Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 14
Rate this Novel
Tadbeer Episode 14
Tadbeer by Umme Hani
شادی والے دن کامران صبح سے ہی الجھا لجھا سا تھا ۔۔۔۔شام کو ماہم پارلر چلی گئ کامران کی شیروانی پریس ہو کر چکی تھی
جب میں اسے کامران کے کمرے میں دینے گیا کمرہ سگریٹ کے دھوئیں سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔۔کامران کھڑکی کے پاس کھڑا سگراہٹ ہی پی رہا تھا
“بھائی آپکی شروانی”…. میں نے شاروانی بیڈ پر رکھتے ہوئے کہا کامران اپنی سوچوں میں گم تھا میری بات سن کر چونک کر پلٹ کر مجھے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
“بھائی کچھ دیر میں کمرہ سجانے چند لڑکے آ جائیں گئے ۔۔۔آپ اس سے پہلے تیار ہو جائیے گا ۔۔۔۔کامران میری بات شاید غائب دماغی سے سن رہا تھا
“بھائی” میں نے کچھ بلند آواز سے اسے پکارا ۔۔۔
“ہمم ۔۔۔۔ہاں بولو ۔۔۔شاید کچھ کہہ رہے تھے تم ۔۔۔”۔کامران پھر سے چونک کر بولا میں گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا
“بھائی کوئی مسلہ یا کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتائیں” ۔۔۔میری بات پر وہ کچھ گڑبڑا سا گیا
“کون سی پریشانی ۔۔۔نن نہیں ۔۔۔۔کوئی پریشانی نہیں ہے کیوں پوچھ رہے ہو تم” ۔۔۔۔۔کامران یک دم سنبھل کر بولا ہاتھ میں پکڑا سگریٹ ایش ٹرے میں رکھ کر بجھا دیا ۔۔۔۔
“او کے ۔۔۔۔آپ آٹھ بجے تک تیار رہیے گا۔۔۔۔۔آپ کو اور ماہم ایک ساتھ ہی ہال پہنچنا ہے” ۔۔۔۔۔میں بات مکمل کر کے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔پھر تو میں کاموں میں اسقدر الجھا کہ آٹھ بجے مما پاپا اور ماموں کی فیملی کو گھر سے زبردستی نکال کر خود تیار ہونے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔۔جلدی جلدی اپنی تیاری مکمل کی پھر کامران کے کمر کا دروازہ بجانے لگا ساڈھے آٹھ بج چکے تھے ماہم کو پارلر سے پک کرنا تھا ۔۔۔۔۔نو بجے نکاح خوں کو بھی لینا تھا ۔۔۔۔
“بھائی کتنی دیر ہے اور’ ۔۔۔۔کامران نے جب دروزہ نہیں کھولا تو میں نے دروازہ دوبارہ سے بجا کر پوچھا ۔۔۔۔
“بس دو منٹ” ۔۔۔۔آ رہا ہوں ۔۔۔۔۔کامران کی اندر سے آواز آئی ۔۔۔۔
“بھائی جلدی کریں ہم لیٹ ہو رہے ہیں” ۔۔۔۔۔میں عجلت میں کہتا ہوں سیڑیاں اترنے لگا سامنے لاونج میں کمرے کی سجاوٹ کے سامان کے ساتھ چند لڑکے موجود تھے ۔۔۔مجھے دیکھ کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔ان میں سے ایک میری طرف بڑھتے ہوئے بولا
“جی صاحب کیسی سجاوٹ پسند ہے آپکو خالی پھولوں کی یا پھر کینڈل بھی لگوانی ہیں ۔۔۔۔”
کامران اسوقت تک نیچے اتر چکا تھا اپنی گھڑی ہاتھ میں باندھتے ہوئے ۔کامران۔ ان لڑکوں سے مخاطب ہوا
“دولہا میں ہوں مجھ سے پوچھو ۔۔۔دیکھوں یہ بیڈ کے کناروں پر لٹکتی گلاب کی لڑیاں مجھے بلکل پسند نہیں ۔۔۔۔ہاں مگر کینڈل ضرور سیٹ کرنا ۔۔۔۔گلاب کی پتیاں کمرے کے دروازے سے بیڈ تک بچھا دینا دھیان رکھنا ایک بھی کانٹا نہیں ہونا چاہیے پھولوں کی پتیوں میں ۔۔۔۔میری ہونے والی بیوی بہت نازک سی
ہے کانٹے کی چھبن برداشت نہیں کر سکتی اور ان پتیوں کے کناروں پر جگہ جگہ کینڈل ہونی چاہیے ۔۔۔”۔میں باقی کی چند سیڑیاں اترتے ہوئے یہ سب کچھ سن رہا تھا ۔۔۔۔کامران اب بھی ان لڑکوں کو اپنے کمرے کی سجاوٹ کا ہی بتا رہا تھا
“بیڈ پر کلیوں اور گلاب سے بڑا سا ہارٹ بنا دینا ۔۔۔۔میرا کمرہ آج بہت اسپشل لگنا چاہیے ۔۔۔۔سمجھے نا ذرا سی بھی کمی ہوئی تو یاد رکھنا پیسے نہیں دونگا تمہیں۔۔۔۔۔ آج کا دن بہت خاص ہے میرے لئے ۔۔۔۔””۔کامران نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔۔اور میرا دل ۔۔۔۔۔مجھے لگا پاؤں میں مسلے ہوئے گلاب کی طرح کچلنے لگا ہو۔۔۔۔۔۔ایسا کوئی خواب میں نے ابھی اپنی آنکھوں میں ماہم کے لئے سجایا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔مگر پھر بھی مجھے لگا دل میں بہت زور کی ٹھیس سی اٹھی ہو ۔۔۔۔میں نے خود کو جھٹکا ۔۔۔۔
چلو ماہم تو خوش رے گی نا آج کا دن اسکے لئے بہت اسپیشل ہی ہونا چاہیے ۔۔۔۔شکر ہے کامران بھائی کو
اس بات کو خیال ہے ۔۔۔۔میں نے خود کو بہلایا ۔۔۔۔۔اور صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔وہ لڑکے اب سامان اٹھائے اوپر چلے گئے راشد بھی انکے ہمراہ اوپرچلا گیا رانی کچن کے دروازے کے پاس کھڑی دانت نکال کر ہنس رہی تھی زرد برق جوڑا پہنے اور آدشی لپ اسٹک لگائے وہ بہت خوش نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔
“کامران صاب جی۔۔۔ جب آپ لوگ برات لیکر آؤں گئے جی تو میں نے ماہم بی بی کا پھولوں سے استقبال کرنا ہے ۔۔۔۔اور اس بار آپ سے نیگ بھی لوں گی وہ بھی پورے ایک ہزار ۔”۔۔۔رانی کامران کا موڈ خوشگوار دیکھ کر بولی
“ایک کیوں تمہیں میں پانچ ہزار دوں گا بس خوش” ۔۔۔۔کامران آج واقع خوش تھا ۔۔۔۔شاید محبت پا لینے والے ایسے ہی خوش ہوتے ہیں اپنی خوشی کو چھپا نہیں پاتے ۔۔۔۔انکا ایک ایک انداز انکے چہرے پر بکھرے رنگ انکے دلی جذبات کی عکاسی کر ہی دیتے ہیں ۔۔۔۔ماہم سے منگنی سے لیکر اب تک میں کامران کو اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا جتنا وہ آج
تھا ۔۔۔۔عجیب سی چمک تھی اسکے چہرے پر کچھ پا لینے کی ۔۔۔۔شاید محبت پا لینے کی ۔۔۔۔رانی کی تو بانچھیں پوری کی پوری کھل گئی کامران کی دریا دلی سن کر ۔۔۔۔
“ہاں بھئ عفان تم بھی اپنی ڈیمانڈ ابھی سے بتا دو ۔۔۔۔یہ نا ہو کہ کمرے کے سامنے کھڑے ہو کر کچھ ایسا مانگ لوں جو میں اسوقت تمہیں دے نا سکوں” ۔۔۔۔کامران اب مجھ سے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا ۔۔۔۔میں بھلا کیا مانگ سکتا تھا میں نے اپنا جو کچھ اسے دان کر دیا تھا اس کا مقابلہ میں یہ پیسے اور چیزیں کیا حثیت رکھتے تھے
“بیفکر رہیں بھائی میں آپکے راستے کی دیوار کبھی نہیں بنو گا ۔۔۔۔بس ماہم کو بہت خوش رکھیے گا ۔۔۔مجھے اور کچھ نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔”
“ارے واہ تم تو بہت سستے میں چھوٹ رہے ہو ۔۔۔۔لیکن پھر بھی میں تمہیں آج تحفہ ضرور دونگا ۔۔۔۔”
“چلیں اب بھائی ہم لیٹ ہو رہے ہیں ۔۔۔۔آپ کی گاڑی باہر سجی کھڑی ہےآپ وہ سیدھا پارلر لے جائیں وہاں سے ماہم کو پک کر کے سیدھا ہال پہنچ جائیے گا ۔۔۔میں اب ہال کے لئے نکلو گا ۔۔۔۔۔مجھے آپ لوگوں سے پہلے پہنچنا ہے ۔۔۔۔۔۔آخر آپ کے شاندار استقبال بھی تو کرنا ہے ۔”۔۔۔میں نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔کامران نے بھی تائید میں سر ہلایا ۔۔۔۔میں ابھی اپنی گاڑی کے چابی پکڑی ہی تھی کہ کامران کی کال آنے لگی ۔۔۔کامران نے نمبر دیکھ کر فورا موبائل کان پر لگا لیا ۔۔۔نا جانے دوسری جانب کون تھا مگر کامران کا چہرہ متغیر ہونے لگا رنگ فق سا ہو گیا چہرے اور پیشانی پے پسینے کے قطرے چمکنے لگے ۔۔۔۔
“میری بات سنو تم ۔۔۔۔دیکھوں ۔۔۔۔۔میں بعد میں بات کرو گا تم سے “۔۔۔۔کامران کھل کر بات نہیں کر پ رہا تھا شاید میری موجودگی کی وجہ سے ۔۔۔
“اچھا ۔۔۔۔او کے ۔۔۔میں ابھی آتا ہوں ۔۔۔۔بس پندرہ منٹ میں پہنچتا ہوں” ۔۔۔۔کامران نے فون بند کیا وہ بہت بری طرح سے گھبرایا ہو تھا
“عفان ۔۔۔۔عفان تم یہ میری گاڑی کی کی چابی پکڑو ۔۔۔ماہم کو پک کے ہال پہنچو میں بس کچھ دیر میں پہنچتا ہوں” ۔۔۔۔کامران کی ہڑبونگ پن میری سمجھ سے باہر تھا
“کیوں بھائی کیا ہوا ہے کس کا فون تھا “۔۔۔۔مجھے تشویش سی ہونے لگی
“یار میرے ایک دوست کے ایکسڈینٹ ہو گیا ہے ہی از سیریس ناؤ ۔۔۔۔۔میں بس آدھے گھنٹے میں ہال پہنچ جاؤں گا ۔۔۔۔اپنی گاڑی کی چابی مجھے دو “
“بھائی ۔۔۔۔۔ٹھیک ہے یہ معاملہ سیریس ہے مگر اسوقت آپ کو ہال میں جانا چاہیے آپکا اور ماہم کاوہاں پہنچا ضروری ہے ۔۔۔۔”
“یار وہ میرا دوست مر جائے گا ۔۔۔تم سمجھ نہیں رہے ہو کیسے سمجھاؤں تمہیں” ۔۔۔کامران حد سے زیادہ پریشان اور بد حواس سا ہو رہا تھا
“بھائی مجھے بتائیں وہ کس ہاسپٹل میں ہے میں چلا جاتا ہوں وہاں مگر ۔۔۔آپ کو ابھی ۔۔۔۔۔”
“پلیز عفان میرے پاس وقت کم ہے ۔۔۔۔چابی دو مجھے اپنی گاڑی کی ۔۔۔۔
“نہیں بھائی ۔۔۔۔۔آپ کہیں نہیں جائیں گئے ۔۔۔شادی ہے آپکی اگر آپ وقت پر نہیں پہنچے ۔۔۔۔”
“کیوں نہیں پہنچو گا ۔۔۔۔۔میں ضرور آؤنگا پاگل نہیں ہوں جو آج نا پہچو میری زندگی کا سب سےبڑا دن ہے آج۔۔۔۔بس آدھے گھنٹے میں پہنچ جاؤں گا ۔۔۔”وہپورے تیقن سے بولا
“آپ مجھے کیوں نہیں بتا دیتے میں چلا جاتا ہوں ۔۔۔۔”
کامران نے میرے ہاتھ سے چابی چھینی اور باہر کی طرف تیز قدم بڑھاتے ہوئے لان میں چلا گیا میں بھی اسکے پیچھے لپکا پر وہ تقریبا بھاگتے ہوئے مین گیٹ عبور کر چکا تھا ہم دونوں کی گاڑیاں باہر ہی کھڑی تھیں میں نے بھی تیز چلتے ہوئے کامران کو روکنا چاہا مگر جب تک میں باہر نکلا کامران گاڑی لیکر جا چکا تھا مجھے تجسس سا ہونے لگا ۔۔۔ایسا کون سا
دوست ہے جو وہ اس موقع پر بھی نہیں رکا میں نے جلدی سے کامران کی پھولوں سے سجی گاڑی اسٹاٹ کی اور کامران کا پیچھا کرنے لگا ۔
********
ماہم آج بہت خوش تھی ۔۔۔۔بات بات پر مسکرا رہی تھی۔۔۔
“واہ آپ کا برائیڈل ڈریس تو بہت خوبصورت ہے ۔۔۔”۔بیوٹیشن۔ نے ماہم کے شادی کے گولڈن اور مہرون کامبنیشن پر گولڈن کام سے بھرے جوڑے کو سہراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ماہم چہرہ مزید کھل گیا
“اچھا کیسے نہیں ہو گا آخر کامران کی پسند کا جو ہے” ۔۔۔۔ماہم شرمائے شرمائے بولی
“کامران کون “
“میرا ہونے والا شوہر اور کون “
“ہمم ۔۔۔۔ماننا پڑے گا انکی چوائس کو ۔”۔۔۔بیوٹیشن ماہم کے چہرے پر بیس لگانے لگی ۔۔۔۔
“انہیں ہر چیز بہترین ہی پسند آتی ہے ۔۔۔ایسی ویسی۔ جیز پر ہاتھ بھی نہیں رکھتے وہ ۔”۔۔۔ماہم مسلسل بول رہی تھی
“دیکھیں آپ چپ چاپ بیٹھیں ورنہ آپکا میک اپ اچھا نہیں۔ ہو گا ۔۔۔۔”
“ٹھیک ہے مگر دیکھوں ذیادہ بیس مت لگا اور نا ہی پائن ایپل پیسٹری کی طرح مجھے بنا دینا ۔۔۔۔کامران کو لائٹ میک اپ پسند ہے ۔۔۔۔”
“اچھا میں لائٹ ہی کرو گی مگر آپ چپ تو ہوں ۔۔۔”۔بیوٹشن اب ماہم کے چہرے پر بڑی مہارت سے ہاتھ چلا رہی تھی ۔۔۔۔
“میری آئی شیڈز شارپ مت کرنا کامران کو پسند نہیں ہے ۔۔۔۔”
ماہم ہر بات پر بس کامران کا نام لے رہی تھی اسے یہی فکر تھی کہ آج وہ کامران کو بلکل پرفیکٹ لگے ۔۔۔۔اس لئے اسے بار بار انسٹرکشن دے رہی تھی ۔۔۔میری لپ اسٹک مہرون کلر کی نا ہو ۔۔۔بالوں کا جوڑا مت بنانا مجھے جھومر نہیں پہننا ۔۔۔۔ماتھے کی بندیا بہت چھوٹی ہوئی چاہیے ورنہ کامران ناراض بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔بیوٹیشن اب ماہم کی باتوں سے زچ ہونے لگی تھی
“ارے آپ کتنا بولتی ہیں۔۔۔آنکھیں بند کریں اپنی “وہ اب ماہم کی آنکھوں پر آئی شیڈز لگانے لگی
“میں چپ نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔۔اگر تم نے اپنی مرضی کر دی اور میں کامران کو اچھی نہیں لگی تو ۔۔۔۔پتہ ہے تمہیں۔ خالہ کیا کہتی ہیں ۔۔۔۔خالہ کہتی ہیں دلہن وہی جو پیا من بھائے ۔۔۔۔۔مجھے بھی تم نے آج ایسی ہی دلہن بنناہے ۔۔۔۔
“میں آپ کو بہت پیاری دلہن بناؤں گی ۔۔۔آپ کا دلہا دیکھ کر دنگ رہ جائے گا مگر اب آپ بولیں گی نہیں
“۔۔۔۔بیوٹیشن کی پیار بھری سرزش پر ماہم چپ ہو گئ دلہن تووہ واقع بے حد خوبصورت بنی تھی کچھ پل تو ماہم کو بھی خود پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔ڈوپٹہ سیٹ کرنے کے بعد وہ بیوٹیشن ماہم کو نا رونے کی تاکید کرنے لگی
“دیکھیں آپ رخصتی کے وقت روئے گا مت ورنہ میری ساری محنت بیکار ہو جائے گی ۔۔۔۔”
“ارے بھئ میں کیوں رونے لگی بھلا ۔۔۔میری تو ویسے بھی پسند کی شادی ہے “۔۔۔۔ماہم لجاتے ہوئے بولی
“شادی پسند کی ہو یا ارینج رخصتی کے وقت اپنی فیملی ماں باپ سے دور ہونے پر رونا آ ہی جاتا ہے”
“ہاں مگر میں تو پہلے سے ہی خالہ کے پاس رہتی ہوں اب بھی مجھے خالہ کے گھر ہی جانا ہے ۔۔۔۔۔میرا رونے کا دور دور تک کوئی سین نہیں ہے ۔”۔۔۔ماہم نے ماتھے کی بندیا ٹھیک کرتے ہوئے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔کافی دیر وہ کامران کا انتظار کرتی رہی ۔۔۔۔پھر وہ بیوٹیشن بھی شور کرنے لگی کہ اسے اپنا پارلر بند کرنا ہے اتنی رات دیر تک وہ نہیں بیٹھ سکتی ۔۔۔۔۔ماہم نے کئ بار کامران کو کال کی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا
******
۔۔۔۔۔ابھی کچھ دیر مجھے ہوئی تھی کامران کا پیچھا کرتے ہوئے کہ ماہم کی کال آنے لگی میں نے عجلت سے ایک ہاتھ فون کان پر لگا ساتھ ہی ساتھ کامران کی گاڑی کا پیچھا بھی کرتا رہا ۔۔۔۔کامران بہت رش ڈرائیو کر رہا تھا میں ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ سنبھالے عجلت سے بولا
“بولو ماہم کیا مسلہ ہے ۔۔۔۔”
“عفان کہاں ہو تم لوگ پچھلے ایک گھنٹے سے میں انتظار کر رہی ہوں کامی بھی میرا فون نہیں اٹھا رہے ۔۔۔۔پارلر والی کو اپنا پارلر بند کرنا ہے جلدی سے لینے آؤں مجھے ۔۔۔۔”
“ماہم اسے بولو کچھ دیر اور انتظار کر لے ۔۔۔ “
“نہیں عفان وہ نہیں مان رہی اب کیامیں دلہن بنی سڑک کے کنارے کھڑی ہو کر انتظار کرو بس ابھی پہنچو ۔۔۔۔”
“او کے ۔۔۔میں آ رہا ہوں “۔۔۔میں نے کامران کا پیچھا چھوڑ کر گاڑی کو دوسرے موڑ پر لے گیا ویسے بھی وہ کافی دور نکل چکا تھا میں چاہ کر بھی اس کا
پیچھا نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔پھر ماہم کی بات بھی ٹھیک تھی یوں سجی سنوری دلہن بنی وہ سڑک پر کھڑی نہیں رہ سکتی تھی ۔۔۔۔پارلر بھی کب تک کھلا رہتا ۔۔۔۔میں دس منٹ میں ماہم کے پارلر پر پہنچ کر ہارن دینے لگا ۔۔۔۔۔ماہم چند لمحوں میں باہر آ کر گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولے بیٹھ گئ ۔۔۔۔پھر مجھے دیکھ کر حیرت سے بولی ۔۔۔۔کامی کی گاڑی تمہارے پاس ہے ۔۔۔۔
“کامی کہاں ہیں عفان “
“وہ میری گاڑی میں آ رہے ہیں” ۔۔۔۔میری کوشش تھیں جلد از جلد ماہم کو ہال پہنچا کر واپس وہیں جاؤں جہاں کامران کو جاتے دیکھا تھا وہاں کے قریب ہاسپٹل میں ہی وہ کہیں موجود ہو گا ۔۔۔۔جنتا جلدی ممکن ہو سکے کامران کو لانا اس وقت ضروری تھا ۔۔
“عفان میں کیسی لگ رہی ہوں “۔۔۔۔میں اپنی سوچوں میں مگن تھا اس وقت مجھے کامران کی فکر تھی ۔۔۔۔پھر میں دانستہ بھی ماہم کو دیکھنے سے گریز ہی کر رہا تھا ۔۔۔خود پر جبر کر لینا ہی بہتر تھا ورنہ دل کی بے اختیاری ایسا حشر برپا کرتی کہ سنبھالنا مشکل ہو جاتا ۔۔۔۔
42
“ہاں اچھی لگ رہی ہو۔”۔۔میں نے مدافعانہ انداز سے کہا اور سامنے ونڈر اسکرین کی طرف ہی نظریں جمائے رکھیں ۔۔۔۔مجھے جلد از جلد ماہم کو ہال چھوڑنا تھا تا کہ کامران کے پیچھے جا سکوں
“بنا دیکھے تمہیں کیسے اچھی سکتی ہوں ۔۔۔۔ساری ناراضگی چھوڑ کر ایک بار ۔دیکھوں نا میری طرف اور بتاؤں مجھے۔۔۔ تمہیں پتہ ہے کامران کو ہر چیز بلکل پرفیکٹ پسند ہے ۔۔ بتاؤں مجھے میں پرفیکٹ لگ رہی ہو نا ۔۔۔۔”
“۔ماہم کے بے جا سوالوں سے میں زچ ہونے لگا تھا
میں نے سراسری نظر اس ڈالی ۔۔۔۔۔ریڈ اور گولڈن کامبنیشن کے عروسی لباس میں۔ وہ دلہن بنی بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔میں فورا سے نظریں ہٹا لیں ۔۔۔۔
“ہاں تم بہت اچھی لگ رہی ہو بھائی کو بھی اچھی لگو گی اب چپ ہو کر بیٹھ جاؤ مجھے ڈرائیو کرنے دو “۔۔۔۔میں گاڑی بہت اسپیڈ سے چلا رہا تھا ۔۔۔سامنے آنے والے اسیڈ بریکر کو بھی نا دیکھ سکا گاڑی بہت زور سے اچھلی تھی ماہم کا سر گاڑی سے لگتے لگتے بجا تھا ۔۔۔۔
“عفان دھیان سے چلاو ۔۔۔۔’وہ چلا کر بولی
“سوری ۔۔۔۔۔وہ مجھے نظر نہیں آیا ۔۔۔تمہیں چوٹ تو نہیں لگی” ۔۔۔۔۔میں شرمندہ ہو گیا اپنی جلد بازی میں ۔۔۔۔کوئی نئ مصبت میں کی پھنس جاؤں میں گاڑی کی اسپیڈ نارمل کر لی
*********
ہال پر پہنچ کر میں نے ماہم کو کرن اور کشف کے ساتھ اندر وڈنگ روم میں بھجوایا اور ساری صورت حال سے مما اور پاپا دونوں کو آگاہ کیا وہ دونوں ہی پریشان ہونے لگے ۔۔۔قاسم بھی فاریہ کے ساتھ پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔فاریہ تو شاید ماہم کے پاس جا چکی تھی میں نے قاسم کو اپنے ہمراہ لیا اور کامران کو ڈھونڈنے چلا گیا قاسم کو ساری بات میں نے گاڑی میں ہی بتائی ۔۔۔۔۔وہ بھی پریشان سا ہو گیا اور کامران کی عقل کو کوسنے لگا
“تمہارا بھائی شاید پاگل ہے ۔۔۔۔ایسے موقع پر اسے جانا ہی نہیں چاہیے تھا ۔۔۔۔۔اپنے کسی اور دوست سے کہہ دیتا ۔۔۔۔یا تمہیں بتا دیتا ۔”۔۔۔۔قاسم بھی افسوس کرنے لگا ہم نے ہر ممکن جگہ پر کامران کو تلاش کر لیا ۔۔۔اسکے جتنے دوستوں کے کانٹیکٹ نمبر میرے پاس تھے ان سے پوچھ لیا۔۔۔۔مگر کسی کو بھی کسی ایکسڈنٹ کا علم نہیں تھا ۔۔۔۔۔پاپا مما کے بار بار فون آ رہے تھے کامران کا ہی پوچھ رہے تھے ۔۔۔کامران کا اپنا سیل آف تھا
********
ماہم کشف اور کرن کے ساتھ وڈنگ روم میں چلی گئ ۔۔۔۔نزہت بیگم پہلے سے ہی اس کمرے میں موجود تھیں ۔۔۔۔ماہم کو دیکھ کر دیکھتی ہی رہ گئیں ۔۔۔۔
ماہم بھی مسکراتے ہوئے ان سے گلے ملی
‘ممانی ۔۔۔میں اچھی تو لگ رہی ہے سب نا ۔۔۔۔”ماہم اپنا لہنگا پکڑے ایک نظریں اپنے جوڑے پر جائے ہوئے پوچھنے لگی
“ہاں بیٹا تم تو بلکل اپنی امی کی طرح شہزادی لگ رہی ہو ۔ ماشااللہ سے ۔”۔۔نزکت بیگم اسکی بلائیں لینے لگیں
“ممانی میں کامران کو اچھی تو لگو گی نا ۔”۔۔۔۔نا جانے ماہم کو کیا وہمہ ستا رہے تھے
“لو کر لو بات ۔۔۔کامران کی تو قسمت ہی کھل گئی ہے وہ بھی بیٹھے بیٹھائے ۔۔۔اتنی پیاری اور معصوم بیوی مل گئ ہے اسے ۔۔۔۔اچھا میں ذرا باہر جاؤ دیکھ کر تو آؤں تمہارا دلہا کیسا لگ رہا ہے ۔”۔۔۔۔نزہت بیگم باہر جانے کو پر تول رہیں تھیں
“ممانی کامران تو ابھی نہیں آیا “
“ہیں پر آپاں تو کہہ رہیں تھیں تم دونوں ساتھ ہی آو گئے “۔۔۔۔نزہت بیگم تعجب سے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولیں ۔۔۔۔
“نہیں وہ عفان کی گاڑی میں آ رہے تھے ۔۔۔شاید پہنچ گئے ہوں ۔۔۔۔۔”
“اچھا میں دیکھتی ہوں ۔۔۔۔چلو بھئ کرن ۔۔۔کشف دولہے میاں کا استقبال تو کرو ۔۔۔۔۔ماہم کے میکہ تو ہم لوگ ہی ہیں” ۔۔۔۔نزہت بیگم دونوں بیٹیوں کو ساتھ ہی باہر لے گئیں ۔۔۔۔ماہم سامنے دیوار پر لگے قد آدم شیشوں میں اپنا سراپا دیکھنے لگی۔۔۔۔۔عروسی لباس میک اپ اور سج دھج ماہم واقع خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔کافی دیر خود کو آئنے میں دیکھتی رہی تنقیدی جائزہ لیتی رہی اسے کہیں کوئی کمی نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔
“کامران مجھے اپنی شادی پر آپکی پسند کا ڈریس پہنا ہے ۔۔۔۔”
“کیوں ۔۔۔۔”
“بس میری خواہش ہے “ماہم کے شرمانے اور مسکرانے پر وہ معنی خیز مسکراہٹ سے بولا
“اوہ ۔۔۔اب سمجھا ۔۔۔۔تم چاہتی ہو کہ میری پسند میں ڈھل کر میرے سامنے آؤں تا کہ میں تمہارے علاؤہ کسی کو دیکھنے کا سوچوں بھی نہیں…اچھی طرح سے سوچ لو ماہم میری خواہش میں ڈھلنا اتنا آسان نہیں ہے “کامران کی آنکھوں میں شرارت کے ساتھ رعونت کی بھی آمیزش تھی
“آپ ایک بار کہہ کر تو دیکھیں ۔۔۔۔”
” ۔۔۔۔۔او کے آج میں تمہیں اپنی پسند کی ہر چیز لے کر دونگا تمہیں میری چوائس کا پتہ ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے رنگ میں تم جتنا خود کو رنگ لو گی ماہم ۔۔۔۔میری محبت کی اتنی کی حقدار بن جاؤں گئ۔۔۔۔جو ہر لڑکی کے بس کی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔”شادی کی شاپنگ کے دوران کامران کی کہی ہوئی بات ماہم کو یاد آنے سے لگی ۔۔۔۔
“کامی آج آپ کو مجھ سے یہ شکایت تو ہر گز نہیں ہو گئ کہ میں پرفیکٹ نہیں لگ رہی ۔۔۔۔۔۔” اپنے خوبصورتی سے سجے روپ کو دیکھ کر ماہم شرمائے ہوئے خود کلام ہوئی تھی ۔۔۔۔
“ہیلو ۔۔۔۔بیوٹی کوئین ۔”۔۔۔فاریہ کی آواز پر ماہم نے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔۔فاریہ اندر آ کر ماہم سے گلے ملنے لگی
“ہائے ماہم ۔۔۔ سچی جلدی سے اپنی نظر اتار لو ۔۔۔۔بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔آج تو کامران بھائی کی خیر نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔تمہیں دیکھتے ہی ہوش کھو بیٹھے گئے ۔۔۔”۔فاریہ کی بات پر ماہم جھنپ سی گئ
“سچی فاریہ …. میں کامران کو اتنی اچھی لگوں گی “
ماہم پر امید نظروں سے فاریہ کو دیکھنے لگی
“ہاں ۔۔۔اور کیا ۔۔۔۔۔”
“اچھا میں ذرا باہر سے سب سے مل کر آؤں ۔۔۔۔ابھی پہنچتے ہی سب سے پہلے تمہارے ہی پاس آئی ہوں “۔۔۔۔۔۔فاریہ بھی چلی گئ ماہم نے سامنے لگے شیشے سے خود پر ایک طائرانہ نظر ڈالی ۔۔۔۔۔اور سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔اب اسے کامران کا انتظار تھا ۔۔۔۔دس منٹ ۔۔۔۔بیس منٹ ۔۔۔۔۔آدھا گھنٹہ گزر گیا تھا مگر ماہم کے پاس کوئی نہیں آیا تھا ۔۔۔۔ماہم کی بے چینی بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔وہ یوں اکیلی منہ اٹھائے باہر بھی نہیں نکل سکتی تھی ۔۔۔۔مگر اپنی اضطرابی کیفت کا کیا کرتی جو اسے بے چین کیے ہوئے تھی ۔۔۔۔وہ کمرے سے ذرا سا باہر نکلی سامنے چند بچیاں فراک پہنے ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگتے ہوئے کھیل رہیں تھیں ۔۔۔۔ماہم نے اشارے سے ایک بچی کو اپنے پاس بلایا ۔۔۔۔وہ ماہم کے پاس آگئ۔۔۔
“بیٹا سامنے اسٹیج پر کرن یا کشف باجی ہوں گئ انہیں بولو کہ ماہم بلا رہی ہے ۔۔۔۔۔
وہ بچی بھاگتے ہوئے وہاں سے چلی گئ ۔۔۔۔ماہم دوبارہ کمرے میں آ کر ٹہلنے لگی پریشانی سے اپنی انگلیاں چٹخانے لگی ۔۔۔کچھ ہی دیر میں کرن اور کشف اندر داخل ہوئیں دونوں کی رنگت اڑی ہوئی تھی
“کیا بات ہے کشف ۔۔۔۔اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے ۔۔۔۔کیا نکاح خواں ابھی تک نہیں آیا ۔۔۔۔اب تو گیارہ بجنے والے ہیں۔۔۔۔بارہ بجے تک تو ہال بند ہو جائے گا ۔۔۔اور پتہ ہے ابھی کتنی رسمیں باقی ہیں ۔۔۔۔نکاح ہونا ہے ۔۔۔۔کھانا سرو ہونا ہے اور پھر دودھ پلائی کی رسم بھی تو ہے ۔۔۔۔پتہ ہے نا تمہیں کامران کا ۔۔۔وہ جلدی ہی بیزار ہونے لگتے ہیں” ۔۔۔۔۔۔۔ماہم کی لمبی چوڑی وضاحت پر کشف کی آنکھوں آنسوں چمکنے لگے
“ماہم باجی ۔۔۔کامران بھائی ابھی تک نہیں آئے ۔۔۔۔مولوی صاحب تو خود شور کر رہے ہیں ۔۔۔۔عفان بھیا اور انکے دوست کامران بھائی کو ہی ڈھونڈنے گئے ہیں ۔۔۔۔ سب کو انہیں کا انتظار ہے ۔۔۔۔۔”
کچھ پل تو ماہم بول ہی نہیں سکی ۔۔۔۔کامران ابھی تک نہیں پہنچا تھا ۔۔۔۔کہاں رہ گیا تھا وہ ۔۔۔۔ماہم نے صوفے پر رکھا اپنا پرس اٹھایا موبائل نکال کر کامران کو کال کرنے لگی ۔۔۔۔۔مگر اس کا فون بند تھا ۔۔۔
“کشف خالہ کہاں ہیں ۔۔۔انہیں بلاو پلیز “۔۔۔۔ماہم اب پریشان سی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔کرن صفیہ بیگم کو بلانے چلی گئ ۔۔۔کشف ماہم کو تسلی دینے لگی
“کشف ۔۔۔۔کشف ۔۔۔۔ایسا ۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔کامران ۔۔۔کیوں نہیں آئے ۔۔۔۔ہو سکتا ۔۔۔۔ہو سکتا ہے گاڑی خراب ہو گئ ہو ۔۔۔۔ہاں یہی ہوا ہو گا ۔۔۔۔۔ورنہ وہ نا آئیں یہ تو ممکن نہیں۔ ہے ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم خود کو بہلانے لگی ۔۔۔۔
صفیہ بیگم کو اپنے سامنے بیحد پریشانی کے عالم میں دیکھ کر ماہم کی بے چینی بڑھنے لگی وہ انکے سامنے جا کر پوچھنے لگی
،”خالہ ۔۔۔۔خالہ ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔کامران ۔۔۔۔۔”
“کامران کے کسی دوست کا ایکسڈنٹ ہو گیا ہے ۔۔۔وہ ایمرجنسی میں وہاں چلا گیا ۔۔۔ابھی واپس آ جائے گا تم فکر مت کرو” ۔۔۔۔۔صفیہ بیگم خود کو ضبط کر کے ماہم کو تسلی دینے لگیں ورنہ کامران کی وجہ سے وہ بھی پریشان تھیں ۔۔۔۔
“وہی تو ۔۔۔۔میں بھی سوچ رہی تھی ۔۔۔۔ضرور کچھ ہوا ہو گا ۔۔ ایسا کیسے ہو ہو سکتا ہے کہ کامی آج نا آئے ۔۔۔۔آج تو ۔وہ ضرور آئے گا ۔۔۔۔۔وہ آئے گا نا خالہ ۔۔۔۔۔”ماہم خوفزدہ سی تھی
“ہاں “۔۔۔۔۔صفیہ بیگم نے تڑپ کر ماہم کو سینے سے لگا لیا ۔۔۔۔
“دعا کرو ماہم ۔۔۔کامران جلد آ جائے “۔۔۔۔صفیہ بیگم ضبط کے باوجود آنسوں بہانے لگیں ۔۔۔۔پھر ماہم کے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے تھامے دیکھنے لگیں ۔۔۔۔ماہم بھی بے چین سی سے انہیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔صفیہ بیگم باہر چلی گئیں ۔۔۔۔۔جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ویسے ویسے ماہم کی جان پر بن رہی تھی ۔۔۔۔ماہم خود کو انتظار کی سولی پر لٹکتے ہوئے محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔ایک ایک لمحہ ماہم پر گراں گزر رہا تھا ۔۔۔۔۔وقت جیسے اسکے لئے تھم سا گیا تھا ۔۔۔۔باہر کی تیز روشنیاں اب بجھنے لگیں تھیں ۔۔۔ماہم نے کمرے کی وال کلاک کی طرف دیکھا جو پونے بارہ بجا رہی تھیں ۔۔۔۔۔
“کب آؤں گئے تم کامی ۔۔۔خدا کے لئے واپس آ جاؤں “۔۔۔۔ماہم دل ہی دل میں۔ کامران کے لوٹ آنے کی دعائیں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔کرن ہانپتے ہوئے ماہم کے پاس آئی تھی ۔۔۔۔۔لگ رہا تھا جیسے بھاگتے ہوئے آئی ہو ۔۔پھولے ہوئے سانس سے ماہم سے بولی
“ماہم باجی وہ لوگ آ گئے ہیں” ۔۔۔۔۔۔۔
“کامران آ گیا ۔۔۔مجھے معلوم تھا وہ ضرور آئے گا “۔۔۔۔۔ماہم مسکرانے لگی
