Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 34
Rate this Novel
Tadbeer Episode 34
Tadbeer by Umme Hani
پاپا میرا آفس ںنواچکے تھے بس ڈیکورشن کا کام ہی رہ گیا تھا۔۔۔۔ماہم کا رویہ میرے ساتھ کی کافی حد تک بہتر ہونے لگا تھا میری بات وہ سن بھی لیتی تھی اور ماننے بھی لگی تھی میرے کام بھی بنا کہے کر دیتی تھی اگر میں رات دیر تک کام کی وجہ سے لیپ ٹاپ میں مصروف ہوتا تو وہ چائے بنا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیتی ۔۔۔۔میں بھی اس سے کسی نا کسی بات کا تذکرہ کرتا رہتا اور وہ جواب بھی دیتی تھی ۔۔۔۔اب بھی میں اپنے نئے آفس کی ڈیکورشن کے لئے پریشان تھا ۔۔۔۔جب میں اس بات کا تذکرہ ماہم سے کیا تو وہ تقریبا اچھل ہی پڑی تھی
“عفان تمہارے آفس کو ڈیکورٹ میں کرو گی ۔۔۔”۔اسکی خوشی قابل دید تھی
“ماہی یار ۔۔۔شادی ہال نہیں بنانا ہے اسے ۔۔۔تم چھوڑو مجھے خود ہی کچھ مینج کرنے دو ۔۔”۔۔میرے قطعی انداز کی بھی اس نے پروا نہیں کی تھی
“تم بیوقوف سمجھتے ہو مجھے ۔۔۔۔میں نے کئ بار گھر کو بھی ڈیکوریٹ کیا ہے” ۔۔۔وہ برا سا منہ بنا کر بولی
“ہاں مگر گھر اور آفس میں فرق ہوتا ہے _۔۔۔میرے پیار پر سمجھانے پر بھی وہ نہیں مانی
“معلوم ہے مجھے ۔۔۔میں کچھ نہیں جانتی کل میں تمہارے ساتھ تمہارے آفس جاؤں گی” ۔۔۔۔جس حق سے وہ مجھ سے کہہ رہی تھی میں انکار کر ہی نہیں سکتا تھا اس لئے مان گیا ۔۔۔۔کچھ ہفتوں میں وہ ڈیکوریٹ کر چکی تھی ۔۔۔۔مگر مجھے دیکھنے سے اس نے منع کر دیا تھا ۔۔۔وہ مجھے سرپرائز دینا چاہتی تھی میں تو بس اس بات ہی خوش تھا کہ وہ اب دوبارہ سے وہی ماہی بن گئ تھی جیسے پہلے تھی مجھ سے اسی بے تکلفی سے بات کرنے لگی تھی ۔۔۔۔
صبح مجھے ٹائی پہناتے ہوئے وہ مسکرا کر مجھ سے کہنے لگی
“عفان کل سنڈے ہے ۔۔۔کل تم میرے ساتھ اپنے نئے آفس جانا ۔۔۔۔پھر مجھے بتانا کہ تمہارا آفس تمہیں کیسا لگا ۔۔۔۔مجھے یقین ہے کہ تمہیں میرا سرپرائز اچھا لگے گا ۔”۔۔۔۔وہ خوشی سے بول رہی تھی ۔۔۔ پھر میرے اتنے قریب بھی تھی میرے سامنے اپنے بکھری لٹوں کے ساتھ وہ مجھے ڈائی پہنانے میں مگن تھی ۔۔۔۔میں نے بے اختیار ہی اسکی کمر کے گرد اپنے بازو حمائل کر دیے ۔۔۔۔
“رات کو میں بھی تمہیں۔ ایک سرپرائز دینے والا ہوں ماہی ۔۔۔مجھے یقین ہے تمہیں بھی وہ بہت پسند آئے گا ۔۔”۔۔میری اس طرح کی جرت پر وہ نروس سی ہونے لگی تھی اپنے دونوں ہاتھ میرے سینے پر رکھ کر پیچھے ہٹنے لگی
مگر مجھ سے دوری تب ہی ممکن تھی جب میں چاہتا اور میں ایسا چاہتا ہی کیوں ۔۔۔۔جبکے میرا دل اسکی قربت کا متمنی تھا ۔۔۔۔
“عفان “
“ہمم “
“مجھے ناشتہ بنانا ہے” ۔۔۔۔۔وہ ہچکچاتے ہوئے بول رہی تھی یا مجھ سے جان چھڑانے کے بہانے تراش رہی تھی
“او کے جاؤں” ۔۔۔۔میں نے اپنے ہاتھ پیچھے کر لئے ۔۔وہ جلدی سے باہر چلی گئ ۔۔۔۔
رات کو میں اسکے لئے ایک بے حد نفیس سی ساڑھی لیکر آیا تھا ڈنر کے بعد جب وہ سونے کے لئے کمرے میں آئی تو میں نے ایک شاپنگ بیگ اسکی طرف بڑھا دیا وہ استفہامیہ انداز سے مجھے دیکھنے لگی
“تمہارا سرپرائز گفٹ ۔۔۔کل تم یہ پہن کر میرے ساتھ آفس جاؤں گی ۔۔۔۔”
ماہم نے وہ دیکھے بنا ہی بیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔۔
“مجھے نہیں۔ پہننا اور نا اسے دیکھنا ہے” ۔۔۔۔اس کا نروٹھا لہجہ میری سمجھ سے باہر تھا
“کیوں ماہی “۔۔۔۔۔اب تو میں نے اسے ایسا کچھ نہیں کہا تھا اٹلیس پچھلے ایک مہنے سے سب کچھ ٹھیک ہی توچل رہا تھا
“بس نہیں پہننا تو نہیں پہننا ۔”۔۔۔وہ منہ پھلائے بولی
٫”مجھے نہیں یاد کہ ہمارے درمیان کوئی ایسی بات ہوئی ہے کہ تم یوں ناراض ہو کر دیکھاو مجھے ۔۔۔”۔میں سمجھ نہیں پارہا تھا کہ اسے ہوا کیا ہے وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگی ساتھ ہی ساتھ آنکھیں بھی آنسوں سے بہنے لگیں
“تمہیں بھلا کیوں یاد ہو گا ۔۔۔دل تو میرا ٹوٹا ہے تکلیف مجھے ہوئی ہے ۔۔۔اعتبار میرا چکنا چور ہو کر رہ گیا ۔۔۔سارے جذبات میرے مجروع ہوئے ۔۔۔۔اور تم اتنے انجان ہو ۔۔۔۔بہت برے ہو تم “وہ جھنجلا کر بولی
“اتنے سارے جرم ثابت ہیں مجھ پر ماہی ۔۔۔۔۔ ذرا مجھے بھی بھی تو معلوم ہو کہ میں نے کیا کیا ہے۔۔”۔۔ میں اس کے مقابل کھڑا ہو کر پوچھنے لگا ۔۔۔۔وہ رونے لگی ۔۔۔۔
“ماہی بتاؤں مجھے۔۔۔ کیا کیا ہے میں نے “
“بہت برے ہو تم” ۔۔۔۔وہ اپنے ہاتھوں سے منہ چھپائے رونے لگی میں بوکھلا سا گیا تھا ۔۔۔۔ماہم کے یوں رونے کی وجہ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہی تھی میں نے اسکے دونوں ہاتھ اسکے چہرے سے پیچھے ہٹائے ۔۔۔۔وہ یک دم ہی میرے سینے سے لگ کر رونے لگی ۔۔۔۔کچھ پل تو میں فریز ہی ہو گیا تھا اس طرح کی پیش رفت اس نے پہلے تو نہیں دیکھائی تھی ۔۔۔۔۔کئی بار شکوے شکایتں مجھ سے کیں تھیں بلکہ بچپن سے کرتی آ رہی تھی ۔۔۔مگر ایک فاصلہ ہمارے درمیان ہمیشہ ہی حائل رہا تھا ۔۔۔۔شاید یہ وہ رشتہ تھا جو اب ہمارے درمیان قائم ہو چکا تھا ۔۔۔۔ماہم نا چاہتے ہوئے بھی اسی رشتے میں بندھنے لگی تھی ۔۔۔۔تو اس سے اچھی بات میرے لئے اور بھلا کیا ہو سکتی تھی
“عفان تم بہت برے ہو ۔۔۔۔آئی ہیٹ یو ۔”۔۔۔۔وہ میرے ساتھ لگی روتے ہوئے بولی میں بس خاموشی ہی کھڑا اپنی غلطی یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔جو فی الفوز تو مجھے بھی یاد نہیں آ رہی تھی پھر ماہم کا میرے اتنے قریب ہونے کا احساس ہی بہت دلفریب تھا
“تم کیسے مجھے ڈانٹ سکتے ہو وہ بھی اتنے برے طریقے سے ۔۔۔۔”
“میں نے تمہیں کب ڈانٹا ماہی” ۔۔۔۔میں اب اسکے بالوں کو سہلاتے ہوئے پوچھنے لگا
“جس دن کامران مجھے زبردستی اپنے ساتھ لیکر گیا تھا ۔۔۔اس دن ۔۔۔۔”
“میرا قصور نہیں تھا وہ مجھے زبردستی لیکر گیا تھا ۔۔۔۔پھر بھی تم نے مجھے ڈانٹا ۔۔۔۔۔تمہیں پتہ ہے کتنی مشکل سے گھر پہنچی تھی میں ۔۔۔۔راستے میں آوارہ قسم کے لڑکوں سے بھاگتے ہوئے کتنی چوٹیں لگیں تھیں مجھے ۔۔۔۔میرے پاؤں اور میرے بازو بھی زخمی ہو چکے تھے ۔۔۔۔تم نے ایک بار بھی مجھ سے نہیں پوچھا کہ بس مجھے ڈانٹتے رہے ۔۔۔میری ایک بات بھی نہیں سنی مجھے سزا پر سزا دیتے رہے ۔۔۔۔”
“میں نے پوچھا تھا تم سے ماہی ۔۔۔۔ہر بات پوچھی تھی مگر تم ہی نے کوئی جواب نہیں دیا تھا”میں اسکی تیز چلتی دھڑکنیں اپنے اندر سن رہا تھا۔۔۔
“لیکن پوچھا تو غصے سے تھا نا ۔۔۔میں ڈر گئ تھی کیسے بولتی پھر ۔۔۔۔تمہیں پیار پوچھنا چاہیے تھا نا ۔۔۔۔بلکہ بہت پیار اور نرمی سے پوچھنا چاہیے تھا ۔۔۔۔لیکن تم نے ۔۔۔۔۔تم نے” ۔۔۔۔۔وہ پھر سے رونے لگی
“میں بھی تو پریشان تھا تمہارے لئے دیوانوں کی طرح تمہیں تیز بارش میں سڑکوں پر ڈھونڈتا پھر رہا تھا ۔۔۔۔تمہیں کھونے کا خیال ہی میرے لئے جان لیوا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔آگیا تھامجھے بھی غصہ “۔۔۔۔۔میں نے بھی اعتراف کیا ۔۔۔۔میرے ہاتھ اب اسکی کمر کو سہلانے لگے تھے
“ٹھیک ہے مگر اسکے بعد تو تمہیں مجھ سے سوری کرنا چاہیے تھا ۔۔۔۔مگر تم نے نہیں کیا ۔۔۔۔پھر تم نے یہ کہا کہ تم میرے دوست نہیں ہو کتنا برا لگا تھا مجھے یہ ۔۔۔۔تم جانتے ہو میری تمہارے علاؤہ کسی سے دوستی نہیں ہے ۔۔۔۔پھر بھی تم نے دوستی کارشتہ بڑے آرام سے توڑ دیا ۔۔۔کیوں ۔۔۔۔”
“کہاں نا غصے میں تھا ۔۔۔۔کہہ دیا ہو گا غصے سے ۔۔۔لیکن دوست اب بھی ہوں ابھی کچھ دن پہلے بھی تو دوست بن کر تمہاری بات سنی ہے نا میں نے ” ۔۔۔۔میں بہت اپنایت سے اسے ساتھ لگائے سمجھا رہا تھا
“ہاں سنی تھی مگر سوری نہیں کہاں مجھ سے۔۔۔ پھر تم نے رضا انکل سے میری شکایتیں بھی لگائیں تھیں کیوں ۔۔۔۔حالانکہ تم جانتے ہو مجھے ان کے سامنے کتنا برا لگتا ہے یہ سب “میرے سینے پر وہ مکے مارتے ہوئے بولی
“تم نے بھی تو آملیٹ میں نمک جان بوجھ کر تیز کیا تھا “میں نے اس کاہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں پر لگا لیا ۔۔ ماہم اپنی دھن بولے جارہی تھی ورنہ میری ایسی باتوں پر غصہ ضرور کرتی
“ہاں تو میں ناراض تھی تم سے ۔۔۔۔۔تم مجھے منا بھی نہیں رہے تھے پھر مجھ پے رعب پر رعب جما رہے تھے برا لگ رہا تھا مجھے ۔۔۔۔تم چپ کر کے بھی کھا سکتے تھے ۔۔۔۔پہلےبھی تم میری بنائی کتنی بد ذائقہ چیزییں چپ چاپ کھاچکے ہو ۔۔۔۔”۔۔میری اتنی سے باتیں اس سے برداشت نہیں تھی تو یہ وجہ تھی ماہم کی میرے کام نا کرنے کی مجھ سے دور رہنے کی اور میں نا جانے کیا کیا سمجھتا رہا ۔۔۔ اسے غصہ اس بات پر تھا کہ میں نے اسے منایا کیوں نہیں تھا ۔۔۔اس کے نخرے کیوں نہیں اٹھائے تھے ۔۔۔۔۔شاید یہ عورت کا حق ہے کہ اس کا شوہر اسکے ناز نخرے اٹھائے ۔۔۔۔اور میرے خیال سے یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے ۔۔۔۔جب بیوی ہماری ساری ضرورتوں اور خواہشوں کا خیال رکھ سکتی ہے ۔۔۔تو شوہر کو بھی اس کے نخرے اٹھانے چاہیے۔۔
“او کے ایم سوری ۔۔۔۔آئندہ نہیں ڈانٹو گا۔۔۔۔۔تمہیں پیار سے سمجھاؤں گا ۔۔۔۔پاپا سے شکایت بھی نہیں لگاؤں گا ۔۔۔۔چپ چاپ تمہارے بنائے بد ذائقہ کھانے بھی کھا لیا کرونگا ۔۔۔۔اب ٹھیک ہے ۔۔۔۔”مجھے اسے منانا بھی تو تھا ۔۔۔۔
“تم کبھی مجھ سے یہ بھی نہیں کہو گئے کہ تم میرے دوست نہیں ہو “یہ ماہم کی ایک اور نئ فرمائش تھی
“او کے یہ بھی نہیں کہو گا ۔۔۔”
“تم بھی ایک وعدہ کرو میرے ساتھ ماہی” ۔۔۔میں نے اس کے بالوں۔ کو سہلاتے ہوئے کہا ۔۔۔
“وہ کیا “۔۔۔وہ اب بھی میرے ساتھ لگی سوں سوں کرتے ہوئے بولی
“ہمیشہ یونہی میرے ساتھ لگ کر اپنے سارے شکوے مجھ سے کیا کروں گی جیسے آج کر رہی ہو ۔”۔۔۔وہ کسی کرنٹ کی مانند پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔۔
مجھے مسکراتا دیکھ کر خجل سی ہونے لگی ۔
“دور ہٹنے کو تو میں نے نہیں کہا تھا “۔۔۔۔مجھے اسے تنگ کرنے میں مزا آ رہا تھا
“وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔مجھے پتہ ۔۔۔ہی نہیں چلا ۔۔۔۔ایم سوری ۔”۔۔۔وہ بری طرح نروس ہو رہی تھی نظریں بھی چراتے ہوئے بولی
“سوری فور واٹ سوئٹ ہارٹ ۔۔۔تمہارا پورا حق ہے مجھ پر۔۔۔۔۔ یہ رشتہ ہی ایسا ہے ماہی ذیادہ دیر تک دور رہنے ہی نہیں دیتا ۔۔۔۔۔میں نےماہم کے چہرے پر آنسوں کو صاف کیا ۔۔۔وہ پیچھے ہٹ گئ ۔۔۔۔اب میں اسے مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے ۔۔۔۔ میں نے بیڈ سے شوپنگ بیگ پکڑ کر ماہم کے آگے کیے
“اب یہ پکڑو اور کل شام کو تیار رہنا “۔۔۔۔میں نے وہ شاپنگ بیگ ماہم کے ہاتھ میں تھما کر کہا اور بیڈ پر اپنی سائیڈ پر جا کر لیٹ گیا ۔۔۔۔ماہم نے وہ ویسے ہی الماری میں رکھ دیا ۔۔۔۔دوسرے دن شام کو وہ اسی گرے کلر کی ساڑھی میں تیار تھی جو میں لایا تھا ۔۔۔۔۔میں کمرے میں داخل ہوا سے دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اور تیار بھی بہت دل سے ہوئی تھی ۔۔۔۔مجھے دیکھ کر مسکراتی ہوئی میرے پاس آ کر کھڑی ہو گئ
“تم۔ ساڑھی لائے تھےمیرے لئے ۔۔رات کوکیوں نہیں بتایا ۔۔۔بہت پیاری ہے اور سپل بھی ۔۔۔۔کیسی لگ رہی میں ۔۔”۔میں نے آگے بڑھ کر ۔۔۔اسکے بالوں سے کیچر اتار دیا اس کے سلکی بالوں کو آزاد کر کے اسکے گال تھپتھپا کر کہا
“ویری پریٹی ایز آل ویز ۔۔۔۔چلیں اب ۔ماہم مسکراتے ہوئے میرے ساتھ ہی نیچے اتری تھی
گاڑی میں بھی مجھ سے باتیں کرتی رہی۔۔۔۔
“ماہی قاسم بھی وہاں آ رہا ہے ۔۔۔۔”
“اچھا پھر تو فاریہ بھی آ رہی ہو گی “وہ خوش ہو گئ
“نہیں فاریہ نہیں آ رہی “
“کیوں عفان قاسم بھائی سے کہہ دو نا کہ فاریہ کو بھی لے آئیں ۔۔”۔
“اب کہاں جائے گا واپس فاریہ کو لینے ۔۔۔وہ بھی بس پہنچنے والا ہی ہو گا ۔”۔۔میں نے آفس کی عمارت کے سامنے گاڑی پارکنگ ایریا میں لگاتے ہوئے کہاں ۔۔۔۔جب ہم اوپر پہچے قاسم ہمارا ہی انتظار کر رہا تھا کیونکہ چابی میرے پاس تھی میں نے دروازہ کھولا تو حیرت کا جھٹکا مجھے اور قاسم دونوں کو لگا تھا ۔۔۔۔آفس کے بیرونی ہال کو نفاست سے سجا دیکھ کر ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ باقی کی ڈیکورشن بھی اچھی ہوئی ہو گئ
ہال میں رکھے لائٹ سے کلر کے صوفے لگے تھے ریسپشن کا کارنر ایک سائیڈ پر تھا ڈرافنگ کے لئے ایک بڑا کمرہ سیٹ کروایا گیا تھا اور ڈئزانگ کے لئے سیٹ کیے جانے والے کمرے میں ہر ٹیبل کے سامنے کمپوٹر رکھا گیا تھا ۔۔۔۔قاسم بڑی ستائشی نظروں سے دیکھ کر ماہم کی تعریف بھی کر رہا تھا ۔۔۔۔میرا اور قاسم کا کمرہ الگ الگ ہی تھا ۔۔۔۔۔قاسم کا روم دیکھنے کی بعد جب ہم میرا کمرہ دیکھنے لگے تو قاسم کو فاریہ کی کال آنے لگی وہ ہمہیں اندر جانے کا اشارہ کرتے ہوئے خود اپنے روم میں چلا گیا
۔میں ماہم کے ساتھ ہی اپنے روم میں داخل ہوا تھا ۔۔۔میرا روم ماہم نے بہت ڈیسنٹ طریقے سے ڈیکوریٹ کروایا تھا وال کلاک سے لیکر پین ہولڈر تک میں میری پسند کو مد نظر رکھا گیا تھا ۔۔۔۔میں آج دل سے یہ اعتراف کر سکتا تھا کہ ماہم کو میری پروا ہے ۔۔۔ ابھی بھی میری پسند کا اس نے خیال رکھا تھا ۔۔۔۔میرے لئے یہی بہت تھا کہ وہ اہمیت دینے لگی ہے ۔۔۔۔
“ماہی سیریسلی دس از ٹو مچ ۔۔۔۔میں کبھی اتنی خوبصورتی سے ڈیکوریٹ کروا ہی نہیں سکتا تھا ۔۔”۔۔۔میں نے اسے سراہا جس کا وہ حق رکھتی تھی
“چلو شکر ہے تمہیں پسند آ گیا” ۔۔۔۔ماہم نے پر سکون سانس لیتے ہوئے کہا
“پسند کیوں نہیں آئے گا جب تم نے میری پسند کا اتنا خیال رکھا ہے” ۔۔۔میں نے دونوں کندھوں سے پکڑ کر ماہم کو اپنی ریوالونگ چیر پر بیٹھا کر گھما دیا
“مجھے یہاں کیوں بیٹھایا ہے ۔۔۔یہ تمہاری جگہ ہے عفان ۔۔۔تم بیٹھو میں تمہاری تصویر کھنچتی ہوں ۔۔۔۔رضا انکل کو دیکھاوں گی” ۔۔۔ماہم کرسی روک کر وہاں سے کھڑی ہو گئ پھر مجھے وہاں بیٹھا کر میری تصویر کھنچنے لگی ۔۔۔۔۔۔
‘چلو اب مجھے اچھا سا ڈنر کرواں “۔۔۔ماہم نے فرمائش میرے سامنے رکھ دی
“کیوں نہیں۔۔۔ ضرور کھلاؤں گا ۔۔۔۔بس ایک سیلفی ہونی چاہیے ہم دونوں کی “. میں اپنی چیر سے کھڑا ہو کر ماہم کے ساتھ کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔تصویر کھنچتے ہوئے میں نے اپنا بازو پھیلا کر ماہم کے دوسرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے قریب کر لیا ۔۔۔۔وہ کچھ گھبرانے لگی تھی ۔۔۔۔
“ہسنو نا ماہی ورنہ پک اچھی نہیں آئے گئ” ۔۔۔۔میری بات پر بس وہ ذرا سا مسکرا ہی سکی موبائل پر اسکے ساتھ تصویر لینے کے بعد بھی میں ویسے ہی کھڑا رہا ۔۔۔۔ ماہم کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔بہت خوبصورت رنگ تھے اسکی آنکھوں میں۔
“ماہی ۔۔۔۔آئی لو یو ” میرے اظہار پر ماہم نے برجستہ میری طرف دیکھا ۔۔میں بھی اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔۔۔وہ نظریں بدلنے لگی
“ساڑھی بہت سوٹ کرتی ہے تم پر ۔۔۔۔بلکل کترینہ کیف لگتی اس میں ۔”
“عفان ۔۔۔مجھے وہ اچھی نہیں لگتی ۔۔۔۔تم مجھے اس سے ملا رہے ہو ۔۔۔۔بہت برے ہو تم “۔۔۔وہ میرے حصار سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
“مجھے کیا معلوم میں تو تمہاری تعریف کرنے کی کوشش کر رہا تھا ماہی”
“ایسے کرتے ہیں تعریف ۔۔۔۔مجھے نہیں۔ سننی ۔۔۔”وہ منہ بنا کر بولی
” ماہی کیا میری سزا ختم نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔۔اب تو سوری بھی کہہ چکا ہوں “۔۔۔۔۔میں نے اپنی گرفت اور بھی مضبوط کر لی تھی ۔۔۔ماہم کچھ گھبرانے لگی تھی اس سے پہلے کہ اسکے کچھ اور قریب آتا
۔۔۔ اچانک سے کھل جانے والے دروازے سے ہم دونوں ہی گھبرا گئے تھے سامنے قاسم بھی ایسی ہی کسی سچویشن سے دوچار تھا ماہم فورا سے پیچھے ہٹ گئ
“سو سوری ۔۔۔۔مجھے نوک کر کے آنا چاہیے تھا ۔۔”۔قاسم شرمندہ س ہونے لگا
“ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔ہم صرف سلفیی لے رہے تھے “
میں نے نظریں چراتے ہوئے وضاحت دی ماہم نظریں جھکائے کھڑی رہی
“غلطی ہو گئ مجھ سے یار مجھے فاری کو ساتھ لانا چاہیے تھا ۔۔۔۔تا کہ ایسی دو چار سیلفیاں میں بھی بنا لیتا ۔”۔۔۔قاسم مسکراتے ہوئے مجھے معنی خیز انداز سے تنگ کر رہا تھا
“تو اب لے آؤں ۔۔۔ویسے بھی ہمارا باہر ڈنر کرنے کا موڈ ہے بھابی ساتھ ہو گئیں تو ماہم کو بھی کمپنی مل جائے گی ۔۔۔قاسم کی بانچھیں کھل گئیں
” ارے واہ ۔۔۔۔مگر ایک شرط پر ۔۔”۔۔قاسم نے برجستہ کہا
“وہ کیا “
“کھانا ہم شرفو کے ڈھابے پر ہی کھائیں گئے ۔۔۔۔”
“شیو کیوں نہیں ۔۔۔ہم لوگ جا رہے ہیں تم فاریہ بھابی کو لیکر پہنچو ۔۔۔۔”
قاسم بھی فورا تیار ہو گیا ہم لوگ پہلے ہی پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔ہم دونوں ہی ایک تخت پر بیٹھ گئے ۔۔۔۔شرفوں کے بجائے ایک اور کم عمر لڑکا ہمارے سامنے بچھے دسترخواں کو کپڑے سے صاف کرنےلگا میں نے شرفو کا پوچھا تو وہ لڑکا شرفو کو بلا لایا ۔۔۔۔میں اس سے بغل گیر ہو کر ملا ۔۔۔وہ بھی بہت خوشی کا اظہار کرنے لگا
“تم کیوں نہیں۔ آئے برتن لگانے” ۔۔۔۔میرے پیار بھرے شکوے پر اس کا چہرا چمکنے لگا تھا
“صاب جی استاد نے کھانا پکانا سیکھا دیا ہے مجھے۔۔اور آج آپ کا کھانا میں اپنے ہاتھوں سے بناؤں گا ۔۔ ۔۔استاد کے کھانے سے ذیادہ مزہ نا آئے تو پیسے بے شک مت دینا” ۔۔۔ ۔۔۔شرفوں کی خوشی دیکھنے لائق تھی
“یہ تو بڑی اچھی بات ہے ۔۔۔مگر تمہارے ہاتھ کا کھانا ہم اس شرط پر کھائیں گئے جب تم بھی ہمارے ساتھ کھاؤں گئے اور مجھے گانا بھی سناؤ گئے “۔۔۔میری بات پر شرفوں نے چور نظروں سے ماہم کو دیکھا پھر دھیرے سے منمناتے ہوئے مجھ سے بولا ۔
“مگر آپکی بیوی” ۔۔۔۔
میں نے ماہم کی جانب ہنس کر دیکھا ۔۔۔۔جو اب بھی شرفو کو گھور کر دیکھ رہی تھی
“میں سمجھا دونگا اپنی بیوی کو کچھ نہیں کہے گی تمہیں” ۔۔۔شرفوں مسکراتے ہوئے چلا گیا اور ماہم مجھے گھورنے لگی
“تمہیں ضرورت کیا ہے اس کے بہودہ سے گانے سننے کی ۔۔۔۔”
“ماہم بچہ ہی تو ہے خوش ہو جاتا ہے ۔۔۔اسکی آواز وقع بہت سریلی ہے ۔۔۔۔”
ماہم خاموش سی ہو کر بیٹھ گئ۔۔۔
“ماہم یو آر سچ آ جینیس ۔۔۔۔تمیں تو کچھ بھی سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے پتہ ہے تمہیں ۔۔۔جس خوبصورتی سے تم نے میرا آفس ڈیکوریٹ کیا ہے ۔۔۔۔قاسم کی شادی پر چار چاند لگا دیے میرا جی چاہتا ہے اپنے آفس کے اوپر ایک پورشن تمہارے لئے بنوا دوں ۔۔۔تا کہ لوگوں کی زندگی میں ہونے والے خوشیوں کے ایونٹ تم اور بھی حسین بنا دو “۔۔۔میری بات ماہم نے ہنستے ہوئے تردید کی تھی
“نہیں عفان مجھے بس اپنے گھر کو سجانے کا شوق ہے اور وہ میں پورا کر لیتی ہوں ۔۔۔۔”
“او کے ابھی نہیں کرنا چاہتی کوئی بات نہیں جب کرنا چاؤ تب کر لینا” ۔۔۔۔ماہم نے مسکرانے پر ہی اکتفا کیا تھا اسے شاید ٹھنڈ لگ رہی تھی اس لئے اپنے ہاتھ باندھے وہ کچھ سکڑ سی رہی تھی وہ سمندری علاقہ تھا ہوا بھی سرد اور تیز تھی اور وہ اپنی شال بھی نہیں لائی تھی ۔۔۔۔میں نے اپنا کوٹ اتار کر اس کے کندھوں پر رکھ دیا وہ میری طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔سامنے سے قاسم اور فاریہ کو دیکھ کر میں قاسم کی طرف بڑھ گیا
********…………
ماہم آجکل عجیب سی کشمش کا شکار تھی ۔۔۔۔۔۔نا چاہتے ہوئے بھی وہ عفان کے بارے میں سوچنے لگی تھی ۔۔۔۔۔کامران کی منگنی پر بھی جب وہ کافی دل برداشتہ ہو گئ تھی وجہ کامران سے محبت نہیں تھی بس یہ قلق تھا کہ کامران خوش کیوں ہے ۔۔۔۔لیکن عفان نے کسی مہربان دوست کی طرح اسکی بات سنی تھی ۔۔۔۔۔جن باتوں سے اسے عفان نے روشناس کروایا تھا اس کے دل میں کامران کی محبت تو شاید پہلے ہی ختم ہو چکی تھی مگر اگر اسکے رویے سے پہنچی ہوئی تکلیفوں کا ملال تھا بھی تو عفان کی باتوں نے اس کا مداوا کر دیا تھا ۔۔۔۔اسکی باتیں ٹھیک ہی تو تھیں ۔۔۔۔کامران کی محبت نے اسے دیا ہی کیا تھا سوائے رسوائی اور ذلت کے ۔۔۔۔۔اور عفان بہت مختلف تھا کامران سے ۔۔۔اسکی کڑوی کسیلی بھی سن لیتا تھا۔۔۔۔پھر سوری بھی کر چکا تھا ۔۔۔۔۔اسے اہمیت بھی دیتا تھا اسے سارے شکوے بھی اس نے سن لیتا تھا ۔۔۔۔ماہم اسکے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گئ تھی ۔۔۔
“پھر میں بھی کیوں بھلا اس سے ناراضگی ہی دیکھاتی رہوں “۔۔۔۔ماہم کی سوچ کا محور عفان ہی تھا ۔۔۔۔پھر اسکے آفس کی ڈیکورشن پر بھی عفان نے اس کی بہت تعریف کی تھی ۔۔۔۔ڈنر پر بھی لیکر گیا تھا ۔۔۔۔ سمندر کی ٹھنڈی تیز ہواؤں سے ماہم کو ٹھنڈ لگ رہی ہے یہ اس نے عفان سے نہیں کہا مگر پھر بھی اس نے اپنا کوٹ اتار کر اسکے کندھے پر رکھ دیا۔۔۔۔۔ وہ روتی تو وہ آنسوں صاف کر دیتا ۔۔۔۔وہ جتنا اپنی بات چھپانے کی کوشش کرتی لیکن وہ سنے کے لئے اصرار کرنے لگتا اگر اسکے قریب آنے کی کوشش کرتا تو ماہم کے منع کرنے پر پیچھے بھی ہٹ جاتا ۔۔۔۔اس دن کے علاؤہ دوبارہ اسکے قریب آنے کی اور زبردستی اپنا حق استعمال کرنے کی کوشش اس نے نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی اور بھی بہت سی باتیں تھیں جو کبھی بھی اسے عفان سے کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی وہ خود ہی سمجھ جاتا تھا ۔۔۔۔۔ماہم کو یہ احساس اندر تک مسرور کرنے لگا تھا۔۔۔۔۔سامنے فاریہ مسکراتے ہوئے ماہم۔ کی طرف ہی بڑھ رہی تھی کچھ دیر وہ ادھر کی باتیں کرتی رہیں ۔۔۔۔فاریہ بھی بنا شال سویٹر کے ہی آئی تھی اور اب سردی سے تھر تھرا رہی تھی کھانا بھی لگ چکا تھا وہ دونوں ہی اس تخت پر پہنچ گئیں جہاں عفان اور قاسم کے ساتھ شرفوں بھی بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
“قاسم بہت ٹھنڈ ہے یہاں مجھے سردی لگ رہی ہے” ۔۔۔۔۔فاری کپکپاتے ہوئے بولی وہ جگہ بھی اوپن تھی ۔۔۔چاروں طرف سے تیز آ رہیں تھیں ۔۔۔
“ہاں تو تمہیں تو شوق تھا پہلوان بننے کا ۔۔۔میں نے کہا بھی تھا اپنی شال یا سویٹر لے لو ۔۔۔مگر نہیں ۔۔۔۔تمہیں تو سردی انجوائے کرنی تھی ۔۔۔۔اب بھکتوں” ۔۔۔۔قاسم نے مدافعانہ لہجے میں کہا
“قاسم” ۔۔۔۔فاریہ روہانسی سی ہو گئ ۔۔۔۔
“اچھا اب رونے نا بیٹھ جانا “۔۔۔۔قاسم نے اپنا سویٹر اتار کر فاریہ کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔۔
“لو پہنو ۔۔۔۔اور آج کے بعد بنا سویٹر کےباہر نکلنے سے پہلے یہ سوچ لینا کہ ایسی مہربانیاں میں ہر بار نہیں کرونگا “۔۔۔۔
“اچھا نا ابھی تو چپ چاپ کھانا کھانے دو “۔۔۔۔۔فاریہ سویٹر پہن کر بیٹھ چکی تو اپنی پلیٹ میں سالن ڈالنے لگی کھانا واقع لاجواب تھا ۔۔۔۔کھانے بعد قاسم اور عفان شرفوں کے گانے سننے لگے ۔۔۔۔ماہم اور فاریہ واک کے بہانے وہاں سے اٹھ کر سائیڈ پر چہل قدمی کرنے لگیں ۔۔۔۔ادھر ادھر کی باتوں کے دوران فاریہ نے جھجکتے ہوئے ماہم سے اس رات کا ذکر چھیڑ لیا کہ وہ اس رات ہائی وئے پر کیسے پہنچی تھی کیا ہوا تھا ۔۔۔۔گو کہ قاسم اسے ساری بات بتا چکا تھا مگر وہ ماہم سے سننا چاہتی تھی ۔۔۔ماہم پہلے تو کچھ جھجک سی گئ مگر پھر اس نے ساری بات فاریہ کو بتا دی ۔۔۔۔جسے سن کر فاریہ حیراان نہیں ہوئی تھی مگر کامران کی حرکت پر اسے افسوس ضرور ہوا تھا
“ماہم کتنا فرق ہے تمہاری باتوں میں اور ان باتوں میں جو کامران نے عفان بھائی سے کہیں ۔۔۔۔”
“کیا مطلب کونسی باتیں کی تھی کامران نے عفان سے ۔۔”۔ماہم کو اندازہ تو تھا کہ کامران نے عفان سے باتیں تو کیں مگر کس انداز سے ۔۔۔۔ان سے وہ انجان تھی
“تمہیں عفان بھائی نے کچھ نہیں بتایا” ۔۔۔۔فاریہ نے استفہامیہ نظروں سے ماہم کو دیکھا
“نہیں مجھ سے کوئی ذکر نہیں کیا ۔۔۔۔تم بتاؤں کیا کہا تھا کامران نے” ۔۔ماہم کو تشویش سی ہونے لگی
“اس دن کے واقع کو لے کر میرے دل میں تمہارے لئے بہت خدشات تو تھے ماہم ۔۔۔۔پھر میں تمہارے اور کامران کے ہونے والے رشتے سے بھی واقف تھی اور یہ جانتی تھی کہ تم کامران میں انٹرسٹڈ تھی ۔۔۔۔ایم سوری ٹو سے ماہم مگر میں شک میں پڑھ گئ تھی ۔۔۔لیکن قاسم کی بات سن کر میرا ہر شک دور ہو گیا ۔۔۔۔عفان بھائی نے بتایا تھا ۔۔۔کہ تم خود اسکے ساتھ اپنی مرضی سے نہیں گئ تھی اور یہ بھی کہ وہ تم سے محبت نہیں کرتا نا جانے کسی بدلے کے تحت تمہیں استعمال کر رہا تھا ۔۔۔۔یا شاید دل لگی کر رہا تھا تم سے ۔۔۔”۔
“مگر میں نے تو کبھی کامران سے ایسا کچھ نہیں کہا جو وہ مجھ سے بدلہ لے ” ۔۔۔۔وہ روہانسی سی ہو کر بولی ۔۔۔۔
“بس کچھ لوگوں کی نیچر ہوتی ہے ۔۔۔تم اپنا دل مت برا کرو ۔۔۔لیکن یہ سمجھ لو ماہم کہ کامران اچھا انسان نہیں ہے ۔۔۔۔اس دن بھی نا جانے کن الفاظوں سے اس نے عفان بھائی کو تمہارے متعلق بات کی ہو گی ۔۔۔تم بہت لکی ہو ماہم جو تمہیں عفان بھائی جیسا ہمسفر ملا ۔۔۔ورنہ کوئی اور ہوتا تو نا جانے کیا کیا الزام لگا دیتا تم پر ۔۔۔۔نا جانے کیسے پیش آتا ۔۔۔۔ہو سکتا ہے تمہیں اپنانے سے ہی انکار کر دیتا ۔۔۔یا شک کی بنیاد پر تمہاری زندگی اجیرن بنا دیتا “۔۔۔۔فاریہ جو جو انکشافات ماہم کے سامنے رکھ رہی تھی اس کے بارے میں ماہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔۔۔اس کے برعکس عفان کو نا جانے کیا کیا سناتی رہی ۔۔۔اگر سچ میں عفان اس پر شک کرتا ۔۔۔۔ اسے اپنانے سے انکار کر دیتا ۔۔۔۔دھتکار دیتا اسے تو کہاں جاتی وہ ۔۔۔ماہم نے پہلی بار اس نہج پر سوچا تھا ۔۔۔چائے کے لئے شرفوں انہیں بلانے آ گیا چائے پینے کے دوران بھی ماہم چپ ہی رہی پورے راستے بھی خاموشی سے سوچتی رہی ۔۔۔۔
“اگر واقع عفان اسے چھوڑ دیتا تو کیا کرتی وہ ۔۔۔۔کہاں جاتی ۔۔۔۔۔کامران کے لئے وہ ویسے ایک بدلہ تھی محبت نہیں وہ اسے کبھی نہیں اپناتا ۔۔۔۔اور جو روپ وہ کامران کا دیکھ چکی تھی وہ بھی کامران کا ساتھ کبھی نہیں چاہ سکتی تھی کامران کے لئے ماہم کے دل میں نفرت کے جذبات ابھرنے لگے ان سب باتوں کا احساس اسے خود کیوں نہیں ہوا تھا ماہم کو یہ بھی قلق تھا ۔۔۔۔
” کامران کی فضول اور شبہات سے بھری بکواس سننے کے بعد بھی اور عفان کے سوالوں کے جواب میں میری خاموشی کے باوجود بھی عفان مجھے اپنا سکتا ہے جبکے اسوقت تو میرا کردار بھی اسکی نظر میں مشکوک تھا اس نے میری زبان سے بھی میری صفائی میں ایک لفظ نہیں سنا مجھ سے میری پاکبازی کا ثبوت نہیں مانگا تھا ۔۔۔مجھ سے دوبارہ اس واقع کے متعلق دریافت نہیں کیا تھا اگر اس نے مجھے کامران کے حوالے سے چند جمعلے کہہ بھی دیے تھے تو میرے ایک بار منع کرنے پر دوبارہ ذکر تک نہیں کیا ۔۔۔وہ واقع کمال کا ظرف رکھتا ہے ۔۔۔اور میں نے کیا کیا نہیں سنایا اسے ۔۔۔۔اسکی دی گی عزت کو سزا گردانتی رہی ۔۔۔۔اگر وہ واقع برا ہوتا تو میرے روز وشب اجیرن بنا دیتا۔۔۔مگر اس نے نا دوبارہ میرے قریب آنے کی کوشش کی نا ہی میرے اور اپنے بیچ کسی دیوار کو حائل ہونے دیا ۔۔کامران ماہم کے دل ودماغ سے اتر چکا تھا ۔۔۔۔اب تو صرف عفان کی احسان مندی ماہم کے دل ودماغ پر حاوی تھی اپنے کیے پر پشمانی بھی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔عفان بھی خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔۔ماہم نے گردن موڑ کر عفان کی طرف دیکھا اور عفان کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔۔۔
“اتنا بھی برا نہیں ہے کہ اسکے ساتھ زندگی نا گزاری جا سکے ۔۔۔۔برا کیا بلکہ بہت اچھا ہے میرا بہت خیال رکھتا ہے ۔۔۔۔مجھے بھی اپنا رویہ ٹھیک رکھنا چاہیے ۔۔۔۔۔ٹھیک ہے کہ ہمارے بیچ میں محبت نہیں ہے کامپرومائز تو ہو ہی سکتا ہے ۔۔۔عفان کی بات بھی سچ ہی ہے ۔۔۔محبت ہے نہیں پر۔۔۔۔ ہو تو سکتی ہے پھر مجھے عزت اور تحفظ تو عفان سے ملا ہے ۔۔۔پھر ایسا بھی نہیں کہ میری عفان سے دلی وابستگی نہیں تھی ۔۔۔وہ پہلے بھی مجھے اچھا لگتا تھا محبت والے جذبات نہیں تھے مگر وہ ویسے تو اچھا ہی لگتا ہے ۔۔۔۔میرا بہترین دوست بھی ہے ۔”۔۔۔ماہم کی مسلسل نظریں عفان پر ہی مرکوز تھیں دل اب عفان کے حق میں دلیلیں دینے لگا تھا ۔۔۔۔ اسکے دل میں عفان کے لئے خود با خود ہی نرم گوشہ پیدا ہونے لگا تھا
“کیا بات ہے ماہم کچھ کہنا چاہتی ہو مجھ سے ۔۔۔۔”
“نہیں “۔۔۔۔وہ جھجکی تھی یا چونک سی گئ تھی ۔۔۔۔
“کچھ تو چل رہا ہے تمہارے دل میں ۔۔۔۔تم بتانا نہیں چاہتی ۔۔۔تو وہ اور بات ہے ۔۔۔۔”
ماہم سنبھل کر بیٹھ گئ
۔۔۔”۔نا جانے میں کیوں اس پر اتنی عیاں ہو جاتی ہوں اپنا کوئی جذبہ عفان سے چھپا نہیں پاتی”. ماہم کھڑی سے باہر دیکھتے ہوئے سوچنے لگی ۔۔۔۔گھر پر آکر بھی وہ اپنے کمرے میں عفان کے ساتھ ہی داخل ہوئی ۔۔۔۔رات وہ دیر سے پہنچے تھے اس لئے صفیہ بیگم اور رضا صاحب سو چکے تھے
