Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 22
Rate this Novel
Tadbeer Episode 22
Tadbeer by Umme Hani
رات بھر میں مہک کے رویے کے بارے میں سوچتا رہا ۔۔۔۔۔ماہم سے اسکی یہ عداوت میری عقل سے بالا تر تھی ۔۔۔۔۔ صبح ناشتے پر ماہم کی سوجی آنکھیں دیکھ کر مما کی تشویش سی ہونے لگی ۔۔۔ وہ بار بار ماہم سے وجہ پوچھنے لگیں
“خالہ وہ رات لیٹ نائٹ سوئی تھی بس اس لئے ۔۔۔۔وہ نظریں چرا گی اور میں شرمندہ سا رہ گیا ۔۔۔۔۔۔آج سنڈے تھا اس لئے ناشتے کے بعد میں اپنے کمرے میں اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف رہا ۔۔۔ کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔یہاں تک کے رات کو قاسم کی شادی پر بھی نہیں جانا چاہتا تھا ۔۔۔کیونکہ ماہم تو ہر گز نہیں جاتی ۔۔۔اور میرااب اس کے بغیر جانے کا بلکل ہے دل نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔فون کی بیل پر میں نے بے دلی سے موبائل اٹھایا قاسم کا نمبر دیکھ کر دوبارہ بیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔ بیل بج بج کر بند ہو گئ ۔۔۔۔۔اسکے بعد قاسم کی کئ بار کال آئیں مگر میں نے فون ریسیو نہیں کیا ۔۔۔۔مگر اس نے بھی شاید ڈھائی میں ماسٹر کر رکھا تھا بتدریج کال پے کال کیے جا رہا تھا ۔۔۔آخر میں نے ہی ہار مانتے ہوئے اس کی کال اٹینڈ کی
“‘ہیلو ‘”
“کہاں مر گئے تھے تم کب سے کال کر رہا ہوں “
‘ہاں میں نے بس ابھی دیکھا تھا ۔۔۔وہ فون سائلنٹ پر تھا “۔۔۔ میں نے صاف جھوٹ بول دیا
‘بھابی کہاں ہے فاریہ کب سے انہیں فون کر رہی ہے میں بھی کئی بار کر چکا ہوں مگر وہ رسیو نہیں کر رہیں” ۔۔۔۔قاسم کے لہجے میں غصہ اور بیزاری چھلک رہی تھی
‘کیوں کوئی کام تھا ‘
“ہاں یار اصل میں کچھ ورکرز کو مشکل درپیش آ رہی ہے بھابی نے جو ڈیکورشن بتائی تھی اسی سلسلے میں اگر تم بھابی کو گھر لے آؤں تو “۔۔۔۔۔۔۔قاسم کے لہجے میں ہچکچاہٹ سی در آئی
“وہ نہیں آئے گی” ۔۔۔۔میرے مصصم لہجے پر قاسم زچ سا ہو گیا
“یار میں بہت شرمندہ ہوں ۔۔۔۔اور چچا چچی کو بھی سختی سے منع کر چکا ہوں ۔۔۔۔تمہیں اب مہک کہیں نظر نہیں آئے گی’ ۔۔۔۔۔قاسم میری خفگی سمجھ کر وضاحت پر اتر آیا تھا ۔۔۔۔
“وہ سب ٹھیک ہے مگر ماہم بہت ڈس ہارٹ ہے ۔۔۔۔۔”
‘تم میری بھابی سے بات کرواں ۔۔۔تا کہ میں ان سے پوچھ کر باقی کا کام تو ختم کرواں۔۔۔۔کہاں ہیں وہ “….
‘معلوم نہیں باہر ہی ہو گئ یا اپنے کمرے میں “۔۔۔میں نے لا پروائی سے کہا میں جانتا تھا کہ ماہم۔قاسم سے بات کرنے پر کبھی رضا مند نہیں ہوگی
‘تم کہاں ہو کہیں باہر ہو ۔۔۔۔’
‘نہیں تو ۔۔۔۔میں اپنے کمرے میں ہوں بس یونہی کچھ ای میلز چیک کر رہا تھا “
“تم اپنے کمرے میں ہو ۔۔۔اور وہ اپنے کمرے میں ۔۔۔کوئی لڑائی ہوئی ہے دونوں کے درمیان ۔۔۔۔”
“نہیں تو ۔۔۔۔ “
‘پھر یہ الگ الگ کمرے کا کیا سین ہے” ۔۔۔۔قاسم کی بات کی نویت اب میرے زہن میں آئی تھی بے نیازی میں میں شاید کچھ غلط بول گیا تھا
‘بس ایسے ہی’ “
“کیا ایسے ہی عفان شرافت سے سچ بتاؤں مجھے ۔۔۔”۔مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ قاسم ٹلنے والا نہیں ہے اس لئے بات بنانے کے بجائے میں نے صاف بات کرنے کو ترجعی دی
,”ایکچلی قاسم تم تو جانتے ہو ہماری شادی کن حالات میں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔اور پھر ماہم کو سنبھلنے کے لئے وقت درکار تھا ۔۔۔۔۔مجھے لگا مجھے اسے ٹائم دینا چاہیے “۔۔۔۔مجھ سے ٹھیک سے بہانے بھی بن نہیں پا رہے تھے
“تو یہ ٹائم سالوں پر محیط ہے کیا ۔۔۔دو مہنے گزر چکے تمہاری شادی کو ۔۔۔۔ اتنا وقت بہت ہوتا ہے ۔۔۔۔پھر سونے پر سہاگہ کامران بھی یہیں اسی گھر میں ہوتا ہے ۔۔۔۔۔عفان تمہیں سیریسلی سوچنا چائیے ۔۔۔”قاسم سنجیدگی سے بول رہا تھا
میں کون سا اس بات سے انکاری تھا قاسم کی بات ٹھیک تھی مگر ۔۔۔۔۔ماہم ۔۔۔۔۔وہ بھی اس بارے میں سوچے تب نا ۔۔۔۔۔فی الفور میں نے بات کو مدفعانہ انداز سے ٹالا
“چھوڑو اس بات کو میں دیکھتا ہوں ماہی کہاں ہے “۔۔۔میں اٹھ کر کمرے سے باہر نکل آیا سیڑیوں سے نیچے جھانک کر دیکھا تو ماہی مما کے ساتھ لاونج میں بیٹھی انکی کل کی دعوت کے قصے سننے میں مگن تھی ۔۔۔میں نیچے اتر آیا ماہم کے برابر میں بیٹھ کر فون اسکی طرف بڑھا دیا
“بات کرو قاسم ہے”۔۔۔۔ماہم نے پہلے فون کو گھورا پھر مجھے ۔۔۔۔
“مجھے نہیں کرنی بات تم کوئی بہانہ بنا دو اب جاؤں یہاں سے” ۔۔۔۔ماہم نے غصہ دباتے ہوئے دھیرے سے کہا تا کہ مما نا سن لیں
“ماہم اس نے ارینجمنٹ کے حوالے سے کچھ پوچھنا ہے تم سے ….کچھ ورکرز کو مشکل پیش آ رہی ہے ۔۔۔اب سب کچھ تو تم کر رہی تھی ۔۔۔۔کچھ ہیلپ کر دو اسکی” ۔۔۔۔ماہم نے ہونٹ بیںچتے ہوئے مجھ سے فون چھین کر کان پر لگا لیا ۔۔۔۔قاسم کو مکمل سمجھانے کے بعد ۔۔۔۔۔ماہم نے برجستہ مجھے گھورا
“فاریہ” ۔۔۔۔۔ماہم نے مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔میں سمجھ گیا کہ قاسم نے فون فاریہ کو تھما دیا ہے
“نہیں یار سر میں بہت درد ہے آج نہیں آ پاؤں گئ ۔۔۔”۔بات وہ فاریہ سے کر رہی تھی ۔۔۔اور آنکھیں نکالے مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔جیسے سب میرا کیا دھرا ہو
“پلیز فاری سمجھو نا یار “۔۔۔۔ماہم کی التجا سے لگ رہا تھا کہ فاریہ کی دھمکیاں عروج پر تھیں ۔۔۔۔ماہم نے فون بند کیا اور میری گود میں پھنک کر خود اٹھ کر کچن میں چلی گئ ۔۔۔۔کچھ دیر بعد ہی چائے لا کر ٹیبل پر رکھ دی ایک کپ مما کو پکڑایا اور دوسرا مجھے تھما کر خود بھی میرے ساتھ بیٹھ گئ۔۔۔مما اب ٹی وی پر کسی ڈرامے کو دیکھنے میں مگن تھیں ماہم میرے برابر میں بیٹھ کر غصے سے سرگوشی میں بولی
“تم نے جان بوجھ کر فاریہ سے میری بات کروائی ہے تاکہ وہ مجھے فورس کر سکے اور میں انکار بھی نا کر سکوں ۔۔۔۔”
‘نہیں ماہی ۔۔۔۔قاسم نے بات کرنی تھی تم سے ہو سکتا ہے اس کا کوئی پلان ہو ۔۔۔بہرحال مجھے کچھ نہیں معلوم “
“اتنے بھی معصوم نہیں ہو تم ۔۔۔ناہی مجھے بیوقوف سمجھو ۔۔۔میں تمہیں چھوڑو گی نہیں عفان ابھی تمہاری کل والی حرکت خالہ کو بتاتی ہوں دیکھوں کیسی کھچائی ہوتی ہے تمہاری “۔۔۔ میں چائے کا سپ لیتے ہوئے وہیں رک گیا
“کون سی حرکت کیا کیا ہے میں نے “۔۔۔۔میں نا فہم انداز سے اس سے پوچھنے لگا مجھے تو ایسا کچھ بھی یاد بھی نہیں آ رہا تھا
“کل مہندی سے پہلے والی بات ۔۔۔۔یاد کرو” ۔۔۔ماہم اپنا ایک آبرو چڑھا کر جتاتے ہوئے خطرناک تیوروں سے کہا میں نے ذہن میں کل کی ساری باتیں جلدی سے دہرانی شروع کیں میرے ذہن میں ایک جھماکا ساہوا مجھے یاد آگیا کہ کل وہ کون سی بات مما کو بتانے کی دھمکی دے رہی تھی میرے تو یک دم ہوش اڑنے لگے میں اپنی جگہ پر ہی اچھل کر رہ گیا ۔۔۔۔چائے کا کپ سامنے ٹیبل پر رکھا اور اپنا پورا رخ ماہم کی طرف کر کے بیٹھ گیا
“وہ ہ ہ” ۔۔۔۔۔میں بری طرح بوکھلا کر بولا ۔۔۔
“ہاں وہ ۔’۔۔۔ماہم کی تصدیق پر میرے رہے سہے اوسان بھی کھونے لگے ۔۔۔مجھے ماہم پر غصہ تو جی بھر کے آیا مگر عقلمندی کا تقاضہ تو یہی تھا کہ میں مصلحت سے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔
“مما کو بتاؤں گی تم ۔۔۔۔شرم نہیں آئے گی تمہیں ۔۔۔”۔میں بہت دھیرے سے کہا
“مجھے ۔۔۔۔مجھے کیوں آئے گی میں نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے ۔”۔۔۔ماہم کو بات کی نویت کا اندازہ ہی نہیں تھا اور میری ہوائیاں آڑی ہوئیں تھیں
“بات کو سمجھنے کی کوشش کرو ماہی۔۔۔۔یہ ہماری آپس کی بات ہے۔۔۔۔ پلیز مما کو اس میں شامل مت کرو ۔۔۔۔ائی پرومس آئندہ ایسا کبھی نہیں کرونگا ۔۔۔۔اور دو آئسکریم کھلاؤں گا تمہیں ۔۔۔تم سے چھین کر کھاؤں گا بھی نہیں پکا وعدہ” ۔۔۔۔میں نے اسکی منت کرتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑ لیا وعدے کے غرض سے ماہم نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ الگ کیا
“تم نےفاریہ سے کیوں انسسٹ کیا کہ وہ مجھے فورس کرے ۔۔۔میں نہیں چھوڑو گی تمہیں” ۔۔۔ماہم کے اٹل انداز نے مجھے بوکھلا کے رکھ دیا تھا مما ٹی دیکھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی تشویشی انداز سے دیکھ رہیں تھیں اس سے پہلے کہ میں ماہم سے کو مزید سمجھاتا مما ہماری بحث کی وجہ پوچھنے لگیں
“یہ تم دونوں آہستہ آواز سے کیا کھسر پھسر کر رہے ہو ۔۔۔۔”
“کچھ بھی نہیں مما ۔۔۔بس ایسے ہی” ۔۔۔۔۔میں نے ماہم کو ملتجی نظروں سے دیکھتے ہوئے مما سے کہا
“کچھ کیوں نہیں ۔۔۔۔خالہ میں بتاتی ہوں آپ کو کل کیا بد تمیزی کی ہے اس نے میرے ساتھ” ۔۔۔۔ماہم اٹھ کر مما کے ساتھ بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔۔
“ماہی ایک دم چپ ۔۔۔کچھ نہیں کہو گی تم۔۔۔۔۔۔ ورنہ میں” ۔۔۔۔۔میری بد حواسی حد سے تجاوز کرنے لگی ۔۔۔میں نے اپنے لہجے میں سختی لانے کی کوشش کی
“خالہ دیکھیں آپ کے سامنے کیسے دھمکی دے رہا ہے مجھے “۔۔۔۔۔ماہم نے معصوم سی شکل بنا کر مما سے کہا
“عفان یہ کیا طریقہ ہے “۔۔۔مما مجھے ہی ڈانٹتے ہوئے بولیں
“مما عقل نام کی چیز نہیں ہے آپکی بھانجی میں ۔۔۔۔بیوقوف کہیں کی” ۔۔۔۔میں دانت بیچ کر اسے آنکھیں دیکھاتے ہوئے بولا ماہم نے منہ کھولے مجھے گھورنے لگی پھر مما کو متوجہ کر کے بولی
“خالہ سنا آپ نے بیوقوف کہہ رہا ہے مجھے ۔۔۔اور دیکھیں کیسے گھور رہا ہے مجھے ۔حالانکہ اسے معلوم بھی ہے کہ میں اس سے بڑی ہوں ذرا لحاظ نہیں ہے اسے میرا” ۔۔۔۔۔وہ منہ بسورے گلوگیر لہجے میں بولی
‘عفان” ۔۔۔۔مما ہماری نوک جھونک سے محفوظ ہوتے ہوئے مجھے مصنوعی غصہ دیکھانے لگیں
“مما آپ ایک نہیں سنے گی اسکی ایک نمبر کی جھوٹی ہے ی”ہ ۔۔۔۔میں اب مما کو بہلانے لگا
“چپ رہو تم ۔۔۔۔بتاوں کیا بات ہے کیوں لڑ رہے ہو تم دونوں “۔۔۔مما ماہم سے پوچھنے لگی
“خالہ کل بدتمیزی کی تھی اس نے میرے ساتھ ۔۔۔خالہ گود میں اٹھایا تھا مجھے ۔۔۔۔میں گر بھی سکتی تھی خالہ ۔۔۔اتنا بدتمیز ہے یہ ۔۔۔اپ ڈانٹیں اسے “۔۔۔۔تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔میں نے خشمگین نظریں ماہم پر ڈالیں اپنا چائے کا کپ اٹھا کر کچن میں چلا گیا ۔۔۔۔۔مما اب نظریں جھکائے مسکرانے لگیں ماہم حیرانگی سے انہیں دیکھنے لگی ماہم کی معصومیت اور بیوقوفی پر اسے ڈانٹ بھی نہیں سکتیں تھیں اتنا تو انہیں بھی احساس تھا کہ بات کی نویت سے ماہم ناواقف ہے بس شکایت کے چکر میں جو منہ آئے بول دیتی ہے ۔۔۔۔۔
“خالہ آپ نے ۔۔۔۔خالہ آپ نے کچھ نہیں کہا اسے ۔۔۔خالہ آپکو ڈانٹنا چاہیے تھا اسے بلکہ کان کھنچنے چاہیے تھے اس کے۔۔”۔ماہم کو لگا مما مجھے خوب ڈانٹیں گی۔۔۔۔اور کان کو ضرور کھنچے گیں ۔۔۔
“ہاں اسکے ساتھ ساتھ مجھے تمہارے بھی کان کھنچنے چاہیے۔۔۔۔مما نے آہستہ سے ماہم کے گال تھپتھپائے
“میرے کیوں خالہ’ ۔۔۔۔وہ اب بھی معصومیت سے منہ پھلائے پوچھنے لگی
“کچھ نہیں ۔۔۔۔تم جاؤں میں ڈانٹوں گی اسے “۔۔۔مما کو اسکی سادگی پر بس پیار ہی آتا تھا
“میرے سامنے ڈانٹنا چاہیے تھا نا” ۔۔۔۔۔وہ منہ پھلائے بولی
“اب بیوی کے سامنے ڈانٹ کھاتا اچھا لگے گا کیا ۔۔۔۔ اور بیٹا تمہیں بھی بات کرنے سے پہلے ذرا سا سوچنا چاہیے”
“لیکن خالہ مجھے کیا سوچنا چاہیے ۔۔۔۔غلطی تو اسکی تھی نا “۔۔۔۔۔ماہم کی احمکانہ پن پر میں کچن میں کھڑا اسکی عقل کا ماتم ہی کر سکتا تھا
******……..
رات کو فاریہ دلہن بنی قاسم کے ساتھ ہمارے ڈرائنگ روم کے صوفے پر براجمان تھی ۔۔۔۔۔۔پارلر سے تیار ہو کر وہ دونوں سیدھا ہمارے گھر ہی آئے تھے ۔۔۔۔۔میرے اور ماہم کے ساتھ ساتھ مما کی متحیر سی تھی ۔۔۔۔ماہم فاریہ کے ساتھ بیٹھ گی ۔۔۔۔میں قاسم کی شادی پر جانے کیلئے تیار ہی تھا بس نکلنے ہی والا تھا کہ اسے دیکھ کر مجھے بھی رکنا پڑا ۔۔۔ ماہم کے سامنے صوفے پر میں اور قاسم بیٹھ گئے ۔۔۔۔مما بھی ماہم کے ساتھ ہی بیٹھی تھیں قاسم سے وہ بہت بار مل چکی تھیں فاریہ سے بھی ہلکی پھلکی علیک سلیک تھی ۔۔۔۔مگر ان دونوں کا یہاں یوں اچانک آنا وہ بھی اس حلیے میں ۔۔۔۔مما کچھ تذبذب سی تھیں مگر انہوں نے پوچھا کچھ نہیں ۔۔۔۔۔ماہم نے ہی فاریہ سے بات شروع کی
“فاریہ تم لوگوں کو اسوقت وہاں ہونا چاہیے تھا ۔۔۔۔تم یہاں ۔۔۔میری سمجھ سے باہر ہے تمہاری یہ حماقت ۔۔۔”۔
“تم جو بھی سمجھو ۔۔۔لیکن میں تمہیں لئے بغیر ہر گز نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔سیدھا پارلر سے تمہارے پاس آ رہی ہوں ۔۔۔۔۔اگر ہم لیٹ ہوئے تو ذمہ دار تم ہو گئ ۔۔۔”۔فاریہ کا حتمی انداز پر ماہم شش و پنچ میں پڑ گئ تھی ۔۔۔۔مگر فاریہ تسلی سے صوفے پر ٹیک لگائے پر سکون بیٹھی تھی مما کو ماہم صبح تھکن کا بہانہ بنا کر منع کر چکی تھی ۔۔۔۔۔لیکن حالات کے پیش نظر مما بھی ماہم سے جانے کے لئے فورس کرنے لگیں ۔۔۔
“چلیں نا بھابی پلیز ۔۔۔۔اب ہم خود آپ کو لینے آئیں ہیں ہمیں مایوس مت کریں” ۔۔۔۔قاسم بھی ملتجی لہجے سے بولا
“قاسم بھائی میں ضرور چلتی لیکن سچ میں میرے سر میں بہت درد ہے وہاں بھی بےزار ہی رہوں گی ۔۔۔”۔ماہم کن اکھیوں سے مجھے دیکھ کر بولی
“ماہم نہیں ہو گئ تم بیزار بس میرے پاس بیٹھی رہنا ۔۔۔سر درد اتنا بڑا مسلہ تو نہیں ایک آدھی پین کلر لو گئ تو ٹھیک ہو جائے گا “
۔بس ایک میں ہی تھا جو خاموش بیٹھا تھا ۔۔۔۔قاسم مجھے دیکھ کر ہونٹ بھنچے مجھے کہنی مار کر بولا
‘تم کا کیا چپ کا لڈو منہ میں ڈالے بیٹھے ہو عفان ۔۔۔۔حکم دو اپنی بیگم کو ۔۔۔تم تو ویسے بھی مجازی خدا کے درجے پر فائز ہو تمہاری حکم عدولوی تو بھابی کر ہی نہیں سکتیں’
“کس صدی کے بات کر رہے ہو یہ اکیسویں صدی ہے میرے یار ۔۔۔آج کل اتنی فرمابردار بیویاں نہیں پائی جاتی ورنہ تمہاری یہ خواہش بھی پوری کر دیتا ۔۔۔”۔مجھے ماہم کی دوپہر والی بات پر بھی غصہ تھا اس لئے میں نے ماہم کو کی طرف جتاتے ہوئے کہا
“تم نے تو جنگ شروع ہونے سے پہلے کہ ہتھیار پھنک دیے ۔۔۔۔اور بڑی شان بے نیازی سے ہار بھی تسلیم کر رہے ہو۔۔۔۔۔کیسے مرد ہی یار “۔۔۔قاسم نے مجھے غیرت دلانے چاہی میں نے قاسم کو گھور کر دیکھا
“یہ میں تم سے کل پوچھوں گا ۔۔”۔۔میری معنی خیز بات پر وہ ہسنے لگا
“ارے جاؤں جاؤں میری اجازت کے بغیر فاریہ ہل کر تو دیکھائے “۔۔۔۔قاسم اپنی شیروانی کا فرضی کالر اٹھاتے ہوئے بولا
“قاسم مجھے ان دونوں کے جانے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تم ایسا کرو مولوی صاحب کو یہیں کا ایڈریس سمجھا دو کم از کم نکاح تو ہو جائے ہمارا ۔”۔۔فاریہ مصنوعی پریشانی چہرے پر سجائے اپنے ماتھے کا ٹیکہ درست کرتے ہوئے ڈرامائی انداز سے قاسم سے بولی ۔۔۔۔۔۔
“جی جی بیگم صاحبہ بندہ تابعدار ہے آپکے حکم کا “۔۔۔۔قاسم نے شیروانی کی دونوں جیبیں ٹٹولنی شروع کر دیں پھر ایک جیب سے موبائل نکال کر کسی کو کال کرنے لگا میں نے موبائل اسکے ہاتھ سے لے لیا
” تم کتنا رعب میں رکھنے والے ہو نظر آ رہا ہے مجھے ۔۔”۔۔قاسم کی فرمابرداری پر میں اسکے کندھے پر مکا جڑتے ہوئے بولا
“جب استاد نے ہی ہار مان لی تو شاگرد بیچارہ کیا کرے ‘۔۔۔۔قاسم نے اپنا کندھا سہلاتے ہوئے کہا
“ڈرامے بازی بند کرو اپنی۔۔۔۔ ماہی پلیز جا کر تیار ہو جاؤں آئی پرومس کل والی بات دوہرائی نہیں جائے گی۔۔”۔۔میں نے ماہم سے بہت نرمی سے کہا
“پرومس بھابی وہ آج آپ کو نظر بھی نہیں آئےگی ۔۔”۔قاسم نے مزید تسلی دی ماہم شکن آلود پیشانی سے بیٹھی رہی
“کیا مطلب کچھ ہوا تھا عفان ۔”۔۔۔مما نے تعجب سے پوچھا ۔۔۔۔
“وہ مما قاسم کی کزن غلط فہمی کی بنا پر ماہم سے کچھ الٹا سیدھا بول گئ تھی ۔۔۔۔لیکن سب نے اکیسکیوز کر لیا تھا ماہی سے یہاں تک کے اسکی لڑکی کے والدین نے بھی ۔”۔۔۔میں نے مختصر سی تفصیل مما کو بتائی ۔۔۔۔
“ماہم اب یہ اتنی چاہت سے تمہیں لینے آئیں ہیں تو بیٹا تمہیں جانا چاہیے جاؤں شاباش جا کر تیار ہو جاؤں ۔”۔۔۔مما نرم گفتار لہجے پر ماہم اٹھ کر چلی گئ قاسم اور فاریہ خوش ہو گئے
“آنٹی تھنک یو سو مچ ۔۔۔سوسال جیے آپ ۔۔۔۔آپ نے ہماری شادی رکنے سے بچا لی ورنہ فاریہ کے واپس جانے کے تو مجھے کوئی تاثرات ہی نظر نہیں آ رہے ایسے بیٹھی ہے جیسے اپنے باپ کے ڈرائنگ روم میں بیٹھی ہو ۔۔”۔۔قاسم نے فاریہ کو جوتے اتارے صوفے پر لہنگے سمیت ألتی پالتی مارے بیٹھے دیکھ کر کہا
“کوئی بات نہیں بیٹا یہ بھی اسی کا گھر ہے ۔۔۔۔تم لوگ بیٹھو میں چائے بھجواتی ہوں” ۔۔۔۔مما یہ کہہ کر باہر چلی گئیں
“اور تم جوتے پہنو اپنے اور تمیز کے دائرے میں بیٹھو ۔”۔۔قاسم نے رعب جماتے ہوئے قاسم سے کہا
“قاسم بہت تھک گئ ہوں یار اتنے بھاری جوڑے میں یوں اسٹیچو کی طرح بیٹھنا ۔۔۔۔ابھی اسٹیج پر ناجانے کتنی دیر تک یونہی بیٹھنا پڑے گا ۔”۔۔۔فاریہ ابھی سے بےزار لگ رہی تھی ۔۔۔اپنی پاؤں میں۔ ہیل پہنتے ہوئے ناگواری سے بولی
‘کوئی بات نہیں بھابی آپ ریلیکس ہو کر بیٹھیں ۔۔”۔میں نے فاریہ کی مشکل کو دور کرنے کی غرض سے کہا ۔۔۔مگر قاسم کی تیز نظروں پر فاریہ ٹھیک ہو کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔کچھ بھی تھا مگر اس بات پر تو میں قاسم پر دل سے قائل ہونے لگا تھا کہ فاریہ واقع اس سے ڈرتی تھی۔۔۔۔۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو اچھے بچوں کی طرح بیوی کی تیار ہونے میں مدد کرو ۔۔۔بہت لیٹ ہو چکے ہیں یار اگر مولوی صاحب سچ میں بھاگ گئے ۔۔۔ڈیڈ نے نکاح کی جگہ میرا وہیں جنازہ پڑھوا دینا ہے” ۔۔۔۔۔قاسم اب سنجیدہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا
“میں کیا کرو گا جا کر وہ خود تیار ہو کر آجائے گی ۔”۔۔میرے لا پروانداز پر پہلے تو وہ شاکی نظروں سے مجھے دیکھنے لگا پھر دھیرے سے شرارتی مسکراہٹ لیے مجھے سرگوشی میں بولا
“جاؤں یار ایسے موقعوں کو گوانا نہیں چاہیے ۔۔۔۔کم از کم نیکلیس تو اپنے ہاتھ سے پہنانا چاہیے ۔”۔۔قاسم کی سرگوشی پر فاریہ کان لگانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔کہ وہ میرے کان میں کیا کھسر پھسر کر رہ ہے مگر اتنی دور سے بھلا سنائی بھی کیا دینا تھا
“پھر کبھی صحیح” ۔۔۔میں بھی دھیرے سے اسکے کان میں کہا وہ تلملا کر رہ گیا
“لعنت ہے تم پر ۔۔۔کون کہہ سکتا ہےکہ تم میرے دوست ہو ۔۔۔ایسے موقعوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں میری جان ٹالتے نہیں ہیں ۔۔۔یہ جو پھر کبھی ہے یہ کبھی نہیں آتا اسے زندگی میں خود لانا پڑتا ہے ۔۔۔۔بہت پچھتاوں گئے عفان بہتر ہے کہ سدھرجاوں ۔۔۔اور جاؤں یہاں سے ۔”۔۔۔۔قاسم نے مجھے گھرکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔رانی مما کے ساتھ چائے کی ٹرالی لے کر اندر داخل ہوئی چائے کے ساتھ کباب نگٹس کیک بسکٹ بھی تھے رانی نے تمام لوازمات کے ساتھ چائے بھی سینڑل ٹیبل پر رکھ دیں ۔۔۔مما فاریہ کے پاس بیٹھ کر چائے اور دوسری اشیا اسے سرو کروانے لگیں ساتھ میں ہلکی پھلکی گفتگوں بھی کرنے لگیں میں بھی قاسم کو پلیٹ میں کباب وغیرہ ڈال کر دینے لگا ۔۔۔
“اسے رہنے دو مجھے جو لینا ہو گا میں خود بھی لے سکتا ہوں تم جاؤں جا کر دیکھوں بھابی تیار ہوئی۔ کہ نہیں ۔”۔۔قاسم نے بھی شاید مجھے بھجنے کی قسم کھائی تھی ۔۔۔میں خاموشی سے اٹھ کر اوپر ماہم کے کمرے میں آگیا ۔۔۔جب میں اندر داخل ہوا ماہم بہت عجلت میں۔ تیار ہو رہی تھی مہرون کلر پر سلور کلر کے کام کے نیٹ کی شلوار قمیض میں لائٹ سے میک اپ میں وہ تقریبا تیار ہی تھی ۔۔۔۔
ماہم جیولری بکس کھولے ائیر رنگ ڈھونڈ رہی
تھی ۔
“ماہی جو ڈائمنڈ سیٹ قاسم نے تمہیں گفٹ گیا تھا آج وہ پہن لو تمہارے سوٹ کے ساتھ بہت میچ کرے گا “
۔”۔میری بات سن کر ایک نظر اس نے مجھ پر ڈالی اور پھر ایک نظر اپنے جوڑے پر سلور کام پر ڈائمنڈ کا سیٹ اس پر واقع بہت جچتا اثبات میں سر ہلا کر بولی
“اوہ ۔۔۔ہاں پہلے دراز میں ہے نکال دو ذرا” ۔۔۔۔ماہم نے اپنے جیولری بکس بند کر دیا ۔۔۔میں نے دراز سے سیٹ کا مخملی ڈبہ نکال کر ماہم کے ڈرسنگ پر رکھ دیا ۔۔۔ماہم اب قالین پر رکھے اپنے ہیل والے سلور سینڈل پہنے لگی بینڈیج اب بھی اس کے ہاتھ پر بندھی ہوئی تھی بس مشکل ہی وہ اسکے اسٹپ بند کر رہی تھی
“لاو میں پہنا دوں ۔۔”۔میں ماہم کے قریب آ کر بولا
“جی نہیں شکریہ جیسا تم نے کل پہنایا تھا یاد رہے گا مجھے “۔۔۔سینڈل پہن کر وہ کھڑی ہو گئ
“تو تم نے کون سا ادھار رکھا ہے ۔۔۔مماکو بتا کر ہی تمہیں سکون ملا ہے ۔۔۔۔”
“سکون ۔۔۔۔سکون کہاں ملا ہے۔۔۔۔”
‘وہ تو مجھے تب ملتا جب خالہ تمہاری صحیح والی ٹھکائی کرتی ” ۔۔۔۔مخملی ڈبیہ سے ائیر رنگ نکال کر پہنتے ہوئے ذردیدہ نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی
“بچپن سے اب تک اچھی خاصی مار اور ڈانٹ تم مما پاپا سے مجھے پڑوا چکی ہو ابھی بھی دل نہیں بھرا تمہارا” ۔۔۔میں نے مصنوعی غصے سے کہتے ہوئے مخملی ڈبیہ سے نیکلیس اٹھا لیا
“لاو ماہی میں پہنا دیتا ہوں” ۔۔۔۔۔نا جانے قاسم کی بات کا اثر تھا یا دل میں چھپی میری کوئی درینہ خواہش ۔۔۔جس میں برملا اظہار کر بیٹھا
‘جی نہیں میں خود پہن لوں گی” ۔۔۔۔ماہم نے میرے ہاتھ سے نیکلیس پکڑ لیا اور خود پہنے لگی ۔۔۔۔۔غصے کے باوجود اس کا موہنا سا روپ میرے دل میں اترنے لگا ۔۔۔۔بالوں پر وہ پہلے سے کلچر لگا چکی تھی اب بس ڈوپٹہ سیٹ کر رہی تھی ۔۔۔۔
“ماہی اگر تم بالوں کو کھلا رہنے دو تو ذیادہ سوٹ کریں گئے تم پر ۔۔۔۔۔اچھے تو اسکے بندھے بال بھی لگ رہے تھے مگر یہ میری خواہش تھی کہ ماہم اپنے بال کھلے رکھے ۔۔۔۔۔
“اچھا کھلے بال ذیادہ اچھے لگیں گئے “۔۔۔۔ماہم آئنے کے سامنے کھڑی اپنا جائزہ لینے کے بعد مجھ استفہامیہ انداز سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔
“ہاں تو اور کیا ۔”۔۔۔ماہم نے کیچر اتار کر ڈریسنگ پر رکھ دیا اور برش سے بال بنانے لگی ۔۔۔۔۔۔خود پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر مجھ سے پوچھنے لگی
“اب کیسی لگ رہی ہوں “
“بلکل پرفیکٹ ۔۔۔اب چلیں ۔”۔۔۔
“ہاں چلو”
ماہم میرے ساتھ ہی لونگ روم میں داخل ہوئی قاسم اور فاریہ بھی تیار کھڑے تھے مما نے ماہم کے رخسار پر پیار کیا اسکی تعریف کی ہم دونوں خوش رہنے کی دعائیہ کلمات کے ساتھ رخصت کیا ۔۔۔۔قاسم اور فاریہ اپنی گاڑی میں اور میں اور ماہم اپنی گاڑی میں
۔۔۔۔۔کار ڈرائیو کرتے ہوئے میری نظر بار بار ماہم پر جا کر ٹہر جاتی تھی اپنے مزاج کے بر خلاف آج میں خود بھی خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا ورنہ مجھے ڈائیونگ کے دوران بات چیت کی عادت تھی ۔۔۔۔قاسم کی باتیں میرے اندر ادھم سی مچانے لگیں تھیں ۔۔۔۔۔میری نظروں میں ماہم کے لئے وارفتگی بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔۔اسکے ہوا سے اڑتے بال بار بار اسکے چہرے کو چھو رہے تھے ۔۔۔جسے وہ بار بار کانوں کے پیچھے کر رہی تھی ۔۔۔۔اسکے نازک سے ہاتھوں میں میرے پہنائے کنگن کی کھنک میری دل کی دھڑکنوں میں نیا خماد سا بھرنے لگیں تھیں ۔۔۔۔دل کی خواہش تھی اسے سامنے بیٹھائے بڑی فرصت اور محویت سے دیکھوں اسے بتاؤں کہ وہ میرے لئے کیا اہمیت رکھتی ہے ۔۔۔۔کتنی حسین لگتی ہے ۔۔۔۔یہ نہیں کہ مجھے ماہم سے پہلے محبت نہیں تھی ۔۔۔۔تب بھی وہ مجھے بہت اچھی لگتی تھی مگر میں نے اپنے دل اور جذبات پر ایک حد بندی لگا رکھی تھی ۔۔۔۔۔مگر اب جو رشتہ ہمارے درمیان تھا ۔۔۔دل کہاں میری سنتا تھا ۔۔۔۔۔اسے دیکھنے سوچنے کے انداز میں خود با خود ہی بدلاؤں آنے لگا تھا ۔۔۔۔۔ماہم بھی خاموش ہی بیٹھی رہی قاسم کے گھر پہنچ کر ماہم فاریہ کے ساتھ ہی رہی ۔۔۔۔۔سب کچھ ماہم کی خواہش کے عین مطابق ہی سیٹ ہوا تھا قاسم کے نکاح لان پر سجے اسٹیج پر اور فاریہ کا گھر کے اندر ہوا تھا اسکے بعد فاریہ کے لئے ایک خوبصورت سی ڈولی تیار کی گئ تھی اسی میں بیٹھا کر اسے اسٹیج پر لایا گیا ۔۔۔۔سارے ہال کی لائٹس آف تھیں صرف فوکس لائٹ قاسم اور فاریہ پر ہی تھی جب وہ دونوں سامنے اسٹیج پر بیٹھ گئے تب بھی ہال کی لائٹ مدھم ہی رکھی گئیں تھیں لائٹ پنک کلر سے پورے ہال کو سجایا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ہلکے سے میوزک کے ساتھ انڈین سونگ چل رہے تھے ۔۔۔۔ہر ٹیبل پر کینڈل اسٹینڈ پر کئ شماعیں روشن تھیں ۔۔۔۔۔اس پر سرور ماحول کااثر سب ہی حاوی تھا ۔۔۔۔۔۔سب کے لبوں پر بس ارینجمنٹ کے ستائشی جمعلے تھے ۔۔۔۔۔۔ماہم کے چہرے کی چمک آنکھوں میں چمکتے جگنوں لوگوں کی تعریفی جمعلوں پر وہ پھولے نہیں سما رہی تھی ۔۔۔ڈنر سے کچھ پہلے وہ میرے ٹیبل پر آ کر رک گئ میں اپنے دو کولیگ کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔۔
“عفان”۔ ماہم کے پکارنے پر میرے ساتھ ساتھ میرے کولیگ بھی ماہم کی طرف متوجہ ہوگئے میں نے ان دونوں کو ماہم سے متعارف کروایا ۔۔۔۔۔ہائے ہیلو کے بعد وہ دونوں ہی اٹھ کر چلے گئے ماہم میرے سامنے بیٹھ گئ ۔۔۔۔اس کی آنکھوں کی چمک چہرے پر مسکان مجھے اسکی دلی مسرت کا کھل کر اعلان کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
“عفان یہ سب کیسا لگ رہا ہے تمہیں” ۔۔۔فرط جذبات سے ماہم کی آواز نہیں نکل رہی تھی ۔۔۔۔
” کیا یہ تمہیں مجھ سے پوچھنا چاہیے؟ ۔۔۔۔میرے استفہام پر ماہم نے محتیر سی ہوگئ
“ماہم یہاں موجود ہر شخص کی زبان پر صرف تمہارے لئے ستائش ہے ۔۔۔۔کیا پھر بھی تمہیں لگتا ہے کہ میرا یہ کہنا کہ ہاں سب بہت اچھا ہے ۔۔۔ماہی دس از آمیزنگ۔۔۔۔۔ آئی ہیو نو واڈ ۔ ٹو کومپلمنٹ یو سیریسلی ۔۔”۔۔میں نے مسکراتے ہوئے ماہم کی تعریف کی وہ کھل کر مسکرانے لگی
“ہاں نا عفان مجھے پھر بھی تم سے پوچھنا اچھا لگتا ہے ۔۔۔تم جب کہہ دیتے ہوکہ سب ٹھیک ہے تو سب ٹھیک ہوتا ہے” ۔۔۔۔ماہم کی عام کے انداز میں کہی گئ یہ بات مجھے آج بہت خاص لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
“اچھا اتنا بھروسہ ہے مجھ پر “
“یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ظاہر ہے عفان ۔۔۔تم مجھے غلط مشورہ دے ہی نہیں سکتے ۔”۔۔۔اسکے تیقن پر میری خوشی اور بڑھ گئ ۔۔۔۔۔جتنی وہ شادی پر خوش تھی اتنی ہی اداس اور ملول وہ واپسی پر لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔بلکل خاموش کسی خیال کے زیر اثر بس وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی
“کیا بات ہے ماہی بہت تھک گئ ہو ۔۔۔۔”
“ہمم ۔۔۔ہاں ۔۔۔۔کچھ کہا تم نے ۔”۔۔وہ اپنے ٹرانس سے باہر آئی تھی
“اتنی چپ چپ کیوں ہو ۔۔۔شادی پر تو بہت خوش تھی ‘
‘نہیں عفان ٹھیک تو ہوں ۔۔۔۔’
“تو شاید تھک گئ ہو “
“ہاں ۔۔۔۔۔بہت تھک چکی ہوں’ ۔۔۔۔۔وہ آنکھیں بند کیے اپنی سیٹ سے ٹیک لگائے خاموش سی ہو گئ ۔۔۔۔مگر کچھ دیر میں اسکی آنکھوں کے اطراف سے آنسوں گرنے لگے ۔۔۔۔۔
“ماہی رو رہی ہو “
“نہیں ۔۔۔۔۔نیند آ رہی ہے “۔۔۔۔مجھے ماہم کا لہجہ ٹوٹا ٹوٹا لگ رہا تھا
۔۔۔۔میں نے مزید استفسار نہیں کیا ۔۔۔۔۔شاید واقعی وہ تھکی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
مگر دل کہہ رہا تھا کہ نہیں ۔۔۔” وہ رو رہی ہے “۔
