458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 26

Tadbeer by Umme Hani

ماہم دوبارہ سے اپنے کاموں میں مصروف ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔شام کا ڈنر تیار کرتے ہوئے شامی کباب بھی بنا کر ٹرے میں رکھ رہی تھی ساتھ ہی ساتھ رانی سے باتوں میں بھی مصروف تھیں ۔۔۔۔رانی چوکیدار کی بیٹی تھی اور صبح سے شام تک وہیں رہتی تھی شام کو چوکیدار رانی کو اپنے گھر چھوڑ آتا تھا ۔۔۔۔۔خود وہ رات دن یہیں رہتا تھا ۔۔۔۔راشد بھی عمر میں رانی کے لگ بھگ ہی تھا ۔۔۔باہر کا سودا سلف لانے کی زمہ داری اسی کی تھی ۔۔اسکے علاؤہ گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی وہ کر دیتا تھا ۔۔۔۔رہتاوہ بھی چوکیدار کے کواٹر میں تھا ۔۔۔چوکیدار اور راشد کی کچھ خاص بنتی نہیں تھی ۔۔۔ہر کام میں نوک جھوک رہتی ہی تھی ۔۔۔یہی حال رانی کا بھی تھا ۔۔اب بھی وہ سبزی کاٹتے ہوئے ماہم سے راشد کی شکایتیں ہی لگا رہی تھی ۔۔۔

“ماہم بی بی جی ۔۔جب تک میں کچن میں کام کر رہی ہوں یہ راشد کے بچے کو بولیں کچن کا رخ نا کیا کرے”

وہ تلخ لہجے سے بولی ۔۔۔ساتھ ہی ساتھ کٹی ہوئی گاجر بھی منہ ڈالے چبانے لگی

“کیوں رانی اتنا اچھا تو ہے راشد ۔۔۔اور تم سے تو بہت آرام سے بات کرتا ہے۔۔۔اور تو اور برتن بھی دھلوا دیتا ہے ۔۔۔ چھوٹے موٹے کام بھی کروا دیتا ہے “۔۔۔۔۔ ماہم کو رانی کی شکایت بے معنی سی لگی اس لئے اسے سمجھانے لگی ۔۔۔۔ماہم کو یہ معلوم تھا کہ کریم بابا اور راشد کی نوک جھونک رہتی ہے ۔۔۔۔

“نا بی بی جی مجھے نہیں چاہیے اسکی مدد شدد ۔۔۔آپ کو نہیں پتہ اچھی نظر سے نہیں دیکھتا مجھے اور۔۔اوپر سے اپنے پیلے دانت نکال کر ہنستا رہتا ہے۔۔۔۔زہر لگتا ہے مجھے” ۔۔۔رانی کی بات پر ماہم ہسنے لگی

“نہیں رانی راشد ایسا تو نہیں لگتا’ ۔۔۔۔

‘”بڑا گھنا میسںنا ہے جی ۔۔۔آپ کو کیا پتہ ۔۔۔کیسی نظر ہے اسکی۔۔۔پر میں اچھی طرح جانتی ہوں” ۔۔۔۔

ماہم کچھ تذبذب سی ہوکر سوچنے لگی ۔۔۔

“رانی تمہیں کیسے پتہ کہ بری نظر کیا ہوتی ہے ۔۔اچھا ذرا مجھے بتاؤں کوئی بری نظر سے دیکھے تو کیسے دیکھتا ہے “۔۔۔ماہم واقع ہی نہیں جانتی تھی اس لئے کچھ تجسس سے پوچھنے لگی رانی کچھ گڑبڑا سی گئ

“بی بی جی آپ کو تو پتہ ہو گا جی””‘رانی گاجر چباتے ہوئے حیرت سے ماہم کو دیکھنے لگی

“مجھے کیسے پتہ کیا راشد مجھے بھی ایسے ہی دیکھتا ہے ۔۔”

“نا جی ۔۔بی بی جی آپ کو دیکھ کر اس نے چھوٹے صاب سے جوتیاں کھانی ہیں ۔۔۔آپکے سامنے تو آنکھیں بھی اوپر نہیں کرتا “۔۔۔۔۔

“ہاں تو مجھے بتاؤ رانی بری نظر کا پتہ کیسے چلتا ہے ‘۔”۔۔ماہم نے کباب کی ٹرے سائیڈ پر رکھ کر پوری دل چسپی سے رانی کو دیکھنے لگی ۔۔وہ سچ میں جاننا چاہتی تھی ۔۔۔۔کہ ایسی کون سی خاص نشانی ہے جس سے پتہ چلے ۔۔۔۔رانی ہچکچانے لگی ۔۔۔نظریں چرانے لگی

“وہ جی ۔۔۔۔بی بی جی ۔۔۔۔۔جیسے جی وہ ۔۔چھوٹے صاحب آپ کو دیکھتے ہیں ۔۔۔یوں ٹکٹکی باندھے۔۔”رانی آنکھیں پھلائے ماہم کو دیکھتے ہوئے کہا ۔رانی کی بات پر ماہم اچھنبے میں آگئ تھی

“کیا ۔۔۔عفان مجھے بری نظر سے دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔تم کیسے کہہ سکتی ہو ۔”۔۔۔ماہم پوری آنکھیں پھلائے رانی جو دیکھنے لگی

“نہیں ۔۔۔میرا مطلب وہ نہیں تھا جی ۔۔۔وہ توشوہر ہیں آپکے دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔مگر یہ جو راشد ہے نا ۔۔۔۔ میں نے اپنے ابا سے شکایت لگا دی تو ایسی کٹائی لگائے گا اسکی کہ یاد رکھے گا کمینہ ۔۔۔۔”رانی آگے نا جانے کیا بولتی رہی کیا نہیں مگر ماہم کا دماغ بس اسی ایک بات کر اٹک چکا تھا کہ عفان اسے بری نظر سے دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔رات ڈنر پر بھی ماہم نے پہلی بار نوٹ کیا ۔۔۔عفان واقع اسی کو دیکھ رہا تھا جب ماہم کی نظر اس پر پڑتی تو وہ مسکرانے لگتا ۔۔۔۔ماہم تلملا کر رہ گئ

******………

صبح میں آفس کے لئے تیار ہو چکا تھا بس اپنی ٹائی باندھ رہا تھا جب میرے کمرے کا دروازہ کھلا ماہم بہت جاحارانہ انداز سے اندر داخل ہوئی ۔۔ میں نے پلٹ کر ماہم کی طرف دیکھا ۔۔۔وہ دونوں آستینیں چڑھائے میرے سامنے کھڑی ہو گی ۔۔۔

“شرم نہیں آتی تمہیں میرے ساتھ ایسی گھٹیا حرکتیں کرتے ہوئے “ماہم نے تپے ہوئے لہجےمیں مجھ کہا۔۔۔۔ میں اسکے بلا وجہ کے غصے کو سمجھ نہیں پا رہا تھا

“کیا کیا ہے میں نے تمہارے ساتھ ماہی “۔۔۔۔۔میں بہت حیران تھا اسکی بات ہی کچھ عجیب تھی

“تم مجھے” ۔۔۔۔۔وہ کہتے کہتے چپ ہو گئ ۔۔۔۔میں نے ٹائی ویسے ہی گلے میں لٹکائی اور اپنا چہرہ ماہم کے چہرے کے قریب لیجا کر گھورتے ہوئے اس سے استفسار کیا

میں تمہیں کیا ۔۔۔۔۔”

“اففف مجھے کہتے ہوئے اتنی شرم آ رہی ہے تمہیں کرتے ہوئے بھی عار محسوس نہیں ہوا ۔۔۔۔”

“ایسا کیا کر دیا ہے میں نے ۔۔۔بولو”

“وہ ۔۔۔۔تم مجھے ٹہری آنکھ سے دیکھتے ہو ۔”۔۔۔ماہم نظریں چرائے جھجک کر بولی

“واٹ”حیرت سے میں حلق کے بل چیخا۔۔۔

“ہاں تو اور کیا۔۔۔۔۔ اب تو گھر کے نوکر بھی یہ بات نوٹ کرنے لگیں ہیں ۔۔تمہیں شرم آنی چاہیے ۔۔۔۔”

“کیا کہتے ہیں نوکر کس نے کہا تم سے” ۔۔۔ مجھے تشویش ہونے لگی

“رانی نے کہا ہے کہ تم نا جانے کیسے کیسے دیکھتے ہو مجھے “۔۔۔۔ماہم کی بات کا مفہوم میں اب سمجھا تھا۔۔۔۔۔

“اوووہ ۔۔۔۔۔رانی نے کہا ہے ۔۔۔۔۔ہمم۔۔۔۔”میں اپنی مسکراہٹ دبانے لگا اپنا چہرہ میں نے ماہم کے چہرے کے برابر کرتے ہوئے مسکینیت لاتے ہوئے اپنی آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہا

“ماہی میں چاہ کر بھی تمہیں ٹہری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔دیکھوں میری طرف میں بلکل بھیگا نہیں ہوں ۔۔۔۔”

“میرا یہ مطلب نہیں ہے عفان۔۔”۔میرے قریب آنے پر وہ ایک قدم پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔۔میں بھی سیدھا کھڑا ہو گیا

“پھر کیا مطلب تھا “۔۔۔مجھے اسے تنگ کرنا اچھا لگ رہا تھا اس لئے اس سے سوال پر سوال کیے جا رہا تھا ساتھ ہی ساتھ اپنے قدم بھی اسکی طرف بڑھا رہا تھا۔۔۔۔۔ماہم اب نروس ہونے لگی تھی ۔۔۔۔میں اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ۔۔۔۔اسے جس بے تابی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔اس کا گھبرانا تو ایک فطری عمل تھا ۔۔۔۔۔

“جیسے برے اور بدمعاش لوگ دیکھتے ہیں “۔۔۔۔ماہم دوسری مثال دے کر سمجھانے لگی ۔۔۔۔مگر میں الٹے ہی جواب دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

‘خونخوار نظروں سے۔۔۔۔ قتل کی نیت سے ۔۔۔۔نہیں ماہی ۔۔بائے گاڈ میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔”۔میں ڈرامائی انداز سے آنکھیں پھلائے بولا ۔۔۔وہ زچ سی ہونےلگی

“نہیں نا عفان ۔۔کیسے سمجھاؤں تمہیں ۔۔۔مجھے نہیں معلوم” ۔۔۔ماہم پلٹ کر جانے لگی میں نے فورا سے اسکا بازو پکڑ کر اسے اپنے رو با رو کھڑا کیا ۔۔۔

“پہلے مجھے یہ سمجھاؤ۔ میں کیسے دیکھتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔۔”

میری نظروں میں آج بہت کچھ تھا ۔۔۔۔محبت ۔۔وارفتگی ۔۔۔۔بے تابی ۔۔۔۔۔اور وہ بھی جیسے ماہم سمجھا نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔۔میری نظریں اب ہر قسم کی حد بندی سے عاری تھی ۔۔۔اور اس بے باکی کی اجازت مجھے میرے رشتے نے دی تھی ۔۔۔۔۔

“مجھے نہیں معلوم تمہیں ہی پتہ ہو گا ۔۔چھوڑو میرا ہاتھ “۔۔۔۔ماہم کا گھبرانا کترانا۔مجھے اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔ اس کے چہرے پر خوف اور شرم کے کئ ملے جلے رنگ تھے جو میری دلچسپی کا باعث بن رہے تھے ۔۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے اسے کچھ اور قریب کیا

“تمہاری مشکل میں آسان کر دیتا ہوں ماہی ۔۔۔۔۔ویسے تو میری ہر نظر تم پر جائز ہے ۔۔۔۔مگر میں تمہیں صرف دو طرح سے دیکھتا ہوں ۔۔۔۔ایک بہت محبت کی نظر سے اور ایک بہت عزت کی نظر سے ۔۔۔۔اب تم بتاؤں اس میں۔ سے ٹہری نظر کونسی ہے جس سے برے اور بدمعاش لوگ دیکھتے ہیں “۔۔۔ میرے اتنے قریب ہونے پر وہ خجل سی ہونے لگی میرے ہاتھ کی گرفت نرم پڑتے ہی ماہم نے اپنا بازو چھڑوایا اور کمرے سے نکل گئ۔۔۔اور میں اسکی باتوں۔ پر بہت دیر تک ہنستا رہا ۔۔۔۔

******………

دن بس یونہی گزر رہے تھے ۔۔۔۔میں آفس میں فائل دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔موبائل کی ہپ ہپ سے میں نے فائل سے نظریں ہٹا کر موبائل کو دیکھا ماہم کا نمبر دیکھ کر میرے چہرے پر مسکراہٹ سی پھیل گئ میں نے فون اٹھا لیا ۔۔۔۔

“بولو ماہی آج میری یاد کیسے آگئ ۔۔۔میں بہت خوشگوار موڈ میں تھا ۔۔۔”

“کیا تم جلدی گھر آ سکتے ہو” ۔۔۔۔ماہم نے ہیلو ہائے کی زحمت کیے بغیر ہی اپنا مدعا بیان کیا ۔۔۔میں جو اپنی چیر پر ٹیک لگائے ڈھیلے ڈھالے انداز سے بیٹھ چکا تھا ماہم کی پریشان سی آواز پر فورااٹھ کر بیٹھ گیا

“خیر تو ہے نا ماہی ۔۔۔۔مما کی طعبیت تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔ان کا بی پی ہائی تو نہیں ہو گیا ۔”۔۔۔ماہم کی گھبرائی ہوئی آواز پر میں متفکر ہو گیا

“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔مجھے تم سے بات کرنی ہے لیکن گھر پر نہیں ۔۔۔۔۔کیا ایسا پاسبل ہے کہ تم گھر آجاؤ اور ہم کہیں باہر چلیں “۔۔۔۔۔وہ گھبراہٹ کے مارے کچھ اٹک اٹک کر بول رہی تھی

“میں آ جاتا ہوں ماہی بتاؤں کب آؤں ۔۔۔۔۔”

“جب تم فری ہو جاؤں “

“ابھی آ جاؤں” ۔۔۔میں نے گھڑی دیکھ کر پوچھا اس وقت شام کے چار بجا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

“میں ابھی آ رہا ہوں ۔۔۔یو ڈونٹ وری” ۔۔۔۔میں نے ماہم کو تسلی دی اور آٹھ کر کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔

“قاسم سے میں نے سر درد کا بہانہ کیا اور آفس سے باہر نکل آیا ۔۔۔۔ماہم پہلے سے تیار تھی میں نے مما سے اجازت لی اور اسے اپنے ساتھ لے گیا ۔۔۔گاڑی کو مین روڈ پر لاتے ہی میں نے ماہم کی جانب دیکھا وہ کافی پریشان لگ رہی تھی انگلی کا ناخن دانتوں میں دبائے نا جانے کیا سوچ رہی تھی ۔۔۔۔ناخن دانتوں میں دبانا انگلیاں چٹخانہ ہاتھوں کو ایک دوسرے سے مسلنا یہ سب حرکتیں ماہم اس وقت کرتی تھی جب بے حد پریشان ہوتی تھی ۔۔۔۔۔۔

“کہاں جانا ہے ماہی ۔”۔۔۔میں نے ماہم کو مخاطب کر کے اسکی توجہ اپنی طرف مبذول کروانا چاہی۔۔۔اس نے چونک کر مجھے دیکھا ۔۔۔۔چند ثانیے بعد وہ بولی

“کسی ایسی جگہ جہاں ذیادہ رش نا ہو ۔۔۔۔جہاں میں سکون سے بات کر سکوں ۔”۔۔۔۔میں نے گاڑی سی ویو کی طرف گھما دی ۔۔۔گھر سے سی ویو بس دس منٹ کی ہی ڈرائیو تھی وہاں پہنچ کر میں ایسی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں رش کم ہو ۔۔۔۔مگر شام کے پانچ بج رہے تھے لوگوں کی آمدورفت میں اضافہ ہی ہو رہا تھا پھر کچھ دور جا کر مجھے ایک گوشہ ایسا مل ہی گیا جہاں رش قدرے کم تھا میں نے گاڑی وہیں روک دی ۔۔۔۔۔ ماہم کو نیچے اترنے کا کہہ کر میں خود بھی نیچے اتر گیا سامنے سیڑیاں تھیں چند سیڑیوں اتر کر میں ایک سیڑھی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ماہم بھی میرے برابر میں بیٹھ گئ ہوا بہت تیز چل رہی تھی ۔۔۔۔سامنے سمندر بھی ٹھاٹھیں مار رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور اندر میرے دل کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہو رہی تھی ۔۔۔۔ماہم جس قدر پریشان اور سنجیدہ تھی میرے اندر خدشات بڑھ رہے تھے ۔۔۔۔آخر ایسی کیا بات ہو سکتی تھی جو وہ گھر پر کرنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے خود سے بات شروع نہیں کی ماہم کے بولنے کا انتظار کرتا رہا ۔۔۔

“عفان ۔۔۔۔۔تم اچھی طرح جانتے ہو نا ۔۔۔۔خالہ اور رضا انکل کے علاؤہ میرا کوئی اور اپنا یہاں ایسا نہیں ہے جہاں میں جا کر باقی کی زندگی گزار سکوں ۔۔۔”۔ماہم کی بات مجھے سرے سے سمجھ ہی نہیں آئی اس بات کا کیا مقصد تھا ۔۔۔۔اور کیوں

“اس بات مطلب کیا ہے ۔۔۔کیوں جاؤں گی تم کہیں ۔۔۔۔وہ تمہارا بھی گھر ہے ماہی ۔۔۔۔۔کس نے کہا تم سے یہ سب ۔۔۔۔”

“کسی نے نہیں مگر جو قدم میں اب اٹھانے جا رہی ہوں ۔۔۔۔اس میں سب سے پہلے میرا یہ ٹھکانہ ہی چھوٹے گا ۔۔۔۔۔”

“کیوں پہلیاں بھجوا رہی ہو ماہی ۔۔۔۔صاف صاف بات بتاؤں مجھے ۔۔۔۔”

“عفان ۔۔۔تم نے کچھ دن پہلے مجھ سے وعدہ کیا تھا ۔۔۔۔۔کہ تم میری بات مانو گئے” ۔۔۔۔ماہم کی آنکھوں میں آنسوں جھلملانے لگے ۔۔۔۔میرا دل مجھے کسی بری خبر سے الرٹ کرنے لگا تھا۔۔۔

“کیا بات ہے ماہی اتنی پریشان کیوں ہو۔۔”۔۔وہ اس قدر پریشان تھی کہ میرے پوچھنے پر چڑ کر بولی

“بات کو بدلو نہیں عفان بہت مشکل سے میں خود کو اس بات کے لئے تیار کر کے آئی ہوں ۔۔۔۔اب تم چپ چاپ میری بات سنو گئے کوئی سوال کوئی آرگیو نہیں کرو گئے “۔۔۔۔ وہ اسقدر اپ سیٹ تھی کہ اگر میں اسے ذرابھی کریدتا تو رو پڑتی میں نے گہری سانس خارج کر کے اثبات میں سر ہلایا اور خاموش ہو گیا

“مجھے طلاق چاہیے عفان” ۔۔۔۔۔اسکی بے محل بات پر میں نے برجستہ اسے گھورا تو وہ نظریں چرا گئ ۔۔کچھ دیر میں اس سے نظریں ہی ہٹا نہیں پایا ۔۔۔۔۔پھر میں سامنے لہروں کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔

“میں مزید اس رشتے کی قید میں مقید ہو کر رہنا نہیں چاہتی ۔۔۔۔میں صرف کامران سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔۔اس کے علاؤہ کسی کو نہیں اپنا سکتی ۔۔۔۔۔ تمہیں تو بلکل بھی نہیں “۔۔۔۔ماہم کے لفظ مجھے اندر سے سلگا رہے تھے ۔۔۔۔۔مگر میں چپ تھا اپنی مٹھیاں بینچے ضبط کی کوشش کر رہا تھا

“عفان تم جانتے ہو یہ بات میں رضا انکل سے نہیں کہہ سکتی ۔۔۔۔ان سے وعدہ کر چکی ہوں کہ میں انکی کوئی بات نہیں ٹالوں گی ۔۔۔۔۔۔پھر میں انہیں ناراض کر کے کیسے یہاں رہ پاؤں گی ۔۔۔۔۔عفان میری پوزیشن کو سمجھو اس گھر کے علاؤہ میرا کوئی اور ٹھکانہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔پلیز تم انکار کر دو کہہ دو کہ تم میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتے ۔”۔۔۔۔اب وہ رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔

“بولو نا عفان چھوڑ دو گئے نا مجھے “۔۔۔۔انکھوں میں آنسوں لئے وہ پوچھ رہی تھی ۔میں نے ایک بار بھی ماہم۔ کی طرف نہیں دیکھا سامنے آتی جاتی لہروں کو دیکھتا رہا ۔۔۔۔کیسے کہہ دیتا کہ ہاں چھوڑ دونگا تمہیں ۔۔۔۔کیسے چھوڑ دوں ماہی ۔۔۔۔۔۔یہ کوئی املی اور پان تو نہیں جسے تمہاری فرمائش پر تمہیں دیدوں اور سارا الزام خود پر لے لوں ۔۔۔طلاق ہے ۔۔۔۔یہ لفظ تو سوچ کر میری روح کانپتی ہے ۔۔۔۔۔تم سے محبت تو میں پہلے سے ہی کرتا تھا مگر اس نکاح نے تمہیں میرے دل کے کتنے قریب کر دیا ہے میں تم سے جدا ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔ماہم کی سسکیوں سے میری سوچوں کا تسلسل ٹوٹا ۔۔۔۔ لیکن اس بار میں نے ماہم کو چپ نہیں کروایا ۔۔۔۔نا اسکے آنسوں پونچے۔۔۔۔۔نا تسلی دی ۔۔۔نا کوئی جھوٹا وعدہ نا دلاسا

کافی دیر رونے دھونے کے بعد وہ پھر سے گویا ہوئی

“عفان۔۔۔۔دیدو گئے نا مجھے طلاق ۔”۔۔۔ ۔وہ بڑی آس بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی

“‘بس یہی کہنا تھا تم نے یا کچھ اور بھی ہے کہنے کو” ۔۔۔میں نے خود پر ضبط کیے سرد لہجے سے پوچھا نظریں میری اب بھی سامنے اٹھتی لہروں کی طرف ہی تھیں

“بس اسی کا جواب دیدو ۔۔۔۔۔”

“چلو اٹھو گھر چلیں” ۔۔۔میں فورا سے کھڑا ہو کر اپنے کپڑے جھاڑنے لگا ۔۔۔۔بہت ہی نارمل سا انداز تھا میرا مگر ماہم متحیر سی مجھے دیکھنے لگی

“عفان مجھے جواب چاہیے ۔’۔۔۔وہ کھڑی ہو کر مجھے دیکھنے لگی

میں اسکی پروا کیے بغیر آگے بڑھ کر گاڑی کی جانب جانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی تیز قدم اٹھاتی میرے ساتھ چلنے لگی

“عفان۔ بات سنو میری مجھے تمہارا جواب چاہیے ۔۔”۔میرے ساتھ قدم سے قدم ملاتے ہوئے وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔

میں نے گاڑی کے پاس پہنچ کر لوک کھولا اور اندر بیٹھ کر دروازہ پوری قوت سے بند کیا ۔۔۔۔۔مجبورا ماہم کو بھی بیٹھنا پڑا ۔۔۔۔۔۔

“عفان ۔۔۔”۔۔

‘شش چپ ہو کر بیٹھو” ۔۔۔۔۔ہزار ضبط کے باوجود میرا لہجہ تلخ سا ہو گیا ۔۔

“عفان تم نے وعدہ ۔۔”۔۔

“ماہی ۔۔۔۔تم نے کہا تھا خاموشی سے تمہاری بات سنو میں نے سن لی تم نے کہا آرگیو نا کرو میں نے نہیں کیا ۔۔۔اب تم بھی بلکل چپ چاپ بیٹھی رہو مجھ سے کسی قسم۔کا سوال جواب مت کرو ۔”۔۔۔میں نے دو ٹاک لہجے سے کہہ کر گاڑی اسٹاٹ کر دی ۔۔۔۔ڈرائیو بھی بھی میں معمول سے ہٹ کر کچھ تیز ہی کر رہا تھا ۔۔ماہم مجھے دیکھ رہی تھی آنسوں بھی بہا رہی تھی مگر میں نے ماتھے پر تیوری چڑھائے گاڑی چلاتا رہا ۔گھر کے گیٹ پر پہنچ کر میں نے مسلسل ہارن دینا شروع کر دیا ۔۔۔کریم بابا نے جلدی سے دروازہ کھولا گاڑی پورچ میں کھڑی کر کے میں ماہم کے اترنے کا انتظار کیے بنا ہی لاونج کا دروازہ کھولے اندر داخل ہو گیا مما لاونج میں ہی بیٹھی ٹی وی دیکھ رہیں تھیں

“مما میرے سر میں درد ہے ۔۔۔۔۔میں اپنے کمرے میں جا رہا مجھے کوئی بھی ڈسٹرب کرنے نا آئے “۔۔۔۔ماہم اس وقت تک اندر آ چکی تھی اور میری بات بھی سن چکی تھی اور یہی میں چاہتا تھا ۔۔۔۔میں اوپر اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گیا ۔۔۔۔

ماہم کی باتیں یاد آنے لگیں پھر قاسم کی بات یاد آنے لگی ۔۔۔وہ شاید ٹھیک ہی کہہ رہا تھا مجھے ماہم سے دور رہنا ہی نہیں چاہیے تھا نا ہی اسے اتنا وقت دینا چاہیے تھا کہ مجھ سے ایسی ڈیمانڈ کرتی میں کچھ پل کے لیے میں خود غرضی سے سوچنے لگا ۔۔۔ ۔۔۔۔مگر زبردستی بھی میرے مزاج کا حصہ نہیں ہے ۔۔۔۔نہیں یہ نہیں کر سکتا میں نے خود کو ڈپٹا ۔۔۔۔کیسے نکالوں کامران تمہارے دل سے ماہی کیسے ۔۔۔۔مجھے اپنا آپ بے بس سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔

میں نے اپنے سر کے اوپر تکیہ رکھا اور سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔کافی دن تو میں ماہم سے بات کرتے ہوئے بھی کترانے لگا کہ کہیں مجھ سے جواب ہی نا مانگ لے ۔۔۔۔میں کبھی بھی سے چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔مگر ایک ہی چھت کے نیچے یہ کب تک ممکن تھا کہ میں ماہی سے بات نا کر سکوں

******……

وہ جب بھی میرے پاس بیٹھتی میں آٹھ کر چلا جاتا ۔تھا ۔۔۔۔وہ تلملا کر رہ جاتی تھی ابھی میں ڈنر کے بعد کمرے کے بجائے لاونج میں ٹی وی دیکھ تھا رات کے ساڈھے گیارہ بج رہے تھے ۔۔۔۔پاپا مما کسی دعوت پر گئے تھے بس لوٹنے ہی والے تھے ۔۔۔۔۔ جب ماہم میرے برابر میں بیٹھ گئ اس وقت لاونج میں میرے اور ماہم کے علاؤہ کوئی اور نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔

“عفان وہ تم نے ۔۔۔مجھے اپنا جواب نہیں بتایا “۔۔۔۔ماہم نے رقت بھرے لہجے سے پوچھا میں نے غصے سے ٹی وی بند کیا ریموڈ صوفے پر رکھا اور اٹھ کر اوپر اپنے کمرے میں آ کر لیپ ٹاپ پر اپنے نئے پروجیکٹ کے کچھ پوائنٹ کو ری چیک کرنے میں مصروف ہو گیا ۔۔۔۔۔میں ماہم

کو جواب دینا ہی نہیں چاہتا تھا اس کا بہترین حل میرے پاس یہی تھا ۔۔۔ماہم بنا دروزہ کو دستک دیے اندر غصے سے داخل ہوئی۔اور دروازہ بھی بند کر دیا میں نے سرسری سی نظر اس پر ڈالی اس کا لال بھبوکا چہرہ دیکھ کر میں دوبارہ اپنی نظریں لیپ ٹاپ پر جما دیں

“عفان ۔”۔۔۔وہ جھجھنلا کر بولی

“ہمم ۔۔۔۔”

‘مجھے بات کرنی ہے تم سے ۔۔۔۔’

“سوری ماہی ۔۔۔میں بزی ہوں اسوقت بلکل بات نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔پلیز جاتے ہوئے دروازہ بند کر کے جانا ۔۔۔۔اور ہو سکے تو راشد کے ہاتھ ایک سرونگ سی چائے بھی بھیجوا دینا ۔”۔۔۔۔میرے نارمل انداز پر ماہم نے تلملا کر میرے ہاتھ سے لیپ ٹاپ چھین کر بیڈ پر رکھ دیا

“میں نے کہا نا عفان کہ مجھے بات کرنی ہے تم سے “۔۔۔۔میں نے ماہم کو جواب دیے بغیر اپنا ہاتھ بڑھا کر لیپ ٹاپ لینا چاہا مگر ماہم نے اسے پیچھے کھسکا کر میرے سامنے بیٹھ گئ اب لیپ ٹاپ میری پہنچ سے دور تھا میں تیکھی نگاہ ماہم پر ڈالی

“کیا بچپنا ہے ماہی میں بہت اہم ڈاکومنٹس ری چیک کر رہا ہوں لاو دو ادھر لیپ ٹاپ کیوں پریشان کر رہی ہو مجھے” ۔۔۔۔میرے گھورنے کو وہ خاطر میں لائے بغیر بولی

“نہیں عفان تمہارے لئے اس وقت صرف میری اہمیت ہونی چاہیے ۔”۔۔۔۔۔وہ خفگی سے بولی اور میں اسکی بات سن کر اسے غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔کتنی اپنی اپنی سی لگ رہی تھی مجھ پر حق جماتی ہوئی ۔۔۔۔

“سارا مسلہ ہی یہی ہے ماہی ۔۔۔۔تم بہت اہم ہو چکی ہو میرے لئے” ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم میرے جواب پر مجھے حیرت اور غصے کے ملے جلے جذبات سے دیکھنے لگی میں نے بھی مصصم ارادہ باندھ لیا کہ آج ماہم پر اپنا ہر جذبہ آشکار کر دوں گا ۔۔۔

“میری بات کا جواب دو ۔۔۔کچھ پوچھا تھا میں نے تم سے” ۔۔۔۔۔وہ نظریں چرا سی گئ تھی ۔۔۔۔۔

“میرے پاس تمہارے فضول سے سوال کا کوئی جواب نہیں ہے جاؤں یہاں سے “۔۔۔۔میں نے سختی سے جواب دیا

“کیوں” ۔۔۔۔۔وہ مجھے دیکھتے ہوئے بولی

“دل نہیں مانتا میرا ۔۔۔۔نہیں چھوڑ سکتا تمہیں “۔۔۔ میں بھی اسکی آنکھوں میں دیکھ کر جواب دینے لگا

“پاگل ہو گئے ہو تم ۔۔۔۔”

“ہاں ہو گیا ہوں پاگل ۔۔۔۔۔”میرے کھرے جواب پر ماہم رقت بھرے لہجے سے میری منت پر اتر آئی

“عفان پلیز ایسے مت کہو ہم بہت اچھے دوست ہیں یار۔۔۔۔ کتنا مضبوط رشتہ ہے ہمارا ۔۔۔۔۔ہمیشہ تم نے میری بات سنی ہے۔۔۔ مانی ہے ۔۔۔۔۔اتنا میں خود سے واقف نہیں جتنا تم مجھے جانتے ہو ۔۔۔۔۔مجھےنہیں یاد کہ میری کوئی بات تم سے چھپی ہو ۔۔۔۔۔تم کیوں اس زبردستی سے بندھے وقتی رشتے کی خاطر اپنی اتنی پرانی دوستی ختم کرنا چاہیے ہو “۔۔۔۔ماہم رسانیت سے مجھے سمجھانے لگی

“ہاں تو ہم ہمیشہ دوست رہیں گئے ماہی ۔۔۔۔۔اب ہمارا رشتہ تو اور بھی مضبوط ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔”

“نہیں عفان ہمارا وہ رشتہ پہلے سے اتنا مضبوط اور مستحکم ہے کہ اسے مضبوط کرنے کے لئے مزید کسی رشتے کی ضرورت نہیں ہے ہمیں ۔۔۔۔۔”

“نہیں ماہم جس رشتے میں ہم اب بندھ چکے ہیں ۔۔۔۔وہ ہے مضبوط اور اٹوٹ رشتہ ۔۔۔اسے معاشرے میں عزت اور مقام حاصل ہے ۔۔۔۔”میں ماہم کی ہر غلط بات کی تردید کر رہا تھا

“اچھا تمہارا مطلب ہے ۔۔۔۔دوستی کا رشتہ بہت کمزور ہوتا ہے اسکی کوئی اہمیت ہی نہیں ہوتی”

“اہمیت ہے مگر ایک لڑکے اور لڑکی کی دوستی ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ۔۔۔۔معاشرے میں انہیں عزت سے کوئی نا دیکھتا ہے نا عزت دیتا ہے ۔۔۔۔۔رات کے بارہ بج رہیں ہیں اور اس وقت تم میرے کمرے میں میرے ساتھ بیٹھی ہو وہ بھی دروازہ بند کیے”۔۔۔۔میری بات پر ماہم کچھ سٹپٹا سی گئ اپنی موجودگی پر کچھ گھبرا کر پیچھے ہٹ گئ

“رات کے اس پہر اگر مما پاپا یا کوئی بھی نوکر ملازم تمہیں یوں میرے ساتھ دیکھ بھی لے تو نا اسکی نظر میں ہماری عزت کم ہو گی نا ہمارے بارے میں کوئی سوال اٹھے گا جانتی ہو کیوں کیونکہ تم میری بیوی ہو ۔۔۔۔یہ ہے وہ رشتہ جس کی اہمیت ہے ۔۔۔۔”

“مگر میرے نزدیک نہیں ہے ۔۔۔۔میں کبھی تمہارے بارے میں اس انداز سے نہیں سوچ سکتی ۔۔۔۔

عفان۔ ۔۔۔۔۔مجھے تم سے طلاق چاہیے ۔۔۔۔۔”وہ حتمی لہجے سے بولی

“ممکن ہی نہیں ہے کہ میں تمہیں چھوڑ دوں “انداز میرا بھی اٹل تھا

“کیوں نہیں ممکن “

“کیونکہ میرا دل نہیں مانتا ۔۔۔۔۔تھک چکا خود سے لڑ لڑ کے ۔دل کو سمجھا سمجھا کر مگر وہ بھی تمہاری طرح بہت ضدی ہے ۔۔۔۔مانتا ہی نہیں ہے” ۔۔۔۔۔میری بات پر وہ کینہ توز نظروں سے مجھے دیکھ کر وہاں سے اٹھنے لگی ۔۔۔۔میں نے بازو سے پکڑ کر اسے دوبارہ بیٹھا دیا

“تمہیں جواب چاہیے نا ماہی اب اپنا جواب سن کر جاؤں

“تمہاری ساری دلیلیں میں نے دل کے سامنے رکھی ہیں میں نے بہت کہا اس سے کہ وہ عمر میں بڑی کے مجھ سے۔۔۔۔ لوگ کیا کہیں گئے ۔۔۔دل نے کہا میں عمر کے فرق کو نہیں مانتا ۔۔۔۔۔لوگ بھی کبھی مطمئن ہوئے ہیں۔کسی سے ۔۔۔ مجھے پروا نہیں ہے لوگوں کی ۔۔۔۔

“میں نے کہا کہ وہ ڈرتی نہیں ہے مجھ سے ۔۔۔میرا کوئی رعب شوب نہیں ہے اس پر ۔۔۔۔اس نے کہا بیوی ساتھی ہوتی ہے زرخرید نہیں جس پر حاکمیت جتائی جائے ۔۔۔۔میں نے یہ بھی کہا کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی ۔۔۔۔میں اسکے دل میں کہیں نہیں ہوں ۔۔۔۔اس نے کہا جو نصیب میں آ چکا ہو اسے دل میں آنے میں بھی دیر نہیں لگتی ۔۔۔۔میری بیوی میرے حوالے کر دو محبت اسے میں خود سکھا دونگا ۔۔۔۔۔اب بتاؤں مجھے ۔۔۔۔میرا دل تو تمہاری کسی دلیل سے مطمئن نہیں ہو رہا ۔۔۔۔اسکے پاس تم سے زیادہ مضبوط دلیلیں ہیں”میں مسلسل ماہم کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا مگر وہ اپنی نظریں بار بار بدل رہی تھی ۔۔۔۔شاید میری نظروں کے والہانہ پن کو دیکھنے سے کترا رہی تھی

“بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہارا دل ۔۔۔۔میں خلع لے لوں گی تم سے “۔۔۔۔۔ماہم مجھ سے اپنا بازو چھڑوانے لگی مگر میں نے اپنی گرفت اور مضبوط کر دی یہ الفاظ میری ماہی کے نہیں ہو سکتے تھے ۔۔۔خلع کی بات وہ خود سے کر ہی نہیں سکتی تھی مجھے اس پر تاؤ آنے لگا

“کس نے کہا تم سے یہ کہنے کو بولو ماہی” ۔۔۔۔میرے غصیلے لہجے پر وہ پہلے تو نروس ہوئی پھر سختی سے بولی

” کسی نے نہیں کہا “

“نہیں یہ لفظ تم نہیں کہہ سکتی اچھی طرح جانتا ہوں میں تمہیں۔۔۔”

“کہہ سکتی ہوں کیوں نہیں۔ کہہ سکتی چھوڑو مجھے” ۔۔۔۔میں نے اسے چھوڑا نہیں بلکہ خود بھی کھڑا ہو گیا

“چلو میرے ساتھ نیچے ابھی اسی وقت” ۔۔۔میں نے دانت بیںچتے ہوئے غصے سے کہا ۔۔۔۔

“کہاں’ ‘۔۔۔۔۔وہ کچھ گھبرا سی گئ

“پاپا کے پاس اور ان سے کہو کہ تمہیں مجھ سے طلاق چاہیے ۔۔۔۔میں اسی وقت تمہیں طلاق دیدوں گا ۔۔۔۔اور میرا وعدہ ہے تم سے ماہی تم اسی گھر میں ہی رہو گی ۔۔۔وہ بھی پوری عزت اور مان کے ساتھ میں چلا جاؤں ہمیشہ کے لئے یہاں سے ۔۔۔۔کبھی لوٹ کر نہیں آؤں گا ۔۔۔یہی چاہتی ہو نا تم” ۔۔۔۔میں چبا چبا کر ایک ایک لفظ بول رہا تھا ۔۔۔۔۔میراغصہ انتہا کو چھو رہا تھا ۔۔۔۔

“نہیں عفان چھوڑو مجھے ۔۔۔مجھے نہیں جانا کہیں بھی کیوں رضا انکل کو بیچ میں لا رہے ہو ۔۔۔۔چھوڑو عفان ” ۔۔وہ بدحواس سی ہو کر اپنا بازو چھڑوانے لگی مگر میں اسے زبردستی نیچے لےگیا۔۔۔۔۔۔مما پاپا ابھی دعوت سے لوٹے ہی تھے لاونج کے صوفے پر ہی بیٹھے تھے میں نے ماہم کو پاپا کے سامنے کھڑا کر کے اس کا بازو چھوڑ دیا اب وہ رونے لگی تھی ۔۔۔۔مما پاپا دونوں انہیں حیرت سے دیکھنے لگے

“ماہی نے کچھ کہنا ہے پاپا آپ سے “۔۔۔۔میں نے بلا تامل سخت لہجے میں کہا ۔۔۔۔پاپا کی خشمگین نظریں مجھ سے ہٹ کر ماہم پر جا ٹکیں۔۔۔

ماہم نے فورا خوف سے نفی میں سر ہلا دیا اور رونے لگی ۔۔۔۔

“عفان کیا کہا ہے تم بٹیا کو کیوں رو رہی ہے وہ ۔۔۔”۔پاپا نے مجھے گھورتے ہوئے پوچھا

“میں نے کچھ نہیں کہا اس نے مجھ سے کہا ہے اور وہ اب یہ اپنے منہ سے خود آپ کو بتائے گی ۔۔۔۔۔بولو ماہی۔۔”۔۔میرا لہجہ اب بھی ہنوز تھا ۔۔۔ماہم روئے جا رہی تھی پاپا نے ماہم کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے پاس بیٹھا لیا ۔۔۔۔

“عفان کیا کہا تم نے ماہم کو ۔۔۔۔اور اتنے غصے میں کیوں ہو ۔۔۔۔شرم آنی چاہیے تمہیں” ۔۔۔۔مما بھی ماہم کو ساتھ لگائے مجھی کو ڈانٹنے لگیں وہ بھی بغیر کسی وجہ کو جانے ۔۔۔۔

“شرم کہاں رہی ہے آج کل کی نسل کی نظر میں ۔۔۔۔تم جاؤں یہاں سے میں خود اپنی بیٹی سے پوچھ لوں گا ۔۔۔۔اور یاد رکھنا عفان اگر قصور تمہارا ہوا تو یہ چھڑی دیکھ رہے ہو نا اسی سے مار کھاؤ گئے مجھ سے ۔۔۔۔۔۔مجھے میری گڑیا کی آنکھوں میں آنسوں نہیں چاہیے ۔۔۔۔بہت برا پیش آؤں گا تمہارے ساتھ ۔۔”۔پاپا اپنے ہاتھ میں پکڑی چھڑی کو میرے سینے پر ٹھوکتے ہوئے غصے سے بولے ۔۔۔۔

“ذرا اپنی گڑیا سے بھی تو پوچھ لیں آپ کی بات کی کوئی ویلیوں بھی ہے اسکی نظر میں ۔۔۔”۔

“انکل آپ اسکی کوئی بات نہیں سنے گئے یہ سب جھوٹ بول رہا ہے میں نے اس سے کچھ نہیں کہا” ۔۔۔ہر بار کی طرح وہ صاف مکر گئ تھی

“تم باز آ جاؤں عفان ورنہ مار کھاؤ گئے مجھ سے ۔۔”۔پاپا نے مجھے کھا جانے والے انداز سے دیکھتے ہوئے تنبیہی کی

“منظور ہے پاپا اور اگر قصوروار آپکی لاڈلی ہوئی تو ۔۔۔۔”

“چپ رہو تم ….بیٹیوں کا کوئی قصور نہیں ہوتا وہ تو پیدا ہی ماں باپ کا مان رکھنے کے لئے ہوتی ہیں ۔۔۔۔مت بھولو میرے ایک بار کہنےپر تم جیسے نالائق سے شادی کے لئے تیار ہو گئ تھی ۔۔۔۔یہ میری بہت پیاری بیٹی ہے ۔۔۔۔۔خبردار جو آئندہ یوں اسے گھسٹتے ہوئے لائے تو ۔۔۔بچیاں بہت نازک ہوتی ہیں ۔۔۔۔بلکل کانچ کی گڑیا جیسی بہت نرمی سے پیش آیا کرو میری ماہم کے ساتھ ” ۔۔۔۔۔پاپا کا پیار بھرا لہجہ ماہم کو پسپا کر چکا تھا ۔۔۔۔وہ نظریں جھکائے بیٹھی تھی

میں کچھ کہے بنا اوپر آ گیا ۔۔۔سیڑیاں چڑھتے ہوئے میں نے دیکھا پاپا ماہم کا سر اپنے کندھے پر رکھے بہت نرمی سے اسے سر پر ہاتھ پھرتے ہوئے کچھ پوچھ رہے تھے ۔۔۔۔اب میں بیفکر سا ہو گیا ماہم کچھ بھی کہے گی مگر اصل بات کبھی نہیں بتائے گی ۔۔۔۔۔پاپا کا مان تو وہ نہیں توڑ سکتی ۔۔۔۔جبھی تو میری منتیں کر رہی تھی کہ میں انکار کر دوں ۔۔۔۔کب تک تم دور رہو گی مجھ سے ماہی ۔۔۔۔ایک دن مان ہی جاؤں گی اور اس دن تمہارے سارے خواب پورے کرتے ہوئے اپناوں گا تمہیں ۔۔۔میں نے مسکرا کر سوچا اور اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔

*********………..*******………**********

***********………….********……….*********

ماہم نے مما پاپا سے کیا بہانہ کیا ۔۔۔کیا نہیں مگر پاپا نے صبح کان میرے ہی کھنچے تھے ۔۔۔اور وہ سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ منہ پھلائے پاپا کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔۔

“خبردار اگر تم نے میری بیٹی کی فرمائش کو رد کیا تو ۔۔۔تمہارا آفس اور اسکا کام تمہارے لئے ہمیشہ سکینڈ آپشن ہونا چاہیے پہلا نمبر صرف میری بیٹی کا ہے ۔۔۔۔۔”

“کان تو چھوڑ دیں پاپا ۔۔۔کھنچ کھنچ کے اپنے سائز سے خاصا بڑا ہو چکا ہے “۔۔۔۔میری بات پر پاپا نے مسکرا کر میرا کان چھوڑ دیا ۔۔۔

“پھر بھی تم ڈھیٹ ہو “۔۔۔میں نے اپنا کان سہلاتے ہوئے پاپا کے اپنے بارے میں خیالات سنے پھر ماہم سے مخاطب ہوا

“ماہی جاؤں فرائی ایگ بنا کر لاؤ بھوک لگ رہی ہے بہت “۔۔۔۔میری بات اان سنی کیے ماہم اپنا ناشتہ کرتی رہی

“کوئی ضرورت نہیں ہے میری بیٹی پر رعب جمانے کی “۔۔۔۔پاپا نے انگلی اٹھا کر مجھے فہماشی نظروں سے دیکھا

“ایک فرائی انڈا مانگنے میں ۔۔۔ میں نے بھلا کیا رعب جمایا ہے پاپا ۔۔۔۔اور یہ ۔۔۔۔یہ آنے والی ہے میرے رعب میں ۔۔۔۔۔۔وہ تو آپ نے کہا تھا کہ میری چہتی بیٹی کے ہاتھ سے ناشتہ لیا کرو ورنہ میں خود بھی بنا سکتا ہوں۔۔”۔۔میں نے منہ بگاڑ کر جتاتے ہوئے کہا

“لیکن اب وہ ناراض ہے تم سے اس لئے خود کرو اپنے کام ۔۔۔۔ کیاسمجھتے ہو۔۔۔۔ تم شاپنگ پر نہیں لیکر جاؤں گئے تو ماہم شاپنگ ہی نہیں کرے گی ۔۔۔میں خود اپنی بیٹی کو لیکر جاؤں گا اور دیکھنا کیسی اچھی شاپنگ کرواتا ہوں ماہم کو ۔”۔۔میں نے اپنے کپ میں چائے ڈالتے ہوئے ایک زریک نظر ماہم پر ڈالی ۔۔۔۔۔تو شاپنگ کا بہانہ بنایا ہے محترمہ نے ۔۔۔۔۔پاپا کی بات سن کر مما اپنی ہنسی روکنے لگیں ۔۔۔۔

“یہ تمہارے دانت کیوں نکل رہے ہیں” ۔۔۔۔پاپا نے مما کو گھورتے ہوئے کہا

“کچھ نہیں بس آپکی اچھی۔۔۔ی ۔۔۔ی شاپنگ سن کر ۔۔۔۔ماہم بے شک تم ان کے ساتھ چلی جاؤں مگر شاپنگ اپنی پسند کی کرنا ۔۔۔ ورنہ یہ تو ایسے ایسے رنگ لیکر دیں گئے تمہیں کہ بس “۔۔۔۔مما کا مشورہ پاپا کو پسند نہیں آیا تھا اس لئے ماہم سے بولے

“اپنی خالہ کی باتوں پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں ہے اسے ویسے بھی میری قدر نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ارے اس اولڈ وومن۔ کو کیا پتہ کے فیشن کسے کہتے ہیں ۔۔۔۔ہم باپ بیٹی پہلے شاپنگ کریں گئے پھر کلب سینڈوچ کھائیے گئے اور واپسی پر آئسکریم بھی کھائیں گئے ۔۔۔۔جو جیلس ہو رہا ہے وہ شوق سے ہم باپ بیٹی کی محبت سے جل سکتا ہے ۔۔۔۔ٹھیک ہے نا عفان ۔۔۔۔”پاپا طنر مجھی پر کر رہے تھے ۔۔۔جیم لگاتے ہوئے میرا فورک ایک سکینڈ کے لئے رکا تھا

“مجھ سے کیوں کہہ رہیں ہیں ۔۔۔۔مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”۔۔۔۔میں نے توس پر خود جیم لگاتے ہوئے ماہم کو دیکھا ۔۔۔۔جو مجھے دیکھتے ہی نظریں بدل کر بیٹھ گئ

“تبھی اتنا جل بھون کر جواب رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔جس طرح سے تم نے جواب دیا ہے ۔۔۔صاف ستھرے لفظوں میں اسے جیلس ہی کہتے ہیں ۔۔” ۔۔۔۔پاپا کہ بات پر ماہم کی بے ساختہ ہنسی پر میں تپ کر رہ گیا تھا چائے کا کپ ایک ہی گھونٹ میں خالی کر کے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔

“بائے ۔”۔۔۔۔میں نے اپنا بیگ پکڑا اور چلا گیا ۔۔۔حالانکہ میں جانتا تھا یہ سب پاپا نے ماہم کا موڈ ٹھیک کرنے لئے کیا ہے اور میں جیلس بھی نہیں تھا مگر پھر بھی مجھے برا تو لگا تھا ۔۔۔۔قصور بھی اسی تھا اور ڈانٹ ہمیشہ میرے حصے میں ہی آتی تھی