Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 6
Rate this Novel
Tadbeer Episode 6
Tadbeer by Umme Hani
اسی رات کو جب باہر لان میں بیٹھے یہی بات مما نے پاپااور کامران کے سامنے رکھی تو پاپا میری بات سے متفق تھے مگر کامران کو اعتراض تھا
“اسمیں ایسا کوئی حرج بھی نہیں ہے مما ۔۔۔۔میں مل چکا ہوں اس لڑکے سے مگر بس رسمی سی علیک سلیک ہی ہوئی تھی دیکھنے میں کافی سمجھدار اور مہذب ہی لگا تھا مجھے ،۔۔۔۔انکی فیملی امریکہ سے یہاں شفٹ ہوئی ہے ۔۔۔۔اور اس گلی کے آخری بنگلے میں جو رئیس صاحب رہتے ہیں ۔۔۔۔یہ لوگ انہیں کے ریلیٹو ہیں ۔۔۔۔۔پاپا آپ رئیس صاحب کو تو جانتے ہی ہیں وہ کافی عرصے سے یہاں قیام پزیر ہیں” ۔۔۔۔۔میں اپنے کمرے کے ٹیرس سے جھک کر انکی ساری باتیں سن رہا تھا ۔۔۔۔پاپا بھی کسی سوچ میں کھوئے کچھ توقف کے بعد بولے
“ہاں آتے جاتے سلام دعا تو میری سب سے ہی ہے مگر میں اتنا ذیادہ تو انہیں بھی نہیں جانتا ۔۔۔بہرحال یہ تو ہے کہ وہ یہاں کافی عرصے رہائش پزیر ہیں ۔۔۔۔”
۔پاپا کافی سنجیدہ لگ رہے تھے ۔۔۔۔میری بے چینی کا یہ عالم تھا کہ کے دل بنا پانی کے مچھلی کی طرح سینے میں پھڑپھڑا رہا تھا ۔۔۔۔۔کیوں انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ جب گھر پر ہی رشتہ موجود ہے تو باہر دیکھنے کا جواز ہی کیا ہے ۔۔۔۔کامران پر تو مجھے رہ رہ کر غصہ ا رہا تھا سب سے ذیادہ وہیں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا
“پاپا اگر آپ کہیں تو میں اس لڑکے کی انکوائری نکلوا لیتا ہوں اگر سب تسلی بخش ہوا تو پھر مما ان لوگوں کو انوائیٹ کر لیں” ۔۔۔۔۔کامران کے مشورے پر مجھ سے رہا نہیں گیا میں تیزی سے سیڑیاں عبور کرتا ہوا لان میں پاپا کے سامنے کھڑا ہو گیا
“پاپا میں کچھ کہنا چاہتا ہوں آپ سے ۔۔۔۔میں نے مہدب لہجے میں پاپا سے اجازت مانگی پاپا سمیت کامران اور مما کی نظریں بھی مجھ پرتھی۔۔۔۔
‘”ہاں بولو کیا کہنا ہے تمہیں” ۔۔۔۔پاپا کے ماتھا پر شکن تھا
“میرے خیال سے پاپا ۔۔۔۔ اس بات کا تعلق ماہم سے ہے ۔۔۔آپ کو سب سے پہلے ماہم سے پوچھنا چاہیے۔۔۔۔۔۔اگر اسے کوئی اعتراض نہیں ہے تو چھان بین کا کام بعد میں بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔یہ ماہم کی زندگی کا سب سے اہم معاملہ ہے اسکی رضامندی ذیادہ اہمیت رکھتی ہے” ۔۔۔میں نے اپنی بات مکمل کر کے کامران پر ایک ترش سی نظر ڈالی وہ بھی کڑے تیوروں سے مجھے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔پاپا اور مما دونوں کو میری بات پر اتفاق تھا ۔۔۔میں وہاں سے پلٹ کر سب سے پہلے ماہم کے کمرے میں ہی گیا تھا ۔۔۔۔وہ اپنے موبائل پر اپنی کسی دوست سے بات کر رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے سیدھے اسکے پاس جا کر اس کا فون پکڑ کر ڈسکنکٹ کیا۔۔۔ اور اسکے سامنے بیٹھ گیا وہ میری حرکت پر کچھ متحیر سی ہو گئ میں نے بنا تمہید باندھے اپنی بات شروع کی
“ماہی تمہیں لگتا ہے کہ تمہیں اتنی جلدی شادی کرنی چاہیے “۔۔۔۔۔میرے سوال پر وہ بوکھلا سی گئ ۔۔۔
“مطلب ۔۔۔۔کیا ۔۔۔ہے تمہارا ۔”۔۔۔اسکی نا سمجھی پر میرادل اپنا سر پھوڑنے کو چاہ رہا تھا لیکن پھر بھی میں نے ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوڑے بغیر اپنا لہجہ کافی حد تک متوازن رکھ کر ماہم کو ناصحانہ انداز سے سمجھانا شروع کیا
“مطلب یہ ماہی کہ تم نے ابھی بی اے بھی کمپلیٹ نہیں کیا ۔۔۔۔اور پاپا آج آنے والے اس اسٹوپڈ رشتے کو لیکر سیریس ہیں ۔۔۔۔شاید مما کل تم سے تمہاری رائے بھی لینے آئیں کیا کہو گئ تم” ۔۔۔۔ میری بات پر ماہم بس بیوقوفوں کی طرح مجھے تکے جا رہی تھی پھر الٹا مجھی سے پوچھنے لگی
“مجھے کیا کرنا چائیے عفان ۔۔۔تم بتاؤ ۔”۔۔۔اسکے جواب پر میرا جی چاہا اپنا سر اسی کے سر پر دے مارو
“تم شادی کرنا چاہتی ہو ۔۔”۔۔مجھے ماہم پر جی بھر کر غصہ آ رہا تھا اس لئے لاکھ ضبط کے باوجود میرے لہجے میں غصے کی آمیزش تھی
“کیا نہیں کرنی چاہیے ۔۔”۔ ماہم کے جواب نما سوال پر میں بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔۔کیااحمقانہ سوال تھا ۔۔۔
“بلکل نہیں کرنی چاہیے ۔۔۔۔اور ہاں تم کل مما کو بھی انکار کر دینا سمجھی “۔۔۔۔میرے حتمی انداز پر وہ فوراسے مان گی
“ٹھیک ہے کر دونگی” ۔۔۔۔اسکے یوں مان جانے پر میں نے طمانیت بھری سانس لی
“اب بیوقوفوں کی طرح مما یہ مت کہنا کہ یہ سب میں نے تم سے کہنے کو کہا ہے ۔۔۔۔تم کہنا کہ تم بی اے کرنا چاہتی ہو اور یہ رشتہ بھی تمہیں پسند نہیں ہے۔”۔۔۔میں نے ماہم کو سمجھانا ضروری سمجھا اس سے کیا بعید تھا کہ وہ مما کے سامنے میرا نام ہی لے لیتی
“ہاں تو معلوم ہے مجھے ۔۔۔احمق تھوڑی ہوں تمہاری طرح جو یہ سب خالہ سے کہوں گئ ۔۔۔آخر بڑی ہوں تم سے سب پتہ ہے مجھے” ۔۔۔۔۔اس نے دائیاں ابرو چڑھاتے ہوتے اترا کر کہا ۔۔۔اسکے بڑے پن اور سمجھداری پر میں صرف تعجب ہی کر سکتا تھا ۔۔۔
۔ماہم سے اتنی مغز ماری کرنے کے بعد بھی میرے دل کا خلفشار اسوقت دور ہوا جب مما نے خود اس بات کی تصدیق کی کہ ماہم نے اس رشتے سے انکار کر دیا ہے
اس واقع نے مجھے حقیقتا ہلا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔اب میں قاسم کے والد کی آفر کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگا ۔۔۔۔۔۔کچھ دنوں بعد ہی میں نے پاپا سے قاسم کے والد کی خواہش ظاہر کی اور ساتھ ہی ساتھ اس جاب کے لئے اپنی آمادگی بھی ظاہر کر دی مگر پاپا نہیں مان رہے تھے
“نہیں عفان میں نہیں سمجھتا کہ تمہیں یہ سب کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔تمہارا پورا فوکس صرف اپنی تعلیم پر ہونا چائیے “
“پاپا آپ بیفکر ہو جائیں میری تعلیم پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔۔بلکہ ان کے ساتھ کام کرنے سے ۔۔۔میں مزید اسی لائن میں بہت کچھ پریکٹکلی سیکھ سکتا یوں ۔۔۔اور مجھے آگے بھی یہی لائن جوائن کرنی ہے تو ابھی سے کیوں نہیں” ۔۔۔۔میں پاپا کو قائل کرنے کی کوشش کرنے لگا
تو کیا تم میری فیکڑی نہیں سنبھالوں
نو پاپا مجھے آپ کے کام میں بلکل انٹرسڈ نہیں۔۔۔۔اور میں اپنے بل بوتے پر کچھ کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
“ہمم”۔۔۔۔۔ پاپا کچھ سوچتے ہوئے میری طرف دیکھنے لگے پھر مسکرا کر مجھے خوشدلی سے اجازت دیدی
او کے ینگ مین کر لو اپنی خوشی پوری مگر ۔۔۔۔مجھے رزلٹ شاندار چائیے ۔۔۔۔پاپا کی مسکراہٹ اور رضامندی پر میں خوش تھا
“تھنکس پاپا” ۔۔۔۔پاپا نے پیار سے میرے بال منتشر کر دئیے ۔۔۔
“پاپا کو کو تھنکس نہیں کہتے نالائق ۔۔۔۔”
*******……….********…….*******
وقت کافی تیزی سے گزرنے لگا یونی۔۔۔۔ یونی سے قاسم کے آفس اور پھر گھر آ کر اپنے پروجیکٹ اور اسائمنٹ پر سر کھپائی نے مجھے بہت مصروف کر دیا تھا ۔۔۔۔۔شام کو میں لیپ ٹاپ پر ہی مصروف تھا ۔۔۔سر میں ہلکا ہلکا درد ہونے لگا تھا چائے کی شدید طلب مجھے ماہم کے کمرے تک لے گئ میں نے سوچا کہ اسے چائے کا بول دوں میرے بار بار دستک دینے پر بھی ماہم نے دروازہ نہیں کھولا تو میں نے نیب گھمایا دروازہ کھلتا چلا گیا ماہم کمرے میں
موجود نہیں تھی مگر اسکے بیڈ پر بکھرے اسکیچز نے میری توجہ ضرور اپنی جانب کھینچ لی تھی ۔۔۔۔میں وہیں اسکے بیڈ پر بیٹھ کر ان بکھرے ہوئے اسکیچز کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔ماہم کی ڈارئنگ لا جواب تھی یہ میں جانتا تھا مگر جو شہکار میں اس کے اسکچز میں دیکھ رہا تھا میں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ۔۔۔۔پینسل سے اس نے وڈنگ ارینجمنٹ کی مناسبت سے کیا خوبصورت آئیڈائز کو اسکیچ کیا تھا ۔۔۔۔میں ایک ایک اسکیچ کو با غور دیکھنے لگا ۔۔۔۔کئی خوبصورت مناظر بھی صرف پینسل سے کی جانے والی شیڈنگ سے جاندار لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔میں سارے اسکیچز ویسے ہی ماہم کے بیڈ پر رکھ دیے ۔۔۔۔۔۔
******………*******……….******
سنڈے کا دن ہی مجھے فری ملتا تھا ۔۔۔۔۔۔مما اور ماہم ٹی وی پر کوئی ڈرامہ دیکھ رہیں تھیں اور میں بھی قریب ہی انکے پاس بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ مصروف تھا ۔۔۔۔قاسم کے فادر کے نئے پروجیکٹ کے سلسلے میں میں نے رات دیر تک بیٹھ کر بہت محنت سے اپنے نئے آئیڈیائز تیار کیے تھے بس وہیں انہیں ای میل کر رہا تھا کہ ماہم کی بات پر میری ساری توجہ ماہم پر جا رکی
“خالہ دیکھیں نا ہیروئن کے کمرے کی سجاوٹ کتنی زبردست ہے ۔۔۔۔اور اسکے کمرے کے کرٹن دیکھیں کتنے مختلف اسٹائل کے ہیں ۔۔۔۔اوردیکھیں وہ۔۔۔۔۔”
“ہاں ہاں ماہم سب اچھا ہے اب ذرا سننے تو دو اس بیچاری لڑکی کی شادی اسکا چچا پیسوں کی لالچ میں زبردستی کسی بڈھے سے کر رہا ہے۔”۔۔مما کی ساری دلچسپی ڈرامے کی اسٹوری پر تھی میں پھر سے اپنے لیپ ٹاپ پر کٹاکٹ انگلیاں چلانے لگا ۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ مما اور ماہم کی دلچسپ سی نوک جھونک سے لطف اندوز بھی ہونے لگا ۔۔۔۔اگلے سین شروع ہوتے ہی ماہم پھر سے اپنے تبصرے شروع کرنے لگی
“خالہ یہ لاونج کے صوفے دیکھے آپ نے کتنا ڈفرنٹ اسٹائل ہے انکا اوروہ کونے پڑا بڑا سا واز جہاں اس لڑکی کا چچا کھڑا ہے کتنا انٹیک واز ہے اور خالہ چھت ہے لگا فانوس ۔۔۔اف میرے خدایا تقریبا پچیس تو سیور ہی لگے ہوں اس میں “۔۔۔۔۔میری نظر ماہم پر پڑی تو جگنوں کی روشنیاں اسکی آنکھوں میں چمک رہیں تھیں ۔۔۔۔
“چپ بھی کرو ماہم ۔۔۔۔دیکھوں نا ڈرامہ ختم بھی ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔اس لڑکی کے ظالم چچا نے اسکی شادی کی تاریخ بھی طے کر دی ۔”۔۔۔مما نے جھنجلا کر کہا
تم نے سننے ہی نہیں دیا مجھے ماہم ۔۔۔ نا جانے کونسی تاریخ رکھی تھی اسکی شادی کی “۔۔۔۔ مما کو تاریخ نا سننے کا قلق ہو رہا تھا ۔۔۔۔
“پندرہ اکتوبر “۔۔۔۔۔میں نے مزہ لیتے ہوئے اپنے لیپ ٹاپ پر متحرک انگلیوں کے ساتھ با آواز بلند کہا تو مما اور ماہم دونوں میری طرف متوجہ ہوگئیں
“تم نے سنا تھا عفان” ۔۔۔۔مما نے دلچسپی سے پوچھا
“نہیں لیکن اسکی الگلی اپیسوٹ تو پندرہ اکتوبر کو ہی لگے گئ اور اس میں اس بیچاری لڑکی کی شادی جیسے ہی روتے دھوتے اس بڈھے سے ہونے لگے گئ عین اسی موقع پر ایک مجھ جیسے اسمارٹ اور ڈیشنگ ہیرو کی انٹری ہو گی اور وہ با رعب آواز سے کہے گا
“”یہ شادی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔میں یہ ظلم نہیں ہونے دونگا “”۔۔۔۔بس پھر اسکے بعد کیمرہ آدھا گھنٹہ سب کی شکلیں دیکھائے گا اور پھر وہ ہیرو پچاس کڑور کا چیک اس کے لالچی چچا کے منہ پر مارے گا۔۔۔۔۔بس ہوگئ ہیپی انڈنگ ۔”۔۔۔ میرا لیپ ٹاپ کا کام مکمل ہوچکا تھا اس لئے میں نے لیپ ٹاپ بند کر کے مما کی طرف دیکھا وہ دونوں میری ہی طرف منہ کھولے دیکھ رہی۔ تھیں
“تمہیں کیسے پتہ کہ یہ سب ہو گا ۔”۔۔۔مما نے دلچسپی سے پوچھا
اس لئے کہ یہی ہوتا ہے ۔۔۔۔اور اگلی آنے والی چار پانچ اپیسوڈ ماہی تمہارے لئے بہت کارآمد ثابت ہونے والی ہیں ایک بھی مس مت کرنا۔”۔۔میرے اگلے مشورے پر ماہم مجھے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی
“کیا مطلب” ۔۔۔وہ مجھے حیرت سے پوچھتے ہوئے میرے برابر آکر بیٹھ گئ
“بھئ سیدھی سی بات ہے اگلی اپیسوڈ میں اس لڑکی کی اس ہیرو سے شادی جو ہونے والی ہے ہر رسم کی ایک اپیسوڈ توضرور ہو گئ تمہیں نئ سے نئی ترکیبیں دیکھنے کو ملیں گی وڈنگ ارینجمنٹ کی مناسبت سے اسکیچز بنانے میں مدد ملے گئ ۔۔”۔ماہم میری بات پر دنگ رہ گئ ۔۔۔۔
“تمہیں کیسے معلوم میں اسکیچز بناتی ہوں “۔۔۔۔وہ نظریں چراتے ہوئے بولی
“مجھے تو یہ بھی معلوم ہے کہ سامنے بنے ہوئے نئے اسٹائل کیے تعمیر شدہ بنگلے کا ایک خوبصورت سا اسکیچ بھی تم نے بنایا ہے “
“تم نے کب دیکھا یہ سب” ۔۔۔وہ سراسمیگی سی ہو کر منمناتے ہوئے پوچھنے لگی ساتھ ہی ساتھ اپنے پاؤں کے انگوٹھے کو نیچے بچھے دبز قالین پر رگڑنے لگی ۔۔۔۔اور ہاتھ کی انگلیاں بھی چٹخا رہی تھی ۔۔۔۔جب بھی ماہم بہت کنفوژ ہوتی تھی ایسی ہی حرکتیں کرنے لگتی تھی ۔۔۔
“تمہیں بلانے تمہارے کمرے میں گیا تھا تو سامنے بیڈ پر بکھرے پڑے تھے۔۔۔۔۔تم نے خود کے ساتھ اچھا نہیں کیا ماہی چلو انجیرنگ تمہارے لئے مشکل تھی تو اسی سے ریلیٹو کوئی لائن جوائن کر لیتی ۔۔۔۔
“وہ ۔۔۔تو ۔۔۔ویسے ہی میں بور ہورہی تھی ۔۔۔تو بنالئے ورنہ کہاں وقت ملتا ہے اور مجھے شوق بھی نہیں ہے ” ۔۔۔۔۔ماہم شاید اپنی خفت دور کرنا چاہ رہی تھی
“کم از کم مجھ سے تو جھوٹ مت بولو ماہی ۔۔۔۔میں نے ایک متاسفانہ نظر ماہم پر ڈالی اور اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا میں اسے مزید شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
کامران اب اپنے سارے کاموں کے لئے ماہم کو پکارنے لگا تھا ۔۔۔۔۔بے شک ماہم نے گھر کی کافی ذمہ داریاں اپنے ذمے لے لیں تھیں مگر کامران کے کاموں میں وہ گھن چکر بنی رہتی تھی حالانکہ مردانہ کپڑے دھوبی سے دھل کر پریس ہو کر آتے تھے ماہم بس اپنی نگرانی میں سب کے کپڑے ہنگ کر کے واڈروب میں رکھ دیتی تھی ۔۔۔۔مگر کامران کو ہر چیز کی پرفیکشن کا خبط تھا ۔۔۔۔پہلے تو اسکے سب کام مما ہی کرواتی تھی تھی۔۔۔۔اس لئے اگر کچھ اسکی مرضی کے مطابق نا بھی ہوتا تو مرواتا مما کے سامنے چپ رہتا مگر جب سے ماہم نے یہ سب سنبھالنا شروع کیا تھا ۔۔۔۔وہ ہر وقت ماہم پر چلاتا ہی نظر آتا کبھی اسے اپنی شرٹ کی استری ٹھیک نہیں لگتی تو کبھی کمرہ
“ماہم میری شرٹ صحیح سے پریس نہیں ہوئی اسے دوبارہ سے پریس کر دو ۔۔۔۔میرا کمرہ کس نے صاف کیا ہے میرا پرفیوم نہیں مل رہا ۔۔۔۔۔میری نیو برینڈ کی شرٹ کہاں ہے جو میں لایا تھا” ۔۔۔۔یہ سوال اکثر و پشتر اسکی زبان پر ہوتے اور ماہم جی جی کرتی
اسکی سارے کام نپٹانے لگتی کامران سے منہ سے نکلی بات کامران کو خواہش تھی کہ بوتل کے جن کی طرح پوری ہو جائے اس لئے ماہم بولائی بولائی سی پھرتی رہتی جب تک کہ کامران آفس نہیں چلا جاتا ۔۔۔ یہ سب دیکھ کر مجھے ماہم پر غصہ آنے لگتا
تھا ایک دن میں ماہم کو خوب آڑے ہاتھوں لیا
“تم کیا کامران بھائی کی ملازمہ ہو ۔۔۔۔جو جی جی کرتی سارے کام کرتی ہو انکے ۔۔۔۔۔”
“کیا ہو گیا ہے عفان ۔۔۔۔کام تو میں تمہارے بھی کر دیتی ہوں “وہ میرے کمرے میں ہی بیٹھی تھی
“ہاں مگر میں تمہیں یوں تنگ نہیں کرتا ۔۔۔۔جب سب کے کپڑے دھوبی سے پریس ہو کر آتے ہیں تو تم بھائی کی شرٹس کیوں بار بار پریس کرتی ہو ۔۔۔۔وہ اپنی چیزیں جب خود استعمال کرتے ہیں خود ہی رکھتے ہیں تو ڈھونڈنے کے لئے تمہیں کیوں پکارتے ہیں ۔۔۔اور تم کیا جی۔ جی کرتی رہتی ہو صاف منع کیوں نہیں کرتی ہو انہیں” ۔۔۔۔۔ میری بات پر وہ نظریں چرا گئ
“تمہارے مزاج میں اور کامی کے مزاج میں فرق ہے عفان ۔۔۔۔ تم جانتے تو ہو انہیں ہر چیز پرفیکٹ اچھی لگتی ہے اور تم مین میخ نکالنے کے عادی نہیں ہو ۔۔۔۔”ماہم کی کوئی وضاحت مجھے قبول نہیں تھی
“مگر تمہیں ضرورت کیا انکے نخرے اٹھانے کی ۔۔۔” میراغصہ ٹھنڈا ہونے کو نہیں ا رہا تھا
“وہ میں تمہارے بھی اٹھاتی ہو ۔۔۔کتنی بار تمہاری فرمائش پر میں نے تمہیں پاستا بنا کر دیا ہے ۔۔۔ “
“میری بات اور ہے ماہی” ۔۔۔بے اختیار ہی میرے لفظ میرے دل کی ترجمانی کے لئے وا ہو گئے ۔۔۔۔
ماہم حیرت سے میری آنکھوں میں جھانکنے لگی
“تمہاری بات اور کیوں ہے “۔۔۔۔اسکی گہری آنکھوں میں مجھے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہونے لگا میں نے فورا نظریں چرا لیں
“میں ۔۔۔۔میں ۔۔۔”میری سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ جواب کیا دوں
“بولو عفان کیا بکرے کی طرح منمنا رہے ہو “
“میں دوست ہوں تمہارا ۔”۔۔۔جلدی میں بس مجھے یہی وجہ سمجھ میں آئی ۔۔۔۔۔
“وہ تو ہو ۔۔۔۔لیکن کامی بڑے ہیں مجھ سے اب کیا انہیں منع کرتے ہوئے اچھا لگے گا ۔۔۔۔چھوڑو نا عفان ان باتوں کو مجھے عادت ہے کام کرنے کی مجھے برا نہیں لگتا ۔۔۔۔اور میں تھکتی بھی نہیں ہوں بس ۔۔۔۔”
ماہم نے مجھے مزید بولنے ہی نہیں دیا ۔۔۔۔
********………**********..
قاسم کے پاپا نے مجھے لگی بندھی تنخواہ کبھی نہیں دی تھی نا ہی ایسا کچھ میرے اور انکے درمیان طے ہوا تھا مگر وہ ایک اچھی معقول رقم مجھے دے دیتے تھے ۔۔۔۔جب پہلی تنخواہ میں سے میں نے مما کے ہاتھ میں دس ہزار رکھے تو وہ بیحد خوش ہوئیں ۔۔۔۔
“عفان یہ مجھے کیوں دے رہے ہو اپنے پاس سیو رکھو بیٹا تمہارے کام آئیں گئے ۔۔۔”
“سیونگ بھی کیے ہیں ۔۔۔یہ میری خوشی ہے مما پلیز اسے واپس کر کے میرا دل مت توڑیں ۔”۔۔۔۔۔مما کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک تھی ۔۔۔۔رات کو وہ پاپا اور کامران کو بھی بتانے لگیں
“رضاآپ کا بیٹا اب واقع بڑا ہو گیا ہے ۔۔۔۔کمانے لگا ہے ۔۔۔آج تو مجھے اپنی تنخواہ سے پیسے بھی دیے ہیں ۔۔۔۔”مما خوشی خوشی پاپا کو بتانے لگیں
“ارے واہ مجھے تو لگا تھا کہ یہ نا لائق کا نالائق ہی رہے گا مگر شکر ہے کہ کچھ تو عقلمندی دیکھائی اس نے” ۔۔۔۔پاپا ہمیشہ پیار سے مجھے ایسے ہی ریماکس دیتے تھے ۔۔۔۔ماہم بھی مسکرانے لگی بس ایک کامران تھا جو لا تعلق سا ہو کر بیٹھا تھا ماتھے پر تیوری۔ چڑھائے ٹی وی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
“کامران میرے خیال سے تمہیں بھی ایسی ہی کوئی خوشی اپنی ماں کو دینی چاہیے ماؤں کا مان بڑھتا ہے “۔۔۔۔پاپا کی بات پر کامران استزائیہ ہنسی ہسنے لگا اور ٹی وی کا ریموٹ میں سامنے ٹیبل پر رکھ دیا
“میں مما کی یہ خواہش ضرور پوری کرتا اگر آپ مجھے ہر ماہ ایک معقول رقم تخواہ کے طور پر دیتے ۔۔۔”
“میرے خیال سے میں نے کبھی تمہارا ہاتھ نہیں روکا ۔۔۔۔نا ہی کبھی تم سے پیسوں کا حساب لیا ۔۔۔دوستوں میں بھی تو اڑاتے ہو ۔۔۔۔”پاپا نے جتاتے ہوئے کہا
“پاپا جو کچھ بھی ہم کماتے ہیں سب مما کے پاس ہی آتا ہے میں دوں یا آپ کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔بہرحال آپ کو شاید عفان کو مجھ پر فوقیت دے کر تسکین ملتی ہے تو یہ اور بات ہے ۔۔۔۔کامران کڑے تیوروں سے یہ کہہ کر اوپر کی سیڑیاں چڑھ گیا ۔۔۔
“لو اور سنو برخودار کے نایاب خیالات ۔۔۔۔۔۔یہ نہیں کہے گا کہ میں بھی اگلے ماہ سے ماں کے ہاتھ میں کچھ رکھ دونگا” ۔۔۔۔۔پاپا سخت لہجے میں کہنے لگے
مما خاموش ہی رہیں ۔۔۔۔
*******………*******……..
L
شام کو ماہم اپنے کمرے میں تھی جب مسلسل اس کے موبائل پر ارسلہ کا نمبر جگمگاتا ہوا نظر آنے لگا ۔۔۔ماہم نے اس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔مگر جب فون کی بیل بتدریج بجتی چلی گی تو ماہم نے فون اٹھا لیا ۔۔۔۔
“کہاں تھی ماہم میں کب سے تمہیں فون کر رہی ہوں ۔۔۔
“بزی تھی ۔۔۔۔تم بتاؤں ۔۔۔”
“کالج کے بعد تم نے سارے رابطے ہی مجھ سے ختم کر دیے ۔۔۔۔ورنہ فائزہ تو اب بھی تمہارے کونٹیکٹ میں ہے ۔۔۔۔”
“وہ خود ہی کر لیتی ہے ۔۔۔۔میں نے تو اسے بھی کبھی فون نہیں کیا ۔۔وہ کرتی ہے تو میں بھی بات کر لیتی ہوں جیسے اب تم سے کر رہی ہوں” ۔۔۔ماہم نے بات بنائی ورنہ فائزہ سے وہ رابطے میں رہتی تھی ۔۔۔ارسلہ سے اس واقع کے بعد ماہم نے بات چیت کم کر دی تھی اور کالج کے بعد ارسلہ سے رابطہ بھی منقطع کر دیا تھا ۔۔۔۔دو سال بعد نا جانے ارسلہ کو ماہم یاد کیوں ستانےلگی تھی ۔۔۔۔
“اچھا چھوڑو بھی یہ سب باتیں ۔۔ میں تم سے ملنے آنا چاہتی ہوں تمہارے گھر پر ۔۔۔اپنی شادی کا کرڈدینا چاہتی ہوں پلیز انکار مت کرنا ماہم “۔۔۔۔۔ارسلہ نے اتنی لجاجت سے کہا کہ ماہم انکار نہیں کر پائی ۔۔۔
۔دوسرے ہی دن ارسلہ اپنی والدہ کے ساتھ اسکے گھر پہنچ گئ ۔۔۔۔ماہم نے چائے پر کافی اہتمام کیا تھا ۔۔۔۔صفیہ بیگم بھی بہت خوش دلی ارسلہ کی والدہ سے ملیں ۔۔۔۔ارسلہ کی والدہ بات کرتے کرتے بار بار ماہم کو دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔پھر صفیہ سے ماہم اور اسکی فیملی کے بارے میں پوچھنے لگیں ۔۔۔۔جانے سے پہلے انہوں نے ارسلہ کی شادی کا کارڈ دیا
“بہن آپ شادی ہر ضرور آئیے گا ۔۔۔۔اور ایک بات میں آپ سے اور کرنا چاہتی تھی ۔۔۔دراصل مجھے آپکی بھانجی اپنے بیٹےحسن کے لئے بہت پسند آئی ہے ۔۔۔۔ارسلہ بھی بہت تعریف کرتی ہے ماہم کی ۔۔۔۔۔آپ اس بارے میں بھی سوچیے گا میں آپکے جواب کی منتظر رہوں گی”۔۔۔۔۔صفیہ بیگم پہلے تو حیران ہوئیں پھر مسکرا کر انہیں اثبات میں سر ہلا دیا مگر ماہم ضرور ششدد سی رہ گئ ۔۔۔پھٹی پھٹی نظروں سے کبھی ارسلہ کو تو کبھی اسکی امی کو دیکھنے لگیں ۔۔۔۔۔ماہم کو ارسلہ کی یہ حرکت بہت گراں گزری ۔۔۔۔اگر اسے ارسلہ کے ارادوں کا علم ہوتا تو صاف انکار کر دیتی ۔۔مگر اب بات صفیہ بیگم تک
پہنچ گئ تھی ۔۔۔۔ان کے جانے کے بعد ۔۔صفیہ بیگم نے ماہم سے ارسلہ کے بارے میں دریافت کیا
“تمہیں معلوم تھا ماہم کے وہ لوگ کس ارادے سے آنا چاہ رہے تھے” ۔۔۔صفیہ بیگم ماہم کی رائے جاننا چاہتی تھیں ۔۔۔۔
“نہیں خالہ اگر مجھے علم ہوتا تو پہلے ہی صاف منع کر دیتی” ۔۔۔۔ماہم کے جواب پر صفیہ بیگم نے مسکراتے ہوئے ماہم کو اپنے ساتھ لگا لیا
” ارے یہ بھلا کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔کیوں انکار کر دیتی۔۔۔۔شادی تو ہمیں تمہاری کرنی ہی ہے ماہم ۔۔۔۔”
“نہیں خالہ مجھے نہیں کرنی ۔۔۔ مجھے آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانا”۔۔۔ماہم صفیہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر چومنے لگی
“کیوں بیٹا شادی تو سب کی ہوتی ہے اگر عالیہ زندہ ہوتی وہ بھی تمہاری شادی کہیں کرتی ہی ۔۔۔اپنے پاس بیٹھا کر تو نہیں رکھتی “۔۔۔صفیہ بیگم ماہم کو ساتھ لگائے ہوئے اسکے بالوں کو پیار سے سہلاتے ہوئے سمجھانے لگیں ۔۔۔۔
“مجھے پھر بھی شادی نہیں کرنی ۔۔۔مجھے ہمیشہ آپکے پاس رہنا ہے خالہ ۔۔۔۔۔۔”ماہم نے اپنے صفیہ بیگم کے گرد حمائل کر دیے ۔۔۔۔
********…….*********
ماہم کا بی اے سے کمپلیٹ ہوئے بھی دو سال گزر چکے تھے اب وہ گھر کے کی کاموں میں ہی مصروف نظر آتی تھی۔۔۔۔۔وقت تیزی سے آگے بڑھنے لگا ۔۔۔۔۔۔میری ڈگری میرے ہاتھ میں آ چکی تھی اب میں نے قاسم کے آفس میں فل ٹائم جاب شروع کر دی تھی ۔۔۔۔۔لیکن یہ میری منزل نہیں تھی میں چاہتا تھا کہ میں اور قاسم اپنا الگ سے بزنس اسٹاٹ کریں ۔۔۔۔مگر قاسم کے پاپا کا خیال تھا کہ ابھی ہمیں انکے ساتھ ملکر ہی کام کرنا چائیے ۔۔۔۔۔
رات کو میں مما پاپا کے ساتھ لان میں بیٹھے یہی بات ڈسکس کر رہا تھا کہ باہر کامران کی گاڑی کاہارن بجنے لگا ۔۔۔۔کریم بابا نے مین گیٹ کھولا گاڑی اندر پارک کر کے کامران گاڑی کی چابی گھماتے ہوئے لان میں میرے برابر کرسی پر ہی بیٹھ گیا
“ہائے پاپا “۔۔۔۔کامران نے بیٹھتے پاپا سے کہا
“کتنی بار کہا سلام کیا کرو ۔۔۔۔اور یہ وقت ہے واپس گھر آنے کا رات کے بارہ بج رہے ہیں کہاں سے آ رہے ہو تم” ۔۔۔۔پاپا نے گھڑی دیکھتے ہوئے کامران سے سختی سے پوچھا
“کم آن پاپا اب میں چھوٹا بچہ نہیں ہوں کہ لیٹ نائٹ باہر نہیں جا سکتا ۔۔۔۔۔دوستوں میں وقت کا اندازہ کہاں ہوتا ہے” ۔۔۔۔وہ بیزاریت لہجے میں لئے بولا ۔۔۔۔اور گاڑی کی چابی بھی زور سے سامنے ٹیبل پر پھنک دی ۔۔۔
“گھر کے کچھ طور طریقے بھی ہوتے ہیں کامران ۔۔۔۔ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ کرنا مجھے پسند نہیں ہے بہتر ہے تم ان باتوں کا خود خیال رکھنا سیکھو ۔۔۔۔۔۔۔”
“او کے ۔۔۔۔آئندہ جلدی آ جایا کرونگا” ۔۔۔۔۔کامران اکتائے ہوئے بولا ۔۔۔اور اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا
“بیٹھو یہیں…. تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔کامران دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“وہ دراصل ماہم کی دوست اور اسکی والدہ آج گھر پر آئیں تھیں ۔۔۔۔۔اپنے بیٹے کے رشتے کے سلسلے میں” ۔۔۔۔بات مما نے شروع کی تھی ۔۔۔۔یہ سن کر میں چونک گیا تھا
“یہ تو اچھی بات ہے مما اب تو ماہم کی تعلیم کا بھی اشیو نہیں ہے میرے خیال سے ہمیں اب اس معاملے پر سوچنا چائیے” ۔۔۔۔۔کامران کی بات پر مما اور پاپا دونوں ہی متفق تھے ۔۔۔مگر میں ضرور پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔رات کو بے چینی سے میں اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے اسی نہج پر سوچتا رہا ۔۔۔۔۔
اب تو کوئی ایسا بہانہ نہیں تھا جس سے میں ماہم کے آنے والے رشتوں کو روک سکتا ۔۔۔۔۔۔ اب میں اس قابل تو ہو ہی چکا تھا کہ پاپا سے ماہم کے لئے اپنی بات کر سکتا قاسم کے آفس کو اتنی جلدی جوائن کرنے اصل وجہ ماہم ہی تھی ۔۔میں چاہتا تھا کہ جب میں ماہم کےئے بات کرو تو انکے پاس انکار کا جواز نا ہو ۔۔۔۔اپنے دل اور دماغ کو ایک مقام پر لا کر میں نے خود سے ایک حتمی فیصلہ کیا اور نیچے اتر گیا مما کے کمرے پر دستک دی ۔۔۔۔دل ایک اضطرابی کیفیت سے گزر رہا تھا دروازہ مما نے کھولا میں اجازت لیکر اندر چلا گیا ۔۔۔
پاپا اپنی سائیڈ کا لیمپ چلائے بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے اپنی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے ۔۔۔مجھے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئے
“مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے پاپا “۔۔۔۔۔مجھے آج پاپاسے بات کرتے ہوئے جھجک سی ہو رہی تھی ۔۔۔۔انہوں نے کتاب بند کی اپنا چشمہ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا
“آؤں عفان بیٹھو بیٹا “۔۔۔میری چہرے پر چھائی پریشانی دیکھ کر انہیں شاید تشویش سی ہونے لگی تھی
” میں بیڈ پر ہی بیٹھ چکا تھا مما میرے برابر میں بیٹھ گئیں “
“کیا بات ہے طبیعت تو ٹھیک ہے نا بیٹا” ۔۔۔۔مما نے میرے سر پر پیار سے ہاتھ پھرتے ہوئے پوچھا
“جی مما ٹھیک ہوں” ۔۔۔۔۔میں چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجانے میں بھی نا کام ہو رہا تھا ۔۔۔۔اپنے ہی رشتے کی بات اپنے ہی ماں باپ کے سامنے کرنا کوئی آسان بات تو نہیں تھی ۔۔۔۔میں اسوقت واقع سخت پریشانی کے عالم میں تھا
“کچھ کہنا چاہتے ہو تو کہوں عفان میں نے کبھی تم دونوں بھائیوں کے ساتھ روایتی اور سخت گیر باپ بننے کی کوشش نہیں کی۔۔۔ جو تمہیں بات کرنے میں تامل پیش آئے ۔۔۔۔وی آر فرینکی مائے سن ۔۔۔۔۔اگر
پیسوں کی ضرورت ہے تو بھی بلا جھجک کہہ دو تم نے تذکرہ کیا تھا مجھ سے کہ تم اپنے دوست کے ساتھ ملکر الگ سے سیٹ اپ کرنا چاہتے ہو ۔۔۔۔یہ مت سوچنا کہ بڑی رقم ہے تو تمہیں تمہید باندھنے پڑے گی ۔۔۔۔ٹل می ینگ مین کتنے کا چیک بنا دوں” ۔۔۔۔وہ مبہم سی مسکراہٹ لیے بولے
“یہ بات نہیں ہے پاپا ۔۔۔۔۔بات کچھ اور ہے ۔”۔۔۔ پاپا کی تسلی بخش گفتگوں سے مجھے کچھ ڈھارس تو ہوئی تھی مگر جھجک ابھی بھی اپنی جگہ قائم تھی
“کیا بات ہے کسی لڑکی کے عشق مبتلہ تو نہیں ہو گئے برخودار ۔۔۔۔۔اسی نے بھرپور اصرار کیا ہو گا کہ کل ہی اپنے گھر والوں کو رشتے کے لئے بھیج دو اس لئے تم سے صبج کا بھی انتظار نہیں ہوا “۔۔۔۔پاپا اپنے اندیشے مسکرا مسکرا کر مجھے بتانے لگے
“یہی سمجھ لیں” ۔۔۔۔۔پاپا کا نارمل اور دھیمے لہجے کا اثر تھا کہ میں اب بات کچھ سکون سے کر رہا تھا
“یعنی کہ یہی بات ہے ۔۔۔۔بڑے چھپے رستم نکلے میاں تم یعنی شک بھی نہیں ہونے دیا ۔۔۔۔بڑے بھائی کی شادی منگنی کا انتظار تو کرنا چاہئے تھا ۔۔۔خیر اب بتاؤں کون ہے وہ” ۔۔۔۔پاپا حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے بولے میں نے ایک نظر پاپا کو دیکھا پھر نظریں چرا گیا
“ما۔۔۔۔۔۔ہی ۔۔۔۔۔”میری زبان پہلی بار ماہم کے نام پر لڑکھڑا گئ تھی۔۔۔۔مگر پاپا اچھنبے میں آگئے ۔۔۔۔حیرت سے تقریبا چلا کر بولے
“ماہی” ۔۔۔۔یعنی ماہم ۔۔۔۔۔یہ اپنی والی ماہم ۔۔۔۔”پاپا بے یقینی سے بولے
“جی” ۔۔۔۔میں نے نظریں نہیں اٹھائیں کچھ دیر تو ماحول میں خاموشی کا راج رہا پاپا تیوری چڑھائے کسی سوچ میں گم تھے مما بھی چپ تھیں اس ۔۔۔اس سکوت میں بس ایک میرا دل تھا کہ سینے کے اندر جس نے ادھم مچا رکھی تھی
