458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 62

Tadbeer by Umme Hani

آزمائشوں کا سلسلہ ماہم پر ابھی ختم نہیں ہوا تھا ۔۔۔رات بھر وہ کامران کی باتوں پر پریشان ہو کر عفان کے لئے روتی رہی صبح آنکھ کھلنے ہر پہلا خیال عفان جا ہی آیا لیکن وہ آفس چلی گئ ۔۔۔۔سوچ رہی تھی کہ کام جلدی ختم کر کے عفان کے پاس ہی جائے گی ۔۔۔وہ اپنی فائلز سمیت رہی تھی جب فاریہ اسکے کمرے میں داخل ہوئی روئی روئی سوجی سی آنکھوں کے ساتھ ماہم کے پاس آکر کھڑی ہو گئ

“کیا بات ہے فاری ۔۔۔تم یہاں۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے “ماہم کو وہ کچھ پریشان لگ رہی تھی کچھ دیر تو فاریہ اسے خاموشی سے دیکھتی رہی ماہم کو اسکا یوں دیکھنا عجیب سا لگا

“ماہم میری محبت اور چاہت میں کہاں کمی نظر آئی تھی تمہیں جو ایسا کھیل کھیل رہی ہو ۔میرے ساتھ “

“کیا مطلب ہے فاریہ ۔۔۔کیا کیا ہے میں نے “ماہم نا فہم سی فاریہ کو حیرت سے دیکھنے لگی ۔۔۔فاریہ کے آنسوں بہنے لگے ہاتھ جوڑ کر ماہم سے کہنے لگی

“میں منت کرتی ہوں تمہاری پلیز قاسم کا پیچھا چھوڑ دو “

فاریہ کی بات ماہم کے سر پر بم دھماکے کی طرح لگی پل میں ہی اسےپورا کمرہ گھومتا ہوا محسوس ہونے لگا وہ وہیں اپنی کرسی پر سر پکڑ کر بیٹھ گئ ۔۔۔آنسوں کاریلہ آنکھوں سے جاری ہونے لگا ۔۔۔کیا اب یہ الزام بھی لگنا باقی تھا مجھ پر ۔۔۔۔۔

“ماہم میں تم سے ہمدردی کر سکتی ہوں ۔۔دکھ بھی بانٹ سکتی ہوں مگر اپنا شوہر نہیں بانٹ سکتی پلیز “فاریہ بلکنے لگی ماہم نے سر اٹھا کر فاریہ کو دیکھا

“فاریہ قاسم بھائی کو میں اپنا بھائی سمجھتی ہوں “

“لیکن وہ تمہارا سگا بھائی تو نہیں ہے ۔۔۔پھرکیوں۔ اسے ہر وقت تمہاری فکر ستاتی ہے ۔۔۔جب سے عفان بھائی کا حادثہ ہوا ہے ۔۔۔وہ جیسے مجھے اور نائل کو بھول ہی گیا ہے ۔۔۔ہسنا تو دور کی بات میں نے اسے مسکراتے ہوئے بھی نہیں دیکھا ۔۔اسے اگر فکر ہے توصرف تمہاری اور عمر کی ۔۔۔بتاوں کیوں “فاریہ روتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی اور ماہم تاسف سے اسے دیکھنے لگی

“تو اس بات کا یہ نتیجہ نکالا ہے تم نے ۔۔۔۔ادھر بیٹھوں میرے سامنے “ماہم نے اسے سامنے کرسی پر بیٹھایا۔۔

“دیکھوں میری طرف فاری ۔۔۔۔تمہیں لگتا ہے کہ مجھے عفان کے علاؤہ کچھ نظربھی آتا ہے ۔۔۔۔۔کیسے سوچ لیا تم نے ۔کپ میں ایسا بھی کر سکتی ہوں ۔۔مجھے میرے عفان کی قسم ہے فاری میرے اور قاسم بھائی کے درمیان بہن بھائی کے احترام کے علاؤہ اور کچھ نہیں ہے ۔۔اس سےذیادہ میں تمہیں یقین نہیں دلا سکتی “یہ کہہ کر ماہم نے اپنا پرس پکڑااور وہاں سے باہر نکل آئی سیدھا ہاسپٹل پہنچ کرعفان کے کمرے میں ہی دم لیا ۔۔۔۔ماہم اب تھک چکی تھی ۔۔۔۔سب سے لڑ لڑ کر ۔۔۔۔فاریہ کی باتیں کامران کے ارادے پسپا کر چکے تھے اسے ۔۔۔روتے ہوئے عفان سے بھی یہی کہنے لگی کہ اگر سب وہ نہیں اٹھا تو وہ بھی مر جائےگی گھر آ کر سیدھا اپنے کمرے بیٹھ کر رونے لگی ۔۔۔ یہ وہ اب سوچ چکی تھی ۔۔۔زندگی کی اس سے ذیادہ تلخی وہ اب سہہ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔وہ رونے لگی دروازے کی دستک پر اسکے آنسوں تھمے

*******

شام کو جب میں آفس سے لوٹا تو پاپا کہیں جانے کے لئے گاڑی نکال رہے تھے ۔۔۔۔مما انکے برابر بیٹھی تھیں اور پچھلی سیٹ پر ماہم اور عمر ۔۔۔۔میں اپنی گاڑی سے اتر کر پاپا کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ان سے پوچھنے لگا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔۔

کامران ۔۔۔۔بیٹا عفان۔ کو ہوش آ گیا ہے ۔۔۔۔وہ ٹھیک ہو گیا ہے ۔۔۔ہم ہاسپٹل جا رہے ہیں تم مہک کو لیکر ہاسپٹل پہنچو ۔۔۔۔پاپا میرے اعصاب پر جس بم پھنک گئے تھے ۔۔۔۔مجھے لگا آسمان سے بجلی ٹوٹ کر میرے اوپر آن گری ہو ۔۔۔۔کچھ پل میں اپنی جگہ سے ہل ہی نہیں پایا اور نا ہی کچھ سوچ سکا ۔۔۔۔۔مجھے لگا میرا پورا وجود جم سا گیا ہے ۔۔۔۔

عفان اور ہوش وحواس میں ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔۔۔۔میں منزل کے اس قدر قریب آ کر کیسے شکستہ پا ہو سکتا ہوں ۔۔۔۔نہیں نہیں میں نے غلط سنا ہے ۔۔۔۔شاید پاپا کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ایسا بہانک میں خواب بھی نہیں دیکھ سکتا جیسا یہ سچ تھا ۔۔۔۔میں گھر کے اندر گیا ہی نہیں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر سیدھا ہاسپٹل پہنچا پورارستہ پھر وہی دل کو جھوٹے دلاسے دیتا رہا ۔۔۔۔عفان کے کمرے سامنے کھڑے میرادل زور زورسے دھڑکنے لگا ۔۔۔۔۔مجھے لگا کوئی میرے وجود سے قطرہ قطرہ جان نکال رہا ہے ۔۔۔۔۔۔میں اندر داخل ہوا تو بلکل ساکت ہی رہ گیا عفان کی آنکھیں کھلی دیکھ کر مجھے اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا ۔۔۔۔۔۔میرے قدم وہی۔ جم گئے ۔۔۔بڑی مشکل سے میں عفان کے قریب پہنچا ۔۔۔۔عفان میری طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔اسے یوں دیکھ کر نا میرادل خوشی سے مچلا ۔۔۔۔نا مجھے کوئی مسرت محسوس ہوئی ۔۔۔۔میں بناوٹی طور پر بھی خوشی کا اظہار نہیں کر سکا ۔۔۔۔۔اسوقت میرا چہرہ آنکھیں لہجہ سب میں عفان کے لئے بیزاریت اور اکتاہٹ سی تھی ۔۔۔۔۔میں ڈاکٹر رمشہ سے عفان کے بارے میں بس رسم ہی پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔مما پاپا عفان سے باتیں۔ کرتے رہے ۔۔۔مگر میرے پاس عفان سے کہنے کو کچھ بھی نہیں تھا ایک لفظ بھی نہیں ۔۔۔۔۔ناجانے ماہم یہاں موجود کیوں نہیں تھی ۔۔۔۔میری نظریں۔ اسے تلاش کرنے لگیں مگر وہ کمرے میں کہیں نہیں تھی ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں ڈاکٹر رمشہ نے ہمیں واپس جانے کے لئے کہناشروع کر دیا ۔۔۔۔میں سب سے پہلے کمرے سے نکل کر ہاسپٹل سے ہی نکل گیا ۔۔۔۔۔گھر پر مہک میری ہی منتظر تھی اسے لگا میں آفس سے اب لوٹا ہوں مہک نے بڑی خوشی سے عفان کے ہوش میں آ جانے کی خبر سنائی ۔۔۔۔

“ہاں معلوم ہے مجھے ۔۔۔۔”

“پھر کامران ہم بھی چلتے ہیں ہاسپٹل” ۔۔۔۔وہ بے تابی سے بولی

“میں ابھی وہیں سے آ رہا ہوں کھانا لگاؤ مہک مجھے بھوک لگ رہی ہے “۔۔۔۔۔میں نے ٹائی کی نٹ ڈھیلی کرتے ہوئے کہا کوٹ میں پہلے ہی اتار کر صوفے پر پھنک چکا تھا

“تم اکیلے کیوں گئے کامران مجھے ساتھ لے جاتے” ۔۔۔۔

“مہک مجھے بھوک لگ رہی ہے ‘۔۔۔۔میں نے اپنی بات سخت لہجے میں دوہرائی ۔۔۔۔مہک کچن میں چلی گئ میں کمرے میں جا کر نہانے گھس گیا فریش ہو کر باہر آیا ۔۔۔۔میری بھوک پیاس ختم ہو چکی تھی بس زیر مار چند لقمے اندر اتارے اور اپنے کمرے میں لیٹ گیا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں پاپا اور مما واپس آ گئے مگر ماہم انکے ساتھ نہیں تھی پھر مہک سے معلوم ہوا کہ وہ رات وہیں ہاسپٹل میں عفان کے پاس رکے گئ ۔۔۔۔ یہ ایک اور دھچکا تھا میرے لئے ۔۔۔۔۔میں بس آنکھیں بند کیے لیٹارہا سوچتا رہا کہ یہ سب ہوا کیسے ۔۔۔۔ اور کیوں ۔۔۔۔۔اندر ہی اندر مجھے لگا میں چٹخنے اور ٹوٹنے لگا ہوں ماہم سے دوری کا خیال مجھے اندر سے تڑپانے لگا تھا ۔۔۔۔۔مہک کے سو جانے کے بعد میں عفان کے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔پورے کمرے کو باغور دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔

کیا کچھ ہی دنوں میں ماہم یہاں عفان کے ساتھ ہو گی عفان کے بہت قریب ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔ہر گز نہیں ۔۔۔۔۔میری ہے وہ ہمیشہ میری رہے گی ۔۔۔۔۔کوئی میرے اندر قہقے لگا کر ہسنے لگا

وہ تو اب بھی اپنے عفان۔ کے پاس ہے کامران ۔۔۔۔۔تم اب بھی بے بس ہو ۔۔۔۔سوچو رات بھر اپنی محبت بھری نظروں کی عنایتیں وہ عفان پر نچھاور کر رہی ہے ۔۔۔۔۔ایسی مہربانی سے تم تو اب ہمیشہ کے لئے محروم ہو چکے ہو ۔۔۔۔۔

“نہیں نہیں ۔۔۔۔۔چپ ہو جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔خدا کے لئے خاموش ہو جاؤں ۔۔۔۔۔یہ مت کہو کہ ماہم میری نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔ماہم صرف میری ہے ۔۔۔۔عفان کی صرف آنکھیں ہی تو کھلیں ہیں ۔۔۔۔اگر میں چاہوں تو اب بھی اسے مار سکتا ہوں ۔۔۔۔بلکہ میں اسے مار ہی ڈالو گا ۔۔۔۔۔میں نے ۔پوری رات اسی کش مکش کاٹی ۔۔۔۔۔کئ بار میری آنکھوں سے بے بسی کے آنسوں بہے جیسے میں نے رگڑ کر بے دردی سے صاف کیا کئ بار میں ٹوٹا کئ بار خود کو سنبھالا ۔۔۔۔صبح تک ماہم کے کمرے میں ہی رہا جب وہ واپس آئی تو مجھے اپنے کمرے میں دیکھ کر ٹھٹک گئ۔۔۔۔میری بے چینی بے قراری میری محبت اسے کچھ بھی تو نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔تھکن کے باوجود آج ماہم کے چہرے پر عجیب سی چمک تھی

“تم میرے کمرے میں کیا کررہے ہو اس وقت “

“ماہم ۔۔۔اب آ رہی ہو تم۔۔۔۔تمہیں احساس ہے پوری رات میں نے کیسے کانٹوں پر بسر کی ہے ۔۔۔”میری آنکھوں سے اب بھی آنسوں بہہ رہے تھے

“کامران چھوڑ دو میرا پیچھا کیسے سمجھاؤں تمہیں ۔۔۔جاوں یہاں سے “میں ماہم کے پاس آکر زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔۔۔۔اپنے دونوں ہاتھ بھی اسکے سامنے۔پھیلا دیے

“ایسے مت کہو ماہم ۔۔۔۔نہیں چھوڑ سکتا تمہیں ۔۔۔۔لو میں۔ معافی مانگتا ہوں تم سے ۔۔۔۔مجھے معاف کر دو ۔۔۔تمہارے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوں ماہم ۔۔۔اپنی محبت دیدو مجھے ۔۔۔۔۔۔مجھ سے ویسی محبت کرو ماہم جیسی تم کرتی تھی ۔۔۔۔”نا میرے لہجے میں رعونت تھی ۔۔۔نا گھمنڈ۔۔نا غرور ۔۔۔بس۔عاجزی تھی ۔۔۔۔منت تھی گزارش تھی ۔۔۔۔

“خدا کے لئے۔بند کرو اپنی یہ بکواس۔۔۔۔”

“بکواس نہیں ہے یہ۔ماہم ۔۔۔۔۔تم جانتی ہو مجھے ۔۔۔۔میں نے کبھی کسی کی منت نہیں کی ۔۔۔۔لیکن تمہاری کر رہا ہوں ۔۔۔۔میں کبھی کسی کا جھوٹا پانی تک نہیں پیا نا کسی کی اترن کو پہنا ہے لیکن تمہیں پانے کے لئے میں نے اپنے سارے اصول توڑ دیے ہیں ۔۔۔۔ میں نے ساری حدوں کو پار کیا ہے ۔۔جائز نا جائز کچھ نہیں دیکھا ۔۔۔۔ میں کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکا لیکن میری محبت کی انتہا ہے یہ کہ میں اپنے ہاتھ تمہارے سامنے پھیلائے بیٹھا ہوں ۔۔۔بے بس ہوں ۔۔۔۔نہیں۔ جی سکتا تمہارے بغیر “یہ ۔یری بے بسی اور لاچارگی کی انتہا تھی

“میں بھی بے بس ہوں۔۔۔۔بلکل تمہاری طرح ۔۔۔۔۔میری محبت کی انتہا جانتے ہو کیا ہے ۔۔۔۔میں کنتی محبت کرتی ہوں عفان سے ۔۔۔۔خدا کے بعد اگر سجدے کا حکم ہوتا تو میں اس کو کر دیتی میرے دل میں عفان کا مقام کتنا بلند ہے میرے خیال سے تم سمجھ چکے ہو گئے ۔۔۔۔۔کیونکہ اسے میرے رب نے میرے لئے چنا ہے اس بات پر میں اپنے رب کے سامنے جتنے سجدے کروں اتنے ہی کم ہیں ۔۔۔۔عفان نے مجھے اس وقت اپنایا تھا کامران جب تم نے اسے میرے کردار کے بارے میں مشکوک کر دیا تھا ۔۔۔۔اسکی جگہ تم ہوتے تو دھکار دیتے مجھے ۔۔۔۔۔محبت دینے کا نام ہے چھننے کا نام نہیں ۔۔۔۔”اسکی باتیں مجھے کھولا کر رکھ دیتی تھی ۔۔۔میں کھڑا ہو گیا

“لیکن میں چھین لوں گا ۔تم ۔بس یہ سمجھ لو کہ تمہیں ہرحال میں میرا ہونا ہے ۔۔”یہ کہہ کر میں نے کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے مہک کھڑی تھی شاید ہم دونوں کے درمیان ہونے گفتگوں سن چکی تھی ۔۔۔۔وہ تاسف سے

مجھ دیکھنے لگی ۔۔۔اچھا ہی تھا کہ مہک جان چکی تھی مجھے کچھ بھی سمجھانے کی ضرورت نہیں تھی

“کس قدر گھٹیا انسان ہو تم ۔۔۔کتنے روپ بدلتے ہو کامران ۔۔۔۔محبت اگر ماہم سے تھی تو مجھ سے محبت کا کھیل کیوں رچایا تم نے ۔۔۔۔ماہم۔ تو تمہیں مل ہی رہی تھی۔۔۔لیکن اس وقت تم مجھ سے محبت کے دعوے دار تھے ۔۔۔

“نہیں کرتا میں تم سے ۔محبت نا ہی کبھی کر سکتا ہوں ۔۔۔مہک میں کبھی تمہیں خوش نہیں رکھ سکتا ۔۔۔”

“اس کا احساس تمہیں۔ اب ہورہا کے ایک بچی کا باپ بننے کے بعد “

“مشعل تمہاری زمہ داری نہیں ہے مہک ۔۔۔مشعل کو ماہم سنبھالے گی تم چاؤں تو جا سکتی ہو “

“ہرگز نہیں ۔۔۔بھابی تم کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔۔میں مشعل کو کبھی نہیں سنبھالوں گی ۔۔۔نا میں عفان کو چھوڑ سکتی ہوں نا ہی اسے اپنا سکتی ہوں ۔۔۔۔”ماہم نے دو ٹوک انداز سے مہک کو جواب دیا

” میں جانتی ہوں تم عفان سے کتنی محبت کرتی ہو ۔۔۔اس دھوکے باز انسان کی یہی سزا ہونی چاہیے کہ اسے کوئی بھی نا اپنائے “مہک یہ کہہ کر چلی گئ

******//*

مہک نے روتے ہوئے اپنا بیگ نکالا اور وارڈ رعب سے اپنے کپڑے نکالنے لگی ماہم اور کامران کی باتیں سن چکی تھی ۔۔۔موبائل پر ماہم کی کال آ رہی تھی۔۔۔مہک نے فون اٹھا لیا

“خدا کے لئے بھابی مت جاؤ۔ ورنہ یہ شخص تمہیں ہی برا بنا کر خود سچا بن جائے گا” ۔۔۔

“نہیں ماہم مجھے اب نہیں رکنا “

“ایسا مت کہو مہک ۔۔۔۔تمہیں یہ طلاق نہیں دے سکتا ۔۔۔۔اتنی بڑی رقم حق مہر کی ادا کرنا اس کے بس میں نہیں ہے اور کیا چاہتی ہو تم مشعل بھی وہی محرومی دیکھے جو تم نے ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی دیکھی ہے ۔۔۔۔تم کہیں مت جاؤں بس کامران کے راستے بند کردو ۔۔۔۔”مہک ابھی ماہم سے بات کر ہی رہی تھی کہ کامران اندر داخل ہوا

*******

۔۔۔۔۔میں جب اپنے کمرے میں داخل ہوا مہک فون پر شاید ماہم سے بات کر رہی تھی مجھے دیکھ کر فون بند کر کے بیگ سے کپڑے نکال کر واپس واڈروب میں رکھنے تھی ۔۔۔۔مجھے حیرت سی ہوئی

“تم جا نہیں رہی مہک “۔۔۔۔۔میں نے ڈھٹائی سے کہا

“نہیں ۔”۔۔۔۔

“یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں تم سے کوئی واسطہ رکھنانہیں چاہتا” ۔۔۔۔میرے لہجے میں نفرت کی آمیزش عود آئی تھی

“ہاں ۔۔۔تو مت رکھو مجھ سے واسطہ طلاق دیدو مجھے۔”۔۔۔مہک کی غیر متوقع بات پر میں دانت کچکچا کر رہ گیا

“کاش کے ایسا میرے لئے آسان ہوتا ۔۔۔۔مجبور ہوں میں۔”۔۔۔ میں نے غصے سے مہک کہ طرف دیکھ کر کہا

“میں بھی مجبور ہوں ۔۔۔۔ نہیں چاہتی میری بیٹی باپ کی محبت سے محروم رہے ۔۔۔۔۔یا ماں کی توجہ اور محبت کو ترستی رہے جیسے میں ترستی رہی ہوں ۔۔۔۔۔اس لئے تم جیسے شخص کو قبول کرنا میری مجبوری ہے” ۔۔۔۔مہک کی کسی بات کی مجھے پروا نہیں تھی

“اچھا۔۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔۔شوق سےرہو مگر میں ماہم سے شادی ضرور کرو گا ۔”۔۔۔میری بات پر مہک زور زور سے ہسنے لگی ۔۔۔۔۔

“بھول ہے تمہاری کامران ۔۔۔۔۔ماہم کبھی تمہاری نہیں ہو گئ ۔۔۔۔۔”

“بکو مت “۔۔۔۔۔مجھے مہک پر غصہ آنے لگا ۔۔۔۔میں نے تکیہ ٹھیک کیا اور سونے کے لئے لیٹ گیا ۔۔۔۔مگر اس کے بعد تو مہک نے میرا جینا دوبھر کرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔مشعل کو میری گود میں بیٹھائے رکھتی تھی رات دیر تک میری نگرانی کرتی رہتی مجھے ماہم سے ملنے اور بات کرنے کا موقع تک نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔میں نے ڈاکٹر رمشہ سے دوبارہ بات کی کہ وہ عفان کا قصہ ختم کر دے تو میں اسےدس کے بجائے پندرہ لاکھ دوں گا مگر اس نے صاف انکار کر دیا بلکہ مجھے پولیس کی دھمکی بھی دی کہ اگر میں نے ایسا کچھ کرنا چاہا تو وہ پولیس میں کمپلین کر دے گی ۔۔۔۔میں ہر طرح سے مایوس ہو چکا تھا ۔۔۔۔روز با روز عفان کی بہتر ہوتی طعبیت۔۔۔۔اور ماہم سے دوری میری جان پر بن رہی تھی۔۔۔۔میں ماہم کو کسی صورت چھوڑ نہیں سکتا تھا۔۔۔۔

اس لئے ایک فیصلے پر پہنچ گیا ۔۔۔۔اب بھی ہاسپٹل میں میرے بہت سے جاننے والے ایسے تھے جو چند سکوں کی خاطر میری مدد با آسانی کر سکتے تھے ۔۔۔۔۔

***********….====.==************

میں لان پر رکھی کرسی پر سر ٹکائے اسی نہج پر سوچ رہا تھا کہ اب کیا ہو گا ۔۔۔۔پھر میں بے چین سا ہو کر سیدھا بیٹھ گیا ۔۔۔دونوں ہاتھوں سے اپنی کنپٹیاں دبانے لگا ۔۔۔مجھے اپنے تنے ہوئے اعصاب کا کھنچاؤ یوں لگ رہا تھا جیسے رسی نے میرے پورے وجود کوجکڑاہوا ہے اور دونوں جانب سے کوئی کھنچ رہا ہے ۔۔۔۔اپنے ذہنی انتشار کو میں کم نہیں کر پارہا تھا جو کچھ میں ہاسپٹل میں عفان کے ساتھ کر آیا تھا مجھے چین لینے نہیں دے رہا تھا ماتھے پر آنے والے پسینے کو میں کئی بار صاف کر چکا تھا ہوا دار موسم میں بھی میری حالت ایسی تھی جیسے کسی تپتے صحرا میں کھڑا ہوں ۔۔۔۔میرے ہاتھ صرف عفان کا آکسیجن ماسک اتارتے ہوئے ذراسے لرزے تھے ۔۔۔۔اس کے بعد میں اسے سانس کھنچ کھنچ کر لیتے دیکھا تھا ۔۔۔نا جانے یک دم میرے قدم اسکی طرف بڑھے دل ایک پل کے لئے تڑپا کہ میرا بھائی مر جائے گا ۔۔ میں ماسک اسکے واپس لگا دوں مگر میری حسد اور جلن نے مجھے روک دیا میں دورازے سے پلٹ کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔اور اب کسی جلے پاؤں کی بلی کی طرح بے چین تھا ۔۔۔۔۔اب تک مر چکا ہو گاوہ ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔میرابھائی ۔۔۔۔۔میراسگا بھائی ۔۔۔۔میراعفان ۔۔۔۔۔۔(اف عشق اور حسد کمبخت دونوں ایسے روگ ہیں جس تن نو لگ جائیں جلا کر بھسم کر دیتے ہیں) اور ۔میں بیک وقت دونوں سے دوچار تھا ۔۔۔۔مجھے اب بھی عفان کی سانسوں کی گڑگڑاہٹ کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔۔جو سانس وہ کھنچ کھنچ کر لینے کی کوشش کرتے ہوئے اسکے منہ سے نکل رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔ کتنا بے بس تھا وہ خود کو ہلا جلا نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔مجھے کتنی آس بھری نظروں سے دیکھا تھا اس نے ۔۔۔۔اف یہ کیا ہو گیا مجھ سے ۔۔۔۔مجھے معاف کر دینا عفان مجھے معاف کر دینا میں مجبور تھا اپنی محبت کے ہاتھوں ۔۔۔۔بے بس ہو گیا تھا ۔۔۔۔اور پھر ۔محبت اور جنگ میں تو سب کچھ جائز ہے ۔۔۔۔۔

“کیا محبت میں قتل جائز ہے ۔۔۔۔۔شاید یہ سوال میرے سوئے ہوئے ضمیر نے اٹھایا تھا ۔۔۔۔جو کبھی کبھی ہی جاگتا تھا ۔۔۔۔۔مگر میرے اندر کا شیطان شاید اسوقت بہت مضبوط ہو چکا تھا ۔۔۔۔ظاہر ہے جو حرکت میں اپنے سگے بھائی کے ساتھ کر چکا تھا وہ کوئی ذی شعور اور ایسا شخص نہیں کر سکتا تھا جس کاضمیر زندہ ہو ۔۔۔۔میرے اندر کا شیطان مجھے دلیلوں سے مطمین کرنے لگا

کیوں جائز نہیں محبت میں سب جائز ہے ۔۔۔۔اور یہ سب تو ازل سے ہوتا ا رہا ہے ہابیل اور قابیل بھی توبھائی تھے اور دنیا میں پہلا قاتل بھی ایک عورت کی وجہ سے ہوا تھا ۔۔۔۔تم نے کچھ غلط نہیں کیا کامران کچھ بھی غلط نہیں ۔۔۔۔میرے اندر کوئی حاسد براجمان تھا ۔۔۔۔جسے میرا کوئی غلط عمل غلط نہیں لگ رہا تھا اس کے نزدیک سب درست تھا ۔۔۔حالانکہ کہ قابیل کے بارے میں درد ناک عذاب کا ذکر قرآن پاک میں آ چکا ہے ۔۔۔۔اور اس گناہ کا جب جب ارتکاب ہوتا ہے اس کی سزا میں پہلا قاتل بھی سزا کا حق دار ہوتا ہے جس نے گناہ کی ابتدا کی ہو ۔۔۔۔لیکن اس وقت میرے شیطانی دماغ میں سب جائز تھا ۔۔۔۔

شاید دنیا میں گناہوں کی ابتدا اسی سوچ سے شروع ہوئی ہو گی کہ سب کچھ جائز ہے

اگر یہ سب ٹھیک ہے تو میں پر سکون کیوں نہیں ہوں ۔۔۔۔مجھے چین کیوں نہیں آ رہا کسی کی سنی ہوئی بات سچ لگ رہی تھی کہ گناہ کرنے والا کبھی سکون میں نہیں رہتا ۔۔۔۔۔جب میری بے چینی حد سے بڑھ گئ میں لاونج میں آ گیا اوپر کا زینہ تیزی سے چڑھ کر ماہم کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا ۔۔۔۔کچھ دیر میں وہ موندی موندی آنکھوں کو مسلتے ہوئے دروازہ کھول کر مجھے دیکھتے ہی سیدھی ہو گئ ۔۔۔۔اور کوفت سے مجھے دیکھنے لگی

۔۔۔۔میں بہت گھبرایا ہوا تھا ۔۔۔۔اپنی کیفیت سے اکتا چکا تھا ۔۔۔۔

“تم کیوں آتے ہو بار بار کامران ۔”۔۔۔ماہم بیزار سی تھیں

“ماہم ۔۔۔۔ماہم میں بہت پریشان ہوں ۔۔۔۔دیکھوں دیکھوں گھبراہٹ کے مارے ۔۔۔۔کیسے پسینے آ رہے ہیں مجھے ۔۔۔۔۔مجھے بہت گھٹن ہو رہی ہے ماہم ۔۔۔۔۔۔۔میں اپنے ہاتھ سے پسینہ پونچ کر ماہم کو دیکھانے لگا

“تو میں کیا کرو ۔۔۔۔خدا کے لئے جاؤں یہاں سے” ۔۔۔۔ماہم اکتائے ہوئے بولی

“ماہم تم سمجھ نہیں رہی ہو ۔۔۔۔تمہیں نہیں پتہ میں عفان کے ساتھ کیا کر کے آ رہا ہوں میں ” ۔۔۔۔۔بے اختیار ہی سچ میری زبان پر آ گیا تھا ۔۔۔ماہم وہیں ٹھٹک سی گئ

“کیا کیا ہے تم نے عفان کے ساتھ ۔۔۔۔۔بولو کامران ۔۔۔۔کیا کیا ہے تم نے عفان کے ساتھ “۔۔۔۔وہ چلا کر پوچھنے لگی

“آزاد ۔۔۔۔۔آزاد کر دیا میں نے اسے ۔۔۔۔ماہم میں نے اسے اس زندگی سے آزاد کر دیا” ۔۔۔۔۔مجھے اپنی حالت غیر ہوتی محسوس ہو رہی تھی میرا پورا جسم برف کی مانند ٹھنڈا ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔لزر رہا تھا میرے ہاتھ کپکپا رہے تھے پورے جسم پر لرزہ طاری تھا پھر ماہم کی بد حواسی مجھے اور پریشان کرنے لگی

“دیکھوں میرے ہاتھ ماہم کیسے کپکپا رہے ہیں ۔۔۔۔جانتی ہو انہیں ہاتھوں سے میں نے عفان کا ماسک آتا دیا ۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔سانس نہیں لے پا رہا تھا”۔۔۔۔ میں اپنی کپکپاتی ہتھیلیاں اسکے سامنے کرتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کر رہا تھا

“یہ کیا کیا ۔۔۔۔یہ کیا۔۔۔کیا ہے تم نے کامران ۔۔”۔۔ماہم میرا گریبان پکڑ کر چلا کر روتے ہوئے مجھے جھنجھوڑنے لگی ۔۔۔۔۔

“میں نے مار ڈالا اسے” ۔۔۔۔۔میری زبان میرے قابو سے باہر تھی ۔۔۔۔ماہم پھٹی پھٹی آنکھوں مجھے دیکھ کر زور زور سے چلانے لگی

“نہیں ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔تم ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔تم عفان کو ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔کامران ۔۔۔۔نہیں” وہ پاگل سے ہونے لگی تھی ۔۔۔۔بے تحاشہ چیخ رہی تھی رو رہی تھی کچھ ہی دیر میں پاپا مما مہک اوپر بھاگتے ہوئے آئے ماہم کی حالت قابو سے باہر تھی اور میں کسی مجرم کی طرح نظریں جھکائے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔

“کامران ایسا کرو مجھے بھی مار ڈالو میرا گلہ بھی گھونٹ دو تم نے مجھ سے میری زندگی چھین لی ہے ۔”۔۔۔۔۔۔ وہ سب کو فراموش کر کے میرے سامنے کھڑی ہو گئ میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنا گلہ میرے ہاتھوں سے دبانے لگی۔۔۔۔۔

میں جھٹکے سے پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔

“کیا ہوا ہے ماہم ۔۔۔۔کامران کیا بات ہے ۔۔۔۔کیا ہوا ہے” ۔۔۔۔پاپا مجھ سے اور ماہم سے پوچھنے لگے

“پاپا ۔۔۔۔۔پاپا اس نے ۔۔۔۔اس نے ۔۔۔۔عفان کو “۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ ماہم انہیں کچھ بتاتی پاپا کے موبائل پر ڈاکٹر رمشہ کی کال آنے لگی ۔۔۔۔پاپا نے حیرت سے گھڑی کی طرف دیکھا رات کے تین بج رہے تھے ۔۔۔۔

کون ہے پاپا ۔۔۔۔ماہم نے اڑی ہوئی رنگت سے پوچھا ۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ کی کال ہے

“نہیں پاپا فون مت اٹھائیے گا ۔۔۔۔۔فون مت اٹھائیے گا پاپا ۔۔۔جو وہ کہے گی نا میں سن سکتی ہوں نا اپ ۔”۔۔۔ ماہم ہذیانی سی ہو رہی تھی

ایک منٹ بٹیا مجھے بات کرنے دو ۔۔۔۔ پاپا نے رسانیت سے ماہم سے کہا وہ بے حد گھبرائی ہوئی تھی مما نے ماہم کو اپنے ساتھ لگا لیا ۔۔۔۔میرادل اتنے زور سے دھڑکا کہ جیسے سینہ پھاڑ کر باہر نکل آئے گا ۔۔۔

ہیلو جی ڈاکٹر ۔۔۔۔۔کیا۔۔۔۔۔پاپا چلائے اور میرے وجود سے کسی روح کھنچ لی ہو شاید وہ عفان کے مر جانے کی خبر سنا رہی تھی یہی حالت ماہم کی بھی تھی