Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 11
Rate this Novel
Tadbeer Episode 11
Tadbeer by Umme Hani
اگلے روز آفس میں مہک پورا دن میرا دماغ چاٹتی رہی ۔۔۔۔
“اس سے ذیادہ ٹیسٹی شیرٹن کا کھانا ہے اگلی بار وہاں چلیں گئے” ۔۔۔۔مہک کے خود ساختہ فیصلے پر میں بوکھلا کر رہ گیا
“اگلی بار ۔۔۔۔۔کیوں ۔۔۔۔۔کس خوشی میں” ۔۔۔۔ میں نے ماتھے پر تیوری چڑھائے روکھے سے انداز سے پوچھا
“اب تو دوستی ہو گئ ہے ہماری اور دوستوں میں ایسے گیٹ ٹو گیدر ہوتے رہتے ہیں” ۔۔۔۔۔وہ بڑے اطمینان سے بولی
“کس نے کی ہے آپ سے دوستی مس مہک” ۔۔۔۔میرا انداز ہنوز تھا میں اپنے لہجے میں لچک لائے بغیر بات کر رہا تھا ۔۔۔۔میری ذرا سی ڈھیل مہک کو کہیں خوش فہمی میں مبتلا نا کر دے ۔۔۔اس لئے مجھے یہی رویہ مناسب لگا
“کیا مطلب ہے ۔۔۔۔”
“دیکھیں مس مہک آپ قاسم کی کزن ہیں اور قاسم میرا بہت اچھا دوست اس ناطے سے میں نے اگر آپ کو تھوڑی سی کمپنی دیدی اسکا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ میری آپ سے دوستی ہوچکی ہے اور اب بہت ہو چکیں باتیں ۔۔۔اپ جائیں اپنی سیٹ پر اور کمپوٹر ڈئزائنگ کے کچھ نئے ڈزائن خود سے بنا کر مجھے دیکھائیں ۔۔۔۔۔میں ذرا اسٹاف کو دیکھ کر آتا ہوں” ۔۔۔۔میں نے مہک کے بگڑے تاثرات کو نظر انداز کیا اور اپنے کمرے سے باہر آ کر باری باری سارے اسٹاف کا کام چیک کرنے لگا ۔۔۔۔۔ڈرائنگ اور ڈرافنگ آخر میں میں خود ضرور چیک کرتا تھا ۔۔۔۔پھر میں قاسم کے روم میں چلا گیا ۔۔۔۔اس سے نئے پروجیکٹ کی ڈسکشن کے بعد میں اپنے روم میں واپس آیا تو مہک کمپوٹر پر اس قدر مگن تھی کہ میری آمد سے بے خبر ہی رہی ۔۔۔میں اپنی سیٹ کے بجائے مہک کے پاس کھڑا ہو گیا اپنی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے دیکھنے لگا کہ وہ کر کیا رہی ہے چونکہ میں اسکے
عقب میں کھڑا تھا اس لئے وہ بے فکری سے اپنی گیم کھیلنے میں مصروف تھی ۔۔۔پہلے تو مجھے حیرت ہوئی کہ یہ لڑکی یہاں کام کرنے آتی ہے یا وقت گزاری کرنے وہ کمپوٹر پر کار ریس ٹاپ کی کوئی گیم کھیل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر تو میں خاموشی سے دیکھتا رہا ۔۔۔۔پھر اپنا گلا کھنکارا
“مس مہک “۔۔۔۔۔میری آواز پر مہک کی متحرک انگلیاں وہیں رک گئیں ۔۔۔۔مہک کو میری موجودگی کا احساس تو ہو چکا تھا مگر اس نے پلٹ کر مجھے دیکھنے کی زحمت نہیں کی
“مس مہک میں آپ سےخاطب ہوں “۔۔۔۔اس بار میں نے ذرا سخت لہجے میں کہا ۔۔۔۔پھر بھی وہ جوں کی توں بیٹھی رہی ۔۔۔۔مجبورا مجھے اس کے سامنے آنا پڑا
“مس مہک “””یہ ڈئزائنگ کر رہی ہیں آپ “”۔۔۔۔میری سمجھ سے باہر ہے ۔۔۔۔۔آپ یہاں آتی کیوں ہیں ۔۔۔۔میرے خیال سے آپ یہاں اپنا ٹائم اچھا سپنڈ کرنے آتی ہیں ۔۔۔۔”
“ن نہیں وہ ۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔میرا موڈ نہیں تھا “
“آئی ڈونٹ وانٹ ٹو ہیر اینی اکسکیوز۔۔۔۔۔پلیز آپ جاہیں ہمدانی صاحب کے پاس “۔۔۔۔میں سخت لہجے سے بولا تو مہک بگڑے ہوئے موڈ سے تن فن کرتی ہوئی دروازہ پوری قوت سے بند کر کے کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔میں اپنی چیر پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا
“عجیب لڑکی ہے یہ “۔۔۔۔۔مجھے قاسم پر غصہ آنے لگا ۔۔۔۔میں نے خود کو جھٹکا اور فائل کھول کر چیک کرنے لگا کچھ ہی دیر میں قاسم میرے کمرے میں پہنچ گیا
“ہیلو” ۔۔۔۔قاسم یہ کہہ کر کرسی سنبھالی کر بیٹھ گیا
“یس “۔۔۔۔میں استفہامیہ نظروں سے قاسم کو دیکھا
“یہ مہک کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔”
“اب کیا ہوا ہے” ۔۔۔۔میں نے کوفت بھرے انداز سے کہا
“روتے ہوئے یہاں سے گھر کا کہہ کر چلی گئ”
“یہ تو اچھی بات ہے ۔۔۔ اٹلیس میں اپنا کام پوری کنسنٹریٹ سے کر پاوں گا ۔۔۔۔اور کل سے اسے کسی اور کے حوالے کر دو تو بہتر ہے ۔۔۔۔”
“لیکن عفان “
“پلیز قاسم اس قدر بولتی ہے یہ لڑکی کہ میں اپنے کام میں اٹنشن نہیں دے پا رہا ہوں ۔۔۔۔اور اسکی ساری فضول بکواس میں پروفشنل ٹائپ کی ایک جھلک تک نہیں ہوتی مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ اس نے واقع انجیرنگ کی بھی ہے کہ نہیں اسے تو بیسک پوانٹس تک نہیں معلوم ” ۔۔۔۔میں بھی سارے لحاظ بلائے طاق رکھ کر دو ٹوک انداز میں قاسم سے بات کی
“اچھا کول ڈاؤن یار میں سمجھا دوں گا مہک کو “
“نو نو قاسم ۔۔۔۔پلیز مجھے یہ لڑکی اپنے کیبن میں نہیں چاہیے۔۔۔۔ یو مسٹ ہینڈل ہر” ۔۔۔۔میں نے سخت لہجے میں کہا
“او کے جسٹ ریلکس ۔۔۔۔میں کچھ کرتا ہوں ڈونٹ بی ہائپر یار ۔”۔۔۔۔قاسم میرے غصے کو دیکھ کر بولا
“او کے جسٹ فوگیٹڈ مہک ۔۔۔۔تم جا کر دیکھوں ہمدانی صاف نے ڈاف کمپلیٹ کروا لیا ہے تو پھر ایک بار سائٹ پر بھی چکر لگا آئیں ۔۔۔۔”
“او کے دیکھتا ہوں قاسم فورا سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔”۔مجھے اپنے کام میں کوتاہی بلکل پسند نہیں تھی اور مہک کی وجہ سے میں وہ پرفومس نہیں دے پا رہا تھا جو میں ہمیشہ سے دیتا آ رہا تھا ۔۔۔۔
********………********………******
جب سے قاسم کے ڈیڈ گئے تھے مجھ پر دوہری ذمہ داری پڑ گئ تھی ۔۔۔۔اسلئے آدھی رات تک میں لیپ ٹاپ پر مصروف رہنے لگا تھا ابھی بھی کام باقی تھا مجھے چائے کی طلب نے کچن تک پہنچا دیا اب میں چائے خود سے بنا لیتا تھا ۔۔۔۔میرے ہاتھ میں ماہم جیساذائقہ تو نہیں تھا مگر اچھا گزارا ہو ہی رہا تھا میں چائے ابھی بنانے ہی لگا تھا کہ ماہم کچن میں آ گئ۔۔۔۔
“لاؤں عفان میں چائے بنا دوں” ۔۔۔۔ماہم نے بہت اپنایت سے کہا اور کپ میرے ہاتھ سے پکڑنے لگی مگر میں نے ہاتھ پیچھے کر لیا
نہیں ۔۔۔میں خود کر لوں گا ۔۔۔ویسے بھی بن چکی ہے ۔۔۔میں نے کیتلی سے چائے کپ میں ڈالی اور کپ اٹھا کر باہر نکلنے لگا مگر ماہم تیزی سے میرے سامنے آ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔جس سمت سے میں نکلنے لگتا وہ سامنے آ جاتی
“یہ کیا بچپنا ہے ہٹو سامنے سے”۔۔۔۔میں سختی سے بولا
“وہ سب کیا ہے عفان جو تم کر رہے ہو میرے ساتھ … کیوں اتنے روٹ ہو کر بات کرتے ہو مجھ سے ۔۔۔کہا کیا ہے میں نے تمہیں ۔۔۔۔مجھے آج وجہ جاننی ہے” ۔۔۔۔ماہم شاید ضبط کر کے تھک چکی تھی بھگے لہجے سے مجھ سے پوچھنے لگی
“یہ کوئی وقت نہیں ہے ایسی باتیں ڈسکس کرنے کا “
میں نے تیکھے لہجے میں کہا
“پھر کون سا وقت ہے تمہارے پاس میرے لئے ۔۔۔ہو کیا گیا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔”وہ آنکھوں میں آنسوں لئے مجھ سے پوچھ رہی تھی اور میں اس سے کترا رہا تھا
“آگے سے ہٹو ماہم” ۔۔۔۔۔میں نے سخت لہجے میں کہا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اسکے سوالوں کا اور جو جواب تھا وہ میں دینا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔ماہم کی آنکھوں میں اب میرے لئے حیرت تھی
“کیا کہا تم نے ۔”۔۔۔وہ بے یقینی سے بولی
“میں نے کہا آگے سے ہٹو “میں نے لفظ جما کر کہا
“نہیں۔۔۔۔ یہ نہیں ۔۔۔۔ اس کے بعد کیا کہا ۔۔۔۔۔”
“یہی کہا ہے میں نے ۔۔۔اب ہٹو یہاں سے ۔۔۔۔”
“تم نے ۔۔۔۔تم نے ۔۔۔ماہم کہا ہے مجھے عفان ۔۔۔۔”اوہ تو میرا ماہم کہنا برا لگا تھا اسے ۔۔۔۔
“ہاں تو یہی نام ہے تمہارا ۔۔۔اسی سے پکارو گا تمہیں ۔۔۔۔”
“نہیں ۔۔۔۔تمہاری میں ماہی ہوں ۔۔۔۔ماہی کہا کرو مجھے ۔۔۔۔”اسکی آنکھوں کے ساتھ اسکا لہجہ بھی بھگنے لگا تھا
“نہیں ۔۔۔اب نہیں کہہ سکتا ۔۔۔اور نا کبھی کہو گا ۔۔۔۔نہیں ہو تم میری ماہی ۔۔۔۔۔”میرا لہجہ خود با خود ہی تلخ ہونے لگا تھا۔۔۔۔دل ٹوٹا تھا میرا ۔۔۔خواب چکنا چور ہوئے تھے ۔۔۔۔۔کیسے میں سب کچھ بھلا سکتا تھا ۔۔۔۔۔
“کیوں نہیں کہو گئے ۔۔۔ہوا کیا ہے تمہیں ۔۔۔۔”
“ماہم پیچھے ہٹو یہاں سے ۔۔۔۔۔”میرے تپے ہوئے لہجے پر
وہ آنسوں بہاتے ہوئے پیچھے ہٹ گئ ۔۔۔۔۔میں نے اپنا کپ لیا اور اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔ماہم سے اتنی بے رخی کر بیٹھا تھا مگر اب دل کو چین نہیں تھا جب میں نے کبھی ماہم سے یوں بات کی ہی نہیں تھی تھی جب ماہم کو میرے اس رویے کی عادت نہیں تھی پھر اسے تکلیف تو پہنچنی ہی تھی ۔۔۔مجھے پچھتاوا سا ہونے لگا۔۔۔۔ جیسے وہ رونے لگی تھی مجھے معلوم تھا اب وہ رات بھر روتی رہے گی ۔۔۔چائے سے دل ایک دم ہی اچاٹ سا ہو گیا میں نے کپ سائیڈ ٹیبل ہے رکھ دیا اور خود بیڈ پر نیم دراز ہوگیا
“کیا جواب دوں تمہارے سوالوں کا ماہی ۔۔۔۔۔۔۔کوئی قصور نہیں ہے تمہارا ۔۔۔۔مگر میں بھی اپنی جگہ مجبور ہوں ۔۔۔۔۔تم سے دور رہنا ہی ایک کڑا امتحان ہے میرے لئے ۔۔۔۔مجھے مزید مشکلات میں مت ڈالو کوئی جواب نہیں ہے میرے پاس تمہارے کسی بھی سوال کا “۔۔۔۔۔اپنی سوچوں کے گرداب میں ہی میں الجھ کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔زندگی مجھے ایک سخت آزمائش لگنے لگی تھی
*********……..*******
دوسرے دن مہک کو اپنے کیبن میں دیکھ کر میری پیشانی پر شکنیں پڑی گئیں مگر میں بنا کچھ کہے اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا آج شام کو میٹنگ تھی اس لئے میں فائنل رپوٹ تیار کرنے لگا ۔۔۔۔مہک شاید رو رہی تھی ۔۔۔۔مجھے اس پر غصہ آنے لگا مگر میں نے مہک سے کچھ نہیں پوچھا بس اپنے کام میں مصروف رہا کچھ دیر تو وہ اپنی سیٹ پر بیٹھی سو سو کرتی آنسوں بہاتی رہی کہ شاید میں خود اس سے وجہ پوچھوں گا یا اپنے رویے کی معافی مانگوں گا مگر جب اسے اچھی طرح سے تسلی ہو گئ کہ سامنے والا ایسے کسی التفات کے موڈ میں نہیں ہے تو وہ اپنی کرسی سے اٹھ کر میرے سامنے کھڑی ہو گئ
“ہاو سیلفش یو آر ۔۔۔۔ٹیبل پر مکا مار کر گویا اس نے اپنا غصہ دیکھانے کی کوشش کی آنکھوں میں آنسوں بھرے وہ بھپرے ہوئے کھڑی تھی میں نے بس لحظہ بھر ہی مہک کو دیکھا ۔۔۔پھر میں بنا اسکی حرکت کو نوٹ کیے ۔۔۔بدستور فائل پر نظریں جمائے پڑھتا رہا جیسے مہک وہاں موجود ہی نا ہو
“یو ڈونٹ نو ہاؤ ٹو آ ٹاک ٹو گرل “۔۔۔۔۔مہک غصے سے بولی
‘یس آئی ایم لائک دس” ۔۔۔۔میں تنگ آ چکا تھا مہک کی بچکانہ حرکتوں سے میں نے انٹر کام سے ہمدانی صاحب کو اپنے کمرے میں بلایا کچھ ہی دیر میں ہمدانی صاحب کمرے میں موجود تھے میں نے بلا تامل انہیں کہا
“مس مہک کو اپنے ساتھ لیکر جائیں اور اپنے سامنے ان سے ڈراف بنوائیں میں قاسم کے ساتھ سائٹ پر جا رہا ہوں واپسی پر میں انکا ڈراف خود چیک کروں گا ۔۔۔۔ہمدانی صاحب کو کہہ کر میں نے ٹیبل سے گاڑی کی چابی اور گلاسز اٹھائے فائل پکڑی مہک ہکا بکا سی مجھے دیکھنے لگی میں کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔واپسی پر مجھے پانچ بج چکے تھے لنچ بھی ہم دونوں نے باہر ہی کیا تھا ۔۔۔واپس آ کر معلوم ہوا کہ مہک صاحبہ تو اسی وقت واپس چلی گئیں تھیں میں گھور کر قاسم کودیکھنے لگا
“یہ لڑکی تمہیں کہیں سے بھی اپنے کام کے لئے سریس لگتی ہے” ۔۔۔۔میرےسخت تیور دیکھ کر قاسم مجھے تسلیاں دینے لگا
“ہو جائے گی ٹھیک بس ذرا سی لا ابالی سی ہے مگر اچھی ہے ۔۔۔تم بھی کچھ نرمی والا برتاؤ کرو تمہارا بھی غصہ ہر وقت ناک کر دھرا رہتا ہے” ۔۔۔قاسم نے مجھے سمجھاتے ہوئے کیا اور میں اسے گھور کر رہ گیا
********………..
میں آفس جلد ہی لوٹ آیا تھا رات کو بھی ٹھیک سے سو نہیں پایا تھا جیسے ہی آنکھیں بند کرتا ماہم کا روتا ہوا چہرہ سامنے نظر آنے لگتا اپنے رویے پر خود کو کوسنے لگتا صبح آفس پر بھی جلدی چلا گیا تھا تا کہ ڈائنگ پر ماہم کی متورم آنکھیں نا دیکھ سکو بنا کسی جرم کے بھی میں خود کو ماہم کا مجرم محسوس کرنے لگا تھا ۔۔۔۔ اب میرا ارادہ لمبی تان کر سونے کی کا تھا اس لئے میں مما کو نیچے خاص تاکید کر کے آیا تھا کہ رات کے ڈنر سے پہلے مجھے کوئی ڈسٹرب نا کرے اپنے کمرے میں آتے ہی میں نے بے کمرہ بن بند کیا کمرے میں بہت اندھیرا تھا میں نے لائٹ آن کی تو سامنے بیڈ پر ماہم کو بیٹھے دیکھ کر ٹھٹک سا گیا وہ شاید میری آمد سے باخوبی واقف تھی اپنا رخ میری طرف موڑ کر مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔۔اسکی روئی روئی آنکھیں دیکھ میں نے فورا سے اپنی آنکھیں پھیر لیں
“تم یہاں کیا کر رہی ہو “۔۔۔۔۔میں نے اپنے لہجے میں سختی لانے کی کوشش کی
“تمہارا انتظار ۔۔۔۔۔بات کرنی ہے مجھے عفان ۔۔۔۔اور یہ وقت اتنا بھی غیر مناسب نہیں کہ تم مجھ سے بات نا کر سکو”۔۔۔۔۔وہ بھی ترش لہجے اور کڑے تیور لئے بولی
“مگر مجھے اسوقت نیند آ رہی ہے میں سونا چاہتا ہوں بہتر یہی کہ تم جاؤں یہاں سے” ۔۔۔۔میں درشتی سے بولا اس وقت میں ذہنی کی کوفت کا شکار تھا اور سچ یہ بھی تھا کہ ماہم کے کسی سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا
“نہیں میں بات کلیر کیے بغیر نہیں جاؤں گی ۔”۔۔وہ بھی شاید مصمم ارادہ باندھ کر آئی تھی بیڈ سے اٹھ کر میرے سامنے کھڑی ہو کر بولی میں اب بھی کمرے کے بند دروازے کے پاس ہی کھڑا تھا
“ماہم فارگاڈ سیک جاؤں یہاں سے مجھے کچھ نہیں سننا ” ۔۔۔۔۔میں نے سختی سے کہا اب میں اسے اپنی ناراضگی اور دور رہنے کی کیا وجہ بتاتا ۔۔۔۔۔اس لئے اسے اس لہجے میں بات کرنا ضروری تھا تا کہ وہ
دوبارہ مجھ سے بات ہی نا کرے دور رہے مجھ سے ماہم کی شکوہ کناں نظروں کو میں پل بھر سے ذیادہ دیکھ ہی نہیں پایا
“تم وہ عفان تو نہیں لگتے مجھے ۔۔۔۔جو مجھ سے بات کیے بنا رہ نہیں سکتا تھا جو چند دن میری ناراضگی برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔ہو کیاگیا ہے تمہیں ۔۔۔۔اگر میری کوئی بات گراں گزری ہے تم پر تو فارگیٹڈ عفان ۔۔۔۔او کے میں اکسکیوز کر لیتی ہوں تم سے مگر پلیز مجھ سے اس طرح سے لاتعلقی مت برتو۔”۔۔۔ماہم رقت آمیز لہجے میں بول رہی تھی
میں نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور اسے باہر جانے کا اشارہ کیا وہ دنگ رہ گئ ۔۔۔ایسی بے مروتی کی توقع ماہم نے شاید خواب میں بھی نہیں سوچی ہو گی وہ مجھے حیرت سے تکنے لگی
“ابھی کے ابھی نکلو میرے کمرے سے باہر اور آئندر بنا میری اجازت کے میرے کمرے میں مت آنا “میرے
اجبنی اور سخت لہجے پر وہ ۔۔۔انکھوں میں آنسوں لئے تیز قدموں سے باہر نکل گئ مما اسی وقت کسی کام سے اوپر آئیں تھیں۔۔۔میری بات اور رویہ بھی دیکھ چکیں تھیں ماہم تیزی سے نیچے جاتے ہوئے مما سے ٹکراگئی پھر روتے ہوئے نیچے چلی گئ۔۔۔میری نظر مما سے ٹکرائی ان کی تاسف بھری نگاہوں سے میں شرمندہ سا ہو گیا۔۔۔۔مما نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کمرے میں لے آئیں دروازہ بند کر اور میرا ہاتھ چھوڑ کر بولیں
“یہ سب کیا ہے عفان کیوں ایسا رویہ اختیار کر رکھا ہے ماہم سے کئ بار وہ مجھ سے تمہاری شکایت کر چکی ہے میں ہی اسے تمہاری مصروفیت کا بہانہ بنا کر ٹال دیتی ہوں ۔۔۔ “
“تو اور کیا کروں مما ۔۔۔۔اسے خود سمجھنا چاہیے جب میں اس سے بات ہی نہیں کرنا چاہتا تو کیوں پیچھے پڑی ہے میرے ۔۔۔۔اسکی خوشی کامران بھائی تھے جو اسے مل چکے ۔۔۔۔اب مجھ سے کیا چاہتی ہے وہ ۔۔۔آپ سمجھائیں اسے دور رہا کرے مجھ سے” ۔۔۔
۔میرے لہجے میں اضطراب بھی تھا اور سختی بھی
“کیوں اب ایسا کیا ہو گیا ہے ۔۔۔۔بچپن سے وہ ہر بات تم سے شیر کرتی آئی ہے ۔۔۔تم بھی اس سے باتیں کرتے نہیں تھکتے تھے اب ایک پل میں پرایا کر دیا ہے تم نے اسے ۔۔۔کیوں عفان ۔”۔۔مما مجھے نرمی سے سمجھانے لگیں
“آپ جانتی ہیں وجہ۔”۔۔۔۔میرے معنی خیز انداز کو مما سمجھ گئی۔ تھیں
“اس ذرا سی بات پر تم یوں ۔۔۔۔۔”
“ذرا سی بات” ۔۔۔۔۔مجھے مما کی بات پر بیحد دکھ ہوا میں نے مما کی بات بیچ سے ہی اچک لی اور سلگتے ہوئے مما کو دیکھا
“آپ کے لئے یہ ذرا سی بات ہے ۔۔۔۔۔مما میں نے بے تحاشہ محبت کی ہے ماہی سے ۔۔۔یہ ذرا سی بات نہیں ہے ۔۔۔۔
“آپ کے ایک بار منع کرنے پر میں اپنے قدم پیچھے ہٹا لئے ۔۔۔یہ بھی میرے لئے ذرا سی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔کچھ نہیں پوچھا ماہی سے کوئی سوال نہیں کیا کہ اسے میری محبت نظر کیوں نہیں آئی ۔۔۔۔اب
اسے بھی کسی سوال کا کوئی حق نہیں ہے ۔۔۔۔اس سے کہیں مت بات کیا کرے مجھ سے کوئی جواب نہیں ہے میرے پاس ” ۔۔۔۔۔میری آنکھوں میں جلن سی ہونے لگی اپنے آنسوں کو ضبط کیے میں نا جانے کیسے یہ سب بول رہا تھا
“عفان وہ تمہارے جذبات سے انجان ہے بیٹا۔۔۔۔تمہیں صرف کزن اور دوست ہی سمجھتی ہے ۔۔۔۔”
“مما پلیز… میں پہلے کی طرح نہیں رہ سکتا بہت مشکل ہےمیرے لئے ۔۔۔۔بلکہ یہاں رہنا ہی مشکل ہو رہا ہے ۔۔۔۔پل پل مرتا ہوں میں یہاں کیسے سمجھاؤں آپ کو۔۔,”۔میں آج پھٹ پڑا تھا ۔۔۔۔۔ مما کے دونوں بازو پکڑ کر نہایت ل چاری سے کہہ رہا تھا
۔۔۔۔”۔نہیں رہوں گا یہاں بہت دور چلا جاؤں گا” ۔ ۔۔۔۔میری تکلیف پر مما بھی پریشان سی ہو گئی تھیں
“عفان میری جان سنبھالو خود کو وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا “
“مما میں یہاں نہیں رہ سکتا بہت جلد چلا جاؤں گا ۔۔۔۔یو کے ۔۔۔امریکہ اٹلی جہاں مجھے جاب ملی میں چلا جاؤں گا ۔۔۔۔۔”
“عفان “مما کی آنکھوں میں۔ آنسوں چمکنے لگے مگر می بے خود سا ہو گیا تھا ۔۔۔تھک کا سب برداشت کرتے کرتے
“مما پلیز ۔۔۔کچھ وقت مجھے اکیلا رہنے دیں ۔۔۔مجھے سنبھلنے کے لئے وقت چاہیے ۔”۔۔۔۔میری آنکھوں میں اترتی ہوئی سرخی
اور بے بسی سے چمکتے آنسوں دیکھ کر مما کچھ نہیں بولیں خاموشی سے اپنے آنسوں صاف کرتی ہوئیں باہر چلی گئیں ۔۔۔میں نے لائٹ آف کی اور بیڈ پر لیٹ گیا مگر نیند آنکھوں سے غائب ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔بچپن کا ہر وقت کا ساتھ چھوڑنا صرف ماہم کے لئے ہی نہیں میرے لئے بھی مشکل تھا
**********………
رات کا ڈنر بھی میں نے ٹھیک سے نہیں کیا ۔۔۔۔۔صبح آنکھ بھی دیر سے کھلی بھاگم بھاگ میں آفس میں پہنچا میں نے آفس کے کمرے کا دروازہ کھولا ۔۔۔۔سامنے مہک میری ریوالونگ چیر ہر بیٹھی تھی اور چیر کا رخ پیچھے دیوار کی جانب تھا ۔۔۔۔مہک میرے ہی انداز سے خود سے ہمکلام تھی ۔۔۔
“یہ کیا ہمدانی صاحب آپ نے ابھی تک ڈراف بھی کمپلیٹ نہیں کروایا ۔۔۔۔آپ جانتے ہیں نا مجھے اپنے کام میں بلکل بھی کوتاہی پسند نہیں ۔۔۔۔اور نا ہی مجھے نا سننے کی عادت ہے ۔۔۔۔میں ہاتھ باندھے مہک کو اپنی نقل اتارتے ہوئے دیکھ رہا تھا وہ اپنی آواز بھاری کر کے بول رہی تھی پھر اپنی چیر جھٹکے سے آگے کی اور ہاتھ میں پکڑی فائل سامنے ٹیبل پر پھینکتے ہوئے بولی
“اسے لے جائیں اور ۔”۔۔۔۔سامنے مجھ پر نظر پڑتے ہی بری طرح سٹپٹا سی گئ ۔۔۔میں آبرو چھڑھائے بڑے غور سے اسے دیکھ رہا تھا وہ بدحواس سی ہونے لگی ۔۔۔۔
“وہ میں ۔۔۔۔میں وہ ۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے میں ۔۔۔۔”وہ بیحد نروس ہوتے ہوئے بات بنانے کی کوشش کر رہی تھی
“اپنا مطلب آپ اپنی سیٹ پر بیٹھ کر بھی سمجھا سکتی ہیں مس مہک “۔۔۔۔میری بات کر وہ جھٹ سے کھڑی ہو گئ میری بات اور بے لچک لہجہ سن کر اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہونے لگے
“ایم سوری وہ ۔۔”۔۔مہک فٹافٹ عجلت میں اپنی کرسی پر بیٹھ گئ میں بھی اپنی کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔میں پہلے ہی ماہم کی وجہ سے حد درجہ پریشان تھا پھر اس لڑکی کی حرکتیں میرے لئے نا قابل برداشت تھیں
مہک اب کمپوٹر آن کرنے لگی تھی
“مس مہک پلیز ذرا یہاں تشریف لائیں” ۔۔۔۔میں بھی آج اس لڑکی کے آنے کا اصل مقصد جاننے کا ارادہ کر چکا تھا اس ایک مہنے میں میں یہ تو اچھی طرح جان چکا تھا کہ اس فیلڈ سے مہک کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔
۔۔۔۔مہک کچھ جھجکتے ہوئے آ کر میرے سامنے بیٹھ گئ
“لندن کی کس یونیورسٹی سے پاس آؤٹ کیا ہے آپ نے” ۔۔۔۔میری جانچتی ہوئی نظروں۔ سے وہ کچھ گڑبڑا سی گئ
“وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔”۔مہک کچھ سوچنے لگی۔۔پھر بے چارگی سے مجھے دیکھنے لگی
“شاید یاد نہیں آ رہا آپ کو ۔۔۔۔چلیں چھوڑیں اس بات کو۔۔۔۔ کل آپ اپنے سارے ڈاکومنٹس اپنے ساتھ لیکر آئیے گا ۔۔۔۔میں وہاں سے دیکھ لونگا
“جی” ۔۔۔مہک اپنے ماتھے پر نمودار ہوئے والے پسنے کو ہاتھ میں پکڑے ٹشو سے پونچھنے لگی اس کے چہرے کی ہوائیاں اڑنے لگیں تھیں
“کچھ ڈارف بنانے کا بول کر گیا تھا میں آپ سے یقینا وہ آپ کمپلیٹ کر چکی ہوں گی ۔۔۔دیکھائیں مجھے “۔۔۔۔میں اپنی چیر سے ٹیک لگائے بس مہک کو زچ کرنے کی کوشش کر رہا تھا
“میں کل جلدی چلی گئ تھی اس لئے میں نے کچھ بھی نہیں کیا “
“مجھے اندازہ تھا آپ کا جواب یہی ہو گا ۔۔۔مس مہک آپ کو نہیں لگتا ۔۔۔اس فیلڈ کے بجائے آپکو ایکٹنگ میں ٹرائی کرنا چاہیے اس میں تو آپ بنا کوشش کے ہی چاروں شانے چت کر دیں گی” ۔۔۔۔میرے طنز پر وہ خجل سی ہوگئ
“آپ مجھے ایڈوائز دے رہے ہیں یا مجھ پر طنز کر رہے ہیں “۔۔۔۔۔وہ تیکھے لہجے میں۔ بولی
“آپ کو جو سوٹ کرتا ہے آپ وہ سمجھ لیں ۔۔۔۔مس مہک جو ڈاف آپ نے پہلی مرتبہ بنایا تھاوہ آپ آج میرے سامنے بنائیں گی ۔۔۔ یو میں مے گو ناؤ “۔۔۔۔میرے سرد لہجے پر وہ تلملا کر اٹھ کر اپنی جگہ پر چلی گئ ڈراف پیر لیکر سامنے رکھے ٹیبل پر بچھا کر تھم پن سے اٹیچ کر کے۔ اسکیل پینسل سے نا جانے کیا بنانے میں مصروف ہو چکی تھی ۔۔۔۔آج میں نے بہت پرسکون سے اپنے سارے کام نمٹائے کیونکہ مہک آج بلکل چپ تھی ۔۔۔۔اور کافی حد تک بیزار بھی ۔۔لنچ ٹائم میں وہ میرے کمرے سے باہر نکل گئ
لنچ کے بعد مہک قاسم کے ہمرہ میرے کمرے میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔قاسم میرے سامنے بیٹھ گیا اور مہک اپنی سیٹ پر مگر مہک نے ترچھی نظروں سے قاسم کی جانب دیکھ کر اپنی جان خلاصی کے اشارے کر رہی تھی قاسم نے بھی اسے اشارتا تسلی دی ۔۔۔بظاہر میں فائل چیک کر رہا تھا مگر ان دونوں کی اشارے بازیاں بھی مجھ سے مخفی نہیں تھیں۔۔۔قاسم نے گلا کھنکارا
“عفان وہ میں کیا کہہ رہا تھا کہ ۔۔۔۔مہک باقی کا ڈارف میرے روم میں کمپلیٹ کر لے ۔۔۔۔قاسم کی بات میری توقع کے عین مطابق تھی میراشک بھی ٹھیک تھا پہلی دفعہ کا بنایا گیا ڈراف یقینا قاسم کی کارستانی تھی ان دونوں کے درمیان کچھ تو کھچڑی پک رہی تھی جس سے میں بے خبر تھا
“کیوں یہاں انہیں کیا پرابلم ہے “۔۔۔۔میں نے براہ راست قاسم کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“نتھنگ یار۔۔۔۔میں اس لئے کہہ رہا تھا کہ تم ڈسٹرب نا ہو ۔۔۔مہک کو بہت بولنے کی عادت ہے نا اس لئے ۔۔۔”۔قاسم اب بات کو گھمانے کی کوشش کر رہا تھا
“نہیں مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے ۔۔۔آج تو ویسے انکی بولتی بند ہے ۔۔۔میرے خیال سے تم اب جاؤ اور آفس آف ہوتے ہی میرے کیبن میں آنا “….۔۔میں اپنی بات مکمل کر چکا اس لئے کمپوٹر پر مصروف ہو گیا قاسم بھی کرسی سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔میری نظر مہک پر پڑی تو وہ قاسم کو آنکھیں دیکھا رہی تھی قاسم نے کندھے آچکا کر مہک کو دیکھ کر باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔آفس کا تقریبا سارا اسٹاف جا چکا تھا اور مہک کا حال یہ تھا کہ ابھی رو دے گی۔۔۔۔اسوقت ہم تینوں کے علاؤہ آفس میں بس چوکیدار ہی موجود تھا قاسم نے مہک کو دیکھ کر گہری سانس بھری اور کرسی کھنچ کر میرے سامنے بیٹھ کر مہک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوا
“اب تو جان بخشی کر دو بیچاری کی “۔۔۔۔قاسم منت بھرے لہجے میں بولا
“ہاں بس مس مہک ڈراف کمپلیٹ کر لیں توبس چھٹی ہے انکی ۔۔۔کیوں مس مہک۔۔۔۔ ہو گیا کمپلیٹ ۔۔”۔ قاسم سے بات مکمل کر کے میں نے گردن گھما کر مہک سے پوچھا جو اسوقت پیج وتاب کھاتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی میں بھی میں بھی آج عہد کر کے بیٹھا تھا کہ سچ اگلوا کر ہی دم لوں گا
“یار باقی کل کر لے گئ ۔۔۔۔آج جانے دو اسے” ۔۔قاسم کی التجا پر ۔مجھے بھی مہک پر ترس آنے لگا تھا ۔۔۔
“مس مہک آپ اپنا ڈراف یہاں لیکر آئیں” ۔۔۔مہک جھجکتے ہوئے اپنا ڈراف میرے پاس لے آئی میں نے بنا دیکھے وہ ڈراف قاسم کے سامنے رکھ دیا جس پر ناجانے کون کون سے نقشے بنے ہوئے تھے
“قاسم اسے ذرا غور سے دیکھوں اور بتاؤ یہ کہاں سے تمہیں ایک سمپل سوئمنگ پول کا ڈراف لگ رہا ہے ۔۔۔۔قاسم نظریں جھکا گیا ۔۔۔۔
“حیرت مجھے اس بات کی ہے کہ صبح سے اب تک ان سے ایک سمپل سا ڈراف نہیں بنا۔۔۔۔۔اور انکا پچھلا ڈراف جو کافی مشکل تھا با قول تمہارے انہوں نے صرف دو گھنٹوں میں بنا لیا تھا اور اتفاق سے ایسا پرفیکٹ بنایا جیسا تم بناتے ہو ۔”۔۔۔میری بات پر قاسم اور مہک نے ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھا میری جانچتی ہوئیں نظریں ان دونوں کا احاطہ کیے ہوئے تھیں دونوں ہی نظریں جھکائے خاموش تھے
“قاسم مس مہک نے اس فیلڈ میں کتنے معارکے سر کیے ہیں یہ تو اچھی طرح جان چکا ہوں ۔۔۔اب تم بتاو کہ تم میرے سامنے سچ بتاؤ گئے یا دو تین دن تک انکل کی لندن سے واپسی پر انکے سامنے سچ بولو گئے “۔۔۔۔یہ قاسم کی ایسی دکھتی رگ تھی کہ قاسم سے جو چاہے اگلوا لوں اب بھی یہی ہوا قاسم اچھنبے میں آگیا
“او نہیں یار ڈیڈ کو کیوں زحمت دے رہے ہو ۔۔۔میں بتا رہا ہوں نا” ۔۔۔۔قاسم جو ڈھیلے ڈھالے انداز میں کرسی پر بیٹھا تھا اٹھ کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
اصل میں ہم دونوں کی بٹ لگی تھی” ۔۔۔۔
“مطلب” ۔۔۔۔میرے ماتھے پر شکنیں سی پڑ گئیں میں نے پین انگلیوں کے بیچ میں گھماتے ہوئے پوچھا
“مہک کا دعوا تھا کہ وہ تمہیں ایک ہفتے میں اپنا گرویدہ بنا سکتی ہے اگر میں اسے تمہارے قریب رہنے کا موقع دوں تو اور مجھے بھی یقین تھا کہ اس بار ہار مہک کی ہی ہو گئ کیونکہ میں تمہارے مزاج سے باخوبی واقف ہوں تم نے کالج یونیورسٹی میں کبھی کسی لڑکی سے دوستی نہیں کی تو اب کیا کرو گئے ۔۔۔اور دیکھو اس بار میں جیت گیا “۔۔۔قاسم نے پوری کتھا میرے سامنے کھول کر رکھ دی اور اب اپنی جیت پر مسکرا بھی رہا تھا ۔۔۔۔مہک اب بھی چور بنی وہیں کھڑی تھی
“بیٹھ جائیں مس مہک” ۔۔۔میں نے اب بھی مہدب انداز سے ہی مہک کو مخاطب کیا
وہ خاموشی سے قاسم کے برابر بیٹھ گئ میں پھر سے قاسم کی طرف متوجہ ہو گیا
“تو تم یہاں مجھ پر شرطیں لگا کر پیسے کماتے ہو ۔۔۔۔ویری فنی “۔۔۔مجھے قاسم پر افسوس ہو رہا تھا
“ہاں اس محترمہ کو خود پر کچھ ذیادہ ہی اعتماد تھا ۔۔۔اب میں نے سوچا ذرا اسکا غرور بھی کم ہو جائے گا اور پیسے آتے کیسے برے لگتے ہیں “۔۔۔۔قاسم کی بات پر میں نے تعجب کا اظہار کیا
“ہمم ویسے شرط تھی کتنے پیسوں کی ۔۔۔”
“پورے ایک لاکھ کی” ۔۔۔میرے سوال پر قاسم نے برجستہ جواب دیا
“واہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ مجھ پر اتنی بڑی رقم لگائی جا رہی ہے” ۔۔۔میں بات کو ہلکے پھلکے انداز میں ڈھالتے ہوئے کہا تو مہک کے چہرے پر بھی کچھ اطمینان کی لہر دوڑی ۔۔۔۔
‘میرے خیال سے قاسم اب تم شرط جیت چکے ہو تو ڈنر کا حقدار تو میں بھی بنتا ہوں ۔۔۔۔”
“یس شیور کیوں نہیں ۔۔۔جدھر تم کہو گئے ۔۔۔جگر ادھر ہی تمہاری دعوت پکی ۔۔۔”
مہک بھی خوش ہو گئ میں نے بات کو ایک اچھے انداز سے اختتام پزیر کیا
