Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 27
Rate this Novel
Tadbeer Episode 27
Tadbeer by Umme Hani
ماہم نے مجھ سے بات چیت کا سلسلہ بند کر دیا میں بھی اپنے نئے پروجیکٹ میں مصروف ہو گیا تھا آج ہماری فائنل میٹنگ تھی ۔۔۔۔۔جو کچھ ہی دیر میں شروع ہونے والی تھی ۔۔۔میں۔ قاسم سے آخری ڈسکشن کر رہ تھا ۔۔۔مگر وہ ہر تھوڑی دیر بعد پیٹ پکڑے مجھ سے اکسکیوز کرتا ہو باہر چلا جاتا جب تیسری بار بھی قاسم نے یہی حرکت کی تو میں فائل بند کر دی جب وہ واپس آیا تو پھولے ہوئے سانس کے ساتھ نڈھال سا کرسی پر بیٹھ گیا
ہاں اب آگے بولو ۔۔۔۔قاسم نے فائل کھول کر مجھ سے آگے کے پواینٹ کے بارے میں پوچھنے لگا
“طبیعت ٹھیک ہے تمہاری ۔۔۔۔٫”
“مت پوچھ یار خاندان کی دعوتیں کھا کھا کر کباڑا ہو گیا ہے پیٹ کا ۔۔۔۔عجیب حالت ہو رہی ہے پیٹ کی ۔۔۔۔رات کو مہک کے گھر دعوت تھی ڈنر کی مجھے تو شک ہے کہیں میرے کھانے میں جمال گھوٹا نا ڈال دیا ہو اس پاگل لڑکی نے ۔۔۔۔۔آج میٹنگ نا ہوتی تو کبھی نہیں آتا “۔۔۔قاسم اپنا پیٹ پکڑ کر بولا
“میں تو خود تمہیں اس ویک اینڈ پر بلانے کا سوچ رہا تھا مما مجھ سے بہت بار کہہ چکی ہیں تمہاری دعوت کے لئے “
“او معاف کر میرے باپ ایک مہینہ تو سوچنا بھی مت “۔۔۔۔قاسم ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا ۔۔۔۔مجھے قاسم کی حالت پر ترس آ رہا تھا
“قاسم تم پہلے ڈاکٹر کے جاؤں اور اسکے بعد گھر جا کر آرام کرو ۔۔۔میٹنگ میں سنبھال لوں گا ۔”۔۔۔
“رہنے دے یہ عنایتیں میرے ڈیڈ نے یہی طعنہ دینا ہے کہ میں گھر جانے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہوں “۔۔۔۔وہ منہ بسورے بولا
“میں نے کہا نا میں سنبھال لو گا میٹنگ کو بھی اور تمہارے ڈیڈ کو بھی” ۔۔۔۔میری بات پر قاسم مجھے بے یقینی سے مجھے دیکھنے لگا کیونکہ کام کے سلسلے میں میں بھی اس کے والد کی طرح سخت تھا اور لا پروائی بھی برداشت نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔۔
“سیریسلی” ۔۔۔۔قاسم اب بھی مشکوک تھا
“ہاں ۔۔۔اب جاؤں “۔۔۔۔
“آئی لو یو میری جان تمہاری ایسی باتیں سن کر میرا دل چاہتا ہے تمہارا منہ چوم لوں “۔۔۔۔وہ میرے دونوں گال کھنچ کر بول میں نے اسے پیچھے دھکیلا
“نہایت ہی بیہودہ ہو چکے تم ۔۔۔نکلو یہاں سے”۔۔۔۔میں نے غصے سے آنکھیں دیکھاتے ہوئے کہا قاسم تو چلا گیا ۔۔۔اور میں نے میٹنگ اور قاسم کے والد دونوں کو سنبھال لیا تھا ۔۔۔۔میٹنگ کافی سکسس فل رہی تھی قاسم کے والد مجھ سے بہت خوش بھی اور متاثر بھی ۔۔۔کافی دیر مجھ سے اسی سلسلے میں بات کرتے رہے ۔۔۔۔میں بھی نہیں اپنی رائے دیتا تھا ۔۔۔۔انکے چہرے پر خوشگوار سی مسکراہٹ پھیل گی
“عفان تم بہت ذہین ہو ۔۔۔بہت سے پیچیدگیوں کا حل آسانی سے نکال دیتے ہو ۔۔۔اور ایک میری ناہنجان اولاد ہے ۔۔۔کام سے جان چھڑوا کر گھر جانے کے ایک سو ایک بہانے تیار ہیں اس لڑکے کے پاس” ۔۔۔۔وہ قاسم پر برہم ہونے لگے ۔۔
“۔۔نہیں انکل آج تو واقع اسکی حالت خراب تھی وہ جا بھی نہیں رہا تھا میں نے ہی زبرستی اسے بھیجا ہے” ۔۔۔۔۔میں نے قاسم کے والد کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی
*********……….**********…….*********
فاریہ دعوت پر جانے کیلئے تیار ہو رہی تھیں۔۔۔آنکھوں ہر آئی لائنر لگا رہی تھی جب قاسم نے کمرے کادروازہ کھولا اور بیڈ پر گرنے کے انداز سے لیث گیا ہاتھ میں پکڑی میڈسن سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیں ۔۔۔فاریہ پلٹ کر قاسم کی طرف دیکھ کر بولی
“اچھا ہوا قاسم تم جلدی آ گئے ہو کل ہما آپاں واپس یو کے جا رہی ہیں ۔۔۔۔امی نے شام کی چائے پر بلایا ہے ۔۔۔تم بھی تیار ہو جاؤں ” ۔۔۔۔فاریہ اب اپنی لپ اسٹک ڈھونڈتے ہوئے بولی ۔۔۔
“میں کہیں نہیں جا رہا تمہارے خاندان کی دعوتیں کھا کھا کر حالت ابتر ہو گئ ہے میری ۔۔۔۔ابھی بھی ڈاکٹر سے دوا لیکر آ رہا ہوں جہاں جانا ہے ڈرائیور کے ساتھ چلی جاو۔۔”۔قاسم جوتوں سمیت ہی لٹتے ہوئے بولا
“کتنی بری بات ہے قاسم میں اکیلی جاتی اچھی لگوں گی ۔۔۔۔۔تم میڈسن کھا لو ابھی ٹھیک ہو جاؤ گئے۔۔”۔فاریہ قاسم کے انکار پر میک اپ چھوڑ چھاڑ اسکے سامنے کھڑی ہو کر ملتجی انداز سے بولی
” اب تمہارے اچھے لگنے کے چکر میں میں۔ وہاں ہر دس منٹ بعد واش روم جاتا تو بلکل اچھا نہیں لگوں گا ۔۔۔۔اور امی سے کہہ دینا ذرا کھچڑی بنا دیں”
“تائی اماں اور مانو تو خود میرے ساتھ جا رہیں ہیں ۔۔۔ماسی سے کہہ دیتی ہوں’
“خبردار ۔۔۔۔ماسی واسی کے ہاتھ کی ہر گز نہیں کھاؤ گا۔۔۔تم خود بنا کر جاو۔۔۔”قاسم کے دو ٹوک انداز پر فاریہ منہ بگاڑ ے لگی
“میں کیسے بنایا سکتی ہوں “
“کیوں تمہیں کھچڑی بھی بنانی نہیں آتی چچی تو بڑی تعریفیں کرتی تھیں میری فاریہ تو سب کچھ بنا لیتی ہے ان پندرہ دن میں صرف مجھے الو بنانے کے سوا تمہیں کچھ اور بناتے نہیں دیکھا۔”۔۔قاسم نے حیرت سے کہا
“ارے آتی ہے مجھے کھچڑی بنانی ۔۔۔۔اور تائی اماں نے خود منع کیا تھا کچن کے کام کرنے سے ۔۔۔۔مگر تم خود سوچو اتنے فینسی سوٹ جیولری میک کے ساتھ میں کھچڑی بناتی اچھی لگوں گئ”۔۔۔۔فاریہ کی بات سن کر قاسم تکیہ سیدھا کر کے بیڈ سے ٹھیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔اور فاریہ کو بڑے غور سے سر سے پیر تک جائزہ لینے لگا
“ذرا فیس ادھر کرنا دائیں طرف” ۔۔۔قاسم نے غور سے دیکھتے ہوئے قاسم نے کہا فاریہ نے دائیں چہرا موڑ لیا
“اب ذرا بائیں طرف” ۔۔۔۔قاسم کی اس قدر غور سے دیکھنے پر فاریہ کچھ تذبذت سی ہو گئ کہ شاید وہ ٹھیک نہیں لگ رہی
“کیا ہوا قاسم کیا میک اپ ٹھیک نہیں لگ رہا۔۔”۔۔
“میک اپ تو ٹھیک ہے ۔۔۔میں بس یہ دیکھ رہا تھا کہ کھچڑی بناتے ہوئے کیسی لگو گئ ۔۔۔۔بہت اچھی لگو گی ۔۔۔شوہر کی خدمت کرو گی تو تمہاری خوبصورتی پر چار چاند لگ جائیں گئے ۔۔۔اب جاؤ اور کچھڑی بناؤ میرے لئے” ۔۔۔فاریہ کینہ توز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کمرے سے باہر جانے لگی
“ایک منٹ پہلے میرے جوتے اتارو ۔۔۔ویسے ہی نڈھال ہو رہا ہوں “۔۔۔۔قاسم کے اگلے حکم پر فاریہ نے غصے سے پلٹ کر قاسم کو گھورا پھر اسے جوتے اتارنے لگی ۔۔۔
“واہ قاسم کیا بات ہے تمہاری ۔۔۔سب سے چھوٹے ہونے کے ناتے ساری زندگی بڑے بھائیوں اور ڈیڈ کا رعب سہا ہے تم نے اور آج کوئی تو ہے جس پر میں رعب جما سکتا ہوں چلو کوئی فائدہ تو ہوا مجھے شادی کرنے کا “۔۔۔۔قاسم نے بہت مسرور ہوتے ہوئے سوچا
********……….********……******…….******
کچھ دن یونہیں خاموشی سے گزر گئے ۔۔۔۔۔ایک شام جب میں آفس سے لوٹا تو گیٹ پر گاڑی روکے مسلسل ہارن دینے پر بھی دروازہ نہیں کھلا تو مجھے غصہ آنے لگا ۔۔۔۔۔۔کریم بابا نے پہلے ایسی لاپروائی کبھی نہیں کی تھی فورا سے دروازہ کھول دیتے تھے ۔۔۔میں نے پھر سے نون اسٹاپ ہارن دینا شروع کر دیا مگر لگتا تھا گھر پر کوئی ذی روح ہی موجود نا ہو ۔۔۔اگر کریم بابا نہیں تھے تو ماہم مما تو آ سکتی تھیں ۔۔۔۔۔۔میں نے موبائل اٹھایا اور ماہم کے نمبر پر کال کرنے لگا مسلسل بیل بجنے کر بھی کوئی فون ہیں اٹھا رہا تھا ۔۔۔پھر میں نے مما کا نمبر ٹرائی کیا
دو تین بیلوں کے بعد ہی مما نے فون اٹھایا
“مما کریم بابا کہاں ہیں۔۔۔کب سے ہارن دے رہا ہوں آپکو بھی کیا آواز نہیں آ رہی ۔۔۔دروازہ کھولیں باہر کا”۔۔۔میں غصے اور بیزاری سے بولا
“عفان میں اور تمہارے پاپا تو یاسر صاحب کے گھر دعوت پر آئے ہیں لیکن کریم بابا تو گھر پر ہی موجود تھے ۔۔۔۔شاید کواٹر میں ہوں گئے ہوں ۔۔۔”
“ماہی بھی آپ کے ساتھ ہے ۔۔۔کیا گھر پر کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔”
“نہیں ماہم تو گھر پرہی ہے بلکہ میں تو کریم بابا کی بیٹی رانی کو بھی ماہم کے پاس چھوڑ کے آئی تھی ۔۔۔۔۔تم ماہم کو کال کرو ۔۔۔۔”
“میں نے کی ہے وہ نہیں اٹھارہی ۔۔۔او کے میں کچھ کرتا ہوں ۔’۔۔میں نے فون بند کیا اور گاڑی سے اتر کر گھر کی ڈور بیل دینے لگا ۔۔۔مگر کوئی گیٹ پر نہیں آیا ۔۔۔میں نے کافی دیر ڈور بیل دی مگر کوئی رسپونس ہی نہیں ملا ۔۔۔لگتا تھا گھر پر کوئی موجود ہی نا ہو اب تو مجھے پریشانی اور تشویش لاحق ہونے لگی ۔۔میں نے کوٹ اتار کر گاڑی میں۔ پھنکا خود گیٹ پر چڑھ کر اندر کود گیا سارا لان خالی تھا میں تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا لاونج کے دروازے کی طرف پہنچا ۔۔۔۔شکر تھا کہ دروازہ لوک نہیں تھا میں جلدی سے لاونج میں آیا تو سامنے سینٹرل ٹیبل پر ماہم کے اسکیچ پیپر بکھرے پڑے تھے کچھ زمین پر گرے ہوئے تھے میں نے ماہم اور رانی کو پکارنا شروع کر دیا ۔۔۔صوفے پر ماہم کا موبائل بجنے لگا میں نے فون اٹھایا تو مماکا نمبر جگمگا رہا تھا ۔۔۔۔میں نے فون وہیں پھینکا اور نیچے کے سارے کمرے کھول کر دیکھنے لگا ۔۔۔پھر تیزی سے سیڑیاں پھلانگتے ہوئے اوپر آ کر سارے کمرے دیکھ لیے مگر نا تو ماہم وہاں موجود تھی نا ہی رانی ۔۔۔۔پورا گھر خالی تھا ۔۔۔میں بے حد پریشان ہونے لگا راشد بھی ایک دن کی چھٹی پر تھا۔۔۔ماہم بنا بتائے تو کہیں نہیں جاتی تھی ۔۔۔آخر گئ کہاں تھی اسکا فون بھی گھر پر ہے ۔۔۔گھر کی ڈور بیل بجی تو میں بھاگتے ہوئے مین گیٹ تک پہنچا دروازہ کھولا تو سامنے کریم بابا کھڑے اپنے کندھے پر رکھے رومال سے اپنا پسینہ پونچ رہے تھے ۔۔۔میں پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔وہ اندر داخل ہوئے
“سلام چھوٹے صاب”
“کہاں تھے آپ کریم بابا ۔۔”۔میں سخت گھبراہٹ کا شکار تھا
“رانی کو گھر چھوڑنے گیا۔۔”۔۔وہ اب بھی پسینہ پونچ رہے تھے انکا سانس بھی پھول رہا تھا جیسے تیز چل کر کہیں سے آ رہے ہوں
“ماہی کہاں ہے کریم بابا” ۔۔۔۔
“ماہم بی بی تو گھر پر ہی تھیں چھوٹے صاحب” ۔۔۔وہ تعجب سے بولے
“نہیں ہےوہ گھر پے ۔۔۔۔مما جب رانی کو ماہم کے پاس چھوڑ کرگئیں تھیں تو آپ رانی کو گھر چھوڑنے کیوں گئے” ۔۔۔میرا لہجہ خود با خود ہی سخت ہونے لگا۔۔۔۔۔
“کامران صاحب نے کہا تھا کہ میں رانی کو گھر چھوڑ آؤں “۔۔۔کامران کا نام سن کر مجھے حیرت سی ہوئی وہ تو کبھی اتنی جلدی واپس نہیں آتا تھا۔۔۔
“کامران ۔۔۔۔کامران گھر آیا تھا ۔۔۔کب آیا تھاوہ ۔۔”۔۔میں مزید پریشان ساہونے لگا
“یہی کوئی ایک گھنٹہ پہلے ۔۔۔میں نے تو جی کہا تھا ان سے کہ بڑی بیگم صاحبہ نے خود رانی کو ماہم بی بی کے پاس رکنے کا کہا ہے ۔۔۔۔مگر وہ غصے سے کہنے لگے کہ میں رانی کو واپس چھوڑ آؤں آپ کو تو پتہ چھوٹے صاب میراگھر یہاں سے کافی دور ہے ۔۔۔میں فورا رانی کو چھوڑ کر چلا آیاپانی بھی نہیں پیا جی آپ کامران صاحب سے پوچھ لو ماہم بی بی کے بارے میں “۔۔۔۔کریم بابا اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھرتے ہوئے بولے
میں نے فورا سے کامران کا نمبر ملایا مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا ۔۔۔میں نے دوبارہ کال کی تو فون آف ہو چکا تھا میری جان پر بن گئ تھی کہاں لیکر گیا تھا وہ ماہم کو اور کیوں۔۔۔ کس حق سے۔۔۔۔ماہم بھی کیوں چلی گئی اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔میرا خون کھولنے لگا ۔۔۔۔میں نے پاپا کو کال کر کے پوری بات انہیں بتا دیا
“پاپا اگر کامران نے ماہی کو کچھ بھی نقصان پہنچایا میں چھوڑو گا نہیں اسے “۔۔۔۔میراغصہ آخری حدوں کو چھو رہا تھا ۔
پاپا بھی پریشان ہو گئے اور گھر آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔۔۔میں نے گاڑی اسٹاٹ کی جیسے ہی مین روڈ پر آیا بارش شروع ہو گی دیکھتے ہی دیکھتے بارش نے طوفانی بارش کا روپ دھار لیا ۔۔۔۔بادلوں کی گرج بجی کی چمک اور دھواں دار بارش نے ان فانا سڑکوں کو پانی سے بھرنا شروع کر دیا ۔۔۔ ہر وہ جگہ جہاں مجھے شک تھا کہ کامران جا سکتا ہے میں جا کر دیکھنے لگاساتھ ساتھ بار بار کامران کو کال کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔مگر کامران کا فون مسلسل بند تھا تھک ہار کر میں گھر واپس آ گیا مما پاپا لاونج میں پریشان کھڑے میرا ہی انتظار کر رہے تھے مما روئے جا رہیں تھیں ۔۔۔پاپا کسی کو فون کر رہے تھے مجھے دیکھ کر دونوں ہی میرے پاس آگئے
“عفان کچھ پتہ چلا”
“نہیں جہاں جہاں مجھے شک تھا میں دیکھ چکا ہوں ۔۔۔”۔۔۔میں تھک کر کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“عفان میری بچی ۔”۔۔۔۔مما پھر سے رونے لگی ۔۔۔۔۔
“کامران کہاں لے جا سکتا ہے اسے ۔۔۔۔
“صفیہ تم کچھ دیر چپ رہو ۔۔۔اس لڑکے نے تو
مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔”۔۔۔پاپا غصے سے مما پر دھاڑے اور فون پر اپنے دوست ایس ایچ او کو کال کر کے گھر بلا لیا ۔۔۔۔
کچھ مختصر سا پاپا نے سے فون پر بتا دیا ۔۔۔۔اور یہ بھی کہاں کہ کامران اگر مل جائے تو اسے پولیس اسٹیشن کے جا کر مجرموں کی طرح پوچھ گچھ کی جائے ۔۔۔ وہ اعتراض نہیں کریں گئے ۔”۔۔۔ایس ایچ او نے تسلی دی اور گھر آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں باہر کامران کی گاڑی کا ہارن سن کر ہم تینوں ہی بھاگتے ہوئے باہر لان کی طرف گئے ۔۔۔۔کریم بابا مین گیٹ کھول چکے تھے ۔۔۔۔۔کامران کی گاڑی جیسے ہی پورج میں کھڑی ہوئی میں نے اسکی گاڑی کی طرف بھاگ کر گیا مگر کامران کو اکیلا دیکھ کر میرے دماغ کی طنابیں کھچنے لگیں میں پاگل سا ہونے لگا ۔۔۔۔۔میں نے گاڑی کادروازہ کھولا اور کامران کو گریبان سے پکڑ کر باہر نکالا ۔۔۔رنگ کامران کا بھی اڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
“ماہی کہاں ہے کامران ۔”۔۔۔میں چلا کر بولا ۔۔۔۔۔
“مجھے نہیں۔ معلوم ۔۔””۔کامران شرمندہ سا نظریں جھکا کر بولا میں نے ایک زور دار مکا اسکے منہ پر مارا
“کہاں ہے میری ماہی بتاؤں مجھے ورنہ میں جان لے لوں گا تمہاری “۔۔۔۔مجھ پر جنون سا سوار ہونے لگا میرا دل چاہا کامران کا گلہ ہی دبا دوں ۔۔۔۔۔
***********…………*********………*********
ماہم جب بھی مجھ سے ملنے ہاسپٹل میں آتی میراذہن اپنی تمام تر حساسیت کے ساتھ بیدار ہو جاتا اب وہ روتی نہیں تھی ۔۔۔مجھ سے باتیں کرتی تھی ۔۔۔۔بہت پیار سے اور لگاوٹ سے میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیکر انہیں چومتی تھی اپنی محبت کا اظہار کرتی ۔۔۔۔۔وہ لمحے مجھے زندہ ہونے کا احساس دلاتے ۔۔۔میرادل چاہتا ماہم کاہاتھ تھام لوں ۔۔۔۔وہ مجھ سے عمر کی چھوٹی چھوٹی باتیں بتاتی تھی
عفان عمر بیٹھنے لگا ہے ۔۔۔۔عفان عمر اب واکر چلانے لگا ہے ۔۔۔۔۔عمر اب آپ جیسا لگتا ہے ۔۔۔۔۔اسکے بال آپکے بالوں جیسے ہیں اسکے ہاتھ اور انگلیاں آپکے ہاتھوں جیسی ہیں ۔۔۔۔آپ جلدی سے اٹھ جاؤں اپنے عمر کے لئے میرے لئے ۔۔۔۔عفان آپ سن رہے ہو نا مجھے ۔۔۔۔۔۔میرادل کہتا ہے آپ مجھے سن رہے ہو ۔۔۔۔آپکی دھڑکنیں مجھے اپنے اندر دھڑکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔مجھےلگتا ہے آپ کا دل میرے اندر دھڑکتا ہے ۔۔۔عفان پتہ ہے ۔۔۔۔اب آپ کا دل مجھے آپکے ہر جذبے کی خبر دیتا ہے ۔۔۔۔۔مجھے معلوم ہے آپ مجھے سن رہے ہو ۔۔۔۔آپ میرا ہاتھ تھامنا چاہتے ہو “۔۔۔۔وہ میرے ہاتھوں کو پکڑے واقعے سچ ہی تو کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے وہ سب لمحے دوہراتی جو ہم نے ایک دوسرے کے سنگ اچھے گزارے تھے۔۔۔۔آج وہ چہک کر بولی ۔۔۔۔۔
“عفان عمر نے آج بابا کہا ہے ۔۔۔۔عفان اس نے آپ کا نام لیا ہے ۔۔۔اس نے آپ کو پکارا ہے ۔”۔۔۔ماہم کی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی میراذہن جاگ اٹھا ۔۔۔۔اسکی آواز میں خوشی بھی اور آنسوں کی آمیزش بھی ۔۔۔گلو گیر لہجے سے وہ یہ خبر مجھے سنا رہی تھی
“عفان عمر نے مما نہیں کہا اس نے بابا کہا ہے ۔۔۔۔عمر میرے ساتھ آیا ہے عفان آپ سے ملنے آپ کو بابا کہنے “۔۔۔۔ماہم اب میرے برابر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔میرا ہاتھ پکڑے وہ ایک ننھے وجود پر پھیرنے لگی ۔۔۔۔میرا دل تڑپ کر رہ گیا ۔۔میرا بچہ میرا عمر ۔۔۔۔میری آنکھوں میں عمر کاوہی نقشہ گھومنے لگا جب وہ چند ماہ کا تھا ۔۔۔۔۔میرادل اس زور سے دھڑکنے لگا کہ دل ابھی سینہ شگاف کر کے باہر نکل آئے گا۔۔۔۔۔۔میں بے تاب سا ہونے لگا ۔۔۔میرے ہاتھ عمر کے چہرے کے نقوش چھو رہے تھے ۔۔۔۔میں نے اپنی آنکھیں کھولنے میں اپنی پوری قوت سرف کرنے لگا ۔۔۔۔عمر کی غوں غاں کی آوازیں مجھے اندر تک تسکین پہچانے لگیں ۔۔۔۔میں نے اپنی آنکھوں کو کھولنے کی آخری حد تک کوشش شروع کر دی ۔۔۔۔۔۔ماہم میرا ہاتھ مسلسل عمر کے سر اور چہرے پر پھیر رہی تھی ۔۔۔میرا اضطراب اور بڑھنے لگا ۔۔۔۔۔دل کی دھڑکنیں بے لگام گھوڑے کی طرح بھاگنے لگیں۔ میری پوری قوت اپنی آنکھیں کھولنے پر لگ گئ مجھے عمر کو دیکھنا تھا میرا بچہ ۔۔۔۔میرے جگر کا ٹکرا ۔۔۔میرا عمر ۔۔۔۔۔
“عمر کہو بابا ۔۔۔بابا کہو عمر “۔۔۔۔ماہم عمر سے بہت محبت سے کہہ رہی تھی ۔۔۔
“با با با با ۔”۔۔۔۔عمر کی آواز میرے کانوں میں پڑیں ۔۔۔۔باریک سی آواز ۔۔۔۔
“سنا ۔۔۔عفان آپ نے سنا ۔۔۔۔عمر نے بابا کہا ہے ۔۔۔۔عفان عمر نے آپ کو بابا کہا ہے۔”۔۔ماہم کے لہجے میں خوشی چھلک رہی تھی مگر آواز بھرائی ہوئی تھی جیسے ہسنے کے ساتھ ساتھ آنسوں بھی چھلکا رہی ہو ۔۔۔۔
“بابا ۔۔۔۔۔بابا ۔”۔عمر اب مسلسل بابا کی گردان کرنے لگا ۔۔۔۔ماہم میرے ہاتھ میں عمر کے ہاتھ رکھ دیے اب وہ میری انگلیاں پکڑے بابا کہنے لگا اور میرا دل چاہا اپنی بے بسی پر چیخوں چلاؤں دھاڑیں مار مار کر روں ۔۔۔۔۔۔میں نے پھر سے پوری قوت اپنی آنکھیں کھولنے میں لگا دی ۔۔۔۔۔یک دم ہی مجھے لگا میری آنکھوں کی پتلیوں میں جنبش ہوئی ہو ۔۔۔۔جیسے میری پتلیاں دائیں بائیں متحرک ہوئیں ہوں ۔۔۔۔۔پہلے مجھے لگا میرا وہم ہے ۔۔۔مگر نہیں میں سچ میں اپنی آنکھوں کو ہلا پا رہا تھا ۔۔۔۔بغیر کسی دکت کے ۔۔۔۔
“مسز عفان ۔۔۔لک ایٹ یور ہسبینڈ آئیز ۔۔۔۔ہی ول مور اٹس” ۔۔۔۔یہ ڈاکٹر رمشہ کی آواز تھی کیاوہ بھی کمرے میں موجود تھی ۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔کب سے ۔۔۔۔
“عفان ۔۔۔۔عفان آپ ۔۔۔۔آپ۔۔۔۔۔آپکی آنکھیں ۔۔۔۔۔”
فرحت محبت سے خوشی سے ماہم کے لفظ نہیں نکل پا رہے تھے ۔۔۔۔۔میں بھی تو بے حد خوش تھا ۔۔۔میرے ذہن کان کے علاؤہ میرے جسم کا ایک عضو زندہ ہو چکا تھا ۔۔۔۔
“پاپا ۔۔۔پاپا ۔۔آپ اور ۔۔۔مماجلدی سے ہاسپٹل آ جائیں عفان اپنی آنکھوں کو حرکت دے پا رہے ہیں ۔۔۔پاپا وہ ٹھیک ہو رہے ہیں ۔۔۔۔انشااللہ وہ جلد ٹھیک ہو جائیں گئے “۔۔۔۔ماہم یہ اطلاع شاید فون پر پاپا کو دے رہی تھی ۔۔۔وہ میرے میرے قریب بیٹھ گئ ۔۔۔۔مجھ سے آنکھیں کھولنے کا کہنے لگی مگر میں اپنی تمام تر قوتوں کو سرف کرنے بعد اتنا ہی کر پایا تھا اب میں ذہنی اور اعصابی طور پر تھک چکا تھا ۔۔۔۔
عمر کچھ کچھ توقف کے بعد بابا کہہ رہا تھا ۔۔۔کبھی ۔۔۔قلقاریاں مار کر ہسنے لگتا ۔۔۔کبھی میرے بالوں اور آنکھوں پر اپنے ننھے ہاتھ پھرنے لگتا ۔۔۔کبھی اپنی زبان میں تاتا پاتا کرنے لگتا ۔۔۔۔مجھے زندگی کا احساس ہونے لگتا ۔۔۔۔میرا دل چاہا ماہم اور عمر میرے ساتھ یونہی بیٹھے رہیں ۔۔۔۔۔کچھ وقت کے بعد
کمرے کادروازہ کھل کر بند ہواپاپا کی آواز میرے بہت قریب سے آنے لگی جیسے وہ میرے قریب ہوں
“عفان ۔۔۔۔میری جان میرے بچے” ۔۔۔پاپا کی آواز کی تڑپ پر میری پتلیاں تیزی سے حرکت کرنے لگیں ۔۔۔۔۔
“عفان میرے بچے ۔۔”۔مما میرے چہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے رو پڑیں ۔۔۔۔۔مما کی سسکیاں سن کر میرا رو دینے کو جی چاہا ۔۔۔۔۔نا جانے کتنے عرصے بعد میں نے مما پاپا کی آواز سنی تھی ۔۔۔۔
مما میری پیشانی میری آنکھیں چومنے لگیں آنکھوں سے پہنے والے آنسوں میری آنکھوں کو بھگونے لگےانکی سسکیاں میرے دل پر نشتر چلانے لگیں ۔۔۔۔میرا دل سلگ کر رہ گیا ۔۔۔۔۔۔کتنا بد نصیب تھا میں جو اپنے ماں باپ کے آنسوں بھی صاف کرنے سے قاصر تھا ۔۔۔۔۔میں پوری قوت لگانے لگا کہ میری آنکھیں مکمل طور پر کھل جائیں مگر ایسا کچھ نہیں ہوا میں اندر ہی اندر رونے لگا ۔۔بے بسی بھی کتنا بڑا عذاب ہے ۔۔۔۔پاپا نے میرا ہاتھ پکڑ لیا
“عفان تم میری قوت ہو میرے بچے کوشش کروں گئے تو ان شااللہ اٹھ بیٹھوں گئے ۔۔۔بس اپنی اس کوشش کو روکنا مت عفان ہماری خاطر تم خود سے جنگ کرتے رہنا ۔۔۔۔میرے بچے ہم سب کی دعائیں تمہارے ساتھ ہیں “۔۔۔۔پاپا کے دلاسے کا جواب میں صرف اپنی پتلون کو تیزی حرکت دیتے ہوئے دینے لگا ۔۔۔۔
کمرے کادروازہ پھر سے کھلا اور پوری قوت سے بند ہوا کسی کے پیروں کی چاپ بہت تیزی سے میری جانب بڑھی ۔۔۔۔
“کامران ۔۔۔کامران دیکھوں عفان ٹھیک ہو رہا ہے ۔۔۔۔دیکھوں اسکی آنکھوں حرکت کررہیں ہیں ” ۔۔۔۔آنے والا کامران تھا میرا بھائی میرا بڑا بھائی ۔۔۔۔میرا دل پھر سے انتشار میں مبتلہ ہو گیا۔۔۔۔کاش یہ آنکھیں کھل جاتی میں اپنوں کو دیکھ سکتا اپنے بھائی کو دیکھ سکتا ۔۔۔۔مجھے لگا اب کامران میرا ہاتھ تھامے گا ۔۔۔۔مجھے سے اپنی محبت کا اظہار کرے گا ۔۔۔۔مجھے میری اس ذراسی کوشش پر سہرائے گا میراحوصلہ بلند کرے گا ۔۔۔۔
“پاپا کیسے سمجھاؤں آپ لوگوں کو ایسے کیسز میں کبھی کبھاد اتفاقا ایساہو جاتا ہے ۔۔۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔کیوں اذیت دے رہیں خود کو بھی اور اسے بھی ۔۔۔گھر کے ماحول کو ماتم کدہ بنا کے رکھ دیا ہے آپ نے ۔۔۔۔اگر ابھی میں اس کا آکسیجن ماسک اتار دوں توچند لمحے لگیں گئے سے زندہ سے مردہ کی فہراست میں جاتے ہوئے ۔۔۔۔کیسے سمجھاؤں آپ لوگوں کو ۔۔۔ڈاکٹر آپ لوگوں کو بیوقوف بنا کر روز کے ہزاروں روپے بٹور رہے ہیں ۔۔۔۔پاپا آپ تواب گھر کے ہی ہو کر رہ گئے ہیں میں ہی مشین کی طرح پیسے کمانے میں لگا ہوا ہوں ۔۔۔اب میں مزید یہ فالتوں کے خرچے نہیں پال سکتا ۔۔۔۔کامران کا لہجہ اپنایت سے مبرا تھا ۔۔۔۔اس کاایک ایک لفظ دل کو چیرنے کے لئے کافی تھا ۔۔۔۔کیاجو میں سن رہا تھاوہ واقع میرا بھائی کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔کامران کی خود غرضی پر میں بجھ کر رہ گیا ۔۔۔۔
“یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم ۔۔۔۔شرم غیرت سب مر گئ ہے تمہاری ۔۔۔۔۔عفان کاعلاج کسی صورت نہیں رکے گا ۔۔۔۔تم مت دو پیسہ میں اپنی دونوں فیکڑیاں بیچ دونگا اگر ضرورت پڑی تو گھر بھی بیچ دونگا مگر اپنے بچے کا علاج ہر صورت کرواں گا ۔۔۔۔۔پاپا کے اشتعال آمیز لہجے پر کامران کا لہجہ بھی دھیما پڑ گیا ۔۔۔۔
“پاپا میرا یہ مقصد ہر گز نہیں تھا ۔۔۔۔عفان بھائی ہے میرا۔۔۔مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے اسے اس حال میں دیکھ کر ۔۔۔۔ آپ یہ حقیقت کیوں نہیں مان لیتے کہ عفان نوے فیصد مر چکا ہے ۔۔۔کیوں خود کے ساتھ اسے بھی اذیت دے رہے ہیں” ۔۔۔۔
“۔۔نہیں میں زندہ ہوں ۔۔۔۔سمجھ بوجھ رکھتا ہوں کامران کیوں مجھے مردہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے “۔۔۔۔۔مجھے خود سے جھنجھلاہٹ ہونے لگی
“مسٹر آپ جو کوئی بھی ہیں ۔۔۔۔۔۔مگر آپ کے بھائی سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اب تو ان میں بہترین بھی آ رہی ہے میرے خیال سے آپ کو پیشنٹ کے سامنے اس قسم کی گفتگوں سے اجتناب کرنا چاہیے “۔۔۔ڈاکٹر کی باتوں پر سب ہی خاموش ہو گئے ۔۔۔۔پھر سب ہی میرے کمرے سے چلے گئے اور پھر وہی موت جیسی خاموشی ۔۔۔۔مجھے اٹھنا ہے اپنی ماہی کے لئے اپنے ماں باپ کے لئے اپنے عمر کے لئے ۔۔۔۔۔میں اب ذیادہ سے ذیادہ کوشش کرنے لگا تھا کہ میں اپنی آنکھوں کو کھولو ۔۔۔۔
اگلی بار جب ماہم آئی تو فاریہ اور قاسم بھی اسکے ساتھ تھے ۔۔۔۔فاریہ ماہم سے میری کنڈشن پوچھنے لگی قاسم میرا ہاتھ تھامے باتیں کرنے لگا
“اٹھ جا نا یار ۔۔۔تجھے پتہ ہے نا تیرے بغیر میں کتنا ادھورا اور اکیلا ہو گیا ہوں ۔۔۔۔تم تھے عفان تو کبھی احساس تک نہیں ہوا تھا کہ کوئی کام مشکل ہے لیکن اب تو ہر قدم اٹھاتے ہوئے ڈرتا ہوں ۔۔۔بار بار سوچتا ہوں تم ہوتے تو کیا کرتے ۔۔۔۔۔کتنی آسانی سے تم مشکلوں کا حل تلاش کر لیتے تھے ۔۔۔۔تم کوشش مت چھوٹا میرے یار ۔۔۔بہت جلد ٹھیک ہو جاؤں گئے۔۔۔”۔قاسم کا لہجہ اسکی افسردگی کی عکاسی کر رہا تھا ۔۔۔۔کچھ دیر بعد ہی کمرے میں صرف ماہم رہ گئ میرے پاس بیٹھ کر وہ سب بھی اپنی کر بات مجھ سے شیر کرتی تھی ۔۔۔۔
“آپ کو پتہ ہے عفان میں نے ڈرائیونگ سیکھ لی ہے ۔۔۔۔اور جو آفس آپ نے میرے لئے بنایا تھا میں وہاں بھی جانے لگی ہوں آپ چاہتے تھے نا کہ میں دوسروں کے خوابوں میں تعبیر کا رنگ بھر دوں ۔۔۔میں اب یہی کرتی ہوں ۔۔۔۔۔دوسروں کی خوشیوں کو انمول بنانے کی بھر پور کوشش کرتی ہوں ۔۔۔۔۔آپ کے لئے ایک اور خوشخبری بھی ہے میرے پاس ۔۔۔۔۔آپ کی ماہی اب احمق اور بیوقوف لاپروا نہیں رہی ۔۔۔۔اب میں بلا وجہ سوچے سمجھے نہیں بولتی ۔۔۔۔بلکہ میں اب بولتی ہی نہیں ہوں ۔۔۔میری ساری باتیں تو آپ کی خاموشی کے ساتھ چپ سی ہو گئیں ہیں لگتا ہے کہنے کو میرے پاس کچھ بچا ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔ماہم کی آواز اب آنسوں سے بھاری ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔میں اپنے اندر سلگ رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔میں نے کب چاہا تھا کہ وہ یوں جس جائے ۔۔۔وہ جیسی تھی ویسی ہی مجھے اچھی لگتی تھی
*******
پاپا نے مجھے پیچھے کیا اور خود کامران کے منہ پر دو تین تھپڑ مارے ۔۔۔۔۔۔کامران کا گریبان جھنجھوڑ کر اس سے ماہم کے بارے میں پوچھنے لگے
“کہاں ہے میری بچی ۔۔۔۔۔بول کیوں نہیں رہے” ۔۔۔پاپا بہت زور سے دھاڑے
“پاپا میں خود پریشان ہوں ۔۔۔مجھے نہیں معلوم کہ ماہم کہاں ہے ۔۔۔۔گئ تو وہ میرے ساتھ ہی آئسکریم کھانے مگر تیز بارش کی وجہ سے میری گاڑی خراب ہو گئ ۔۔۔۔میں اسے تاکید کر کے مکینک کو لینے گیا تھا کہ وہ گاڑی سے نیچے نا اترے ۔۔۔لیکن جب میں واپس آیا ماہم غائب تھی میں خود اسے ڈھونڈ رہا تھا جانے کہاں گئ ہے وہ “۔۔۔۔مجھے کامران کی کسی بات پر بھروسہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔
“تم نے ہمیں خبر کیوں نہیں کی ۔۔۔۔تم اسے لیکر ہی کیوں گئے تھے۔میں نے کہا تھا ماہم سے دور رہو ۔۔۔۔۔۔”
“پاپا اسی نے ضد کی تھی “۔۔۔۔کامران کی جھلکی نظریں اس کی بات کی چغلی کھا رہی۔ تھیں
“میرا دوست ایس ایچ او جاوید آ رہا ہے ۔۔۔۔اب وہی تم سے مجرموں کے طریقے سے اگلوائے گا ۔۔۔۔۔اس بار میں تمہیں چھوڑو گا نہیں کامران ۔۔۔بتاو ماہم کہاں ہے “۔۔۔۔۔پاپا غیض و غصے سے چیخ رہے تھے
“خدا کی قسم مجھے نہیں معلوم پاپا ۔۔۔۔۔میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔میں خود بہت پریشان ہوں” ۔۔۔۔ کامران کے چہرے کی ہوائیاں آڑی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔اتنی سردی میں بھی اسکے پسینے چھوڑ رہے تھے
“گاڑی کس جگہ۔ خراب ہوئی تھی تمہاری “۔۔۔۔میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیا کر گزرو مگر اسوقت مجھے صرف ماہم کی فکر تھی کہاں ہو گی وہ اسے تو ٹھیک سے راستے تک معلوم نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
کامران ایک علاقے کا نام اور لوکیشن بتانے لگا ۔۔۔۔۔۔باہر جانے سے پہلے میں نے کامران کو تنبیہہ کی
“ابھی تو مجھے ماہی کی فکر ہے ۔۔۔مگر آکر تم سے پوچھوں گا تم اسے لیکر کس کی اجازت سے گئے تھے “۔۔۔ میں درشتگی سے کہہ کر باہر چلا گیا ۔۔۔۔دیوانوں کی طرح میں ماہم کو اس علاقے میں ڈھونڈ رہا تھا جو کامران نے بتایا تھا قریبی دوکانداروں کو ماہم کی تصویر دیکھا کر پوچھتا رہا ۔۔۔مگر کسی نے اسے وہاں دیکھا ہی نہیں تھا کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں ہے ۔۔۔۔۔میرا سر درد سے پھٹنے لگا تھا بارش اب بھی ہو رہی تھی مگر بہت تیز نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔ماہم کا خیال ہی میرے لئے روح فرسا تھا اس کے نا ملنے کا سوچنا ہی میرے لئے جان لیوا تھا ۔۔۔۔غم و غصے سے میری آنکھوں سے آنسوں جاری ہو گئے ۔۔۔میں آنے جانے والی گاڑیوں کو موبائل سے ماہم کی تصویر دیکھا کر پوچھنے لگا مگر اس کا کسی کچھ پتہ نہیں تھا
