458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 21

Tadbeer by Umme Hani

جب میں اپنے کمرے میں داخل ہوا ماہم میرے بیڈ پر بیٹھی تھی مجھے دیکھتے ہی اٹھ کر میرے پاس آگئ ۔۔۔۔۔

“تم لڑ کر آ رہے ہو نا کامی سے ۔۔۔۔میں نے کوئی جواب نہیں دیا ماہم کا ڈریس بیڈ پر رکھا اسکے سینڈل زمیں پر پھینکے ایڈ بکس اور میک اپ بکس بھی بیڈ پر رکھے خود بھی بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ایڈ بکس پکڑ کر اس میں سے کاٹن اور ڈیٹول نکالنے لگا ۔۔

“۔بیٹھوں ماہی” ۔۔۔میرے کہنے پر ماہم میرے سامنے بیٹھ گئ ۔۔۔۔اپنا ہاتھ بھی میری طرف بڑھا دیا ۔۔۔۔میں ڈیٹول سے اس کا ہاتھ صاف کرنے لگا کافی گہرا زخم تھا ۔۔۔۔۔

“کیسے لگ گیا اتنا گہرا زخم ماہی” ۔۔۔۔میں اسکے ہاتھ پر دوا لگاتے ہوئے بولا

“مجھے چھوڑو عفان تم کیوں لڑ رہے تھے کامی سے ۔۔۔۔بہت ڈسٹرب ہیں وہ ۔۔۔۔۔پھر جب ہمیں ساتھ رہنا ہی نہیں ہے تو کیوں بحث کر رہے تھے کہہ دیتے ان سے کہ تم چھوڑ دو گئے مجھے” ۔۔۔۔۔میرا ہاتھ وہیں رک گیا میں نے ماہم کی طرف برجستہ دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی میں نے ایڈ بکس سے بینڈیج نکالی اور ماہم کے باندھنے لگا ۔۔۔۔۔میرا دماغ پہلے ہی کامران کی باتوں پر خراب تھا پھر ماہم کی باتیں جلتی پر تیل کا کام کر رہی۔ تھیں مگر میں چپ رہا ۔۔۔

“ماہی تم تیار ہو جاؤں ہم آلریڈی لیٹ ہو چکے ہیں ۔۔۔”۔میں نے ماہم کی بینڈنج کرنے کے بعد ماہم سے کہا

“میں نہیں جا سکتی عفان میرے ہاتھ میں بہت درد ہے ۔۔۔۔تم چلے جاؤں فاریہ اور قاسم بھائی سے میری طرف سے معذرت کر لینا ۔”۔۔۔میں پہلے بہت ضبط سے بیٹھا تھا مگر ماہم کی بات پر میں ہتھے سے اکھڑ گیا

“ٹھیک ہے میں بھی نہیں جاؤں گا ۔۔۔۔یہ پکڑو میرا سل فون قاسم کی کال آئے تو نا آنے کی وجہ بھی بتا دینا ۔۔۔۔میں غصے سے کھڑا ہوا فون جیب سے نکال کر بیڈ پر پھینکا اور کمرے سے باہر نکل کر باہر لاونج کے صوفے پر بیٹھ کر اپنا خون جلانے لگا ۔۔۔۔۔بس کامران ہی کی فکر ہے اسے ۔۔۔۔۔ااسکی پریشانی کی فکر ہے ۔۔۔۔میری ذرا پروا نہیں ہے ۔۔۔۔میری خوشی کی ذرا اہمیت نہیں ہے ۔۔۔۔کیوں ماہی ۔۔۔۔۔کیسے احساس دلاؤ تمہیں اپنی بیقراریوں کا ۔۔۔۔۔اپنی چاہت کا ۔۔۔۔۔کب سوچوں گی تم میرے بارے میں ۔۔۔۔میں نے صوفے کے کراؤن سے اپنا سر ٹکایا اور آنکھیں موندے لیں ۔۔۔زمین پر کچھ گرنے کی آواز سے میں نے آنکھیں کھولیں ماہم اسی لیمن کلر کے شرارے میں کمر پر ہاتھ رکھے تیوری چڑھائے میرے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔۔

“سینڈل پہناؤں مجھے ۔۔۔۔۔۔”

‘واٹ” ۔۔۔اسکی بے تکی فرمائش پر میں اچھنبے میں آ گیا ۔۔۔بھلا میں کیوں جوتے پہناؤں اسے ۔۔۔۔میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ماہم نے اپنا بینڈنج والا ہاتھ میرے سامنے کر دیا

“چوٹ لگی ہے ۔۔۔۔بہت درد ہو رہا ہے میرے ۔۔۔۔مت بھولو کہ صرف تمہاری وجہ سے تیار ہوئی ہوں میں” ۔۔۔۔ماہم وضاحت پر میں نے خشمگیں نگاہوں سے اسے دیکھا پھر جھک کر اس کے ہیل والے سینڈل کے اسٹپ کھولنے لگا ۔۔۔۔ماہم سینڈل پہنے لگی

“تمہاری جگہ کوئی اور ہوتی نا ماہی تو کبھی بھی جوتے نہیں پہناتا اسے ۔۔۔۔اور آئندہ تمہیں بھی نہیں پہناؤں گا ۔۔۔۔وہ تو تمہارے چوٹ لگی ہے پھر تم میری وجہ سے تیار ہوئی ہو اسلئے لحاظ کر رہا ہوں تمہارا “۔۔۔۔میں نے اسکے سینڈل کے سٹپ بند کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔یہ کام میرے مزاج کے بلکل بر خلاف تھا آخر میں مرد تھا اور وہ بھی شوہر میری آنا یہ کیسے گوارا کرتی کہ بیوی کو جوتے اپنے ہاتھوں سے پہناؤں ۔۔۔بظاہر تو یہ سب میں ماہم سے کہہ رہا تھا مگر اندر ہی اندر اپنے انا پرست شوہر کو تسلی بھی دے رہا تھا۔۔۔سینڈل پہنا کر میں نے ماہم کی طرف دیکھا تو وہ مسکرارہی تھی

“ہنسی کس خوشی میں آ رہی ہے تمہیں ۔۔۔۔میں تن کر کھڑا ہو کر بولا

“اتنے اچھے جو لگ رہے ہو جوتے پہناتے ہوئے ۔۔۔۔دل تو چاہ رہا ہے ایک تصویر کھنچ کر فیس بک پر لگا دوں بہت لائکس ملیں گئے قسم سے “۔۔۔۔ماہم ہسنے لگی یقینا مجھے تپانے کے لئے یہ سب بول رہی تھی ۔۔۔۔۔۔اگلے پل میں نے اسے گود میں بھر لیا ۔۔۔۔ماہم میری حرکت پر دنگ سی رہ گئ

“ایک تصویر ایسی بھی ہونی چاہیے فیس بک پر ۔۔۔۔بہت لائکس ملیں گئے ماہی قسم سے” ۔۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے اسی کے انداز سے جواب دیا ماہی سٹپٹا سی گئ تھی گرنے کے ڈر سے فورا میری شرٹ پکڑ لی ۔۔۔۔یہ میرے دل کا بے اختیار عمل تھا ۔۔۔۔آج وہ لگ بھی تو غصب کی رہی تھی ۔۔۔۔ییلو کلر کے شرارے میں لائٹ سے میک اپ میں وہ نازک سی گڑیا سی لگ رہی تھی

“کیا بد تمیزی ہے عفان ۔۔۔اتارو مجھے نیچے ۔۔۔وہ مجھے غصے سے بولی

“بہت مزہ آ رہا تھا تمہیں مجھے تنگ کرنے میں ۔۔۔۔اب آیا مزہ ۔۔۔۔ میں نے جتاتے ہوئے کہا وہ مجھے آنکھیں دیکھانے لگی

“عفان مجھے نیچے اتارو پلیز “۔۔۔۔وہ زچ سی ہو کر بولی میں نے احتیاط سے اسے نیچے اتار دیا

“کس قدر بدتمیز ہو تم ۔۔۔ آنے دو خالہ کو تمہاری شکایت تو میں ان سے لگاؤں گئ”۔۔۔۔ماہم کی دھمکی پر میرے ہوش اڑنے لگے

“کیا کہو گئ مما سے کہ میں نے تمہیں گود میں اٹھایا تھا ۔۔۔۔شرم نہیں آئے گی تمہیں ماہی مما سے یہ سب کہتے ہوئے” ۔۔۔ماہم کو گھورتے ہوئے کہا مگر درحقیقت اندر سی میری جان نکل گئ تھی۔۔۔ماہم بھلا کہاں ایسی نرازکتوں کی پروا کرتی تھی

“مجھے شکایت لگاتے ہوئے کیوں شرم آنے لگی شرم تو تمہیں آنی چاہیے تھی سمجھے “۔۔۔۔وہ خفگی سے منہ پھلائے بولی

“اچھا آئندہ نہیں کرو گا پکا پرومس لیکن ماہی تم مما سے کچھ نہیں کہو گی” ۔۔ میں سیڑیاں اترتے ہوئے اسکی منتیں کرنے لگا ماہم سے کچھ بھی بعید نہیں تھا وہ مما سے کہہ بھی سکتی تھی

میں توضرور بتاؤں گی جب وہ کان کھنچے گی تمھارے تب مزہ آئے گا تمہیں ۔۔۔۔ماہم کا لال بھبوکا چہرا اس کے شدید غصے کی عکاسی کر رہا تھا

اچھا نا ماہی سوری یار پلیز مماسے کچھ مت کہنا تمہاری ہر بات مانو گا ۔۔۔۔مجھے ماہم کی بیوقوفی کابخوبی اندازہ تھا وہ مما سے کچھ بھی کہہ سکتی تھی

**********…………..

جب میں اور ماہم قاسم کے گھر پہنچے کافی مہمان لان میں پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔قاسم کے والدین سے باہر ہی میری ملاقات ہو چکی تھی ہم دونوں گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔ان کے بڑے سے لاونج میں افراتفری کا عالم تھا پورا خاندان وہی موجود تھا سب ہی اپنی تیاریوں کے چکر میں ادھر ادھر بھاگ رہے تھے قاسم کا کمرہ اوپر تھا ۔۔۔ہم دونوں اوپر قاسم کے کمرے تک پہنچ گئے ۔۔۔۔کمرے کادروازہ نوک کرتے ہی ایک کم سن لڑکی نے دروازہ کھولا سامنے فاریہ اور دو چار لڑکیاں مکمل تیار کھڑی تھی ایک لڑکی فاریہ کا ڈوپٹہ سیٹ کر رہی تھی میں نے کمرے کا جائزہ لیا قاسم کہیں نہیں تھا ۔۔۔۔پورا پھلاوا سب لڑکیوں کے سامان کا ہی تھا کہیں میک اپ کہیی چوڑیوں اور جوتوں خالی ڈبے۔۔۔۔۔۔کلیوں اور گلاب کے زیور سے بھری ایک خوبصورت اور چھوٹی سی ٹوکری۔۔۔۔کہیں کلیوں کے گجرے ۔۔۔۔کہیں ہرے پیلے رنگ کی ڈھیر ساری چوڑیاں ۔۔۔۔۔فاریہ بھی لائٹ اورنج کلر کاشرارہ پہنے ہوئی تھی کافی فینسی تھا مگر پیارا تھا ۔۔۔۔۔میں کمرے کے اندر داخل نہیں ہوا ۔۔۔کمرے میں ایک ہڑبونگ سی مچی ہوئی تھی ہمیں دیکھ کر چند لڑکیاں جو تیار ہو چکیں تھیں وہ باہر چلی گئیں ۔۔۔۔

“اندر آئیے آپ لوگ باہر کیوں کھڑے ہیں ۔۔”۔۔

“نہیں بھابی بس مجھے قاسم کاپوچھنا تھا” ۔۔۔۔مجھے یوں سب لڑکیوں کے اندر جانا کچھ عجیب سا لگ رہا تھا

“قاسم کی مت پوچھیں آپ۔۔۔۔ پچھلے دو گھنٹے سے مانو کے کمرے میں گھسا ہوا ہے ۔۔۔۔ہم سب تیار ہیں اور میں با ذات خود دلہن ہو کر آدھے گھنٹے سے تیار ہوں مگر قاسم ۔۔۔۔۔اسکی تو تیاری مکمل ہونے کو نہیں ہیں مجھے لگتا ہے اس میں کسی عورت کی روح پرواز کر گئ ہے ۔۔۔۔ اتنا وقت ہم لڑکیوں کو نہیں لگتا ۔۔۔۔آپ ہی جا کر دیکھیں اسے “۔۔۔بڑی مشکل سے فاریہ کا ٹیپ ریکارڈر بند ہوا تھا ۔۔۔۔۔

“ہاں مگر مجھے نہیں۔ معلوم کہ مانو ہے کون اور اس کا کمرہ کہاں ہے” ۔۔۔۔میں نے با مشکل اپنی مجبوری بتائی

“ارے مانو ۔۔۔۔مریم قاسم کی بہن ۔۔۔۔ایک منت ۔۔۔۔سجو جاؤں بھائی کو مانو کے کمرے تک لے جاؤں ۔۔”۔فاریہ نے برابر کھڑی اسی کمسن بچی سے کہا جس نے دروازہ کھولا تھا ۔۔۔۔۔

“ماہم بتاؤں نا یار میں ٹھیک تو لگ رہی ہوں نا “

فاریہ ماہم کو بھی میرے ساتھ کھڑا دیکھ کر بولی “ہاں باقی سب ٹھیک ہے بس یہ لپ اسٹک ڈارک ہے آج مہندی ہے نا آج لائٹ اچھی لگے گئ ۔۔۔۔لاوں میں کر دوں”….. ماہم آگے بڑھ کر فاریہ کے پاس چلی گئ اور میں اس بچی کی ہمراہی میں ایک کمرے کے قریب کھڑا تھا ۔۔۔۔میں نے نیب گھمایا سامنے قاسم ڈرسنگ کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا ۔۔ ۔۔۔۔ تازی تازی شیو میں وہ کافی فریش اور خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔مجھے دیکھتے اور چہکنے لگا ۔۔

“آ نا یار شرما نا اپنا ہی گھر سمجھ “

۔۔میں اندر داخل ہوا تو سب سے پہلے میرے پاؤں میں سے ایک شوز ٹکرایا ۔۔۔۔میں نے نیچے قالین پر دیکھا میرے پاؤں میں قاسم کے شوز ٹکرائے تھے ۔۔۔ قاسم کے کپڑے پورے کمرے میں بکھرے پڑے تھے بیڈ پر پینٹ بیڈ کراؤن پر شرٹ کرسی پر گیلا ٹاول شیونگ کا سامان بمع پانی کے باول سمیٹ ڈرسنگ پر موجود تھا ۔۔۔۔۔۔

“یہ کیا حشر کر کیا ہے تم نے کمرے کا”

“لعنت بھیجو کمرے پر ۔۔۔۔بتاوں میں لگ کیسا رہا ہوں ۔۔۔۔”وہ سفید شلوار کے اوپر لائٹ اورنج قمیض اور سفید شال کا بکل مارے کافی جچ رہا تھا

“ہمم بہت پیارے لگ رہے ہو ۔۔۔۔چلو اب باہر “مجھے اتنے بکھرے کمرے کو دیکھ کر وحشت سی ہو رہی تھی

“ارے تم بھی نا یار ذرا خوشبو تو لگانے دو ۔۔۔۔”

قاسم نے مختلف قسم کے اسپرے کی خود پر اندھا دھن بارش کرنے لگا ۔۔۔۔

“بس بھی کر دو یار آج ہی سب ختم کرنے قصد اٹھا رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔”

میں زبردستی اسے کھنچ کر باہر لیکر آیا ۔۔۔۔۔اس سے پہلے ہم لاونج سے نکل کر ہال میں جاتے بہت ساری لڑکیوں نے قاسم کے ساتھ ساتھ مجھے بھی گھیر لیا ۔۔۔۔جن میں ماہم بھی شامل تھی مگر سب سے کچھ الگ تھلگ سی کھڑی تھی جیسے زبردستی اسے گھسٹ کر لایا گیا ہو ۔۔۔۔۔سب سے پیش پیش ایک تیس بتیس سال کی پروقار قسم کی خاتون تھی اور ایک واحد وہی سب سے سوبر لباس میں نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔

“ان سے ملو عفان یہ ہیں ہماری ہما باجی ۔۔۔۔فاری کی بہن جن کی بادولت سے میری شادی خانہ آبادی ایمرجنسی اصولوں کے تحت طے پائی ۔۔۔۔اول “فساد کی جڑ “اور دوئم میری اکلوتی سالی صاحبہ”۔۔۔۔قاسم کے تعارف پر وہ قاسم کا کان پکڑ کر کھنچنے لگی ۔۔۔۔۔

“شکر کرو میری وجہ دولہا جلدی بن گئے ہو ۔۔۔ورنہ چار سال انتظار کرنا پڑتا ۔۔۔۔”

“کان تو چھوڑو میرا ۔۔۔۔بہن کیا آپ کی کم ہے مجھ پر ستم ڈھانے کے لئے ۔”۔۔۔ قاسم کے کراہنے پر ہما نے قاسم کا کان چھوڑ دیا ۔۔۔۔

“سارے خاندان نے ہی ظلم و تشدد پر پی ایچ ڈی کر رکھا ہے کیا۔۔۔۔”قاسم اپنا کان سہلانے لگا

“چلو چلو نیگ نکالو ہمارا ۔۔۔۔”

“آج کس خوشی میں یہ فاول ہے جو ملے کل ملے گا ۔۔۔۔دودھ پلائی کے علاؤہ ایک آنہ نہیں دونگا ۔۔۔”۔قاسم نے صاف انکار کر دیا ۔۔۔۔۔۔قاسم کے دوسرے کزن بھی یہ ہنگامہ دیکھ کر وہاں پہنچ گئے ۔۔۔۔۔۔

“ارے کتنے کنجوس ہو تم ۔۔۔۔”

“ہاں ہوں کنجوس آپکے میاں کی طرح ڈالر نہیں کما رہا ۔۔۔۔۔ خالص پاکستانی ہوں ۔۔۔۔اور اپنے کنجوس باپ کا لخت جگر ہوں کچھ نہیں دونگا ۔”۔۔ قاسم تن کر بولا ۔۔۔۔

سب لڑکیوں کا شور بڑھنے لگا ۔۔۔۔

“ماہم تم کہاں غیروں کی طرح پیچھے کھڑی ہو آگے آؤں نا ۔۔۔۔ہما نے ماہم کا ہاتھ پکڑے ماہم کو اپنے پاس کھڑا کیا ۔۔

“میں ۔۔۔۔آپی ۔۔۔۔میں کیا کروں یہاں پر ۔”۔۔وہ نروس سی ہو گئ ۔۔۔۔

“ارے فاریہ کی دوست ہو ۔۔۔۔اور اس گامڑ کی اتنی خوبصورت شادی کا سارا کریڈٹ تمہیں جاتا ہے چلو میرا ساتھ دو اور نکلواو اس کنجوس سے پیسے ۔۔۔”۔ہما نے ماہم سے کہا مگر وہ مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔کہ کیا کرے کیا نہیں ۔۔۔۔

“ارے بھئ ۔۔۔۔عفان آپکی بیوی بہت شائے ہے ۔۔۔۔”ماہم کی خاموشی پر ہما نے کہا

“اسی لئے تو اتنی خوبصورت لگتی ہے “۔۔۔۔میری بات پر سب ہی ہسنے لگے ماہم بری طرح جھنپ سی گئ

“یہ تو سچ ہے “۔۔۔۔ہما نے تعریف کی ۔۔۔۔

“دو نا قاسم کیوں کنجوسی دیکھا رہے ہو” ۔۔۔میں نے بحث ختم کی ۔۔۔۔

“تم بھی پارٹی بدل رہے ہو میراساتھ دینا چاہیے تھا میں صرف اپنی پیاری سی بہن ماہم کے لئے اپنی جیب ہلکی کر رہا ہوں جس نے واقع میری شادی کو خاص بنایا ہے ورنہ قاسم سے پیسے نکوانا آپ لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے ۔”۔۔قاسم نے جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔۔قاسم نے پیسے ہما کے ہاتھ میں رکھ دیے ۔۔۔۔پھر فاریہ کو بھی لا کر قاسم کے ساتھ ہی لان میں بنے جھولے پر بیٹھایا گیا ۔۔۔۔۔

ڈھول اور بھنگڑا صرف قاسم کے کزنز اور دوستوں نے ہی ڈالا تھا ۔۔۔۔۔میں اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھ گیا ماہم فاریہ کی بہن کے ساتھ وہی۔ مصروف رہی ۔۔۔۔مہندی تیل ابٹن کے ساتھ سب لوگ فاریہ کو کانچ کی چوڑیاں بھی پہنا رہے تھے ۔۔۔۔ااور میٹھائی کے ساتھ ڈرائی فروٹس اور چوکلیٹس بھی رکھیں تھیں ۔۔۔۔۔۔پھولوں کا سارا زیور ماہم نے ہی اسے پہنایا ۔تھا۔۔۔۔ہما نے کلیوں کی کئ لڑیاں ماہم کے بالوں پر لگا دیں ۔۔۔۔اور ہاتھوں میں گلاب کے گجرے پہنا دیے ۔۔۔۔میں دور بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ماہم سب کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی الگ تھلگ سی تھی ۔۔۔چہرے پر مسکراہٹ کے باوجود اداسی تھی ۔۔۔۔۔کھانے کے بعد ماہم واپسی کا اصرار کرنے لگی ۔۔۔۔۔

“ہاں چلتے ہیں چلو ذرا قاسم اور فاریہ کو الودع کہہ دیں” ۔۔۔۔میں ماہم کے ہمراہ ان دونوں کے پاس چلا گیا قاسم نے مجھے اپنے پاس بیٹھا لیا مجبورا ماہم کو بھی فاریہ کے ساتھ بیٹھنا پڑا ۔۔۔۔سب کو ماہم کی ارینجمنٹ پسند آئی تھی قاسم اور فاریہ اسی کی تعریف کر رہے تھے۔۔۔۔سامنے سے لڑکھڑاتے قدموں سے مہک قاسم اور فاریہ کے سامنے کھڑی ہو گئ۔۔۔۔۔بلو گہرے گلے کی شرٹ پر بلیک جینز پہنے ایک ہاتھ میں اپنا پرس لٹکائے بنا میک اپ کے سادہ چہرہ ذردی مائل لگ رہا تھا آنکھوں کے گرد ہلکے نشے سے چور بند ہوتی آنکھیں لڑکھڑاتی چال ہی بتا رہی تھی کہ وہ آج بھی نشے میں دھت ہے ۔۔۔۔اسے دیکھ کر میں ٹھٹک سا گیا مگر پھر عجیب سے ناگواری اور بیزاریت مجھ پر سوار ہونے لگی میرا جی چاہافورا وہاں سے نکل بھاگوں مہک سے ایک منٹ کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا میں ۔۔۔۔۔مہک نے شاید مجھے ابھی دیکھا نہیں تھا وہ سیدھی فاریہ اور قاسم کے پاس جا کر گرتے گرتے بچی تھی ۔۔۔۔قاسم کی پیشانی پر کئ بل پڑ چکے تھے فاریہ بھی اسے ناگواری سے دیکھنے لگی یہی حال ماہم کا تھا مگر وہ متحیر بھی ہو رہی تھی ۔۔۔۔

“کیوں آئی ہو یہاں مہک ۔۔۔تمہیں منع کیا تھا نا میں نے “۔۔۔۔قاسم نے سختی سے دانت بیچ کر اسے کہا

“او کم آن قاسم ۔۔۔۔تمہارے لئے نہیں آئی ۔۔۔۔فاری کے لئے آئی ہوں آفٹر آل شی از مائے کزن ۔۔۔۔مہک نے بند ہوتی آنکھیں اور جھولتے قدموں سے کھڑی تھی

“ایسے آتے ہیں کسی کی شادی پر ۔۔۔۔جاوں یہاں سے تماشہ مت بناؤ اپنا ۔”۔۔قاسم نے دبی دبی آواز میں غصے سے کہا

“چلی جاتی ہوں ۔۔۔رسم تو نبھانے دو ۔”۔۔۔وہ نشے میں چور آواز سے با مشکل بول رہی تھی پھر پرس میں سے کئ نوٹ نکال کر قاسم اور فاریہ کے اوپر پھنک دیے ۔۔۔میری برداشت اب جواب دے چکی تھی میں نے ایک ناپسندیدہ نگاہ مہک پر ڈالی اور کھڑا ہو گیا ۔۔

“۔مجھے اجازت دو قاسم پھر ملاقات ہو گئ ۔”۔۔قاسم بھی اپ سٹ سا ہو چکا تھا اس لئے مجھے ہاتھ ملانے لگا مہک نے غور سے مجھے دیکھا ۔۔۔اپنے ہونٹ گول کر کے بولی

“اووو۔۔۔بڑے بڑے لوگ آئیں یہاں ۔۔۔مجھے معلوم ہوتا تو کلب کے بجائے یہیں آ جاتی ۔۔۔۔کیسے ہیں مسٹر عفان رضا آپ” ۔۔۔۔۔۔۔مہک نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا میں نے ناگواری سے اپنا منہ ہی پھیر لیا ۔۔۔۔میں اب وہاں ایک پل بھی رکنے کے حق میں نہیں تھا ۔۔۔۔مہک میرے سامنے ایساذہ کیے کھڑی تھی ۔۔۔۔

“پیچھے ہٹو مہک ۔۔۔۔۔”

“ارے بیٹھیں نا عفان ۔۔۔۔بلیو می ہم آپ کی طرح مہمانوں کو بے عزت کر کے نہیں نکالتے ۔۔۔۔بہت عزت سے استقبال کرتے ہیں” ۔۔۔۔مہک نے قاسم کے گلے میں ڈالا پھولوں کا ہار اتار کر میرے گلے میں پہنانا چاہا میں نے ہاتھ سے روک کر اس کا ہاتھ پیچھے جھٹک دیا ۔۔۔۔

“اٹھو ماہی “۔۔۔۔میں نے ماہم کو پکارا جو ہونقوں کی طرح یہ سب دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ماہی کھڑی ہو گئ ماہم کو دیکھ کر مہک نے بے ساختہ چونکی تھی پھر ماہم کو غور سے دیکھتی ہوئی لپک کر اسکے مقابل کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔۔۔

“اوہ تو تم بھی آئی ہو یہاں” ۔۔۔۔مہک نے ڈولتے قدموں سے ماہم کاسر سے پیر تک جائزہ لیا ۔۔۔۔ماہم اسے حیرت اور ناگواری سے دیکھ رہی تھی

“واہ ماہم بھئ داد دینی پڑے گی تمہیں۔”وہ تالی بجا کر بولی

۔۔”۔نا اچھی شکل ہے …..نا کوئی ملاکوتی حسن۔۔۔۔۔ پھر بھی مردوں کو پاگل کرنے کے سارے گن جانتی ہو ہاں۔۔۔ایسا کیا جادو کرتی ہو کہ سب تمہارے گرویدہ ہو جاتے ہیں ۔۔۔”۔۔۔۔ مہک کے انداز میں آہستہ آہستہ جارحانہ پن آنے لگا تھا ۔۔۔قاسم اور فاریہ بھی اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے مگر وہ ماہم کو بنا آنکھیں چھپکائے اسے گھورتے ہوئے بولتی چلی گئ

“مر مٹتے ہیں تم پر ۔۔۔۔فدا ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔اس معصوم چہرے کے پیچھے کون سا گھنونا روپ چھپا رکھا ہے تم نے اپنا …..جو کسی کو نظر نہیں آتا میں فورا سے ماہم کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا ماہم بری طرح گھبرا گئ تھی ۔۔۔

“کیا بکواس کر رہی ہو مہک” ۔۔۔۔میں غصے سے بولا

مگر مہک واقع اپنے حواسوں میں نہیں تھی ابھی بھی ماہم پر حقارے سے نظریں گاڑے وہ لمبے لمبے سانس بھرتی ہوئی بلند آواز میں بولنے لگی

“اچھا تو اس معصوم اداؤں کا جادو جگاتی ہو تم سب پر ۔۔۔جی چاہتا ہے نوچ لوں یہ چہرہ جس نے میری زندگی برباد کر دی “۔۔۔۔مہک خونخوار انداز میں ماہم کی طرف بڑھی مگر میں نے اسے ہاتھ سے پیچھے دھکیل دیا ماہم خوفزدہ سی ہو کر میرے ساتھ چپک گئ اپنا منہ میرے پہلو میں چھپا لیا ۔۔۔

“عفان ۔”

۔۔مہک کے رویے سے وہ ڈر گئ تھی ۔۔۔۔میں نے بازو کے حصار میں اسے لے لیا ۔۔۔۔

قاسم ہمارے اور مہک کے بیچ میں کھڑا ہو گیا

“کیا تماشہ کر رہی ہو مہک “۔۔۔قاسم غصے سے چلا کر بولا کافی مہمان جا چکے تھے ۔۔۔بس اسکے اپنی ہی چند فیملی اور کزن وہاں موجود تھے اس شور پر سب ہی وہاں اکھٹے ہو گئے ہما نے مہک کو بازو سے پکڑ لیا ۔۔

“لے کر جائیں اسے یہاں سے ورنہ میں تھپڑ مار دوں گا اسکے منہ پر “….قاسم بے قابو سا ہونے لگا ۔۔۔۔۔

“شی از آ بیچ” ۔۔۔۔مہک ماہم کو دیکھ کر چلا کر بولی اور اپنا آپ چھڑوانے لگی مگر ایک ساڑھی میں ملبوس اڈھیر عمر کی خاتون اور پینٹ کوٹ پہنے قاسم کی والدہ کی ہم عمر سا مرد نے مہک کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کر لیا ۔۔۔مگر وہ بھبکتی ہوئی شیرنی کی طرح انکے بازوں سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی ساتھ ہی ساتھ مغلیات بکے جا رہی تھی۔۔۔۔

“چھوڑیں مجھے ڈیڈ۔۔۔۔ مام ۔۔۔میں اس لڑکی کو نہیں چھوڑو گئ ۔۔۔۔شی از ڈسٹورائڈ مائے لائف ۔۔۔۔آئی ول کل ہر ۔۔۔۔۔”

“چپ کرو مہک ۔۔۔۔کہاں سے آ رہی ہو تم ۔۔۔۔۔تمہیں ذرابھی ہماری عزت کا پاس ہے ۔۔۔سب کے سامنے ذلیل کر رکھ دی ہے تم نے” ۔۔۔۔اس کے والد بہت شرمندگی سے بولتے ہوئے مہک کو بازوسے دبوچے اندر لے گئے ۔۔۔اسکی والد میرے سامنے ہاتھ جوڑے معذرت کرنے لگیں ۔۔۔۔ماہم بد دستور میرے ساتھ لگی کانپ رہی تھی ۔۔۔۔

“عفان میں تو اسے ٹھیک سے جانتی بھی نہیں ہو ۔۔۔۔پھر کیوں وہ مجھے “۔۔۔۔۔شاید رو بھی رہی تھی ۔۔”۔گلوگیر لہجے میں بول رہی تھی ۔۔۔۔

“میں نے ماہم کو خود سے جدا کیا اس کا چہرہ آنسوں سے تر بتر ہو رہا تھا ۔۔۔۔

“بیٹا میں بہت شرمندہ ہوں میری بچی ہر گز ایسی نہیں تھی ۔۔۔۔نا جانے ہو کیا گیا ہے اسے” ۔۔۔۔مہک کی والدہ بیحد آفسردہ اور نادم تھیں ۔۔۔۔ماہم نے انکے جوڑے ہاتھ اپنے ہاتھ لے لئے

“آپ کیوں معافی مانگ رہیں ہیں ۔۔۔۔پلیز آپ بہت بڑی ہیں مجھ سے یوں ہاتھ جوڑ کر مجھے شرمندہ مت کریں لیکن یقین کریں میں آپکی بیٹی کو جانتی تک نہیں ہوں سوائے ہائے ہیلو کے میری کبھی اس سے بات تک نہیں ہوئی ۔۔۔۔”

“تم ٹھیک کہہ رہی ہو بیٹا وہ ہوش میں ہے ہی کب نا جانے کیا سمجھ کر یہ سب بول گئ ہے ۔”۔۔۔مہک کی والدہ ابھی وہیں موجود تھیں جب قاسم کے والد اور مہک کے والد بھی وہیں پہنچ گئے

“عفان ہم بہت شرمندہ ہیں تم دونوں سے “۔۔۔۔۔قاسم کے والد مجھ سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے

“کوئی بات نہیں ۔۔۔۔انکل ٹس او کے ۔۔۔۔”

“پلیز مہک کی وجہ سے ہمارے لئے دل میں کوئی میل مت لانا ہم خود اس لڑکی سے پریشان ہیں نا جانے کس بری کمپنی میں بیٹھنے اٹھنے لگ گئ ہے “۔۔۔۔مہک کے والد بھی شرمندہ شرمندہ بولے ۔۔۔۔

“نہیں ایسی کوئی بات نہیں “

“انکل اب اجازت دیں ہمیں” ۔۔۔۔۔میں یہ کہہ کر ماہم کو ساتھ لئے باہر نکل گیا ۔۔۔پورے راستے ماہم روتی رہی ۔۔۔۔

“پلیز ماہی چپ ہو جاؤں “

“عفان تم سوچ بھی نہیں سکتے اس لڑکی کے الفاظ مجھے کتنی تکلیف دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔میں اسے جانتی تک نہیں ہوں اسکی زندگی کیسے برباد کر سکتی ہوں ۔۔۔۔اور کیوں کروں گئ۔”۔۔۔ماہم کی آواز میں آنسوں کی نمی کا غلبہ تھا

“ماہی پلیز ۔۔۔نشے میں بکواس کر رہی تھی وہ ۔۔۔۔نا جانے کیا سمجھ بیٹھی تمہیں ۔۔۔۔۔چپ ہو جاؤں اب ‘۔۔۔۔میں بے چینی سے اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

“میں کل نہیں جاؤں گی مجھے نہیں دیکھنی شادی ۔”۔۔۔ماہم نے سامنے رکھے ٹشو بکس سے ٹشو نکال کر اپنا چہرا صاف کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا

“میں خود بھی تمہیں لے جانے کے حق میں نہیں ہوں ۔۔۔یو ڈونٹ وری مگر اب رونا بند کرو ۔”۔۔۔میری بات پر وہ چپ سی خفا خفا سی کھڑی سے باہر دیکھنے لگی