458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 33

Tadbeer by Umme Hani

ماہم کو میری کسی کام میں دلچسپی نہیں تھی ۔۔۔۔نا وہ میری کوئی زمہ داری قبول کرنے کو تیار تھی زور میں خود ہی اپنے کپڑے نکالتا تھا بس ناشتے پر بھی وہ پاپا کی وجہ سے کچھ پوچھ لیتی تھی اور اگر پاپا مما جلدی ہی ناشتہ کر چکے ہوتے تو مزے سے اپنا ناشتہ کرتی رہتی مجھے اپنے لئے خود ہی سب کچھ کرنا پڑتا تھا آج میں پہلے ہی آفس سے لیٹ ہو چکا تھا اس لئے بنا ناشتے کے ہی آفس چلا گیا ۔۔۔۔۔میں ابھی سینڈوچ اور چائے میں ہی مصروف تھا جب قاسم میرے روم میں داخل ہوا ۔۔۔۔مجھے ناشتہ کرتے دیکھ کر سامنے بیٹھ گیا ہاتھ میں فولڈ کیا ہوا ڈراف سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔۔

“گھر والی نے ناشتے کی لفٹ نہیں کروائی آج ۔۔۔۔”قاسم میرے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا

“ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔بس کچھ لیٹ اٹھا تھا اس لئے…. بس کر چکا ہوں ختم “۔۔۔۔میں نے سینڈوچ کا آخری نوالہ منہ میں لیا اور پلیٹ سائیڈ پر رکھ کر سامنے رکھا ڈراف اٹھا کر کھول کر دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔میں ساتھ ساتھ قاسم سے ڈراف کے بارے میں ڈسکس کر رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ چائے بھی پی رہا تھا ۔۔۔۔قاسم کے فون پر کال آنے لگی۔۔۔۔۔

ہاں فاری بولو ۔۔۔۔”

“نہیں سبزی نہیں کھاؤں گا ۔۔۔میرے لئے سینگاپوری رائس بنا لو “۔۔۔۔۔قاسم نے فون بند کر دیا ڈراف کی پیچیدگیاں سمجھنے سمجھانے کے بعد میں نے قاسم سے یونہی بات شروع کی

“قاسم بھابی کیا روز تم سے یہ پوچھنے کیلئے فون کرتی ہیں کہ تم کھاؤں گے کیا” ۔۔۔۔مجھے یہ بات کچھ عجیب سی لگی تھی اس لئے میں نے قاسم سے پوچھ لیا

“ہاں ۔۔۔۔روز پوچھتی ہے ۔۔۔اسے اس بات کی فکر ہوتی کہ میں کیا کھاؤں گا اور کیا نہیں اور ہونی بھی چاہیے ۔۔۔۔پھر مجھے بھی اچھا لگتا ہے میرے آفس میں ہوتے ہوئے بھی میں اسکے خیالوں میں ہر وقت رہتا ہوں پورا دن اسے میرے ہی کاموں سے فرصت نہیں ملتی ۔۔۔۔۔قاسم کی بات پر میں سوچ میں پڑ گیا تھا ماہم کو میری ایسی کوئی پروا نہیں تھی *******………********………**************

صبح الارم سے میری آنکھ کھلی ۔۔۔میں نے الارم بند کیا برابر میں ماہم بے خبر سو رہی تھی ۔۔۔۔پچھلے پندرہ دن سے وہ میرے کمرے میں تھی مگر میرا کوئی بھی کام نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔اسے اپنی زمہ داریوں کا احساس تو ہونا چاہیے تھا ۔ ۔۔۔۔اس لئے اسے جگانے لگا

“اٹھو ماہی” ۔۔۔۔میں نے کندھے سے اسے ہلاتے ہوئے کہا

وہ کسمسا کر کروٹ بدل گئ

“ماہی اٹھو بھئ لیٹ ہو رہا ہوں میں ۔۔۔”

“تو میں کیا کرو ۔۔۔۔مجھ سے کیوں کہہ رہے ہو” ۔۔۔۔وہ خمار آلود لہجے سے بات کر رہی تھی

“اس لئے کہ تم بیوی ہو میری ۔۔”۔۔میری بات پر کروٹ بدل کر مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

“تم بار بار مجھ پر یہ نا بھی جتاو تب بھی مجھے معلوم ہے’ ۔۔۔۔وہ خفگی سے بولی

“اب تمہیں خود اپنی زمہ داریوں کا احساس نہیں ہے تو مجھے تو دلانا پڑے گا نا ۔۔۔۔اٹھ کر کپڑے نکالو میرے ۔۔۔۔”وہ اٹھ کر بیٹھ گئ

“مجھے نہیں کرنا تمہارا کوئی کام ۔۔۔خود کرو “۔۔۔۔یہ کہہ کر اس نے لحاف پیچھے کیا اور آٹھ کر سلیپر پہنے لگی ۔۔۔۔

“ماہی کپڑے نکالو میرے ۔”۔۔۔میں تحمکانہ لہجے سے کہتا ہوا واش روم میں چلا گیا ۔۔۔۔

“جب میں شاور لے کر باہر آیا تو وہ کمرے سے جا چکی تھی کپڑے بھی موجود نہیں تھے ۔۔۔ میں نے واڈراب سے کپڑے نکالے ۔۔۔۔ میں تیار ہو چکا تھا بس ڈائی پہنے لگا تھا جب ماہم اندر داخل ہوئی

“رضا انکل بلا رہیں ہیں تمہیں ۔۔۔۔انکی گاڑی خراب ہے تمہارے ساتھ اپنے آفس جائیں گئے” ۔۔۔۔ماہم مجھے پاپا کا پیغام دے کر پلٹنے لگی

“ماہی ادھر آؤ “۔۔۔۔میرے پکارنے پر وہ منہ پھلائے خفا خفا سی میرے سامنے کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔۔

“ٹائی باندھو میریں۔۔۔۔”

” ۔۔۔۔میں باندھو ۔۔۔۔کیوں “۔۔۔۔۔وہ حیرت سے چلا کر بولی

“اس لئے کہ یہ تمہاری زمہ داری ہے ۔۔۔۔”

“تمہاری ٹائی باندھنا ۔۔۔”۔وہ متعجب ہوئی

“میرا ہر کام اپنے ہاتھوں سے کرنا ۔۔۔”

“مجھے نہیں آتی ٹائی باندھنی “

“میں سیکھاتا ہوں تمہیں کہ کیسے باندھتے ہیں

“مجھے نہیں سیکھنا عفان اتنا تو تم خود بھی کر” سکتے ہو

“مجھے بحث نہیں سنی تم سے “۔۔۔۔میرے سخت لہجے پر وہ مجھے تاسف سے دیکھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔ناشتے پر بھی میں نے ایک نئ فرمائش اس کے سامنے رکھ دی

“مجھے چیز آملیٹ کھانا ہے ۔۔۔۔ماہی “

ماہم مجھے گھورتے ہوئے ٹیبل سے اٹھ کر چلی گئ ۔۔۔پاپا ڈرائیور سے فون پر بات کر رہے تھے جو انکی گاڑی ٹھیک کروانے ورک شاپ لیکر گیا تھا ۔۔۔کچھ ہی دیر میں چیز آملیٹ میرے سامنے رکھ کر ماہم کپ میں میرے لئے چائے ڈالنے لگی آملیٹ کا پہلا نوالہ لیکر میں نے کھا جانے والی نظروں سے ماہم کو دیکھا ۔۔۔آملیٹ میں نمک اتنا تیز تھا کہ آملیٹ کا ذائقہ کڑوا لگنے لگا تھا ۔۔۔۔پاپا کا فون بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔

“یہ کیا بنایا تم نے ۔۔۔۔اتنا تیز نمک ۔۔۔۔”میری بات پر وہ مصنوعی حیرت چہرے پے سجائے ایسے بولی جیسے خود بھی انجام ہو

“اچھا پتہ نہیں شاید ہو گیا ہو گا تھوڑا سا تیز ۔۔۔”۔ماہم کی معصومیت پر میں کڑ کے رہ گیا ۔۔۔۔

“کوئی بات نہیں عفان اگر نمک کچھ تیز ہو بھی گیا ہے تو ۔۔۔۔پاپا نے بھی لاپروائی سے کہا

“کچھ تیز ۔۔۔۔پاپا یہ آپ کھا کر دیکھیں”میں نے پلیٹ پاپا کے سامنے رکھ دی

“نہیں رضا انکل آپ نہیں کھائیں گئے آپ کا بی پی ہائی ہو جائے گا اس میں نمک بہت تیز ہے “۔۔۔۔ماہم برجستہ بولی اپنی غلطی کا وہ خود اعتراف کر چکی تھی

۔۔۔”۔غلطی سے ڈل جانے والے نمک اور جان بوجھ کر تیز ڈالنے میں فرق ہوتا ہے ۔۔۔۔آپ چکھیں اسے” میں نے پاپا سے کہا ۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ پاپا وہ آملیٹ کھاتے۔۔۔ ماہم نےپلیٹ اٹھا کر سائیڈ کر رکھ دی ۔۔۔

انکل آپ یہ نہیں کھائی گئے ۔۔۔۔”

۔پاپا اب ماہم کو خشمگین نظروں سے دیکھ رہے تھے اور وہ کچھ شرمندہ سی نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔

“کیوں بٹیا ۔۔۔۔کیوں کیا ایسا ۔۔۔۔”

ماہم آنسوں بہانے لگی

“انکل یہ بہت ڈانٹنے لگا ہے مجھے ۔۔۔۔خواہمخواہ رعب جماتا ہے مجھ پر۔۔۔۔۔ بس ۔۔۔۔مجھے غصہ آ گیا تھا ۔۔”۔اپنی غلطی کا اعتراف وہ خود کر چکی تھی ۔۔۔

“کیوں عفان ۔۔۔۔”

“یہ بھی آپ اپنی چہتی سے پوچھیے ۔۔۔۔پاپا یہ میرا کوئی کام نہیں کرتی ہے ۔۔۔۔اس کی بھی کچھ زمہ داریاں ہے بھی کہ نہیں کتنے دنوں سے میں چپ ہوں اگر میں اسے کچھ کہہ بھی دوں تو صاف انکار کر دیتی ہے ۔۔۔۔اود یہ سب یہ کیوں کر رہی ہے وہ آپ اسی سے پوچھ لیں “۔۔۔۔میری شکایت پر مما برا مناتے ہوئے بولیں

“تم کیا شروع ہو گئے ہو عفان ۔۔۔۔آہستہ آہستہ سمجھ جائے گی ۔۔”۔۔مما نے مجھے دانٹتے ہوئے کہا

“نہیں صفیہ ۔۔۔۔تم غلط شے مت دو چپ رہو ۔۔۔۔ماہم اتنی غیر ذمہ دار پہلے کبھی تھی ہی نہیں ۔۔۔۔”پاپا کے سخت لہجے پر مما خاموش ہو گئیں

“کیوں بٹیا ۔۔۔۔کیا ہے یہ سب ۔۔۔۔اور مجھے تو یقین نہیں آ رہا .عفان کی بات پر ….بہرحال تم سے میں ایسی توقع ہر گز نہیں کر سکتا تھا تم نے پہلے کبھی ایسی شکایت کا موقع ۔نہیں دیا “پاپا کی بات پر وہ مزید شرمندہ ہونے لگی

“ایم سوری انکل ۔۔۔۔آئندہ آپکو شکایت نہیں ہو گئ ۔۔”۔۔وہ آنسوں بہاتے ہوئے یہ کہہ کر ڈائنگ روم سے باہر چلی گئ میں نے چائے کا کپ اٹھا کر پہلا گھونٹ لیا تو بے تحاشہ چینی کی وجہ سے واپس رکھ دیا ۔۔۔۔۔

“تمہیں ضرور شکایت لگانی تھی اسکی ناشتہ بھی نہیں کیا میری بچی نے ۔”۔۔۔ممامجھ پر غصہ ہونے لگیں۔۔۔۔

“یہ بچی بچی کہہ کر آپ ہی نے سر پر چڑھا رکھا ہے اسے ۔۔۔۔چائے پی کر دیکھیں ذرا کتنی میٹھی ہے ۔۔۔میں۔ بھی غصے سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔۔۔غصے کے مارے آفس میں بھی کچھ نہیں کھایا ۔۔۔۔۔کچھ دیر یونہی فائلیں الٹ پلٹ کرتا رہا ۔۔۔۔پھر قاسم کے ساتھ سائٹ چلا گیا یہ ہمارا آخری پروجیکٹ تھا قاسم کے والد کی فارم میں کیونکہ پاپا ہمارا آفس بنو چکے تھے اسکا کام بھی بس آخری مراحل میں تھا پھر ہمہیں وہیں شفٹ کرنا تھا ۔۔۔۔واپس آتے ہوئے ہمیں شام ہو چکی تھی ۔۔۔۔آفس پہنچتے ہی میں نے ماہم کو کال کی ۔۔۔مگر اس نے رسیو نہیں کی لیکن جب میں مسلسل اسے کال کرتا رہا تو بلا آخر اس نے اٹھا ہی لیا مگر بولی روکھے سے لہجے سے

“کیا ہے عفان میں فارغ نہیں ہوں اس وقت جو بار بار فون ہے فون کیے جا رہے ہو ۔”۔۔۔اس کا تنا ہوا لہجہ مجھے مزید تپا گیا تھا ۔۔۔۔

“ڈنر میں کیا بنایا ہے تم نے ۔۔”۔

“تمہیں اس سے کیا ۔۔۔۔”

“میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے ۔۔۔بہتر ہے کہ سیدھا جواب دو مجھے “

“چکن قورمہ اور کباب ہیں”

“مجھے نہیں کھانے یہ۔۔۔۔ میرے لئے سینگاپوری رائس بنا لینا ۔۔۔’۔میں نے چند دن پہلے قاسم کی ۔۔۔فاریہ کو کی جانے والی فرمائش ماہم کے سامنے رکھ دی

“عفان میں ڈنر تیار کر چکی ہوں ۔۔۔۔تمہیں پہلے بتانا چاہیے تھا ۔۔۔۔’

“تم نے کبھی مجھ سے پوچھنے کی زحمت کی کہ مجھے کیا کھانا ہے اور کیا نہیں …۔بس جو میں نے کہا ہے میں وہی کھاؤ۔ گا “

‘عفان میں نہیں۔ بناؤں گی “

“کیا کہا تم نے ۔۔۔نہیں بناؤ۔ گی تو رات کو پاپا جواب دینے کے لئے تیار رہنا” ۔۔۔۔یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا ۔

“۔۔۔نا جانے خود کو سمجھتی کیا ہے ۔۔۔۔ذرا میری فکر نہیں ہے اسے ۔۔۔۔ایسی ہوتی ہیں بیویاں ۔۔۔۔

کامران کے کام تو منگنی ہونے پر بھی دوڑ دوڑ کر کرتی تھی ۔۔۔اسکی پسند کی ڈشز بنانے میں پورا دن خود کو کچن میں ہلکان کر دیتی تھی ۔۔۔اور میں ۔۔۔۔میری پسند ۔۔۔۔۔۔ہنہ ۔۔۔۔۔محبت جو نہیں ہوں میں اسکی” ۔۔۔میں نے خود ہی جل کر اس کا جواب سوچا ۔۔۔۔پین پکڑ کر دوبارہ ٹیبل ہے پٹخ دیا

“۔مگر پھر بھی شوہر تو ہوں نا اس بات کا ہی لحاظ رکھنا چاہیے ” ۔۔۔۔میں اپنے اندر کڑنے کرنے لگا ۔۔۔۔۔سامنے ٹیبل پر رکھی فائنل اٹھا کر دوبارہ ٹیبل پر پٹخ دی پورا دن اسٹاف کی شامت میرے ہاتھوں آتی رہی ۔۔۔۔رات کو ڈنر پر سینگا پوری رائس دیکھ کر مجھے اچھا لگا تھا کہ اسے میری کچھ تو پروا ہے مگر ماہم کے ناراض ناراض چہرے کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس نے یہ سب میری فکر کے بجائے پاپا کے ڈر کی وجہ سے کیا ہے ۔۔۔۔شدید بھوک کے باوجود میں نے بس بے دلی سے ہی کھانا کھایا ۔۔۔۔رات کو اپنا نائٹ سوٹ نکالنے کے لئے جب میں نے اپنا کبڈ کھولا تو بے ترتیب کپڑوں کو دیکھ کر میرا غصہ پھر سے بڑھنے لگا ۔۔۔۔۔اور جب مجھے یہ یاد آتا کہ وہ کامران کے واڈروب کو روز چیک کرتی تھی کہ کہیں اسکے کپڑوں کی ترتیب خراب تو نہیں ہے کیونکہ وہ بہت صفائی اور نفاست پسند تھا ۔۔۔۔مجھے اپنا کبڈ منہ چڑھاتا ہوا محسوس ہونے لگا ۔۔۔۔میں کمرے سے نکل کر چلا کر سیڑیوں سے نیچے ماہم کو پکارنے لگا

“ماہی ماہی ” ۔۔۔۔وہ کچن میں۔ مصروف تھی دوڑتی ہوئی لاونج میں آئی ۔۔۔

“کیا ہے عفان کیوں شور مچا رہے ہو “۔۔۔۔وہ اپنے اپرن سےگیلے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولی

“اوپر آو ذرا ۔۔۔۔

“ابھی نہیں آ سکتی کچن کا کام سمیٹ کر آؤ۔ گی”

“ابھی اسی وقت اوپر آؤں ماہم ۔”۔۔۔میرے غصے اور تحکم پر وہ پیچ وتاب کھاتی ہوئی اوپر آ گئ ۔۔۔۔میں کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔

“کیا ہے تمہیں ۔۔۔۔کیوں چلاتے رہتے ہو ہر وقت مجھ پر ۔۔۔۔تمہارے علاؤہ اور بھی بہت سے کام ہوتے ہیں مجھے ۔۔۔”۔

“میرے علاؤہ ہی تو ہر کام کی فکر ہے تمہیں ۔۔۔میرا کرتی کیا ہو تم۔۔۔۔۔” میں غصے سے بھپر کر بولا

“کچھ نہیں کرتی۔۔۔۔ ابھی جو رائس تم کھا رہے تھے وہ بھی میں نے اپنی خواہش پر ہی تو بنائے تھے” ۔۔۔۔ماہم کا مجھے یوں جتانا مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔

“تو یہ فرض ہے تمہارا ۔۔۔۔احسان نہیں کیا تم نے مجھ پر ۔۔۔میرا کبڈ دیکھا ہے تم نے ۔۔۔۔۔۔وہ تمہیں نظر نہیں آتا کتنا بکھرا پڑا ہے ۔۔کیونکہ کبھی کھول کر دیکھو تو نظر آئے نا تمہیں ۔۔۔۔کمرے کی بیڈ شیٹ چینج کیے ہوئے پورے آٹھ دن گزر چکے ہیں یہ بھی تمہیں نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔مجھے صبح کیا پہنا ہے اسکی کوئی پروا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔میں کب اٹھتا ہوں کب تیار ہو کر آفس چلا جاتا ہوں تمہیں کب خبر ہوتی ہے اس بات کی ۔۔۔۔۔صرف پاپا کے سامنے تم مجھے ناشتے دینے کی زحمت کر لیتی ورنہ تمہیں میری کوئی فکر نہیں ہے ” ۔۔۔۔۔۔میں کئ دنوں سے یہ سب برداشت کر رہا تھا ۔۔۔۔پھر جب جب مجھے یہ یاد آتا کہ وہ کامران کے لئے فکرمند رہتی تھی میرا اشتعال بڑھنے لگتا ۔۔۔۔میری کسی بات پر وہ کچھ نہیں بولی ۔۔۔۔چپ رہی ۔۔۔۔چپ چاپ واپس پلٹ کر کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔میں اپنا دل جلائے نائٹ سوٹ پہن کر لیٹ گیا ۔۔۔۔غلط کیا میں نے مجھے ماہم سے شادی کرنی ہی نہیں۔ چاہیے تھی ۔۔۔۔بنی رہتی اس کامران کے ہاتھ کا کھلونا ۔۔۔۔پاگل تھا میں جو ماہم کی فکر میں گھل رہا تھا۔۔۔۔۔۔وہ کبھی اس بیوفا کو نہیں بھولے گئ ۔۔۔۔اور میں ۔۔۔۔۔میں کوئی فرشتہ تو ہوں نہیں ۔۔۔۔جو یہ سب برداشت کروں گا “۔۔۔۔۔اسکی کامران کے لئے فکر مندی اور مجھ سے بے توجہی میری جان جلانے لگی تھی ۔۔۔۔”اگر اسکی شادی کامران سے ہوتی تو کیا یوں کرتی اسکے ساتھ جیسا میرے ساتھ کرتی ہے ۔۔۔۔یقینا نہیں کرتی ۔۔۔۔۔مگر میری فکر کیوں کرے گی ۔۔۔۔بات تو ساری محبت کی ہے ۔۔۔۔چاہے کامران نے اس سے جھوٹی ہی کیوں نا کی ہو ۔۔۔۔اسے بس وہی نظر آئے گا ۔۔۔میں اپنی تمام تر اچھائیوں کے ساتھ بھی اسکے دل میں وہ مقام حاصل نہیں۔ کر سکتا جس کا میں حق رکھتا ہوں ۔۔۔۔۔غصے سے میرےدماغ کی کھولن بڑھنے لگی ۔۔۔۔جب وہ کمرے میں آئی میں نے اپنی سائیڈ کا لمپ آف کر دیااور کروٹ بدل کر سو گیا ۔۔۔۔۔

******……….

اگلے روز جب میں اٹھا تو ماہم کمرے میں نہیں تھی مگر میرے کپڑے ہنگ ہوئے بیڈ پر موجود تھے ۔۔۔۔۔میرا والٹ ۔۔۔۔۔چشمہ گاڑی کی چابی ہر چیز موجود تھی ۔۔۔میں کپڑے چینج کر کے آیا ڈرسنگ کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا جب ماہم اندر داخل ہوئی بیڈ پر رکھی میری ٹائی اٹھا کر میرے سامنے کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔کچھ جھجکتے ہوئے ٹائی میری شرٹ کے گلے میں۔ ڈالنے لگی ۔۔۔۔

“مجھے ٹائی پہنانی نہیں آتی” ۔۔۔۔وہ دھیرے سے بولی ۔۔۔میں اسے ٹائی پہنانا بتانے لگا ۔۔۔۔ٹائی پہنانے کے بعد میرا کوٹ اٹھا کر مجھے پہنا کر کمرے کے دروزے تک جا کر رک گئ

“ناشتے میں کیا لو گئے تم ۔۔۔۔”

“کچھ مت بناؤں جو ہے وہی لے لوں گا “۔۔۔۔میرے جواب پر وہ باہر چلی گئ ۔۔۔۔بس اسکی اتنی عنایتیں بھی کافی تھی میرا موڈ بحال کرنے کے لئے ۔۔۔۔ڈائنگ پر میرے بیٹھتے ہی وہ مجھے ناشتہ سرو کرواتی رہی ۔۔۔۔۔شام کو واپسی پر میرا وارڈرواب بھی بلکل ٹھیک تھا۔۔۔اب میرے چھوٹے موٹے کام بھی خاموشی سے کر دیتی تھی ۔۔۔۔بس پہلے کی طرح مجھ سے باتیں نہیں کرتی تھی لڑتی بھی نہیں تھی فرمائشیں بھی چھوڑ دیں تھیں ۔۔۔۔۔یہ بات بھی میرے لئے تکلیف کا باعث تو تھی مگر میں بھی چپ تھا ۔۔۔۔اسے وقت دینا چاہتا تھا

*******……..*******……..*******…….*****

کامران نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا تھا جب پاپا نے اسے نیچے شفٹ ہونے کا عندیہ سنایا

“میں کیوں نیچے جاوں پاپا۔۔۔۔جب میرا کمرہ بچپن سے اوپر ہی سیٹل ہے ۔۔۔۔”

‘اس لئے کہ میں ایسا چاہتا ہوں” ۔۔۔۔۔پاپا کا لہجہ ذرا سا اونچا ہو گیا ۔۔۔ہم سب ہی لاونج میں بیٹھے تھے سوائے ماہم کے جب پاپا نے کامران سے کہ بات شروع کی مگر وہ تو ہتھے سے اکھڑ گیا

“وہی میں جاننا چاہتا ہوں آپ اب کیوں چاہتے ہیں “۔۔۔۔کامران اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہیں تھے

“کامران میں بحث سنا نہیں چاہتا “

‘پاپا مجھے اپنے کمرے کی عادت ہے ۔۔”۔۔

“دو چار دن میں نیچے رہنے کی بھی عادت ہو جائے گی۔۔۔۔۔’

‘پاپا آپ ۔۔۔۔’

“کامران یا تم نیچے رہو گئے یا پھر گھر سے باہر ۔۔۔۔فیصلہ میں تم پر چھوڑتا ہوں” ۔۔۔۔۔ پاپا کے حتمی لہجے پر کامران تلملا کر لاونج سےاٹھ کر اوپر چلا گیا اگلے روز وہ نیچے شفٹ ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

“چند دن بعد ہی میں مما پاپا کے ساتھ باہر لان میں بیٹھا باتوں میں مصروف تھا جب کامران گاڑی میں اندر داخل ہوا ۔۔۔۔رات کو آفس سے واپس آنے کے بعد وہ کھانا کھاتے ہی پھر باہر نکل جاتا تھا ۔۔۔۔پھر رات کو دیر سے ہی لوٹتا تھا ۔۔۔۔اب بھی کامران سیدھا لاونج میں جانے لگا مگر پاپا کے بلانے پر پلٹ کر واپس آ گیا

“بیٹھوں کامران ۔۔۔۔کچھ بات کرنی ہے تم سے “

وہ خاموشی سے میرے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا پاپا نے چند لڑکیوں کی تصویریں اسکے سامنے اس شرط پر رکھیں کہ اگر وہ گھر پر رہنا چاہتا ہے تو ان تصاویر میں سے کسی بھی لڑکی کو پسند کر کے شادی کر لے ۔۔۔۔کامران نے ایک درشتی کی نگاہ مجھ پر ڈالی پھر وہ تصویریں دیکھنے لگا ۔۔۔۔کامران میں ان میں سے ایک لڑکی کی تصویر انکے سامنے رکھ دی ۔۔۔وہ لڑکی سب میں خوبصورت تھی ۔۔۔۔

“اس سے کر دیں میری شادی ۔”۔۔۔یہ کہہ کر کامران اٹھ کر چلاگیا ۔۔۔۔۔

*******………..********……….*******……..***کامران کا رشتہ وہاں طے ہو گیا تھا جہاں اس نے چاہا تھا چند ہی روز میں منگنی کی ایک چھوٹی سی تقریب پاپا نے گھر پر منعقد کی تھی ۔۔۔۔کامران سچ میں خوش تھا یا ایکٹنگ کر رہا تھا مگر باظاہر اپنی خوشی اظہار ہی کر رہا تھا ۔۔۔۔منگنی کی شاپنگ بھی اس نے آگے بڑھ چڑھ کر کی تھی ۔۔۔۔جب سے کامران کی بات پکی ہوئی تھی ماہم کچھ ذیادہ ہی چپ چپ سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔مما کے کہنے پر ماہم نے کامران کی منگنی پر ایک خوبصورت سی ریڈ کلر کی ساڑھی پہنی تھی تیار ہو کر جیسے ہی وہ کمرے سے نکلنے لگی میں اسی وقت کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔ایک نظر ماہم پر ڈالی وہ بہت لائٹ سے میک اپ میں بہت اداس سی لگ رہی تھی جیسے بہت بے دلی سے تیار ہوئی ہو ۔۔۔کانوں میں بڑے سے آوزیے پہنے تھے ۔۔۔۔۔بال کو بھی کلپ لگا رکھا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔مجھے اسکے کانوں میں پہنے آویزے پسند نہیں آئے تھے ۔۔۔۔

“ماہی کانوں میں چھوٹے سے ٹاپس پہن لو وہ ذیادہ اچھے لگیں گئے ۔۔۔”

“مجھے زیادہ اچھا لگنا بھی نہیں ہے ۔۔۔۔”وہ باہر جانے لگی مگر میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔

“ادھر آؤں ۔۔۔تمہیں آج بہت خوبصورت لگنا ہے “میں اس کا ہاتھ تھامے ڈرسنگ کے قریب لے آیا ۔۔۔۔میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی کویہ محسوس ہو کہ وہ خوش۔ نہیں۔ ہے ۔۔۔۔

“عفان “وہ جھنجھلائی تھی

“کیا عفان ہاں ۔۔۔۔چپ چاپ بیٹھو یہاں پر “میں اسے کندھوں سے پکڑ کر ڈرسنگ کے سامنے بیٹھایا دراز سے اس کا جیولری بکس نکالا گولڈ کا نازک سا سیٹ اسے خود پہنایا ۔۔۔۔وہ چپ چاپ بیٹھی رہی ۔۔۔

پھر کانچ کی چوڑیاں اسے پہنائیں ۔۔۔۔بالوں کے لگے کلپ کو بھی اتار کر ڈرسنگ پر رکھ دیا ۔۔۔۔دوبارہ سے اس کا جائزہ لیا ۔۔۔

“ہمم۔۔۔۔اب بلکل پرفیکٹ لگ رہی ہو ۔۔۔۔وہ غصے سے مجھے گھورتے ہوئے کھڑی ہو گئ ۔۔۔کمرے سے ہم دونوں اکھٹے ہی باہر نکلے تھے

۔۔۔۔۔باہر لان میں جاتے ہوئے میں نے ماہم کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔میں چاہتا تھا کہ وہ میرے ساتھ میرا ہاتھ تھامے لان میں داخل ہو کامران سے اس کا سامنا اس واقع کے بعد دوبارہ نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔مگر اب موقع ایسا تھا کہ اس نے کامران کا بھی سامنا کرنا تھا میں نہیں چاہتا تھا کہ ماہم اسے دیکھ کر کمزور پڑے ۔۔۔۔میں نے لان میں جاتے ہی ماہم۔ کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔خلاف توقع ماہم نے نا تو مجھ سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی نا ہی کوئی اعتراض کیا ۔۔۔۔میں اسکا ہاتھ تھامے ہی سب سے مل رہا تھا ۔۔۔۔ کامران کے سسرال والوں کے ساتھ اسکی منگیتر نائلہ بھی آ رہی تھی منگنی کی رسم بھی یہیں ادا ہونی تھی ۔۔۔کامران اسٹیج کے آس پاس ہی رہا وہیں سب سے ملتا رہا ماہم نے ایک بار بھی کامران کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ سب سے مسکرا کر مل رہی تھی ہنس بھی رہی تھی مگر کچھ تو تھا اسکے چہرے پر اسکی آنکھوں میں ۔۔۔۔مجھے اند ہی اندر کچھ ہوا تھا ۔۔۔۔میں نے دوبارہ ماہم کی جانب غور سے دیکھا ہی نہیں جو کچھ اسکی آنکھیں اور ہنستے چہرے کے پیچھے چھپا تھا ۔۔۔۔مجھے وہ نہیں دیکھنا تھا ۔۔۔۔میرا دل بڑی زور سے دھڑکنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ خوش نہیں تھی ۔۔۔۔۔ہنستے ہوئے بھی اسکی آنکھوں میں۔ آنے والی نمی میں صاف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔کیوں ہے یہ سب ۔۔۔۔ماہم آخر بھول کیوں نہیں جاتی اسے ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں قاسم اور فاریہ بھی وہاں پہنچ گئے ۔۔۔فاریہ پھر ماہم کے ساتھ ہی رہی ۔۔۔۔و,ہیں مجھے قاسم نے یہ خوشخبری سنائی

“مبارک ہو تمہیں ۔۔۔۔تم چاچا بننے والے ہو “۔۔۔۔میں نے یہ سن کر اسے گلے لگا کر مبارک باد دی وہ واقع بہت خوش تھا

“یہ ہر خبر تم بنا منہ میٹھا کرائے اچانک سے یوں دھماکے کی طرح کیوں سناتے ہو ۔۔اپنی شادی کی خبر بھی ایسے منحوس انداز سے سنائی تھی”۔۔۔میں نے خفگی سے کہا تو وہ زور سے ہسنے لگا

“چلو تم بھی ایسی ہی ایک خبر سنا کر بدلہ پورا کر لو ۔۔۔میں تمہارا منحوس منہ میٹھائی سے بھر دونگا “۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے معنی خیز انداز سے بولا کچھ ہی دیر میں کامران کے سسرال والے بھی پہنچ گئے تھے نائلہ کو اسٹیج سے لیکر سامنے رکھے صوفے تک کامران خود ہاتھ تھامے لے کرگیا تھا ۔۔۔منگنی کی رسم کے وقت میں اور ماہم ساتھ ہی کھڑے تھے ۔۔۔انگوٹھی پہناتے وقت ماہم کی نظریں کامران پر ہی ٹکی ہوئیں تھیں بنا آنکھیں جھپکائے کسی مجسمے کی طرح کامران کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔وہ لمحات میرے دل پر کوڑے برسا رہے تھے ۔۔۔۔انگوٹھی پہناتے ہوئے کامران نے ایک نظر ماہم کی طرف دیکھا اسکی جاندار مسکراہٹ ماہم پر نا جانے کیا جتانا چاہ رہی تھی ۔۔۔۔ماہم نے میرا ہاتھ زور سے پکڑ لیا اسکے سرد اور پسینے سے تر ہاتھ اس وقت بری طرح کپکپا رہے تھے میں نے اپنی گرفت اسکے ہاتھ پر مضبوط کر لی ۔۔۔میری نظر ماہم اور کامران کی جانب ہی تھی ۔۔۔کامران نے مسکراتے ہوئے انگوٹھی نائلہ کے ہاتھ تھامے اسے پہنائی ۔۔۔تالیاں کے شور میں بھی ماہم کی سسکی میں نے واضع طور پرسنی تھی اسوقت میرے دل کی کیا حالت تھی میں کس کرب سے گزر رہا تھا ۔۔۔۔یہ میں جانتا تھا ۔۔۔۔ماہم کا اترا ہوا چہرا دھواں دھواں ہوتی آنکھیں دیکھ کر میرا دل بجھ کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔کامران کی باتوں کے سچ ثابت ہونے کا قلق مجھے ہونے لگا ۔۔۔۔اسوقت کامران دل ہی دل میں۔ بہت خوش ہو گا ۔۔۔۔وہ جو تکلیف مجھے دینا چاہتا تھا وہ دے رہا تھا ۔۔۔ماہم میری ہو کر بھی ۔۔۔۔ دل سے کامران کے لئے تڑپ رہی تھی اور یہ سب برداشت کرنا میرے لئے کسی عذاب سے کم تو نہیں تھا ۔۔۔۔میرے گلے میں گرہیں سی پڑنے لگیں ۔۔۔۔۔

فاریہ ماہم کے پاس آ گئ ۔۔۔

“چلو ماہم کھانا لگ چکا ہے ۔”۔۔۔فاریہ کی بات پر وہ بری طرح چونکی تھی ۔۔۔۔

‘ہمم ۔۔۔۔ہاں۔۔۔چلو” ۔۔۔میرا ہاتھ چھوڑ کر وہ فاریہ کے ساتھ چلی گئ ۔۔۔۔میں نے بھی قاسم کے ساتھ چند نوالے ہی حلق سے اتارے تھے ۔۔۔۔۔۔کھانے کے بعد مہمانوں کے رخصت ہوتے ہی سب سے پہلے ماہم ہی غائب ہوئی تھی ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں لان مہمانوں سے خالی ہو چکا تھا ۔۔۔۔کامران بھی اپنے کمرے میں جا چکا تھا ۔۔۔۔لیکن میں وہیں لان میں رکھی ایک کرسی پر بیٹھا رہا ۔۔۔۔کیا کبھی میں ماہم کے دل سے کامران کی محبت کو نکال بھی پاوں گا کیا کبھی وہ مجھ سے محبت بھی کرے گی کافی دیر میں انہیں سوچوں میں گم رہا ۔۔۔۔میں رات کو دیر سے کمرے میں گیا تھا ۔۔۔وہ اب بھی انہیں کپڑوں میں بیٹھی رو رہی تھی جو اس نے اس تقریب میں پہنے تھے ۔۔۔۔مجھے دیکھ کر گھبرا کر فورا سے آنسوں صاف کرنے لگی ۔۔۔میں نے بھی اس سے رونے کی وجہ نہیں پوچھی۔۔۔چپ چاپ بیڈ پر بیٹھ گیا مگر میرے چہرے پر پھیلی نا گواری وہ شاید دیکھ چکی تھی اس لئے خود ہی وضاحتیں دینے لگی

“وہ ۔۔۔بار بی کیو ۔۔۔۔بن رہا تھا باہر ۔۔۔۔۔اس کا دھواں میری آنکھوں میں چلا گیا شاید ۔۔۔۔نا جانے کیا ہوا ہے آنکھوں سے پانی نکلی جا رہا ہے کب سے ۔۔۔۔میں دھو کر آتی ہوں ٹھیک ہو جائے گا “۔۔۔۔وہ بھرائی ہوئی آواز سے کہہ کر واش روم میں چلی گئ ۔۔۔یہ دھواں کہاں سے اٹھ رہا تھا اور آنکھوں سے پانی کیوں بہہ رہا تھا یہ مجھ سے بہتر کون جان سکتا تھا ۔۔۔۔لیکن اگر وہ چھپانا چاہ رہی تھی تو ٹھیک ہی کر رہی تھی مجھے بھی نظر انداز کرنا چاہیے ۔۔۔۔میں نے خود کو سمجھانا چاہا ۔۔۔وہ چینج کر کے لیٹ چکی تھی میں بھی کپڑے تبدیل کر کے لیٹ گیا۔۔۔نیند تو ویسے ہی أنکھوں سے غائب تھی مگر پھر بھی میں سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔مگر ماہم کی سوں سوں کی آوازیں مسلسل میری سماعتوں سے ٹکرانے لگیں ۔۔میرا دل پھر سے بے چین ہونے لگا جسے بڑی مشکل سے میں نے مطمئن کیا تھا

“کیا ہوا ماہی طعبیت ٹھیک ہے تمہاری” ۔۔۔۔میں نے لیٹے لیٹے ہی پوچھا

“ہاں ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔شاید۔۔۔۔ فلو ہو گیا ہے” ۔۔۔۔۔اسکے ابہام بھرے جواب پر میں خاموش ہوگیا ۔۔۔۔

“تم ڈسٹرب ہو رہے ہو ۔”۔۔ماہم نے کروٹ میری جانب لے کر پوچھا

“ہاں بہت ڈسٹرب ہو رہا ہوں” ۔۔۔میں نے ذرا سخت لہجے میں کہا

۔۔۔۔پہلے تو میرا جی چاہا اچھا خاصا ڈانٹ دوں ماہم کو ۔۔۔۔یا ایسی کھری کھری سناؤں کہ سارا رونا دھونا ہی بھول جائے۔۔۔۔پھر یہ خیال آنے لگا کہ وہ مجھ سے چھپانے کی کوشش تو کر رہی ہے کیوں ڈانٹو اسے۔۔۔۔پھر یہ خیال بھی تنگ کرنے لگا کہ میرے سوا اسکا کوئی دوست اور سہیلی بھی نہیں ہے جس سے وہ دل کی بات بلا جھجک کر سکے کیوں نا اسکی بات سن لوں اسکے دل کا بوجھ کم ہو گا تو خود ہی چپ ہو جائے گی ۔۔۔مگر پھر وہی شوہر والی انا جاگ اٹھی کہ میں کیوں اسکے منہ سے کامران کی محبت کی داستان سنو روتی ہے تو روتی رہے خود ہی چپ ہو جائے گی ۔۔۔کچھ دیر اسی کشمکش میں گزر گئے ۔۔ماہم کروٹ بدل چکی تھیں۔۔۔۔۔آخر کار میں نے فیصلہ کر ہی لیا کہ ماہم کی بات سن لینی چاہیے ۔۔۔۔غیرت مند اور انا پرست شوہر کو بڑی مشکل سے تھپتھپا کر سلایا اور خود اٹھ کر بیٹھ گیا

“اٹھو ماہی ۔۔۔۔”

“کیا ہوا عفان کچھ چاہیے “۔۔۔ماہم اپنےآنسوں پونچ کر اٹھ کر بیٹھ گئ

‘کس بات کی ٹینشن ہے تمہیں بتاؤں مجھے” ۔۔۔۔میں اپنا لہجہ نارمل رکھ ہی بات شروع کی

‘کچھ نہیں عفان کہا نا فلو ہو رہا ہے ۔”۔۔وہ بات بدلنے لگی

“اس جھوٹ سے تم دوسروں کو مطمئن کر سکتی ہو مجھے نہیں ۔۔۔۔مجھے معلوم ہے تم رو رہی ہو” ۔۔۔۔وہ نظریں چرا گئ جیسے میں نے اسکی چوری پکڑ لی ہو ۔۔۔میں نے اسکے جھکے ہوئے چہرے کو اوپر کیا اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نہایت نرمی سے پوچھا

“اب بتاؤں کیا بات ہے”

“کچھ بھی نہیں وہم ہے تمہارا “۔۔۔وہ میرا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے بولی اور نظریں چرانے لگی

“کامران کی منگنی سے تکلیف ہو رہی ہے تمہیں ۔۔۔” میری بات سن کر سرعت سے اس نے میری طرف دیکھا ۔مجھ سے وہ یہ بات سنے کی توقع تو کبھی نہیں رکھتی تھی۔۔۔آنسوں آنکھوں سے امڈ کر رخسار پر بہنے لگے مگر وہ نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔۔

“چلو پھر تم بتاؤں کہ کیا وجہ ہے “۔۔۔۔میرے نرم لہجے سے اسکے چہرے پر کچھ سکون سا آنے لگا

“نہیں عفان رہنے دو ۔۔۔۔برا لگے گا تمہیں ۔۔۔۔۔

غصہ کرو گئے مجھ پر” ۔۔۔۔وہ دھیرے سے ہچکچاتے ہوئے بولی

“برا تو مجھے شام سے لگ رہا ۔۔۔۔اور رہ گیا غصہ وہ تو اب آ آ کر ختم ہو چکا ہے ۔۔اس لئے اب بتاؤں کیا مسلہ ہے ۔۔۔”۔

“نہیں بتا سکتی ۔۔۔۔”

“کیوں پہلے بھی سب کچھ مجھ سے کہتی تھی اب بھی سب کچھ کہہ سکتی ہو “۔۔۔۔اب میرے لہجے میں لجاجت تھی

“پہلے بات اور تھی ۔۔۔اب شوہر ہو تم میرے جیسے میں نے کامپرومائز کے طور پر قبول کیا ہے “۔۔۔اسکی بات پر میری ہنسی بے ساختہ تھی مجھے یوں ہنستا دیکھ کر وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگی

“چلو ماہی اس بہانے تم نے مجھے شوہر تو تسلیم کیا ۔۔۔کامپرومائز کے طور پر ہی سہی ۔۔۔۔چلو اب وہ بتاؤں جو تمہارے دل میں ہے ۔۔۔۔دوست سمجھ کر ۔۔۔آئی پرومس کچھ نہیں کہو گا تمہیں” ۔۔۔میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر وعدہ کرتے ہوئے کہا

“سچ تو یہی ہے نا عفان کہ اب تم شوہر ہو دوست نہیں ۔۔۔۔میرے منہ کسی اور مرد کے لئے اظہار محبت برداشت نہیں کر سکتے پھر کیوں خود کو مشکل میں ڈال رہے ہو ۔۔۔۔”

“کر لو برداشت ۔۔۔۔بس تمہارے آنسوں برداشت کرنا ذیادہ مشکل ہے” ۔۔۔میرے اصرار پر اس نے ہچکچاتے ہوئے کہنا شروع کیا

“مجھے برا لگ رہا تھا عفان۔۔۔۔۔ مگر یہ نہیں کہ اسکی منگنی ہو رہی ہے ۔۔۔۔وہ تو ایک نا ایک دن ہونی ہی تھی مجھے اس بات کا افسوس بھی نہیں ۔۔۔۔دکھ بس یہ دیکھ کر ہوا کہ وہ خوش ہے ۔۔۔۔مجھے سب سے برا یہ لگا کہ اس نے اپنے ہاتھ سے اسے انگوٹھی پہنائی حالانکہ وہ لڑکی تو اسکی محبت بھی نہیں تھی ۔۔۔وہ جانتا تک نہیں ہے اسے ۔۔۔شاید اس نے پہلی بار آج ہی اسے اپنے رو با رو دیکھا ہے ۔۔۔۔اور مجھ سے ۔۔۔۔مجھ سے اس نے کئ بار محبت کا اظہار کیا ہے مگر میرے ہاتھ میں انگوٹھی نہیں پہنائی ۔۔۔جو خوشی آج کامران کی آنکھوں میں اس لڑکی کے لیے ہے وہ کبھی مجھے اپنے لئے نظر نہیں آئی ۔۔۔۔میری ہر خوشی کو اس نے میرے لئے تماشہ بنا کر رکھ دیا ۔۔۔۔کیوں ۔۔۔۔۔قصور کیا تھا میرا ۔۔۔۔۔وہ بہت دل گرفتگی سے بول رہی تھی اس وقت تو واقع قابل رحم تھی ۔۔۔۔اپنی آنکھیں اور ناک وہ اپنے ہی ڈوپٹے سے رگڑنے لگی۔

” اس لئے کہ کامران کو تم سے محبت ہے ہی نہیں۔۔۔۔ ماہی جس سے محبت کی جائے اسے محبت کے ساتھ عزت اور تحفظ دیا جاتا ہے۔۔۔۔یوں رسو نہیں کیا جاتا ۔۔۔اپنے محبوب کا ہر قدم پر ساتھ دیتے ہیں اسے بے یارو مددگار نہیں چھوڑ کر چلے نہیں جاتے ۔۔۔۔میں نے بہت نرمی سے اس کا ہاتھ تھامے اسے سمجھانے کی کوشش کی

“مگر میں تو محبت کر چکی نا عفان ۔۔۔۔میرے حصے میں۔ کیا آیا ۔۔”۔۔وہ بلک بلک کر رونے لگی ۔۔۔۔شاید اس تکلیف سے دلبرداشتہ ہوگئ تھی میں نے اپنے ہاتھوں سے اسکے آنسوں سے تر چہرے کو صاف کیا ۔۔۔

“چپ ہو جاؤں ۔۔۔۔ہر ایک کو اسکی محبت نہیں ملا کرتی ۔۔۔۔بلکہ ذیادہ تر لوگوں کو انکی محبت نہیں ملتی تو کیا وہ جینا چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔یا محبت صرف ایک بار ہی ہوتی ہے دوبارہ ہو نہیں سکتی ۔۔۔۔دل کی زمین بہت زرخیز ہوتی ہے ماہی کوشش کرو گی تو محبت کی بہاریں پھر سے بھی أ سکتیں ہیں ۔۔۔”

“نہیں ہو سکتی ۔۔۔پھر سے ۔۔۔کبھی بھی نہیں ہو سکتی ۔۔۔تم نہیں سمجھ سکتے عفان ۔۔۔۔تمہارے لئے یہ کہنا آسان ہے ۔۔۔اگر تمہارے ساتھ ایسا ہوتا تو تمہیں احساس ہوتا کہ کتنی تکلیف ہوتی ہے” ۔۔۔۔وہ اپنے آنسوں بار بار صاف کر رہی تھی ۔۔۔۔مجھے اسکی بات سے کتنی تکلیف پہنچی تھی یہ میں اسے بتا بھی نہیں سکتا تھا کون سی ایسی تکلیف اور اذیت تھی جس سے میں اس وقت دو چار نہیں تھا ۔۔۔۔۔مگر فی الفوز ماہم کو تسلی اور اپنایت کی ضرورت تھی

“ٹھیک کہا تم نے مجھے کیا معلوم محبت کیا ہوتی ہے ۔۔۔تکلیف کسے کہتے ہیں ۔۔۔۔مگر ایک بات ضرور جانتا ہوں کہ اگر جذبے سچے ہوں تو محبت ضرور ملتی ہے ۔۔۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس سے نہیں ملتی جسے ہم نے چاہا ہو کسی اور انسان سے مل جاتی ہے مگر ملتی ضرور ہے۔۔۔۔۔ لیکن ہم یہ غور فکر کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ اللہ نے ہماری نیکی یا کی گی محبت کئ گنا بڑھا کر ہمہیں کس انداز سے لوٹائی ہے ۔۔۔ہم توبس اپنے ہی دکھوں کے شکوے کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔میری بات اب وہ غور سے سن رہی تھی رو بھی نہیں رہی تھی

“کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔۔مجھ سے کون محبت کرتا ہے ۔۔۔۔کوئی بھی تو نہیں ۔۔۔۔۔۔”

مجھے اس کا سوال بے تکا سا لگا

“کیوں تمہیں نظر نہیں آتا مما کتنی محبت کرتی ہیں تمہیں… پاپا کتنا چاہتے ہیں تمہیں اور ۔۔۔۔۔اور بھی بہت سے لوگ ہیں ماہی ۔۔۔اپنے سامنے ادھر ادھر نظر گھماؤ گی تو نظر آ جائیں گئے تمہیں” ۔۔۔۔میرا اشارہ اپنی طرف تھا مگر میں کہہ نہیں سکا۔۔۔ماہم بھی خاموش رہی کچھ نہیں بولی

“میری بات غور سے سنو ماہی ۔۔۔۔۔کچھ چیزوں میں انسان بلکل بے بس ہوتا ہے ۔۔۔۔اللہ نے انسانوں کو مکمل اختیار نہیں دیا۔۔۔۔تم نے یہ تو سنا ہے نا کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں ۔۔۔۔عالم روح میں اللہ نے سب کے جوڑے بنا دیے تھے دنیا میں تو وہ صرف انہیں آپس میں ملا دیتا ہے ۔۔۔۔میرے خیال سے ہم بے اختیار ہیں اس معاملے میں ۔۔۔۔۔ہم عام انسان کیا ۔۔۔اس معاملے میں۔ تو نبیوں کو بھی اللہ نے اختیار نہیں دیا تھا ۔۔۔۔حضرت آدم علیہ السلام دنیا کے پہلے مرد تھے ۔۔۔۔اور حضرت بی بی حوا پہلی عورت ۔۔۔۔اللہ نے انکا نکاح کرنے سے پہلے انکی اجازت بھی طلب نہیں کی تھی ۔۔۔۔ان کا نکاح اللہ نے خود پڑھوا کر بی بی حوا کو حضرت آدم کے پہلو میں بیٹھا دیا ۔۔۔۔اور کہا یہ تمہاری بیوی ہے” ۔۔۔۔۔میں کچھ دیر چپ ہوگیا ۔۔۔وہ بھی کچھ نہیں بولی سب ایک ٹک مجھے دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔کچھ توقف کے بعد میں نے پھر سے اپنی بات آگے بڑھائی

“اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو فوراسے نکاح نا بھی پڑھاتے تو اس کائنات کے مالک سے کون پوچھنے کا حق رکھتا ہے ۔۔۔۔کچھ وقت یونہی گزرنے دیتے ۔۔۔دیکھ لیتے کہ دونوں میں محبت ہو سکتی ہے کہ نہیں ۔۔۔ان کے مزاج آپس میں ملتے بھی ہیں کہ نہیں ۔۔۔۔یا پھر دو تین بی بی حوا بنا دیتے تا کہ حضرت آدم علیہ لاسلام ان میں سے ایک کو منتخب کر لیتے کہ انہیں کون پسند ہیں اور انہیں کس سے محبت ہوئی ہے ۔۔۔۔مگر ایسا نہیں ہوا ۔۔۔۔یہ فیصلہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے ۔۔۔۔۔جانتی ہو اس کا مطلب کیا ہے” ۔۔۔۔۔میرے استفسار پر وہ نفی میں سر ہلا کر بولی

“نہیں ۔۔۔۔۔۔”

“اس کا مطلب یہ کہ اصل محبت وہ ہوتی ہے جو نکاح کے بعد ہو ۔۔۔۔کیونکہ اس میں اللہ کی رضا شامل ہوتی ہے ۔۔۔نکاح سے پہلے کی محبت کا کوئی معنی مقصد یا اہمیت ہمارے رب کی نزدیک ہوتی تو وہ اسی وقت اس بات کو اہمیت دے کر سمجھاتے ۔۔۔۔پورے قرآن میں صرف میاں بیوی کے حقوق فرائض اور حسن سلوک کے بارے میں حکم ہے شادی سے پہلے کی محبت کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔ہماری شادیوں میں بھی ہماری چوائس نہیں دیکھتا بس یہ دیکھتا ہے کہ میرے بندے میری پسند پر کتنا راضی ہے ۔۔۔۔۔اور جو لوگ راضی ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ اسی رشتے میں انکے لئے چاہت الفت اور محبت ڈال دیتا ہے ۔۔۔۔پھر نا عمروں کا۔ فرق اہمیت رکھتا ہے نا بظاہری شکل و صورت ۔۔۔۔اسکے برعکس جو اپنی پسند اور محبت کو اہمیت دیتے ہیں اللہ کی رضا کے بجائے خود کو عقلمند سمجھ کر اپنے لئے خود سے اپنا ساتھی چنتے ہیں ماں باپ سے لڑ کر یا گھر سے بھاگ کر شادی کرتے ہیں انہیں نا تو عزت ملتی ہے نامحبت ۔۔۔۔۔بہت جلد اپنے فیصلوں پر پچھتاتے نظر آتے ہیں۔۔۔وہی محبوب انکے لئے قابل نفرت ہو جاتا ہے جو کبھی جان سے پیارا لگ رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔اور میں چاہتا ہوں ہم بھی اللہ کی رضا میں راضی ہو جائیں تا کہ ہمہیں بھی پچھتانا نا پڑے ۔۔۔۔کیوں ماہی میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا “۔۔۔۔کچھ دیر میں خاموش اسکے جواب کا منتظر رہا مگر وہ نروس سی ہونے لگی ۔۔۔۔

“اب تم آرام کرو بہت رات ہوگئ ہے “۔۔۔۔اپنے تہی میں نے ماہم کو سمجھانے کی کوشش تو بہت کی تھی اور وہ مجھے کچھ مطمئن بھی لگی تھی ۔۔۔۔میں۔ بھی لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔مگر وہ صم بکم بنی بیٹھی رہی ۔۔۔صبح وہ نارمل انداز سے اپنے کام کرتی رہی کسی بات کادکھ ملال اور پچھتاوا اسکے چہرے پر کہیں نہیں تھا