Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 42 (Part 1)
Rate this Novel
Tadbeer Episode 42 (Part 1)
Tadbeer by Umme Hani
۔۔۔۔ جب سے کامران کی شادی ہوئی تھی صفیہ بیگم کا رویہ مہک سے اکھڑا اکھڑا سا تھا ۔۔۔۔جہاں بھی مہک ہوتی صفیہ بیگم اٹھ کر چلی جاتیں ۔۔۔اگر وہ کوئی بات کرتی تو اسے جواب دیے بغیر درشتی سے دیکھتے ہوئے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی جاتیں ۔صفیہ بیگم مہک کو ایک آنکھ دیکھنے کو تیار نہیں تھیں ۔۔۔ماہم بھی چپ چپ سی تھی جو کچھ مہک نے قاسم کی شادی پر ماہم کے ساتھ کیا تھا ماہم اس سے بات کرنے سے کترانے لگی تھی ۔۔۔۔مہک خود بھی شرمندہ تھی اور اس۔ ماحول میں سب کی اجنبیت سے پریشان ہونے لگی تھی۔۔۔۔پھر کامران۔ کسی چیز میں کاپریٹ کرنے کو تیار نہیں تھا۔۔۔۔مہک جب کمرے میں بیٹھی بیٹھی بور ہوگئ تو اٹھ کر لاونج میں آ کر بیٹھ گئ اس وقت لاونج میں صفیہ بیگم بیٹھی ٹی وی دیکھ رہیں تھیں۔۔۔صفیہ بیگم نے مہک کو دیکھتے ہی ناگواری سے ۔۔منہ پھیر لیا ٹی وی آف کر کے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔۔۔۔مہک اٹھ کر کچن میں آگئ ۔۔۔ماہم ڈنر تیار کر رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ پیاز کاٹتی رانی کو ہاتھ تیز چلانےکی ہدایتیں بھی دے رہی تھی ۔۔۔۔رانی ماہم سے راشد کی شکایتیں لگانے میں مصروف تھی
“رانی جلدی جلدی پیاز کاٹو رضا انکل آتے ہی ڈنر کا شور کرنے لگیں گئے” ۔۔۔ماہم تیز تیز چمچہ کرائی میں۔ فرائی ہوتی سبزیوں میں چلا رہی تھی اور دوسرے چولہے پر بلتے ہوئے نوڈلز کو بھی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
“ماہم بی بی جی راشد کے بچے کو اپنے لفظوں میں سمجھا لیں پتہ ہے آپ کو کہہ رہا تھا کہ اپنی اماں کو گاؤں سے بلا نے لگا ہے تا کہ ابا سے میرا رشتہ مانگ سکے ۔۔۔۔ شکل بھی دیکھی ہے اس کالے کوے نے اپنی “
“اتنا بھی برا نہیں ہے راشد۔۔۔۔ اور اس میں حرج کیا ہے رانی کتنا چاہتا ہے تمہیں ۔۔۔۔”
“نا مجھے نہیں اچھا لگتا۔۔۔۔تنخواہ ہی کتنی ہے اسکی۔۔۔۔ساری زندگی ابا کی کم تنخواہ میں تھوڑے میں گزارا کیا ہے ۔۔۔کیا آگے بھی ایسی ہی زندگی گزار دوں ۔۔۔۔میں تو اچھے رشتے کے انتظار میں۔ ہوں ماہم بی بی جی ” رانی پیازکاٹتے ہوئے آنکھوں سے نکلنے والے آنسوں بھی صاف کر رہی تھی
“اور اس اچھے رشتے کے انتظار میں بیٹھی بوڑھی ہوتی رہو گی ۔۔۔۔راشد بہت اچھا ہے رانی ۔۔۔محبت کرتا ہے تم سے ۔۔۔اور ضروری تو نہیں کہ ساری زندگی کم تنخواہ پر ہی رہے ۔۔۔۔عفان تو اسے ڈرائیونگ بھی سیکھا رہا ہے۔۔۔پتہ ہے ڈرائیور کی تنخواہ کتنی ذیادہ ہوتی ہے “۔۔۔۔ماہم اب چکن باول میں ڈالے سنک میں رکھ کر دھونےلگی ۔۔۔رانی ماہم کے عقب میں ٹیبل پر بیٹھی پیاز کاٹ رہی تھی مہک کو کچن کے دروازے پر کھڑا دیکھکر خاموش ہو گئ۔۔۔۔
“اب چپ کیوں ہو بولتی کیوں نہیں ۔”۔۔ماہم
نے رانی کو خاموش پا کر کہا اور پلٹ کر جب رانی کودیکھا سامنے مہک پر نظر پڑتے ہی خود بھی خاموش ہوگئ۔۔۔۔دوبارہ سنک کی طرف مڑ کر چکن دھونے لگی ۔۔۔۔کچھ پل تو کچن میں خاموشی چھائی رہی مہک آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی ماہم کے پاس کر رک گئ سامنے کوکنگ رینج پر رکھی کڑائی دیکھتے ہوئے ماہم سے پوچھنے لگی
“کیا بنا رہی ماہم” ۔۔۔۔مہک کا لہجہ ملائمیت لیے ہوئے تھا
“ڈنر کے لئے قورمہ بنانے لگی ہوں ۔۔۔اور عفان کو پاستا بہت پسند ہے اس لئے سوچا وہ بھی بنا لیتی ہوں” ۔۔۔۔ماہم نے بھی نارمل لہجے سے جواب دیا ۔۔ماہم اب پاستے کی پتیلی اٹھا کر اسکے پانی کو چھاننے لگی ۔۔۔
“۔تمہین کمپلیٹ کوکنگ آتی ہے ماہم “
“ہاں تقریبا سبھی کچھ بنا لیتی ہوں “۔۔۔ماہم نے بھی مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔اور ساتھ ہی ساتھ نوڈلز سبزیوں میں ڈالنے لگی ۔۔۔۔
“ایسا کرو پاستا تھوڑا زیادہ بنا لینا ۔۔۔میں قورمہ نہیں کھاتی اس لئے پاستے سے کام چلا لوں گی ۔”۔۔مہک نے جھجکتے ہوئے کہا
“ارے کام کیوں چلاو گی ۔۔۔۔تم بتاؤں تمہیں کیا پسند ہے میں فٹافٹ بنا دونگی” ۔۔۔ماہم نے چٹکی بجاتے ہوئے خوش دلی کا مظاہرہ کیا ۔۔۔
” نہیں اچھا نہیں لگتا تمہیں تکلیف دوں ۔۔۔۔ایکچلی مجھے چائے بھی بنانی نہیں آتی ۔۔۔۔میرے گھر پر سب کچھ کک ہی کرتے تھے ۔۔۔میں نے تو کبھی کچن کا رخ ہی نہیں کیا ۔۔۔۔لیکن اب سوچ رہی ہوں کتنا غلط کیا میں نے ۔۔کچھ نا کچھ تو سیکھ لینا چاہیے تھا ۔تا کہ اپنے لئے کچھ نا کچھ بنا لیتی”۔۔۔مہک افسردگی سے پاستے میں چمچہ ہلانے لگی ماہم نے اسکے ہاتھ سے چمچہ پکڑ لیا
“تم کیوں بناؤں گی ۔مجھ سے کہو ۔۔۔ویسے فریج میں فش ٹگٹس کباب سب فریز ہیں اگر اسکے علاوہ کچھ کھانا ہے تو بتاؤں مہک۔۔۔۔ ابھی تو تم نئی نئی دلہن ہو تم سے تھوڑی نا کچھ کروائیں گئے ۔”۔۔۔ماہم نے اپنایت سے مسکرا کر کہا
“کہاں کی نئی دلہن۔۔۔ جو غلطی میں نے کی ہے مجھے تو لگتا ہے میں کبھی سب کی نظر میں عزت نہیں پاسکوں گی ۔۔۔۔کوئی بھی مجھ سے بات تک کرنا پسند ہیں کرتا “۔۔۔۔مہک دل برداشتہ ہو گئ آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے ماہم کا دل دکھنےگا اپنے ہاتھوں سے مہک کے آنسوں پونچھنےگی
“ایسے مت کہو ۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔میں ہوں نا ۔۔۔تم اپنے دل کی ہر بات مجھ سے کردینا مجھے اپنی بہن سمجھ لو یا دوست ۔۔۔۔ہمہیں ساتھ ہی تو رہنا ہے۔مہک اچھا ہے دوست بن کر رہی گئے” ۔۔۔۔ماہم کی بات اور اپنایت دیکھ کر مہک ماہم کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
“مجھے معاف کر دو ماہم میں نے انجانے میں بہت بدتمیزی کر دی تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔مگر بائے گاڈ مجھے نہیں معلوم تھا کہ کامران نے تمہارے بارے میں مجھ سے جھوٹ کہا ہے میں تو بس اسکی محبت میں ایسی اندھی ہوئی کہ اسکی ہر بات پر ایمان لاتی رہی ۔۔۔۔”
“چھوڑو ان باتوں کو مہک میں تو کب سے بھول بھی چکی تم بھی بھول جاؤں “۔۔۔ماہم نے ۔مہک کے آنسوں صاف کیے ۔۔۔۔۔
“تم بہت اچھی ہو ماہم ۔۔۔تھکس ۔”
“تم بھی بی ہہت اچھی ہو مہک ۔۔۔۔”
******……..********…….*******…….*****
آگلے روز صفیہ بیگم شام کو دودھ کا گلاس لئے ماہم کو ڈانٹ رہیں تھیں
“تمہیں ذرا اپنی پروا نہیں ہے ماہم ۔۔۔۔چلو جلدی پیو اسے ۔۔۔ابھی میں نے تمہیں یہ سب پھل بھی کھلانے ہیں ۔۔۔ہر بار ڈاکٹر یہی کہتی ہے ڈائٹ ٹھیک نہیں ہے تمہاری”
“نہیں نا خالہ ۔۔۔میں دودھ نہیں پیو گئ ۔۔۔۔۔دیکھ کر ہی جی گھبرانے لگتا ہے ۔”۔ ماہم کے بگڑتے منہ کے زوایے دیکھ کر صفیہ بیگم کی گھرکی اور تیز ہو گئ
“ڈرامے بازی کم کرو پیو اسے” ۔۔۔۔صفیہ بیگم نے آنکھیں دیکھائیں تو ماہم نے گلاس پکڑ لیا ۔۔۔ناک پکڑ کر ایک ہی باری میں سارا گلاس پی ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔۔
مہک بھی سامنے صوفے پر بیٹھی ماہم کو ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ماہم کی نظر مہک پر پڑی تو مہک مسکرانے لگی پھر ٹی وی پر نظریں جمائے ٹی وی دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔ماہم کو مہک کی آنکھوں میں عجیب یاسیت سی دیکھتی تھی کوئی محرومی کا احساس ۔۔۔یا کسی چیز کی کمی یا شاید صفیہ بیگم کا ماہم پر جان نچھاور کرنا اور مہک سے لاتعلقی برتنا محسوس ہوتا تھا ۔۔۔۔ماہم کو دکھ ہونے لگا ۔۔۔خالہ کو چاہیے اب مہک کے ساتھ اپنا رویہ درست کر لیں ۔۔۔اتنی اچھی تو ہے وہ ۔۔۔۔ماہم نے سوچا ۔۔۔مہک کی آنکھوں کی نمی اور پھر مہک کا اپنی آنکھوں کو رگڑنا اسے اور بھی اذیت میں ڈال گیا ۔۔۔۔مہک اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔صفیہ بیگم اب سیب کاٹ کر پلیٹ میں رکھ رہیں تھیں ساتھ ہی ساتھ سیب کے فائدے بھی بتا رہیں تھیں ۔۔۔۔
“خالہ آپ زبردستی مجھے اتنا کچھ کیوں کھلاتی ہیں “ماہم نےجان بوجھ کر صفیہ بیگم سے کہا
“اس لئے بیٹا ان سب کی بہت ضرورت ہے تمہیں “۔۔۔
“ان سب کی تو مہک کو بھی ضرورت ہے ۔۔۔اس سے آپ نے کبھی زبردستی نہیں کھلایا “۔۔۔ماہم نے جان بوجھ کر کہا تو کہ انہیں اپنے رویے کا احساس ہو سکے مگر صفیہ بیگم کے چہرے پر ناگواری پھیل گئ
“تو میں نے کون سا پابندیاں لگا رکھیں ہیں اس پر جو چاہے کھائے روکا کس نے ہے” ۔۔۔۔صفیہ بیگم کا لہجہ تیز ہوا تھا
“آپ بات بھی نہیں کرتی مہک سے ۔۔۔۔۔اتنی اچھی ہے وہ جو ہو چکا ہے اسے بھول جائیں نا خالہ۔۔۔مہک سے بات کیا کریں ۔۔۔”
“مجھے زیادہ سمجھانے کی کوشش مت کیا کرو میں جانتی ہوں مجھے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔نہیں اچھی لگتی مجھے وہ ۔۔۔پھر بھی اسے برداشت کر رہی ہوں ۔۔۔۔اور تم بھی کیا ہر وقت اسکے آگے پیچھے منڈلاتی رہتی ہو ۔۔۔۔احتیاط برتا کرو ۔۔۔مجھے تمہارا مہک سے گھلنا ملنا ذرا پسند نہیں ہے ۔۔۔۔بہت چالاک اور تیز لڑکی ہے وہ”
“نہیں خالہ مہک دل کی بہت اچھی ہے “
“رہنے دو ماہم تم سے تو کوئی ہنس کر بات بھی کر لے تو تم اس پر فدا ہونے لگتی ہو ۔۔۔ںہت معصوم
ہو تم میری جان دنیا کے رنگ ڈھنگ نہیں جانتی ۔۔۔جو لڑکی ماں باپ کو بنا بتائے زور زبردستی سے کسی لڑکے سے دوسرے شہر لے جا کر شادی کر سکتی ہے ۔۔۔نشے میں گھومتی پھرتی ہے کہاں کی شریف ہے وہ ۔۔۔۔بس میں بہت پیار سے سمجھا رہی ہوں تمہیں مہک کے آس پاس نا دیکھوں تمہیں'” ۔۔۔۔۔صفیہ بیگم نے حکمیہ انداز سے کہا اور آٹھ کر چلی گئیں ۔۔۔۔ماہم نے لا پروائی دیکھاتے ہوئے کچن میں جا کر ایک گلاس میں دودھ ڈالا اور مہک کے کمرے کا دروازہ نوک کر کے اندر داخل ہو گی مہک بیڈ کر بیٹھی تھی ماہم کو دیکھ کر اپنے آنسوں صاف کرنے لگی
“آؤں نا ماہم “۔۔۔۔ماہم نے فورا سے اپنے لہجے میں خوشگواری پیدا کرنے کی کوشش کی ماہم آکر مہک کے سامنے بیٹھ گئ اور گلاس مہک کی طرف بڑھا دیا
“لو پیو اسے ۔۔۔”
“تم کیوں لے آئی میں۔ خود لے لیتی ۔۔۔میرے لئے یہ سب زحمت مت کیا کرو” مہک نے کہا
“مجھے پتہ ہے تم بہانے بنا کر ٹال رہی ہو تا کہ تمہیں دودھ نا پینا پڑے ۔۔۔میں تمہاری ساری چالاکیاں جان گئ ہوں ۔۔۔۔تمہیں بھی میری طرح دودھ پسند نہیں ہے ۔۔۔لیکن دیکھوں نا پھر میں نے پیا ہے اس لئے تمہیں بھی لینا پڑے گا ۔۔۔۔تمہارے لئے بہت ضروری ہے یہ ۔”۔۔۔ماہم کسی بڑی خاتون کی طرح مہک سے بات کرہی تھی مہک ہسنے لگی ۔۔۔دودھ بھی ماہم کے ہاتھ سے لے لیا ۔۔۔
“مجھے دودھ نا پسند نہیں ہے ۔۔۔تم دادی اماں کم بنا کرو مجھ پر “۔۔۔مہک ماہم کی معصوم حرکتوں پر وقتی طور پر مہک بہل گئ تھی ۔۔۔۔ماہم کی بھی کوشش ہوتی کہ مہک کے ساتھ ہنس کھیل کر وقت گزرے لاونج میں۔ جب بھی صفیہ بیگم۔ٹی وی دیکھ رہیں ہوتیں ماہم مہک کو کمرے سے باہر لے آتی اپنے ساتھ بیٹھا کر ٹی وی سیریل کے بارے میں بتانے لگتی ساتھ ہی ساتھ پھل کاٹ کر مہک کو اصرار کر کے کھلانے لگتی ۔۔۔۔صفیہ بیگم کے گھورنے اور خفگی کی پروا کیے بغیر وہ پلیٹ صفیہ بیگم کی طرف بھی بڑھا دیتی
“خالہ آپ بھی کھائیں نا آپ کے لئے بھی یہ بہت صحت بخش ہے۔۔۔۔”
“نہیں تم ہی کھاو “۔۔۔۔وہ خفگی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی جاتیں
ماہم جتنی مہک اور صفیہ کے بیچ کی گشیدگی دور کرنے کی کوشش کرتی صفیہ بیگم کے رویے میں ذرا بھی لچک نہیں آتی تھی ۔۔۔۔
********………
رات کو ماہم نے مجھ سے مہک سے ہونے والی گفتگوں کے بارے میں تذکرہ کیا ۔۔۔یہ بھی کہ مہک اس سے اپنے رویے کی معذرت کر چکی ہے اور یہ بھی کہ مما کا رویہ مہک کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔۔بار بار وہ مہک کا نام لیکربتا رہی تھی ۔۔۔۔۔مجھے کچھ مناسب نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔
“ماہم وہ رشتے میں بڑی ہے تم سے ۔۔۔بہتر ہو گا کہ تم اسے بھابی کہا کرو” ۔۔۔۔میں نے ماہم کو پیار سے ٹوک دیا
“لیکن عفان میں اس سے دوستانہ تعلق رکھنا چاہتی ہوں تو پھر نام لینے میں کیا حرج ہے “۔۔۔ماہم کا جواب مجھے بے معنی سا لگا
“ضرور دوستی رکھو مگر پکارو بھابی کہہ کر ۔۔۔میرے خیال سے تمہیں اب رشتوں کو سمجھنا چائیے”
“تو کیا تم بھی مہک کو بھابی کہو گئے “
“ہاں ۔۔۔ ظاہر سی بات ہے ۔۔۔اب وہ میری بھابی ہے تو بھابی ہی کہو گا نا ۔۔۔۔”میں نے لیپ ٹاپ بند کیا سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اپنا تکیہ درست کرنے لگا
“ٹھیک ہے تم کہو گئے تو میں بھی کہہ دونگی ۔”۔۔ماہم کے فورا مان جانے پر میں دوسری بات بھی اس کے آگے رکھ دی ۔۔۔میں لیٹ چکا تھا ماہم بھی میری طرف رخ کر کے لیٹ گئ
“میں یہ بھی چاہتا ہوں ماہی کہ تم اب مما پاپا کو خالہ اور انکل کے بجائے مما پاپا کہا کرو ۔۔۔۔جیسے میں کہتا ہوں” میں نے ماہم کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر کہا
“مگر کیوں” ۔۔۔۔۔ماہم قدرے حیران تھی
“کیوں کا کیا مقصد ہے ۔۔۔۔اب وہ تمہارے بھی ممی پاپا ہیں “
“میں نے کب انکار کیا ہے عفان تم اچھی طرح جانتے ہو مجھے خالہ اور انکل سے کتنی محبت ہے میں ان کے بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔لیکن میں بچپن سے انہیں خالہ اور انکل ہی کہتی آئی ہوں کتنا عجیب لگے گا ۔اور جب انہیں اعتراض نہیں ہے تو تمہیں کیا پروبلم ہے ۔۔مجھے نہیں کہنا ۔۔۔۔میں خالہ اور انکل ہی کہوگی” ۔۔۔۔وہ خفگی سے حتمی انداز سے بولی ۔۔۔
“کچھ عجیب نہیں لگے گا ۔۔۔چھوٹی نہیں ہو اب تم ۔۔۔ کہ تمہیں ہر بات میں ہی سمجھاتا رہوں ۔۔۔۔ہر رشتے کا اپنا ایک احترام ہوتا ہے ۔۔۔۔اگر ہم رشتوں کو وہی احترام دیں تو ان رشتوں کی خوبصورتی اور بڑھ جاتی ہے” ۔۔۔۔۔۔میں نے کسی ناصحا کی طرح ماہم کو سمجھایا
“اب کیا کل کو تم مجھ سے یہ بھی کہو گئے کہ میں تمہیں بھی آپ کہہ کر مخاطب کرو اور عفان کے بجائے پرانی دقیانوسی عورتوں کی طرح ۔۔۔سنیے کی ۔۔۔یہ جی ۔۔۔وہ جی۔۔۔۔وغیرہ جیسے الفاظ استعمال کرو اس لئے کہ تم شوہر ہو میرے” ۔۔۔۔ماہم کی بات پر میں مسکرائے بنا نہیں رہ پایا
“واہ ماہی تم تو کافی سمجھدار ہو گئ ہو ۔۔۔مجھے تو لگا تھا یہ بات بھی مجھے ہی تمہیں سمجھانے پڑے گئ ۔۔۔۔لیکن اگر تم نے بھی اپنی عقل سے کچھ کام لینا شروع کر دیا ہے تو اچھی بات ہے” ۔۔۔۔میں ماہم کے خفا خفا موڈ سے محفوظ ہوتے ہوئے اسے تنگ کرنے لگا وہ میری بات پر پریشان سی ہونے لگی تھی اپنا ہاتھ بھی میرے ہاتھوں سے کھنچ لیا
“نہیں عفان میں تم سے کبھی بھی آپ جناب کر کے بات نہیں کر سکتی ۔۔۔آخر میں بڑ”۔۔۔۔۔۔ماہم کے ہونٹوں پر بریک لگی تھی ۔۔۔۔اپنی بات اس نے منہ میں دبا دی جسے میں نے پورا کیاتھا
“اب درجے میں میں بڑا ہوں تم سے ۔۔۔۔تمہیں مجھ سے احترام سے ہی بات کرنی چاہیے ۔۔۔۔مجھےتو پرسنلی طور پر بھی پسند ہے بلکہ میری اولین خواہش ہے تم مجھے آپ کہہ کر مخاطب کیا کرو ۔۔”۔لگے ہاتھ میں نے اپنی خواہش کا بھی اظہار کر دیا جو ماہم کے چہرے کے بگڑتے تاثرات دیکھ کر لگا رہا تھا کہ مشکل سے ہی پوری ہو گی ۔۔۔۔
“مجھے بات ہی نہیں کرنی تم سے ۔۔۔بہت برے ہو تم ۔۔۔۔نا جانے کون کون سی پابندیاں لگا رہے ہو تم مجھ پر “۔۔۔۔ماہم منہ بنائے ماتھے پر بل ڈالے بولی مجھے لگا یہ کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے اتنی جلدی تو ممکن نہیں کہ ماہم میری ہر بات مانے اس لئے اپنی غلطی پر پشمانی ہونے لگی ۔۔۔۔
“ناراض مت ہو مجھے تم جو چاہے کہہ لو میں نے تمہاری خوشی پر چھوڑا ۔۔۔لیکن جب تمہیں مجھ سے محبت ہو جائے میری بات ماننا تمہاری بھی اولیں ترجعی ہو تو کہہ دینا ورنہ جو کہتی ہو وہی ٹھیک ہے ۔۔۔مگر باقی کی بات تو مان سکتی ہو نا ۔۔۔میں نے لجاجت سے کہا
“ہمم وہ مان لوں گی ۔۔”۔۔ماہم مان گئ میں نے بھی سکون کا سانس لیا۔۔۔۔
******………
میری نظر تھک گئ تھی ۔۔۔اور میں مایوس ہونے لگا تھا۔۔۔میرا دل اب بھی یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ ماہم مجھ سے ملنے نہیں آئی۔۔۔۔کمرے سے باہر ہر آنے والی آہٹ پر میرے کان کھڑے ہو جاتے۔مجھے یہ گمان ہونے لگتا کہ ابھی دروازہ کھلے گا اور ۔میں ماہم
کو دیکھو گا۔۔۔۔مگر میرا انتظار طویل ہونے لگا ۔۔۔میں مغموم سا ہونے لگا دل پر ایک بھاری بوجھ محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔کچھ پل گزرے تھے مجھے لگا کمرے کا دروازہ دھیرے سے کھلا ہے۔۔۔۔مگر مجھے پتہ تھا۔۔۔یہ بھی میرا گمان ہی ہو گا میں نے اپنی آنکھیں نہیں کھولیں ۔۔۔۔کوئی
میرے پاس آ کر رک گیا۔۔۔۔
“عفان” ۔۔۔۔وہ ماہم تھی میری ماہم۔۔۔۔میں اسکی آوآز کو کیسے بھلا سکتا ہوں ۔۔۔۔میں آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔۔۔”نہیں وہ ماہم نہیں تھی ۔۔۔میری ماہم
تو وہ کہیں سے نہیں تھی ۔۔۔۔اتنا بے رونق چہرا میری ماہی کا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔زرد رنگ ۔۔گہرے ہلکے۔۔۔۔بہتے ہوئے آنسوں ۔۔۔۔۔کالی چادر میں لپٹا ہوا کمزور سا وجود ماہم کا ۔نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔اسکے چہرے پر تو اتنی چمک ہوتی تھی کئ بار میں نظر بھر کے نہیں دیکھتا تھا کہ کہیں اسے میری ہی نظر نا لگ جائے۔۔۔۔اسکی آنکھوں کی شفاف سی چمک ماند پڑ گئ تھی ۔۔۔اسکی آنکھیں مجھے جلتی ہوئی قندیلوں کی طرح روشن لگتی تھیں ۔۔۔۔اور اب ویران کھنڈر کی طرح لگ رہیں تھیں عجیب سی ویرانی۔ کا ڈیرہ تھا اسکی آنکھوں میں وہ میرے بہت قریب تھی بے یقینی سے مجھے دیکھ رہی تھی رو رہی تھی اسکا چہرہ میرے میرے چہرے کے بہت قریب تھا ۔۔۔۔اسکی آنکھوں سے گرنے والے آنسوں میرے رخسار پر میری آنکھوں پر گر رہے تھے ۔۔۔۔۔ میری آنکھوں کے اندر گر کر بہنے لگے مجھے لگا وہ نہیں میں رو رہا ہوں ۔۔۔کتنا بے بس تھا میں اسکے آنسوں سے رو رہا تھا مگر اسکے آنسوں پونچ نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔۔میرا دل خون کے آنسوں رونے لگا ۔۔۔۔۔ماہم کی زبان پر میرے نام کے علاؤہ دوسرا کوئی لفظ نہیں تھا ۔۔۔میں بنا آنکھ جھپکائے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔لگتا تھا صدیوں کی مسافت ہمارے درمیان اس ایک سال میں طے ہو گئ ہے ۔۔۔۔ایک سال ۔۔۔۔ایک سال بعد ہم رو با رو ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے مگر میں زیادہ دیر تک دیکھ نہیں پایا کتنی تکلیف ۔۔۔کرب اور اذیتون کی کہانیاں درج تھی ماہم کی آنکھوں میں ۔۔۔۔میں نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں ۔۔۔۔میں نے ہمیشہ ماہم کی آنکھوں میں شرارت دیکھی تھی ۔۔۔خفگی دیکھی تھی شکوے شکایتیں نارضگی ۔۔۔خوشی محبت ۔۔۔۔اپنایت چاہت یہ سب رنگ دیکھے تھے ۔۔۔۔مگر کبھی ایسا کرب نہیں دیکھا تھا جو آج دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔کبھی اداسی نہیں دیکھی تھی ۔۔۔۔تب بھی نہیں جب کامران شادی کے دن بھاگ گیا تھا ۔۔۔۔۔کامران کے جانے کا اسے قلق تھا وہ روئی بھی بہت تھی ۔۔۔مگر اسکی آنکھوں میں گلے شکوے تھے کامران کے لیے جو وقتافوقتا مجھ سے کر لیتی تھی مگر ایسا اضطراب ایسی تکلیف نہیں۔ تھی جو میں اب ماہم کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔اسکی آنکھیں میرے دل پر کوڑے برسا رہی تھیں ۔۔۔میرے دل کو کند چھری سے کاٹ رہیں تھیں۔۔۔۔یہ کیا کیا میں نے اپنی ماہی کے ساتھ ۔۔۔میں۔ مر کیوں نہیں گیا۔۔۔۔ چند دن رو دھو لیتی مجھے پھر اسے صبر آ ہی جاتا مگر ۔۔۔۔میں نے تو اسے جیتے جی ایسی سولی پر چڑھا دیا جہاں نا وہ مر سکتی تھی نا جی سکتی تھی ۔۔۔۔کچھ دیر پہلے میں بے تاب تھا ماہم کو دیکھنے کے لئے ۔۔۔مگر اب سوچ رہا تھا میں نے آنکھیں کھولیں ہی کیوں ۔۔۔کھل گئی۔ تھیں تو ماہی کو دیکھا ہی کیوں ۔۔۔میں بھول گیا تھا کہ جس تکلیف میں ایک سال سے وہ میری وجہ سے مبتلہ ہے ۔۔میں کیسے اکسپکٹ کر سکتا تھا کہ وہ ویسی ہی ماہی ہو گئ جیسی آفس جانے سے پہلے آخری بار میں نے دیکھی تھی ۔۔۔آنکھوں میں شرارت اور شوخی لئے ہوئے ۔۔۔۔میری محبت کی چمک جو کسی روشن دیے کی طرح ہر وقت اسکی آنکھوں میں مجھے دیکھتی تھی ۔۔۔۔آہ وقت نے کسی مار ماری تھی ہمہیں ۔۔۔۔۔۔
“عفان ۔۔۔آنکھیں کھولوں نا “۔۔۔۔۔ماہم کی آنسوں سے لبریز آواز میری سماعتوں میں کوڑے کی طرح لگی تھی ۔۔۔۔
اسکی آنکھیں ہی نہیں اسکی آواز اسکا لہجہ اسکا چہرہ اسکی تکلیف کا غماز تھا ۔۔۔۔۔۔
“پلیز عفان کھولو مجھے تمہیں دیکھنا ہے ۔۔۔۔مجھے یقین کرنے دو تم مجھے دیکھ سکتے ہو ۔۔۔۔۔بس ایک رات کی ہی بڑی مشکل سے ڈاکٹر رمشہ سے اجازت ملی ہے مجھے ۔۔۔۔۔اور میں رات بھر صرف تمہاری آنکھوں سے باتیں کرنا چاہتی ہوں “۔۔۔۔وہ پر نم لہجے سے بات کر رہی تھی ۔۔۔۔یہ ۔میری ماہم تو نہیں تھی۔۔۔اسکی آواز تو کانچ کی چوڑیوں کی طرح کھنکتی تھی ۔۔۔۔مجھے تنگ کرتی تھی ستاتی تھی ۔۔۔۔نخرے اٹھواتی تھی ۔۔۔حق سے رعب سے اپنی ہر بات منواتی تھی ۔۔۔۔اتنے رقت بھرے لہجے میں میری منت تو کبھی نہیں کی تھی جیسے آج کر رہی تھی ۔۔۔۔لگ رہا تھا زندگی کی تیز دھوپ میں ننگے پیر بڑی لمبی مسافت کر کے تھک چکی ہو ۔۔۔ٹوٹ چکی ہو ۔۔۔اسکی آنکھیں چہرہ لب ولہجہ چیخ چیخ کر یہی بتا رہا تھا مجھے ۔۔۔۔۔
“کھولو نا اپنی آنکھیں کتنا عرصہ گزر گیا تمہاری آنکھوں اپنا عکس دیکھے ہوئے” ۔۔۔۔وہ دھیرے سے بولی تھی ۔۔۔۔۔میں۔ نے اپنی آنکھیں با مشکل کھولیں ۔۔۔۔اب وہ رو نہیں رہی تھی مگر آنسوں اسکے رخسار پر اب بھی موجود تھے ۔۔۔۔اب مبہم سی مسکراہٹ تھی اسکے چہرے پر شاید مجھ سے اپنے غم چھپانے کی نا کام سی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔مگر یہ وہ نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔یہ میں جانتا تھا ۔۔۔۔میں نے اپنے دل کو کچھ اور مضبوط کیا ۔۔۔۔۔کچھ وقت تو مجھے اپنی ماہم کو یونہی دیکھنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔اب وہ میرے پاس رکھی کرسی پر میرا ہاتھ تھامے بیٹھ گئ ۔۔۔۔مجھ سے گزرے ہوئے وقت کی باتیں کرنے لگی ۔۔۔۔عمر کی باتیں بتانے لگی ۔۔۔۔مسلسل میری آنکھوں میں۔ دیکھتے ہوئے ۔۔۔کبھی کسی بات پر وہ مسکرا دیتی کبھی ہنس پڑتی کبھی بلا وجہ رونے لگتی ۔۔۔۔میں بس ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا اسکی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔۔۔وقت بہت تیزی سے گزرا تھا آذان کی آوازیں کمرے میں گونجنے لگی ماہم کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں جسے وہ با مشکل کھولے ہوئے تھی ۔۔۔صبح کی ہلکی ہلکی روشنی چار سو پھیلنے لگی تھی ماہم نے اٹھ کر کھڑی سے پردے ہٹا دیے ۔۔۔۔پرندوں کی آوازیں آئے لگیں ۔۔۔۔۔ماہم میرے پاس دوبارہ بیٹھ گئ
“عفان تمہیں یاد ہے نا ۔۔۔جب ہم شادی کے بعد سی ویو گئے تھے ۔۔۔سورج کو غروب ہونے کا منظر تم نے میری آنکھوں سے دیکھا تھا ۔۔۔۔اب تم سورج کو طلوع ہوتے ہوئے بھی میری آنکھوں سے دیکھوں تمہیں یہ نظارہ بھی بہت دلفریب لگے گا ۔۔”۔۔۔ماہم میرے کچھ نزدیک ا کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی اور میں اسکی آنکھوں سورج کے عکس کو دیکھنے لگا آسمان پر اڑتے پرندے دیکھنے لگا ۔۔۔۔جن پرندوں کی صرف آوازیں ہی میں سن کر رات اور دن کا فرق محسوس کرتا تھا ماہم کی آنکھوں سے واقع یہ منظر مجھے زندگی کی طرح سانس لیتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا ۔۔۔مجھے لگ رہا تھا کہ میں زندہ ہوں ۔۔۔۔۔اللہ کی نعمتوں کی قیمت ہمہیں اصل میں اسوقت ہوتی ہے جب وہ ہم سے چھن جاتی ہیں ۔۔۔مجھے لگ رہا تھا پہلی بار مجھے آنکھیں ملی ہیں یا میری بے نور آنکھوں کو روشنی کی سعادت اب نصیب ہوئی ہے ۔۔۔۔۔بے شک انسان ہر سانس میں اللہ کا محتاج ہے مگر اس بات کا احساس صحیح معنوں میں ان لوگوں کو ہوتا ہے جو بستر مرگ پر لیٹے ہوئے ہوں ۔۔۔۔آکسیجن ماسک پہنے مصنوعی سانس لیتے ہوئے زندگی کے آخری لمحوں کو جی رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔آنکھیں ناک جسم سب کچھ ہونے کے باوجود وہ انہیں ہلانے کی قوت نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔
“کل نفسی ذائقتہ الموت” کا مفہوم میں نے اس ایک سال میں ہر لمحہ محسوس کیا تھا ۔۔۔۔چکھا تھا ۔۔۔۔مگر میں زندہ کیوں تھا ۔۔۔اللہ کی اس مصلحت کو میں نہیں جان پا رہا تھا ۔۔۔ایک رات پہلے مجھے لگ رہا تھا ڈاکٹر میرا ماسک اتار دیں گئے مجھے زہر کا کوئی ڈوز دے کر مجھے موت کے حوالے کر دیں گئے ۔۔۔۔موت مجھے سامنے نظر آرہی تھی میں مایوس ہو چکا تھا ۔۔۔۔مگر اللہ نے مجھے آنکھوں کا نور عطا کر دیا ۔۔۔میرے مردہ وجود میں میری آنکھوں کو زندگی بخش دی ۔۔۔۔۔یہ موت سے پہلے کی مہلت تھی یا ایک نئی زندگی کی نوید ۔۔۔میں اسی کشمکش میں تھا ۔۔۔ڈاکٹر رمشہ کمرے میں داخل ہوئی ماہم کو جانے کے لئے کہنے لگی ۔۔۔۔
“مسز عفان اب جائیں ڈاکٹر بھی راؤنڈ پر آ سکتے ہیں ۔۔۔میں نے اپنے رسک پر آپ کو اجازت دی تھی ۔۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ کے چہرے پر کچھ خوف سا تھا اور لہجے میں عجلت تھی ۔۔۔ماہم نے میرا ہاتھ احتیاط سے بیڈ کر رکھا اور اپنا پرس اٹھا کر اٹھ گئ ۔۔۔۔
عفان میں شام کو پھر آوں گی ۔۔۔۔اب
مجھے مسکرا کر دیکھتے ہوئے بولی اور کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے پلٹ کرمجھے دیکھا ۔۔۔۔ایک الوداعی نگاہ مجھ پر ڈالی اور باہر چلی گئ ۔۔میں کچھ دیر بند دروازے کو دیکھتا رہا
مسٹر عفان ۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ کی آواز پریں نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔
“ارے یہ کیا بات ہوئی آپ میرے بات پر آنکھیں کیوں بند کر لیتے ہیں” ۔۔۔۔مجھے رسپونس کیوں نہیں دیتے ۔۔۔۔مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس مکار ڈاکٹر کی باتوں میں ۔۔۔۔
مجھے لگا آپ مجھے مشکور بھری نظروں سے نوازیں گئے پوری رات میں نے اتنا بڑا رسک اٹھا کر آپکی مسز کو یہاں رکنے دیا ہے ۔۔۔۔مگر ۔۔۔اپ تو مجھ سے ذرا بھی کاپریٹ کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔۔۔پلیز اوپن یور آئیز ۔۔۔
میں نے اسکی چالباز لڑکی کی کسی بات پر کان نہیں دھرے اور یونہی آنکھیں بند کیے لیٹا رہا
او کے مسٹر عفان ۔۔۔میں بھی اب ماہم کو آپ سے ملنے کی اجازت نہیں دوں گی ۔۔۔۔
میں نے جھٹ سے آنکھیں کھول لیں اور غصے سے اس خبطی لڑکی کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔کہیں سچ میں وہ ماہم کو منع نا کر دے وہ کھلکھلا کر ہسنے لگی
“آپ تو بڑی جلدی بات مان گئے” ۔۔۔۔وہ میرے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئ کچھ دیر میری آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔۔۔۔
میں قہر بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
“اففف اتنا غصہ ۔۔۔۔مگر کیوں ۔۔۔۔میری تو آپ سے کوئی لڑائی نہیں ہے ۔۔۔میں تو بہت کاپریٹ کر رہی ہوں آپکے ساتھ ۔”۔۔میں نے نظریں پھیر لیں
“نا جانے کسے بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔”
“مسٹر عفان یہ نخرے آپ اپنی بیگم کو دیکھائے مجھے نہیں ۔۔۔میں ڈاکٹر ہوں آپکی ۔۔۔آپ کو مجھ سے کاپریٹ کرنا چاہیے مجھے اپنے سینیر کو رپوٹ دینی ہوتی ہے ۔۔۔اب آپ میری طرف دیکھیں گئے ۔۔۔اور میرے ہر سوال پر مجھے ویسے ہی جواب دیں گئے جیسے ڈاکٹر شمس نے آپ کو سیکھایا تھا” ۔۔۔۔۔
ہاتھ میں میری فائل کھولے وہ مجھے سے پوچھنے لگی ۔۔۔نا چاہتے ہوئے بھی مجھے اسکی باتوں کے جواب ویسے ہی دینے پڑے جیسے وہ چاہتی تھی
******………******………*******…
صبح ناشتے کے ٹیبل پر پاپا حیرت سے ماہم کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔جب اس نے انکل کے بجائے پاپا کو جھجکتے ہوئے پاپا کہا تھا ۔۔۔۔ماہم کافی نروس سی ہو رہی تھی پاپا ایک ٹک اسٹیچو بن کر تقریبا دس منٹ سے ماہم کو پوری دلچسپی سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔اور ماہم کے چہرے پر بیک وقت کئ رنگ ایک ساتھ نمایاں تھے کچھ نروس تھی گھبرائی ہوئی کچھ خوف تھا پاپا کو برا لگا ہو جو یوں چپ ہیں۔۔۔۔کچھ شرمندہ تھی کچھ پچھتا بھی رہی تھی کہ میری بات مانی ہی کیوں وہ کبھی پاپا کو دیکھتی کبھی مدد طلب نظروں سے مما کو دیکھتی کہ وہ اسکی پاپا سے سفارش کر دیں ۔۔۔کبھی مجھے گھورتی ۔۔۔۔اور مہک سمیت ہم سب کے چہرے پر مسکراہٹ تھی سوائے کامران کے وہ لا تعلقی سے ناشتہ کرنے میں مصروف تھا
جب پاپا کا جمود ماہم کو ٹوٹتا ہوا نظر نہیں آیا تو ۔۔۔اپنی پیشانی پر نمودار ہونے والے پسینے کے چند قطرے ماہم نے اپنی ہتھیلی سے صاف کیے ۔۔۔۔حلق سے تھوک نگلتے ہوئے پاپا کو دیکھا ۔۔۔پھر با مشکل دھیمے لہجے میں منمناتے ہوئے بولی
“وہ ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔عفان نے ۔۔۔۔۔مجھ سے کہا تھا۔۔۔۔ کہ میں آپ کو پاپا کہو۔”۔۔۔وہ اپنی پوزیشن پاپا کے سامنے کلیر کرنے کے لئے وضاحت دینے لگی ۔۔۔۔پاپا مسکرانے لگے ۔۔۔
“عفان نے بلکل ٹھیک کیا ہے بٹیا ۔۔۔۔مجھے تو بہت اچھا لگا تمہارے منہ سے پاپا سنکر اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔پھر تمہارے منہ سے سنا تو تم مجھے اور بھی پیاری لگنے لگی اس لئے تمہیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔مگر عفان کو عقل اتنی دیر بعد کیوں آئی ۔۔۔۔پاپا کی بات وہ مطمئن ہو گئ تھی رکا ہوا سانس بحال کیا اور ہاتھ میں پکڑا سلائس کو کھاتے ہوئے کہنے لگی
“وہی تو پاپا ۔۔۔۔میں بھی یہی سوچ رہی تھی ۔۔۔عفان کو پہلے ہی مجھے کہہ دینا چاہیے تھا ۔۔۔۔ہے نا “۔۔۔۔ماہم کے ایک دم پنترا بدلنے پر میں اسے گھورنے لگا رات کو تو محترمہ کے اعتراض ہی ختم نہیں ہو رہے تھے اور اب کیسے ساری بات مجھ پر ڈال کر خود پاپا کے سامنے اپنے نمبر بڑھوا رہی ہے ۔۔۔۔
“اور کیا سارا قصور ہی عفان کا ہے ۔۔۔ایسے ہی تو میں اسے نا لائق نہیں کہتا ۔۔۔۔”
بھئ میری بیٹی نے پہلی بار مجھے مما کہا ہے رات کا ڈنر ہم باہر ریسٹورنٹ میں کھائے گئے اور بل میں ہے کرو گی “۔۔۔مما نے ماہم کے گال پیار سے چھوتے ہوئے کہا ۔۔۔
“مہک بٹیا تم بھی ہمہیں مما اور پاپا کہنا شروع کر دو اور اس خوشی میں آئسکریم میں کھلاؤں گا ۔۔۔۔۔
مہک مسکرانے لگی
“جی پاپا “۔۔۔۔مہک نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا وہ پاپا کے دوسری جانب بیٹھی تھی پاپا نے مہک کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا مگر مما نے نا اسکے پیار کیا ن ہی کوئی تسلی بخش جمعلہ کہا ۔۔۔۔بس ایک کامران تھا جو چپ چاپ چائے پی رہا تھا ۔۔۔۔
میں آفس سے لیٹ ہو رہا تھا اس لیے اٹھ کر چلا گیا
