Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 1
Rate this Novel
Tadbeer Episode 1
Tadbeer by Umme Hani
فون کی بیل مسلسل بج رہی تھی ۔۔۔۔گاڑی ٹریفک سگنل پر کھڑی تھی ۔۔۔۔۔آگے پیچھے گاڑیوں کا بے تحاشہ شور سے میں جھنجلانےلگا تھا ۔۔۔۔۔میں نے اکتائے ہوئے برابر والی سیٹ سے موبائل اٹھایا ایک ان نون نمبر تھا ۔۔۔۔مجھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی ۔۔۔میں نے عجلت میں کال ریسیو کی۔۔۔۔۔آنے والی آواز اجنبی کی تھی
بہت خوش ہو آج تم ۔۔۔۔بھاری سی مردانہ آواز میں کوئی بول رہا تھا جیسے کوئی اپنی اصل آواز چھپانے کی کوشش کر رہا ہو
کون ۔۔۔میں اس انجان آواز کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
یہ جاننا ضروری نہیں کہ میں کون ہوں ۔۔۔۔صرف یہ سمجھ لو کہ بہت جلد موت کا فرشتہ بنکر آ رہا ہوں۔۔۔۔۔بہت غرور ہے تمہیں اپنی جیت پر۔۔۔۔محبت کے پا لینے کا نشہ تمہارے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔۔۔۔مگر بس چند منٹ میں تمہاری سانسیں چھین لو گا تم سے ۔۔۔۔
کون ہو تم کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔۔ میں نے غصے سے کہا فون ڈسکنکٹ ہو گیا تھا ٹریفک سگنل بھی کھل چکا تھا۔۔۔۔میں نے گاڑی کو دوسری سڑک پر موڑ لیا مگر سامنے سے آتے تیز رفتار ٹرک سے میری گاڑی بری طرف ٹکرا گئ سامنے کا فرنٹ شیشہ پل میں چکنا چور ہو گیا تھا میں نے فورا اپنے بازو سے اپنا چہرہ چھپا لیا ۔۔۔ایک زور دار جھٹکےسے گاڑی الٹ گئ۔۔۔۔۔
میں چیخ رہا تھا پکار رہا تھا مگر کوئی بھی میری مدد کو نہیں پہنچا
میں نے فرنٹ ڈور کھولنے کی کوشش کی مگر کھول نہیں پایا میرے سر پر بہت زور سے چوٹ آئی تھی ۔۔۔میرے سر سے خون بہتے ہوئے میرےچہرے کو بھگونے لگا۔۔۔۔آہستہ آہستہ میں اپنے ہوش کھونے لگا تھا۔۔۔۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا چکا تھا۔۔۔۔۔۔
***********………..*******…….***…..
مجھے ہوش تب آیا جب میرے ارد گرد رونے کی آوازیں میری سماعتوں سے ٹکرانے لگیں
“عفان اٹھوں نا۔۔۔۔۔ عفان کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔پلیز آنکھیں کھولو ۔۔۔دیکھوں نا تمہاری ماہی تمہارے سامنے کھڑی ہے ۔۔۔۔آنکھیں کھولو نا عفان ۔”۔۔۔وہ آواز م اہی کی ہی تھی وہ روتے ہوئے شاید مجھے جھنجھوڑ بھی رہی تھی
“عفان اٹھوں بیٹا ۔۔۔انکھیں کھولو میری جان “۔۔۔۔یہ آواز مما کی تھی وہ بھی روتے ہوئے میرے چہرے پر ہاتھ پھیر رہیں تھیں
میں سب کی آوازیں صاف طور سن رہا تھا۔۔۔۔میرے سر میں شدید قسم کی ٹھیسیں اٹھ رہیں تھیں مگر میری ساری توجہ میرے اپنوں کی آوازوں پر مرکوز تھی ۔۔۔۔میں سب کی آوازوں کو سننے کے ساتھ ساتھ پہچان بھی چکا تھا ۔۔۔۔۔مگر میں کہاں ہوں یہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔میرے ساتھ ہوا کیا ہے …. میرے ذہن سے یہ سب محو ہو چکا تھا۔ یا شاید میں یہ سب یاد کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں تھا۔۔۔۔میری آنکھوں کے آگے گپ اندھیرا تھا ۔۔۔۔نا جانے سب لوگ مجھے نظر کیوں نہیں آ رہے تھے ۔۔۔۔کیا میں اپنی بینائی کھو بیٹھا تھا نہیں شاید میری آنکھیں بند تھیں ۔۔۔۔کیونکہ باہرجلتی تیز روشنی کا احساس میری آنکھیں محسوس کر رہیں تھیں ۔۔۔۔میں نے اپنی آنکھوں کو کھولنے کی بہت کوشش کی ۔۔۔۔مگر میں اپنی آنکھیں کھول ہی نہیں پاپا ۔۔۔پھر میں نے باری باری اپنے ہاتھوں پیروں کو پورے وجود کر ہلانے کی کوشش کی مگر بے سود میں ہلکی سی جنبش بھی نہیں کر پایا ۔۔۔۔۔مگر کیوں میں یہ سوچنے اور سمجھنے کی حالت میں نہیں تھا اس وقت تو میں باہر رونے کی آوازوں کو بے بسی سے سن رہا تھا ۔۔۔۔میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جیسے سلب ہو گئ تھی ۔۔۔۔پل بھر مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید میں مر چکا ہوں ۔۔۔یہ سوچ کر تو میں بے اوسان کھونے لگے۔۔ایسی بے بسی کے عالم میں۔ میں تھا کہ رو بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔میرے کانوں پر کسی ڈاکٹر کی آواز ٹکرائی
“آپ لوگ باہر جائیں مریض کے پاس آپ لوگ زیادہ دیر تک نہیں رک سکتے ۔۔۔۔اور یوں رونا بھی ٹھیک نہیں ہے یہاں اور بھی بہت سے پیشنٹ ہیں جو آپکی وجہ سے ڈسڑب ہو رہے ہیں۔۔۔۔کچھ ہی دن میں ہم انہیں روم میں۔ شفٹ کر دیں گئے “۔۔۔۔ڈاکٹر کی بات سن کر مجھے ذراسی تسلی ہوئی کہ میں زندہ ہوں تو کیا مجھے پیرالائز کا اٹیک ہوا ہے ۔۔۔۔۔میرا دماغ اور کان ٹھیک سے کام کر رہے ہیں پھر میرا جسم بے جان سا کیوں ہے بلکل جامد اور ساکن سا جیسے میں لوہے کی بھاری سل کے نیچے آ چکا ہوں چاہ کر بھی ہل جل نہیں سکتا
“ڈاکٹر میرا بیٹا چار دن سے آئی سی یو میں بے سدھ پڑا ہے ۔۔۔اسے ہوش کیوں نہیں آ رہا ۔”۔۔۔پاپا کی بھرائی ہوئی آواز پر میرا دل تڑپ سا گیا ۔۔۔میں پھر سے اپنے مردہ وجود کو ہلانے کی کوشش کرنے لگا
“آپ شکر کریں جان بچ گی ہے آپکے بیٹے کی ورنہ جس نوعیت کا ان کا ایکسڈینٹ ہوا تھا ان کا بچ جانا ہی کسی معجزے سے کم نہیں۔۔۔سر پر بہت گہری چوٹیں آئیں ہیں ۔۔۔۔۔ہم کوشش کر رہے ہیں۔۔۔۔مگر ناجانے ہوش کیوں نہیں آ رہا انہیں ۔۔۔۔ابھی آپ لوگ جائیں یہاں سے کل تک انکی رپورٹس آجائیں گی پھر ہی انکی کنڈیشن کا کچھ پتہ چل سکتا ہے” ۔۔۔۔ڈاکٹر کے جواب پر ماہی کی رونے کی آوازیں آنے لگیں
“نہیں پاپا میں نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔میں عفان کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی” ۔۔۔۔وہ سسکتے ہوئے بول رہی تھی میرا دل کٹنے لگا ۔۔۔۔میں کیوں اتنا بے بس اور لا چار تھا
“دیکھیں محترمہ آپ یہاں نہیں رک سکتیں ۔۔۔۔۔آپ بیفکر رہیں یہاں کا اسٹاف بہت کیرفل ہے ۔۔۔۔اور آپ کے شور کی وجہ سے “۔۔۔۔ماہی نے ڈاکٹر کہ بات سنی ہی نہیں
“میں کچھ نہیں بولو گی ۔۔۔۔۔بس چپ چاپ اپنے عفان کے پاس بیٹھی رہوں گی اسے دیکھتی رہوں گی ۔۔۔۔مگر میں اسے چھوڑ کر نہیں جا سکتی” ۔۔۔ماہی بضد تھی
“بیٹا ضد مت کرو ۔۔۔چار دن سے دن رات تم یہاں ہوں ۔۔۔۔عمر کو کب تک نوکروں کے رحم وکرم پرچھوڑو گی ۔۔۔بچہ ہے وہ تمہارے بغیر رو رو کر بے حال ہو رہا ہے” ۔۔۔۔۔پاپا ماہی کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے
“نہیں پاپا میں نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔عفان کو چھوڑ کر میں کہیں نہیں جاؤں گی بس ایک بار اسے ہوش آ جائے ۔۔۔”۔
“ضد مت کرو بٹیا میں کل تمہیں لے آؤں گا ہاسپٹل ۔۔۔تمہیں عفان کی قسم ۔۔”۔پاپا کا لہجہ رنج میں ڈوبا ہوا تھا اور آواز بھی پست تھی جیسے با مشکل بول رہے ہوں
“نہیں پاپا ۔۔۔اگر رات میں عفان کو ہوش آگیا تو مجھے ہی ڈھونڈے گا ۔۔۔۔میرا ہی پوچھے گا ۔۔۔۔مجھے یہیں رہنے دیں ۔۔۔گھر جا کر مجھے ایک پل چین نہیں آئےگا ۔۔۔یہاں کم از کم میں عفان کو دیکھ تو سکتی ہوں “۔۔۔۔وہ سسکیاں لیکر رو رہی تھی مجھے اسوقت خود پرغصہ آ رہا تھا کہ میں کیوں اٹھ نہیں پا رہا ۔۔۔کیوں اسکے آنسوں صاف نہیں کرپا رہا ۔۔۔میں کیوں اتنا بے بس اور مجبور ہوں ۔۔۔۔کاش میری آنکھیں ہی کھل جائیں ۔۔۔۔میں ماہی کو دیکھ لوں ۔۔۔۔مگر میں بے بس تھا مجبور تھا ۔۔۔
“چلو بٹیا یہاں سے ضد مت کرو میں پہلے ہی ٹوٹ چکا ہوں ۔۔۔۔۔چلو یہاں سے ۔۔۔پاپا اب روتے ہوئے بولے
ٹھیک ہے پاپا میں چلتی ہوں آپ ۔۔۔آپ رویں مت ۔۔۔آپ باہر جاہیں میں آتی ہوں ” ۔۔۔۔ماہی کی آواز اب پست سی ہو چکی تھی جیسے وہ ہار مان چکی ہو ۔۔۔پھر مجھے لگا جیسے ماہی نے میرا ہاتھ تھاما ہو۔۔۔۔۔آج پہلی بار اسکی گرفت میرے ہاتھ میں اتنی مضبوط تھی ۔۔۔اسکی آنکھوں سے بہنے والے آنسوں میرے ہاتھوں پر گر رہے تھے ۔۔۔۔
“عفان ۔۔۔۔عفان ۔۔۔۔۔ائی لو ۔۔۔۔۔یو ۔۔۔۔۔میں بہت محبت کرتی ہوں تم سے ۔۔۔۔۔تم سن رہے ہو نا عفان تمہاری ماہی تم سے بہت محبت کرتی ہے ۔۔۔۔میں نہیں جی سکتی تمہارے بغیر ۔۔۔۔پلیز لوٹ آؤں ۔۔۔اپنی ماہی کے لئے ۔۔۔۔۔میں” ۔۔۔۔۔۔اپنی بات ادھوری چھوڑ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔میرا ہاتھ اسکے ہاتھ میں میں بلکل بے جان سا تھا ۔۔۔۔کاش میں اسکے آنسوں پونچ سکتا ۔۔۔۔۔دکھ کی لہر نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا ۔۔۔میں اتنا مجبور تھا کہ چاہ کر بھی بول نہیں پا رہا تھا اپنی لاچاری پر میرے آنسوں میرے اندر ہی کہیں گرنے لگے ۔۔۔۔میرج آواز اندر ہی کہیں دب گئ تھی ۔۔۔۔۔ ماہی نے میرا ہاتھ احتیاط سے میرے بیڈ پر رکھا پھر یک دم ہی خاموشی سی چھا گئ شاید وہ جا چکی تھی ۔۔۔۔میرا جی چاہا میں اسے روک لوں میری آواز میرے اندر ہی کہیں گم تھی اور میرے ہونٹ لگتا تھا جیسے سل چکے ہیں ۔۔۔۔اب وہاں میرا اپنا کوئی بھی موجود نہیں تھا لیکن ماہی کے ہاتھ کا لمس میں اب بھی اپنے ہاتھ پر محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔کچھ دیر بعد میں اپنی حالت پر غور کرنے لگا اپنی تمام حساسیت کو یکسوئی دے کر میں اپنی کنڈیشن کے بارے میں سوچنے لگا
اپنے دل کی دھڑکنیں مجھے زندگی کی نوید سنا رہیں تھیں مگر میرے اعصاب مجھے مر جانے کا احساس دلا رہے تھے۔۔۔۔مجھے سانس لینے میں ذرا سی دکت محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ناک پر کسی چیز کے لگنے کا احساس ہو رہا تھا جس کے ذریعے کوئی دھیرے سے ہوا پھنک رہا ہو ۔۔۔شاید آکسیجن ماسک کے ذریعے میں سانس لے پارہا تھا ۔۔۔۔۔۔سر میں درد کبھی شدت اختیار کرتا تو کبھی ذرا کم ہو جاتا ۔۔۔باقی میرا پوراوجود مجھے بے جان سا ہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔ذہن پر کچھ اور زور دیا تو کچھ شبیاں سی نظر آنے لگیں ۔۔۔۔گاڑی ۔۔۔۔۔۔کیک ۔۔۔۔ادر گرد گاڑیوں کا ہجوم ۔۔۔۔۔ہارن کی آوازیں ماہی سے فون پر بات ۔۔۔۔ایک اجنبی کی کال ۔۔۔۔پھر سامنے سے آتا ٹرک ۔۔۔۔۔اور ایک زور دار دھماکا ۔۔۔۔میرے سر میں پھر سے درد کی ٹیس سی اٹھنے لگی ۔۔۔۔کتنا مجبور تھا میں کہ اپنی تکلیف بھی بتا نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ گزرشہ زندگی کے تمام واقعات میرے زہن میں۔ کسی کہانی کی طرح چلنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔
************……….*********……..=5
میں عفان رضا فاروق ۔۔۔۔۔رضا فاروق کا چھوٹا اور ذہین بیٹا جس پر انہیں ہمیشہ ہی ناز رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا کیونکہ میں انہیں کبھی مایوس ہونے نہیں دونگا ۔۔۔۔ہاں تو میں یہ بتا رہا تھا کہ ہم دو بھائی ہی اپنے ماں باپ کی کل کائنات تھے ۔۔۔جب تک کہ ماہی ہماری زندگی میں شامل نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔اب آپ سوچ رہے ہوں گئے کہ بھی یہ ماہی کون ہے ۔۔۔۔۔تو یہ تب کی بات ہے جب
میں چار برس کا تھا مگر شروع سے ہی ذہین تھا اس لئے چھوٹی عمر میں ہی باتوں کو یاد رکھتا تھا ۔۔۔۔مما جب ماہم کو اپنے ساتھ گھر پر لائیں ۔۔۔۔۔تو کچھ دن تو میں اسے دور سے ہی دیکھتا رہا ۔ ۔۔۔۔وہ کافی خوفزدہ سی ڈری سہمی چپ چپ سی بچی مجھے شروع سے ہی اچھی لگی تھی ۔۔۔وہ مجھ سے ایک سال بڑی تھی ۔۔۔۔مگر دیکھنے میں مجھ سے ایک برس چھوٹی لگتی تھی ۔۔۔۔۔دبلی پتلی نازک سی ہلکی سانولی سی رنگ والی معصوم سی ماہم ۔۔۔۔اور میں صحت میں ٹھیک ٹھاک تھا قد بھی اپنی عمر کے بچوں سے کچھ بڑا ہی تھا ۔۔۔۔کچھ دن تو بس میں اسے غور سے دیکھتا ہی رہا اس سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔۔وہ بھی گم صم سہمی سہمی سی مما کے ساتھ ساتھ رہتی یا مما اسے جہاں بیٹھنے کا کہتی۔ چپ چاپ کئ گھنٹے خاموشی سے بیٹھی رہتی اگر لاونج کے صوفے پر بیٹھی تو بس پورے لاونج کی ایک ایک چیز کو گھورتی رہتی ۔۔۔۔۔ایک دن میں نے خود ہی مما سے پوچھا
“مما یہ لڑکی کون ہے “۔۔۔۔۔
“تمہاری کزن ہے” ۔۔۔۔مما نے میرے موٹے موٹے گال تھپتھپا کر کہا
“وہ کیا ہوتا ہے “۔۔۔۔
“ارے بابا ۔جیسے شفق ۔۔۔کرن اور کشف تمہاری کزن ہیں ویسے ہی ماہم بھی تمہاری کزن ہے “۔۔۔۔۔مما نے بہت پیار سے مجھے اسکے رشتے کے بارے میں سمجھایا
“تو کیا یہ کزن گونگی ہے” ۔۔۔۔میں نے اب تک ماہم کی آواز نہیں سنی تھی پہلا گمان تو میں اسکے بارے میں یہی کر سکتا تھا ۔۔۔مما میری بات پر ہسنے لگیں
“نہیں عفان۔۔۔۔باتیں کرتی ہے بس ۔۔۔ذرا اداس سی ہے ۔۔۔۔اپنے مما پاپا کو یاد کرتی ہے اس لئے ۔۔۔۔”
“تو اسکے مما پاپا کہاں ہے مما ۔۔۔۔”
“وہ” ۔۔۔۔۔مما نے گہری سانس لی
“وہ اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہیں اب کبھی واپس نہیں آئیں گئے ۔۔۔۔۔اس لئے ماہم اب ہمارے گھر پر ہی رہے گی ۔۔۔۔ہمیشہ” ۔۔۔۔۔نا جانے کیوں مجھے اس بات سے خوشی سی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔مجھے یہ تو نہیں پتہ تھا کہ اللہ میاں کے پاس جانا بڑے دکھ کی بات ہے مگر ماہم کا ہمیشہ یہاں۔ رہنا میرے لئے باعث مسرت تھا کیونکہ کامران بھائی نا تو میرے ساتھ کھیلتے تھے اور نا ہی اپنے کھلونے اور چیزیں مجھ سے شیر کرتے تھے ۔۔۔۔اوہ میں یہ تو بتانا بھول ہی گیا کہ کامران میرے بڑے بھائی کا نام ہے جو مجھ سے پانچ سال بڑے تھے ۔۔۔۔مگر ان کا مزاج ۔۔۔۔۔چلیں وہ بعد میں بتا دونگا ہاں تو میں بات کر رہا تھا ماہم کی
۔۔۔۔پھر میں نے ماہم کی طرف خود دوستی کا ہاتھ بڑھایا مگر وہ دبک کر صوفے کے ساتھ چپک کر بیٹھ گئ مجھے اسکی یہ ڈرنے والی حرکت بڑی عجیب لگی
“کیا میں بھوت ہوں “۔۔۔۔میں نے برا سا منہ بنا کر ماہم سے پوچھا وہ سہم کر نفی میں سر ہلانے لگی
“تو کیا میری شکل ڈراؤنی ہے” ۔۔۔۔میں نے اپنا چہرہ اس کے قریب کر کے کہا وہ پیچھے ہٹ کرنفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔۔
“تو پھر تم مجھ سے ڈر کیوں رہی ہو ۔۔۔۔میں عفان ہوں جن بھوت نہیں ہوں ۔۔۔۔ اور تم میری کزن ہو کوئی غیر نہیں ہو ۔۔۔۔میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔تمہیں معلوم ہے ۔۔۔۔اس میں تمہارا بھی فائدہ ہے “۔۔۔۔۔ میں نون اسٹاپ شروع ہو گیا میری بات پر اب وہ کچھ اور نروس سی لگ رہی تھی
“وہ کیا” ۔۔۔۔وہ ہچکچاتے ہوئے بولی
“دیکھو نا اگر تم میری دوست بنو گی تو ۔۔۔۔ہم ملکر کھیلیں گئے اور مزے مزے کی چیزیں کھائیں گئے ۔۔۔۔جیسے کہ چوکلیٹ آئسکریم ۔۔۔۔۔میرے سارے کھلونے ۔۔۔تمہارے ہو جائیں گئے تم جب چاہو میرے کھلونوں سے کھیل سکتی ہو ۔۔۔۔اچھا یہ بتاؤں تمہیں کیسے کھلونے پسند ہیں “۔۔۔۔۔میں اب ماہم سے دوستانہ انداز سے پوچھنے لگا
“ڈ۔۔۔۔و۔۔۔ل ۔”۔۔۔وہ جھجکتے ہوئے بولی
“وہ تو میرے پاس نہیں ہے ۔۔۔۔۔لیکن میں تمہیں لا دوں گا پاپا ٹوائے شاپ پر لیکر جائیں گئے تو میں بہت پیاری ڈول تمہیں لا کر دونگا ۔۔۔۔ویسے تمہیں اور کچھ پسند ہے تو تم مجھ سے مانگ سکتی ہو” ۔۔۔۔۔میری اتنی بڑی آفر پر بھی وہ خاموشی تھی میں نے جب اسے چپ دیکھا تو میں پھر سے بولنے لگا
” میرے پاس بہت اچھی سپورٹ کار ہے چلو آؤں تمہیں دیکھاوں “۔۔۔۔میں نے خود ہی ماہم کا ہاتھ پکڑا اور اسے اوپر اپنے کمرے میں لے گیا ۔۔۔۔اپنی اسپورٹ کار دیکھانے لگا ۔۔۔۔پھر ریموٹ ماہم کے ہاتھ میں پکڑا دیا
“چلو اب تم چلاؤ ۔”۔۔۔۔میں نے ماہم سے کہا پہلے تو وہ جھجکی لیکن پھر ریموٹ سے چلانے لگی ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی
“بات سنو کزن”۔۔۔۔۔۔میں نے ماہم کو مخاطب کیا
“ہاں” ۔۔۔۔اب وہ کافی حد تک نارمل ہو چکی تھی
“تمہارا نام کیا ہے “
“ماہم افتخار “وہ منمناتے ہوئے جواب دے کر دوبارہ ریموٹ سے کار دائیں بائیں کرنے لگی
“ماہم ۔۔۔۔دیکھو ۔۔۔اب تم میری دوست ہو تو میں تمہارا نام اپنی پسند سے رکھو گا ۔۔۔۔میری کلاس میں بھی ایک ماہم پڑھتی ہے مگر ہم سب دوست اسے ماہی کہتے ہیں ۔۔۔۔۔میں بھی تمہیں ماہی ہی کہو گا ۔۔۔۔”
“کیوں ۔۔۔۔میرا نام ماہم ہے ۔۔۔۔۔میں کیوں اپنا نام بدلو” ۔۔۔۔یہ پہلا اختلاف تھا جو ماہم نے مجھ سے کیا اور گاڑی کا ریموٹ بھی میرے ہاتھ میں تھما دیا وہ مجھے کچھ خفا خفا سی لگنے لگی پھر میں نے اسے نئ لالچ دینی شروع کی
“اس کے بدلے میں تمہاری دو باتیں مانو گا ۔۔۔ایک تمہیں ڈول لا کر دونگا اور دوسرا چوکلیٹ آئسکریم بھی کھلاؤں گا” ۔۔۔۔پھر ماہم واقع میری بات پر راضی ہو گئ
۔۔۔میں بہت ذیادہ باتونی تو نہیں تھا مگر اکیلا ضرور تھا کامران بھائی مجھے اپنے پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتے تھے ۔۔۔اب ماہم کو دیکھ کر میری زبان نون اسٹاپ چلنے لگی تھی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔کچھ ہی دن میں ماہم مجھ سے کافی گھل مل گئ تھی ۔۔۔۔۔مجھ سے بات بھی کر لیتی تھی ۔۔۔۔اور میرے کمرے میں بھی بلا جھجک آ جاتی تھی ۔۔۔۔۔پھر جب بھی میں اسکول سے واپس آتا ماہم میری ہی منتظر ہوتی ۔۔۔۔میرے ساتھ کھانا کھاتی پھر ہم کھلنے لگتے ۔۔۔کچھ ہی دنوں میں ماہم بھی میرے ساتھ اسکول جانے لگی ۔۔۔۔۔وہ ایک کلاس مجھ سے سینر تھی ۔۔۔۔اس لئے میری اور اسکی ملاقات اسکول میں بہت کم ہی ہوتی تھی ۔۔۔۔۔ماہم نے میرے اور بھائی کی طرح مما کو کبھی مما نہیں کہا تھا ۔۔۔ہمیشہ خالہ کی کہتی تھی ۔۔۔۔اور پاپا کو رضا انکل ۔۔۔۔۔عجیب بات تو یہ تھی کہ مما نے کبھی تصحیح نہیں کی نا ہی ماہم کو کبھی ٹوکا کہ وہ انہیں مما کہے ۔۔۔۔وقت اب تیزی سے گزرنے لگا تھا ۔۔۔۔ماہم مجھ سے بہت بے تکلف سی ہو گئ تھی اپنی ہر بات مجھ سے شیر کرنے لگی تھی
میں نے ایک بار ماہم کو چوکلیٹ آئسکریم لا کر دی ۔۔۔۔لا کر کیا دینی تھی خریدیں تو میں نے اپنے لئے تھی مگر ماہم کو دیکھ کر میں نے آئسکریم اسکی طرف بڑھا دی
“لو کھا کر دیکھوں کتنے مزے کی ہے” ۔۔۔۔۔۔۔ماہم نے آئسکریم میرے ہاتھ سے پکڑ لی
“تمہیں پتہ ہے مجھے چوکلیٹ آئسکریم بہت پسند ہے ۔”۔۔۔۔۔
میں نے پر جوش انداز سے بتایا۔۔۔۔ماہم نے آئسکریم کھائی تو اسے بھی پسند آئی مجھے لگا وہ تھوڑی سی کھا کر مجھے واپس کر دے گی یا میرے ساتھ شیر کر کے کھائے گی مگر وہ تو مزے سے کھائے چلی جارہی تھی ۔۔۔اب جس عمر میں میں تھا مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی تھی ۔۔۔۔آخر وہ میری آئسکریم کھا رہی تھی مرواتا ہی مجھ سے پوچھ لیتی ۔۔۔مگر وہ تو کھانے میں مگن تھی
“بات سنو ماہی”
“ہاں بولو” وہ کھاتے ہوئے بولی
“مل کر کھاتے ہیں نا ۔۔۔۔ذیادہ مزہ آئےگا ۔”۔۔۔میں ڈھیٹ بن کر خود ہی بول پڑا ۔۔
“نہیں نا عفان مجھے یہ ساری کھانی ہے ۔۔۔۔۔بہت مزے کی ہے مجھے یہ کسی سے شیر نہیں کرنی ” ۔۔۔۔مجھے اسکی بات پر ہنسی آنے لگی ۔۔۔پھر میں بس اسے آئسکریم کھاتے ہوئے دیکھتا رہا ۔۔۔۔وقت کچھ اور آگے سرکا میں فائیو کلاس میں تھا اور ماہم سیکس میں اب وہ مجھ سے بہت بے تکلف ہو چکی تھی اپنی پسند بے دھڑک مجھ سے کہہ دیتی تھی
۔۔۔۔ایک بار اسکول پر واپسی پر ہم جب گاڑی میں بیٹھے تو ماہم کی نظر سامنے کھڑے املی والے پر جا کر ٹک گئ ۔۔۔۔
“عفان “
“ہمم “میں اپنا بیگ پیچھے لٹکائے گاڑی کی طرف بڑھنے لگا مگر ماہم میرے ساتھ چلتے چلتے رک گئ
“مجھے املی کھانی ہے “ماہم کی فرمائش پر میں نے برجستہ پلٹ کر اسے دیکھا
“پاگل تو نہیں ہو تم ۔۔۔۔کھٹی املی کھاؤں گی ۔۔۔۔پتہ ہے کھٹا کھانے سے کتنی کھانسی آتی ہے تمہیں ۔۔۔۔نہیں مما بہت ڈانٹیں گی ” میرے صاف انکار پر بھی ماہم اپنی بات پر قائم رہی
“عفان مجھے کھانی ہے میری ساری دوستیں کھاتی ہیں”
“ہاں تو تمہاری طرح بیمار نہیں ہوتی” ۔۔۔۔میں نے منہ بنا کر اسکی نکل اتار کر کہا
“بہت برے ہو تم ۔۔۔۔بات مت کرو مجھ سے” ۔۔۔وہ ناراض ہو کر منہ پھلائے گاڑی کی طرف جانے لگی
“اچھا اب منہ بگاڑنے کی ضرورت نہیں ہے تم بیٹھو گاڑی میں میں لیکر آتا ہوں” ۔۔۔۔میں نے املی لی مگر ماہم کو گاڑی میں نہیں دی ۔۔۔۔شام میں جب وہ میرے کمرے میں آئی تو میں نے اسے املی بیگ سے نکال کر دی ۔۔۔۔ماہم کی خوشی قابل دید تھی ۔۔۔۔املی منہ میں ڈالتے ہی اسے نمک کا خیال آیا ۔۔۔۔
“عفان وہ زارا مجھے بتا رہی تھی نمک لگا کر املی کھانے سے بہت مزہ آتا ہے ۔۔۔جاوں نا کچن سے نمک لے آؤں ۔۔۔۔”
“جی نہیں مما اسوقت کچن میں کی ہوں گی” ۔۔۔۔
“اچھا چلو مت جاؤ۔ لیکن اگر تم لے آتے تو کتنا مزہ آتا” وہ حسرت بھری نظروں سے املی کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔میں خاموشی سے اٹھ کر نیچے گیا مما کچن میں ہی مصروف تھیں ۔۔۔میں نے چپکے سے دراز سے نمک لیا اسے کھول کر تھوڑاسااپنے ہاتھ میں لیکر کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔۔جس عجلت سے میں نے یہ سب کیا تھا ۔۔۔میرے برابر میں ہی کامران بھائی کا کمرہ تھا اور اتفاق سے کھلا ہوا بھی تھا میرے اس طرح احتیاط اور عجلت سے بھاگنے پر وہ ٹھٹک سا گیا ویسے ان کو مجھ سے نا جانے کیا پرخاش تھی ۔۔۔۔ہر وقت ایسے موقع کی تلاش میں رہتے کہ مجھ سے کچھ غلط ہو اور وہ میری شکایت پاپاسےکریں ۔۔۔۔میں نے کمرے میں جا کر دروازہ بند کیا ۔۔۔اب میں کامران بھائی کے ارادے سے واقف توتھانہیں اسلئے ۔۔۔۔دروازہ لوک نہیں کیا اب ہم دونوں چٹخارے لے لے کر املی کھا رہے تھے ۔۔۔۔جب کامران بھائی اندر داخل ہو گئے ماہم کا سانس اوپر کا اوپر ہی رہ گیا ۔۔۔۔۔ڈر میں بھی گیا تھا ۔۔۔۔۔مگر کامران سے نہیں ۔۔۔اپنی آنے والی شامت سے ۔۔۔۔جو مجھے صاف نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔کامران ہمارے ہاتھ میں املی دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔سب سے پہلے وہ ماہم کے پاس آکر کھڑا ہو گیا ماتھے پر کئ بل ڈالے وہ ماہم کو گھورنے لگا ۔۔۔۔۔ماہم آنکھیں پھلائے ہونقوں کی طرح کامران کو دیکھتے ہوئے مجھے بیوقوف سی لگ رہی تھی
“کیا ہے تمہارے ہاتھ میں ماہم “۔۔۔۔کامران کے سخت استفسار پر ماہم نے ہاتھ پیچھے کر لیے املی اسکے ہاتھ میں ہی تھی ۔۔۔۔
“ہاتھ آگے کرو ماہم ۔۔۔۔اور دیکھاوں مجھے” ۔۔۔۔وہی رعب جمانے والا سخت لہجہ ۔۔۔۔۔ماہم پر اس طرح بازبرس کرنا مجھے بہت برا لگا ماہم رونے لگی میں جلدی سے ماہم کے سامنے آ کر کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔
“بھائی ماہم کو املی میں نے لا کر دی تھی ۔۔۔۔اس کا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔۔۔آپ مجھ سے بات کریں “۔۔۔۔میری بات پرکامران نے پہلے تو میری جرت دیکھی پھر میرا کان زور سے پکڑا میں کراہ کر رہ گیا
“بہت شوق ہے تمہیں ہیرو بننے کا چلو ذرا مما کے پاس ۔۔۔اور تم ماہم
آج کے بعد اگر عفان کی بات ماننے کی کوشش کی تو ۔۔۔۔”
“نہیں مانو گی کامی” ۔۔۔۔وہ فورا سے بولی ۔۔۔۔۔اسکا ڈرا اور خوفزدہ چہرہ دیکھ کر مجھے غصہ آنے لگا ۔۔۔۔کامران نے مما سے میری شکایت پورے نمک مرچ مسالوں کے ساتھ لگائی ۔۔۔۔مما نے مجھے بہت ڈانٹا ۔۔۔۔پھر ماہم کو نا جانے کون کون سے سیرپ پلانے لگیں
“عفان تمہارا میں کیا کرو بتاؤں مجھے ۔۔۔۔ پتہ ہے نا کتنی کمزور ہے وہ ذراسا کھٹا کھانے پر بخار کھانسی ہو جاتا ہے اسے “۔۔۔۔ماہم شرمندہ سی مجھے دیکھنے لگی۔۔۔۔اور میں اتنی صلاتیں سننے کے باوجود مسکرا کر اسے اشارتاً تسلی دینے لگا کہ گھبرانے کوئی بات نہیں ۔۔۔۔کیونکہ ذراسی اونچی آواز پر ماہم کا رنگ اڑنے لگتا تھا ۔۔۔۔کامران ہم سے کم ہی گھل ملکررہتا تھا اور اسکی بنیادی وجہ اسکا بڑا پن تھا جو کافی حد تک اسکے دماغ پر حاوی ہو چکا تھا ۔۔۔۔اور اس کا وقتا فوقتاً وہ بر ملا اظہار بھی کرتا رہتا
“میں بڑا ہوں نا ۔۔۔۔اس لئے تم لوگوں کو میری بات کو اہمیت دینی چاہیے” ۔۔۔۔وہ اکثر اپنی چیزیں خود رکھ کر بھول جاتا تھا اور وقت پر نا ملنے پر شامت ہمیشہ ہماری ہی آتی وہ ہماری اچھی خاصی ڈانٹ ڈپٹ کر دیتا یہ جانے بغیر کے ہم قصوروار ہیں بھی کہ نہیں ۔۔۔اور ہم دونوں چپ چاپ نظریں جھکائے سنتے رہتے رہتے ۔۔۔۔مگر غصہ مجھے اسوقت آتا جب اسے اپنی چیزیں اپنی ہی الماری سے مل جاتیں اور پھر اسے یاد بھی آ جاتا کہ اس نے خود ہی وہاں رکھیں تھیں مگر پھر بھی اسے اپنی غلطی پر ذرا پشیمانی نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔عجیب سی خود پسندی اور خود سری کامران کے مزاج کا حصہ تھی ۔۔۔۔۔میں اکثر ماہم سے کہتا کہ
” بھائی کواپنی غلطی کا ذرا بھی احساس نہیں ہے” ۔۔۔۔۔ماہم سن تو لیتی مگر خود کبھی بھی کامران کے رویے کی شکایت نہیں کرتی نا ہی اسے برا بھلا کہتی ۔۔۔۔مگر وقت کے ساتھ ساتھ میں ضرور کامران سے کترانے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔میں اور ماہم اسکول ہوم ورک کامران کے زیر نگرانی ہی کرتے تھے۔۔۔پھر تو کامران کی جیسے دلی مراد پوری ہو جاتی ۔۔۔۔وہ ماہم کو صرف ڈانٹتا ہی تھا ۔۔۔اور ماہم کی اسی میں جان نکلنے لگتی مگر مجھ پر تو ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔۔۔۔۔ہر بار میں خوب جانفشانی اور دلجمعی سے محنت کر کے پورے اسکول میں ٹاپ کرتا اور اسکا کریڈٹ کامران اپنے سر لے لیتا
“یہ سب میری محنت کا نتیجہ ہے پاپا ورنہ ٹاپ کرنا اس ڈفر کے بس کی بات نہیں”
۔۔۔۔۔رضاصاحب یعنی میرے پاپا جو رپورٹ کارڈ ہاتھ میں پکڑے میری تعریف کر رہے ہوتے ۔۔۔اپنی تعریف کا رخ کامران کی طرف موڑ لیتے
تم نے تو صحیح معنوں میں بڑے ہونے کا حق ادا کیا ہے کامی ۔۔۔ایم پراوڈ آف مائے سن”۔۔۔۔۔پاپا کی تعریف پر کامران کی گردن اور اکڑ جاتی اور وہ اترائے اترائے پھرتا اور میں دل ہی دل میں پیج وتاب کھا کر رہ جاتا ۔۔۔۔ماہم اچھے نمبر سے پاس ہو جاتی مگر ٹاپرز میں سے نہیں تھی ۔۔۔۔اسکے بعد میں نے پڑھائی میں کامران کی مدد لینا چھوڑ دی
“بھائی اب میں بڑا ہوگیا ہوں اور خود پڑھ سکتا ہوں ۔۔۔۔۔مجھے آپ کی ضرورت نہیں ہے “۔۔۔۔میری بات پر کامران نے پہلے تو تعجب کا اظہار کیا پھر تمسخرہ اڑنے والے انداز سے ہسنے لگا
“اچھا ۔۔۔۔تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔پڑھو خود پاپا کو بھی تو پتہ چلے کہ کتنے نکمے ہو تم “۔۔۔۔لیکن جب میں نے کامران کی مدد لیے بغیر بھی ٹاپ کیاتو پاپا تو فخریہ طور پر جتایا کہ کامران کے بغیر میں نے یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے ۔۔۔۔یہ میری پہلی جیت تھی ۔۔۔کامران کے خلاف ۔۔۔۔ایساوہ سمجھتا تھا ورنہ میں اپنا آپ منوانا جانتا تھا ۔۔۔اس بات پر کامران سلگ کر رہ گیا ۔۔۔کھا جانے والی نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔بات یہیں ختم نہیں ہوئی تھی میں اب ہر چیز میں کامران کو مات دینے لگا تھا ۔۔۔کرکٹ ۔میں فٹ بال میں کیرم لڈو یہاں تک کہ شطرنج جیسی مشکل گیم میں بھی اپنی دھاک بیٹھاتا
چلا گیا ۔۔۔ اب تو کامران کے دوست بھی مجھے داد دینے لگے تھے مگر کامران خوش ہونے کے بجائے برہم ہونے لگتا ۔۔۔پھر میں قد کاٹھ میں کامران سے پانچ سال چھوٹا بھی نہیں لگتا تھا ۔۔۔۔دیکھنے میں لگتا کہ میں کامران سے بس سال دو سال ہی چھوٹا ہوں کامران میری تعریف پرتلملانے لگا تھا یہی وجہ تھی کہ آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے ہم نے اپنا حلقہ احباب الگ کر لیا اپنی اچھی ریپوٹیشن کی وجہ سے میں نے ایک سال میں۔ دو کلاسز پڑھ لیں اب میں ماہم کا ہم جماعت بن چکا تھا ۔۔۔۔پاپا میری کارکردگی پر بہت متاثراورخوش تھے ۔۔۔۔۔میں نے اب بھی اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنی پوزیشن قائم رکھی تھی اسلئے کلاس میں سب سے نمایاں اور ٹیچرز کا پسندیدہ شاگرد ہونے کا درجہ پا چکا تھا کلاس میں بھی ہر دل عزیز شاگرد تھا ۔۔۔۔ماہم اور میں سیون کلاس میں تھے جب ماہم میتھ کا سم کرتے ہوئے کنفوژ ہو رہی تھی میں اسکے برابر کرسی پر ہی بیٹھا اپنا ہوم ورک کرنے میں مصروف تھا۔۔۔۔ماہم اپنی کرسی سے کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔اپنی میتھ کی بک اور رجسٹر اٹھانے لگی
“ماہی کہاں کا رہی ہو “
“کامی کے پاس۔۔۔۔یہ سم مجھ سے سولو ہی نہیں ہو رہے
“۔۔۔۔ماہم کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ کر میں بولا
“لاو ادھر دو ۔۔۔میں یہ سم کر چکا ہوں ۔۔۔۔میں تمہاری ہیلپ کر دیتا ہوں” ۔۔۔۔میں نے فراخدلی سے کہا
“نہیں عفان ۔۔۔۔کامی ہم سے سینیر ہیں ۔۔۔۔وہ اچھے سے سمجھا دیں گئے ۔۔۔۔تم نے پتہ نہیں ٹھیک کیے بھی ہیں کہ نہیں ۔۔۔۔ابھی کونسا میم نے چیک کیے ہیں ۔”۔۔۔۔
“میں نے ریچیک کیے ہیں میرا جواب بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔میرااعتماد دیکھ کر ۔ماہم دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئ
۔۔۔۔کامران وہیں سے گزر رہا تھا ارادہ تو اسکا اپنے دوستوں کے ساتھ باہر مٹر گشتی کرنے کا تھا ۔۔۔مگر میری بات اس پر گراں گزری تھی اس لیے تلملاتا ہوا تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا ماہم کے پاس کھڑا آ کر ہو گیا
“اٹھاؤ اپنی بک اور رجسٹر ۔۔۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے اس ڈفر سے کچھ پوچھنے کی ۔۔۔تم آؤں میرے کمرے میں میں تمہیں سمجھاتا ہوں” ۔۔۔۔کامران غصے سے بول کر میری طرف دیکھنے لگا میں نے آگے سے جواب تو نہیں دیا مگر اپنی نظریں بھی نہیں جھکائیں ۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اسے گھورتا رہا ۔۔۔کامران ماہم کو اپنے کمرے میں لے گیا ۔۔۔۔۔
اگلے روز ماہم کے سارے سم غلط تھے ۔۔۔۔ ٹیچر سے اچھی خاصی ڈانٹ کھانے کے بعد ماہم چپ چاپ شرمندہ سی میرے برابر میں بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔سبکی کے مارے مجھ سے نظریں بھی نہیں ملا رہی تھی ۔۔۔مگر نا تو میں اس پر اپنی برتری جتائی نا اسے شرمندہ کیا ۔۔۔۔۔پھر میں غیر محسوس طریقے سے اسکی مدد کر دیتا تھا اور وہ بھی مجھ سے پوچھ لیتی تھی ۔۔۔۔۔نائن کلاس میں ایک نئی لڑکی نازلین ہماری کلاس میں آئی وہ کافی بولڈ اور آذاد خیال سی تھی پھر اسکی لڑکوں سے بھی دوستی تھی ۔۔۔۔مجھے وہ کچھ خاص اچھی نہیں لگی ۔۔۔۔دو تین دن سے ماہم اس ساتھ ساتھ تھی مجھے یہ بھی اچھا نہیں لگا کہ ماہم اس سے مراسم بڑھائے ۔۔۔۔اس لئے شام کو چائے پینے کے دوران میں نے ماہم سے کہا کہ وہ نازلین سے دوستی نا کرے
“ماہی تم نازلین کے پاس مت بیھٹا کرو “۔۔۔میری بات پر ماہم نے برجستہ مجھے دیکھا
“وہ لڑکی مجھے ٹھیک نہیں لگتی” ۔۔۔۔میں نے ابھی ٹھیک سے وضاحت بھی نہیں دی کہ ماہم فوراسے مان گئ
“ٹھیک ہے عفان کل سے نہیں بیٹھوں گی اور دوستی بھی چھوڑ دونگی “۔۔۔مجھے ماہم کا اتنی جلدی مان جانا حیرت میں ڈال گیا تھا
“پوچھو گی نہیں کیوں” ۔۔۔۔میں بہت متحیر سا ہوا تھا
“نہیں ۔۔۔تم نے کہا ہے تو ٹھیک ہی کہا ہو گا ۔۔۔پھر سوال کیوں کروں” ۔۔۔۔اس کا جواب مجھے مزید حیران کر گیا
“اچھا اگر میں یہ کہو کہ باہر لان میں ایک شیر ہے اور تمہارے باہر نکلتے ہی تمہیں کھا جائے گا تو تم میری بات مان لو گی”
“ہاں ۔۔۔۔مان لوں گی کیونکہ مجھے پتہ ہے ۔۔۔۔۔تم میرے دوست ہو اور میرا برا کبھی نہیں چاہو گئے” ۔۔۔۔
“لیکن ماہم تمہیں خود بھی دیکھنا سمجھنا چاہیے میں ساری زندگی تمہارے ساتھ نہیں رہونگا نا “
۔۔۔میری بات پر وہ الٹا مجھ سے پوچھنے لگی
“کیوں عفان تم کہیں جا رہے ہو “
“نہیں مگر ۔۔۔۔”
“تو پھر کیوں بحث کر رہے ہو ۔۔۔۔تم مجھے بتا دیا کرنا کہ میرے لئے کیا اچھا اور کیا نہیں میں مان لیا کرو گی۔۔۔۔۔ نا میں تم سے کہیں دور جاؤں گی اور نا تم مجھ سے ہم دونوں دوست ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گئے “۔۔۔۔ماہم یہ کہہ کر چائے کے کپ اٹھا کر کچن میں۔ چلی گی ۔۔۔۔میں چاہتا تھا اسے خود بھی لوگوں کو پرکھنے کی عادت ہو ۔۔۔۔وہ جتنی بھولی اور معصوم تھی۔۔۔۔کوئی بھی اسے نقصان پہنچا سکتا ہے ۔۔۔۔مگر وہ تو ۔۔۔۔۔مجھے عجیب سی الجھن میں ڈال گئ تھی تب پہلی بار میں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ میں اور ہم ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ۔۔۔۔اگر ایسا ہو جائے تو کوئی حرج بھی نہیں ہے ۔۔۔۔جب میں اسکے پاس ہی رہو گا تو اسے کیسے نقصان پہنچنے دوں گا ۔۔۔۔ماہم کی لا پروائی سے کہی بات نے میری سوچوں کا رخ بدل دیا ۔۔۔میں ماہم پر اپنا حق سمجھنے لگا تھا وہ بھی مجھے اپنی اپنی لگنے لگی تھی ۔۔۔اس کا خیال میں پہلے سے بھی زیادہ رکھتا ۔۔۔۔اسے کیا پسند ہے کیا نہیں یہ سب مجھے معم تھا ۔۔۔۔
*********………*********……..*********
صفیہ بیگم اور عالیہ دونوں بہنیں تھیں اور منور انکا اکلوتا بھائی ۔۔۔۔۔منور دونوں بہنوں سے چھوٹا تھا ۔۔۔۔متوسط گھرانے سے انکا تعلق تھا ۔۔۔۔۔والد صاحب نے بارویں جماعت کے نتیجے کا بھی انتظار نہیں کیا اور صفیہ کے لئے آئے پہلے رشتے کا کی چھان بین کر کے چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کرنے میں چند ماہ ہی لگائے تھے ۔۔۔۔صفیہ کی خوش نصیبی یہ تھی کہ رضا فاروق اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے ۔۔۔وہ اپنے والد صاحب کے ساتھ سرامک کی چھوٹی سے فیکٹری میں کام کرتے تھے ۔۔۔۔کام گو کے چھوٹے پیمانے پر تھا مگر گھر میں کبھی کسی چیز کی کمی نہیں دیکھی تھی ۔۔۔پھر اکلوتی بہو کے ناز نخرے ساس نے پورے دل سے اٹھائے تھے رضا صاحب بھی ملنسار اور محبت کرنے والے شوہر ثابت ہوئے ۔۔۔۔۔پھر صفیہ کا اپنا مزاج بہت دھیمی اور صلہ جو تھا ۔۔۔۔ساس سے بھی انکی خوب بنتی تھی ۔۔۔پورا گھر انہوں نے شادی کے اولین دونوں میں۔ ہی سنبھال لیا تھا ۔۔۔۔۔پھر شادی کے دو سال بعد کامران نے خوشیوں کو دوبالا کر کے رکھ دیا ۔۔۔۔لیکن ان خوشیوں کی مدت بھی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکی رضا صاحب کے والد کی اچانک ہارٹ اٹیک کی موت نے انہیں بوکھلا کر رکھ دیا پھر والدہ بھی شوہر کے صدمے کو سہہ نا سکیں جلد ہی دوسرے جہاں کوچ کرگئیں ۔۔۔۔رضا صاحب کے کاروبار میں آئے دن نقصان ہونے لگے ۔۔۔۔۔اسی دوران عالیہ کا رشتہ بھی افتخار صاحب سے طے ہو گیا ۔۔۔۔۔۔چونکہ اس رشتے میں افتخار کی مرضی اور باقائدہ ضد شامل تھی ۔۔۔۔اس لئے انکے بہن بھائیوں کا رویہ عالیہ سے اچھا نہیں تھا ۔۔۔۔۔افتخار صاحب کے والدین حیات نہیں تھے
بڑے بہن بھائی انکے لئے اپنی پسند کی لڑکی لانا چاہتے تھے مگر افتخار صاحب نے کسی عزیز کی شادی میں عالیہ کو دیکھا تو فورا اپنی پسند سے اپنی بہن کو آگاہ کردیا ۔۔۔۔بڑی مشکل سے ہی سہی مگر وہ لوگ عالیہ کا رشتہ لے آئے تھے منور کے لئے صفیہ کی والدہ پہلے ہی اپنی بھانجی نزہت کو پسند کر چکی تھیں ۔۔۔۔اس لئے دونوں کی شادی ایک ساتھ ہی طے پائی تھی ۔۔۔۔ ساری ذمہ داری صفیہ کے سر ان پڑی تھی ۔۔۔۔شادی کے بعد فتخار کے بہن بھائیوں کا رویہ عالیہ سے لیادیا ہی رہا لیکن افتخار کی محبت اور توجہ کی وجہ سے عالیہ اپنی زندگی سے خوش اور مطمئن تھی ۔۔۔۔دوسال بعد بھی جب عالیہ کی گود ہری نا ہو سکی تو اسکی نندوں اور جھٹانیوں کے طعنے بازیاں شروع ہو گئیں کچھ عرصہ تو افتخار صاحب یہ سب برداشت کرتے رہے مگر جب انکی زیادتیاں حد سے بڑھنے لگیں تو افتخار صاحب نے الگ گھر کا انتظام کر لیا وہ بنک میں اچھی پوسٹ پر فائز تھے پیسوں کی انکے پاس کمی نہیں تھی ۔۔۔۔پھر اپنی بیوی سے محبت بھی بہت کرتے تھے ۔۔۔۔انکے الگ ہوتے ہی افتخار صاحب کے بہن بھائیوں نے ان سے قطع تعلقی اختیار کر لی ۔۔۔۔انہیں دنوں عالیہ امید سے ہو گئیں افتخار صاحب اپنی ہی گھرستی میں خوش تھے ۔۔۔۔باقی کی رونق ماہم نے لگا دی تھی ۔۔۔۔۔نزہت ان دنوں شفق کے بعد اب کشف کو جنم دے چکی تھی ۔۔۔۔اگلے سال صفیہ بیگم کو اللہ نے پھر سے بیٹے سے نوازا تھا کامران پانچ برس ہو چکا تھا جب عفان انکی زندگی میں آیا ۔۔۔۔۔۔پانچ سال کے عرصے
میں جہاں رضا صاحب اور افتخار نے ترقی کے منازل طے کیے تھے ۔۔۔وہیں صفیہ اور عالیہ نے یکے بعد دیگے اپنے ماں باپ کو کھویا تھا ۔۔۔۔۔نرہت کے گھر تیسری بیٹی کرن کی پیدائش کے بعد منور کی کم مائیگی کے باعث اب وہ مزید اولاد نہیں چاہتے تھے بیٹے کی خواہش میں کنبہ بڑھاتے چلے جانا منور کی نظر میں نری حماقت ہی تھی۔۔۔۔۔سب ہی اپنی زندگیوں میں مصروف تھے مگر ایک حادثے نے سب کچھ بکھیر کے رکھ دیا ۔۔۔۔۔افتخار صاحب عالیہ بیگم اور ماہم کے ساتھ کار ڈائیور کرتے ہوئے ایک بہت برے حادثے کا شکار ہو گئے ۔۔۔عالیہ بیگم اور افتخار صاحب تو موقع پر ہی دم توٹ گئے لیکن ماہم جو پچھلی نشست پر بیٹھی تھی چند خراشوں کے علاؤہ بلکل ٹھیک رہی ۔۔مگر اس حادثے سے خوفزدہ ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔اس کے بھرے پرے ددیال نے اسے سنبھالنے سے صاف انکار کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔منور کے حالات اسے مزید ایک اور بیٹی کا بوجھ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔۔۔۔پھر نزہت زبان کی بھی تیز تھی ۔۔۔۔ایسے کڑے وقت میں صفیہ نے ہی ماہم کو سینے سے لگایا ۔۔۔۔وہ ڈری سہمی صفیہ کے ساتھ انکے گھر میں آ تو گئ تھی مگر ابھی تک ذہنی طور پر اسی حادثے کے خوف کے زیر اثر ڈر جاتی تھی رات کو سوتے ہوئے امی امی چلانے لگتی اپنے والد کا خون سے لت پت چہرہ نظر آتا تو خوف سے رونے لگتی ۔۔۔۔صفیہ اسے اپنے کمرے میں سلاتی تھی جب وہ ڈر کر روتی تو وہ اپنے سینے سے لگائے اسے پیار کرنے لگتیں ۔۔۔۔۔ماہم شکل وصورت میں بلکل عالیہ جیسی تھی بس رنگت میں اپنے باپ پر تھی ۔۔۔۔شروع سے ہی اسے صفیہ کو خالہ کہنے کی عادت تھی اس لئے اس نے کبھی بھی انہیں مما نہیں کہا خوف کی وجہ سے ذیادہ تر چپ چپ رہتی تھی صفیہ کے ساتھ سائے طرح ساتھ ساتھ رہتی تھی ۔۔۔۔
۔لیکن جب وہ کچن میں کام کرتی۔ تو اکثر ماہم کو لاونج میں بیٹھا دیتی ٹی وی پر کارٹون لگا دیتی تھیں ۔۔۔۔۔۔کامران تو خیر بڑا تھا ماہم کو جانتا پہچانتا بھی تھا کئی بار عالیہ کے گھر بھی صفیہ اور رضا کے ساتھ جا چکا تھا لیکن عفان کو معلوم نہیں تھا ماہم کا ۔۔۔۔وہ زیادہ تر شفق اور کشف سے مانوس تھا انہی کے ساتھ ذیادہ کھیلتا تھا ۔۔۔۔کبھی عالیہ کے گھر جانے اردہ ہوتا بھی تو صفیہ سے صاف کہہ دیتا کہ مجھے ماموں کے گھر پرچھوڑ دیں ۔۔۔۔مجھے خالہ کے گھر نہیں جانا ۔۔۔۔۔اس لئے ماہم اسکی یاداشت میں نہیں تھی ۔۔۔۔۔پھر اس کا یوں اچانک گھر میں آ جانا وہ بھی ہمیشہ کے لئے ۔۔۔۔پہلے تو عفان بھی اس سے دور ہی رہا ۔۔۔۔ لیکن پھر خود ہی اپنی طرف سے ماہم کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔۔پہلے تو وہ جھجھکتی رہی لیکن پھر آہستہ آہستہ خود ہی عفان سے مانوس سی ہو گئ ۔۔۔۔وقت کی ساتھ ساتھ وہ عفان سے گھل مل گئ تھی۔۔۔۔۔ماہم اور عفان کی عمر میں زیادہ فرق نہیں تھا ۔۔۔۔اس لئے وہ دونوں ذیادہ تر ایک ساتھ ہی نظر آتے عفان ماہم سے ایک سال چھوٹا تھا مگر نا تو اس نے ماہم کو کبھی خود سے بڑا تسلیم کیا تھا اور نا ہی چھوٹے ہونے کے کوئی ادب آداب کا لحاظ رکھا تھا وہ کبھی اسے اپنا بڑا پن جتا بھی دیتی تووہ یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ ہم دوست ہیں پھر آپ جناب کیسا۔۔۔۔ غیر محسوس طریقے سے عفان ماہم کی ہر بات میں شامل ہوتا چلا گیا ۔۔۔۔یہاں تک کہ ماہم اسکے مشورے کے بغیر کچھ نہیں کرتی تھی ماہم کو عفان کی اس قدر عادت ہو چکی تھی کہ جب تک اس سے اپنی ہر بات شیر نا کر لیتی اسے چین نہیں پڑتا تھا ۔۔۔۔اگر وہ اسے کسی بات سے روک دیتا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ ماہم وہ کر گزرے ۔۔۔۔مگر دوسری جانب کامران تھا ۔۔۔۔جس سے وہ بچپن سے ہی خوف کھاتی تھی ۔۔۔۔کچھ وہ ہر وقت اس پر رعب جمائے رکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔شروع میں ہی کامران نے ماہم سے فاصلہ ہی رکھا تھا ۔۔۔۔کبھی مروتا بھی اس سے ہنس کر بات نہیں کی تھی ۔۔۔۔اسکی غلطی نا بھی ہوتی تو اسے بری طرح ڈانٹ دیتا تھا ۔۔۔عفان اور کامران کے کمرے برابر میں ہی تھے ایک بار وہ عفان کے کمرے میں جاتے ہوئے رک گئ ۔۔۔
۔ارادہ تو اسکا عفان کے کھلونوں سے کھیلنے کا تھا کامران اور عفان دونوں کرکٹ کھیلنے گھر سے باہر گئے تھے ۔۔۔ماہم نے کبھی بھی کامران کا کمرہ نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔اسوقت وہ فائیو کلاس میں تھی اور کامران نائتھ میں تھا نا جانے ماہم کو کیا سوجی وہ عفان کے کمرے کے بجائے کامران کے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔پورا کمرہ بکھرا پڑا تھا ۔۔۔۔کہیں گندے موزے کہیں جوتے ۔۔۔ٹاول کرسی کی پشت پر لٹکا تھا ۔۔۔دو چار شرٹس ہینگر سے لگیں ہوئیں بیڈ پر رکھی تھی بیڈ کی چادر بھی بکھری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ماہم نے اسکی شرٹس اسکے وارڈرواب میں رکھیں ٹاول واش روم رکھا اسکے جوتے موزے بھی کمرے کے ایک سائیڈ پر رکھ کر ماہم نے چادر درست کرنے کے غرض سے تکیے اٹھائے مگر وہیں ٹھٹک گئ تکیے کے نیچے ایک سگریٹ کی ڈبیہ اور لائٹر رکھا تھا ۔۔۔۔۔ماہم نے وہ سگریٹ کی ڈبیہ اٹھا لی یک دم ہی کمرے کا دروازہ کھلا ۔۔۔ماہم بری طرح گھبرا کر پلٹی سامنے کامران کڑے تیوروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔اسکے ہاتھ میں بیٹ پکڑا ہوا تھا کامران نے دھماکے سے اپنا کمرہ بند کیا اور تیزی سے ماہم کی طرف بڑھا اس کے ہاتھ سے سگریٹ کی ڈبیہ چھینی۔ ۔۔۔۔ماہم سٹپٹا کر پیچھے ہٹ گئ
کیا کر رہی تھی یہاں پر ۔۔۔۔کامران کا غصے سے بھبوکا چہرہ دیکھ کر وہ سہم سی گئ
ک۔۔۔کا۔۔۔۔۔می ۔۔۔وہ۔۔۔۔
شٹ اپ ۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں آنے کی ۔۔۔ہاں ۔۔۔۔جیسے جیسے ماہم اپنے قدم پیچھے کی جانب بڑھانے لگی کامران اسکی طرف قدم بڑھاتے ہوئے خونخوار نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
ماہم اگر تم نے کسی سے بھی سگریٹ کے بارے میں ذکر کیا تو میں چھوڑو گا نہیں تمہیں ۔۔۔۔
نن۔۔۔نہیں بتاؤں گئ ۔۔۔۔ماہم بوکھلا کر بولی
دفع ہو جاؤں یہاں سے اور ہاں آئندہ میرے کمرے میں قدم مت رکھنا ۔۔۔۔۔کامران کی دھاڑ پر وہ فورا سے اسکے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں جا کر رونے لگی ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں عفان اسکے کمرے میں داخل ہوا ماہم کو روتا دیکھ کر اس سے وجہ پوچھنے لگا
کامی نے مجھے بہت زور سے ڈانٹا کے عفان ۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے بتانے لگی
بھائی نے مگر۔۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔۔
پہلے تو ماہم نے سوچا کہ عفان کو سب بتا دے مگر پھر کامران کی دھمکی پر ہمت نہیں جتا پائی ۔۔۔۔
ایسے ہی اس کا کمرہ گندا تھا میں نے صاف کر دیا تو وہ مجھ پر بگڑنے لگے
تمہیں مشورہ کس نے دیا تھا کہ بھائی کے کمرے کو صاف کرو اور پھر انکی ڈانٹ بھی کھاؤں ۔۔۔۔ذیادہ صفائی کا شوق ہے تو میرے کام کر دیا کرو بدلے میں آئسکریم کھلاؤں گا تمہیں وہ بھی چوکلیٹ ۔۔۔۔۔
بس یہی غلطی ہوئی مجھ سے مجھے تم سے پوچھنا چاہیے تھا۔۔۔۔ماہم فورا سے اپنی غلطی مان گئ ۔۔۔وہ کامران کی بات کو رد کرنے سے گھبراتی تھی
*******……….********…………*****…….*****
جب میں نے میڑک اے ون گریٹ میں پاس کیا ۔۔۔تو پاپا نے ایک شاندار دعوت کا اہتمام اپنے گھر پر ہی منعقد کیا ۔۔۔۔اور میری پسند اور ماہم کا مشورہ پیش پیش تھا ۔۔۔۔دعوت پر سب دوستوں اور رشتے داروں کی ستائشی نظر مجھ پر تھی ۔۔۔۔۔پاپا نے مجھے گاڑی کی چابی گفٹ میں دی ۔۔۔۔ماہم کا بھی اے گریٹ آیا تھا مما نے اسے سونے کی چین دی تھی ۔۔۔۔بس کزنز اور رشتے داروں نے تحفے دیے مگر کامران نے تحفہ تو دور کی بات مبارک باد کی زحمت نہیں اٹھائی ۔۔۔۔پوری دعوت پر وہ ۔۔۔۔بجھا بجھا سا ایک کونے میں بیٹھا رہا ۔۔۔۔۔انہیں دنوں کامران بی بی اے پہلے ہی سال میں دو پیپرز میں رہ گیا تھا اور یہ نتجہ بھی کامران کی دوسری ترجعات کا وجہ سے تھا ۔۔۔۔۔پاپا کے لاکھ منع کرنے پر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مری سوات کے ٹور پر وہ باقاعدہ ضد کر کے گیا تھا ۔۔۔اسے شاید خود پر کچھ ذیادہ ہی اعتماد تھا کہ وہ بنا پڑھے بھی کامیاب ہو جائے گا ۔مگر اسکا اوور کانفرنس اسے تعلیم سے ہی بدذہن کر گیا ۔۔۔اپنے رزلٹ پر بجائے مزید محنت کرنے کے کامران نے پڑھائی کو ہی خیر آباد کر کے پاپا کا آفس جوائن کر لیا ۔۔۔۔۔میراارادہ آگے انجیرنگ کرنے کا تھا اور یہ میرااور ماہم کا مشترکہ فیصلہ تھا ۔۔۔۔۔اور میں نے اس خواہش کا اظہار بھی مما کے سامنے کر دیا ۔۔۔۔۔کامران بھی وہیں موجود تھا ۔۔۔۔
مما میری بات پر خوش ہو تھیں۔۔۔۔مما نے ماہم سے اسکے ارادے پوچھے تو میں بول اٹھا
“مما ماہی کی ڈرائنگ بہت اچھی ہے۔۔۔۔اگے چل کر ماہی آرکیٹکچر کی فیلڈ جوائن کر سکتی ہے” ۔۔۔۔۔۔میرے چہرے پر خوشی کی چمک تھی اور چہرے پر جاندار مسکراہٹ کامران نا جانے کیوں غصے سے غراتے ہوئے ماہم کے سامنے کھڑا ہو گیا
“نہیں۔ ماہم تم نارمل بی اے کرو گی ہم نے تم سے نوکری نہیں کروانی پھر کیا ضرورت ہے سر کھپائی کرنے کی” ۔۔۔۔۔۔مجھے کامران کی بات اور تحمکانہ انداز بہت برا لگا بھلا وہ کون ہوتا ہے یہ فیصلہ کرنے والا ۔۔۔
“میرے خیال سے ماہی اپنے decition ۔خود لے سکتی ہے “۔۔۔۔میں نے سپاٹ لہجے سے کامران کو کہااور ماہم کی طرف متوجہ ہو گیا
“تم بتاؤ۔ ماہی تم کیا چاہتی ہو “۔۔۔۔۔۔میرے استفسار پر ماہم نروس سی ہونے لگی کبھی مجھے دیکھتی تو کبھی کامران کی گھورتی ہوئی نظریں
“بتاوں نا بیٹا ۔۔۔۔تم کیا چاہتی ہو” ۔۔۔۔مما نے بہت ملائمیت بھرے لہجے سے پوچھا
“خالہ کامی ٹھیک کہہ رہے ہیں میں اتنی جینئس نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔اے گریٹ بھی بس چند نمبروں سے حاصل کیا ہے وہ بھی عفان کی کوشش کی وجہ سے ۔۔۔۔پھر انجیرنگ “۔۔۔۔۔وہ تذبذت کا شکار تھی ماہم کے جواب نے مجھے حیرت زدہ کر دیا ۔۔۔کیونکہ وہ مجھ سے پہلے اپنی خواہش کا اظہار کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
“ماہی آر یو شیو “۔۔۔۔۔میری نظروں اور انداز میں تشویش تھی
“عفان میں نہیں کر پاؤں گی” ۔۔۔۔وہ نظریں جھکا کر اپنی انگلیاں چٹخانے لگی اور میرا غصہ آخری حدوں کو چھونے لگا۔ آخر ماہم کے ساتھ مسلہ کیا ہے کیوں اتنا خوف کھاتی ہے کامران سے کیوں اسکی بات کو رد نہیں کرتی ۔۔۔میں خاموشی سے وہاں سے چلا گیا میں نے چند دن تک ماہم سے بات تک نہیں کی ۔۔۔۔۔میرے ساتھ سب سے بڑا مسلہ یہ بھی تھا کہ میں ماہم سے ناراض نہیں رہ سکتا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔میرا یہ غصہ بھی ذیادہ دن تک قائم نہیں رہ سکا ۔۔۔۔۔۔میں اپنے کمرے میں رائٹنگ ٹیبل پر بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔۔۔۔جب کمرے کا دروازہ ذرا سی دستک کے بعد کھل گیا۔۔۔سامنے ماہم کو دیکھکرمیں نے غصے سے رخ موڈ لیا ۔۔۔۔مگر وہ ماہم تھی میرے موڈ کی پروا اسے کبھی نہیں ہوئی تھی بس اپنی ہی چلاتی تھی خاص طور پر مجھ پر ۔۔۔۔سیدھی میرے پاس رکھے ٹو سیٹر صوفے پر دھڑلے سے بیٹھ گئ
