Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 41
Rate this Novel
Tadbeer Episode 41
Tadbeer by Umme Hani
اگلے روز کامران کے سسرال والوں کی گھر پر دعوت تھی ۔۔۔۔انہیں فنکشن کے بارے میں ڈسکشن کرنی تھی نائلہ بھی انکے ساتھ ہی آئی تھی ۔۔۔۔ڈنر سے فارغ ہو کر سب لوگ فنکشن کے بارے میں ہی ڈسکشن کر رہے تھے جب باہر ڈور بیل بجی میں اس وقت لان میں ہی تھا اور مہک کا ہی منتظر تھا پلان کے مطابق مہک ہی آئی تھی کریم بابا کو میں ددوازہ کھولنے کے لئے کہا ۔۔۔۔کریم بابا نے دروازہ کھول دیا مہک سیدھی میرے پاس ہی آئی ۔۔میں اسے اپنی ہمراہی میں ڈرائنگ روم میں لے گیا ۔۔۔مہک کو دیکھ کر کامران کے تو ہوش ہی اڑ گئے تھے۔۔۔۔مما پاپا کے لئے وہ انجان تھی ۔۔۔۔ماہم بھی حیران کھڑی تھی ۔۔۔۔باقی مہمان اسے ہماری مہمان سمجھ رہے تھے ۔۔۔۔کامران کے سسر پاپا سے مہک کے بارے میں دریافت کرنے لگے ۔۔۔وہ سمجھے مہک کو ہم نے انویٹ کیا ہے پاپا نے لاعلمی کا اظہار کیا ۔۔اور مہک سے پوچھنے لگے
“کون ہو بیٹا تم ۔۔۔۔۔”
“انکل آپ کامران سے پوچھیں وہ اچھی طرح جانتا ہے مجھے ۔۔۔بتاوں نا کامران کون ہوں میں” ۔۔۔۔مہک کامران کے سامنے کھڑی ہو گئ
کامران کے تو چھکے چھوٹ گئے تھے اپنے ماتھے پر آنے والا پسینہ پونچھنے لگا وہ کچھ نہیں بولا مہک نے نے تعجب سے کامران کو دیکھا
“اوہ تم تو گھبرا گئے ہو ۔۔۔پیسنہ صاف کرو اپنا اب اگر غلطی ہم سے ہوئی ہے تو ہمہیں بتانا تو پڑے گا نا کامران ۔۔۔میں بتا دیتی ہوں “۔۔۔۔مہک نے ملتجی لہجے میں کہا پھر اپنا رخ موڈ کر سب سے اپنا تعارف کروانے لگی
“آئی ایم مہک ۔۔۔۔مہک کامران ۔۔۔۔کامران کی وائف “
“وائف “۔۔۔۔بیک وقت کئ زبانوں سے یہ لفظ ادا ہوا تھا نائلہ تو دم بخود رہ گئ ۔۔۔۔وہیں کرسی پر بیٹھ گئ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کامران اور مہک کو دیکھنے لگی
“مم۔۔۔میں ۔۔۔نہیں جانتا اسے ۔۔۔جھوٹ بول رہی ہے یہ ۔”۔۔۔کامران تھوک نگلتے ہوئے بولا ۔۔۔اسکی زبان لڑکھڑا رہی تھی ۔۔۔چہرے کا رنگ فق تھا مہک نے اپنے موبائل سے اپنی اور کامران کی نکاح کی تصاویر سب کودیکھادیں ۔۔۔۔پاپا نے کھا جانے والی نظروں سے کامران کودیکھا وہ بری طرح گڑبڑا گیا تھا مما حیرت کی تصویر بنی ہوئی۔ تھیں سب ہی پریشان کھڑے تھے
“یہ سب جھوٹ ہیں مجھے پھنسانے کی سازش ہے ۔۔۔فیک ہیں یہ تصویریں” ۔۔۔کامران نے آخری کوشش کی ۔۔۔مہک نے وہ ویڈیو دیکھا دی جو میں نے بنائی تھی اور مہک کو واٹس اپ کر چکا تھا ۔۔۔۔اس ویڈیو کے بعد تو کوئی سوال اور شبہ باقی نہیں رہا تھا ۔۔۔۔نائلہ بری طرح رو رہی تھی اس وقت سب سے ذیادہ قابل رحم نائلہ ہی تھی اس کے والدین کامران کو قہر بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے نائلہ نے اپنے ہاتھ سے انگوٹھی اتار کر کامران کے منہ پر ماری ۔۔۔۔نائلہ اور اسکی فیملی جا چکے تھے۔۔۔مما اپنا دل تھام کر بیٹھ گئیں ماہم فورا سے انکے پاس بیٹھ گئ
“تم ایک ہی دفعہ زہر دے کر مار کیوں نہیں دیتے ہمہیں ۔۔ہر بار ذلت کا تھپڑ ہی کیوں مارتے ہو ۔۔۔نا جانے ایسا کون سا گناہ سرذد ہوا ہے مجھ سے جو تم جیسی اولاد ملی ہے مجھے ۔۔۔۔میں نے کب تم پر اپنے فیصلے مسلط کیے تھے کامران ۔۔۔میں نے صاف کہا تھا تم سے کہ جس سے چاہو شادی کر لو مگر عزت کے ساتھ ۔۔۔یہ کیا کیا تم نے ۔۔۔اور مزید کیا کرنے جا رہے تھے تم ۔”۔۔۔پاپا کی باتیں کامران خاموشی سب سنتا رہا بولتا بھی کیا سب کچھ تو سامنے آ گیا تھا ۔۔۔میں ہاتھ باندھے کھڑا رہا ۔۔۔۔کامران کی حرکت پر افسوس تو مجھے بھی تھا
” مہک دھیرے سے چلتی ہوئی پاپا کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی نظریں جھکا کر ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی ۔۔۔
‘انکل میرا مقصد آپ لوگوں ,کو بدنام کرنا ہر گز نہیں تھا مگر میں نہیں چاہتی تھی کہ کسی بے قصور کی زندگی برباد ہو ۔۔۔کامران مجھے کب سے یہی دلاسہ دے رہا تھا کہ وہ میرے بارے آپ سے بات کرے گا میرا رشتہ بھجے گا ۔۔۔میری زندگی تو یہ برباد کر ہی چکا ہے اس لئے میں نے سوچا کہ میں کسی اور کی زندگی تو بچا ہی سکتی ہوں’ ۔۔۔مہک بات کرتے ہوئے رونے لگی
پاپا نے اسکے جڑے ہوئے ہاتھ پکڑ لئے
“تم اپنے گھر جاؤں بیٹی ہم کل خود تمہارے گھر ائیںگیے ۔۔۔اور تمہیں عزت سے یہاں لائیں گئے ۔۔۔۔جو تمہارا حق ہے ۔۔۔۔ورنہ اس گھر کے دروازے کامران کے لئے ہمیشہ کے لئے بند ہیں “۔۔۔۔پاپا نے مہک کے ہاتھ چھوڑ کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
“اب جاؤں ۔۔عفان اسے باہر تک چھوڑ کر آؤں ۔۔”۔کامران غصے سے مجھے گھورتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا میں مہک کو باہر تک چھوڑنے آیا وہ بار بار میرا شکریہ ادا کرنے لگی اپنے رویے سے معذرت کرنے لگی ۔۔۔۔
اگلے روز پاپا اور مما کامران کا رشتہ مانگنے مہک کے گھر چلے گئے مما کا موڈ بہت خراب تھا وہ مہک کو بہو بنانے کے حق میں نہیں تھیں مگر پاپا کی بات کو ٹال بھی نہیں سکتی تھیں ۔۔ مہک کے والدین کو بھی ہر بات کا علم ہو چکا تھا قاسم نے انہیں ہر بات سے آگاہ کر دیا تھا ۔۔۔۔۔ اس لئے انہوں نے اعتراض نہیں کیا اور یوں کامران کی شادی انہی تاریخوں پر مہک سے ہو گئ جو پہلے سے طے تھیں ۔۔اس بار مہک کے حق مہر میں اسکے والد نے ایک کڑور کی رقم لکھوائی تھی ۔۔۔پاپا نے کوئی اعتراض نہیں کیا ۔۔۔مہک کی فیملی اچھی خاصی رچ تھی ۔۔۔اور مہک انکی اکلوتی اولاد تھی ۔۔۔۔اسکے والد نہیں چاہتے تھے کہ کامران دوبارہ اسے چھوڑنے کے بارے میں سوچے بھی ۔۔۔اپنی پوری ،شادی پر وہ خاموش ہی رہا ایک چپ اور سنجیدگی تھی جو ایک پل کو بھی غائب رہی تھی ۔۔۔۔مہک رخصت ہو کر ہمارے گھر آ گئ مہک بہت خوش تھی آخر وہ اپنی کھوئی ہوئی عزت پا چکی تھی ۔۔۔۔اس شادی نے مجھے تھکا کر رکھ دیا تھا پوری شادی پر مما بھی خاموش ہی رہیں ۔۔۔۔۔۔جب بھی کوئی نائلہ کے بارے میں پوچھتا تو یہی کہا جاتا کہ کامران سے پوچھیں وجہ وہ بتائے گا ۔۔۔۔
*****………..
کامران کی شادی مہک سے ہوگئ ۔ہال میں نزہت بیگم ماہم کے آس پاس ہی منڈلاتی رہی
“ائے ماہم ۔۔۔یہ لڑکی تو وہ نہیں ہے جس سے کامران کی منگنی ہوئی تھی ” ۔۔۔۔۔نزہت بیگم نے ماہم کو اسٹیج پر جاتے دیکھ کر بیچ میں ہی روک کر پوچھنے لگیں
“مجھے نہیں معلوم ممانی ۔۔۔۔میں ذرا خالہ کے پاس جارہی ہوں انکی طعبیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔”ماہم خود بھی ان سے کترا رہی تھی ۔۔۔۔پھر صفیہ بیگم بھی خاموش سی بیٹھی تھیں۔۔۔۔
“ارے کچھ دیر تو رکو ۔۔۔تم کیا ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو ۔۔۔۔یاد آیا مجھے یہ لڑکی تو رہی ہے جو تمہاری مہندی پر نشے میں۔ تھی ۔۔۔۔”
ممانی مجھے دیر ہو رہی ہے باقی مہمانوں کو بھی دیکھنا ہے ۔۔۔میں آتی ہوں” ۔۔۔ماہم ان سے جان چھڑا کر صفیہ بیگم کے پاس ہی بیٹھ گئی ۔۔۔باقی کا وقت انہی کے پاس رہی ۔۔۔۔۔
۔۔۔مہک کو کمرے میں ماہم ہی چھوڑنے گئ تھی ۔۔۔۔۔کمرے میں کوئی خاص سجاوٹ نہیں کی گئ تھی ۔۔۔کامران نے کمرہ سجانے سے منع کر دیا تھا ۔۔۔۔مہک خوش تو تھی مگر چپ چپ سی بھی تھی اس نے عروسی لباس بھی نہیں پہنا تھا لائٹ سے پنک کلر کی بہت سمپل سی میکسی پہنی تھی چہرہ بھی ہر زیبائش سے مبرا تھا ۔۔۔۔لائٹ سا میک اپ اور نازک سا جھوٹا سا جیولری سیٹ پہنے بالوں کا جوڑا بنائے وہ کہیں سے بھی دلہن نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔بیڈ پر بیٹھتے ہوئے مہک کے ڈوپٹے کی پن اتر گئ تھی ۔۔۔۔ڈوپٹہ سر سے سرک کر نیچے گر گیا تھا ۔۔۔۔ماہم اس کا ڈوپٹہ دوبارہ پن اپ کرنے لگی ۔۔۔۔۔کمرے کا دروازہ کسی نے بے دھڑک کھولا تھا ۔۔۔۔ماہم اور مہک کی نظر سامنے اندر آتے کامران پر پڑی وہ بہت غصے سے مہک
کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔پھر نظر ماہم پر پڑی تو ہٹانا ہی بھول گیا ۔۔۔۔۔ماہم نے نظریں جھکا لیں ۔۔۔مہک کا ڈوپٹہ چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔۔اپنے کمرے میں آ کر کپڑے چینج کر کے بیڈ پر لیٹ گئ عفان ابھی تک کمرے میں نہیں آیا تھا ۔۔۔۔ماہم نے اپنے دل کو ٹٹولا ۔۔۔کہیں کوئی دکھ افسوس اور ملال نہیں تھا ۔۔۔۔۔اللہ کی ذات بھی کتنی مہربان ہے ۔۔۔۔کامران نے میری شادی میرے لئے مزاق بنا کر رکھ دی تھی ۔۔۔۔اتنے آنسوں میں نے کبھی نہیں بہائے جتنے اپنی شادی پر بہائےتھے ۔۔۔۔مگر لگتا ہے سب کچھ سود سمیت وصول ہو گیا ہو۔۔وہ اپنی شادی پر خوش نہیں تھا ۔۔۔۔اسکے چہرے پر دنیا دیکھلاوئے کو دیکھانے کے لئے بھی مسکراہٹ نہیں تھی ۔۔۔۔۔کمرہ اسکا بھی ان سب ریبائشوں سے پاک تھا جو ایسے موقع پر ہوتی ہیں ۔۔۔۔کون کہتا ہے اللہ سنتا نہیں ہے ۔۔۔۔ایک وہی تو ہے جو سنتا ہے ۔۔۔۔۔اس رات میں جس تکلیف اور اذیت میں تھی ۔۔۔۔اس سے کہی ذیادہ آج کامران تکلیف میں ہے ۔۔۔۔۔اس کے چہرے پر چھائی پژمردگی ۔۔۔۔بے بسی ۔۔۔مجبوری دیکھ کر میرے دل سے سارے دکھ کے کانٹے نکل گئے ہیں”
ماہم پر کامران کی حقیقت جب سے کھلی تھی وہ حیران تھی ۔۔۔۔کامران نے بیک وقت دو لڑکیوں کو بیوقوف بنایا تھا ۔۔۔۔اور نائلہ اس بیچاری نے بھی کامران سے چوٹ کھائی تھی ۔۔۔۔ماہم کے دل میں عفان کی قدرو قیمت اور بڑھ گئ تھی ۔۔۔۔۔۔عفان ٹھیک ہی تو کہتا ہے( جسے ہم اپنے لئے چنتے ہیں اسکے اچھے ہونے کی گارنٹی ہمارے پاس نہیں ہوتی مگر جیسے اللہ ہمارے لئے چنتا ہے وہی بہتر ہوتے ہیں ۔)۔۔میرا پورا بچپن عفان اور کامران کے ساتھ گزر ہے مگر میں پھر بھی ان دونوں کو پہچان نہیں پائی ۔۔۔۔ایک آگ ہے تو دوسرا ٹھنڈا میٹھا چشمہ۔۔۔۔۔ماہم عفان اور کامران میں موازنہ کرنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔ماہم کے دل میں کامران کے گزرشتہ رویے کا کہیں کوئی افسوس اور ملال نہیں تھا ۔۔۔۔جو تماشہ کامران نے ماہم کی شادی پر اس کا بنا کر رکھ دیا اللہ نے کامران کی شادی پر اسے لوٹا بھی دیا تھا ۔۔۔۔اپنی شادی پر وہ خود تماشہ بنکر رہ گیا تھا ۔۔۔۔اسے بھی اپنی شادی کی۔ خوشی نہیں تھی ۔۔۔وہ اتنا بے بس اور مجبور تھا کہ رو بھی نہیں سکتا تھا کامران کے چہرے پر پژمردگی دیکھ کر ماہم کو لگا اسکا بدلہ پورا ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ “”پاکدامن عورتوں کے لئے پاکدامن مرد ہیں”” پھر کامران ماہم کا مقدر کیسے ہو سکتا تھا اس کے لئے عفان ہی تھا ۔۔۔۔عفان کے کردار میں کہیں جھول نہیں تھا ۔۔۔۔ عفان اسکا بہت خیال رکھتا تھا اسے ۔۔۔اسے ہر بات محبت اور دوستانہ انداز سے ہی سمجھاتا تھا۔۔ماہم کے سارے مسلے اور خدشات عفان کے پاس آتے ہی ختم ہونے لگتے تھے ۔۔۔ماہم اپنی زندگی سے مطمئن ہو رہی تھی۔۔۔۔اللہ نے اسے بے شک بہترین ساتھی عطا کیا تھا۔۔
“خالہ بھی ٹھیک ہی کہتی تھیں ۔۔۔اللہ کی تدبیر ہی بہتر ہوتی ہے ۔۔۔۔۔بس میں ہی نہیں سمجھ پائی تھی” ۔۔۔۔۔کامران کے کردار کے جو روپ وہ دیکھ چکی تھی اپنی قسمت پر شاکر ہونے لگی تھی ۔۔۔۔یہ سب باتیں وہ عفان سے کرنا چاہتی تھی مگر وہ اب تک کمرے میں نہیں آیا تھا ۔۔۔
*******……===
ماہم کے کچھ دنوں سے مجھ سے کچھ کہتے کہتے رک کر جاتی تھی ۔۔۔۔مجھ سے بات کرنے لئے مجھے پکارتی جب میں پوچھتا تو کہہ دیتی
“نہیں کچھ نہیں بس یونہی” ۔۔۔۔اب بھی اس نے ایسا ہی کیا میں بہت دنوں سے ماہم کو وقت بھی نہیں دے پایا تھا مہک کا مسلہ پھر شادی اور آفس میں۔ نیا نیا پروجیکٹ سب نے مجھے گھن چکر بنا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔ ابھی شادی کے فنگشن کے سارے انتظامات نمٹا کر میں کمرے آیا تھا مجھے لگا ماہم سو چکی ہو گی مگر وہ سوئی نہیں تھی ڈرسنگ کے سام ے بیٹھی تھی ۔۔۔۔مجھ سے کچھ پوچھنے لگی تھی پھر ٹال گئ
“ماہی ادھر میرے پاس آو” ۔۔۔وہ ڈرسنگ کے سامنے بیٹھی ہاتھوں پر لوشن لگا رہی میری بات پر اٹھ کر میرے پاس آ گئ ۔۔۔
‘چائے بنا دوں تمہیں “ماہم نے پوچھا
“کس نے کہامجھے چائے پہنی ہے ۔۔۔۔”
“تم تھکے ہوئے لگ رہے ہو عفان ۔۔۔۔مجھے معلوم ہے تم چائے ہی مانگنے والے تھے ۔۔۔۔”
“نہیں ماہی یہاں بیٹھو ٫”۔۔۔۔وہ بیٹھ گئ ۔۔۔مجھے استفہامیہ نظروں سے دیکھنے لگی
“اب بتاؤں کیا بات ہے جو تمہارے ہونٹوں پر آتے آتے رک جاتی ہے” ۔۔۔۔ماہم کی آنکھوں میں حیرت چھلکنے لگی
“تمہیں پتہ کیسے لگتا ہے عفان ۔۔۔کہ مجھے کچھ کہنا ہے تم سے مگر کہہ نہیں پا رہی ۔۔۔۔بولو ۔۔۔۔۔”
“بار بار تو نہیں بتاؤں گا کہ میرا دل تمہاری ساری خبریں مجھے دے دیتا ہے ۔۔۔۔”
“مگر کیسے ۔۔۔آج مجھے تم بھی وہ سارے طریقے بتاؤں جس سے میں بھی تمہارے دل کی ہر ۔ بات جان سکوں جیسے تم جان جانتے ہو “۔۔وہ بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ اور پوری دلچسپی سےمجھے دیکھنے لگی ۔۔۔
“تم نہیں جان سکتی ۔۔۔۔”
“کیوں “۔۔۔
“اس لئے کہ تم تو کامپرومائز کر رہی ہو ۔۔اور میں محبت کرتا ہوں۔۔۔۔تم میرے دل میں رہتی ہو یہاں” ۔۔۔میں۔ نے دل کی طرف اشارہ کیا
“اس لئے تمہارے دل کی باتیں بھی میرا دل فورا سے جان لیتا ہے ۔۔۔اب بتاؤں کیا بات ہے ۔۔۔۔۔”
“‘کچھ خاص نہیں بس یونہی معمولی سی بات ہے “وہ مدافعانہ انداز سے بولی
‘پھر بھی میں سننا چاہتا ہوں “
“ایسے ہی میں سوچ رہی تھی ۔۔۔۔وہ کامران ۔۔۔۔میرا مطلب ہے مہک والی بات ۔۔۔۔۔میرا مطلب تھا ۔۔۔کہ۔کامران کیسے ۔۔۔۔مجھ سے بھی ۔۔۔۔۔مہک سے بھی ۔۔۔۔دونوں سے ۔۔۔۔محبت کیسے کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔”
“محبت نہیں دھوکہ” ۔۔۔۔میں نے تصحیح۔۔کی
“وہی ۔۔۔۔میں بھی یہی کہنا چاہتی تھی ۔۔۔۔یہ تو اچھا ہوا نا عفان میری اس سے شادی نہیں ہوئی ۔”۔۔میں ماہم کو غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔کیا سچ میں یہ ماہم کہہ رہی ہے ۔۔۔۔ماہم کے دل میں اب کامران تو کہیں نہیں ہے ۔۔۔یہ بات میرے لئے کس قدر مسرت کا باعث تھی۔۔۔۔۔
“یہ کہو نا ماہی کہ اچھا ہوا تمہاری شادی مجھ سے ہو گئ ۔”۔۔میری معنی خیز ۔بات پر وہ جھنپ سی گئ اور اعتراف بھی کرنے لگی
“ہاں میں بھی یہی کہنا چاہ رہی تھی ۔۔۔۔کتنے اچھے ہو تم ۔۔۔۔کتنی بیوقوف تھی میں جو کامران کی باتوں میں آ گئ ۔۔۔سچ میں عفان مجھ میں ذرا بھی عقل نہیں ہے” ۔۔۔۔ماہم کی بات پر میں ہنسے بغیر نہیں رہ پایا
“خود شناسی بھی اچھی عادت ہوتی ہے ماہی ۔۔۔۔اچھا ہے تمہیں خود اس بات کا احساس ہو گیا کہ تم میں بلکل عقل نہیں ہے اور یہ بھی کہ تم بیوقوف بھی ہو”۔۔۔مجھے ماہم کو ستانے میں مزہ آ رہا تھا وہ برا سا منہ بنانے لگی ناگواری سے مجھے دیکھنے لگی
“کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔۔۔تم میرے منہ پر مجھے بیوقوف اور بے عقل کہہ رہے ہو ۔۔۔اگر میں نے جذبات میں آ کر کہہ ہی دیا تھا تو تمہیں تو خیال رکھنا چاہیے تھا آخر میں بڑی ہوں تم سے” ۔۔۔۔ماہم اپنی خفت چھپانے کے لئے اپنا بڑا پن جتانے لگے
“یہ کیا تم ہر وقت اسی بات کی رٹ لگائے رکھتی ہو ۔۔چند مہنوں کا فرق کچھ خاص فرق نہیں ہوتا ۔۔۔ویسے بھی میں ہر لحاظ تم سے آگے ہوں ۔۔۔اس حساب سے تو میں تم سے بڑا ہو”ا ۔۔۔۔میں تنگ آ چکا تھا اس کےگھسے پٹے جمعلے سے اور باربار اس کا یہ کہنا مجھے اچھا بھی نہیں لگتا تھا۔۔۔۔
“کون سا حساب کتاب ۔۔۔۔کس حساب سے تم بڑے ہو ۔مجھ سے ثابت کرو ذرا ۔”۔۔۔وہ تن کر بولی
“اگر میں ثابت کر دوں تو وعدہ کرو تم بار بار ۔مجھے یوں چھوٹے ہوئے کا طعنہ نہیں دو گی”۔۔۔میں بھی اس قصے کو ختم کرنے کا مصمم ارادہ کر چکا تھا
“ٹھیک ہے ڈن ۔۔۔اب بتاو۔”۔۔۔۔میں ماہم کو ہاتھ سے پکڑ کرڈریسنگ کے سامنے لے آیا۔۔۔۔
“سچ سچ بتاؤں دیکھنے میں کون بڑا لگ رہا ہے “
“اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے “
“مطلب کو چھوڑو ماہی ۔۔۔بتاوں کون بڑا لگ رہا ہے “
“ظاہر ہے تم لڑکے ہو دیکھنے میں تو تم ہی بڑےلگو گئے”
‘عقل اورسمجھ سے پہلے کون کام لیتا ہے تم یا میں ۔۔۔جواب دینے سے پہلے یہ سوچ لینا کہ ابھی ابھی تم نے میرےسامنے اپنی کم عقلی اور بیوقوفی کا اعتراف کیا ہے”
‘ٹھیک ہے مان لیا کہ تم اس معاملے میں مجھ سے بڑھ کر ہو”۔۔۔۔وہ ہار مانتے ہوئے بولی
“اب یہ بتاؤں شوہر کادرجہ بڑا ہوتا ہے یا بیوی کا ‘۔۔۔میں اسے لاجوب کر چکا تھا
“شوہر کا “۔مگر ۔۔۔”
“اب تو یقین آ گیا نا تمہیں ۔۔۔۔۔بائے دا وئے تم سے کہا جانے ہے کہ تم مجھ سے بڑے ہونے کا اعلان کرتی پھرو ۔۔مجھے غورسے دیکھوں تم سے کم از کم بھی میں تین سے چار سال۔ بڑا لگتا ہوں ۔۔۔۔اب اگر تم خود سب سے یہ کہتی پھرو گی کہ تم مجھ سے بڑی ہو تو سب ہی تمہیں بڑی عمر کی خاتون سمجھیں گئے” ۔۔۔۔ اب میں نے اسے متانت سے سمجھانا چاہا ویسےبھی وہ دبلی پتلی نازک اندام کی تھی اور میں صحت کے حساب سے فٹ تھا دراز قد کی وجہ سے بڑا بھی لگتا تھا
ماہم کی طویل خاموشی پر میں سمجھ گیا کہ اب ماہم کو میری بات سمجھ آ گی ہے ۔۔۔کم از کم اب مجھ پر اپنا بڑا پن نہیں جتائے گی ۔۔۔۔۔۔
******……..=
صبح ناشتے پر ڈائنگ ٹیبل پر مہک لیٹ ہی آئی تھی ۔۔۔اور آئی بھی اسی حلیے میں جسکی وہ عادی تھی ۔۔۔کھلے پہنچوں والا ٹراؤزر اور سلیو لیس شرٹ بال البتہ سمٹے ہوئے تھے پیچھے بالوں کی اونچی سے پونی باندھ رکھی تھی ۔۔۔۔مما تو ویسے ہی چپ سی ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔مہک انہیں خاص پسند نہیں آئی تھی پھر اسے نشے کی حالت میں بھی دیکھ چکیں تھیں اسکے بارے میں اچھی رائے تو قائم نہیں کر سکتی تھیں اس وقت بھی ماتھے پر بل ڈالے ناگواری سے بیٹھی صرف چائے ہی پی رہیں تھیں ۔۔۔۔ماہم بھی خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھ گئ ۔۔۔۔
” ہائے ۔۔۔گڈ مارننگ “۔۔۔۔مہک نے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا
“اسلام علیکم بیٹا “۔۔۔۔پاپا نے ہائے کا جواب دینے کے بجائے اسلام کر کے گویا اس کی بات ترید بڑے اچھے انداز میں کی وہ کچھ جھجک کر بیٹھ گئ ۔۔۔
“واعلیکم ۔۔۔۔
“ہائے ۔۔۔۔بھی ٹھیک ہے مگر ہم لوگ اٹھتے ہی سب سلام سے ابتدا کرتے ہیں یہ ذیادہ بہتر ہے” ۔۔۔۔پاپا نے اسے اپنے گھر کا پہلا اصول بتایا ۔۔
“جی ۔”۔۔۔وہ نظریں جھکائے بولی
“ماہم بٹیا ۔۔۔مہک نئ دلہن ہے اسے ناشتہ تم سرو کرواں ۔۔۔۔
“جی انکل ۔۔۔۔کیا لو گی مہک ۔۔۔۔”
“فرائی ایگ ۔۔۔۔”
“ماہم نے پلیٹ میں ایک فرائی ایگ ڈال کر اسکی طرف بڑھا دیا اور چائے بھی اس کے کپ میں ڈالنے لگی
“شوگر”
“نو شوگر ۔۔۔مجھے میٹھی چائے پسند نہیں ہے ۔۔۔۔”
ماہم نے چمچ واپس شوگر پاٹ میں رکھ دی ۔۔۔۔کامران اپنا ناشتہ گردن جھکائے خاموشی سے کر رہا تھا ہر چیز سے بلکل لاتعلقی برت رہا تھا ۔۔۔۔
‘مہک بٹیا “۔۔۔۔پاپا ناشتہ کر چکے تھے اس لئے نپکن سے منہ صاف کرتے ہوئے مہک سے مخاطب ہوئے ۔۔۔۔
“جی انکل۔”۔۔۔مہک فورک سے انڈاکھاتے ہوئے وہیں رک کر بولی
“بٹیا اب آپکی شادی ہو چکی ہے ۔۔۔۔آپ ہمارے گھر کا فرد اور عزت ہو ۔۔۔ہر گھر کا طور طریقہ کچھ مختلف ہوتا ہے ۔۔۔۔ویسے تو یہ باتیں آپ کو کامران کو بتانی چاہیے تھیں مگر مجھے یقین ہے کہ اس نے کچھ نہیں بتایا ہو گا” ۔۔۔۔پاپا نے ایک تیز نظر کامران پر ڈالی جو سر جھکائے بے نیازی سے چائے کے سپ کے رہا تھا ۔۔۔۔
“جی مجھے کامران نے کچھ نہیں بتایا لیکن آپ کہیں انکل” ۔۔۔۔مہک نے کامران کی چھوئی حمایت کے بجائے صاف گوئی سے کہا
‘ایک تو ایسا لباس ہمارے گھر کی خواتین نہیں پہنتیں ۔۔۔۔دوسرا یہ کل آپ وقت پر اٹھ کر کامران کو ناشتہ خود سرو کروائیں گی کامران کی پوری ذمہ داری آپ خود اٹھائیں گئ ۔۔ذیادہ نوک ٹوک کی عادت نا مجھے ہے نا آپکی آنٹی کو مگر کچھ باتوں کا خیال آپ کو رکھنا پڑے گا’ ۔۔۔۔ پاپا نے بہت محبت اور شفقت سے مہک کو سمجھایا تھا
“جی انکل میں آئندہ خیال رکھو گی ۔”۔۔۔مہک نے فورا ہامی بھر لی
” ویری گڈ ۔۔۔جیتی رہو خوش رہو “۔۔۔۔مہک جب ناشتہ کر کے چلی گئ ۔۔۔پاپا نے مما کو مخاطب کیا
“صفیہ تم سمجھاو اس بچی کو ہمارے گھر کے کی طور طریقے کیا ہیں ماہم تو گھر کی بچی ہے اسی ماحول میں پلی بڑھی ہے سب جانتی ہے ۔۔۔مگر وہ الگ ماحول سے آئی ہے تمہاری توجہ کی ذیادہ ضرورت ہے اسے ۔”۔۔۔مما نے چائے کا کپ پٹخنے کے انداز سے سوسر میں رکھا چہرے پر چھائی نا گواری کے اثار کچھ اور گہرے ہو گئے ۔۔۔۔۔
“یہ معاملہ آپ خود ہی سلجھائیں تو ذیادہ بہتر ہے مجھے دور ہی رہنے دیں ان جھمیلوں سے ۔۔آپ جانے اور کامران مجھ سے کوئی امید مت رکھیں” ۔۔۔مما اٹھ کر وہاں سے چلیں گئیں پاپا نے خشمگین نظروں سے کامران کو دیکھا جو اٹھنے کے لئے پر تول رہا تھا
“اب یہ بات بھی مجھے ہی سمجھانی پڑیںگی۔۔۔۔”
“پاپا وہ ایسی ہی ہے ۔۔۔ اسے عادت ہے آذاد ماحول کی ۔۔۔۔اگر آج وہ شوق میں آپ کی چند باتوں کو مان بھی لے گی تو یہ سلسلہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گا ۔۔۔آپ کو یہ سب پہلے سوچنا چاہیے تھا ۔۔۔۔مجھ سے ایسی بڑی غلطی نہیں ہوئی تھی جو اس ایکسٹرا موڈرن کو میرے گلے باندھ دیتے۔”۔۔کامران کو اپنی غلطی بھی غلطی نہیں لگ رہی تھی
“یہ بات تم نے نکاح پڑھوانے سے پہلے کیوں نہیں سوچی” ۔۔۔پاپا کے طنز پر وہ تلملا گیا
‘میرا نکاح بلیک میلنگ کا نتیجہ تھا ‘
“اور جو اسے سہانے خواب دیکھائے تھے وہ کس بات کا نتیجہ تھا ۔۔۔”
“اسی کی سزا بھکت رہا ہوں ۔۔مگر اس سے زیادہ نہیں ‘میں اس پر کسی قسم کی روک ٹوک نہیں کروں گا ۔۔۔۔وہ جو جی میں آئے کرتی رہے” ۔۔۔۔کامران نے نیپکن ٹیبل پر غصے سے پھنکا اور آٹھ کر چلا گیا ۔۔۔
“یہ کبھی نہیں سدھر سکتا “۔۔۔۔پاپا بھی اٹھ کر چلے گئے ۔۔۔میں اور ماہم ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔رات کو ولیمے کی دعوت بھی جیسے تیسے گزر ہی گئ
اگلے روز مہک جلدی ہی ڈائنگ ٹیبل پر پہنچی تھی ۔۔۔ایک بڑی سی شال اپنے گرد لپٹے ہوئے تھی وہ انہی کپڑوں میں تھی مگر شال سے خود کو کور اچھی طرح کیا ہوا تھا ۔۔۔۔چائے بھی کامران کو کپ میں ڈال کر دی ۔۔۔۔بریڈ پر جیم لگاتے ہوئے بار بار اسکی شال اسکے شانوں سے سرک رہی تھی جسے وہ بار بار ٹھیک کر رہی تھی ۔۔۔پاپا نے مہک سے تو کچھ نہیں کہا مگر سنجیدہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے وہ شاید سمجھ گئ تھی اس لئے خود سے وضاحت کرنے لگی ۔۔۔۔
“انکل ایکچلی میرے پاس سب ڈریسز ایسے ہی ہیں مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہاں کیسے لباس پسند کیے جاتے ہیں لیکن میں نے ڈیڈی سے کہا ہے آج ان سے کیش لیکر میں ڈریسز خرید لوں گی ۔۔۔”
“اپنے ڈیڈی سے کیوں ۔۔۔۔یہ زمہ داری اب کامران کی ہے “۔۔۔پاپانے جیب سے والٹ نکالا اور پیسے نکال کر مہک کی طرف بڑھا دئیے ۔۔۔۔مہک نے جھجکتے ہوئے پکڑ لئے
“کامران تم بٹیا کو اپنے ساتھ لیکر جاؤ گئے ۔۔۔”۔کامران خاموش ہی رہا مگر اگلے روز وہ قدرے بہتر لباس میں تھی ۔۔۔۔کامران بھی آفس کے لئے تیار تھا
پاپا نے کامران کی تیاری دیکھ کر کہا
“میرے خیال سے تم چند دنوں کے لئے گھومنے پھرنے چلے جاؤں ۔۔۔۔اسلام باد تو دیکھ ہی چکے ہو نکاح جو وہیں۔ ہوا تھا۔۔۔۔۔لیکن چار دن میں۔ واپسی کے باعث شاید آگے نہیں جا سکے ہو گئے ۔۔۔چلو اب مری وری چلے جاؤں ۔۔۔۔آفس سے ایک ہفتے کا آف کر لو” ۔۔۔پاپا کی بات میں چھپا طنز کامران کو آگ لگانے کے لئے کافی تھا اسکا سرخ ہوتا چہرا اسکے کے غصے کا غماز کر رہا تھا تھا ۔۔۔گردن تو مہک کی بھی جھک گئ تھی ۔۔۔۔جو کام انہوں نے کیا تھا اس کااحساس پاپا انہیں خوب دلا رہے تھے ۔۔۔۔۔
“نہیں آفس میں بہت کام ہیں ۔۔۔۔”کامران نے روکھاسا جواب دیا
“چلو اچھی بات ہے اگر تم کچھ زمہ دار ہو گئے ہو تو “۔۔۔۔۔۔۔
کامران آفس جانے کے لئے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔پاپا نے سخت لہجے سے کامران کو ڈپٹا
“تمہی کیا ہر بات سمجھانا پڑے گا کہ آفس جانے سے پہلے بیوی سے ہاتھ ملا کر جاتے ہیں ۔۔۔تمہں تو معلوم ہونا چاہیے سب” ۔۔۔۔کامران نے ایک درشتی نظر مہک پر ڈالی اپنا ہاتھ اسکی طرف ایسے بڑھایاجیسے با حالت مجبوری یہ سب کر رہا ہو ۔۔۔۔۔مہک کے لئے یہ سب نیا تھا ۔۔۔اس نے بھی ذرا سا ہاتھ ملا کر ہاتھ پیچھے کر لیا
