458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 24

Tadbeer by Umme Hani

ماہم خوش تھی ۔۔۔۔اسکے صبیح چہرے پر خوشی کا ہر رنگ تھا ۔۔۔۔۔کچھ ہی پل میں ہال کی ساری لائٹس آن ہو چکی تھی اب قاسم اور فاریہ سامنے صوفے پر بیٹھ چکے تھے ۔۔۔۔۔ماہم کی مسکراہٹ بھی معدوم ہو کر غائب ہو گئ اسکے چہرے پل میں متغیر سا ہونے لگا چہرے پر خوشی کی جگہ آفسردگی نے لے لی وہ کسی گہرے خیال میں تھی اور اسی کے زیر اثر اسکے چہرے پر اداسی چھا گئ تھی ۔۔۔آنکھوں میں چمکتے دئے اب بجھے بجھے لگ رہے تھے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر اس نے اپنی نظریں سامنے سے ہٹا لیں ۔۔۔۔۔باقی کا ساراوقت وہ چپ ہی رہی ۔۔۔۔ڈنر کے بعد سب مہمان جانے لگے میں نے بھی قاسم سے جانے کی اجازت مانگی

“ابھی نہیں۔ عفان مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔”۔

‘یار وہ بات تم فون پر کر لینا ایک بج چکا ہے اس سے ذیادہ لیٹ ہونے پر پاپا ڈانٹیں گئے” ۔۔۔۔ میں نے گھڑی قاسم کو دیکھاتے ہوئے کہا مگر اس اسپر مطلق کوئی اثر نہیں تھا

“ڈونٹ وری انکل سے میری بات ہو چکی ہے ان سے میں اجازت لے چکا ہوں آج رات کا سٹے تمہارا بمعہ اہل عیال کے یہیں میرے گھر پر ہے ۔۔۔صبح کے ناشتے کے بعد چلے جانا ۔۔۔۔۔آفس کی فکر بھی مت کرنا میں ہمدانی صاحب سے بھی بات کر چکا ہوں “۔۔۔۔قاسم پورا پروگرام سیٹ کر کے اب مجھے مطلع کر رہا تھا

“یہ عنایتیں کرنے سے پہلے مجھ سے تو پوچھ لیتے میں بھلا کیوں رکوں گا تمہارے گھر ۔۔۔۔مجھے اپنے کمرے کے علاؤہ کہیں نیند نہیں آتی” ۔۔۔۔میں بری طرح بیزار ہوا تھا قاسم کے پلان کو سن کر بھلا یہ بھی کوئی بات تھی میں کیسے کسی انجان گھر اور ماحول میں رہوں

“نیند کی میری گارنٹی ہے وہ تمہیں بہت اچھی آئے گی مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے تم سے بس ذرا یہ مہمانوں سے نمٹ لوں پھر بیٹھتے ہیں دونوں ۔۔۔”۔قاسم نے سر گوشی میں کہا پھر اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔۔ماہم فاریہ اور اسکی کزنز کے ساتھ بیٹھی مجھے گھور رہی تھی دور سے مجھے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی دیکھا رہی تھی مجھے وقت کا احساس دلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔۔۔اور مجھے قاسم پر غصہ آ رہا تھا ایسی کون سی ایمرجنسی نافذ ہوگی تھی جو اس نے مجھ سے پوچھے بغیر یہ سب پلان کیا تھا ۔۔۔مہمان سب جا چکے اب صرف قاسم کی فیملی اور چند کزنز ہی بچی تھی جو رات کو یہی قیام کا ارادہ رکھتی تھی ۔۔۔۔ماہم بار بار فون پر مجھے مسجز کر رہی تھی ۔۔۔۔جانے کا پوچھ رہی تھیں۔۔۔۔۔

“ماہی ہم رات یہیں سٹے کریں گئے “۔۔۔میں نے ایک ٹیکس اسے بھیجا اور فون آف کر دیا ورنہ اسکے آنے والے ہے در پے سوالات کے میں کیا جواب دیتا میرا میسج پڑ کر غصے اور حیرت سے مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔فاریہ نے اسے اپنے اور اپنی بہن ہما کے بیچ میں بیٹھا رکھا تھا باقی ساری کزنز بھی وہیں جھمگٹا لگائے بیٹھیں تھیں ۔۔۔۔نا جانے کون سی خوش گپیوں میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔مگر ماہم ضرور بیزار نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔قاسم مجھے اپنے ساتھ اوپر اپنے کمرے میں لے گیا ۔۔۔۔۔سامنے سائیڈ ٹیبل پر رکھی سگریٹ کی ڈبیہ اٹھائی ایک سگریٹ اپنے ہونٹوں میں دبائی باقی کی ڈبیہ میری طرف بڑھا کر اشارتا سگریٹ کی آفر کرنے لگا

میں نے نفی میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔۔ویسے بھی ان خرافات سے میں نے خود کو دور ہی رکھا تھا ۔۔۔۔قاسم نے لائٹر سے سگریٹ سلگائی ۔۔۔پھر اپنے شوز اتار کر ریلکیس انداز میں بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔

“ارے ایزی فیل کرو یار آرام سے بیٹھو عفان ۔۔۔”۔

“نہیں میں ٹھیک ہوں ۔۔۔اب تم ذرا اپنی ضروری بات بتانے کی زحمت کرو گئے “۔۔۔۔میرے تپے تپے اور کوفت زدہ انداز پر قاسم پہلے تو ہسنے لگا پھر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا

“کس چیز کی ٹیشن ہے تمہیں ۔۔۔۔آرام سے بیٹھو ۔۔۔”۔مگر میں ہنوز ویسے ہی بیٹھا رہا کچھ ثانیے خاموشی کی نظر ہو گئے پھر قاسم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اپنی زریک نظروں سے نا جانے میرے چہرے پر کیا کھوجنا چاہ رہا تھا پھر گہری سانس لیکر اسی نے بات کا آغاز کیا

“عفان چکر کیا ہے تمہارا اور بھابی کا” ۔۔۔۔۔میں اسکی ذو معنی بات سن کر بھی نا فہم سا بن گیا

“کوئی بھی چکر نہیں ہے ۔۔۔کیوں کیا ہوا۔۔”۔۔۔قاسم کی زریک نگاہیں بہت کچھ سمجھ گئیں تھیں ۔۔۔

“تم اچھی طرح جانتے ہو میں کیا پوچھنا چاہ رہا ہوں ۔۔۔ ۔۔ذیادہ انجان مت بنو “۔۔۔۔وہ سگریٹ کے کش لیتے ہوئے بولا

“ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔۔بس میں ماہی کو کچھ وقت دینا چاہتا ہوں “۔۔۔۔۔میں نے ایک بھوندا سا بہانا تراشنا چاہا

“کتنا وقت۔۔۔ اور کیوں”

“یار وہ۔۔۔۔ کامران بھائی کو بھلا نہیں پائی ابھی تک ۔۔۔اور میں چاہتا ہوں وہ دل سے مجھے قبول کرے ۔”۔۔۔میں حیلے بہانے سے قاسم کو مطمئن کرنے لگا اب اسے کیا بتاتا کہ وہ مجھ سے طلاق لینے کے در پر ہے

‘تمہیں یہ اتنا آسان لگتا ہے ۔۔۔۔۔جو کچھ کامران نے کیا اسکے بعد بھی اگر بھابی کے دل میں اس کے لئے کوئی نرم گوشا ہے تو ۔۔۔۔تم کیا سمجھتے ہو ۔۔۔۔وہ با آسانی سے تمہیں قبول کر لیں گئ ۔۔۔۔اول تو تمہارے والد کو کامران کو گھر پر رکھنا ہی نہیں چاہیے تھا “۔۔۔۔قاسم دھواں اڑاتے ہوئے بولا میں کیا وضاحتیں دیتا کہ ماہم نے منتیں قسمیں دے کر اسے گھر پر روکا ہے ۔۔۔۔۔اپنے دل کے پھپھوڑے میں کیا کسی کو دیکھاتا ۔۔۔۔۔

‘جانتے ہو بھابی آج صبح میرے گھر پر کس کے ساتھ آئیں تھیں ۔”۔۔۔قاسم کی جانچتی نظریں مجھے کچھ تذبذب سا کرنے لگیں

“فاریہ بھابی کا ڈرائیور ہی لینے گیا ہو گا ۔”۔۔۔میں نے تکا لگایا کیونکہ اگر میں ماہم کو چھوڑنےیا لینے نہیں جاتا تھا تو فاریہ کا ڈرائیور ہی یہ کام سر انجام دیتا تھا۔۔۔۔قاسم نے تیکھی نگاہ مجھ پر ڈالی

“اوہ ۔۔۔تو گویا تمہیں علم ہی نہیں ہے “۔۔۔۔۔قاسم نے آبرو چڑھا کر تعجب کا اظہار کیا

“۔۔۔۔۔بھابی تم سے پوچھے بنا آتی جاتی ہیں؟ ۔۔۔۔عفان وہ بیوی ہے تمہاری وہ کب کہاں کس کے ساتھ آتی جاتی ہیں انہیں تمہیں انفارم کرنا چاہیے ۔۔۔۔آج وہ کامران کے ساتھ آئیں تھیں “۔۔۔۔قاسم نے اپنا سگریٹ ایش ٹرے میں بجھاتے ہوئے کہا مجھے جھٹکا تو بڑی زور کا لگا تھا مگر میں چپ ہی رہا۔۔۔ماہم کامران کے ساتھ آئی ہے …..مگر کیوں ۔۔۔۔پاپا نے ماہم کو سختی سے منع کیا تھا کہ وہ کامران سے بات تک نہیں کرے گی پھر ۔۔۔۔مجھے دکھ تو بہت ہوا مگر میں قاسم پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا مگر نا جانے کیوں اس سے نظریں نہیں ملا پایا

“میرا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے عفان کے تم بھابی پر شک کرو ۔۔۔مگر انہیں یہ تو احساس دلاؤ کہ تمہاری اہمیت انکی نظر میں کیا ہونی چاہیے” ۔۔۔۔میں گردن جھکائے بیٹھا رہا مجھے اس وقت صرف ماہم پر غصہ آ رہا تھا ۔۔۔۔۔پھر مما تو گھر بھی تھی انہوں نے منع کیوں نہیں کیا ۔۔۔۔میری سوچوں کا تسلسل قاسم کی اگلی بات سے ٹوٹا

“سوری عفان لیکن اگر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ اس طرح سے تم بھابی کا دل جیت لو گئے تو میں تمہاری بات پر متفق نہیں ہوں جب تک تم ان سے دور رہو گئے کامران ہمیشہ انکے دل کے قریب رہے گا ۔۔۔۔اگر تمہیں انکے دل کے قریب ہونا ہے تو فاصلے تو تمہی کو دور کرنے پڑیں گئے “۔۔۔۔۔قاسم کسی ناصحاں کی طرح مجھے کافی متانت سے سمجھا رہا تھا اسکی بات سو فیصد درست تھی مگر میرے مقابل ایک ایسی لڑکی تھی جو سمجھنا چاہتی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔۔کیسے سمجھاتا اسے جسے میرے اور اپنے درمیان قائم شدہ رشتے کا احساس تک نہیں تھا وہ مجھ سے کامران کی باتیں یوں کرتی تھی جیسے اب بھی وہ اسکی منگتر ہو اور میں اسکا وہی دوست جو اسکی ہر بات سن لیتا تھا ۔۔۔۔۔اس نے کب قبول کیا تھا اس رشتے کو کب وہ مجھے یہ حیثیت دینے کو تیار تھی ۔۔۔۔لیکن میں قاسم سے کیا کہتا بس چپ چاپ اسکی سنتا رہا تھا ۔۔۔۔۔ اب یہ بات تو مجھے ہی سنبھالنا تھی اس لئے سارے الزام خود پر لیتے ہوئے بولا

“قاسم میرے لئے بھی یہ سب اکسپٹ کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا ماہم کے لئے” ۔۔۔۔یہ میں نے بولا تو جھوٹ ہی تھا مگر اب ماہم کے لئے اتنا تو کر سکتا تھا ۔۔۔۔قاسم میری بات سن کر بڑی فہماشی نظروں سے مجھے دیکھنے لگا ۔۔۔۔مجھے نا جانے کیوں لگا کہ وہ میرا جھوٹ جان چکا ہو

“اچھا ۔۔۔۔ادھر ذرا میری آنکھوں میں دیکھ کر کہو کہ تمہارے لئے یہ سب نیا ہے یا تم ماہم کے لئے پہلے سے ایسے کوئی جذبات نہیں رکھتے تھے” ۔۔۔۔۔قاسم کے منہ سے یہ سب سن کر میں دنگ سا رہ گیا میں نے تو کبھی قاسم سے یہ اعتراف نہیں کیا تھا کہ میں ماہم سے محبت کرتا ہوں پھر اسے کیسے معلوم ہوا ۔۔۔۔۔۔میں نے سرعت سے قاسم کی طرف نا فہم نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا

“کیا مطلب “

“یہ تمہاری وہی کزن ہے نا عفان جس کا نام یونیورسٹی میں ہر وقت تمہاری زبان پر رہتا تھا ۔۔۔۔ماہی کو یہ پسند ہے ماہی کو وہ پسند ہے ماہی نے آج پیزا بنایا ۔۔۔ماہی نے میرااسکیچ بنایا ۔۔۔۔۔یہ وہی ماہی ہے نا عفان ۔”۔۔۔قاسم آنکھوں میں شرارت لئے میرے راز فاش کر رہا تھا ۔۔۔تو کیا میری محبت مخفی نہیں تھی اس سے میں یہ سوچ کر کچھ شرمسار سا ہو گیا

“میں تو اسی وقت سمجھ گیا تھا جب تم نے ماہم کو ایک لڑکے کے ساتھ گاڑی میں دیکھ کر اس لڑکے کو ذلیل کر کر رکھ دیا تھا تمہارا غصہ طیش بے چینی ہر چیز تمہاری محبت کی گواہی چیخ چیخ کر دے رہی تھی ۔۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ یہ مس ماہم میرے دوست کے لئے صرف ایک کزن نہیں ہے اس سے بہت بڑھ کر ہے ۔۔۔۔۔تم کیا سمجھتے ہو مجھ سے چھپا لو گئے تو تمہارے دل کا حال مجھ سے چھپ جائے گا ۔۔۔۔ یار ہم تو اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں تم تو پھر سیدھے سادے عفان ہو “۔۔۔۔قاسم نے میرے کندھے کو تھپتھپایا اور بڑے فخریہ انداز سے بولا

“حیرت تو مجھے اس وقت ہوئی عفان جب تم نے یہ بتایا کہ کامران کی منگنی ماہم سے ہو رہی ہے۔۔۔۔۔مجھے تمہاری بزدلی پر غصہ آنے لگا تھا تمہیں تو اسی وقت اسٹینڈ لینا چاہیے تھا ۔۔۔بہرحال ۔۔۔۔۔۔۔ اسکے بعد تم ہسنا تک بھول گئے تھے تم آؤٹ آف کنٹری بھی اسی وجہ سے جانا چاہ رہے تھے کیونکہ ماہم کو کامران کے ساتھ دیکھنا تمہارے لئے مشکل تھا ۔۔۔۔کیوں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا میں “۔۔۔۔۔قاسم جتنا دیکھنے میں احمق لگتا تھا اتنا تھا نہیں یہ میں دل سے اعتراف کرنے پر مجبور ہو گیا وہ میراواقف حال تھا ۔۔۔۔۔میں پھر قاسم کے سامنے اعتراف کر ہی لیا

“ہاں ۔۔۔۔۔ماہم کے لئے میرے جذبے نئے نہیں ہیں مگر یہ صرف مجھ تک محدود ہے قاسم وہ نہیں جانتی”

“تو بتاؤں اسے ۔۔۔۔۔اسے بتاؤں کہ تم اس سے کتنی محبت کرتے ہو ۔”۔۔۔۔قاسم نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے مشورہ دیا

“اسکی محبت میں نہیں ہوں کامران ہے “

“وہ بات اب غیراہم ہو چکی ہے اسے اہمیت بھی مت دو ۔۔۔۔۔اب اہم یہ کہ وہ بیوی تمہاری ہے ۔۔۔۔۔اگر اللہ نے اسے تمہیں سونپ دیا ہے تو اپنا حق استعمال کرو ۔۔۔۔اپنا لو اسے بھول جائے گی کامران کو “

“کاش یہ اتنا ہی آسان ہوتا جتنا تم سمجھ رہے ہو ۔۔۔”۔میں بے چینی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا

‘بہت آسان ہے تم قدم تو بڑھا کر دیکھو “۔۔۔۔۔قاسم بھی اب کھڑا ہو چکا تھا

‘۔۔۔۔ماہم بھابی بہت انوسینٹ سی لڑکی ہے عفان بہت جلد تمہاری محبت کی قائل ہو جائے گی ۔۔۔۔مجھے معلوم ہے شادی کو لیکر انسان کی بہت خواہشات ہوتی ہیں تمہاری شادی ایک حادثے کا نتیجہ تھی ۔۔۔مگر اب اسے ساری زندگی حادثے کی طرح تو نہیں گزارا جا سکتا ۔۔۔۔۔۔۔اس لئے میں نے ایک کمرہ تم دونوں کے لئے سیٹ کروایا ہے بلکل وڈنگ روم کی طرح ۔۔۔۔۔یہ میری طرف سے چھوٹا سا تحفہ سمجھ لو اور زندگی کی نئ شروعات کرو ۔۔۔۔۔ فاریہ تو اب تک بھابی کو وہاں تک چھوڑ آئی ہو گئ ویسے بھی آج وہ مکمل تمہاری پسند میں ڈھل کر بہت پیاری لگ رہیں ہیں ۔۔۔۔چلو دولہا میاں تمہیں تمہارے کمرے تک چھوڑ کر آئیں” ۔۔۔۔قاسم نے میرا ہاتھ تھامے معنی خیز انداز سے بول کر مجھے اپنے کمرے سے باہر لے آیا ۔۔۔۔سامنے لاونج کی دوسری جانب ایک کمرے کے سامنے لے جا کر مجھے اندر جانے کا اشارہ کرنے لگا

“ود آل مائے بیسٹ وشیز۔”۔۔۔۔۔قاسم تو ہنستا ہوا چلا گیا مگر مجھے شش وپنج میں مبتلہ کر گیا تھا ۔۔۔۔۔نا جانے ماہم کیا سوچے گی اس کا ری ایکشن کیسا ہو گا ۔۔۔۔بہرحال اب میں باہر کھڑا تو رہ نہیں سکتا تھا اس لئے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتے ہی گلابوں کلیوں کی بھنی بھنی خوشبوں رچی بسی ہوئی تھی میں نے ایک گہری سانس کھنچ کر خارج کی اس دلفریب سی مہک سے میری روح تک معطر ہو گی تھی ۔۔۔۔ماہم سامنے بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔کمرہ واقع بڑی لگاوٹ اور خوبصورتی کا شہکار لگ رہا تھا

جابجا گلاب کے پھول بکھرے ہوئے تھے بیڈ پر گلاب کی پتیوں سے دل بنا ہوا تھا سائیڈ ٹیبل ڈرسنگ پر چھوٹے سے کینڈل اسٹینڈ پر چھوٹی چھوٹی کینڈل جل رہیں تھیں ۔۔۔۔نائٹ بلب کی ہلکی سے روشنی میں وہ کمرہ خوابناک حد تک دل کو ڈھڑکانے کے لئے کافی تھا میں مکمل طور پر اس ماحول کے حصار میں مقید سا ہونے لگا تھا دل کا یہ عالم تھا کہ ساری حدود کو بھول جانے کو تیار بیٹھا تھا ۔۔۔۔ایک نظر کمرے پر دوڑاتے ہی میرے اندر ہلچل سی مچنے لگی تھی ۔۔۔ماہم کی میری طرف پشت تھی میری دل کی بے تابیاں میری نظریں سمٹ چکی تھی میں چاہ کر بھی ماہم سے نظر نہیں ہٹا پا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم میری آمد سے بھی بے خبر تھی میں نے دروازہ بند کر کے لوک کیا اسکی آواز سے اس نے سرعت سے پلٹ کر مجھے دیکھا