Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 39
Rate this Novel
Tadbeer Episode 39
Tadbeer by Umme Hani
ماہم سے معافی مانگنے پر میرا موڈ سخت خراب تھا ۔۔۔پورا دن میں۔ نے ماہم سے بات تک نہیں کی تھی ۔۔۔ نا اسکی کسی بات کا جواب ٹھیک سے دیا۔۔۔۔ پورا دن اسے احساس دلانے کی کوشش کی کہ میں اس سے ناراض ہوں مگر اسے تو کوئی پروا ہی نہیں تھی ۔۔۔میری لا تعلقی پر بھی وہ نارمل انداز سے رہی جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو بلا آخر میں نے خود ہی ماہم سے شکوہ کیا وہ رات کو چائے میری سائیڈ ٹیبل پر رکھنے لگی تو میں نے چائے پینے سے انکار کر دیا
“مجھے نہیں پینی” ۔۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے “۔۔۔وہ کپ اٹھا کر جانے لگی تو میں نے اسکے ہاتھ سے کپ پکڑا کر دوبارہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور ماہم کا ہاتھ پکڑ کر بھی اپنے سامنے بیٹھا دیا
“میں نے صبح سے تم سے بات نہیں کی ۔۔۔۔نا کوئی فرمائش کی ۔۔تمہیں اتنا بھی گورا نہیں ہوا کہ مجھ سے پوچھ ہی لو کہ میں کس بات پر تم سے ناراض ہوں ۔”۔۔میں نے ڈھیٹ بنکر اس سے شکایت کی
“عفان تم ناراض تھے مجھ سے سچی” ۔۔۔۔اس کے اس انجان بننے پر میں مزید کھول کر رہ گیا اتنی انجان نہیں تھی وہ مجھ سے
“تبھی اتنے اچھے بچوں کی طرح چپ چاپ بیٹھے تھے ۔۔۔۔مجھے پریشان بھی نہیں کیا ۔۔۔اور تو اور کھانا بھی چپ چاپ کھا لیا فرمائشیں بھی نہیں کیں ۔۔۔ارے واہ ۔۔۔تم ایسا کرو نا عفان کچھ عرصے کے لئے مجھ سے ناراض ہی رہ لو ۔۔۔۔پتہ ہے آج کا دن کتنے سکون سے گزرا ہے میرا ۔۔۔۔۔تمہاری چک چک بھی سننے کو نہیں ملی ۔۔تم نے تنگ بھی نہیں کیا ۔۔۔تمیں پتہ آج تم مجھے اتنے اچھے لگے ہو کہ۔۔۔۔۔
“کتنا اچھا لگا ہوں” ۔۔۔۔میں نے ماہم کی بات بیچ میں سے اچک لی ۔۔۔۔میں۔ جانتا تھا کہ وہ یہ سب باتیں
مجھے تپانے کےلئےکہہ رہی تھی اور میں واقع تپ چکا تھا ماہم کی ساری بات میں نے منہ پھلا کر ہی سنی تھی سوائے آخری جمعلے کے اسکی بات نے تو میرا غصہ ہی ہوا کر دیا تھا اب ماہم کو تنگ کرنی باری میری تھی وہ جلد بازی کہی بات پر اب چپ تھی
“بتایا نہیں۔ تم نے ۔۔۔کتنا اچھا لگا میں تمہیں ۔۔۔۔میں نے شوخ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
“وہ بس ۔۔۔۔۔تھوڑے سے “۔۔۔۔وہ نروس سی ہوگئ
“نہیں ذرا تفصیل سے بتا کیا اچھا لگا مجھ میں ۔۔۔”میری آنکھیں ۔۔میرا چہرا یا میرا خوبصورت دل ۔۔۔۔”
“میرا وہ مطلب نہیں ہے عفان ۔۔۔”
“مجھے۔۔۔ یہ۔۔۔ اور۔۔۔ وہ ۔۔۔مطلب جاننا بھی نہیں ہے مجھے بس یہ جاننا ہے میں تمہیں کتنا اچھا لگنے لگا ہوں “۔۔۔۔
“غلطی ہوگی مجھ سے غلط بات منہ سے نکل گئ میرے ۔۔نہیں اچھے لگتے تم مجھے “۔۔۔وہ زچ سی ہونے لگی ۔۔۔
“غلطی کی ہے تو معافی مانگو ۔۔۔۔اور بیفکر رہو جیسے تم نے معافی منگوائی ہے ویسے نہیں کہو گا میرا طریقہ ذرا مختلف ہے” ۔۔۔میری معنی خیز بات کو وہ خاطر میں نہیں لائی میری ایسی باتوں کی وہ عادی ہوچکی تھی
“تمہاری خوش فہمی ہے کہ میں تم سے معافی مانگو گی ” ۔۔۔وہ تکیہ سیدھا رکھ کر لیٹ گئ
*****……..******
آج کل قاسم اپنے مزاج کے بر خلاف کافی سنجیدہ اور چپ چپ تھا ۔۔۔ میں نے دو تین بار وجہ بھی دریافت کی مگر وہ ڈال گیا دوپہر میں میں قاسم سے ڈراف کے بارے میں ڈسکس کر رہا تھا مگر وہ کسی گہری سوچ میں گم تھا ۔۔۔میں نے نوٹ کیا اسکی توجہ کام کی جانب بلکل نہیں تھی ۔۔بس بلا مقصد فائنل کھول کر وہ مجھ پر یہ ظاہر کر رہا تھا جیسے وہ فائل پڑھنے میں مصروف ہے ۔۔۔کچھ مسلہ تو تھا قاسم کے ساتھ میری باتوں کا بھی وہ غائب دماغی سے جواب دے رہا تھا
“دو دن سے کس سوچ میں مبتلہ ہو۔۔۔۔اگر ارادہ دوسرا پاکستان بنانے کا ہے تو وہ ممکن نہیں ہے تمہارے لئے “۔۔۔۔میں نے خوش گوار لہجے سے قاسم کو متوجہ کرنا چاہا۔۔۔۔
“بس یونہی۔۔۔۔”
قاسم میں پہلے بھی تم سے پوچھ چکا ہوں کوئی پرابلم ہے تو بتاؤں نا یار مل کر حل کریں گئے۔”۔۔۔میں بے تکلفی سے اسے کریدنا چاہا۔
“بس یار لوگوں کے نئے روپ دیکھ کر پریشان ہو گیا ہوں ۔۔۔۔۔آجکل پتہ ہی نہیں چلتا کہ سامنے بیٹھا شخص اندر سے کیا ہے اور باہر سے کیا۔۔۔۔بعض لوگ کتنی دوہری شخصیت کے مالک ہوتے ہیں عفان” ۔۔۔۔قاسم کی نظریں مجھے کچھ متجسس سی لگی
“بڑی فلسفیانہ گفتگوں کر رہے ہو خیر تو ہے ۔۔۔”
“خیر ہی تو نہیں ہے”
“وہی تو پوچھ رہا قاسم کہ مسلہ کیا ہے ۔۔۔۔”
“وہ بھی بتا دوں گا مگر ابھی مجھے فاریہ کو ڈاکٹر پر لیکر جانا ہے ۔۔۔۔گیو می آ فیور اگر تم یہ فائل میرے پیچھے سے دیکھ لو ۔۔۔”
“یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے ۔۔۔۔تم جاؤں میں دیکھ لوں گا۔”۔۔۔قاسم اٹھ کر چلا گیا اور میں قاسم کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔
*****””*………..
اگلے روز ماہم کی برتھ ڈےتھی شادی کے بعد ماہم کی پہلی برتھ ڈے ۔۔۔۔آفس سے آتے ہوئے میں ساری تیاری کے ساتھ آیا تھا ۔۔۔۔میری خوش نصیبی کہ مما اور ماہم دونوں ہی شاپنگ پر۔ گئیں تھیں ۔۔۔کامران کی شادی میں پندرہ دن رہ گئے تھے اس لئے مما کے روز ہی بازار کے چکر لگ رہے تھے ماہم عموما ساتھ نہیں جاتی تھی مگر آج مما نے اسے شاپنگ کروانی تھی اس لئے اس کا جانا تو لازمی تھا۔۔۔۔سارا سامان میں نے گاڑی سے نکال کر راشد کے ہاتھ اپنے کمرے میں رکھوا دیا کیک فریج میں رکھی سبزی کے پیچھے چھپا کر رکھ دیا۔۔۔۔۔شام کی چائے میں نے اکیلے ٹی وی پر میچ دیکھتے ہوئے پی تھی مما اور ماہم ڈنر سے کچھ دیر کے ہی شاپنگ بیگ سے لدی ہوئی پہنچی تھیں ۔۔۔ماہم نے سب سے پہلے اپنے ڈریسز مجھے دیکھائے ۔۔۔
“دیکھوں نا عفان یہ کیسا ہے ۔۔۔تمہیں یہ کلر۔ پسند ہے نا اسلئے ۔میں نے یہ لیا ہے ۔۔۔۔وہ اسکائے بلو کلر کا فینسی ڈریس دیکھاتے ہوئے بہت خوشی سے مجھ سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔
“ہاں بہت خوبصورت ہے ۔۔۔۔”میں نے تعریف کی تو وہ چہک کر بولی
“مجھے معلوم تھا تمہیں پسند آئے گا ۔۔۔”
“اور یہ بھی دیکھو یہ سی گرین اور
مہرون کا کنٹراس یہ کیسا ہے ۔۔۔اچھا ہے نا ۔۔۔تمہیں یاد ہے تم نے اس کلر میں میری تعریف کی تھی۔۔۔۔۔اچھا ہے نا ۔”۔۔وہ ہر جوڑے پر میرا حوالہ دے کر بتا رہی تھی ۔۔۔مجھے یاد تو نہیں تھا کیونکہ میں تو روز ہی اسکی تعریف کر دیا کرتا تھا یونہی عادتا ہی کہہ دیتا تھا کہ یہ کلر تم پر اچھا لگ رہا ہے ۔۔۔تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔کھلے بال اچھے لگ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ماہم کو میری ایک ایک بات یاد ہے۔۔۔۔میں نے کب اسے کیا کہا تھا اسے سب یاد تھا ۔۔۔یہ بات میرے لئے انوکھی تھی اسکے چہرے پر عجیب سی خوشی کی چمک تھی ۔۔۔۔۔دھنک کے سارے رنگ ماہم کے چہرے پر آ کر ٹہر گئے ہوں ۔۔۔۔۔وہ ہر چیز مجھے دیکھا کر یہ ضرور پوچھتی کہ
“عفان ۔۔۔تمہیں یہ پسند ہے نا”۔۔۔اور میرا ہاں کہہ دینا اسکے چہرے پر اطمینان لے آتا تھا۔۔۔۔وہ مجھ سےمحبت کرنے لگی تھی ۔۔۔۔یہ خیال ہی میرے لئے مسرتوں کا پیغام تھا ڈنر کے بعد میں جلدی کمرے میں چلا گیا مجھے تو بس بے چینی سے بارہ بجنے کا انتظار تھا ۔۔۔۔ماہم بھی آج وقت سے پہلے ہی کمرے میں آ گئ تھی ۔۔۔تھکی تھکی سی لگ رہی تھی ۔۔۔
کیا بات ہے ماہم ۔۔۔
“بہت تھکن ہو رہی ہے ۔۔۔دوپہرسے رات تک بازار میں گھوم گھوم کر تھک چکی ہوں “۔۔۔۔ماہم بیڈ پر بیٹھ گئ ابھی بارہ بجنے میں آدھا گھنٹہ باقی تھا ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ سونے کی تیاری کرتی میں اسے باتوں میں الجھانے لگا وہ کہاں کہاں شاپنگ پرگئ کیا کیا رہ گیا ہے جو اس نے خریدا نہیں ہے ۔۔۔پونے بارہ بجے میں نے اپنے موبائل پر الام سیٹ کررکھا تھا جس کی ٹیون رنگ ٹیون کسی تھی وہ بجتے ہی میں نے کان پر فون لگا لیا جیسے میں کسی بات کر رہا ہوں ۔۔۔”ماہم اٹھ کر اپنی جیولری اتارنے لگی ۔۔۔۔میں نے فون بند کیا اور ماہم سے کہا
“ماہی مما کی کال تھی ۔۔۔پاپا کے کوئی دوست اور انکی مسز آئی ہیں تم سے ملنا چاہتی ہیں۔مما نیچے بلا رہیں ہیں تمہیں ۔۔۔”۔
“اس وقت ۔۔۔۔یہ کون سا وقت ہےکسی گیسٹ کے آنے کا” ۔۔۔ماہم نے وال کلاک کیطرف دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا
“یہ جا کر تم نیچے مہمانوں سے پوچھ لینا کہ یہ کون سا وقت ہے آنے کا “۔۔۔۔میری بات پر وہ بیزار سی شکل بنا کر کھڑی ہوئی ڈوپٹہ گلے میں لیا اپنی شکن آلود قمیض کو درست کرنے لگی
“یہ کیا ماہی ایسے جاؤں گی تم ۔۔۔اپنی چوڑیاں پہنو ٹھیک سے تیار ہو کر جاؤ کیا سوچیں وہ لوگ ہم تمہارا خیال نہیں رکھتے” ۔۔۔۔میں اسے ڈرسنگ کے پاس لے آیا اسے اپنی پسند کی جیولری دینے لگا ۔۔۔وہ برے سے منہ بتاتی پہنتی چلی گئ ۔۔۔پھر میں نے ماہم کو سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے کہا
“باقی سب ٹھیک ہے ماہم بس یہ کپڑے ٹھیک نہیں ہیں ۔۔۔ایسا کرو اپنی وہ ڈریس پہن لو جو میں لایا تھا سمپل سا ۔۔۔بہت پیاری لگتی ہو اس میں ۔۔۔”
“اس وقت کتنا odd لگے گا عفان ۔۔۔وہ بیزاریت سے بولی
“کچھ برا نہیں لگے جاؤں پہن کر آؤں “…میں نے واڈروب سے اپنی پسند کا ڈریس نکال کر ماہم کو تھمایا اور اسے ڈرسنگ روم میں بھیج دیا اور خود جلدی سے بیڈ کے پیچھے سے فلاور نکال کر بیڈ کے وسط پر ایک بڑا سا ہارٹ بنایا ۔۔۔۔کینڈل رکھیں اور کمرے کی لائٹس آف کر دیں
جب ماہم ڈرسنگ روم سے باہر آئی تو وہیں۔ رک گئ “عفان کہاں ہو تم ۔۔۔۔ اندھیرا کیوں ہے یہاں” ۔۔۔۔ میں نے لائٹرسے کینڈل جلانی شروع کردیں ۔۔۔کینڈل کی مدھم سی روشنی پا کر وہ روشنی کی سمت آنے لگی میں پہلے سے ہی چہرے پر مسکراہٹ لئے اس کا منتظر تھا ماہم جیسے چلتی ہوئی آ رہی تھی موبائل پر برتھ ڈے کی ٹیون بجنے لگی
اس وقت تک وہ میرے قریب پہنچ گئ تھی ۔۔۔میں۔ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا
“ہیپی برتھ ڈے ماہی “۔۔۔ماہم مسکرانے لگی ۔۔۔۔
“کیسا لگا میرا سرپرائز ۔۔۔ہے نا رومنٹک ۔”۔۔۔وہ میری بات پر ہسنے لگی۔۔۔
“تھنکس عفان “۔۔۔وہ دھیرے سے بولی
میں نے جیب میں سے ایک مخملی ڈبیہ نکالی اس میں سے ایک خوبصورت سی ڈائمنڈ رنگ نکال کر اسے پہنا دی ۔۔۔۔
“گفٹ پسند آیا ۔”۔۔ماہم نے انگوٹھی کو بہت غور سے دیکھا
“بہت پیاری ہے” ۔۔۔وہ رنگ پر نظریں جمائے مسکرا کر بولی
“مجھے معلوم تھا کہ تمہیں پسند آئے گی”
“تمہیں کیسےمعلوم ہو جاتا ہے “
“مجھے کیا خبر ہے ان باتوں کی وہ تو میرا دل کہتا ہے یہ لے لو ۔۔۔میں لے لیتا ہوں “۔۔۔۔میں نے معصومیت سے کیے گئے سوال کا ویسے ہی جواب دیا
“تمہارے دل کو کیسے پتہ چلتا ہے “
“یہ تمہیں میرے دل سے پوچھنا چاہیے ‘
“لو بھلا دل کبھی کچھ بتاتا ہے بھی عفان ۔۔۔”
“ایک دل ہی تو ہے جو سب راز کھولتا ہے ۔۔۔ اچھا بتاؤں گفٹ کتنا پسند آیا تمہیں ۔۔۔”
“بہت زبردست ہے ۔۔’۔کہا ہے تو تم سے” ۔۔۔ماہم دوبارہ انگوٹھی کو دیکھنے لگی
“اور گفٹ دینے والا ۔”۔۔۔ ماہم نے سرعت سے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔۔میری نظروں وارفتگی سے وہ بلش ہونے لگتی تھی اور یہ وہ اسکا وہ حیادار رنگ تھا جو مجھے بہت بھاتا تھا ۔۔۔۔عورت کی بے باکی اسکی طرف وقتی دل کو مائل کرتی ہے مگر اس کی حیا مرد کو ہمیشہ باندھے رکھتی ہے ۔۔۔۔اور یہ رنگ صرف بیوی کے چہرے پر ہی سجتے ہیں۔۔۔۔۔
“وہ میں تمہیں بعد میں بتاؤں گی ۔۔۔پہلے بتاؤں میرا کیک لائے ہو کہ نہیں “۔۔۔۔اس نے موضوع ہی بدل دیا تھا ۔۔۔
“او شٹ وہ نیچے فریج میں رہ گیا ۔۔بس ابھی لاتا ہوں ۔۔۔میں نے نیچے فریج میں سے کیک لیا ٹرے میں رکھا دو پلٹیں نائف فورک رکھ کر میں جب اپنے کمرے میں داخل ہوا ماہم اب بھی اپنی انگوٹھی کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔جب میں نے ٹرے اسکے سامنے رکھی اسکی مسکراہٹ اور گہری ہو گئ ۔
“کیک چوکلیٹ ہے نا ۔۔۔”ماہم نے پوچھا
“ہاں ویسا ہی جیسا تمہیں پسند ہے چوکلیٹ زیادہ کیک کم “۔۔۔۔میں نے دبے سے کیک نکالتے ہوئے کہا۔۔کیک پلیٹ میں رکھ دیا اور نائف اسکی طرف بڑھا دی اس نے کیک کاٹا مجھے سوفیصد امید تھی ماہم سب سے پہلے کیک مجھے کھلائے گئ اس نے کیک اپنے منہ میں ڈالا میں اسے بس اپنا منہ کھولے دیکھتا ہی رہ گیا
“ہمم عفان کیک واقع بہت مزے کا ہے ۔”۔۔بس اتنی سی تعریف کے بعد ۔ماہم نے کیک کاٹ کر ایک پلیٹ میں ڈالا اور فورک سے کھانے لگی ۔۔۔مجھے اسکی بے نیازی کھل رہی تھی ۔۔۔
“ماہی دس از ناٹ فیر یار ۔۔۔۔تمہیں مجھے بھی کھلانا چاہیے تھا ۔”۔۔میں نے ڈھیٹ بنکر خود ہی اسے احساس دلانے کی کوشش کی
“ہاں تو میں نے کون سا تمہارا ہاتھ پکڑ رکھا ہے ۔۔۔یہ رہی پلیٹ ۔۔۔یہ رہاکیک کھاؤ وہ کیک سے بھرے منہ سے با مشکل بولی
“مجھے تمہارے ہاتھ سے کھانا تھا” ۔۔۔میں نے خفگی سے کہا
“اوہ یوں کہو نا ۔۔۔کھلا دیتی ہوں ۔۔۔یہ کون سی بڑی بات ہے ۔۔۔۔”
“اس نے اپنی پلیٹ سائیڈ پر رکھی اور کیک کا ایک چھوٹا سا پیس کاٹ کر میری طرف بڑھایا جیسے ہی میں نے منہ کھولا کیک اس نے اپنے منہ ڈال لیا اور کھلکھلا کر ہسنے لگی ایک جل ترنگ تھی اسکی ہنسی میں ۔۔۔میں اسے بس گھور کر رہ گیا اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ فورا سے بول پڑی
“اچھا اب تمہیں ہی کھلاؤ گی مگر تم اپنی آنکھیں بند کرو پہلے ‘۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں ناچتی شرارت مجھ سے مخفی نہیں تھی
“جی نہیں ۔۔۔مجھے بھروسہ نہیں ہے تم پر ۔۔۔میں آنکھیں بند نہیں کرو گا ۔۔۔ “
“اس بار پکا عفان میں نہیں کھاؤں گی سچی “۔۔۔۔ماہم نے مجھے یقین دلانے کی کوشش کی
“پکا ۔”۔۔میں نے بے یقینی سے اسے دیکھا
“بلکل پکا “۔۔۔۔میں نے آنکھیں بند کر لیں مگر دوسرے ہی لمحے کیک میرے پورے منہ پر لگ چکا تھا ماہم اب اٹھ کر دور جا کر کھڑی ہو گئ میں نے غصے سے اس دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں کہا
“ماہی ۔۔۔اب بچ کے دیکھاوں تم مجھ سے “۔۔۔۔اس سے پہلے میں اس کے قریب جاتا میرے موبائل پر کال آنے لگی میں نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو قاسم کا نمبر تھا
میں نے فون کان پر لگایا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھے ٹشو بکس سے تین چار ٹشو اٹھا کر اپنا منہ صاف کرنے لگا
“ہاں بولو قاسم سب خیریت ہے” ۔۔۔۔پوچھ میں قاسم سے رہا تھا اور گھور میں ماہم کو رہا تھا جو دور کھڑی مسکرا رہی تھی
“باہر آؤ عفان میں اس وقت تمہارے گھر کے باہر کھڑا ہوں’ ۔۔۔قاسم کا سردار خشک لہجہ مجھے کچھ عجیب سا لگا اور حیرت قاسم کے باہر کھڑے ہونے پر تھی
“میرے گھر سے باہر اس وقت خیر تو ہے ۔۔۔۔”
“باہر آؤں عفان ۔”۔۔۔
“اچھا تم کریم بابا سے بولو وہ دروازہ کھول دیں گئے تم ڈرائنگ روم میں بیٹھو میں ابھی آ رہا ہوں ۔۔۔۔
“مجھے اندر نہیں آنا ۔۔۔تم باہر آؤں ابھی اور اسی وقت ۔۔”۔۔قاسم کا سخت لہجہ میرے لئے حیران کن تھا میں تذبذب سا ہونے لگا
“آ رہا ہوں” ۔۔۔میری پریشانی بھاپنتےہوئے ماہم بھی سنجیدہ ہو گی
‘کیا ہوا عفان کس کا فون تھا “
“قاسم کا وہ نیچے آ چکا ہے ۔۔۔میں اس سے ملکر آتا ہوں ۔۔۔ہو سکتا ہے مجھے دیر ہو جائے تم پلیز چینج کر کے سو جانا ۔۔۔میرے انتظار میں خود کو مت تھکانا ماہی
********………**********………*********…..
میری نظریں کمرے کے بیرونی دروازے پر ٹکی ہوئیں تھیں ۔میرا دل چیخ چیخ کر ماہم کو پکار رہا تھا ۔۔۔۔۔کمرے کا بیرونی دروازہ دائیں۔ طرف تھا ۔۔۔میری گردن ساکت اور سامت تھی ۔۔۔میں دائیں جانب گردن گھمانے سے قاصر تھا ۔۔۔۔اور بنا گردن گھمائے میں بہت دکت سے دروازے کی طرف دیکھ پا رہا تھا۔۔۔مجھے یہ خوف کھائے جا رہا تھا کہ کہیں ماہم خود کے ساتھ کچھ کر نا بیٹھے ۔۔۔۔۔کاش کے وہ واپس آ جائے آکر دیکھے کہ میں دیکھ سکتا ہوں ۔۔۔۔۔شاید قبولیت کا وقت تھا ۔۔۔۔کمرے کا دروازہ کھلا یک دبلی پتلی لڑکی ڈاکٹر کے اورل کوٹ پہنے اندر داخل ہوئی
مجھے دیکھ کر ٹھٹھک گئ ۔۔۔۔۔۔ مجھے بے یقینی سے غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔پھر میرے قریب آ کر مسکرانے لگی
“مسٹر عفان ۔۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے مجھ سے کہنے لگی ۔۔۔پھر اپنی جیب سے موبائل نکال کر میرے بارے میں بتانے لگی ۔۔۔اسکی آواز سے میں اسے پہچان چکا تھا ۔۔۔وہ ڈاکٹر رمشہ تھی ۔۔۔وہ تیزی سے میرے روم سے باہر نکلی تھی کچھ ہی دیر میں وہ دو سینر ڈاکٹر کے ساتھ داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر جس کی عمر لگ بھگ پچاس پچپن تھی وہ میرے قریب آ کر مسکرانے لگا ۔۔۔
مسٹر عفان ۔۔۔۔کیسے ہیں آپ ۔۔۔۔میں اسکی بات کا کیا جواب دے سکتا تھا نا میری زبان میرا ساتھ دے رہی تھی نا میں گردن ہلا پا رہا تھا ۔۔۔۔۔میں خالی۔ خالی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگا ۔۔۔وہ ڈاکٹر ٹارچ لائٹ میری آنکھوں میں ڈال کر میری آنکھوں کا معائنہ کرنے لگا ۔۔۔۔پھر میرے ہاتھ ہلا کر دیکھنے لگا میری نبض چیک کرنے لگا ۔۔۔۔
آئی تھنکس یہ صرف دیکھ ہی سکے ہیں ۔۔۔۔باقی اعصاب ویسے ہی ہیں ۔۔۔۔وہ ڈاکٹر رمشہ سے کہنے لگا
پھر میری طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔۔
مسٹر عفان ہمہیں آپکے کاپریٹ کی ضرورت ہے ۔۔۔۔اب میں آپ سے کچھ سوال کروں گا جس کا جواب آپ آنکھوں کے اشارے سے دیں گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر آپکا جواب ہاں میں ہوا تو آپ اپنی آنکھیں جھپکیں گئے اور اگر نا میں ہوا تو آپ اپنی آنکھوں کی پتلیوں کو دائیں بائیں گھومائیں گئے ۔۔۔۔
آپکو مجھے کلیرلی دیکھ سکتے ہیں “میں نے اپنی آنکھیں جھپکیں ۔۔۔۔
کیا آپ میری آواز بھی ٹھیک سے سن پا رہے ہیں ۔۔۔
میں نے اس کا جواب بھی اثبات میں دیا ۔۔
مسٹر عفان آپکو اپنی گزرشتہ زندگی یاد ہے ۔۔۔میں یہ جواب بھی ہاں میں دیا ۔۔۔۔۔
گڈ ۔۔۔۔۔مجھے مسکرا کر یہ کہنےکے بعد وہ ڈاکٹر رمشہ کی طرف مڑ کر اسے میرے بارے میں انسٹرکشن دینے لگا ۔۔۔۔
ڈاکٹر آپ بار بار ان سے یہ سوال دہرائیں گی دیکھیں کیا یہ ہر بار یونہی جواب دیتے ہیں یا پھر یہ حوش انہیں صرف چند گھنٹوں یا دنوں کے لئے آیا ہے ۔۔۔سنکس دماغ مسلسل جاگ چکا ہے یا نہیں ۔۔۔۔
اوکے سر ۔۔۔۔
“ول ڈن ڈاکٹر رمشہ ۔۔۔۔یہ سب آپکی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے ۔۔۔۔ائی ایم پراوڈ آف یو ۔۔۔۔۔اب وہ ڈاکٹر ڈاکٹر رمشہ کو داد دینے لگا ۔۔۔۔اپیشیڈ کرنے لگا ۔۔مجھے ڈاکٹر رمشہ پر غصہ آنے لگا کیسی دوغلی لڑکی تھی ۔۔۔۔اپنے سینئر سے ایسی افیشنسی کی داد وصول کر رہی تھی جس میں اسکا کوئی کمال نہیں تھا ۔۔۔۔۔اوردوسری طرف کامران کے ساتھ ملکر میرے قتل کے منصوبے بنا رہی تھی ۔۔۔کاش کے میں اسکی اصلیت بتا سکتا ۔۔۔مگر صد افسوس میں بے بس تھا ۔۔۔۔ باقی ڈاکٹر تو کچھ دیر میں بلے گئے مگر ڈاکٹر رمشہ یہیں تھی ۔۔۔۔
میری آنکھیں میری ماہی اور مما پاپا کی منتظر تھیں ۔۔۔میں بار بار اپنی نظروں کو انتہائی حد تک کمرے کے دروازے تک کے جانے کوشش کر رہا تھا ۔ڈسکٹر رمشہ مسلسل فائل میں کچھ لکھنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔۔
“پکو پنہ فیملی کا انتظار ہے مسٹر عفان “میری نظر بے ساختہ ڈاکٹر رمشہ پر اٹھی ۔۔۔۔وہ میراذہن پڑ چکی تھی ۔۔۔۔مجھے مسکرا کر دیکھنے لگی
“آپ میری بات سن اور سمجھ سکتے ہیں ۔۔۔پھر میں جب آپکا پکار رہی تھی تو مجھے رسپونس کیوں نہیں دے رہے تھے ۔۔۔آپکو پتہ ہے میں آپکی فائنل میں ناٹ رسپونڈنگ لکھ چکی تھی ۔۔۔اگر آپ مجھ سے کاپریٹ نہیں کریں۔ گئے تو ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ کی بات اُدھوری رہ گئ تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا مما تیزی سے اندر داخل ہوئیں ۔۔۔۔اور ڈاکٹر رمشہ فورا کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔مما مجھے پاس آکر
مجھے دیکھ کر مسکرانے لگیں لیکن انکی آنکھوں سے آنسوں بھی بہہ رہی تھے ۔۔۔۔
“عفان میرے بچے میری جان ۔۔۔۔”مما میری پیشانی چومنے لگی میرے چہرے کو ہاتھوں میں لینے لگی
“عفان تم مجھے دیکھ سکتے ہو نا بیٹا “می۔ ے اپنی آنکھیں جھپکیں۔ ۔۔۔۔مما کا چہرہ بے رونق سا ہو گیا تھا بال بھی پہلے کے نسبت زیادہ سفید لگ رہے تھے انہوں نے شاید اپنا خیال رکھنا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔۔پاپا ایک بچے کو گود میں لئے اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔۔میرے پاس کھڑے ہوتے ہی انہوں نے مما کو وہ بچہ پکڑاتے ہوئے کہا کہ عمر کو پکڑو ۔۔۔۔یعنی یہ عمر ہے میرا بیٹا ۔۔۔۔میرا جگر کا ٹکرا ۔۔۔۔میرا عمر ۔۔۔۔۔”میں نے بے تابانہ نظروں سے اسے عمر کو دیکھا ۔۔۔پاپا میرے چہرے پر جھک کر مجھے دیکھنے لگے ۔۔۔۔آنکھوں میں آنسوں بھرنے لگے ۔۔۔۔
“عفان “کپکپاتے ہونٹوں سے انہوں نے مجھ سے کہا ۔۔۔۔پھر میرے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر
رونے لگے انکے آنسوں میرے کپڑوں میں جذب ہو رہے تھے پاپا کا ہاتھ میرے داہنے رخسار پر تھا جو بری طرح سے کپکپا رہا تھا ۔۔۔۔اس ایک سال نے میرے ماں باپ کو دس سال اگلے دھکیل دیا تھا ۔۔۔۔۔۔میرا دل چاہا یا تو ابھی اٹھ کر بیٹھ جاؤں یا واقع مر جاؤں ۔۔۔۔میری یہ ادھوری زندگی کہیں میرے اپنوں کی جان ہی نا لے کے ۔۔۔۔۔میرادل اسوقت خون کے آنسوں رو رہا تھا ۔۔۔۔۔مگر میری آنکھیں ہزار کوشش کے باوجود خشک تھیں ۔۔۔۔۔ڈاکٹررمخہ نے اندر آتے ہی پاپا کو ٹوک دیا
“,یہ کیا کر رہے ہیں انکل آپ ۔۔۔۔۔آپ اس طرح سے روئیں گئے تو آپکا پیشنٹ مزید پریشان ہو جائے گا “۔۔۔۔۔پاپا مجھ سے پیچھے ہٹ کر اپنے آنسوں صاف کرنے لگے ۔۔۔۔مما عمر کو میرے پاس لے آئیں مگر عمر کی نظریں پاپا پر ہی مرکوز تھیں وہ پاپا کو روتے ہوئے بہت غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جب میرا ایکسڈینٹ ہوا عمر چند ماہ کا تھا ۔۔۔۔لیکن اب وہ کافی بڑا لگ رہا تھا ۔۔۔میرا دل چاہا عمر کو اپنے سینے سے لگا کر بینچ لوں ۔۔۔اسے پیار کروں میرا دل تڑپ کے رہ گیا ۔۔۔۔۔عمر مما کی گود میں مچلنے لگا پاپا کی طرف اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر لپک کر دادا ۔۔۔دادا کہنے لگا ۔۔۔۔۔پاپا اب کافی سنبھل چکے تھے ۔۔۔۔۔اس لئے عمر کو گود میں لئے میرے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئے ۔۔۔عمر پاپا کے چہرے سے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے انکے آنسوں صاف کرنے لگا ۔۔۔۔
“دیکھا تم نے عفان عمر بلکل تمہاری طرح ہے ۔۔۔۔۔میری آنکھوں میں آنسوں برداشت نہیں کر سکتا”میں عمر کو غور سے دیکھنے لگا۔۔۔۔اسکی رنگت میری طرح سفید تھی ۔۔۔۔۔مگر نین نقش مجھ پر نہیں تھے اب عمر بھی مجھے دیکھنے لگا عمرکی آنکھیں میری آنکھوں کی طرح بلیک نہیں تھیں ۔۔۔۔۔کھلتی بروان رنگ کی تھی ۔۔۔۔۔مجھے اس کی آنکھیں مانوس سی لگ رہیں۔ تھیں ۔۔۔۔۔کہاں دیکھیں تھیں یہ آنکھیں ۔۔۔۔ماہی۔۔۔۔۔۔ہاں ماہی۔۔۔۔۔عمر نین نقش میں ماہم جیسا تھا اور آنکھیں تو بلکل ماہم کی آنکھوں جیسی تھیں ایسا لگ رہا تھا کہ ماہم دیکھ رہی ہو ۔۔۔۔۔میرے ذہن میں جھماکا ساہوا
“ماہی کہاں تھی ۔۔۔۔۔۔وہ کیوں نہیں آئی ۔۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ماہم ۔میری آنکھیں کھل جانے سے انجان ہو اور یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ اسے میری خبر ہو اور وہ نا آئے ۔۔۔۔۔۔میری نظریں پھر سے بند دروازے کی طرف اٹھیں ۔۔۔ کمرے کا دروازہ کھلا ۔۔۔۔۔۔مگر سامنے وہ تھا جسے میں دیکھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔کامران میرے قریب ضرور آیا۔۔۔۔مگر اسکی آنکھوں میں نفرت تھی ۔۔۔۔بیزاریت اور اجنبیت تھی ۔۔۔۔۔میری وجہ سے وہ اپنے
مقصد میں نا کام جو ہو گیا تھا ۔۔۔۔میں نے اسکی جانب سے نظریں پھیر لیں کامران بھی میرے پاس رکا نہیں ۔۔۔۔ڈاکٹر رمشہ سے میرے بارے میں فارمل سی ڈیٹیل لینے لگا ۔۔۔۔۔ حیرت مجھے اس بات تھی کہ ماہم کے بارے میں کسی کوئی ذکر ہی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔وہ کیوں نہیں آئی تھی ۔۔۔۔اہستہ آہستہ سب ہی میرے کمرے سے چلے گئے تھے ۔۔۔۔۔ماہم کہاں تھی ۔۔۔وہ کیوں نہیں آئی ۔۔۔۔میرا دل اسے دیکھنے کے لئے بے تاب تھا ۔۔۔۔۔ایسا کیسے ممکن تھا کہ وہ نا آئے ۔۔۔۔اپنے عفان سے ملنے اسے دیکھنے ۔۔۔۔۔میری آنکھیں کمرے کے دروازے پر ٹکی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔میں بہت مشکل سے دروازے پر نظریں ٹکا پارہا تھا ۔۔۔ کافی دیر میں بے چینی سے ماہم کا انتظار کرتا رہا ۔۔۔مگر وہ نہیں آئی اب میں ۔ تھک چکا تھا ۔۔۔۔ میں نے مایوس ہو کر اپنی آنکھیں بند کر لیں
