Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 36
Rate this Novel
Tadbeer Episode 36
Tadbeer by Umme Hani
کمرے کا دروازہ کھل کر بڑی زور سے بند ہوا تھا ۔۔۔وہ ماہم ہی تھی اسکی آواز سے میری دھڑکنیں بڑھنے لگیں ۔۔۔۔کافی دیر وہ مجھ سے بات کیے بنا بس روتی سسکتی رہی ۔۔۔۔کیوں رو رہی تھی وہ ۔۔۔۔اسکی سسکیاں مجھے بے چین سی کر دیتیں تھیں ۔۔۔۔کافی دیر رونے کے بعد میرا ہاتھ پکڑ کر وہ بولنا شروع ہوئی
“خدا کے لئے اٹھ جاؤ عفان ۔۔۔۔ورنہ یہ لوگ تمہیں مار ڈالیں گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔مار ڈالیں گئے تمہیں” ۔۔۔۔۔وہ بلک بلک کر رونے لگی ۔۔مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسکی بات کو سمجھنے کی کوشش کروں یا اسکے بلکنے پر تڑپوں
“عفان ڈاکٹر رمشہ کو نا جانے کیا ہو گیا ہے ۔۔۔۔کہہ رہی ہے کہ اگر کچھ دن اور تمہاری یہی حالت رہی تو وہ لوگ تمہیں” ۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے بے حال ہوتے ہوئے بول رہی مگر بات مکمل کرنے پہلے پھوٹ پھوٹ کر سسکیاں لے کر رونے لگی ۔۔۔۔میں خود بھی یہ سن کر پریشان ہونے لگا تھا ۔۔۔میرا دل زور سے دھڑکنے لگا پھر مجھے چند دن پہلے کامران اور ڈاکٹر رمشہ کے درمیان ہونے والی گفتگوں یاد آنے لگی ۔۔۔۔تو اس کا مطلب ہے میری موت کا سوا کر چکا ہے میرا سگا خون ۔۔۔۔آنسوں میرے بھی بہنے لگے مگر وہ میرے دل پر گر رہے تھے ۔۔۔۔مجھے لگا میں آج اور ابھی مر چکا ہوں ۔۔۔وہ رو رہی تھی بلک بلک کر ہچکیوں سے ۔۔۔۔”میں مردہ وجود کے ساتھ سب سن رہا تھا ۔۔۔۔”
“میں مر جاؤں گی عفان ۔۔۔۔۔میں بھی زندہ نہیں رہوں گی ۔۔۔۔ختم کر لوں گی خود کو ۔۔۔اٹھ جاؤں عفان ۔۔۔۔۔ورنہ میں بھی مر جاؤں گی ۔۔۔۔۔سن رہے ہو نا تم ۔۔۔میں بھی زندہ نہیں رہوں گی “۔۔۔۔وہ روتے ہوئے کہہ کر میرا ہاتھ چھوڑ کر کمرے سے نکل گئ کمرے کا دروازہ بند ہوتے ہی مجھے لگا میرا دل بھی بند ہو جائے گا ۔۔۔۔ مجھے معلوم تھا کہ ماہی نے جو کہا ہے وہ کر گزرے گی
۔۔۔۔میں اپنے وجود کو پوری قوت لگانے لگا۔۔۔۔اپنی آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کرنے لگا مگر میں بے بس تھا میں دل ہی دل ۔میں گڑگڑاتے ہوئے اپنے رب سے مدد مانگنے لگا۔۔۔۔نا جانے کون سا وقت تھا دن تھا کہ رات تھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ مجھے قرآن کی تلاوت سنائی دینےگی وہ آواز کسی عورت کی تھی ۔۔۔میں نے پہلے کبھی سنی نہیں تھی ۔۔۔۔وہ میرے سرہانے بیٹھی بہت خوش الحانی سے تلاوت میں مشغول تھی۔۔۔پہلے تو مجھے اپنا گمان لگا ۔۔۔۔مگر جب ڈاکٹر رمشہ کی آواز بھی سنائی دی تو مجھے یقین ہو گیا کہ کوئی سچ میں قرآن پڑھ رہا ہے ۔۔۔۔۔
“آپ کس کی پرمشن سے یہاں آئیں ہیں” ۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ اس عورت سے مخاطب ہوئی تو تلاوت کرتے ہوئے وہ چپ ہو گئ تھی
“میں برابر والے کمرے سے آئیں ہوں ۔۔۔۔میرا بیٹا بھی کومہ میں تھا میں روز اسکے سرہانے قرآن پڑھتی تھی۔۔۔۔اور میں نے منت مانی تھی کہ اگر اسے ہوش آ گیا تو ایسے ہی کسی مریض کے سرہانے قرآن پڑھوں گی ۔۔۔اللہ نے بڑا کرم کیا ہے رات کو ہی میرے بچہ ہوش میں آیا ہے ۔۔۔اور اس ہاسپٹل میں کومہ کے بس دو ہی مریض ہیں ایک میرا بیٹا اور دوسرا یہ بچہ ۔۔۔تمہاری مہربانی ہو گی اگر تم مجھے قرآن پڑھنے دو تو میں جلد ہی ختم کر لوں گی۔۔۔۔”وہ عورت التجا کرنے لگی
“ٹھیک ہے پڑھ لیں مگر دس پندرہ دن میں مکمل کرلیں اس کے بعد آپ کو موقع نہیں ملے گا شاید ہم انہیں اور زندہ نا رکھ پائیں” ۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ کی بات سن کر اشتعال کے مارے میری دھڑکنیں بڑی تیز رفتار سے چلنے لگیں ۔۔۔۔
“اللہ نا کرے بیٹا ۔۔۔۔ٹھیک ہو جائے گا یہ بھی اللہ کے کلام میں بڑی طاقت ہے۔۔۔۔اور قرآن بذات خود شفا ہے۔۔۔۔مجھے اپنے رب پر پورا بھروسہ ہے یہ بھی اٹھ بیٹھے گا انشااللہ ۔۔۔۔”
“اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔۔۔بہرحال آپ کل سے نرس کی موجودگی میں تلاوت کریں گی” ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے بیٹا ۔”۔۔وہ نیک خاتون فورا مان گئ۔۔۔۔اور دوبارہ تلاوت کرنے لگی ۔۔۔مجھے پھر سے ایک امید سی بندھ گئ جب اللہ اپنے کلام سے اس نیک خاتون کے بیٹے کو ٹھیک کر سکتا ہے تو مجھے کیوں نہیں ۔۔۔۔میں نے اپنی ذہن کو سوچوں سے ہٹا کر پوری یکسوئی سے قرآن پاک کی تلاوت سنے لگا۔۔۔۔
*******……..********……..*******…….******
ماہی تمہیں صبح پھولوں کا گلدستہ کیسا لگا ۔۔۔بیڈ پر لیٹے ہوئے مجھے صبح ماہم کو دیئے پھولوں کا خیال آیا تو میں نے پوچھ لیا
“اچھے لگے تھے جبھی تو میں نے واز میں سجا دیے دیکھوں ابھی تک فریش ہیں اور پورے کمرے میں انکی بھینی بھینی خوشبوں پھیلی ہوئی ہے” ۔۔۔آنکھیں بند کیے وہ گہری سانس لیتے ہوئے پھولوں کی خوشبوں اندر اتارنے کی کوشش کرنے لگی
“اور کارڈ ۔”۔۔میں نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا
“ہاں یاد آیا مجھے ۔۔۔عفان وہ کارڈ تو وہی ہے نا جو تم نے میٹرک میں لیا تھا ۔۔۔۔اور میں نے ہی تمہیں کسی دوست کو دینے کے لئے خرید کے دیا تھا ۔۔۔۔تم نے دیا نہیں تھا اسے اور اب تک سنبھال کر رکھا تھا” ۔۔۔۔وہ حیرت سے پوچھنے لگی
“کوئی تھی ہی نہیں کسے دیتا “۔۔۔۔میں کندھے اچکا کر بولا ۔۔۔
“جھوٹ مت بولو مجھ سے۔۔۔۔ کوئی نا کوئی تو تھی تمہاری لائف میں تم نے کہا تھا مجھ سے وقت آنے پر بتاؤں گئے ۔۔۔اب بتاؤں ۔”۔۔۔ماہم کے سوال کا میں کیا جواب دیتا ۔۔۔۔
“اب کیا بتاؤں ۔۔۔خواہمخواہ میں جیلس ہو گئ تم” ۔۔۔۔میں نے بات بدلنے کی کوشش کی
“او ہیلو ۔۔۔میں کیوں جیلس ہونے لگی ۔۔مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا “۔۔۔۔وہ چڑ کر بولی
“کیوں نہیں پڑتا فرق ۔۔۔۔ذیادہ بنو مت ۔۔۔میں کسی لڑکی کا ذکر کروں گا تو تمہیں ضرور برا لگے گا ۔۔۔سب بیویوں کو لگتا ہے ۔۔۔۔”میں نے اسکی ناک دبا کر کہا
“لیکن مجھے کبھی اس بات سے فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔میں نے کونسا تم سے محبت کی ہے” ۔۔۔۔انجانے اور لا پروائی سے وہ گہری چوٹ تھی جو وہ مجھے دے رہی تھی ۔۔۔۔
میں خاموش ہو کر لیٹ گیا اس سے بحث ہی فضول تھی ۔۔۔۔وہ بھی میرے برابر میں لیٹ گئ
“عفان”
“ہمم ۔’۔۔۔میں آنکھیں بند کیے ہی بولا
“کہیں وہ قاسم بھائی کی کزن تو نہیں ۔۔۔وہی ہو گی۔۔۔۔ہوٹل میں بھی تم سے بہت بے تکلفی سے بات کر رہی تھی ۔۔۔۔ اور اس دن قاسم بھائی کی مہندی پر بھی اس نے اتنا ہنگامہ مچایا تھا ۔۔۔اب مجھے سمجھ آ رہا ہے ضرور تمہاری وجہ سے ہی کیا ہو گا سب ۔۔۔ورنہ میری اس سے بھلا کیا دشمنی تھی “۔۔۔۔
“شٹ اپ ماہی ۔۔۔۔میرا مہک سے کوئی افیر نہیں تھا ۔۔۔۔ہاں اگر اس نے خود سے کوئی خوش فہمی پال لی تھی تو وہ اس کا مسلہ ہے میرا نہیں ۔۔۔”میں تپ کر بولا
“کیوں نہیں تھا افیر ۔۔۔اتنی تو خوبصورت تھی وہ ۔۔۔۔پھر تمہیں پسند کیوں نہیں آئی ۔۔۔”وہ ایسے دلچسپی سے پوچھ رہی تھی جیسے اسے اس بات سے کوئی فرق ہی نا پڑتا ہو۔
“تمہاری وجہ سے ۔۔۔تم جو اچھی لگتی تھی مجھے ۔۔۔۔اس لئے کوئی اور نظروں کو بھائی ہی نہیں “۔۔۔۔میں نے بات کا رخ ماہم کی طرف موڑ دیا نا جانے کہاں سے اسے مہک یاد آگئ تھی ۔۔۔۔
“ڈونٹ ٹل می آ لائے عفان ۔۔۔۔اب یہ مت کہنا کہ تم مجھ سے محبت کرتے تھے ۔۔۔۔ہمیں ایک دوسرے سے محبت نہیں ہے ہم صرف کامپرومائز کر رہے ہیں ۔۔۔۔بے فکر رہو میں تمہاری طرحconservative بھی نہیں ہوں ۔۔۔۔اگر وہ تمہارے لئے کچھ اہمیت رکھتی بھی تھی تو اٹس او کے مجھے کوئی جیلسی نہیں ہے ۔۔”وہ بڑے مزے سے کندھے اچکا کر بولی ۔مجھے ماہم کی بات بہت بری لگی تھی میں اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔بیویوں والی جلن کیوں اسے میرے حوالے سے محسوس نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔نا جانے کیوں مجھے غصہ آنے لگا ۔۔۔۔
“کامپرمائز تم کر رہی ہو گی ماہی ۔۔۔میں نہیں کررہا ۔۔۔۔میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے ۔۔۔۔اور وہ لڑکی بھی تم تھی جس کا میں تمہیں بتانا چاہتا تھا ۔۔۔۔میرا دل دیوانوں کی طرح چاہتا ہے تمہیں ۔۔۔۔آج سے نہیں نا جانے کب سے ۔۔۔۔۔بس تمہیں کبھی نظر نہیں آیا “۔۔۔۔جلد بازی اور غصے میں جو سچ میں بول گیا تھا ۔۔۔۔مجھے اس کا احساس بعد میں ہوا تھا ماہم حیرت سے آنکھیں پھاڑے منہ کھولے مجھے بے یقینی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میں دوبارہ سے لیٹ گیا ۔۔۔
،’تم ۔۔۔تم جھوٹ بول رہے ہو ۔۔۔ہے نا ۔”۔۔۔وہ با ضبط لہجے میں پوچھ رہی تھی
“تمہیں جو سمجھنا ہے سمجھتی رہو “۔۔۔میں نے ترشی سے جواب دیا اور کروٹ بدل لی مگر ماہم نے مجھے جھنجھوڑ کے رکھ دیا
“ادھر دیکھوں میری طرف ۔۔۔مجھے سچ سنا ہے ۔۔۔جھوٹ بول رہے ہو تم ہے نا ۔۔”۔۔میں اٹھ کر بیٹھ گیا وہ غصے سے بھپری ہوئی بیٹھی تھی
“نہیں۔۔۔۔ میں نے جو کہا ہے وہ سچ ہے ۔۔۔۔کیا سمجھتی کو تم ۔۔۔۔۔تمہارا اتنا خیال میں کیوں رکھتا تھا ۔۔۔۔تمہارے منہ سے نکلنے والی ہر فرمائش میرے لئے حکم کا درجہ کیوں رکھتی تھی ۔۔۔۔تمہارے لئے اتنی ڈانٹ میں چپ چاپ کیوں کھاتا تھا۔۔۔۔تمہیں تمہاری دوست کے بھائی کے ساتھ دیکھ کر کیوں برا لگا تھا مجھے ۔۔۔۔ تمہارے ہر آنے والے رشتے کر مجھے اعتراض ہوتا تھا ۔۔۔۔کیوں ۔۔۔۔کبھی سوچا ہے تم نے ۔۔۔۔الو کا پٹھا نہیں ہوں میں ۔۔۔۔جو یہ سب یونہی سہتا رہا ہوں اور اب تک بہت کچھ سہہ رہا ہوں ۔۔۔۔”آج غصے میں میں نے وہ سب رازفاش کر دیے تھے جو اب تک دل میں ہی چھپا رکھے تھے
“وہ سب تم دوستی میں نہیں کرتے تھے؟” ۔۔۔وہ اب بھی بے یقین تھی ۔۔۔
“۔ تمہاری محبت میں کرتا تھا ۔۔۔۔بہت شوق ہے نا تمہیں تعریف سننے کا محبت کے اظہار سنے کا۔۔۔۔ہاں نہیں آتی مجھے لفظوں سے تمہاری تعریف بیان کرنی ۔۔۔۔میں محبت کو عملی طور پر ظاہر کرنے پر یقین رکھتا ہوں میرا ہر عمل تم سے چیخ چیخ کر کہتا ہے ۔۔۔میں محبت کرتا ہوں تم سے ۔۔۔۔میرا دل دیوانوں کی طرح چاہتا ہے تمہیں ۔۔۔۔”میں ماہم کی آنکھوں دیکھتے ہوئے بولنے لگا
“شٹ اپ عفان کتنے بڑے دھوکے باز ہو تم ۔۔۔۔تم ۔۔۔تمہارا دل ۔۔۔ائی ہیٹ اٹ ۔۔۔۔یعنی کہ ایک میں بیوقوف ہوں جو کامپرومائز کی زندگی جی رہی یہ سمجھ کر کہ جب تم سمجھوتے کی زندگی گزار سکتے ہو تو میں کیوں نہیں ۔۔۔۔مگر ۔۔۔تم ۔تو ۔۔۔کتنی غلط تھی میں ۔۔۔۔رانی صیصح کہتی تھی تم غلط نظر رکھتے تھے مجھ پر ۔۔۔آئی کانٹ ۔۔۔۔۔آئی کانٹ بلیو عفان “۔۔۔۔وہ رونے لگی ۔۔۔۔۔اسکے لہجے میں تاسف تھا مجھے اپنے اظہار پر افسوس سا ہونے لگا جو کچھ جیسا چل رہا ویسا ہی رہنے دیتا کیا ضرورت تھی مجھے یہ سب بتانے کی
“کتنی بیوقوف تھی میں ۔۔۔۔دوستی کے رشتے کو سچا سمجھتی رہی ۔۔۔کیا خبر تھی کہ تم مجھ پر بری نظر رکھے ہوئے ہو” ۔۔۔۔ماہم کی بات پر مجھے حیرت کا جھٹکا لگا ۔۔۔میں اور بری نظر ۔۔۔۔ایسا تو کبھی نہیں۔کیا تھا میں نے ۔۔۔۔میرے جذبے تو سچے ہی تھے
“بری نظر کبھی نہیں رکھی تم پر ماہی آئی سوئر ۔۔۔”میں نے دھیرے سے کہا
“شٹ اپ ۔۔۔۔دھوکا دیا نے مجھے ۔۔۔۔”
“ماہی” ۔۔۔میں نے اس ہاتھ پکڑ کر نرمی سے سمجھانا چاہا
“دور رہو مجھ سے ۔۔۔۔آئی ہیٹ یو ۔۔۔۔اور یہ جو تمہارا دل ہے نا ۔۔۔۔ آئی ہیٹ اٹ ۔’۔۔۔۔اس نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑوایا تھا
“اچھا رونا تو بند کرو اپنا” ۔۔۔۔میں بات کو سلجھانے کا سرا تلاش کرنےلگا مگر وہ کچھ بھی سننے کی وہ تیار نہیں تھی
“عفان بات مت کرو مجھ سے ۔۔۔۔”اسکے تلخ لہجے پر میں نے بھی تن کر جواب دیا
“او کے نہیں کرتا ۔۔”۔میں دوبارہ لیٹ گیا اسوقت وہ کوئی وضاحت سننے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔۔کچھ دیر ماہم کی رونے کی آوازیں آتی رہیں مگر کچھ ہی دیر میں کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئ ۔۔۔۔میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ سو چکی تھی ۔۔۔میں ایک اطمینان بھری سانس بھری اور سونے کے لئے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔
صبح میں گہری نیند میں تھا جب موبائل کی ہپ ہپ سے میری آنکھیں کھلی ۔۔۔۔ بنا نمبر دیکھے میں نے نیند میں کال اٹینڈ کی دوسری طرف قاسم تھا
“کدھر ہو یار انٹرویو کے لئے سب لوگ جمع ہوچکے۔۔کب سے تمہارا ویٹ کر رہا ہوں” ۔۔۔۔قاسم کی بات سن کر میں فورا سے اٹھ بیٹھا ۔۔۔۔ میں نے موبائل میں ٹائم دیکھا ساڈھے نو بج رہے تھے “مجھےاسوقت آفس میں۔ ہونا چاہیے تھا ۔۔۔۔میں نے موبائل کا الارم دیکھا تو وہ آف تھا موبائل کی ٹیون بھی آف تھی حالانکہ رات کو میں سب کچھ خود چیک کر کے رکھا تھا ۔۔۔۔صرف موبائل کا وائبریٹ آن تھا ۔۔۔اس وقت مجھے آفس میں ہونا چاہیے تھا یہ یقینا ماہم کی کارستانی تھی۔۔۔۔۔مگر کیوں؟ ۔۔۔۔مجھے جی بھر کر ماہم پر غصہ آنے لگا مگر اب ماہم سے سوالوں جواب کا وقت نہیں تھا مجھے آفس پہنچنا تھا ۔۔۔۔میں نے لحاف اتارا
“ماہی جلدی اٹھو یار آفس سے لیٹ ہو۔چکا ہوں ۔ میں کپڑے نکالو میرے ۔۔۔میں نے واش جانے سے پہلے ماہم سے کہا
“اپنے پاگل دل سے کہو جو کہنا ہے ۔۔۔ میں تمہارے کام نہیں کروں گی ۔”۔۔۔ماہم ہنوز لیٹے ہوئے بولی ۔۔۔۔
اوہ تو اس بات کا غصہ تھا اسے میں سوچ کر رہ گیا اپنے پیروں پر کلہاڑی تو میں خود ہی ماری تھی اب اس سے تکرار کیا کرتا ۔۔۔میں نے خود کپڑے نکالے اور واش روم میں گھس گیا ۔۔۔۔کپڑے تبدیل کر کے میں نے موبائل جیب میں ڈالا سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولا تو بٹوا غائب تھا ۔۔۔
“ماہی والٹ کہاں رکھا ہے میرا جلدی دو مجھے ۔۔۔۔آل ریڈی لیٹ ہو چکا ہوں میں ۔۔۔۔”
“اپنے دل سے پوچھو” ۔۔۔۔ماہم وہیں لیٹے لیٹے بولی مجھے غصہ آنے لگا ۔۔۔۔
“فار گاڈ سیک یار بتاؤں والٹ کہاں ہے میرا ۔”۔۔میں چلا کر بولا مگر اس پر مطلق کوئی اثر نہیں ہوا تھا
“کیوں تمہارا دل کوئی جواب نہیں دے رہا میرے بارے میں تو بہت کچھ بولتا ہے” ۔۔۔وہ ویسے ہی بازو آنکھوں کر رکھے مجھے مسلسل زچ کر رہی تھی
“یہ کونسا ٹائم ہے ان باتوں کا” ۔۔۔۔۔۔میں نے موزے اور شوز ایک ہاتھ میں پکڑے اور ٹائی یونہی گلے میں لٹکائی اور دوسرے ہاتھ میں اپنے لیپ ٹاپ کا بیگ پکڑا
“تمہیں تو میں آ کر پوچھوں گا ۔۔۔۔چھوڑو گا نہیں تمہیں ۔۔۔۔اسٹوپٹ لڑکی ۔”۔۔۔میں دانت کچکچا کر اسے گھورتے ہوئے کمرے سے نکل گیا
لاونج میں ہی مجھے مما نظر آ گئیں
“مما فٹافٹ سے پیسے دیں مجھے ۔۔۔میرا والٹ نہیں مل رہا “۔۔۔۔مما میرے پاس آکر مجھے سر سے پیر تک دیکھ کر بولی ۔۔۔۔
“تم ابھی تک آفس نہیں گئے ۔۔۔اور ماہم کہاں ہے “
“مما میں پہلے ہی لیٹ ہو چکا ہوں پیسے دیں مجھے “۔۔۔۔مما نے جلدی سے اپنے کمرے میں سے پیسے لا کرمجھے دیے ۔۔۔۔میں تیزی سے پورچ میں گیا کریم بابا کو گیٹ کھولنے کا کہہ کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔میں کافی اسپیڈ سے ڈرائیو کر رہا تھا میرا موبائل اب مسلسل بج رہا تھا مجھے معلوم تھا کہ قاسم ہی کال کر رہا ہو گا اس لئے میں نے کال اٹینڈ نہیں کی ۔۔۔گاری جب ریڈ لائٹ پر رکی میں نے سب سے پہلے تو موزے پاؤں پر چڑھانے شروع کیے ۔۔۔برابر کی گاڑیوں میں بیٹھے مسافر میری اس کارکردگی پر مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔بہرحال جوتے پہنے کا مرحلہ طے ہونے کے بعد میں نے گاڑی کا فرنٹ شیشہ سیٹ کیا اور ڈائی پہنے لگا جب تک گرین لائٹ آن ہوئی میں اپنی تیاری مکمل کر چکا تھا۔۔۔۔بس اب جوتوں پر لگی گرد ہی باقی رہ گی تھی وہ میں نے آفس سے اندر جانے سے پہلے اپنی پینٹ کے پچھلے پہنچوں سے صاف کیے اور اندر داخل ہو گیا باہر ہال میں لمبی قطار دیکھ کر مجھے قاسم کے غصے کا با خوبی اندازہ ہو گیا تھا ۔۔۔میرے کمرے میں داخل ہوتے ہی قاسم کی خشمگین نظریں مجھی پر جمی ہوئیں تھیں ۔۔۔میں نے پروا کیے بغیر اسے انٹر ویو کے لئے آنے والوں کو اندر بلانے کے لئے کہا ۔۔۔۔آج کا پورا دن تھکا دینے والا تھا ۔۔۔۔ایک منت کی فرصت نہیں ملی تھی ۔۔۔۔رات کو بھی میں کھانا کھا کر جلد ہی اپنے کمرے میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔موبائل پر اپنا ٹائم سیٹ کر رہا تھا جب ماہم اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔وہ بھی غصے میں تھی فورا آکر لیٹ گئ
“جو کچھ آج صبح تم نے کیا ہے نا ماہی آئندہ غلطی سے بھی مت کرنا ورنہ بہت سختی سے پیش آؤنگا تمہارے ساتھ “۔۔۔۔محبت اپنی جگہ مگر آفس کے معاملے میں تاخیر سے جانا مجھے ویسے ہی پسند نہیں تھا
“مجھ سے بات مت کرو ۔۔۔صرف اپنے دل کی سنا کرو”۔۔۔وہ بھی تن کر بولی
“وہ اب میں نہیں۔۔۔۔ تم سنا کرو گی” ۔۔۔۔میں نے دھونس جماتے ہوئے کہا وہ مجھے کڑے تیوروں سے دیکھنے لگی
“میں تو نہیں سنو گی ۔۔۔۔جیسے تم دھوکے باز ہو ویسا تمہارا دل دھوکے باز ہے ۔۔۔”
“پھر تو تم بھی دھوکے باز ہوئی ۔۔۔۔میں نے بھی وہی کیا جو تم نے کیا ۔۔۔”
“میں کیا کیا ہے”
“محبت۔۔۔۔جیسی تمہیں کامران سے ہوئی تھی ایسے ہی مجھے تم سے ہو گئ ۔۔۔۔۔جسے وہ تمہیں پسند تھا ۔۔۔۔ایسے ہی تم مجھے اچھی لگتی تھیں ۔۔۔میں دھوکہ کبھی نہیں دیا تمہیں ۔۔۔۔جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ تم کامران کو چاہتی ہو اور وہ بھی تم سے منگنی کا خواہشمند ہے ۔۔۔میں نے کوئی احتجاج نہیں کیا تھا ۔۔۔خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا تھا ۔۔۔کبھی بھی تمہارے اور کامران کے بیچ میں آنے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔بات تک نہیں کرتا تھا تم سے ۔۔۔۔یہاں تک اٹلی میں اپنی جاب کے لئے اپلائی بھی کر دیا تھا ۔۔۔اگر تمہاری شادی کامران سے ہوتی تو میں پاکستان میں کبھی رہتا ہی نہیں ۔۔۔چلا جاتا یہاں سے ۔۔۔تا کہ تم دونوں کی زندگی کبھی میری وجہ سے ڈسٹرب نا ہو ۔۔۔لیکن اب اگر قسمت میں میرا تمہارا ساتھ ہی لکھا ہے اور ہمہیں ایک ساتھ ہی رہنا ہے تو تم سے جھوٹ کیوں بولوں۔۔۔پھر بھی تمہیں لگتا ہے میں نے دھوکہ دیا تو جو چاہے سزا دیدو ” ۔۔۔۔میری بات ماہم نے خاموشی سے سنی تھی کچھ نہیں بولی تھی ۔۔۔۔میں بھی پورے دن کا تھکا ہوا تھا اس لئے آنکھیں بند کیے لیٹ گیا
*******………********……….********……..***
ماہم میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ جب اسے بات سمجھ آ جاتی تھی وہ خود ہی اپنا رویہ ٹھیک کر لیتی تھی ۔۔۔۔مجھ سے بھی اب وہ ٹھیک سے رہنے لگی تھی زندگی ایک معمول پر آ چکی تھی ۔۔۔۔۔ایک مہینے کی انتھک محنت کے بعد میں اور قاسم نے آفس کے سارے معاملات سنبھال کر باقاعدہ کام کا آغاز کر چکے تھے ۔۔۔۔اب ہم دونوں برابر کے پاٹنر تھے دونوں کے شیر بھی برابر تھے ۔۔۔۔مہینے بعد کوئی فرصت کا سنڈے ملا تھا اس لئے میں نے قاسم اور فاریہ کو گھر پر ہی کھانے پر انوائٹ کیا تھا ۔۔۔۔سب کچھ ماہم نے گھر ہی بنایا تھا ۔۔۔۔۔۔ڈائنگ ٹیبل مختلف لوازمات سے بھر دی تھی ۔۔۔۔کھانا فاریہ اور قاسم دونوں کو بیحد پسند آیا تھا اور وہ تعریف بھی خوب کر رہے تھے ۔۔۔۔ماہم بس جواب میں۔ مسکرا ہی رہی تھی میں نے نوٹ کیا وہ کچھ چپ چپ سی تھی کھانا ٹھیک سے نہیں کھا رہی تھی ۔۔۔۔تھکی تھکی بھی لگ رہی تھی رات کو بھی لیٹتے ہی سو گئ
صبح جب میری آنکھ کھلی وہ میرے کپڑے نکال کر رکھ رہی تھی ۔۔۔۔مگر بہت سستی سے کر رہی تھی تھکن۔ کے آثار اسکے چہرے پر عیاں تھے
“دعوت کی وجہ سے بہت تھک گئ ہو تم ۔۔۔کیا ضرورت تھی اتنا کچھ بنانے کی مجھ سے کہہ دیتی میں کچھ بازار سے لے آتا” ۔۔۔۔میں نے دونوں شانوں سے پکڑ کر اسے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بہت لگاوٹ سے دریافت کیا وہ زبردستی سے بس مسکرا ہی سکی
“ایسی بات نہیں ہے ۔۔بس یونہی سر چکرا رہا ہے ۔۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں”… وہ اپنی کنپٹیاں دبانے لگی ۔۔۔اسکی آنکھیں بھی نیند نا پوری ہونے کی وجہ سے متورم تھیں اور رنگت بھی ذردی مائل لگ رہی تھی ۔
“تم چھوڑو سارے کام ۔۔۔۔لیٹو ادھر ۔۔۔کچھ دیر آرام کر لو ۔۔۔یہ نا ہو کہ بیمار پڑ جاؤ میرے ناشتے کی فکر مت کرنا میں خود کر لوں گا “۔۔۔مجھے ماہم کی طرف سے فکرمندی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔ایسا نہیں تھا کہ اس نے پہلی بار کھانے پر اتنا اہتمام کیا تھا ہر بار مہمانوں کے آنے کر وہ یہ سب کرتی ہی تھی مگر یوں مرجھائی سی تو پہلے کبھی نہیں لگی تھی
“اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔تم خواہمخواہ ہی فکرمند ہو رہے ہو ۔۔۔چائے پیو گی توفریش ہو جاؤں گی ۔”۔۔وہ زبردستی مسکرانے لگی
“فی الحال تم صرف آرام کرو گی اور کچھ نہیں کرو گی ۔۔۔۔میں مما سے بھی کہہ دونگا ناشتہ رانی تمہیں اوپر کمرے میں دیدے گی ۔”۔۔۔میری بات پر ماہم نے بھی ذیادہ مزحمت نہیں کی وہ چپ چاپ بیڈ پر لیٹ گئ جب میں آفس کے لئے نکلنے لگا وہ سو چکی تھی نیچے ڈائنگ روم میں مما مجھے اکیلا دیکھ کر ماہم کے بارے میں پوچھنے لگیں ۔۔۔۔
شاید طعبیت ٹھیک نہیں ہے اسکی ۔۔۔۔سونے دیں اسے ۔۔۔میں چائے کپ میں ڈالنے لگا ۔۔۔۔
******………*******………******…….******
جب میں۔ شام کو آفس سے واپس آیا ماہم تب بھی مجھے لاونج میں نظر نہیں آئی ورنہ میری واپسی پر وہ ہمیشہ لاونج میں کھڑی ملتی تھی میرا بیگ پکڑتی تھی کوٹ اتار کر اوپر رکھنے چلی جاتی تھی پھر چائے بنا کر دیتی تھی کچھ دیر بیٹھ کر میری مصروفیات کا پوچھتی تھی اور میں اسکی روٹین کاپوچھتا تھا ۔۔۔۔مما پاپا سامنے لانج میں رکھے ٹیبل پر چائے کے کپ میٹھائی بسکٹ اور سنیکس رکھے باتوں میں مصروف سے اور موڈ بھی دونوں کا خوشگوار لگ رہا تھا ۔۔مجھے دیکھ کر دبی دبی سے مسکراہٹ سے دونوں نے ایک دوسرے کو اشارہ کیا ۔۔۔پھر میری طرف متوجہ ہو گئے
“آؤ بھئ ۔۔۔بہت دیر کر دی آنے میں” ۔۔۔۔میں پاپا کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گیا اپنا بیگ سائیڈ پر رکھا اور کوٹ اتارنے لگا
“دیر تو نہیں ہوئی اپنے وقت پر ہی آیا ہوں” ۔۔۔۔میں نے سامنے وال کلاک ہر نظر ڈالتے ہوئے کہا جو سات بنا رہی تھی اور میں اسی وقت واپس آتا تھا ۔۔۔میں کوٹ صوفے کی پشت پر رکھ دیا ۔۔۔
“ہاں صفیہ یہ تو وقت پر ہی آیا ہے شاید ہمہیں اس کا انتظار تھا اس لئے ہمہیں لگا اسے دیر ہو گئ ہے “۔۔۔۔
“چائے پیوں گئے عفان ۔۔۔۔”
“جی مما” ۔۔۔۔میں نے ٹائی کی نیٹ ڈھیلی کی ۔۔۔۔
“ماہم کہاں ہے مما نظر نہیں آ رہی ۔۔۔۔میں ادھر ادھر نظریں گھمائیں ۔۔۔۔”
“ہاں وہ اپنے کمرے میں ہے ۔۔۔طعبیت ٹھیک نہیں تھی اسکی اس لئے آرام کر رہی ہے” ۔۔۔مجھے چائے کا کپ پکڑاتے ہوئے مما یہ بات بہت عام سے انداز سے بتا رہیں تھی اور مسکرا بھی رہیں تھیں ۔۔۔۔مگر مجھے ماہم کی فکر ہونے لگی دل میں آیا کہ چائے وہی۔ چھوڑ کر فورا سے پیشتر ماہم کے پاس چلا جاؤں ۔۔۔دیکھوں اسے کیا ہوا ہے مگر پاپا کے سامنے مناسب نہیں لگا ۔۔۔۔کیا سوچیں گئے میں بیگم کو دیکھنے کے لئے اتاولا ہو رہا ہوں ۔۔میں نے چائے کا کپ پکڑا ۔۔۔اورٹیبل پر رکھ دیا
“اگر ذیادہ طعبیت خراب تھی اسکی ۔۔۔تو مما آپ مجھے کال کر دیتیں میں ڈاکٹر پر لے جاتا اسے ۔۔۔۔”
“مطلب کیا ہے تمہارا ۔۔اب کیا میں اپنی بہو کوڈاکٹر پربھی نہیں لے جا سکتی۔میں لے گئ ماہم کو اب ٹھیک ہے وہ” ۔۔۔۔۔مما برا مانتے ہوئے بولیں ۔۔۔مجھے مما کے منہ سے ماہم کے لئے بہو سن کر کچھ عجیب سا لگا تھا آج سے پہلے انہوں نے اسے کبھی بہو نہیں کہا تھا ۔۔۔۔۔
“تم چھوڑو اپنی ماں کو اسے تو فضول میں میں بولنے کی عادت ہے تم یہ میٹھائی کھاو ۔۔۔۔اور منہ میٹھا کرو” ۔۔۔۔پاپا نے میرے منہ میٹھائی ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔
“یہ کس خوشی میں۔ ہے پاپا کہ بھائی کی شادی کی ڈیٹ فکس کر دی ہے “۔۔۔۔میں میٹھائی سے بھرے ہوئے منہ سے با مشکل ہی کہہ پایا
“وہ بھی ہو جائے گی ۔۔۔یہ سب تو میرے دادا بننے کی خوشی میں ہے “۔۔پاپا نے خوشی سے مسکراتے ہوئے بتایا مگر میرا ذہن اسوقت ماہمی طرف سے پریشان تھا میں غور کیے۔بنا ہی مما کی طرف متوجہ ہو گیا
“ہمم۔۔۔۔مما کیا کہا ہے ڈاکٹر نے ۔۔۔۔کیا ہوا ہے ماہی کو ۔۔۔۔”
“وہی جو تمہارے پاپا نے بتایا ہے ۔۔۔بدھو “۔۔۔مما نے ہنستے ہوئے مجھ سے کہا میں نے برجستہ پاپا کی طرف دیکھا پھر پاپا کے کہے ہوئے جعملوں پر غور کرنے لگا مما پاپا کی دبی دبی مسکراہٹ میں اب سمجھا تھا ۔۔۔۔مجھے یقین نہیں آ رہا تھا
“یعنی کہ میں” ۔۔۔۔۔خوشی کے مارے میرے منہ سے الفاظ ادا نہیں ہو پا رہے تھے میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کیسے میں اپنی خوشی کا اظہار کرو میرا اب وہاں رکنا مشکل تھا ۔۔۔۔میں نے سیڑیوں کی طرف جاتے ہوئے مما کی آواز سنی
“عفان اگر ماہم سو رہی ہوئی تو اسے جگانا مت “۔۔۔۔میں نے مما بات کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں ۔۔۔مجھ پر تو شادی مرگ جیسی کیفیت طاری تھی لگ رہا تھا آسمان میں اڑ رہا ہوں ۔۔۔۔میں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی کمرے کی تمام لائٹس آن کر دیں پورا کمرہ روشنیوں سے جگمگا اٹھا تھا ۔۔۔۔ماہم بے خبر سو رہی تھی ۔۔۔اتنی چکا چوند روشنیوں میں بھی ماہم ٹس سے مس بھی نہیں ہوئی ۔۔۔مگر جو خوشی کی خبر میں سن کر آ رہا تھا ماہم سے سننے کو بے تاب تھا ۔۔۔دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کتنا خوش ہے ۔۔۔۔میں نے آہستہ سے اسے بازو سے ہلا کر اٹھانا چاہا
“ماہی اٹھو بھی ۔۔۔اتنا خوشی کا موقع ہے اور تم سو رہی ہو ۔۔نیند کیسے آ رہی ہے تمہیں “۔۔۔۔میرے ہلانے اور بولنے پر اسکی خمار آلود آنکھیں با مشکل ہی کھلیں تھیں
“عفان سونے دو نا ۔۔۔۔مجھے نہیں اٹھنا” ۔۔۔وہ نیند میں بول رہی تھی ۔۔۔
“کوئی سونا ونا نہیں ہے اٹھو ماہی” ۔۔۔میں لحاف اس کے اوپر سے اتارتے ہوئے کہا
“مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔کیوں پریشان کر رہے ہو مجھے” ۔۔۔۔۔وہ اس بار زچ سی ہو کر بولی
“ارے میں خوشی سے پاگل ہو رہا ہوں اور تمہیں نیند سوج رہی ہے”…… اس بیزار سی صورت میں تم بلکل اچھی نہیں لگ رہی ہو ۔
“۔۔چلو نا ماہم آئسکریم کھلا کر لاتا ہوں تمہیں” ۔۔۔
“مجھے نہیں کھانی عفان۔”۔۔۔وہ چڑ کر بولی اور لحاف منہ تک تان لیا ۔۔۔۔اسکے غیر متوقع جواب کا مجھے یقین نہیں آیا ۔۔۔وہ اور آئسکریم کو منع کر دے ۔۔۔
“آر یو شیو ماہی ۔۔۔تم نے آئسکریم نہیں کھانی ۔۔”۔مجھےاب بھی اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا
“مجھے سونا ہے عفان “
“جی نہیں اٹھ کر بیٹھو۔۔۔۔۔مجھے بہت ساری باتیں کرنی ہے تم سے ۔۔۔تم جانتی نہیں ہو کتنا خوش ہوں میں ۔۔۔۔۔بیکوز آئی ایم بی کم آ فادر یار۔۔۔۔آئی ایم ریلی ہیپی ” ۔۔۔میں نے ماہم کے اوپر سے یک دم لحاف اتار پھینکا ۔۔۔وہ اٹھ کر مجھے غصے سے تیوری چڑھائے دیکھنے لگی آنکھیں اب بھی نیند سے بھری ہوئی تھیں آنکھوں کے ڈورے بھی ہلکے گلابی ہو رہے تھے ۔۔۔۔
“تم باپ بنو ۔۔۔دادا بنو ۔۔۔چچا تایا ۔۔۔پھوپا خالو ۔۔۔کچھ بھی بنو ۔۔۔مجھےاس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔۔۔خدارا مجھے تنگ مت کرو ۔۔۔سر بھاری ہو رہا ہے میرا مجھے سونا ہے ۔۔۔۔جاوں یہاں سے” ۔۔۔۔۔میں ماہم کو دیکھتا ہی رہ گیا وہ پھر سے لحاف منہ تک لے کر لیٹ گئ ۔۔۔۔۔میری بات شاید اس نے غائب دماغی میں سنی تھی یا نیند کے نشے میں ۔۔۔۔میری ساری اکسائیٹمنٹ ماہم کی نیند کی نظر ہو چکی تھی ۔۔۔بجھے دل کے ساتھ میں واپس پلٹا تھا
“عفان لائٹس آف کر کے جاؤں” ۔۔۔ماہم کے آگلے آڈر پر میں نے تپے ہوئے ساری لائٹس بند کیں ۔۔۔اور کپڑے بدل کر نیچے ڈائنگ روم میں آ کر خاموشی سے بیٹھ گیا ۔۔۔مما اور پاپا کھانا شروع کر چکے تھے ۔۔۔۔میں نے بھی پلیٹ اٹھائی اور پلاؤ ڈالنے لگا ۔۔۔۔اور خاموشی سے کھانے لگا پاپا کھانا کھانے کے دوران گاہے بگاہے مجھے ہی دیکھ رہے تھے
“صفیہ ذرا اسکی شکل تو دیکھو لگ رہا ہے نا کہ بیگم سے تازی تازی بے عزتی کروا کر آ رہا ہے ۔”۔۔۔۔پاپا اپنا چشمہ ناک سے اوپر کرتے ہوئے معنی خیز مسکراہٹ سےمجھے دیکھکر بول رہے تھے انکی چہرہ شناسی پر میرے چاول حلق میں ہی پھنس گئے جیسے میں نے پانی پی کر حلق سے اتارا
پاپا کا اندازہ تو سو فیصد درست تھا مگر ۔۔۔۔مجھے میری شوہر والی انا نے جھنجھوڑا ۔۔۔۔میں نے چور نظروں سے پاپا کو دیکھا پھر اپنا گلا کھنکھار کر گلا صاف کیا تا کہ کچھ بولنے کے قابل ہو جاو
“ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔ماہی سو رہی تھی ۔۔۔مما۔ نے بھی کہا تھا کہ اسے ڈسٹرب نا کرنا اس لئے نیچے آ گیا “
“اس اترے ہوئے منہ کے ساتھ ۔۔۔۔بڑے جوش اور ولولے سے بھاگے بھاگے اوپر گئے تھے ۔۔۔۔اور واپسی پر اداس پنچھی بنے بیٹھے ہو” ۔۔۔پاپا استزائیہ ہنسی ہسنے لگے میں بری طرح سے گلٹ فیل کر رہا تھا ۔۔۔کیا تھا جو ماہم سیدھے منہ بات ہی کر لیتی۔۔۔۔مجھے یوں تو شرمندہ نا ہونا پڑتا۔۔۔۔اب میں اپنے باپ سے جھوٹ تو بول سکتا تھا مگر اپنے تاثرات نہیں چھپا سکتا تھا۔۔۔۔ماں باپ شاید اپنے بچوں کی بہت سی باتیں بنا سنے ہی سمجھ جاتے ہیں۔۔۔
“رضا کیوں پریشان کر رہے ہیں میرے بیٹے کو ۔۔۔مت بھولیں کے اسکا درجہ بھی بڑھنے والا ہے ۔۔۔۔تم کھانا کھاؤ عفان یہ نہیں سدھرنے والے چاہے دادا بنیں یا پر دادا “۔۔۔مما نے میری کچھ ہمت بندھائی تھی میں پھر سے کھانا کھانے لگا پاپا نے کباب پلیٹ میں ڈالتے ہوئے کہا
“ارے یہ صرف میرا بیٹا ہی نہیں دوست بھی ہے ۔۔۔۔اور میری پیاری سے گڑیا جیسی بٹیا کا شوہر بھی ہے ۔۔۔بہت سارے رشتے ہیں میرے اسکے ساتھ ۔۔۔اس کا میرا چلتا ہے کیوں بھئ عفان” ۔۔۔۔پاپا مجھے آنکھ مارتے ہوئے مسکرا کر پوچھنے لگے اور میں یہ سوچنے لگا کہ یہ اچھی دوستی ہے باپ بیٹی کی جو جی میں آئے کہہ دو پھر دوست کہہ کر ٹال جاؤ چاہے سامنے والے کو برا ہی کیوں نا لگے ۔۔۔میں پہلے ہی ماہم کی وجہ سے دل جلائے بیٹھا تھا اس لئے پاپا سے مفاہمت کرنے کو تیار نہیں ہوا
“جی نہیں… میرا۔۔۔آپ کا کچھ ایسا نہیں چلتا ۔۔۔۔آپ کو اپنی بیٹی ذیادہ چہتی ہے ۔۔۔۔آج سے میں مما کا بیٹا ہوں “۔۔۔میں نے سلاد کے باول سےکھیرے کا قتلا اٹھا کرمنہ میں ڈالتے ہوئے پاپا پر جتاتے ہوئے کہا پاپا مجھے آنکھیں دیکھانے لگے ۔۔۔پھر مما سے مخاطب ہوئے
“سن رہی ہو صفیہ کیا کہہ رہا ہے یہ ۔۔۔ارے اتنی جلدی تو گرگٹ بھی رنگ نہیں بدلتا جتنی جلدی اس نے بدلہ ہے ۔۔۔کوئی بات نہیں پہلے میں نے دادا بننے کی خوشی میں میٹھائی کھائی تھی اب میں نانا بننے کی خوشی میں کھاؤں گا ۔۔۔آج سے تم سے بائیکاٹ ہے میرا میں صرف ماہم کا باپ ہوں ۔۔۔لاو بھئ صفیہ یہ میٹھائی کی پلیٹ مجھے دو” ۔۔۔۔پاپا نے ہاتھ مما کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
“جی نہیں اور نہیں ملے گی۔۔۔۔ یہ بہانے بنا بنا کر آپ میٹھائی کھانے کے چکر میں ہیں سب جانتی ہوں میں ۔۔۔خواہمخواہ میں اپنی شوگرہائی کریں گئے ۔۔”۔مما پاپا کی چالاکی سمجھ چکی تھیں ۔۔۔اس لئے اب پاپا پر ہسنے کی باری میری تھی
“اس لئے کہتے ہیں پاپا دوسروں پر ہسنا نہیں چاہیے کیا خبر ویسا ہی خود کے ساتھ ہو جائے ۔”۔۔میں پاپا کے برابر میں بیٹھا تھا اس لئے انکی طرف جھک کر رازداری سے کہا اور ہسنے لگا
میری ہنسی پر پاپا نے مجھے ایک چت لگائی
“مما بلکل ٹھیک کہہ رہیں ہیں آپ ۔۔۔اگلی بار روٹین چیک اپ کے لئے میں پاپا کے ساتھ ڈاکٹرپر جاؤں گا اور پورا ڈائٹ پلان بنوا کر آپ کو لا کردونگا ۔۔۔بہت بدپرہیزی شروع کر دی ہے پاپا نے” ۔۔۔میری بات پر وہ مجھے اور مما کو باری باری گھورنے لگے
“ہاں ہاں تم نہیں بولو گئے تو اور کون بولے گا ۔۔۔آخر ہو نا اپنی ماں کے چمچے ۔۔۔لیکن خیر مناؤ اپنی۔۔۔۔ ذرا میری پوتی کو آنے دو پھر دیکھو ہم دادا پوتی ملکر کیسے چھٹی کرواتے ہیں تم دونوں کی” ۔۔۔۔پاپا میری اور مما کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولے ۔۔۔
“کون سا دادا کس کی پوتی ۔۔۔کس کی بات کر رہے ہیں۔ پاپا آپ” ۔۔۔کامران ڈائنگ روم میں داخل ہوتے ہوئے پوچھنے لگا وہ ابھی باہر سے آیا تھا ۔۔۔اس نے شاید آدھی بات سنی تھی
“وہ بھی بتا دیتے ہیں پہلے ذرا تم ادھر آ کر بیٹھو اور یہ بتاؤ اتنی دیر سے آ کہاں سے رہے ہو “۔۔۔پاپا اب سنجیدہ ہو کر کامران سے پوچھنے لگے وہ کرسی کھنچ کر پاپا کے برابر اور میرے سامنے بیٹھ گیا
“وہ نائلہ کے ساتھ ڈنر پر گیا تھا ۔۔۔اس لئے لیٹ ہو گیا”
“اوہ ۔۔۔تو نائلہ کے ساتھ ڈنر تھا بھئ۔۔۔۔پچھلے ہفتے غالبا تم آفس کا کام چھوڑ کر نائلہ کے ساتھ ہی لانچ پر گئے تھے ۔۔۔ہے نا” ۔۔۔پاپا نے کامران پر طنز کیا اور وہ ہسنے لگا ۔۔۔
“جی ۔۔۔۔آپکی ہی خواہش پر یہ رشتہ قائم ہوا ہے منگتر ہے وہ میری ۔۔۔اس رشتے کے ناطے کیا نہیں جا سکتا ہوں اسکے ساتھ ۔۔۔۔”کامران کا رشتے جتانا مجھے عجیب سا لگا
“جا سکتے ہو ۔۔۔مگر جس حساب سے تم چل رہے ہو نا برخودار میں سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کے اگلے ہی مہنے تمہاری شادی کر دوں نائلہ کے ساتھ ۔۔پھر بریک فاسٹ ۔لنچ ڈنر تم اسی کے ساتھ کیا کرنا ۔۔۔کیا خیال ہے” ۔۔۔پاپا نے کامران کو شرمندہ کرنا چاہا تھا مگر وہ اپنے نام کا ڈھیٹ تھا ہسنے لگا ۔۔۔۔
“آئیڈیا برا نہیں ہے اس پر سوچا جا سکتا ہے ۔۔۔بلکہ میں تو کہتا ہوں میری شادی کر ہی دیں ۔۔۔بہت سے لوگ مطمئن ہو جائیں گئے ۔۔۔۔کیوں عفان تمہارا کیا خیال ہے” ۔۔۔۔وہ مجھے کیا بتانا اور جتانا چاہ رہا تھا میں اچھی طرح سمجھتا تھا
“یہ آپکا پرسنل میٹر ہے ۔۔۔میرے خیال سے آپ بہتر جان سکتے ہیں” ۔۔۔۔۔میں کھانا کھا چکا تھا پانی گلاس میں ڈالتے ہوئے لاپروائی سے بولا اب کامران سے میری بات نا ہونے کے برابر تھی
میری بات پر وہ مسکرانے لگا ۔۔۔۔
“تم بھائی ہو میرے ۔۔۔۔۔مشورہ تو دے سکتے ہو ۔۔پاپا میں سوچ رہا تھا کہ میں اپنی شادی کے لئے ہال بک نہیں کرواں گا ۔۔۔۔سب کچھ گھر پر ہی ارینج کر لیں گئے ۔۔۔۔”
“گھر پر کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔کبھی تو عقل کی بات بھی کر لیا کرو کامران “۔۔۔پاپا نے غصے سے اسے جھاڑتے ہوئے کہا
“ماہم ہے نا وہ کرے گی سب ۔۔۔سنا کے قاسم کی شادی بھی بڑی خاص بنا دی تھی اس نے وہ تو غیر تھا میں تو پھر اس کا اپنا ہوں میری شادی پر تو اس سے بڑھ کر کچھ خاص ہونا چاہیے “۔۔۔کامران کی بکواس مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوئی تھی اس لئے میں نے دو ٹوک انداز سے اسے منع کر دیا
“ماہی ایسا کچھ نہیں کرے گی ۔۔۔آپ ہال کی بکنگ کروا لیجیے تو بہتر ہے “
“کیوں نہیں کر سکتی ۔۔۔اس میں حرج کیا ہے” ۔۔۔۔وہ کندھے اچکا کر بولا
“بہت حرج ہے ۔۔۔۔اسکی طعبیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔اور میں اس معاملے میں بلکل رسک نہیں لے سکتا ۔۔۔۔”
“کیا ہوا ہے ماہم کو ۔”۔۔۔اسکے چہرے پر تشویش کے رنگ ابھرنے لگے
“ارے پاپا بتایا نہیں آپ نے بھائی کو” ۔۔۔میں نے میٹھائی کی پلیٹ سے گلاب جامن اٹھا کر کھڑے ہو کر ہاتھ بڑھا کر کامران کے منہ ڈال دیا ۔۔۔
“مبارک ہو آپ کو بھائی آپ تایا بننے والے ہیں” ۔۔۔۔کامران کے چہرے کا رنگ یک دم بدل گیا تھا ۔۔۔چہرے پر پھیلی طنزیہ مسکراہٹ پل میں غائب ہوئی تھی ۔۔۔۔
“ہاں بھئ تم تایا اور میں دادا “۔۔۔۔پاپا نے مسکراتے ہوئے کہا مگر کامران کو جیسے چپ سی لگی تھی وہ شدید حیرانگی اور بے یقینی سے مجھے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔اپنی شادی تو جیسےوہ بھول ہی گیا تھا۔۔۔۔کچھ ہی پل میں اسکے چہرے پر پسینے آنےگے چہرہ غصے سے متغیر ہونے لگا۔۔۔وہ فورا اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔آج ٹوٹے گا اس کے گھمنڈ کا نشہ۔۔۔۔۔کامران تمہارا کھیل بس یہیں تک تھا۔۔۔۔اب مزید تمہیں ماہم کے جذبوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دونگا ۔۔۔۔میں مصمم ارادہ باندھتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔ماہم اب بھی بے خبر سو رہی تھی ۔۔۔۔۔نا جانے کیوں اتنا سو رہی تھی کب سے اس نے کچھ نہیں کھایا ہے۔۔۔مجھے ماہم کی فکر ستانے لگی میں دوبارہ سے نیچے گیا فریج میں سے دودھ نکال کر گلاس میں ڈالا اور اوپر لے آیا ۔۔۔ماہم کے پاس بیٹھ کر اسے جگانےگا ۔۔۔۔
“عفان کیا ہے تمہیں ۔”۔۔۔وہ چڑ کر بولی
“اٹھ کر بیٹھو کب سے کچھ نہیں کھایا تم نے یہ دودھ پیو پھر سو جانا نہیں جگاؤ گا تمہیں بے شک صبح تک سوتی رہنا ۔۔۔”۔
ماہم موندی موندی آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔
“تم نے کیوں زحمت کی ۔۔۔مجھے جب بھوک لگتی میں آٹھ کر کھالیتی” ۔۔۔۔۔اب وہ نرمی سے بولی اور آٹھ کر بھی بیٹھ گئ
“کوئی ضرورت نہیں ہے اوپر نیچے کے چکر لگانے کی ۔۔۔۔پیو یہ دودھ اور لیٹ جاؤں ۔۔۔۔”
میں نے گلاس اسکے ہاتھ میں تھما دیا ۔۔۔اس نے دودھ پیا اور خالی گلاس میرے ہاتھ میں رکھ کردوبار لیٹ گئ
