Tadbeer by Umme Hani NovelR50414

Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 59 (Part 1)

458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 59 (Part 1)

Tadbeer by Umme Hani

کچھ دن بعد ایسا ہی ایک موقع مجھے اور مل گیا

“کامران آج مجھے اور ماہم کو مارکیٹ تک جانا ہے ۔۔۔۔نیو بون بیبی کے لئے کچھ کپڑے اور ضرورت کا کچھ سامان لینا ہے “مہک نے مجھے اطلاع دی

“ہاں توجاؤں ۔۔۔۔میں نے کب روکا ہے ” میں نے لا پروی سے کہا

“روکا تو نہیں ہے مگر اگر تمہارا جلدی آنے کاارادہ ہے ہے میں نہیں جاتی ورنہ تم پیچھے سے بہت شور مچاتے ہو”

مہک شاید میرے پیچھلے رویے کی وجہ سے یہ سب کہہ رہی تھی

“نہیں آج میں اپنے ٹائم پر ہی آؤں گا ۔۔۔۔تم بے فکر ہو کر جاؤں اور جاؤں گی کہاں” ۔۔۔۔میں مہک سے ساری انفارمیشن صبح ہی لے چکا تھا ۔۔۔بلکہ اسے خودایسی شاپ بتائی جہاں بچوں کے کپڑے اور دوسری اشیا آرام سے مل جاتی ہیں میں نے مہک کو خاص تاکید کی کہ وہ وہاں ضرور جائے ۔۔۔۔۔فون پر میں مسج میں مہک سے پوچھتا رہا کہ وہ کہاں ہے ۔۔۔۔پھر جب انکی شاپنگ آخری مراحل میں تھی میں آفس سے اٹھ گیا پاپا سے میں نے یہی کہاں کہ میں لیبرز کو چیک کرنے جا رہا ہوں کہ وہ کام ٹھیک سے کہ رہے ہیں کہ نہیں کچھ دیر میں سوپروائزر کو سمجھاتا رہا اسکے بعد میں نے اس سے یہ فیور مانگی کہ مجھے ضروری کام سے جانا ہے اگر پاپا یا کوئی بھی میرے بارے میں پوچھیں تو وہ یہی کہے کہ میں یہیں فیکڑی میں موجود ہوں ۔۔۔۔۔میں جلدی سے وہاں پہنچ گیا مہک سے میں نے کال کر کے پوچھا کہ وہ اب کہاں ہے

“اسی شاپ پر کامران جو تم نے بتائی تھی “۔۔۔ پھر میں نے آواز نا آنے کابہانہ کرنا شروع کر دیا مہک کو شاپ سے باہر آتا دیکھ کر میں دوسرے دروازے سے اندر چلا گیا فون میوٹ پر کر کے جیب میں ڈال دیا مہک مجھے سن نہیں سکتی تھی لیکن کال ڈسکنکٹ بھی نہیں تھی ۔۔۔۔جھے معلوم کے کچھ دیر مہک فون پر ہی رہے گی ۔۔۔۔مجھے ماہم کو ذیادہ ڈھونڈنا نہیں پڑا تھا وہ سامنے ایک ریک پر بچوں کے کپڑے دیکھ رہی تھی دوکان پر اتنا رش بھی نہیں تھا ۔۔۔اور جہاں ماہم کھڑی تھی وہ سائیڈ ویسے بھی چھپی ہوئی تھی ۔۔۔۔ میں نے ماہم کو پلٹنے کا موقع ہی نہیں دیا۔اسے مضبوطی سے پکڑ کر اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا

“ہیلو سوئٹ ہارٹ۔۔۔میں نے ماہم کے کان کے نزدیک ہو کر کہا وہ مکمل میری گرفت میں تھی کسمسانے کے باوجود خود کو مجھ سے جدا نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔میں نے اسکے منہ پر مضبوطی سے ہاتھ رکھا تھا تا کہ وہ چیخ اور چلا نا سکے

“شور اور واویلا مچانے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں ۔۔۔۔میری جان بس چند باتیں کرنی تھی تم سے ۔۔۔۔ذیادہ تماشا بناؤں گی تو بہت پچھتاوں گئ ۔۔۔۔۔اتنی دیر میرا ہاتھ ماہم کے منہ پر تھا اسے سانس لینے میں دکت سی ہو رہی تھی ۔۔۔۔میں نے اسے تنبیہی کرتے ہی اس کے منہ سے ہاتھ ہٹا لیا ۔۔۔۔وہ گہرے لمبے سانس لینے لگی ۔۔۔۔مجھے یہ بھی خوف لاحق تھا کہ کہیں ہمہیں کوئی دیکھ نا لے

“تم کیا سمجھتی ہو ماہم ۔۔۔۔اتنا آسان ہے تمہارے لئے مجھے فراموش کر کے تم عفان کے ساتھ خوش باش زندگی گزار سکو۔۔۔۔۔اذیت ناک بنا دونگا تمہاری زندگی کو ۔۔۔کیا سمجھتی ہو عفان تمہاری ہر بات پر بھروسہ کرتا رہے گا ۔۔۔۔بس ایک شک کا بیج اگر میں اسکے دل میں ڈال دوں تو نفرت کرنے لگا تم سے ۔۔۔۔اور اب میں وہی کرونگا ۔۔۔اس سے کہہ دوں گا جس رات تم میرے ساتھ گئ تھی بہت کچھ ہوا تھا ہمارے درمیان “۔۔۔۔

“بکواس بند کرو اپنی کچھ نہیں ہوا تھا اس دن ۔۔۔ عفان نہیں یقین کرے گا تمہاری۔جھوٹی کہانی پر ۔۔۔۔محبت کرتا ہے مجھ سے ۔۔۔۔۔”

“ہاں لیکن ہے تو ایک مرد ہی نا ۔۔۔ماہم ڈیر ۔۔۔ اگر میں کہہ دوں کہ تم اسکی ہونے سے پہلے میری ہو چکی ہو تو سوچو ۔۔۔۔۔کتنی محبت رہ جائے گی اسکے دل میں تمہاری ۔۔۔۔”میری بات پر اسکا رنگ اڑا تھا میں سمجھ گیا کہ ماہم ڈر گئ ہے

“نہیں۔۔۔نہیں کامران تم یہ سب نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ماہم خوفزدہ سی ہو گئ اور یہی میں چاہتا تھا ۔۔۔۔

“نہیں کرونگا ۔۔۔لیکن اسکے لئے کچھ تو پیش قدمی تمہیں بھی دیکھانی پڑے گی نا ۔۔۔۔سویٹی ۔۔۔

“مطلب کیا ہے تمہارا “۔۔۔۔اسکی نا فہمی پر میرا قہقے مارنے کو دل چاہا

“بس ذرا سی تمہاری قرابت کچھ لمحے مستعار دے دو مجھے ۔۔۔۔رات ایک بجے میں اوپر اپنے کمرے میں تمہارا انتظار کرو گا ۔”۔۔۔یہ بات ماہم کے لئے اتنی نا قابل برداشت تھی کہ اس نے میرا گریبان پکڑ لیا

“کیا سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے ۔۔۔اپنی طرح بد کار اور فحش ۔۔۔۔ میں منہ توڑ دونگی تمہارا اگر میرے بارے میں تم نے ایسا سوچا بھی تو ۔۔۔۔۔میں عفان کی ہوں اور مرتے دم تک اسی کی رہوں گی تمہیں جو کرنا ہے کر لو ۔”۔۔۔ماہم کا لہجہ غم اور غصے سے بلند ہونے لگا تو میں جلدی ہی میں اسے اپنا گریبان چھڑوا کر وہاں سے بھاگ گیا ۔۔۔۔۔رش ڈرائیو کرتے ہوئے فیکری پہنچا۔۔۔۔جیسے ہی میں نیچے ورکر کے پاس پہنچا عفان کی کال آنے لگی ۔۔۔ میرا اچھا خاصا پھولا ہوا تھا اس لئے میں اس سے یہ کہہ دیا کہ یہاں شور ہے اور روم میں جا کر بات کروں گا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں صفدر صاحب کے نمبر پر عفان کی کال آنے لگی وہ ان سے میرے بارے میں دریافت کرنے لگا چونکہ میں اس وقت انکے سامنے کھڑا تھا اس لئے انہوں نے بھی جھوٹ بول دیا کہ میں صبح سے فیکٹری میں ہی ہوں ۔۔۔۔میرا پلان کامیاب جا رہا تھا ماہم مجھ سے خوفزدہ رہنے لگی تھی۔۔۔۔اور میں اسے مزید خوفزدہ کرنا چاہتا تھا تا کہ سب اسے ابنارمل سمجھیں ۔۔۔۔مجھے ماہم پر اگلا وار اس سے زیادہ خطرناک کرنا تھا ۔۔۔اس لئے کچھ دنوں بعد میں نے۔۔۔۔آفس جانے سے پہلے مارکیٹ سے ایک پنک کلر کی شرٹ خرید کر اپنی گاڑی میں رکھ لی جو گیم میں کرنے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔ ماہم کا ردعمل میرے ساتھ خطرناک ہو سکتا تھا ۔۔۔۔۔رات کو ڈنر کے بعد میں مہک سے یہ کہا کہ دوستوں میں جا رہا ہوں رات کو لیٹ نائٹ آؤں گا ۔۔۔۔۔اس لئے وہ جلدی سو جائے ۔۔۔واپسی پر میں اسے کال کر دونگا ۔۔۔۔وہ ویسے بھی نیند کے معاملے میں کچی تھی لیٹتے ہی سو جاتی تھی ۔۔۔۔پھر اٹھتی بھی بڑی مشکل سے تھی کمرے میں ہونے والی ہلکی پھلکی آہٹ مہک کی نیند میں خلل نہیں ڈالتی تھیں ۔۔۔جاتے ہوئے میں نے چھپ چھپا کر مین گیٹ کے چھوٹے سائیڈ گیٹ کی چابی اپنی جیب میں رکھ لی ۔۔۔ایک بجے کریم بابا اپنے کواٹر میں چلے جاتے تھے ۔۔۔۔میں ڈھیر بجے تک دوستوں میں بیٹھا رہا پھر واپسی پر گاڑی گھر سے کچھ پیچھے ہی کھڑی کی اپنی براؤن شرٹ اتار کر پنک شرٹ پہن لی اور گاڑی سے اتر کر چھوٹے گیٹ سے اندر داخل ہوا کچن کاایک دروازہ ہمارے بنگلے کی دائیں جانب پتلی سے راہداری میں بھی کھلتا تھا وہیں لائن سے کواٹرز بھی بنے ہوئے تھے اسکی چٹکنی میں پہلے ہی کھول چکا تھا لاونج کا دروازہ لوک تھا اس لئے میں کچن کی طرف سے اندر داخل ہوا پہلے اپنے کمرے میں بڑی احتیاط سے داخل ہوا مہک بے خبر سو رہی تھی میں نے مہک کے موبائل سے ماہم کو ہلکی سی مس بیل دی تاکہ صرف وہی جاگے ۔۔۔۔

پھر مہک بن کر میسج کیا کہ

” ماہم میری طعبت اچانک خراب ہو گئ ہے میرے پیٹ میں درد ہے اور میں کچن میں ہوں تم جلدی سے نیچے آ جاؤ “اگلے ہی پل میسج پڑھ لیا گیا تھا تھا ۔۔۔میں نے فورا سے مہک کے موبائل سے میسج ڈلیٹ کیا اور کچن میں چلا گیا کچن کی لائف آف تھی کچھ ہی دیر میں سیڑیوں سے اترنے کی آواز سے میں سمجھ گیا کہ ماہم ہی نیچے آ رہی ہے میں دانستہ کبنٹ کے اس سائیڈ کھڑا ہو گیا جہاں چھڑی یا تیز دھار والے چاقوں وغیرہ تھے ۔۔کیونکہ جو میں کرنے والا تھا ماہم اپنے بچاؤں کے لئے ہاتھ پاؤں تو ضرور مارتی ۔۔۔۔ماہم کچن میں داخل ہوئی

“مہک کہاں ہو تم “اس سے پہلے کہ وہ لائٹ آن کرتی میں اسے اپنی جانب کھنچ لیا ۔۔۔۔اور اسے اپنے حصار میں لئے اپنا ایک ہاتھ اسکے منہ پر رکھ دیا تا کہ وہ شور نا کر سکے ۔۔۔وہ میری افتاد پر سنبھل نہیں پائی تھی ۔۔۔

اب اسکی کمر میرے سینے کے ساتھ تھی

“کیا سمجھا تھا تم نے ۔۔۔۔۔تم انکار کرو گی اور میں۔ باز آ جاؤں گا ۔۔۔۔ماہم چھوڑ دو اپنی ضد ۔۔۔میری بات مان لو ورنہ آج کے بعد عفان تم سے تمہاری ہر بات کی وضاحت مانگے گا ۔۔۔۔۔تمہاری پاکبازی کا ثبوت مانگے گا ۔۔۔۔وہ ہر سوال کرے گا جو آج تک اس نے تم سے نہیں کیا ۔۔۔۔تمہاری کسی بات کا اعتبار نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔میں اس کے کانوںمیں سرگوشی کر رہا تھا اور وہ مجھ سے اپنا آپ چھڑوانے کے لئے کسمسا رہی تھی میں نے اسکے منہ سے ہاتھ ہٹا کر اسے اگلے ہی پل پلٹ کر اپنے روبا رو کر لیا ۔۔۔میرے منہ پر ہاتھ رکھنے سے اسکا سانس بحال نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔۔۔وہ لم ے لمبے سانس لینے لگی ۔۔۔۔میرے اور اسکے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں تھا

“بہت محبت کرتا ہوں تم سے ماہم تمہارے کچھ پلوں پر تو میرا حق بنتا ہے “کچن میں ملجگا سا اندھیرا تھا ہلکی سی مدھم سی روشنی تھی اتنی کے مجھے اسکا چہرا صاف نظر آ رہا تھا وہ بری طرح بد حواس تھی پسینے سے شرابور ۔۔۔

“شرم آنی چاہیے تمہیں ۔۔۔۔ایساسوچتے ہوئے بھی۔۔۔گھن آتی ہے مجھے یہ سوچ کر کہ کبھی تم میرا انتخاب تھے ۔۔۔۔۔میں شکر کرتی ہوں اپنے رب کا کہ اس نے مجھے میری۔ خواہشات کے حوالے نہیں کیا میرے لئے اسے چنا جو سب سے بہترین ہے ۔۔۔۔جو تم چاہتے ہو وہ میں مر کر بھی نہیں کرونگی ۔۔۔۔میری ہر سانس عفان کی امانت ہے “اسے پہلے کہ پلٹ کر واپس جاتی میں نے اس پکڑ کر اپنے سینے سے لگانے کی کوشش کی لیکن اس بار وہ شاید میری حرکت کا اندازہ لگا چکی تھی ۔۔۔

“چھوڑو مجھے کامران ورنہ میں تمہارا حشر بگاڑ دونگی

“بہت اکڑ ہے تم میں سمجھتی کیا ہو خود کو اب دیکھوں کیا حال کرتا ہوں تمہارا ۔۔۔میرے قریب اب۔تم خود آؤں گی” ۔۔۔۔میں نے زبردستی اسے خود سے قریب کرنے کی کوشش کی مگر وہ میرے سینے پر ہاتھ رکھے مجھے دھکیلنے لگی

“میں نوچ لوں گی تمہیں ۔۔۔تمہاری اصل اوقات دیکھاوں گی سب کو “اب ماہم کی آواز بلند ہونے لگی میں نے اسے چھوڑ دیا وہ زور زور سے چلانے لگی اس سے پہلے کہ کوئی کچن کا رخ کرتا میں پلٹ کر جانے لگا مگر ماہم نے مجھے شرٹ سے پکڑ لیا مگر میری کمر کی جانب سے مجھے روکنے لگی تا کہ سب کو میری سچائی سے آگاہ کر سکے مگر وہ ایک کمزور سی عورت میرا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی میں خود کو اسکی آہنی گرفت سے چھڑوانے لگا اسی چکر میں میری شرٹ پھٹ چکی تھی ماہم کے ناخنوں سے میری کمر پر کھرونچیں پڑ گئیں تھی وہ بری طرح چیخ رہی تھی۔۔۔جنونی ہونے لگی تھی

“میں نہیں چھوڑو گی تمہیں ۔۔۔۔۔مار ڈالوں گی “

میں کچن کے جس راستے سے آیا تھا وہیں سے لوٹ کر چلا گیا ۔۔۔اسکی چیخنے کی آوازیں مجھے لان میں تک آ رہی تھی میں تیز قدم بڑھاتے ہوئے مین گیٹ سے نکل گیا گاڑی میں بیٹھ کر میں نے اپنا سانس بحال کیا جو درعمل ماہم کا تھا وہ میری توقع کے عین مطابق تھا ۔۔۔۔۔میں نے اپنے ماتھے پر آنے والا پسینہ پونچا اپنی شرٹ اتار کر پیچھے کمر صاف کرنے لگا ۔۔۔۔پھر واپس سے اپنی براؤن شرٹ پہن لی پنک شرٹ اپنی سیٹ کے نیچے پھنک دی ۔۔۔۔میری گاڑی میرے ہی استعمال میں رہتی تھی عفان تو ہاتھ بھی نہیں لگاتا تھا ۔۔۔۔اور پاپا بس کبھی کبھی ہی لیتے تھے ۔۔۔اس لئے مجھے فکر نہیں تھی سامنے لگے مرر سے میں نے اپنے بال اور چہرے کا حلیہ درست کیا کچھ دیر گاڑی میں ہی بیٹھا رہا ۔۔۔خود کو ریلکس کرتا تھا تا کہ مجھے دیکھ کر کسی کو مجھ کر شک نا ہو جائے ۔۔۔۔پھر مجھے چہرے کے تاثرات چھپانے آتے تھے بیس منٹ بعد میں نے گاڑی اسٹاٹ کی اور اپنے مین گیٹ کے باہر گاڑی لا کر ہرن دینے لگا اور مہک کو بھی کال کر دی اپنا لہجہ ایسا کیا کہ جیسے سچ میں دوستوں میں گزار کر آیا ہوں ۔۔۔مگر فون شاید عفان نے سنا تھا وہ بولا کچھ نہیں۔ لیکن مہک سے دروازہ کھولنے کا کہنے لگا ۔۔۔۔مطلب سب لوگ ماہم کے پاس اکھٹے ہو۔ چکے تھے ۔۔۔اب میرے اصل ڈرامے کا آغاز ہونا تھا ۔میں نے گہری سانس لی مہک مین گیٹ کے پاس پہنچ گئ تھی دروازہ کھلا میں نے گاڑی اندر پر پارک کی گاڑی سے اترا تو ۔مہک گیٹ بند کر کے میرے پاس آ گئ ۔۔۔کچھ گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی میرے پوچھنے سے پہلے ہی ماہم کے بارے میں خود سے بتانے لگی ۔۔۔۔میں نے یوں ظاہر کیا جیسے اسکی بات سن کر میں پریشان ہو گیا ہوں

‘اچھا ایسا کیا ہوا ہے اسے ۔۔۔میں اور مہک سیدھا کچن میں گئے ماہم پاپا کے ساتھ لگی رو رہی تھی میں عفان سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔ماہم نے میرا گریبان پکڑ لیا اسکی جنونی کیفیت غصہ سب کچھ میری توقع کے مطابق تھا ۔۔۔۔سب یہی سوچ رہے تھے کہ اسے کوئی ذہنی بیماری ہے ۔۔۔۔اور یہی میں چاہتا تھا ۔۔۔وہ عفان کے قابو سے بھی باہر ہو رہی تھی ۔۔عفان حد سے زیادہ پریشان تھا میں بھی ماہم سے اپنا گریبان چھڑوانے لگا ۔۔۔۔مگر وہ بار بار میری شرٹ اتارنے کی کوشش کر رہی تھی شاید عفان سے یہ بات برداشت نہیں ہو رہی تھی اس لئے غصے میں۔ ماہم پر ہاتھ اٹھانے لگا لیکن میں نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔میری ماہم تھی وہ۔۔۔۔ عفان ہوتا کون ہے ماہم پر ہاتھ اٹھانے والا ۔۔۔۔۔میں یہ تو ہر گز برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔ماہم کو پیار کرنے کا ۔۔۔اس سے لڑنے کا ۔۔۔یہاں تک کہ ۔اسے مارنے کا بھی صرف میرا حق تھا ۔۔۔۔میری تھی وہ ۔۔۔۔۔پاپا کے کہنے پر میں نے اپنی شرٹ کے بٹن کھول کر سامنے سینہ ہی دیکھایا تھا جو کہ بلکل صاف تھا ماہم کو شاید اندھیرے میں یہ لگا کہ اس نے مجھے سامنے سے نوچا ہے ۔۔۔۔میں بال بال بچ گیا تھا ۔۔۔۔مجھے ایک پل کو یہ ڈر بھی لگا کہ گر ماہم نے پوری شرٹ اتارنے کا کہہ دیا تو میں سچ میں پکڑا جاؤں گا ۔۔۔لیکن میری قسمت میرا ساتھ دے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔مما ماہم کو اپنے کمرے میں لے گئیں۔۔۔عفان وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔مہک اور پاپا بھی جا چکے تھے ۔۔۔۔مجھے بس اس بات کا ڈر تھا کہ ماہم کے موبائل میں میسج اب بھی موجود تھے جو میں نے مہک کے موبائل سے کیے تھے۔۔۔۔مجھے اب انہیں۔ ڈلیٹ کرنا تھا ۔۔۔اسوقت عفان سر پکڑے بیٹھ تھامیں نے اسے تسلی دی اور اپنے کمرے کے۔ جائے اوپر عفان کے کمرے میں ا گیا ماہم کا موبائل لیا اور جلدی سے مہک کے نمبر سے کیے گئے میسج ڈلیٹ کیے کال ریکوڈ سے بھی مہک کا نمبر ڈلیٹ کر کے نیچے اتر کر اپنے کمرے میں چلا گیا اب ماہم کے پاس میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا ۔۔۔۔۔اب میں مطمین سا ہو گیا ۔۔۔۔صبح بھی میں نے عفان کو بڑی ہمدردی جتاتے ہوئے اپنے ایک دوست جو سائریکٹریس تھا اسکے پاس جانے کا مشورہ دیا جس قدر وہ ماہم کو لیکر پریشان تھا مجھے سو فیصد یقین تھا کہ وہ میرے بتائے ہوئے ڈاکٹر کے پاس ہی لیکر جائے گااور ہوا بھی وہی ڈاکٹر کی جیب میں پہلے ہی بھر چکا تھا اور اسے سمجھا چکا تھا کہ اسے عفان کو ماہم کے حوالے سے شک میں ڈالنا ہے۔۔۔۔۔۔اب مجھے اس بات کا انتظار تھا کہ کب عفان ماہم سے بازپرس کرے اور کب وہ شک کا زہر مجھے عفان کے اندر نظر آئے جو میں ڈالنا چاہا تھا ۔۔۔اور کب عفان شک کی بنیاد پر ماہم کو۔ چھوڑ دے ۔۔۔۔پھر میں ماہم کو اپناو میری محبت میرے پاس بڑی آسانی سے آ سکتی تھی ۔۔۔

۔۔۔۔۔اب ماہم سے دوری میری جان کا عذاب بننے لگی تھی ۔۔۔۔۔مگر اس بار بھی میرا وار خالی ہی گیا حالانکہ سب کچھ میری مرضی منشا کے مطابق ہی ہوا تھا ۔۔۔۔۔مگر شاید عفان کو توڑنا میرے لئے مشکل تھا چند روز بعد جب میں ماہم کو کچن میں اکیلا پا کر اس سے بات کرنا چاہی تو اسکے رنگ ڈھنگ ہی نرالے تھے

“کامران اگر تم نے میرے قریب آنے کی کوشش بھی کی یا مجھ سے بدتمیزی کی میں منہ نوچ لونگی تمہارا ۔۔۔پھر اپنے زخمی منہ کی وجہ سب جو بتانے کے لئے تیار رہنا” ۔۔۔۔۔ماہم کی آنکھیں انگارے برسارہیں تھیں

اس کا بدلہ ہوارویہ اور اعتماد نے مجھے کنگ سا کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔میں پھر سے اسی سوچ میں گم رہنے لگا کہ ایسا کیا کروں جو عفان ماہم کو چھوڑ دے ۔۔۔۔رات میں اپنے آفس کے کسی کام سے لیپ ٹاپ پر مصروف تھا جب مہک مجھ سے بات کرنے لگی ۔۔۔۔

“کامران “

“ہمم”

“مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی ۔۔۔۔۔”

“وہ کیا “

“عفان کی شادی ماہم سے ایک حادثاتی طور پر ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی عفان نے اسے قبول کر لیا ۔۔۔اور میں یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ عفان ماہم کی خوبصورتی سے متاثر ہوا ہو کیونکہ عفان ہر لحاظ سے ماہم سے بہتر ہے ۔۔۔مگر پھر بھی عفان۔ ماہم کو ٹوٹ کر چاہتا ہے ۔۔۔۔تمہیں پتہ ہے کچھ دن پہلے عفان نے ماہم کو ایک فلاور بکے کے ساتھ ایک پرفیوم اور کارڈ بھیجا تھا ۔۔۔۔اس کارڈ کو پڑھ کر مجھے ایسا لگا جیسے وہ ماہم کو بڑی شدت سے چاہتا ہے ۔۔۔۔یقین جانو کامران اگر کسی کو یہ معلوم نا ہو کہ وہ کارڈ کسی شوہر نے اپنی بیوی کو دیا ہے تو یہ لگے کہ کوئی جنونی سا عاشق ہے جو اپنی معشوقہ کی قربت کو پانے کا خواہشمند ہے مگر اسے پا نہیں سکتا ” ۔۔۔۔۔۔مہک کی بات پر لیپ ٹاپ پر میری متحرک انگلیاں جیسے ساکت سی ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔حالانکہ آفس کا کام اچھا خاصا باقی تھا مگر میرادل اچاٹ سا ہو گیا۔۔۔۔میں نے لیپ ٹاپ بند کر دیا مہک کسی گہری سوچ میں گم تھی

“کامران ۔۔۔عفان تمہاری طرح حسن پرست نہیں ہے ورنہ “۔۔۔۔مہک کچھ کہتے کہتے رک گئ

“ورنہ کیا “میں مہک کو غور سے دیکھنے لگا

“ورنہ اسے پہلی بار قاسم کے آفس میں دیکھ کر ۔۔۔۔میں سچ میں مرمٹی تھی اس پر لیکن اس نے مجھے آنکھ بھر کر بھی نہیں دیکھا “۔۔۔۔۔یہ سن کر مجھے دھچکا سا لگا مہک کا اس طرح کھلے لفظوں میں عفان کے حوالے سے بات کرنا مجھے تپا کر رکھ گیا تھا ۔۔۔۔کچھ بھی تھا وہ بیوی تھی میری ۔۔۔۔۔اسکے منہ سےعفان۔ کی ایسی تعریف ۔۔۔۔مجھے غصہ آنے لگا

“تمہیں تو شاید سب پرمر مٹنے کا شوق ہے مہک ۔۔۔۔میرے لئے بھی تم ایسے ہی خیالات رکھتی تھیں” میں نے طنز کیا وہ بھی جلن سے بھرا ہوا

“ارے نہیں کامران تمہاری تو میں رس بھری باتوں سے بیوقوف بن گئئ تھی ۔۔۔تم اچھے ہو مگر عفان جتنے ہینڈسم نہیں ہو ۔۔۔۔پھر تم جم بھی جاتے ہو ہر ہفتے سیلون جاتے ہو ذیادہ تر ٹپ ٹاپ رہنے کی کوشش کرتے ہو ۔۔۔۔مگر عفان تو ایسے بھی سادہ سے حلیے میں بھی اٹریک کرتا ہے ” ۔۔۔۔مجھے مہک کا عفان کی یوں بے جا تعریف کرنا برا لگ رہا تھا ۔۔۔۔لیکن یہ سب مہک کے مزاج کا حصہ تھی ۔۔۔۔اسے جب بھی کوئی اچھا لگتاوہ بلاجھجک میرے سامنے اسکی تعریف کردیتی یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ہر مرد اپنی بیوی کے منہ سے غیر مرد کی تعریف نہیں سن سکتا

“مجھے نیند آ رہی ہے مہک ۔۔۔۔دل تو چاہا ایسی کھری کھری مہک کو سناؤں کہ ہوش ٹھکانے آ جائیں مگر ۔۔۔میں بحث کے موڈ میں نہیں تھا پھر مجھے کون سی مہک سے محبت تھی میں خود اسے جان چھڑوانا چاہتا تھا ۔۔۔۔وقت یونہی گزرنے لگا رات کو ماہم کی طعبیت کافی خراب ہو گئی تھی ۔۔۔۔عفان کے ساتھ مما پاپا ماہم کو لیکر ہاسپٹل چلے گئے ۔۔۔۔نا جانے میں کیوں بے چین سا ہونے لگا تھا یہ کوئی انوکھی اور انہونی بات تو نہیں تھی پھر بھی میں مہک کو نیند سے جگا کر اسے اپنے ہمراہ لیے ہاسپٹل پہنچ گیا ۔۔۔۔ماہم آپریشن تھیٹر میں تھی ۔۔۔۔سب ہی پریشان بیٹھے تھے ۔۔۔مما ہاتھ میں تسبیح لیے کچھ پڑھ رہیں تھیں ۔۔۔۔اور مہک کو میں نیند سے بیدار کر کے لایا تھا اس لیے وہ جمائیاں لے رہی تھی ویسے بھی وہ نیند کی کچی تھی … بیچ میں نیند کی شدت سے اونگ بھی رہی تھی ۔۔۔۔جیسے ہی ڈاکٹر باہر آئی ہم سب کی نظریں ڈاکٹر پر ہی جمی ہوئیں تھیں

“مبارک ہو مسٹر عفان بیٹا ہوا ہے ۔۔۔۔”

“اور ماہم وہ تو ٹھیک ہے نا” ۔۔۔۔یہ وہ جمعلہ تھا جو میرے اور عفان کے منہ سے بیک وقت نکلا تھا ۔۔۔۔عفان نے بے ساختہ میری طرف دیکھا میں۔ کچھ خجل سا ہوگیا ۔۔۔۔

“ہاں …ہاں ۔۔۔شی از آل رائٹ ۔۔۔۔لیکن ابھی بے ہوش ہیں کچھ ہی دیر میں ہم اسے روم میں شفٹ کردیں گئے “۔۔۔۔ڈاکٹر تو وہاں سے چلی گئ کچھ ہی دیر میں نرس ایک ننھے منے وجود کو ہاتھوں میں اٹھائے باہر لے آئی ۔۔۔۔سب سے پہلے پاپا نے اسے پکڑا

“ماشااللہ یہ تو پورا میری بٹیا پر ہے صفیہ ۔۔۔۔۔شکر ہے اپنے نالائق باپ پر نہیں گیا “۔۔۔۔پاپا ہنستے ہوئے عفان کو کہنے لگے ۔۔۔۔میرادل بے چین تھا اس ننھے وجود کو دیکھنے کے لئے ۔۔۔پاپا نے مما کو پکڑادیا وہ اسے چومنے لگیں ۔۔۔۔پھر عفان نے اسے پکڑ لیا ۔۔۔۔میں عفان کے برابر میں ہی کھڑا تھا ۔۔۔۔

“واقع مما یہ تو بلکل ماہم جیسا ہے ۔۔۔۔ہے نا بھائی” ۔۔۔۔عفان نے مجھ سے پوچھا ۔۔۔۔عفان اس قدر خوش تھا کہ اس کا چہرے سے مسکراہٹ غائب نہیں ہو رہی تھی

“ہاں لگ تو ایسا ہی رہا ہے ۔۔۔اسکی آنکھیں کھلی ہوئیں تھیں ۔۔۔اور بلکل ماہم جیسی تھیں براؤن شہد رنگ جیسی ۔۔۔۔وہ عام بچوں کی طرح رو نہیں رہا تھا ۔۔۔۔بس اپنے نازک اور چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو اپنے منہ میں ڈال کر چوسنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔نا جانے کیوں مجھے اس پر بے تحاشہ پیار آنے لگا۔اس سے پہلے کہ میں اسے گود میں اٹھاتا مہک نے اسے پکڑ لیا اور پیار کرنے لگی پھر پاپا نے اسے پکڑ کر اسکے کان میں آذان دی پھر عفان سے پوچھنے لگے کہ اس کا نام کیا سوچا ہے عفان نے یہ حق پاپا اور مما کو دے دیا مگر وہ میری ماہم کا بیٹا تھا میں کیسے برداشت کر لیتا کہ اس کا نام کوئی اور رکھے۔۔۔میراحق ہے کہ میں اسے وہ نام دوں جو مجھے پسند ہے میں نے عفان کو بہت رقت بھرے انداز سے کہا کہ میں اس کانام رکھناچاہتا ہوں عفان کچھ دیر تو حیرانگی سے مجھے دیکھنے لگا ۔۔۔۔نا جانے کس جذبے کی تحت مگر عفان نے کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے یہ حق دیا میں ایسے خوش تھا جیسے وہ مجھے سارے ہی حق دے چکا ہو میرادل خوشی سے شادماں تھا ۔۔۔۔جب میں نے اس کا نام عمر رکھاتو مہک ضرور مجھے شاکی نگاہوں سے دیکھنے لگی گھر جا کر مہک نے مجھ سے پوچھ ہی لیا

“کامران عمر نام تو تم اپنے بیٹے کا رکھنا چاہتے تھے پھر ۔۔۔۔عفان کے “

“وہ بھی میرا ہی بیٹا ہے ۔۔۔۔۔۔دیکھا نہیں کتنا معصوم ہے وہ ۔۔۔۔اسکی آنکھیں دیکھیں تم نے مہک ۔۔۔بلکل ماہم کی آنکھوں جیسی ہیں ۔۔۔۔اس کے چہرے نقوش بھی ماہم سے ملتے ہیں ۔۔۔۔”

“ہاں تو وہ نکا بچہ ہے نا…اور بچے اپنے ماں۔ باپ ہی پر جاتے ہیں پر اب اگر ہمارا بیٹا ہوا تو اس کا نام کیا رکھوں گئے ” مہک کی سوئی اسی بات پر اٹکی ہوئی تھی

“اس کانام عفان رکھے گا ۔۔۔۔”

“وہ کیوں “مہک کو میری تجویز خاص پسند نہیں آئی تھی

“اب عفان نے مجھے یہ حق دیا ہے تو بدلے مجھے بھی اسے کچھ دینا چاہیے “

مہک کندھے آچکا کر رہ گئ ۔۔۔۔۔میں نے آنکھیں بند کی تو عمر کا معصوم سا چہرہ میرے سامنے آنے لگا ۔۔۔۔

کچھ دن بعد ہی ماہم ہاسپٹل سے گھر آ گئ تھی۔۔۔۔میں نے آفس سے آتے ہی جلدی سے کپڑے تبدیل کیے ۔۔۔اور اوپر عفان کے کمرے پر دستک دینے لگا دروازہ عفان نے ہی کھولا

“عفان وہ ۔۔۔۔۔عمر ۔۔۔۔مجھے عمر کو پکڑنا تھا “۔۔۔نا جانے میں کیوں عفان سے اجازت لیتے ہوئے جھجک سا جاتا تھا

“کیوں نہیں بھائی میں لاتا ہوں اسے “…شاید میری بے چینی وہ بھانپ گیا تھا

“عفان سو رہا ہے عمر کیوں گود میں اٹھا رہے ہو اسے ” ماہم کی آواز باہر تک آرہی تھی

“کوئی بات نہیں ماہی کامران بھائی نے پکڑنا ہے اسے “

“کیوں پکڑنا ہے ۔۔۔ہمارا بیٹا ہے یہ ہم انہیں کیوں دیں “

“ماہی ۔۔۔کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔۔۔۔عمر ان کا بھی کچھ لگتا ہے اور اسوقت تو گھر میں یہی سب سے چھوٹا ہے سب کو اسی پر پیار آئے گا نا کچھ دنوں کی بات ہے جب انکا اپنا بچہ ہو گا تو ظاہر انکی توجہ خود با خود بٹ جائے”

“مجھے نہیں پتہ عفان ۔۔۔میں نے خود عمر کو جی بھر کر پیار نہیں کیا بس تم کوئی بہانہ بنا دو ۔۔۔۔مجھے نہیں دینا عمر کو “

“بری بات ہے ماہی” ۔۔۔۔میں ساری باتیں خاموشی سے سن رہا تھا ۔۔۔میری جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید دلبرداشتہ ہو کر جا چکا جاتا مگر مجھے تو عمر کو ہر حال میں پکڑنا تھا ۔۔۔۔عفان جب کمرے سے باہر آیا تو عمر اسکی گود میں تھا ۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے عمر کو گود میں لے لیا

“عفان عمر کو سونا ہے اس لئے دس منٹ بعد اسے واپس لے آنا “۔۔۔ماہم نے جان بوجھ کر اونچی آواز میں یہ سب کہا تھا تا کہ میں سن لو

“عفان میں عمر کو ایک گھنٹے سے پہلے واپس نہیں کروں گا ۔۔۔۔پورا دن مجھے بس اسی وقت کا بے چینی سے انتظار ہوتا ہے ۔”۔۔۔عفان شاید سمجھ گیا تھاکہ میں انکی باتیں سن چکا ہوں اس لئے ذراسا شرمندہ ہوتے ہوئے بولا

“بھائی وہ بھی ماں ہے اسکی اور پھر یہ ہے بھی اکیلا “

“ہاں تو میں باپ ہوں اس کا “۔۔۔۔میرے منہ سے بے اختیار نکلا ۔۔۔۔پھر میں خود ہی سنبھل گیا

عفان میں پہلے ہی تم سے کہہ چکا ہوں کہ پچھلی باتوں کو بھولا دو اور مجھے معاف کر دو مگر شاید ماہم مجھے معاف کرنے کو تیار ہی نہیں ہے ۔۔۔میں مل کر رہنا چاہتا تو یار۔۔۔اور میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ تمہارے اور میرے بچے ہمارے لئے ہمیشہ ہمارے ہی ہونے چاہیے ۔۔۔جب میرا بچہ ہو گا بے تم بھی اسے گھنٹوں اپنے پاس رکھنا ۔۔۔۔مجھے اور مہک کو کبھی اعتراض نہیں ہو گا “میری بات پر عفان مسکرانے لگا

“کیوں نہیں بھائی عمر بھی آپ کا ہی ہے ۔۔۔۔میں سمجھا دونگا ماہی کو آپ کا جب تک دل چاہے آپ عمر کو اپنے پاس رکھیں “۔۔۔۔میں عمر کو لیکر نیچے آ گیا اپنے کمرے میں اسے گود میں لئے پیار کرنے لگا مہک جب چینج کر کے آئی تو میری گود میں عمر کو دیکھ کر حیرانگی سے بولی

“ماہم نے دیدیا عمر تمہیں ۔۔۔بڑی بات ہے”وہ حیران سی ہونے لگی

“ہاں کیوں” ۔۔۔میں نے تعجب سے پوچھا

” وہ تو کسی کو ہاتھ تک نہیں لگانے دیتی ۔۔۔۔اف بہت وہمی ہے بھئ۔۔۔پتہ ہے کامران آج تواس نے پاپا کو بھی پکڑانے سے منع کر دیا کہنے لگی

پاپا آپ کو ٹھیک سے پکڑنا نہیں آتا “۔۔۔۔۔مہک ہنستے ہوئے بتانے لگی

“اور پاپا ماہم کی بات پر پر مسکرا رہے ہوں گئے “

“ہاں ۔۔۔۔۔تمہیں کیسے پتہ” ۔۔۔۔وہ حیرت سے بولی

“بچپن سے وہ ہمارے گھر پر ہے ۔۔۔مجھے نہیں پتہ ہو گا کیا ۔۔۔۔”

“اچھا لاو عمر کو مجھے دو میں نے تو پورا دن ایک بار بھی اسے نہیں پکڑا ” مہک ہاتھ آگے بڑھا کر بولی تو میں نے عمر کو پیچھے کر دیا

“شٹ اپ مہک بڑی مشکل سے میں ایک گھنٹے کے لئے اسے لایا ہوں۔۔۔۔اس لئے مجھ سے یہ امید مت رکھنا کہ عمر کو تمہیں دونگا” ۔۔۔مہک بس مجھے دیکھتی ہی رہ گئ

“تم اور ماہم کچھ زیادہ ہی کیزی ہوں بچوں کے معاملے میں ۔۔۔”

“یہی سمجھ لو “۔۔۔اب میں عمر کے ننھے منے ہاتھ دیکھنے لگا کبھی اسکے پاؤں دیکھتا ۔۔۔۔اسکے گال کو چھوتا ۔۔۔۔۔ایک گھنٹہ کب گزرا مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا ۔۔۔پھر تو یہ میری روٹین میں شامل تھا ۔۔۔۔ میں روانہ عمر کو گھٹنوں لیکر بیٹھا رہتا ۔۔۔۔ماہم کا انکار اسکا غصہ اس کے بہانے مجھ پر کچھ بھی اثر نہیں کرتے تھے

۔۔۔۔ایک مہنے بعد میرے گھر بیٹی پیداہوئی میرا دل بجھ سا گیا حالانکہ پاپا بہت ذیادہ خوش تھے ۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ اسکا نام بھی پاپا نے رکھا ۔۔۔۔میں نے مشعل کو سب سے آخر میں اپنی گود میں لیا وہ رنگ روپ میں بلکل مہک پر تھی لیکن نقوش مجھ پر تھے ۔۔۔۔۔

“بھائی ماشااللہ سے مشعل بہت پیاری ہے ۔۔۔۔”عفان نے اسکے پنک لٹکتے گال کو پیار سے چھوتے ہوئے کہا

“ہاں ماشااللہ”۔۔۔۔ میں نے بے دلی سے کہا

میں نے بس کچھ ہی دیر بعد مشعل کو مہک کی گود میں ڈالدیا مہک ضرورخوش تھی ۔۔۔۔پاپا مشعل کو عمر سے بھی بڑھ کر پیار کرتے تھے ۔۔۔۔ماہم بھی اب مشعل کو پکڑے پیار کرنے لگی تھی ۔۔۔۔

“بھابی کتنی خوبصورت ہے یہ سچ میں میراتو مشعل سے نظر ہٹانے کو دل نہیں چاہتا ۔۔۔بلکل جاپانی گڑیا لگتی ہے “۔۔۔۔۔ماہم اس کے لٹکے ہوئے گالوں کواپنی چٹکیوں میں لیتی تو وہ رونے لگتی ۔۔۔۔پھر اسے گود میں لئے پیار کرنے لگتی ۔

“۔اچھا نا اب چپ بھی ہو جاؤں ۔مشعل چچی کے پاس آ کر روتے نہیں ہیں “۔۔۔۔۔وہ کافی دیر اسے بہلانے لگی ۔۔۔۔

مہک اور ماہم نے واقع کبھی ان دونوں بچوں میں کبھی فرق نہیں سمجھا تھا ۔۔۔۔مل جل کر ہی وہ دونوں بچوں کو سنبھال لیتی تھیں ۔۔۔۔مگر میں عمر جیسا پیار مشعل کو نہیں دے پایا ۔۔۔۔۔مہک یہ بات ضرور محسوس کرتی تھی