی نشے میں چور تھا ۔۔۔۔۔۔

*******……..

ماہم بنا مجھ سے کچھ پوچھے میرے سارے کام اپنے ذمے لے چکی تھی ۔۔۔۔مجھے اسکی عادت سی ہوگئی تھی ۔۔۔۔میرس وارڈروب مجھے ہمیشہ صاف اور سلیقے سے ملتا تھا کس شرٹ کے ساتھ کونسی ٹائی میچ ہوتی ہے ۔۔۔۔کس کوٹ کے ساتھ کونسی شرٹ اچھی لگتی ہے مجھے یہ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔۔۔۔ماہم میں اور کوئی خوبی ہو یا نا ہو یہ خوبی کمال کی تھی ۔۔۔۔جب میں اسکے میچ کیے ہوئے ڈریس پہن کر جاتا سب کے تعریفی جمعلےمجھے سننے کو ملتے ۔۔۔۔۔

“سر کامران کی تو پرسنیلٹی اور بھی ڈیشنگ ہو گئ ہے ۔۔۔کیازبردست میچنگ پہنتے ہیں “میرے آفس کی بہت سی لڑکیاں مجھے دیکھ کر آپس میں ایسے ہی تذکرے کرتی تھیں ۔۔۔۔۔

********…….

۔۔۔ کچھ دنوں بعد ہی مجھے ہلکا سا فیور ہو گیا تھا میں نے کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا بس میڈسن لی ماہم سے کافی کا کہا اور اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ماہم جب کافی بنا کر لائی میں بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔وہ کافی پریشان لگ رہی ۔۔۔۔۔

“کیسے ہو گیا فیور آپ کو کامی “

“بس ہو گیا ماہم ۔۔۔سب کو ہی ہوتا ہے ۔۔۔”میں نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا

جب تک میں کافی پیتا رہا ماہم میرے سامنے کرسی پر بیٹھی میرے لئے پریشان ہی ہوتی رہی ۔۔۔۔کافی کا خالی کپ لیکر ماہم باہر چلی گئ اور کچھ ہی دیر میں بھی سو گیا ۔۔۔۔صبح جب میری آنکھ کھلی میں نے کروٹ بدلی میری نظر بیڈ کے سامنے رکھی کرسی پر پڑی ۔۔۔۔مجھے لگا وہاں ماہم بیٹھی کرسی سے ٹیک لگائے سو رہی ہے میں اب بھی گہری نیند میں تھا مجھے لگا میرا وہم ہے ۔۔۔۔لیکن مجھے یہ کیوں نظر آ رہی ہے ۔۔۔میں اس کے عشق میں تو ہر گز مبتلہ نہیں تھا جو مجھے وہ ہر سو نظر آتی ۔۔۔۔۔میں نے دوبارہ آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔وہ واقع ماہم ہی تھی جو کرسی کی پشت سے سر ٹکائے سو رہی تھی ۔۔۔میں نے اپنی آنکھیں مسل کر دیکھا کہ شاید میرا گمان ہی نا ہو مگر نہیں ۔۔۔وہ میرے کمرے میں اسوقت کیا کر رہی تھی ۔۔۔۔۔میں اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

“ماہم “میں نے اسے پکارا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی

“جی کامی ۔۔۔۔”شاید گہری نیند میں نہیں تھی اس لئے فورا سے اٹھ بیٹھی

“اب کیسی ہے آپکی طعبیت ۔۔۔۔فیور تو نہیں۔ ہے اب “وہ فکر مندی سے بولی

“تم پہلے یہ بتاؤں تم کر کیا رہی ہو یہاں ۔۔۔۔”میں نے سخت لہجے سے کہا

“آپ کو فیور تھا ۔۔۔۔”

“تو”

“مجھے آپکی فکر ہو رہی تھی “

“اس لئے صبح ہی صبح سات بجے تم میرے کمرے میں آ گئ “مجھے تعجب اس احمق پر

“نہیں ۔۔۔۔میں رات سے یہیں ہوں “

“واٹ۔۔۔۔۔مگر کیوں “میں حیرت سے حلق کے بل چیخا

“آپ کو فیور تھا ۔۔۔اس لئے ۔۔۔مجھے فکر ۔۔۔۔”

“او شٹ اپ ماہم ۔۔۔۔۔آر یو میڈ سیریسلی “میں ماہم کی بات پوری سنی ہی نہیں ۔۔۔۔اسکی عقل پر میں بس حیران ہی ہو سکتا تھا

وہ فورا سے کھڑی ہو گئ کمرے سے باہر جانے لگی

” رکو ماہم ادھر آؤں واپس “میرے سخت لہجے پر وہ وہیں رک گئ مگر پلٹ کر

واپس نہیں آئی مجبورا مجھے ہی اٹھ کر اسکے پاس جانا پڑا ۔۔۔۔ میں اسکے نزدیک پہنچا تو وہ رو رہی تھی میں مزید کوفت کا شکار ہونے لگا

“پہلے تو یہ رونا بند کرو ۔۔۔۔”میری بات سنتے ہی وہ آنسوں پونچنے لگی ۔۔۔۔بیٹھو واپس کرسی پر ۔۔ چلو “میرے تحکمکانہ لہجے پر وہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئ میں بھی دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گیا

“اب بتاؤں۔۔۔۔۔ رات تم نے میرے کمرے میں اس کرسی پر بیٹھ کر صرف اس لئے گزاری ہے کہ مجھے فیور تھا ۔۔۔۔۔آئی کانٹ بلیو ۔۔۔۔۔”میرا ذہن ابھی تک اس بات کو تسلیم نہیں کر پا رہا تھا ۔۔۔۔میں نے۔ اپنی لائف میں بہت بیوقوف لڑکیاں دیکھیں تھیں پر جو لڑکی میرے سامنے بیٹھی تھی ایسی احمق پر میری عقل بھی حیران تھی ۔۔۔۔

وہ آپ کو فیور”

“ماہم یہ بہانہ مت بناؤں ۔۔۔۔مجھے پہلی بار فیور نہیں ہوا ۔۔۔۔پہلے تو تم نے کبھی ایسا نہیں کیا ۔۔۔۔اب ایسا کیا ہوا ہے جو تم نے یوں ریایکٹ کیا ہے ۔۔۔۔”

“اب بات اور ہے “وہ منمنائی تھی

“اب کیا بات ہے “

“اب” وہ نظریں جھکا گئ تھی جھجکنے لگی اور یہی بات مجھے زہر لگتی تھی

“اب کیا “

“میں ۔۔۔۔میں جاؤں کامی مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔۔”وہ بہانے تراشنے لگی

“مجھ سے سچ بولے بغیر تو میں اب تمہیں ہلنے بھی نہیں دونگا ۔۔۔۔جانا تو بہت دور کی بات ہے ۔۔۔”میرے حتمی انداز پر وہ مجھے دیکھنے لگی پھر نظریں جھکائے اپنی انگلیاں چٹخانے لگی اسکی حرکتیں مجھے زچ کرنے کے لئے کافی تھیں

“Maham stoped know this stupidity”

وہ یک دم ہی سیدھی ہو کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔

“اب بتاؤں “

“کامی میں ۔۔۔۔۔۔”یہ کہہ کر اس سختی سے آنکھیں میچ لیں

“Because I love you “

مجھے اسکے اس قسم کے اظہار پر ہنسی آنے لگی ۔۔۔۔میں اپنی ہنسی نہیں روک پا رہا تھا ۔۔۔ایسا اظہار میں نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا ۔۔۔۔اب بھی وہ ایسے شرمندہ بیٹھی تھی جیسے کوئی بہت بڑی غلطی سر زد کر بیٹھی ہو ۔۔۔۔بڑی مشکل سے میں نے اپنی ہنسی کو بریک لگائی

“تو اپنی محبت کا یقین دلانے کا یہ کون سا انداز ہے ۔۔۔۔اور بھی بہت سے طریقے ہوتے ہیں ۔۔۔۔” مسکراہٹ میرے چہرے سے ہٹ نہیں رہی تھی

“کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے ۔۔۔۔۔”اب میری باری تھی اسے زچ کرنے کی

“کامی میں جاؤں “

“نہیں ۔۔۔۔اج تو تمہیں ہر جواب دینا پڑے گا ۔۔۔”میں بہت پر سکون انداز سے کہہ رہا تھا

وہ کچھ دیر نروس ہوتی رہی پھر میرے سامنے اپنا ہاتھ پھیلا دیا ۔۔۔۔۔

“میں منہ سے اور کچھ نہیں کہوں گی اب ۔۔۔۔آپ میرے ہاتھ سے محبت کی لکیر دیکھ کر اندازہ لگا لیں

“پامسٹ نہیں ہوں میں “عجیب بیوقوفانہ بات تھی اس کی میں نے ایک نظر ماہم کس دیکھا پھر اسکے پھیلے ہوئے ہاتھ کو

پھر وہ مجھے اپنے ہاتھ پر محبت کی لکیر دیکھانے لگی ۔۔۔

“۔یہ والی ہے ۔۔۔۔دیکھیں کتنی گہری ہے ۔۔۔۔”وہ اپنے ہاتھ پر انگلی رکھ کر دیکھاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔اسکے ہاتھ پر بس ایک وہی لکیر سب سے گہری تھی باقی لکیریں مدھم سی تھیں اسکی احمقانہ بات پر میں صرف ہنس سکتا تھا ۔۔۔۔خوابوں کی دنیا میں رہنے والی بیوقوف سی لڑکی تھی ۔۔۔۔بھلا لکیروں میں بھی محبت کا پتہ چلتا ہے میں نے اپنا ہاتھ اسکے اگلے کر دیا

“اب بتاؤں میرے ہاتھ میں محبت کی لکیر کتنی گہری ہے”اسکی باتیں احمقانہ تو تھیں مگر اس وقت مجھے دلچسپ لگ رہیں تھیں ۔۔۔۔وہ میرا ہاتھ پکڑے بڑی سنجیدگی سے کسی پامسٹ کی طرح ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔پھر اپنی انگلی سے ایک لکیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی

“یہ ہے” ۔۔۔

“کون سی ” ایک مدھم سی لکیر تھی میرے ہاتھ میں ۔۔۔اور میرے ہاتھ سب لکیریں بہت گہری تھی سوائے اس ایک لکیر کے عجیب اتفاق تھا

“اس کے مطابق تو مجھے تم سے بلکل ذر۔۔۔۔ا۔ سی محبت ہے ۔۔۔اور تمہیں بے تحاشہ ۔۔۔۔”میں ذرا کو کھنچ کر کہا

“میرے لئے تو آپکی ذرا سی محبت بھی کافی ہے کامی “

“اچھا ۔۔۔۔۔تمہیں لگتا ہے کہ لکیروں کے گہرے ہونے سے محبت بھی گہری ہو جاتی ہے ۔۔۔۔”

“ہاں فائزہ نے تو یہی بتایا تھا ۔۔۔۔”

“کون فائزہ “

“میری دوست “

“ماہم تمہیں عفان سے کتنی محبت ہے “میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ عفان کے بارے میں کیا سوچتی ہے

یہ کیسا سوال ہے کامی “

“میں جاننا چاہتا ہوں “

“وہ صرف میرا دوست ہے۔۔۔کزن ہے ۔۔۔پھر وہ مجھ سے چھوٹا بھی ہے ۔۔۔۔میں ایسا تو اسکے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔میں نے تو صرف آپکے ہی خواب سجائے ہیں ۔۔۔۔۔عورت ویسے بھی اپنی پہلی محبت کبھی نہیں بھولتی اور میری ۔۔۔۔”اسکے منہ پر یک دم ہی بریک لگی تھی

“تو میں تمہاری پہلی محبت ہوں ۔۔۔۔””

“جی ۔۔۔اور آخری بھی “وہ نظریں جھکائے شرمائے انداز سے اعتراف کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ایسا نہیں تھا کہ مجھ سے یوں اظہار کرنے والی وہ پہلی لڑکی تھی ۔۔۔مگر یہ الفاظ یہ انداز میرے لئے الگ تھے کچھ الگ رنگ تھے اسکے چہرے پر پہلی بار میں نے ماہم کو بڑی محویت سے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔وہ حسین نہیں تھی ۔۔۔۔مگر اس وقت لگ رہی تھی ۔۔۔۔اس سے پہلے میری جتنی دوستیں تھیں سب ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت تھی ۔۔۔حسین و جمیل تھیں ۔۔۔۔۔بڑی پر اعتماد بھی تھیں محبت کا اظہار بھی بڑے اعتماد سے کر چکی تھیں ۔۔۔۔مگر جو رنگ اس وقت میرے سامنے بیٹھی لڑکی کے چہرے پر تھے وہ کبھی میں نے اپنی کسی دوست کے چہرے پر نہیں دیکھے تھے ۔۔۔وہ اٹھ کر جا چکی تھی ۔۔۔۔میں نے خود کو جھٹکا ۔۔۔۔پھر ماہم کی باتوں پر ہسنے لگا

“پاگل لڑکی ۔۔۔۔۔ میرے ہاتھوں کی لکیروں میں بھی تمہارے لئے محبت تو بہرحال نہیں ہے ماہم۔۔۔۔”

تمہیں کیا پتہ کیا کرنے والا ہوں تمہارے ساتھ ۔۔۔۔۔تم صرف ایک مہرہ ہو ۔۔۔۔جس سے عفان کو تگنی کا ناچ نچا سکتا ہوں میں ۔۔۔۔بہت شوق ہے اسے اٹلی جانے کا ۔۔۔مگر جو میں شادی کے بعد کروں گا تمہارے ساتھ ماہم الٹے قدم لوٹ کر آئے گا وہ ۔۔۔۔۔اور پھر اسکے سامنے تڑپایا کروں گا تمہیں