458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 20

Tadbeer by Umme Hani

مما نے مجھ سے ماہم کی اپنے کمرے میں رہنے وجہ دریافت کی تو میں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ جب تک وہ مجھے دل سے قبول نہیں کر لیتی میں اس کا انتظار کر سکتا ہوں ۔۔۔۔

“جیسے تمہاری مرضی مگر میں چاہتی تھی کہ وہ تمہارے کمرے میں رہے ۔۔۔۔۔کامران آج کل ویسے ہی غصے میں بھپرا رہتا ہے ۔۔۔تم دونوں کی شادی کو لیکر ۔۔۔۔۔”

“مما ۔۔۔۔ماہی کے بارے میں بھی سوچیں وہ سب اتنی جلدی تو قبول نہیں کر سکتی ۔۔۔۔مگر میں تیقن سے کہہ سکتا ہوں کہ بہت جلد وہ اپنی پوری آمادگی کے ساتھ مجھے اپنائے گئ ۔”۔۔۔میرے اندر کی سر شاری میرے چہرے پر عیاں تھی مما نے محبت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں

“کیوں نہیں بیٹا ضرور ۔۔۔۔بس تم دونوں خوش رہوں میں تو یہی چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔”

*********……..********……..*******

میں نے صبح ناشتے کے دوران ہی قاسم کی پروبلم پاپا کے سامنے رکھ دی

“میرے خیال سے تمہیں ضرور اسکی ہیلپ کرنی چاہیے “۔۔۔۔پاپا نے میری بات تحمل مزاجی سے سن کر کہا

“وہ تو ٹھیک ہے پاپا مگر ماہی نہیں مان رہی” ۔۔۔۔میری آنکھوں کا اشارہ ماہم کی طرف تھا جو گردن جھکائے چائے کے کپ کے کنارے پر اپنی انگشت شہادت پھیرتے ہوئے نا جانے کیا سوچ رہی تھی

“کیوں بھئ میری پیاری سی بٹیا کیوں نہیں مان رہی” ۔۔۔۔ماہم کے ساتھ پاپا کا لہجہ ہمیشہ پر شفیق ساہو جاتا تھا ۔۔۔۔

“یہ بات نہیں ہے انکل میں آپ کی اجازت کے بغیر کیسے کر سکتی ہوں” ۔۔۔۔۔پاپا کے چہرے پر میٹھی سی مسکراہٹ سی آ گئ

“یہی بات مجھے تمہاری بہت پسند ہے۔ بٹیا کہ تم رشتوں کو بڑے سبھاؤ سے نبھانا جانتی ہو ۔۔۔اگر تم بنا مجھ سے پوچھے بھی ہامی بھر لیتی تو مجھے کون سا اعتراض ہونا تھا ۔۔۔مگر تم میری پیاری سی گڑیا ہو ۔۔۔۔جب مجھے یوں اہمیت دیتی ہو تو ڈھیروں من خون بڑھ جاتا ہے میرا “۔۔۔۔پاپا اس سر پر محبت سے ہاتھ رکھ کر کہا ماہم کے چہرے پر خوشی سے پھوٹنے لگتی تھی ۔۔۔۔

“انکل آپ کی اور خالہ کے بغیر میں ایک قدم بھی نہیں چل سکتی ۔۔۔۔”

“چلو پھر ہو گیا فیصلہ ۔۔۔۔عفان بس کی بیٹا پک اینڈ ڈراپ کی ذمہ داری تمہاری ہے ۔۔۔۔۔

“جی جی پاپا آپ بیفکر رہیں ۔۔۔۔۔”

*******………********………*********

۔

اگلے ہی روز میں اور ماہم قاسم کے گھر پہنچ گئے ۔۔۔۔قاسم کا بنگلہ دو ہزار گز پر بنا ہوا تھا ۔۔۔۔بہت بڑی جگہ ان کے لان پر ہی مشتمل تھی ۔۔۔۔۔۔اسکی والدہ سادہ قسم کی گھریلوں سی خاتون تھیں ۔۔۔قاسم کے دونوں بڑے بھائی لندن میں ہی جاب کرتے تھے اور اپنی فیملیز کے ساتھ وہیں سیٹل ہو چکے تھے ۔۔۔ایک چھوٹی بہن تھی جو ابھی میڑک کی اسٹوڈنٹ تھی ۔۔۔۔۔۔فاریہ اور مہک بھی اسی ایریے میں چند گلیوں کے فاصلے پر رہائش پزیر تھے ۔۔۔۔اس لئے ہمارے آمد پر فاریہ بھی وہیں موجود تھیں ۔۔۔شام کی چائے کا سارا اہتمام قاسم کی والدہ اور فاریہ نے ہی مل کر باہر لان میں ہی کیا تھا ۔۔۔۔قاسم کی والدہ کی سادہ سی طبیعت پر ماہم ان سے کافی گھل مل گئ تھی۔۔۔۔چائے کے ساتھ ساتھ ماہم لان کا جائزہ لے چکی تھی اور اپنے ائیڈایز سے بھی قاسم اور فاریہ کو مستفید کر رہی تھی ۔۔۔۔۔فاریہ تو ماہم کی بات پر ہامی بھر رہی تھی مگر قسم بہت غور سے ماہم کی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

“فاریہ مہندی پر ذیادہ تر ییلو اور گرین کا کامبنشن ہوتا ہے مگر ہم اورنج کلر لیں گئے تم اس کلر میں بہت ڈفرنٹ لگو گی ۔۔۔۔اور اسٹیج کے بجائے لان میں لگے اس جھولے کو گیندے کے پھولوں سے ڈیکوریٹ کروائیں گئے ۔۔۔۔۔تمہاری مہندی کی رسم یہیں ہو گئ” ۔۔۔۔۔۔ماہم کھوئے انداز میں بتا رہی تھی وہ شاید کسی گہری خوشگوار سوچ کے زیر اثر اور بھی بہت کچھ بولنا چاہتی تھی مگر قاسم کی بات پر چونک گئ

“بھابی آپ یہ سب پروفشنل طور پر کیوں نہیں شروع کر دیتیں ۔۔۔۔بلیو می بہت صلاحیت ہے آپ میں” ۔۔۔۔۔۔قاسم چائے کا کپ لبوں تک لے جاتے ہوئے بولا

“نہیں قاسم ۔۔۔۔۔یہ تو تم اسقدر پریشان تھے تو پاپا کے اجازت دیدی” ۔۔۔۔۔۔قاسم کے سوال کا جواب میں نے دیا تھا ۔۔۔۔۔

پھر ماہم فاریہ سے مہمانوں کی لسٹ کے بارے میں پوچھنے لگی ۔۔۔۔ذیادہ لوگوں کی لمبی چوڑی لسٹ تو نہیں تھی ۔۔۔۔قاسم کی والدہ نے بس چند رشتے دار اور دوست احباب کا ہی ذکر کیا مگر قاسم نے جب اپنے ملنے ملانے والوں کی فہرست شروع ہوئی تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی

“امی میں اپنے تمام کالج اور یونیورسٹی فیلوز کو بلواں گا ۔۔۔۔اور ان میں سے جن جن کی شادی ہو چکی ہے وہ تو بمعہ اہل وعیال شامل ہوں گئے ۔۔۔۔”

“اچھا بلا لینا ۔۔۔بس ذرا یہ بتا دو کہ تقریبا کتنے لوگوں کو بلانا چاہتے ہو “قاسم کی والدہ چائے پیتے ہوئے پوچھنے لگیں

“ذیادہ نہیں امی بس اسکول کالج اور یونیورسٹی کے ملا کر تقریبا دو ڈھائی سو ہو جائیں گئے” ۔۔۔۔قاسم کی بے نیازی پر اسکی والدہ اسے گھرکنے لگیں ۔۔۔۔

“بس ۔۔قاسم یہ تو بہت کم ہیں ۔۔۔۔۔۔ذرا اپنے ذہن پر زور ڈال کر سوچوں شاید کوئی چار پانچ سو دوست تمہیں اور یاد آ جائیں ۔۔۔۔تایا ابا کا توتم صحیح کا دوالیاں نکلواں گئے” ۔۔۔۔فاریہ نے قاسم کی ٹھیک ٹھاک کلاس لینے کی کوشش کی مگر قاسم کہاں شرمندہ ہونا جانتا تھا

“حد ادب گستاخ لڑکی ۔۔۔۔۔مت بھولو کہ تمہارے ہونے والا شوہر ہوں میں ۔۔۔۔اور میرے ڈیڈ اتنے بھی کنجوس مکھی چوس نہیں کے اپنے چہیتے فرزند کی اکلوتی شادی پر شاہ خرچیاں بھی نا کر سکیں ۔۔۔۔۔”قاسم کی والدہ بھنور اچکا کر بولیں

“کیوں نہیں بیٹا ۔۔۔۔۔ذرااپنی یہ لن ترانیوں سے رات کو اپنے ڈیڈ کو ضرور آگاہ کر دینا ۔۔۔۔۔کیونکہ مجھے تو وہ ہزار بار سنا چکے ہیں کہ اس نکمے کی شادی پر میں اپنے پیسوں کی بربادی ہر گز نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔جتنا کم خرچہ ہو اتنا بہتر ہے ۔۔۔۔تا کہ باقی کاسرمایہ اسکے بزنس پر لگ سکے” ۔۔۔۔قاسم کی والدہ کی برہمی پر ہم تینوں ہی اپنی ہنسی دبانے لگے ۔۔۔۔۔

“چلیں میں کونسا ڈیڈ کی بات پر اختلاف کر سکتا ہوں” ۔۔۔۔۔قاسم نے اپنے ڈیڈ کے نام پر ہی ہتھیار پھنک دیے ۔۔۔۔۔

*******……….

قاسم کی مہندی کے فنگشن سے پہلے ماہم تقریبا اپنا کام نمٹا چکی تھی میں نے آفس سے واپسی پر سے پک کیا گھر آتے ہی ہم اپنی اپنی تیاریوں میں مگن ہو گئے ۔۔۔۔۔وائٹ شلوار قمیض پر ڈارک براؤن کلر کی واسکوٹ پہنے میں خود پر پرفیوم کر رہا تھا جب ماہم کی گھٹی سی چیخ سنائی دی ۔۔۔۔میں نے جلدی سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے ماہم کے کمرے کی طرف لپکا دروازہ کھولتے ہی کامران کے ہاتھ میں ماہم کا خون سے لت پت ہاتھ دیکھ کر میرے ہوش ہی اڑ گئے میں تیزی سے ماہم کے نزدیک پہنچا میرے اچانک آنے پر کامران کا رنگ سااڑ گیا تھا

“یہ کیا ماہی ۔۔”۔۔میں نے کامران کو نظر انداز کر کے ماہم سے پوچھا ۔۔۔۔۔

“دیکھ نہیں رہے پرفیوم ٹوٹ کر لگ گیا ہے اس کے۔۔”۔جواب کامران نے دیا وہ بھی تپے ہوئے انداز میں۔۔۔۔ پھر وہ ماہم کے ڈوپٹے کے کنارے سے اس کا ہاتھ صاف کرنے لگا ۔۔۔ماہم کے بنا آواز آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔۔۔کامران نے اس کی کلائی بہت سختی سے پکڑ رکھی تھی ۔۔۔۔۔

“ہاتھ چھوڑیں ماہی کا بھائی ۔۔۔۔۔۔ ماہی لاو میں بینڈیج کر دوں” ۔۔۔میں نے جلدی سے ماہم کے ڈرسنگ کے ایک دراز سے ایڈ بکس نکالا مگر کامران اب بھی ماہم کی کلائی پکڑے مجھے گھور رہا تھا ۔۔۔۔غصے سے اپنے نتھنے پھلائے لمبے لمبے سانس بھر رہا تھا ۔۔۔۔کامران کی واپسی کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ میں کامران سے رو با رو بات کر رہا تھا ورنہ میں نے اسے کلام تک نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔کچھ وہ خود بھی اپنے کمرے تک مقید ہو کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔اسکے بکھرے ہوئے حلیے بڑھی ہوئی شیو اور متورم آنکھیں اسکی آزردگی کی داستان تو چیخ چیخ کر سنا رہی تھی مگر یہ حق اس نے خود ہی گوایا تھا وجہ وہ خود ہی بہتر جانتا تھا مگر میں اب ہر بار اپنی محبت کی قربانی کیوں دیتا رہوں میرا دل خود غرض سا ہونے لگا ۔اور وجہ ۔۔۔۔ماہم سے اب میرا بہت مضبوط رشتہ تھا اس لئے میری آنکھوں میں نا کوئی خوف تھا نا جھجک بلکہ اعتماد اور استحقاق تھا ۔۔

ماہم کامران سے اپنی کلائی چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مگر اسکی مضبوط گرفت ماہم کی ہر کوشش کو ناکام کر رہی تھی میں کامران کے مقابل کھڑاہو گیا

“ہاتھ چھوڑیں ماہی کا” ۔۔۔۔میں نے اسپاٹ لہجے سے کہا

“کیوں ۔۔۔۔۔تمہیں کیا تکلیف ہے” ۔۔۔۔کامران بھپر کر بولا تو میرا لہجہ بھی بلند ہو گیا ۔۔۔۔

“میں نے کہا ہاتھ چھوڑو ماہی کا کامران ۔۔۔۔۔خون بہہ رہا اس کے ۔”۔۔میں دانت کچکچا کر بولا

“ہاں تو جاؤں تم یہاں سے۔۔۔۔ماہم کو بینڈیج میں کر دوں گا “۔۔۔۔کامران کی آنکھوں میں پھیلی وحشت نے میرا خون کھولا دیا

“ہاتھ چھوڑو اس کاورنہ میں ہاتھ چھڑوانا اچھے سے جانتا ہوں”۔۔۔۔۔۔ میں نے کامران کی وہ کلائی اپنے ہاتھ سے دبوچ لی جس سے اس نے ماہم کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا میری سخت گرفت پر کامران نے ماہم کاہاتھ چھوڑ کر میرا گریبان پکڑ لیا ۔۔۔۔

“میری بات اچھی طرح سمجھ لو عفان ۔۔۔نکاح کے چار بول بول کر تم ماہم کے مالک نہیں بن گئے ۔۔۔اور نا ہی وہ تمہاری ملکیت ہے ۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں لگتی وہ تمہاری۔۔۔۔ میں اپنی چیزیں تک کسی کو دینے کا عادی نہیں ہوں یہ تو پھر ماہم ہے۔۔۔۔ میری ماہم “۔۔کامران میری آنکھوں میں اپنی سرخ ہوتی آنکھیں گاڑتے ہوئے بولا ۔۔۔۔اسکا یہ کہنا ہی مجھے آگ سی لگا گیا تھا ۔۔۔۔۔میں نے جھٹکے سے اپنا گریبان اسکے ہاتھوں سے جدا کیا اور سامنے کھڑی ڈری سہمی ماہم سے مخاطب ہوا

“ماہی تم جاؤں یہاں سے “۔۔۔۔میرے لہجے میں بلا کی سختی تھی ۔۔۔

“ع۔۔۔ف۔۔ان۔”۔۔۔ماہم سراسمیگی سی ہو گئ

“ماہی جاؤں میرے کمرے میں” ۔۔۔۔۔میں ماہم کے سامنے کوئی تماشہ نہیں چاہتا تھا لیکن وہ گھبرائی بوکھلائی اپنا زخمی ہاتھ ڈوپٹے سے دبائے وہیں کھڑی ہم دونوں کو دیکھ رہی تھی

“ماہم سے کیا بات کر رہے ہو مجھ سے بات کرو ۔۔۔۔بتاوں مجھے کب چھوڑو گے اسے “۔۔۔۔کامران نے چلا کر مجھے متوجہ کرنا چاہا ۔۔۔مگر میں ہنوز ماہم کو دیکھتا رہا جو اب خوف کے مارے تھر تھرا رہی تھی

“تم نے سنا نہیں ماہی میں نے کہا ۔۔۔۔۔ جاؤں یہاں سے “۔۔۔۔میں نے دوبارہ ماہم سے کہا کامران کو شاید اپنا اگنور ہونا برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ پھر سے مجھ سے چلا کر بولا

“تم میری بات کا جواب دو ۔۔۔۔کب دو گئے ماہم کو طلاق “۔۔۔۔کامران کابس نہیں چل رہا تھا کہ میرے ساتھ کیا کر گزرے غصے سے پاگل تو میں بھی ہو گیا تھا اسکے منہ طلاق کا نام سن کر ۔۔۔۔ میں نے بھی اسکا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا ۔۔۔۔

“تمیز سے بات کرو مجھ سے ورنہ بہت پچھتاو گئے ۔۔۔۔”میں نے غرا کر کہا

اسی اثنا میں ماہم تیزی سے ہمارے پاس آگئ

“کیوں لڑ رہے ہو تم لوگ خدارا چھوڑو ایک دوسرے کو ۔۔۔۔۔عفان پلیز چھوڑ دو کامران کو “۔۔۔۔ماہم اپنا زخم بھول بھال کر روتے ہوئے بولی

“تم جا رہی ہو۔یہاں سے ماہی ۔۔۔ یا میں تمہیں زبردستی لے جاؤں تمہیں یہاں سے” ۔۔میں بھبک کر بولا تو ماہم کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔پھر میں نے کامران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا

“میری ایک بات غور سے سن لو کامران اور جتنی جلدی ہو اسے ذہن نشین کر لو تو تمہارے لئے بہتر ہے ۔۔۔۔۔میں کبھی ماہی کو طلاق نہیں دونگا ۔۔۔۔۔وہ میری ہے ۔۔۔۔۔بھول جاوں اسے”

میرے تیقن پر وہ ہتھے سے اکھڑ گیا میرا گریبان چھوڑے پھنکارنے لگا

“بکواس بند کرو اپنی …..مجھ سے محبت کرتی ہے وہ ۔۔۔۔۔تمہاری کبھی نہیں ہو سکتی “

“وہ میری ہے ۔۔۔۔اور ہمیشہ میری رہے گئ” ۔۔۔۔میرا اعتماد اسکی بکواس پر ذرا بھی کم نہیں ہوا تھا

“بھول جاؤں عفان کہ ماہم کو میں کبھی تمہاری ہونے دونگا۔”۔۔۔۔وہ بھپرے شیر کی ماند پھنکار رہا تھا جس کے آگے سے اس کا شکار چھن گیا ہو ۔۔۔۔۔

” وہ میری ہو چکی ہے کامران ۔۔۔۔۔”

“نہیں ہے تمہاری ۔”۔۔۔وہ چلا کر بولا

“میری ہی ہے” ۔۔۔۔میں اس کے غصے سے بے خوف بہت مطمئن انداز سے بولا اور میرا یہی اطمینان کامران کا آگ کے شعلے کی طرح بھڑکا رہا تھا

“نہیں ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔ہے ۔۔۔۔وہ ۔۔تم ۔۔۔ہا۔۔۔ری ۔۔۔۔”وہ بھڑک کر غصے کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا کہ اسکے منہ سے لفظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھے غصے کی شدت سے اسکا چہرہ لرزسارہا تھا کنپٹوں سے پسینہ بہنے لگ تھا ۔۔میں مسکرانے لگا

“ماہی میری ہے اور میری آخری سانس تک میری رہے گئ” ۔۔۔۔میرا اطمینان برقرار۔ہی رہا ۔۔۔۔البتہ اسکی آنکھیں سرخ اور لہجہ کٹیلا تھا

اچھا ۔۔۔۔۔تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔پھر میں ۔۔۔۔۔میں تمہاری سانسیں ہی چھین لونگا تم سے ۔۔۔۔۔وہ اپنا غضب ناک چہرہ میرے چہرے کے قریب کرتے ہوئے شعلہ برساتی آنکھوں سے مجھے دیکھتے بولا مگر میرا انداز بہت پر سکون تھا جو اسے بقرار کرنے لئے کافی تھا

“ترس آتا ہے مجھے تمہاری بے بسی پر۔۔۔چچ چچ ۔۔۔۔کچھ نہیں کر سکتے تم ۔۔۔۔۔ماہی میرا نصیب ہے جو مجھے مل چکا ہے ۔۔۔۔جیسے تم اسے میرا ہونے سے نہیں روک سکے ۔۔۔۔اور آج بے اختیار میرے سامنے کھڑے ہو ایسے ہی میری سانسوں پر بھی تمہارا ہر گز کوئی اختیار نہیں ۔۔۔۔”

کامران نے بھبکتے ہوئے میراگریبان دوبارہ پکڑ لیا

“تم جانتے ہی کتنا ہو مجھے ۔۔۔۔ کامران ہوں میں جو چاہے کر سکتا ہوں ۔۔۔۔ ماہم کو تم سے الگ کرنا تو کوئی بات ہی نہیں ہے میرے لئے “۔۔۔۔۔اسکی آنکھیں اور لہجے میں رعونت چھلک رہی تھی

” جاؤں جو کر سکتے ہو کر لو۔۔۔۔۔ماہی اسوقت میرے کمرے میں ہے وہ میری کتنی ملکیت ہے یہ مجھے تمہیں باوارں کروانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ آئندہ ماہی کے آس پاس بھی نظر آئے تو میں منہ توڑ دونگا تمہارا ۔۔۔۔میرا گریبان چھوڑو کامران ورنہ میں نے اگر پاپا سے کہہ دیاوہ ایک منٹ نہیں لگائیں گئے تمہیں یہاں نکالنے میں ۔۔۔۔اور انکے بغیر تو تم کچھ بھی نہیں ہو زیرو کو بلکل۔۔۔۔میری بات پر کامران کے چہرہ متغیر سا ہو گیا اس نے میرا گریبان چھوڑ دیا ۔۔۔۔

“دیکھ لوں گا تمہیں “

۔۔۔۔یہ کہہ کر کامران کمرے سے باہر نکل گیا

*******……..

“اچھا تو ٹھیک ہے ۔۔۔میں ۔۔۔۔میں سانسیس ہی چھین لوں گا تمہاری” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟پہلے کامران کی آواز میرے ذہن میں گونجی ۔۔۔۔۔پھر اس اجنبی کی کال کی آواز جس نے میری زندگی کو موت سے بدتر بنا کر رکھ دیا تھا

“بہت غرور ہے تمہیں اپنی جیت پر ۔۔۔۔ ۔۔۔۔کہا تھا نا میں تمہاری سانسیس چھین لوں گا تم اسے ۔۔۔۔۔آج میں تمہاری ایک ایک سانس تم سے چھین لوں گا عفان” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟

نہیں …..وہ شخص بھائی نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔کامران میرے ساتھ ایسا ہر گز نہیں کر سکتا ۔۔۔۔میں ۔۔۔میں سگا بھائی ہوں اس کا کوئی بھی سگا بھائی اپنے بھائی کی جان نہیں لے سکتا ۔۔۔۔شاید شاید میں غلط سوچ رہا ہوں ۔۔۔جذبات میں آ کر بہن بھائی کیا کچھ نہیں کر جاتے مگر کبھی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتے ۔۔۔۔۔۔میرا ذہن گہری نیند سے جاگ چکا تھا پھر وہی گپ اندھیرا ۔۔۔۔۔۔وہ ہی بے جان وجود۔۔۔۔۔ بے بسی ۔۔۔۔۔لا چاری ۔۔۔۔نا جانے کتنے دن بعد مجھے ہوش آیا تھا ۔۔۔۔ہوش کیا آنا ہے مطلب میرا ذہن ہی تو جاگا تھا ۔۔۔۔ورنہ بستر پر پڑا میرا نیم مردہ وجود بھلا کیا اہمیت رکھتا تھا ۔۔۔۔۔میں نے اپنی طرف سے ہلنے جلنے کی بہت کوشش کی مگر لا حاصل سی سعی تھی ۔۔۔۔۔اس اعصاب شکن کوشش سے میرا ذہن تھکنے لگا تھا خود کو جنبش دینا میرے قابو قدرت میں تھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔مگر میری اس ذراسی کوشش نے میرے دل کی دھڑکنوں کو بڑھا دیا ۔۔۔۔تیز تنفس کے باعث سانس لینے میں مجھے دشواری پیش آنے لگی ۔۔۔۔۔میں اب کھنچ کھنچ کر سانس لے رہا تھا اپنی حالت زار پر مجھے رونا آنے لگا ۔۔۔۔۔مجھے اس وقت اپنا سانس بھی کسی شکنجے میں پھڑپھڑاتے پرندے کی ماند لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیتا ۔۔۔مگر میں تو اس قابل بھی نہیں تھا کہ رو سکتا ۔۔۔ایک پل کویہ خیال گزرا کہ کاش میں مر ہی جاتا ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں دروازہ کھلنے کی چرچراہٹ سے میرے کان پوری طرح کھل گئے ۔۔۔۔پھر قدموں کی چاپ سنائی دی جو میری ہی جانب بڑھ رہے تھے ۔۔۔۔۔پل بھرکے بعد میری کلائی کسی کے ہاتھ میں تھی پھر شاید کسی کو یہ احساس ہوا کہ کہ میں سانس ٹھیک سے نہیں لے پا رہا ۔۔۔کچھ ہی پل میں میرے نتھنوں میں ہوا کا دباؤ بڑھ گیا ۔۔۔شاید کسی نے آکسیجن کی رفتار بڑھائی تھی پل بھر میں ہی مجھے اپنا سانس لینے میں جو دشواری درپیش تھی وہ کم ہونے لگی میرا سانس اعتدال پر آتے ہوئے محسوس ہوا یہ وہ واحد احساس تھا جس سے مجھے زندہ رہنے کا پتہ لگتا تھا ۔۔۔اسوقت میری شدت سے یہ خواہش تھی کہ میں کسی ذی روح کی آواز سنو ۔۔۔کوئی کچھ بھی بولے مگر بس بولے ضرور ۔۔۔۔۔۔شاید کوئی قبولیت کی گھڑی تھی کہ میری سماعت سے ایک نسوانی آواز ٹکرائی

“سر اب انکی ہارٹ بیٹ پہلے سے بہتر لگ رہی ہے ۔۔۔”۔کیا یہ میری ماہی کی آواز تھی ۔۔۔نہیں ۔۔۔شاید کوئی نرس ۔۔۔۔۔میں اپنے اندازے لگانے لگا

“ہمم ۔۔۔۔بس آپ انکو ریگولر چیک کرتی رہیے گا ۔۔۔”۔کسی بھاری مردانہ آواز نے اسکی لڑکی کو تاکید کی پھر کچھ کاغذوں کی الٹ پلٹ کی آواز آنے لگیں

“سر انکی فیملی ممبرز سے ان سےلنے کوئی نہیں آیا ۔۔”۔وہ لڑکی بولی

“مس رمشہ آپ کو جوائن کیے ہوئے ابھی ذیادہ دن نہیں ہوئے ہیں ۔۔۔۔اس لئے آپ کو ایسا لگتا ہے ۔۔۔چند دنوں میں آپ کو اندازہ ہو جائے گا ۔۔۔۔انکی وائف تو تقریبا روز ہی آتی ہیں اور پیرنٹس بھی ویکلی ضرور آتے ہیں “۔۔۔۔وہ مردانہ آواز شاید کسی ڈاکٹر کی تھی

“سر کتنا عرصہ ہو گیا انہیں یہاں” ۔۔۔۔وہ لڑکی میرے بارے میں ہی سوال کیے جا رہی تھی

“تقریبا تین ماہ ‘۔۔۔۔ڈاکٹر کا جواب سن کر میں حیران سا ہو گیا تو کیامیں پچھلے تین ماہ سے بے ہوش ہوں مجھے پریشانی سی لاحق ہونے لگی

“دیکھنے میں کتنے ینگ ہیں یہ ۔۔۔۔سر انہیں ہوا کیا تھا “

“ایکسڈینٹ پیشنٹ تھے ۔۔۔ جان تو بچ گئ مگر تب سے کومہ میں ہیں ۔۔۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ بھی تک ان میں کوئی پروگریس نہیں ہوئی ۔۔۔آپ کو تو معلوم ہے مس رمشہ کے ایسے پیشنٹ کے ہوش میں آنے کی کوئی مدت مقرر نہیں ہوتی کبھی تو چند دنوں یا مہینوں میں ہوش آ جاتا ہے تو کبھی سالوں بیت جاتے ہیں ۔۔۔۔اینی وئے اب یہ آپ کے انڈر میں رہیں گئے اب چلیں میں باقی پیشنٹ کی بھی تفصیل آپ کو بتا دوں” ۔۔۔۔کچھ دیر میں دروازہ کھل کر بند ہو کمرے پھر گہری چپ اور سناٹا سا چھا چکا تھا ۔۔۔۔۔اس موت سی خاموشی میں صرف مجھے ایک میشن کی ٹن ٹن کی آواز سنائی دے رہی تھی جو میری دھڑکنوں کے ساتھ چل رہی تھی ۔۔۔۔۔

“تو کیا میں کومہ میں تھا ۔۔۔۔۔لیکن میں سن سکتا ہوں میرا ذہن بھی بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔۔مجھے اپنے وجود پر چھونے کا احساس بھی ہوتا ہے پھر میں خود کو حرکت دینے سے قاصر کیوں ہوں ۔۔۔۔کیسی بے بسی ہے میرے مالک۔۔۔۔۔کیسی اذیت ہے یہ۔۔۔۔میں بس بے بسی سے سوچتا ہی رہ گیا۔۔۔۔۔۔اسکے بعد میرا ذہن روشن ہی رہا ۔۔۔۔۔۔کچھ میں خود بھی چوکس رہنا چاہتا تھا نا جانے اب اگر میں سو گیا تو نا جانے میرا ذہن کب جاگے گا ۔۔۔۔۔میں اب ماہی کی آمد کا منتظر تھا ۔۔۔۔۔وہ روز مجھ سے ملنے آتی تھی ۔۔۔۔۔اور مجھے خبر ہی نہیں ۔۔۔۔۔نا جانے کیسی ہو گی وہ ۔۔۔۔۔عمر کیساہو گا میرا بچہ ۔۔۔میرے ممی پاپا کامران نا جانے سب کس حال میں ہونگے ۔۔۔۔۔میرے دل میں شدت سے یہ خواہش اٹھنے لگی کہ لمحہ بھر میں ماہی میرے پاس آجائے ۔۔۔۔۔نا جانے کتنی دیر تک میں ذہنی طور پر جاگتا تھا ۔۔۔۔۔بستر پر لیٹے بھلا میرے لئے کہا۔ ممکن تھا دن اور رات کا اندازہ لگانا ۔۔۔۔مگر جب کمرے دروزہ دوبارہ کھلا قدموں کی چاپ سنائی دی ۔۔۔۔میر دل تیزی سے دھڑکنے لگا میرے سر کے اوپر لگی مشین میرے دل کی رفتار سے ساتھ تیزی سے چلنے لگی پھر ڈاکٹر رمشہ کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔

۔”نرس پلیز پردے ہٹائیے اور کمرے کی کھڑ کیاں بھی پوری کھول دیں” ۔۔۔۔کچھ دیر میں پردے ہٹنے کی آواز آئی پھر کھڑکیوں کے پٹ چرچراہٹ سے کھلے تازہ ہوا کا جھونکا مجھے اپنے چہرے پر محسوس ہوا ۔۔۔۔

“نرس “۔۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ کی آواز سنائی دی

“جی ڈاکٹر’ ۔۔۔۔دوسری آواز ایک بڑی عمر کی عورت کی تھی شاید وہ نرس تھی

“آپ کب سے یہاں ڈیوٹی پر ہیں ۔۔۔۔”

‘جب سے یہ صاحب یہاں ایڈمنٹ ہیں تب سے میری ڈیوٹی اسی وارڈ میں ہے ۔۔۔۔۔ورنہ کام تو میں کافی عرصے سے اس ہاسپٹل میں کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔”

“آپ روز یہاں کی صفائی کرواتی ہیں ‘

“جی جی اپنے سامنے کرواتی ہوں “

“اور یہ پردے بھی روز ہٹاتی ہیں کھڑکیاں کیا روانہ کھلتی ہیں یہاں کی “

“نہیں جی ۔۔۔۔'”

“کیوں ۔۔۔۔مریض کو ضرورت ہوتی ہے تازی ہوا کی “

“ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔۔او انہیں کیا فرق پڑتا ہے یہ کون سا ہوش میں ہیں’ ۔۔۔۔نرس ٹھیک ہے ہی تو کہہ رہی تھی مجھے فرق ہی کیا پڑتا تھا ۔۔۔۔میں نے افسردگی سے سوچا

“یہ کیا بات کی آپ نے یہ ایک زندہ انسان ہیں اور ہو سکتا انکی کچھ سنسز کام کر بھی رہے ہوں یہ سن رہے ہوں ہو سکتا ہے ان کا ذہن بھی کام کر رہا ہوں یہ محسوس بھی کر سکتے ہوں ۔۔۔۔آپ آئندہ روانہ کمرے کی کھڑیاں کھولیں گئ ۔۔۔۔۔اور پورے دن میں آپ کتنی بار اسکی ہارٹ بیٹ نوٹ کرتی ہیں کہاں ہے اس کا چارٹ ریکارڈ ۔۔”۔۔۔۔ڈاکٹر کی دو ٹاک باز پرس پر نرس کچھ منمنا کر بولی

“سوری ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔۔وہ اب میں نے کی ہی نہیں ۔۔۔شروع شروع میں تو میں باقاعدگی سے کرتی رہی تھی مگر آپ سے پہلے والی ڈاکٹر نے کبھی چیک ہی نہیں کی تو میں نے سوچا ۔۔۔۔۔۔”

“آپ نے سوچا چلو اچھا ہے جان چھٹی ۔۔۔۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کس ڈیوٹی پر معمور ہیں ۔۔۔۔یہاں روانہ لوگ زندگی اور جینے کی امید لیکر آتے ہیں ہمارے پروفشنل میں غلطی کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔نا ڈاکٹر کے لئے اور نا اسٹاف کے لئے ۔۔۔۔اس لئے مجھے آئندہ ایسی کوتاہی نہیں چاہیے۔۔۔۔”۔نرس کو اچھی خاصی جھاڑ سنانے کے بعد اس کے قدم میری جانب بڑھنے لگے

“ہیلو مسٹر عفان ۔۔۔۔۔میں ڈاکٹر رمشہ ہوں اور آج سے میں ہی آپ کے کیس کو ہینڈل کروں گی۔۔۔۔۔ “

“او ڈاکٹر جی آپ یہ تعارف نا بھی کروائیں تو بھی ٹھیک ہے ۔۔۔۔انہیں کون سا سنائی دیتا ہے ۔”۔۔۔نرس ہنستے ہوئے استزائیہ انداز سے بولی

“یہ آپ کیسے کہہ سکتی ہیں ہو سکتا ہے یہ مجھے سن رہے ہوں ۔۔۔۔۔اینی وئے انکی فیملی سے کوئی بھی انہیں ملنے آئے مجھے ضرور انفارم کجئیےگا ۔۔۔۔”۔ڈاکٹر اور نرس کچھ ہی دیر میں جا چکیں تھیں ۔۔۔۔ میرے دل میں انجانی سی خوشی محسوس ہوئی چلو شکر ہے کم از کم مجھے کسی نے زندہ تو تسلیم کیا ۔۔۔۔۔مجھے مخاطب تو کیا ۔۔۔۔۔مجھے اصل انتظار اپنی ماہی کا تھا اس بند اور خالی کمرے میں بس چند منٹوں کے لئے ہی ہلچل ہوتی تھی لوگوں کی بات چیت سے لگتا تھا کہ آس پاس زندگی موجود ہے مگر اسکے بعد ایک مکمل سکوت نا ختم ہونے والی خاموشی ۔۔۔میں ماہم کے انتظار کی سولی پر لٹکنے لگا ۔۔۔۔۔نا جانے کتنے پہر گزر گئے پھر اچانک سے کمرہ کھلا ۔۔۔۔وہ یقینا ماہم تھی ۔۔۔۔اس کے بڑھتے قدموں کے ساتھ میرے دل دھڑکنیں بھی بڑھنے لگیں ۔۔۔۔۔۔وہ ہی مانوس سا احساس وہ دل کی بیقراری جو ماہم کے ساتھ ہوتے ہوئے مجھے محسوس ہوتی تھی