Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 56 (Part 2)
Rate this Novel
Tadbeer Episode 56 (Part 2)
Tadbeer by Umme Hani
اپنے کمرے میں آ کر میں اس بات کی نفی کرتا رہا کہ ماہم کی نظر میں میری کوئی اہمیت نہیں ہے ۔۔۔۔
“۔ماہم اب بھی مجھ سے محبت کرتی ہے ۔۔۔۔۔عفان کی کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔ماہم کا اترا ہوا چہرہ میرے سامنے آنے لگا ۔۔۔۔جب میں نائلہ کو انگوٹھی پہنا رہا تھا ۔وہ اداس تھی ۔۔۔۔زبردستی ۔۔۔۔۔۔ہاں زبردستی اپنایا ہو گاعفان نے اسے ۔۔۔۔۔تبھی مجھے اس سے دور رکھتا ہے ۔۔۔۔۔کب تک بندھ باندھو گئے تم عفان بس ایک بار ایک بار میری ماہم سے ملاقات اسے میرا ہونے پر مجبور کر دے گی ۔۔۔۔۔وہ تمہاری کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔۔تم کیسے اسے اپنا سکتے ہو ۔چھو بھی کیسے سکتے ہو ماہم کو ۔۔۔۔میری چیز ہمیشہ میری ہی رہتی ہے ورنہ میں اسے کسی کے قابل چھوڑتا ہی نہیں ہوں ۔۔۔۔میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی اور اسے چھوئے بھی ۔۔۔۔۔میرابس نہیں چل رہا تھا کہ بھاگ کر ماہم کے پاس چلا جاؤں مگر پاپا نے تو میری اوپر جانے پر پابندی لگا رکھی تھی پہلے تو میرا کمرہ اوپر تھا ۔۔۔۔مجھے موقع مل ہی جاتا تھا ماہم سے بات کرنے کا ۔۔۔مگر اب ۔۔۔۔ میرا غصے سے برا حال تھا ۔۔۔۔پوری رات میں نے بے چینی میں گزاری ۔۔۔۔بہت کوشش کی کہ ایک بار میرا ماہم سے سامنا ہو جائے مگر ۔۔۔۔نا جانے وہ کیوں میرے سامنے نہیں آتی تھی ۔۔۔۔۔جب میرا ہر حربہ ناکام ہو گیا پھر میرے پاس بس یہی ایک راستہ تھا کہ میں عفان سے بات کروں میری شادی کی ڈیٹ فکس ہو چکی ۔تھی ایک مہینے بعد میری شادی تھی مگر میں زبردستی بھی مسکرا نا سکا میرا دھیان بس اس بات پر تھا کہ کیسے بھی عفان کی کہی ہوئی بات کی سچائی کا علم ہو ۔۔۔۔صبح آفس جاتے ہوئے میں نے اپنی گاڑی نکالی ہی تھی کہ عفان بھی اپنی گاڑی باہر نکال رہا تھا میں جلدی سے اپنی گاڑی سے اتر کر عفان کے پاس آ گیا ۔۔۔۔
“مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے “میں نے سخت لہجے میں اسے کہا
“ابھی بہت بزی ہوں ۔۔۔۔رات کو کرتے ہیں ۔۔۔٫وہ گھڑی دیکھتے ہوئے لاپروائی سے بولا ۔۔۔۔اور چلا گیا ۔۔۔۔میں کافی دیر وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔اسکے چہرے پر بلا کاسکون اور اطمینان تھا ۔۔۔۔اور جتناوہ خوش نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔میری جان جلانے کے لئے کافی تھا ۔۔۔۔ پورا دن میرا وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا ۔۔۔۔۔بار بار میں کبھی وال کلاک پر چلتی سوئیاں دیکھتا کبھی ہاتھ میں بندھی گھڑی ۔۔۔۔۔رات کو کھانا بھی مجھ سے کھایا نہیں جا رہا تھا ۔۔۔۔۔بس ذرا سا کھا کر میں جب لان میں آیا تو عفان پہلے سے ہی وہاں ٹہل رہا تھا ۔۔۔۔شاید میری بے چینی بھانپ گیا تھا ۔۔۔۔۔اس لئے بلا تامل مجھ سے پوچھنے لگا کہ میں اسے کیا بات کرنا چاہتا ہوں میں نے یہ کہاں وہ چھوٹی خبریں پھلا رہا ہے ۔۔۔۔تاکہ وہ صحیح بات مجھے بتادے ۔۔۔۔میں نے یہ بھی کہا کہ ماہم مجھ سے محبت کرتی ہے اسکی نہیں ہوسکتی ۔۔۔۔۔مگر آج شاید عفان کا دن تھا ۔۔۔۔جو جو باتیں وہ مجھے کہہ کر گیا تھا ۔۔۔۔مجھے لگا میرے اندر کچھ ٹوٹ پھوٹ سی ہونے لگی ہے ۔۔۔۔۔رات کو مہک اور نائلہ دونوں کی کال آتی رہی مگر میں نے کسی سے بات نہیں کی ۔۔۔۔۔بس دل میں یہی تھا کہ ایک بار بس ایک بار ماہم سے سامنا ہو جائے ۔۔۔۔۔سچ جھوٹ سب سامنے آ جائے گا ۔۔۔۔۔۔آخر ایک دن مجھے یہ موقع بھی مل گیا میں پانی پینے کے لئے کچن میں جانے لگا تو ماہم کو دیکھ کر وہیں ٹھٹھک گیا ۔۔۔۔ماہم کی میری طرف پشت تھی وہ گلاس میں پانی ڈال رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے پیچھے سے اسے دونوں شانوں سے پکڑ لیا ۔۔۔۔۔وہ میرے اتنے قریب تھی کہ ذرابھی پلٹتی تو میرے سینے سے ٹکرا جاتی
“عفان ۔۔۔کبھی تو باز آ جایا کرو ۔۔۔کیسے پتہ چل جاتا تمہیں کہ میں کہاں ہوں ۔۔۔۔۔اب یہ مت کہنا کہ تمہارا دل بتا دیتا ہے ۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔اس کے منہ عفان کا نام سن کر مجھے جھٹکا سا لگا ۔۔۔۔وہ مسکرا کر مجھے عفان سمجھ کر بات کر رہی تھی ۔۔۔۔۔میں ماہم کو چھوڑ کر جھٹکے سے پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔۔مجھے لگا میرے سننے میں غلطی ہوئی ہے ۔۔۔۔مگر جب ماہم نے پلٹ کر مجھے دیکھا وہ ڈر کر پیچھے ہو گئ ۔۔۔۔۔۔کیوں ڈر رہی تھی وہ مجھ سے ۔
“آ۔۔۔۔۔پ۔۔۔۔۔۔وہ سٹپٹا کر پیچھے ہٹ کر گھبرا سی گی تھی
“ہاں میں ۔۔۔۔مجھے دیکھ کر حیرت ہو رہی ہے تمہیں “
۔۔۔۔میرے ایک قدم آگے بڑھانے پر وہ چند قدم پیچھے چلی گئ ۔۔۔۔اس کے چہرے پر خوف دیکھ کر میں بہت اپنایت سے اس سے بات کرنے لگا اپنے رویے کی معذرت کرنے لگا ۔۔۔۔۔اس سے اپنی محبت کا اظہار کرنے لگا
“ماہم تم میری محبت ہو ۔۔۔مجھ سے محبت کی ہے تم نے ۔۔۔یہ عفان بیچ میں کہاں سے آگیا “۔۔۔میں جیسے جیسے اپنے قدم اسکی جانب بڑھا رہا تھا وہ ویسے ویسے اپنے قدم پیچھے کرتی جا رہی تھی
“آپ جائیں یہاں سے ورنہ میں ۔”۔۔۔خوف کے مارے اسکی آواز کپکپانے لگی تھی
“ڈر کیو رہی ہو ماہم کیوں خوفزدہ ہو رہی ہو مجھ سے ۔۔۔میں کامران ہوں تمہارا کامی ۔۔۔۔مت ڈرو مجھ سے ۔۔۔میں معافی مانگنا چاہتا ہوں تم سے جو اس نے دن میں نے کیا ٹھیک نہیں تھا مگر عفان کے ساتھ تمہیں برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔اس لئے وہ سب کرنا پڑا ۔۔۔۔”
“مجھے کچھ نہیں سننا ۔۔۔اگر آپ نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا میں شور مچا دوں گی ۔”۔۔۔اسکی دھمکی پر میرے قدم وہیں رک گئے ۔۔۔ماہم کا اجنبی لہجہ میرے لئے نا قابل یقین تھا
وہ مجھے دھمکاتے ہوئے کچن سے نکل کر اوپر چلی گئ اس سے پہلے کے وہ اپنے کمرے میں جاتی میں ماہم کا ہاتھ تھام لیا اتنا اجنبی لہجہ ۔۔۔۔۔اتنا روکھا رویہ تھا ماہم کا کہ میرادل کٹنے لگا تھا
“کیا ہو گیا ہے تمہیں ماہم ۔۔۔کیوں ایسے بات کر رہی ہو مجھ سے پلیز ایسا مت کرو ۔۔۔اگر میری منگنی کو لیکر تمہیں کوئی بد گمانی ہے تو وہ بس میری مجبوری تھی ۔۔۔۔پاپا اسی صورت مجھے گھر رکھنے پر راضی تھے کہ میں شادی کر لو ۔۔۔۔مگر ماہم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے بے دردی سے چھڑوایا
“مجھے کوئی پروا نہیں کہ آپ کی زندگی میں کوئی آئے یا جائے مجھے کوئی فرق نہیں۔ پڑتا ” ۔۔۔اسکا ترش لہجہ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا
“جھوٹ مت بولو مجھ سے ۔۔۔تمہیں فرق پڑتا ہے۔۔۔۔ مجھ سے ناراض ہو اس لئے ایسا کہہ رہی ہو۔۔۔۔تمہیں۔ ہونا بھی چاہیے ۔۔۔۔محبت جو کرتی ہو مجھ سے ۔۔۔۔۔میں بھی بہت چاہتا ہوں تمہیں ماہم ۔۔۔۔۔تم میرے علاؤہ کسی کی نہیں ہو سکتی اور عفان کی تو میں تمہیں کبھی ہونے نہیں دونگا ۔۔۔۔۔عفان ڈراتا ہو گا تمہیں ہے ۔۔۔۔دھمکاتا ہو گا ۔۔۔۔مجبور کرتا ہو گا تمہیں ۔۔۔۔ماہم تم زبردستی کا رشتہ نبھا رہی ہو ۔۔۔یے نا یہ ہی سچ ہے نا ۔۔”۔۔میں پتہ نہیں کون سی اپنی تسلی چاہتا تھا اس لئے ماہم کو کریدنے لگا مگر میں یہ سب کیوں چاہتا تھا یہ میں نے سوچا ہی نہیں۔
“نہیں ۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں عفان کے ساتھ ۔۔۔بہت محبت کرتا ہے مجھ سے” ۔۔۔۔اسکی ترید نے میرا لہجہ بلند کر دیا
“اور تم ۔۔۔۔تم مجھ سے محبت کرتی ہو ۔۔۔”۔
“نہیں۔ کرتی میں آپ سے محبت جو کچھ آپ نے میرے ساتھ کیا ہے۔۔۔۔۔ میں آپ کو نفرت کے قابل بھی نہیں سمجھتی “وہ دانت پیس کر بولی
“جھوٹ مت بولو مجھ سے ۔۔۔۔۔تم میرے علاؤہ کسی کو چاہ ہی نہیں سکتی اور میں بھی صرف تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔جتنی شدت سے میں تمہیں چاہتا ہوں ماہم عفان چاہ ہی نہیں سکتا ۔”۔۔۔ میں جنونی انداز سے بولنے لگا
“نہیں چاہیے مجھے آپ کی چاہت ۔۔۔جو نا مجھے عزت دے سکتی ہے ۔۔۔ نا تحفظ کا احساس ۔۔۔میں باز آئی آپکی ایسی محبت سے ۔۔۔میرے لئے میرا عفان کی کافی ہے وہ میرے ساتھ ہوتا ہے تو اپنا آپ محفوظ لگتا ہےمجھے ۔۔۔لگتا ہے کسی محفوظ قلعے میں ہوں جہاں میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا” ۔۔۔۔اس کا با اعتماد لہجہ مجھے مشتعل کر گیا
“کیا کہا تم نے ۔۔۔تمہارا عفان ۔۔۔۔نہیں میری جان ۔۔۔۔کہو میرا کامران ۔۔۔۔تمہارا کامی” ۔۔۔۔میں اب اپنی اصلیت پر اتر آیا تھا ۔۔۔۔۔سیدھا طریقہ تو اسے سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا میں نے ماہم کو دونوں بازوں سے پکڑ کر جنونی انداز سے کہا
“چھوڑو مجھے ورنہ عفان کو بلا لوں گی وہ حشر بگاڑ دے گا تمہارا ۔۔۔۔اس دن کا تھپڑ شاید بھول گئے ہو تم ۔”۔۔۔اسکی آواز کچھ بلند ہوئی تو میں نے اسے چھوڑ دیا میری آنکھیں سرخ ہونے لگیں تھیں غصے کے مارے میرے چہرے سے بھاپ سی اٹھنے لگی اتنی تضحیک وہ بھی یہ ادنہ سی لڑکی ۔۔۔۔مجھے آگ ہی تو لگی تھی
“کیا سمجھتی ہو تم ۔۔۔۔۔چھوڑ دونگا تمہیں ۔۔۔۔۔غلط فہمی ہے تمہاری ۔۔۔۔۔اگر قسمت نے تمہارا شوہر بدل دیا ہے ماہم ڈیر ۔۔۔۔۔تو یہ مت سمجھنا کہ محبوب بھی بدل سکتی ہو اسکی اجازت تو ہر گز نہیں دونگا تمہیں ۔۔۔۔تم مجھے جانتی ہی کتنا ہو ۔۔۔۔اس دن جو تم نے دیکھا جس دن میں تمہیں زبردستی لیکر گیا تھا ۔۔۔۔وہ تو بس ایک ٹریلر تھا ۔۔۔تمہیں میں اب بتاؤں گا کہ کامران رضا کس شے کا نام ہے ۔۔۔بہت عفان عفان کہنا آ گیا ہے تمہیں میرا وعدہ ہے تم سے ماہم ۔۔۔۔۔ عفان بھی تمہیں چھوئے گا تو کامران کا نام لوگی تم ۔۔۔۔۔میں تو اپنی معمولی سی چیز بھی کسی سے شیر کرنے کا عادی نہیں ہوں ۔۔۔۔تم تو محبت ہو میری ۔۔۔۔تمہارے دل پر صرف میرا اختیار ہے ۔۔۔۔۔میں۔ ہوں وہاں کا مکین اور ہمیشہ میں رہوں گا ۔۔۔۔۔کامران اس بلا کا نام ہے ۔۔۔۔۔جو ایک بار پیچھے پڑ جائے تو جان نہیں چھٹتی اس سے ۔۔۔۔۔تم۔ بھی اچھی طرح سمجھ لو سوئٹ ہارٹ ۔”۔۔۔میرے مشتعل لہجے اور انگارے برساتی آنکھوں سے وہ خوفزدہ سے ہونے لگی ۔۔۔میں اسے چھوڑ کر نیچے اتر آیا
۔۔۔۔۔مجھے معلوم نہیں ماہم سے کیا کہہ رہا تھا وہ مجھے کیا جواب دے رہی تھی مگر یہ سچ تھا کہ اسوقت میرے کہے گئے جملوں میں نا ملاوٹ تھی ۔۔۔۔۔۔نا جھوٹ ۔۔۔۔مگر اس کے منہ پر بس عفان کا ہی نام تھا ۔۔۔۔۔جو میرے لئے نا قابل یقین اور نا قابل برداشت تھا ماہم کو دھمکانے کے باوجود مجھے اپنی شکست کا احساس بہت بری طرح محسوس ہو رہا تھا
*******………=
کامران کے سامنے تو ماہم نے بہت حوصلے سے بات کر لی تھی مگر اسکی دھمکیوں اور خطرناک تیوروں سے ماہم کے جوش اڑنے لگے تھے وہ کمرے میں ا کر سامنے لگی منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی تاکہ عفان کی آنکھ نا کھل جائے مگر وہ اٹھ گیا اسکے پاس ا کر رونے کی وجہ پوچھنے لگا ۔۔۔۔ماہم نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ نیچے پانی پینے گئ تھی بلی کے و دیکھ کر ڈر گئ ۔۔۔۔۔عفان سے خود پانی کا کر دیا سر نیچے جانے سے بھی منع کر دیا ماہم کو بھی یہی ٹھیک لگا س کا اکیلے جانا ٹھیک نہیں تھا ۔۔۔۔
*******……….
۔۔۔۔۔جب میں کمرے میں آیا تو خالی آنکھوں سے پورے کمرے کو دیکھنے لگا مجھے ہر چیز اجنبی لگ رہی تھی میرا سانس اسقدر پھول رہا تھا کہ جیسے میں کہیں بہت دور کی مسافت طے کر کے آیا ہوں میری گھٹن بڑھنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔۔۔۔۔آج مجھے عفان مجھ سے بہت اونچے مقام پر نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔۔کیاسچ میں میری محبت ریت کی دیوار تھی ۔۔۔۔۔یا کوئی مکھی کا بنا ہوا جالا جیسے اتنی آسانی سے ختم کیا جا سکے ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔ میری محبت ایک چٹان ہے ۔۔۔میری محبت کی جڑیں کمزور نہیں ہو سکتیں ۔۔۔نہیں ہو سکتیں ۔ ۔۔ وہ مجھے بھول نہیں سکتی ۔۔۔۔۔میری محبت اتنی بے مول نہیں ہے “۔۔۔۔میں چلا چلا کر روتے ہوئے کہہ رہا تھا
“کیا تمہیں ماہم سے محبت تھی ۔۔۔۔وہ تو تمہارے لئے صرف ایک مہرہ تھی کامران جسے تم نے وقتی طور پر استعمال کیا تھا “۔۔۔۔۔میرے اندر سے کوئی چیخ چیخ کر بولنے لگا ۔جس کی آواز کے اگے میری آواز دبنے لگی مجھے جیسے ان لفظوں نے جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا ۔۔۔۔میں جھٹ سے کھڑا ہو گیا اپنے آنسوں جلدی سے صاف کیے ۔۔۔۔۔پھر واش روم میں جا کر واش بیسن میں کا نل کھول کر اپنے چہرے پر پانی کے چھنٹیں مارنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔میری آنکھیں جل رہیں تھیں ۔۔۔۔۔نہیں شاید اندر کچھ جل رہا تھا ۔۔۔۔لگ رہا آنکھوں سے آنسوں نہیں آگ سی بہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔میں زور زور سے اپنی آنکھوں کو دھونے لگا ۔۔۔۔۔۔پھر نل بند کر کے باہر آ گیا ۔۔۔۔۔بیڈ پر خود کو گرا دیا ۔۔۔۔۔کچھ پل مجھے لگاشاید میں کچھ بھی سوچنے کے قابل نہیں رہا ۔میرارونا بھی مجھے بے معنی لگنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔نفرت حسد جلن اور نا جانے کیسے جذبات میرے اندر آگ لگائے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔میرے دماغ نے نئے سرے سے سوچنا شروع کر دیا پھر نئ ایک کے بعد ایک تدبیر ۔۔۔۔۔اب مجھے جو کرنا تھا بہت محتاط ہو کر کرنا تھا ۔۔۔۔دوسرے دن میں مہک کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ پھر سے پریگنٹ ہو گئ تھی میں تو اس سے پیچھا چھڑوانے کے چکر میں تھا بہرحال میں نے مہک کو بہت پیار سے اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنا ابوشن کروا لے ۔۔۔۔بڑی مشکل سے صحیح مگر وہ مان گی تھی۔۔۔۔۔گھر پر میری شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھیں ۔۔۔۔۔میں اگر بہت خوش نہیں تھا تو اب اتنا اداس بھی نہیں تھا ۔۔۔۔مگر اچانک مہک کی کال نے مجھے بوکھلا دیا ۔۔۔۔۔مہک مجھے اسی فلیٹ پر بلا رہی تھی جہاں ہم ہر بار ملتے تھے ۔۔۔۔ میرے انکار پر مہک نے کہا کہ اگر میں نہیں پہنچا تو وہ خود آفس میں ا کر پاپا سے بات کرے گی ۔۔۔۔میں بھاگم بھاگ وہاں پہنچا ۔۔۔۔مہک کا انداز اور باتیں سن کر میں دنگ سا رہ گیا تھا اب نا تو وہ ابوش کروانے کو تیار تھی اور نا میری کسی جھوٹی کہانی کو ماننے کو تیار تھی ۔۔۔ اسے میرے اور نائلہ کے بارے میں بھی ہر بات کا علم ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔مجھے شک ہوا کہ مہک عفان سے مل چکی تھی ورنہ یہ سب باتیں اسے کوئی اور نہیں بتا سکتا تھا ۔۔۔۔مہک کو میں کھرے جواب دے کر چلا گیا ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ میں عفان سے اس کے متعلق بات کرتا ۔۔۔۔۔مہک نائلہ کی فیملی کے سامنے آ گئ نا جانے اس نے میری باتوں کی ویڈیو کب بنائی تھی ۔۔۔۔ساری حقیقت جاننے کے بعد نائلہ اسکی فیملی کا ریایکشن ویسا ہی تھا جیسا ایسے موقعوں پر ہوتا ہے ۔۔۔۔اس سارے معاملے کے پیچھے عفان کا ہی ہاتھ تھا ۔۔۔۔نائلہ اور اسکی فیملی جا چکی تھی ۔۔۔۔میں بھی عفان کو گھورتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔میری شادی انہیں تاریخوں میں ہوئی جو طے تھیں مگر نائلہ کے بجائے مہک سے ۔۔۔۔مگر مہک کے پاپا کی شرط تھی کہ نکاح دوبارہ سے پڑھوایا جائے اور حق مہر وہ اپنی مرضی سے رکھوائیں گئے ۔۔۔۔مما اس رشتے پر بلکل خوش نہیں تھیں ۔۔۔۔اور میں ۔۔۔۔مجھے عفان پر اسقدر غصہ تھا کہ میرا بس چلتا تو اسے مار ڈالتا ۔۔۔۔۔۔پوری شادی پر مجھے اپنا آپ ایک تماشائی سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔مجھے دیکھ کر لوگوں کی چہ مئگوئیاں ۔۔۔۔۔طنزیہ ہنسی ۔۔۔۔اور ممانی کو تو ویسے موقع چاہیے تھا اپنی بھڑاس نکالنے کا ۔۔۔۔میرے پاس بیٹھ کر دھیرے سے بولیں
“میری شفق کی تو قسمت چمک گئ ۔۔۔۔۔اس کے میاں کی نوکری دبئ میں لگی ہے اور اسے بھی وہاں لے گیا ہے ۔۔۔۔ہائے آج تو میرے رب نے میرے دل میں ٹھنڈ ڈال دی ۔۔۔۔تم نے بہت دل دکھایا تھا میری بچی کا دیکھو تمہیں کیا ملی ایک آوارہ اور شرابی بیوی ۔۔۔۔۔اللہ نے میرے صبر کا صلہ مجھے دیدیا ۔”۔۔۔۔ممانی باتیں صرف میرے کان تک محدود تھیں اور میں خاموش تھا ۔۔۔۔۔میں تو دنیا کو دیکھانے کے لئے رسما بھی مسکرا نا سکا نا جانے شفق کی بد دعا تھی یا ماہم کی ۔۔۔۔۔نہیں ماہم کی نہیں ہو سکتی وہ مجھے بددعا نہیں دے سکتی ۔۔۔۔۔ایک دم میری نظروں نے پورے ہال میں ماہم کو تلاش کیا ۔۔۔۔مگر وہ نظر نہیں آئی ۔۔۔۔مہک بھی میرے برابر میں خاموشی سے بیٹھی تھی میری حقیقت اس پر بھی آشکار ہو چکی تھی ۔۔۔۔اب تو وہ بھی میری کسی بات کا بھروسہ نہیں۔ کرے گی ۔۔۔۔نکاح کے وقت مہک کے والد نے حق مہر میں ایک کڑور کی رقم لکھوائی میرے رہے سہے ہوش بھی کھونے لگے تھے اتنی بڑی رقم تو میں اگلے دس سال تک اکٹھی نہیں کرسکتا تھا ۔۔۔۔۔مگر پاپا نے کوئی اعتراض نہیں کیا ۔۔۔۔گھر پہنچتے ہی ماہم اور عفان پہلے سے گھر موجود تھے شاید وہ ہال سے جلدی نکل آئے تھے مہک کا استقبال انہوں نے پھولوں سے کیا تھا ۔۔۔۔میری نظریں بس ایک پل ہی ماہم سے ملیں تھیں ۔۔۔۔مگر مجھے وہاں اپنے لئے کچھ بھی نظر نہیں آیا ۔۔۔۔نفرے بھی نہیں ۔۔۔۔۔وہ مہک کو اپنے ساتھ میرے کمرے میں لے گئ ۔۔۔۔۔مما سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئیں ۔۔۔۔۔ویسے بھی وہ مجھ سے بات نہیں۔ کر رہی۔ تھیں بہت ناراض تھیں مجھ سے ۔۔۔۔پاپا نے مجھے ڈرائنگ روم میں بلوایا پیشانی پر سلوٹیں ڈالے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے پشت پر کیے وہ وہیں چکر کاٹ رہے تھے وہ میرا ہی انتظار کر رہے تھے مجھے دیکھ
کرسامنے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا میں چپ چاپ بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“کامران تم اس حد تک بھی گر سکتے ہو میں نے سوچا بھی نہیں تھا مگر بہرحال ۔۔۔۔۔تم نے جو کیا تمہیں ویسا پھل بھی مل گیا ۔۔۔۔تم سے میں یہ امید اب رکھتا ہی نہیں ہوں کہ تم کبھی مجھے دنیا کے سامنے عزت بھی دے سکتے ہو ۔۔۔۔لیکن پھر بھی تم میری اولاد ہو تم سے میں صرف اتناچاہتا ہوں کہ یہ جو رشتہ تم نے خود اپنی مرضی سے جوڑا تھا اب کم از کم اسےساری زندگی نبھاو۔۔۔۔۔ورنہ حق مہر کا انتظام خود کرنا ۔۔۔۔اب تم جا سکتے ہو ۔۔۔۔میں خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے کے پاس آ گیا ۔۔۔۔میرا دل چاہا اندر ہی نا جاؤں ۔۔۔۔مگر راہ فرار بھی ممکن نہیں تھی اس لئے کمرے کا نیب گھمایا سامنے مہک کے ساتھ ماہم بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔مہک کا دوپٹہ سٹ کر رہی تھی مجھے دیکھ کر اسکے ہاتھ وہیں رک گئے پھر مہک کے دوپٹے کو وہیں چھوڑ دیا
“اچھا مہک میں چلتی ہوں” ٫ماہم نے مہک سے کہا اور کمرے سے باہر جانے لگی مگر میں عین دروازے کے سامنے ہی کھڑا تھا ۔۔۔۔۔وہیں کھڑا رہا اس بات کی پروا کیے بغیر کے مہک بھی وہاں موجود ہے ۔۔۔۔ماہم میرے پیچھے ہٹنے کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔اور میں اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔فروزی رنگ اور سلور کے کام کے سوٹ میں وہ مجھے اپنے دل کے اندر تک اترتی ہوئی محسوس ہونے لگی
“کامران میرے خیال سے ماہم باہر جانے کے لئے کھڑی ہے “مہک کی آواز پر میں ذرا سا چونکا ۔۔۔۔دروازے سے پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔۔ماہم باہر چلی گئ ۔۔۔۔۔میں نے بے دلی سے دروازہ بند کیا ۔۔۔۔اور اپنے وارڈروب سے کپڑے نکال کرواش روم میں چلا گیا ۔۔۔۔کافی دیر شاور لے کر واپس آیا تھا ۔۔۔۔۔میں مہک کو انتظار کروانا چاہتا تھا ۔۔۔۔مگر شاید میں بھول گیا تھا کہ وہ مہک ہے ۔۔۔۔۔اور میں اسکی پہلی محبت بھی نہیں تھا جس کا وہ انتظار کرتی ۔۔۔۔۔وہ چینج کر کے سو چکی تھی ۔۔۔۔۔میرا غصہ مزید بڑھ گیا ۔۔۔۔میں مہک کے قریب جا کر چلا کر بولا
“یہ کیا تماشہ ہے مہک ۔۔۔میرا انتظار نہیں کر سکتی تھی “
“آہستہ آواز میں بات کرو کامران ۔۔۔۔۔مجھے نیند آ رہی ہے اور میں بلکل پسند نہیں کرتی کہ کوئی میری نیند ڈسٹرب کرے “مہک بند آنکھوں سے بولی ۔۔۔۔نا جانے کیا سمجھتی ہے خود کو میں کون سا مرا جا رہوں اس کی رفاقت کے لئے ۔۔۔۔میں غصے سے بیڈ کی دوسری جانب لیٹ گیا
