Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 15 (Part 2)
Rate this Novel
Tadbeer Episode 15 (Part 2)
Tadbeer by Umme Hani
ماہم کمرے میں بیڈ پر بیٹھی بلک بلک کر رونے لگی۔۔۔روتے ہوئے سامنے ڈرسنگ کے آئنے میں نظر پڑی تو کھڑی ہو کر ڈرسنگ کے سامنے آ گئ خود کو غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔آنکھوں کا کاجل رونے کی وجہ سے پھیل چکا تھا ۔۔۔۔
“آپ پلیز رخصتی کے وقت روئیے گا مت ورنہ میری ساری محنت برباد ہو جائے گی “
“میں کیوں رونے لگی میرا دور دور تک ایسا کوئی سین نہیں ہے” ۔۔۔ماہم کو بیوٹیشن سے کہی بات یاد آنے لگی اسکے آنسوں تواتر سے بہہ رہے تھے ۔۔۔
“ماہم تم بالوں کا جوڑا مت بنوانا مجھے پسند نہیں۔ ۔۔۔۔اور جھومر تو بلکل بھی مت پہنا بہت برا لگتا ہے اولڈفیشن سا۔۔۔۔بندیا بھی چھوٹی سی لگانا ۔۔۔تم پر بہت سوٹ کرے گی ۔۔۔۔بالوں پر کلیوں کے گجرے ضرور لگانا ۔۔۔۔ کلیوں کی خوشبوں مجھے بہت اچھی لگتی ہے ۔”کامران کی کہی باتیں ۔ماہم کو پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اسے اپنے کانوں گرتے ہوئے محسوس ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔ ۔ماہم نے سب سے پہلے بالوں پر لگے کلیوں کے گجروں کو نوچ کر کھنچ کر اتار کر ڈرسنگ پر پھنکے پھر بندیا ۔۔۔بندے ۔۔۔چوڑیاں۔۔۔۔سارے زیور وہ کھنچ کھنچ کر اتار کر پھنکنے لگی ۔۔۔پھر کمرے کا دروازہ زور سے بند کیا اپنا لباس بدل کر واش روم میں جا اچھی طرح سے اپنا چہرا رگڑ رگڑ کر دھویا ۔۔۔۔۔۔باہر آ کر بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔سامنے صوفے پر عروسی لباس دیکھ کر کامران کی باتیں یاد آنے لگیں ۔۔۔
“ماہم گولڈن اور مہرون کا کامبنیشن بہت ڈفرنٹ ہے تم یہ پہننا ۔۔۔۔”
“کامی خالہ نے کہا تھا کہ دلہن ریڈ کلر میں ہی اچھی لگتی ہے ۔۔۔۔یہ ریڈ دیکھیں یہ بہت خوبصورت ہے ” ماہم نے ریڈ کلر کے عروسی لباس کو ہاتھ میں لیتے ہوئے کامران کو دیکھایا
“تمہیں خالہ کے لئے دلہن بننا ہے یا میرے لئے ۔۔۔۔”کامران نے وہ جوڑا سائیڈ کر رکھ دیا
“کامی مگر “
” میں تمہیں اسی جوڑے میں سجا سنوار دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔تم یہی پہنو گی بس ۔۔۔۔” کامران نے فیصلہ کن انداز سے کہا ۔۔۔۔۔ماہم کے آنسوں بہنے لگے۔۔۔شادی کے لئے اپناعروسی لباس لیتے وقت کامران کے کہے جمعلے اسے تڑپانے لگے ۔۔۔۔ اس کا دل چاہا سامنے رکھے عروسی لباس کو آگ لگا دے ۔۔۔۔
“کامی فرنیچر مجھے آپ کی پسند سے لینا ہے ۔۔۔۔آپ ساتھ چلیں نا “۔۔۔۔شادی سے پہلے ماہم نے کامران سے کہا تھا۔۔۔۔
“نہیں ماہم تمہاری چوائس اس معاملے میں بہت اچھی ہے ۔۔۔پھر میرا کمرہ تمہارا ہی تو ہے تم جیسے چاہوں سجاؤ ۔۔۔۔مجھے تو یہ کمرہ بس ایک ہی بار سجانا ہے ۔۔۔جس دن تم دلہن بن کر آؤں گی۔۔۔۔۔ ماہم تمہارے سارے خواب سچ کر دونگا ۔۔۔۔۔ تم دیکھنا تمہاراکتنا شاندار استقبال کرو گا میں ۔۔۔ برسوں یاد رکھو گی تم ۔۔۔۔۔۔” ماہم نے آنسوں صاف کیے اٹھ کر اپنے کمرے سے باہر آ گئ ۔۔۔۔سامنے ہی عفان کے کمرے کے برابر کامران کا کمرہ تھا .
ماہم نے دروازہ کھولا پہلا قدم رکھتے ہی گلاب کی نرم پتیوں کا احساس ہونے پر ماہم نے نیچے دیکھا پھولوں کی پتیاں اسکی راہوں میں بچھی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔۔کمرے میں کینڈل کی ہلکی مدھم سی روشنی چار سو پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔۔گلابوں اور کلیوں کی خوشبوں سے پورا کمرہ مہک رہا تھا ۔۔۔۔۔۔کمرے کی لائٹس آن کیں ۔۔۔دروازے سے لیکر بیڈ تک گلاب کی پتیاں بچھی ہوئیں تھیں ۔۔۔اور انکے اطراف میں چھوٹی چھوٹی کینڈل رکھیں تھیں ۔۔۔۔سائیڈ ٹیبل پر بھی کینڈل شیشے کے نازک سے چھوٹے گلاس نما اسٹیڈ میں رکھیں تھیں جن میں سے کچھ جل کر بجھ چکیں تھیں اور کچھ بھجنے والی تھیں ۔۔۔بیڈ کے وسط پر پھولوں اور کلیوں کی پتیوں سے ہارٹ بنا ہوا تھا ۔۔۔۔ماہم دھیرے دھیرے چلتے ہوئے اندر آنے لگی ۔۔۔
“ماہم میرا وعدہ ہے تمہیں پھولوں میں کانٹے نہیں چھبیں گئے ۔۔۔”۔
“ٹھیک کہا تھا تم نے کامی ۔۔۔۔مجھے کسی کانٹے نے زخمی نہیں کیامجھے تو ان پھولوں نے زخم دیے ہیں جو تم نے میری راہوں میں بچھائے ہیں ۔۔۔ان کی چبھن سے میرے پاؤں نہیں میرا دل ۔۔میری روح زخمی ہوئی ہے ۔”۔۔۔۔ایک الاؤ تھا جو ماہم کے اندر جلنے لگا تھا ماہم نے کمرے کی پر چیز تہس نہس کر دی ۔۔۔۔ساتھ پھوٹ پھوٹ کر بے تحاشہ روتی رہی ۔۔۔۔۔اپنے کمرے میں آتے ہی وہ مضمحل ہو کر بیڈ پر لیٹ گی اسکے اعصاب رو رو کر تھک چکے تھے آنکھوں میں نیند سی اترنے لگی۔۔۔کچھ دیر میں وہ اپنے ہوش و ہواس کھو بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔
**********
۔۔۔۔۔میں اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گیا اسوقت میری سوچوں کا دارو مدار کامران تھا ۔۔۔۔۔بظاہر سب کچھ تو ٹھیک چل رہا تھا اور وہ خوش بھی تھا ۔۔۔۔پھر وہ ایسے نازک موقع پر کہا۔ چلا گیا تھا اور کیوں ۔۔۔۔نا جانے ماہم کا کیا حال ہو گا پوری رات۔۔۔۔ اس سنگدل انسان کے لئے روتی رہے گی ۔۔۔۔۔کاش ماہی تم نے سوچ کر انتخاب کیا ہوتا ۔۔۔۔میں نے حسرت بھری آہ بھری ۔۔۔۔آنکھیں بند کیں نا جانے اب مزید کون کون سی آزمائشیں لکھی ہیں نصیب میں ۔۔۔۔۔یہی سوچتے ہوئے میری آنکھ لگ گئی ۔۔۔۔صبح ناشتے پر ماہم موجود نہیں تھی ۔۔۔۔مما بھی کچھ نہیں کھا رہی۔ تھی بس روئے جا رہی تھیں
میں نے زبردستی انہیں توس پر جیم لگا کر اپنے ہاتھوں سے کھلانے لگا۔۔۔۔ناشتے کے بعد مما پھر سے پاپا سے التجا کرنے لگیں
“پلیز رضا کامران کے بارے میں معلوم تو کروائیں وہ کہاں ہے ۔۔۔۔کیا خبر سچ میں اسکے ساتھ کوئی حادثہ نا پیش آ گیا ہو ۔۔۔۔۔”
“بس کر دو صفیہ بچہ نہیں ہے وہ۔۔۔ خود اپنی مرضی سے گیا تھا ہمیں کہیں منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا اس نے…میری بنی بنائی عزت کو خاک میں ملا دیا۔۔۔۔ اس کے باوجود میں نے اپنے ایس ایچ او دوست کو بھی ساری معلومات فراہم کر دی ہے ۔۔۔۔وہ بھی اسی کوشش میں لگا ہے ۔۔۔۔اس وقت تمہیں ماہم کی فکر ہونی چاہیے صفیہ۔۔۔۔۔ کل سے بٹیا نے کچھ نہیں کھایا ۔۔۔جاوں اسے کچھ کھلاؤ سب سے ذیادہ ذیادتی تو ماہم کے ساتھ اس کمینے نے کی ہے ۔۔۔۔ناہنجان کہیں کا ۔”۔۔۔۔پاپا کا غصہ کسی پل کم نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔مما اٹھ کر اوپر چلی گئیں ۔۔۔۔
میں پاپا سے انکے دوست ایس ایچ او کے بارے میں پوچھنے لگا
“پاپا آپ کی کیا بات ہوئی ہے انکل سے”
“ابھی کچھ ہی دیر میں پہنچ جائے گا یہاں۔۔۔۔ تم ابھی کہیں مت جانا عفان کچھ ضروری معلومات اسے تم سے چاہیے ہو گئ اور تمہارے پاس کامران کے دوستوں کے جتنے بھی کانٹیکٹ ہیں وہ بھی تم اسے دیدنا۔۔۔”۔
“جی پاپا” ۔۔۔۔میں اور پاپا ابھی یہی ڈسکشن کر رہے تھے کہ مما کی بلند آواز میں پکارنے کی آواز پر ہم دونوں ہی اوپر کی طرف بھاگتے ہوئے گئے ماہم کے کمرے کا دروازہ کھولا تو مما رو رہی۔ تھیں ماہم بے حال سی لیٹی ہوئی تھی
“دیکھوں نا رضا ماہم کو ہوش نہیں آ رہا وہ اٹھ نہیں رہی ۔۔۔۔دیکھوں کیا ہوا ہے میری بچی کو” ۔۔۔میں فورا سے ماہم کے پاس آکر اسگے گال تھتھپانے لگا ۔۔۔۔
“ماہی ماہی” ۔۔۔۔پاپا نے فورا ہمارے فیملی ڈاکٹر کو کال کرنے لگے میں نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے پانی ہاتھ میں لیا اور ماہم کے چہرے پر چھنٹے مارنے لگا ۔۔۔مگر وہ بلکل بے حس وحرکت کے بے سود لیٹی ہوئی تھی آنکھوں کے پپوٹے بری طرح سوج رہے تھے ایک رات میں ہی اسکا چہرہ مرجھا کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر بھی پہنچ گیا ذیادہ ٹریس لینے کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئ تھی۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے انجکشن لگایا اور آرام کا مشورہ دے کر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
“عفان تم ماہم کے پاس بیٹھو میں ذرا ماہم کے لئے سوپ بنا کر لے آؤں” ۔۔۔۔میں وہیں بیڈ پر ماہم کے برابر میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔مما اور پاپا دونوں کمرے سے جا چکے تھے ۔۔۔۔میں ماہم کے ستے ہوئے چہرے کو دیکھنے لگا کیسے کملا کر رہ گیا تھا اسکا چہرہ جیسے برسوں کی بیمار ہو۔۔۔۔۔مجھے رہ رہ کر کامران پر غصہ آ رہا تھا کتنا سنگ دل ہے وہ ۔۔۔۔نا جانے کہاں چھپا بیٹھا تھا وہ اب تک اسکا سراغ نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔
“کامی ۔۔۔۔کامی ۔۔۔۔”ماہم بند آنکھوں سے ہی اپنے بیڈ پر ہاتھ پھیرنے لگی جیسے کچھ ڈھونڈ رہی ہو میں نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جسے ماہم نے مضبوطی سے پکڑ لیا
“تم میرے ہو نا کامی ۔”۔۔۔۔ماہم نیند کے انجکشن کے زیر اثر بول رہی تھی
“ہمم”۔۔۔۔۔میں نے دوسرے ہاتھ سے ماہم کا ہاتھ تھام لیا اسے شاید یہی تسلی چاہیے تھی ایک اطمینان کی لہر اسکے چہرے پر پھیل گئ
“مجھے چھوڑ کے مت جانا کامی ۔۔۔۔میں مر جاؤں گی تمہارے بغیر ” ۔۔۔۔ماہم کے الفاظ مجھے اذیت میں مبتلہ کر رہے تھے ۔۔۔۔اسے کیوں بس کامران ہی فکر تھی ۔۔۔۔لیکن پھر ماہم کی حالت پر مجھے ترس بھی آنے لگا وہ بھی بے بس ہی تو تھی ۔۔۔۔نا جانے کس کرب سے گزر رہی تھی نیند میں بھی اسکی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے میں نے ماہم کے آنسوں صاف کیے
“کہیں نہیں جاؤں گا تمہیں چھوڑ کے ۔۔۔۔ ہمیشہ تمہارے پاس رہو گا ۔”۔۔۔ماہم کومیرے لفظوں کی تسلی کی اشد ضرورت تھی ۔۔۔۔
کس خود پسند اور جفا پسند سے محبت کی ہے تم نے ماہم ۔۔۔جسے تمہاری ذرا بھی پروا نہیں ۔۔۔اور جو تمہیں دل وجان سے چاہتا ہے اسکے احساسات کی تمہیں ذرا بھی پروا نہیں ۔۔۔۔۔۔میں اسکے ستے ہوئے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔۔۔وہ نیم بے ہوشی کے عالم میں بولے جا رہی تھی
“کامی میں بہت محبت کرتی ہوں تم سے ۔۔۔۔نہیں رہ سکتی تمہارے بغیر ۔۔۔تم جانتے ہو نا ۔۔۔۔اب مجھے کبھی خود سے دور مت کرنا۔۔۔ آئی لو یو کامی “۔۔۔۔ماہم میرا ہاتھ تھامے کامران کے تصور میں بول رہی تھی اور میں مسلسل تکلیف میں تھا مجھے اپنا ہاتھ ماہم کے ہاتھ میں بے معنی سا لگنے لگا میں نے اپنا ہاتھ ذراسا کھنچنا چاہا تو ماہم کی گرفت اور بھی مضبوط ہوگی ۔۔۔۔دھیرے سےوہ میرا ہاتھ اپنے ہونٹوں کے قریب لے جانے لگی ۔۔۔وہ اسوقت میرے ہاتھ کو کامران کا ہاتھ سمجھ رہی تھی ۔۔۔میں یہ کیسے برداشت کرتا کہ وہ مجھے کامران سمجھ کر ایسا کرے ۔۔۔۔۔میں نے بے اختیار بری طرح اس کا ہاتھ جھٹک دیا ۔۔۔وہ یک دم ہی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی
مجھے دیکھتے ہی بوکھلا سی گئ ۔۔۔۔۔
“تم ۔۔۔۔۔کامی کہاں ہے “۔۔۔۔وہ فی الفوز بیڈ سے کھڑی ہو گئ مگر سر چکرانے بے باعث پھر بیڈ پر سر پکڑ کر بیٹھ گئ میں نے ماہم کو بازو سے پکڑ لیا
“کہاں ہے کامی” ۔۔۔۔۔وہ پھر سے کھڑے ہونے کی کوشش کرنے لگی مگر میری گرفت سے نا کام سی ہو گئ
“کوئی نہیں ہے یہاں ۔۔۔سکون سے بیٹھ جاؤ ماہی گر جاؤں گی چوٹ لگ جائے گی تمہیں۔”۔۔۔مجھے ماہم کی فکر تھی پروا تھی
“جھوٹ ۔۔۔۔جھوٹ بول رہے ہو تم وہ ابھی یہیں تھا ۔۔۔میرے پاس تھا۔۔۔۔۔عفان وہ سچ میں یہیں تھا میں نے خود اپنے کانوں سے اسکی آواز سنی ہے ۔۔۔وہ ۔۔۔۔وہ کہہ رہا تھا کہ مجھے چھوڑ کر نہیں جائے گا ۔۔۔وہ یہی تھا ۔۔۔۔کامی ۔۔۔۔کامی ۔۔۔۔کہاں ہو تم ۔۔۔پلیز میرے سامنے آ جاؤں “۔۔۔۔۔وہ میرے کہے الفاظ دہرا کر کامران کو پکارنے لگی ۔۔۔۔اسوقت تو واقع وہ اپنے ہواسوں میں نہیں تھی
“ماہی یہاں کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔خواب دیکھا ہو گا تم نے ۔۔۔۔”میرے بہلانےپر وہ میری تردید میں وہ نفی میں سر ہلانے لگی
“نہیں ۔۔۔۔نہیں وہ خواب نہیں تھا میرے ہاتھ میں اسکا ہاتھ تھا عفان دیکھوں ابھی بھی اسکے ہاتھوں کا لمس مجھے محسوس ہو رہا ہے” ۔۔۔۔وہ اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیاں میرے سامنے رکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔۔
۔”اسکی خوشبوں مجھے چار سو محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔وہ یہی ہے “۔۔۔۔۔ماہم خود میں نہیں تھی شاید ۔۔۔بکھرے بال بکھرا بکھرا حلیہ ڈوپٹے سے بے نیاز اسے نا اپنی ہوش تھی نا
ارد گرد کی ۔۔۔۔میں اندر تک سلگ کر رہ گیا
“کوئی نہیں ہے یہاں اور بند کرو یہ کامی کامی کی رٹ لگانا ۔۔۔۔۔اب بھی تمہیں اس شخص کا انتظار ہے ماہی”۔۔۔۔میں متاسفانہ لہجے میں کہا مجھے ماہم پر افسوس ہونے لگا ۔۔۔۔کیا نہیں کیا تھا کامران نے کے ساتھ ۔۔۔مگر ماہم تلملا اٹھی
“بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔۔۔۔لوٹ آئے گا وہ ۔۔۔۔۔میرے بغیر نہیں رہ سکتا ….محبت کرتا ہے مجھ سے ۔۔۔۔بے وفائی نہیں کر سکتا وہ۔میرے ساتھ۔”۔۔ماہم پھر سے سسکنے لگی میں نے جھٹکے سے سے سیدھا کیا
“محبت ۔۔۔۔وفا ۔۔۔۔۔ہنہ ۔۔۔۔۔۔ایسے نبھائی جاتی ہے محبت ماہی ۔۔۔۔۔یہ ہے اسکی وفا “۔۔۔۔۔میرے سلگتے لہجےمیں طنز کی آمیزش تھی ماہم بھڑک اٹھی
“تم کیا جانو محبت کیا ہے ۔۔۔۔تم نے کب کسی سے کی ہے ۔۔۔۔”وہ تڑپ کر بولی
“ہاں نہیں کی ۔۔۔۔۔میں نہیں جانتا محبت کیا ۔۔۔۔مجھے جاننا بھی نہیں ہے لیکن میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ عزت کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ اور کیسے دی جاتی ہے” ۔۔۔۔میں تلخ لہجے میں بہت کچھ جتا گیا تھا اسے جو میں جتانا نہیں چاہتا تھا … ماہم کچھ سنبھل سی گئ میری گرفت سے اپنا بازو چھڑوا کر مجھ سے پیچھے ہٹ کر بیٹھ گئ بیڈ پر رکھا اپنا دوپٹہ فورا خود پر اوڑھ لیا ۔۔۔۔۔وہ مجھ سے نظریں چرانے لگی
“تم ۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔کیوں ہو یہاں ہاں ۔۔۔۔میرا کمرہ ہے یہ میری اجازت کے بغیر تم کیا کر رہے ہو یہاں ۔۔۔۔جاوں یہاں سے ۔۔۔نکلو باہر میرے کمرے سے” ۔۔۔۔۔وہ غصے سے دو ٹوک انداز سے بولی
“ماہی” ۔۔۔۔۔
“ڈونٹ ٹل می اگین ماہی ۔۔۔۔میرا نام ماہم ہے ۔۔۔ماہم کہا کرو مجھے ۔۔۔۔ایسی کسی قسم کی بے تکلفی میں تمہارے منہ سے سننا نہیں چاہتی ۔۔۔۔جاوں یہاں سے” ۔۔۔۔۔وہ چلا کر مدافعانہ انداز سے بولی
“او کے ۔۔۔۔۔جا رہا ہوں ۔۔۔۔یو جسٹ ریلیکس” ۔۔۔۔میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ماہم کے کمرے کے دروزے کے پاس پہنچ کر پلٹ کر ماہم سے کہا ۔۔۔۔
“میں رانی کو بھیجتا ہوں تمہارے پاس کھانا کھا لینا ۔”۔۔۔میں فورا اسکے کمرے سے باہر نکل آیا
