Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 18
Rate this Novel
Tadbeer Episode 18
Tadbeer by Umme Hani
نا دل میں کوئی ہلچل مچی۔۔۔۔۔ نا جذبوں نے بے اختیاری کا روپ دھارا ۔۔۔۔نا ہی آنکھوں میں کسی خوبصورت سے خواب کا خمار چھایا
اس وقت میرا دل ایسے ہر جذبے سے عاری تھا جو اس موقعے کی مناسبت سے ہر انسان کے دل میں ہوتے ہیں اسکی وجہ ماہم کی باتیں تھی۔۔۔اس وقت بھی وہ مجھ سے کیا کہنے کے لئے بے تابی سے میرا انتظار کر رہی تھی میں اچھی طرح جانتا تھا اس لئے دل میں کسی بھی قسم کی خوش فہمی پالنے کے بجائے خود کو ماہم کے سوالوں کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنے لگا ۔۔۔۔دروازے کا نیب گھماتے ہی دروازہ کھل گیا ماہم جو میرے بیڈ پر بیٹھی اپنے ناخن منہ میں ڈالے کتر رہی تھی مجھے دیکھ کر کھڑی ہو گئ۔۔۔۔۔میں عام سے انداز سے اندر داخل ہوا کمرے کا دروازہ بند کیا پھر چلتا ہوا اپنے بیڈ پر بیٹھ گیا ماہم اب بھی نروس سی وہیں کھڑی اپنی انگلیاں چٹخانے کے ساتھ ساتھ مجھ سے دانستہ نظریں چرا رہی تھی ۔۔۔۔پریشانی میں وہ ایسی ہی حرکتیں کرتی تھی ۔۔۔۔میں نے ذرا سا گلا کھنکھارا
“بیٹھ جاو ماہی ۔۔۔کب تک یونہی کھڑی رہو گئ ۔۔”۔۔۔میرا انداز عام سا ہی تھا
“نہیں بیٹھنا مجھے ۔۔۔۔یہ سب کیا ہے عفان ۔”۔۔۔ماہم میرے سر پر کھڑی تیکھی نظروں مجھے دیکھتے ہوئے بولی
“تم پریشان مت ہو ۔۔۔۔بیڈ پر تم سو جاو میں۔۔۔۔ صوفے پر لیٹ جاؤں گا “۔۔۔۔اسکی پریشان صورت دیکھ کر میں نے اسے ریلکس کرنا چاہا لیکن ٹو سیٹر صوفے پر می۔ کہاں پورا آ سکتا تھا
“کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔۔مجھے تمہارے کمرے میں رکنا ہی نہیں ہے “۔۔۔۔۔وہ حتمی انداز سے بولی
“دروازہ لوک نہیں ہے ماہی جانا چاہوں تو چلی جاو۔۔”۔میرے بی لچک لہجے پر وہ زچ سی ہو گی
“تم خالہ اور رضا انکل کو سمجھاتے کیوں نہیں ہو ۔۔۔جو وہ چاہتے ہیں وہ ممکن ہی نہیں ہے “۔۔۔۔۔۔ماہم مجھے مدد طلب نظروں سے دیکھ کر بے بسی سے کہنے لگی اب میں اسے کیا سمجھاتا جو وہ چاہتی ہے وہ بھی اب ممکن نہیں ہے
“مجھے تو سمجھانا نہیں آتا ہے ماہی ۔۔۔ہاں لیکن تم شاید بہتر طریقے سے سمجھا سکتی ہو ۔۔۔جاوں تم سمجھا دو جا کر پاپا کو ” ۔۔۔۔میں نے بیڈ کا تکیہ درست کیا مخملی ڈبیہ سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور سیدھا چت لیٹ گیا ۔۔۔مجھے معلوم تھا ۔ماہم کبھی بھی یہ بات پاپا کے سامنے کر ہی نہیں سکتی تھی اس لئے مجھے فکر بھی نہیں تھی
“یہ کیا ہے۔”۔۔۔۔۔ ماہم نے ڈبیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا
“تمہاری رونمائی ک تحفہ” ۔۔۔۔میں نے بلا تامل کہا
“واٹ ۔”۔۔۔ماہم تعجب سے تقریبا چلا کر بولی ۔۔۔
“میں یہ ہر گز نہیں پہنوں گئ۔”۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہم کے سخت اور دو ٹوک انداز پر جواب بھی میں نے اسی انداز سے میں دیا
“میں بھی زبردستی نہیں پہناؤں گا ۔۔۔پلیز ماہی جاتے ہوئے میرے کمرے کی لائٹ آف کر کے جانا ۔۔۔میں تھکا ہوا ہوں سونا چاہتا ہوں” ۔۔۔۔میں بازو اپنی آنکھوں پر رکھ دیا ۔۔۔میرے اتنے لا پروا اندر پر وہ تلملا کر رہ گئ میرا بازو جارحانہ انداز سے ہٹا کر بھبک کر بولی
“میری جان پر بنی ہے اور تمہیں نیندیں سوج رہیں ہیں اٹھ کر بیٹھو سمجھے نا “۔۔۔۔۔وہ غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی میں نے اٹھ کر بیٹھنے میں ہی عافیت سمجھی
“لو بیٹھ گیا بولو اب ۔۔۔۔کون سی افتاد ٹوٹ پڑی ہے تم پر ۔۔۔”۔میں نے غصہ دیکھانے کی کوشش کی
“یہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے مت دیکھوں میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں ۔۔۔۔عفان تم ۔۔۔۔۔تم خالہ سے کہہ دو کہ تم میرے ساتھ زندگی نہیں گزارنا چاہتے” ۔۔۔۔وہ میرے برابر میں بیٹھتے ہوئے نرمی سے بولی اسوقت اسکی حالت یہ تھی کہ ابھی رو دے گی
“کیوں میں یہ کیوں کہو ۔۔۔۔تم کیوں نہیں کہہ دیتی ۔۔۔۔”
“میں نہیں کہہ سکتی نا ۔۔۔۔سمجھو نا عفان ۔۔۔۔اور تم بھی تو ایسا نہیں چاہتے” ۔۔۔۔۔ماہم اب بہت رقت بھرے لہجے سے گویا ہوئی
“ماہی جو تم چاہتی ہو پاپا وہ کبھی ہونے نہیں دیں گئے ۔۔۔۔میری بھی نہیں سنے گئے “
“کیوں نہیں سنے گئے ۔۔۔۔تم کہہ دو کہ نا تم اس رشتے پر راضی ہو نا میں “
“لیکن مجھے تو اب اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔”۔۔میری غیر متوقع جواب پر وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگی
” مطلب کیا ہے تمہارا ۔۔۔۔عفان ۔۔۔۔تم ۔۔۔۔تم ہوش میں تو ہو ۔۔۔۔کیا کہہ رہے ہو تم “۔۔۔۔۔ماہم حیرانگی سے آنکھیں پھلائے بول رہی تھی جیسے میں نے کوئی انہونی بات کر دی ہو
“اس میں حرج کیا ہے ماہی۔۔۔۔۔ شادی تو مجھے کسی سے کرنی ہی تھی ۔۔۔۔پھر تم اتنی بھی بری نہیں ہو کہ تمہارے ساتھ زندگی نا گزر سکے ۔۔۔۔۔اچھی خاصی ہی ہو ۔۔۔۔”میں نے ماہم کو سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے کہا
ماہم اٹھ کر کھڑی ہو گئ
“تم پاگل ہو گئے ہو شاید ۔۔۔۔دماغ چل گیا تمہارا ۔۔۔۔۔۔کیا اول فول بکے جا رہے ہو ۔۔۔۔میں بڑی ہوں تم سے ۔۔۔۔تمہارے بھائی کی منگتر رہ چکی ہوں محبت کرتی ہوں کامران سے “۔۔۔۔۔کامران کا نام مجھے اندر سے آگ لگا دیتا تھا اب بھی میں غرا کر بولا
“تو پھر کہو اپنے کامران سے ۔۔۔۔وہ کرے پاپا سے بات سب کچھ اس نے بگاڑا ہے ٹھیک بھی وہی کرے ۔۔۔۔اسکی وجہ سے میں کیوں اپنے ماں باپ کے سامنے خود کو غلط ثابت کروں۔۔۔۔۔۔مجھے یہ رشتہ دل سے قبول ہے۔۔۔اور میں اسے نبھاؤں گا بھی ” ۔۔ ۔۔۔۔۔میری بات پر وہ کنگ سی ہو کر مجھے دیکھنے لگی
“تم ۔۔۔۔۔عفان ۔۔۔۔۔مجھے تم سے ہر گز یہ امید نہیں تھی” ۔۔۔۔ماہم کی نظر تنفر آمیز لہجہ بھی اسی کی عکاسی کر رہا تھا ۔۔۔۔
ماہم تن فن کرتی ہوئی کمرے سے جاتے ہوئے میرا دروازہ پوری قوت سے بند کر کے گئ تھی ۔۔۔۔۔ماہم کو مجھ ایسے رویے امید نہیں اسے لگا کی ہر بار کی طرح میں اب بھی سب کچھ سنبھال لوں گا ۔۔۔۔سارے الزام خود پر لیکر اسے ہر بار کی طرح پاپا کی نظر میں سچا ثبت کر دوں گا ۔۔۔۔مگر اب نہیں ماہی ۔۔۔۔میں بھی دیکھتا ہوں کب تک تم اکیلی لڑ سکتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔اور وہ تمہارا کامران کتنا ساتھ دے سکتا ہے تمہارا ۔۔۔۔۔میں آنکھیں بند کیے ایسی کی سوچوں میں گم تھا ۔۔۔۔۔
*****………..
میں بہت خوشگوار موڈ میں صبح ناشتے کے لئے ڈائنگ روم میں داخل ہوا ۔۔۔۔مما پاپا کو ناشتہ دینے میں مصروف تھیں اور ماہم بیٹھی خود ناشتہ کر رہی تھیں میں گڈ مارننگ کہتے ہوئے ماہم کے برابر میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
مجھے دیکھتے ہی ماہم کے چہرے کے زوایے پر بیزاری سی چھا گئ ۔۔۔۔وہ میرے لئے سلائس پر مکھن لگانے لگی
“نہیں ماہی آج یہ رہنے دو ۔۔۔۔تم مجھے چیز آملیٹ بنا دو” ۔۔۔۔ماہم میری فرمائش پر پیج وتاب کھاتی ہوئی کچن میں چلی گئ ۔۔۔۔۔میں پاپا کی طرف متوجہ ہو گیا
پاپا میری قاسم سے بات ہو چکی ہے اس کے ڈیڈ کو بھی کوئی ایشو نہیں ہے ۔۔۔بس آپ مجھے بتا دیں کہ آپ میٹنگ کب کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔میں پاپا سے باتوں میں مصروف تھا جب ماہم نے میرے سامنے چیز آملیٹ رکھ دیا
“تھنکس” ۔۔۔۔۔میں نے مسکرا کر ماہم کی طرف دیکھا ۔۔۔جو کینہ توز نظروں سے مجھے گھور رہی تھی
“دیس گڈ عفان تم انہیں میٹنگ کے لئے فرائی ڈے کا ٹائم دیدو” ۔۔۔۔پاپا بہت خوشی سے بولے
ماہم میرے لئے کپ میں چائے ڈالنے لگی
“ماہی بس آدھا کپ” ۔۔۔۔میں نے ماہم کو پھر سے ٹوک دیا ماہم نے چائے ڈال کر کپ میرے سامنے رکھ دیا
“عفان ماہم کے ہاتھ خالی کیوں ہیں ۔۔۔۔کنگن کہاں ہیں جو تمہاری ماں نے تمہیں دیے تھے” ۔۔۔۔۔۔۔۔پاپا کی باز پرس پر ماہم کا ایک رنگ آ کر گزر گیا میں اسکی پریشانی بھانپ چکا تھا س لئے بات سنبھالتے ہوئے بولا
“ماہی کو وہ پسند نہیں ہیں پاپا ۔۔۔میرے بہانے پر ماہم نے برجستہ مجھے دیکھا
“۔۔۔آپ نے بھی مما کے زمانے کے کنگن مجھے تھما دیے ۔۔بھئ میری بیوی آج کے ماڈرن دور کی ہے۔۔۔۔۔ نہیں اچھے لگے اسے دادی کے زمانے وہ کنگن صاف انکار کر دیا اس نے پہنے سے “۔۔۔۔میں یوں بات کر رہا تھا جیسے ایسے ہی سب ہوا ہو ۔۔۔مگر ماہم کہاں ایسی نزاکتوں کو سمجھتی تھی فٹ سے بول پڑی
“جھوٹ میں نے یہ سب تو نہیں کہا تھا “۔۔۔۔ماہم کی بے محل بات پر میں اسے گھورنے لگا بڑی مشکل سے میں نے بہانہ تراشہ تھا جس پر ماہم نے پانی پھیر کے رکھ دیا تھا میں ناشتہ کر چکا تھا اس لئے ٹیبل سے کھڑا ہو گیا
“ہاں تو پھر وجہ بھی اسی سے پوچھ لیں میں لیٹ ہو رہا ہوں” ۔۔۔۔ماہم کا ہاتھ پکڑ کر س سے مصافہ کر کے میں چلا گیا ۔۔۔۔
*********……..
قاسم کے ڈیڈ سے میری تفصلی گفتگوں ہو چکی تھی وہ میرے ارادے جان کر بہت خوش ہوئے تھے ۔۔۔۔۔میری بات پر کافی مطمئن اور متفق بھی تھے ۔۔۔۔اپنی ایک الگ سے فارم بنانے کا مطلب یہ تھا ہم اپنی قابلیت کو صحیح معنوں بروئے کار لانے کی سعی کر سکتے تھے ۔۔۔۔۔۔میٹنگ ختم ہوتے ہی قاسم مجھے گھر جانے کا مشورہ دینے لگا ۔۔۔
“عفان تم اب گھر جاوں باقی سب میں سنبھال لوں گا “
“کیوں میں گھر جا کر کیا کرونگا “۔۔۔ میں نے سامنے رکھی فائل کھولتے ہوئے کہا
“نئ نئ شادی ہوئی ہے تمہاری ۔۔۔۔بڑے بورنگ انسان ہو یار تم ۔۔۔۔جاوں بھئ بھابی کے ساتھ گھومنے جاؤں وقت دو انہیں ۔۔۔”۔
“شادی ۔۔۔۔۔یا حادثہ ۔۔’۔۔۔میں نے استزائیہ انداز میں ہنسی اڑائی
“چلو اگر حادثہ بھی ہے تو بہت حسین حادثہ ہے یار ۔۔۔۔ذیادہ سے ذیادہ وقت دو بھابی کو تا کہ کامران ان کے ذہن وگمان سے بھی نکل جائے “۔۔۔۔۔قاسم کی بات مجھے کچھ عجیب سی لگی
“میں سمجھا نہیں قاسم کیا کہنا چاہتے ہو تم “
‘بڑے بدھو تم تو بلکل’ ۔۔۔۔قاسم کرسی سے اٹھ کر میرے پاس آگیا میرے سامنے ٹیبل پر رکھی فائل پیچھے کھسکا کر ٹیبل پر ہی بیٹھ کر پاؤں میری کرسی پر ٹکا دیے
” کیا بد تمیزوں کی طرح ٹیبل پر بیٹھ جاتے ہو سامنے کرسی پر بیٹھ کر بھی بات ہو سکتی ہے”
‘ابے گھامڑ ایسی باتیں سرگوشی میں ہی کرنی چاہیے اگر میرا باپ بنا اطلاع کے وارد ہو گیا تو شامت تو میری ہی آئے گئ اب ذرا تم بھی قریب ہونے کی زحمت کرو “۔۔۔۔میں قاسم کو گھورتے ہوئے کچھ آگے کی طرف جھک گیا
“ذیادہ سے ذیادہ بھابی کے قریب رہنے کی کوشش کیا کرو اپنے کاموں میں اپنی باتوں میں الجھائے رکھا کرو انہیں۔۔۔۔ورنہ تمہاری دوری اور لاپروائی تمہیں بہت مہنگی پڑ سکتی ہے ۔”۔۔۔قاسم کی بے تکی سی بات پر میں اسے گھرکنے لگا
“یہ بات تو تم سامنے کرسی پر بیٹھ کر تمیز کے دائرے میں بھی بتا سکتے تھے عورتوں کی طرح کان میں کھسر پھسر کرنے کی ضرورت قطعی نہیں تھی” ۔۔۔۔۔میری سوئی اسی بات پر اٹکی دیکھ کر وہ ہتھے سے اکھڑ گیا
“میری طرف سے بھاڑ میں جاؤ یہ نہیں کہ بات کی نزاکت کو سمجھوں بس میرے باپ کی طرح ناصحاں ہی بنے رہنا مجھ پر “۔۔۔۔۔قاسم کو دیکھ کر میں ہسنے لگا قاسم ٹیبل سے اٹھ کر بگڑے موڈ سے بولا اور سامنے رکھی فائل اٹھا کر جانے لگا
“اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔چلا جاتا ہوں ۔۔۔اب موڈ ٹھیک کرو اپنا ۔۔۔”
“شکر ہے خدایا اس لڑکے کو عقل تو آئی” ۔۔۔۔قاسم نے دونوں ہاتھ دعا کے انداز میں اٹھا کر کہا ۔۔۔۔۔۔
اسکی باتیں سن کر میرا کام میں دل لگ بھی نہیں رہا تھا اس لئے جلدی ہی گھر آ گیا ۔۔۔۔مما اس وقت اپنے کمرے میں آرام کرتی تھی اور ماہم بھی اپنے کمرے میں ہی ہوتی تھی ۔۔۔۔۔میں جب اپنے کمرے میں داخل ہوا ڈریسنگ روم میں کھٹ پٹ کی آواز سے چونک گیا میں دبے پاؤں ڈرسنگ روم میں گیا تو الماری کا پٹ کھلا ہوا دیکھ کر الماری کے پاس چلا آیا وہاں ماہم کھڑی نا جانے کیا تلاش کر رہی تھی ۔۔۔۔میرے کپڑے بہت احتیاط سے اٹھا اٹھا کر نا جانے ڈھونڈ کیا رہی تھی ۔۔۔قاسم کی باتیں میرے ذہن میں آنے لگی خود با خود ہی میرے قدم ماہم کی جانب اٹھنے لگے میں اسکے بہت نزدیک ہو گیا اسکے سلکی بال کچڑ میں مقید تھے ۔۔۔دل مجھے گستاخی پر اکسانے لگا لیکن یہ موقع ابھی ایسا نہیں تھا ماہم کا رد عمل بہت برا ہو سکتا تھا ۔۔۔ویسے مجھ سے بگڑی ہوئی تھی ۔۔۔ اگلے ہی لمحے مجھے شرارت سی سوجی میں نے اسکے کان کے قریب بلند آواز میں اسے پکارا
“ماہی” ۔۔۔وہ بری طرح ڈر کر اچھل گئ اور میں بھی جھٹ سے پیچھے ہٹ گیا کہ کہیں مبادا مجھ سے ٹکرا گئ تو مجھی پر برس پڑے گئ ۔۔۔۔وہ سینے پر ہاتھ رکھے پلٹ کر مجھے حیرت سے دیکھنے لگی اور میں ہسنے لگا
“تم ۔۔۔۔عفان کے بچے ۔۔۔۔۔کیوں ڈرایا مجھے دیکھوں ۔۔۔۔دیکھوں ادھر ۔۔۔۔میرا دل کس قدر زور زور سے دھڑک رہا ہے جسے ابھی باہر آ جائے گا “۔۔۔۔وہ سینے میں ہاتھ رکھے لمبے لمبے سانس لے رہی تھی
“اچھا ۔۔۔واقع ۔۔۔۔لاو دیکھوں تمہارا دل کتنے زور سے دھڑک رہا “۔۔۔میں نے بڑی معصومیت سے اپنی آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا وہ بدک کر کچھ پیچھے ہٹ گئ ۔۔
“۔۔پیچھے ہٹو یہاں سے ۔۔۔۔تم اتنی جلدی یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔ابھی تو صرف چار بجے ہیں ۔”۔۔۔وہ گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی کیونکہ عموما میں سات بجے ہی آتا تھا ۔۔۔۔
“میں اپنے کمرے میں کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا ہوں ۔۔۔۔اور آج توقاسم کو بھی میری حالت پر رحم آگیا ۔۔۔اس لئے جلدی جان چھوڑ دی میری” ۔۔۔۔۔۔
“اینی وئے ۔۔۔۔کہاں ہے وہ “۔۔۔۔ماہم نے مدافعانہ انداز سے میری بات اڑتے ہوئے کہا اور پھر سے الماری کی طرف پلٹ گئ
“کیا وہ ۔”۔۔۔۔
“کنگن” ۔۔۔۔
“اوہ ۔۔۔تو تم کنگن ڈھونڈ رہی ہو ۔۔۔۔وہ تو میں نے صبح ہی مما کو واپس کر دیے تھے ۔۔۔۔”
“کیوں واپس کر دیے تھے ۔”۔۔۔وہ الماری بند کر کے میری طرف دیکھنے لگی
تمہیں پسند جو نہیں تھے ۔۔۔۔۔میں اب اپنے کمرے میں آ کر اپنی ڈائی کی نٹ ڈھیلی کرنے لگا ۔۔۔۔ماہم بھی میرے پیچھے ہی آ پہنچی
“میں نے کب کہا کہ مجھے پسند نہیں ہیں ۔۔۔۔بس تم وہ کنگن مجھے خالہ سے واپس لا کر دو” ۔۔۔۔۔اسے یہ ڈر لاحق تھا کہ اگر کنگن اسے ہاتھ میں نہیں ہوئے تو پاپا پھر سے پوچھیں گئے
“جی نہیں بڑی مشکل سے میں نے بہانہ بنا کر بات کو سنبھالا ہے اب واپس جا کر کس منہ سے مانگوں گا ویسے بھی پاپا نے مجھے کہا تھا کہ تمہیں جیولر کے پاس لے جاؤں جو تمہیں پسند ہو اپنی مرضی سے لے لینا ۔”۔۔۔میں نے ٹائی اتر کر بیڈ پر پھنک دی ۔۔۔۔اور خود ڈریسنک روم میں جا کر اپنے واڈروب سے کپڑے نکالنے لگا ۔۔۔۔
“مجھے کہیں نہیں جانا عف”ان ۔۔۔ وہ منہ بنا کر۔ بولی
میں نے ٹاول اپنے کندھے پر رکھا اور وش روم کے پاس کھڑا ہو کر ماہم کو دیکھنے لگا
“ٹھیک ہے مت جاؤں رات کو پاپا پوچھیں تو جواب بھی تیار رکھنا” ۔۔۔۔میں لاپروائی سے کندھے اچکاتا ہوا واش روم میں گھس گیا ۔۔۔۔جب میں شاور لیکر چینج کر کے نیچے لاؤنچ میں آیا تو ماہم تیار بیٹھی تھی ۔۔۔۔
مجھے دیکھتے ہی کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔
“چلو جیولر کے پاس میں تیار ہوں” ۔۔۔۔میں نے اپنے ٹراؤزر کی جیب میں ہاتھ ڈالے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔بلو کلر کے ہلکی سی ایمبرڈی والے سوٹ اور ہم رنگ دوپٹا لئے وہ کافی نکھری سی لگ رہی تھی ۔۔۔
۔جیولری شاپ پر پہنچ کر میں نے جیولر سے کہا کہ “جو کنگن میں نے ابھی کچھ دیر پہلے پسند کیے تھے وہ مجھے دیدے ۔۔”۔میری بات کر ماہم نے گردن گھما کر مجھے دیکھا ۔۔۔میری مسکراہٹ پر وہ تپ سی گئی ۔۔۔۔۔آفس سے واپسی پر کنگن میں پسند کر چکا تھا بس جیب میں۔ پیسے کچھ کم تھے اس لئے اسے یہ کہہ کر آیا تھا کہ وہ پیک کر دے میں کچھ دیر میں آ کر لے جاؤں گا ۔۔۔۔۔اس لڑکے نے ایک مخملی ڈبیہ میری طرف بڑھا دی ۔۔۔میں نے دیکھ کر پورا اطمینان کرنے کے بعد اسے پیسے دیکر ماہم کا ہاتھ پکڑے باہر نکل آیا ۔۔۔ماہم کے لئے میرا یہ رویہ غیر متوقع تھا اس لئے شاپ سے باہر آتے ہی میرا ہاتھ جھٹک دیا ۔۔۔۔میں گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گیا ۔۔۔ماہم بھی غصے سے بھری میرے برابر میں بیٹھ گئ
“جب تم خود ہی لے چکے تھے تو مجھے جھوٹ بول کر کیوں لیکر آئے ہو”
“اس لئے کہ اگر سچ کہتا تو تم آتی نہیں۔ ۔۔۔۔
“بہت برے ہو تم ۔۔”۔۔ماہم نے اپنا رخ کھڑی کی طرف کر لیا ۔۔۔۔میں نے گاڑی اسٹاٹ کی اور ایک ریسٹورنٹ کے سامنے کھڑی کر دی ماہم مجھے غصے سے دیکھنے لگی
“بھوک لگ رہی ماہی تمہارے کنگن کے چکر میں نے کھانا بھی نہیں کھایا ۔۔۔۔سچی۔۔”۔۔۔میں نے چہرے پر مظلومیت سجاتے ہوئے کہا
مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا بس ڈھیٹ بنکر گاڑی میں ہی بیٹھی رہی ۔۔۔میں گاڑی سے باہر نکل کر ماہم کی طرف آ گیا اس کی طرف کا ڈور کھول کر اسے اترنے کے لئے کہا مگر وہ خاموشی سے بیٹھی رہی
“ماہی باہر آؤں ۔۔۔کیوں سب کے سامنے تماشہ بنا رہی ہو ۔۔۔۔”
“مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔۔اور میں باہر بھی نہیں آؤں گی “۔۔۔۔وہ اکڑ کر بولی
“تو تم نیچے نہیں اترو گی” میں نے سخت لہجے سے کہا
“نہیں” وہ اٹل انداز سے گردن اکڑا کر بولی
“ٹھیک ہے میں تمہیں گود میں اٹھا کر لے جاتا ہو کہہ دونگا میری بیوی کے پاوں میں۔ فیکچر ہے چل پھر نہیں سکتی ۔”۔۔ماہم میری بات پر بری طرح سے زچ ہونے لگی خود ہی گاڑی سے باہر آ گئ ۔۔۔۔کھانا میں ہی آڈر کیا ۔۔۔۔اور اسے ایسے ہی دھمکا دھمکا کر کھانے پر مجبور بھی کرتا رہا کہ اگر اس نے نہیں کھایا تو اپنے ہاتھوں سے سے کھالوں گا وغیرہ وغیرہ وہ بیچارہ مجھ سے عاجز آ چکی تھی ۔۔۔۔اسوقت میں صرف قاسم کی بات پر عمل پیروا تھا ۔۔۔۔اور سچ بھی یہی تھا کہ اسوقت ماہم میرے علاؤہ کسی کو بھی نہیں سوچ رہی تھی پوری کی پوری میری طرف متوجہ تھی ۔۔۔۔واپسی پر بھی مجھے گھر جانے کی کوئی جلدی نہیں تھی اس لئے یونہی گاڑی بلا مقصد کے ہی چلاتا رہا ۔۔۔۔کہ شاید ماہم کچھ کہے گی ۔۔۔بات کرے گی مگر وہ بھی کمال کا ضبط رکھتی تھی ۔۔۔۔منہ پھلائے کھڑکی کے باہر ہی دیکھتی رہی ایک بار بھی مجھ سے بات نہیں کی یہاں تک کہ لڑائی بھی نہیں کی جسکی مجھے سو فیصد امید تھی ۔۔۔۔۔مگر جب مکمل سکوت۔ ہی رہا تو میں نے ایک گہری سانس لی اور بولا
“ماہی ہم اتنے بھی انجان نہیں ہیں کہ کوئی بات نا کر سکیں بات کرو مجھ سے ۔”۔۔۔۔۔مگر اس نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔
میں نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا مگر وہ انجان بنی بیٹھی رہی اس کی لاپروائی خاموشی مجھے چبھنے لگی
“ماہی ۔۔۔۔ماہی ۔۔۔۔تم سے بات کر رہا ہوں یار “۔۔۔۔میرے بار بار پکارنے پر بھی وہ بے نیاز ہی رہی
“ماہی ۔۔۔۔آئی لو یو ۔”۔۔۔میرے اس اچانک کے اظہار محبت پر اس نے برجستہ مجھے دیکھا
“کیا کہا تم نے ۔۔۔۔ہوش میں ہو تم ۔”۔۔اس کے کڑے تیوروں سے مجھ سے پوچھنے لگی
“چلو شکر ہے سنائی دے رہا ہے تمہیں ورنہ میں تو سمجھا تھا کہ میری ماہی بہری ہو چکی ہے۔۔۔۔چوکلیٹ اسکرئم کھاؤ گی” ۔۔۔۔۔اسکی گھورتی اور کھا جانے والی نظروں کو میں نظر انداز کر کے پوچھنے لگا مگر اس نے پھر سے رخ کھڑکی کی طرف کر لیا میں نے گاڑی اسکے پسندیدہ آئسکریم پالر کے قریب کھڑی کر دی مگر نیچے نہیں اترا ایک لڑکا آڈر لینے آیا تو میں نے ایک چوکلیٹ آئسکریم کا آڈر دیا
“ایک کون ڈبل چوکلیٹ اسکرئم ود چوکلیٹ چپ” ۔۔۔۔۔وہ لڑکا چلا گیا ۔۔۔۔کچھ دیر بعد ماہم کی پسندیدہ آئسکریم میرے ہاتھ میں تھی ۔۔۔۔
میں نے اپنا پورارخ ماہم کی طرف موڑ لیا
“تم تو ناراض ہو مجھ سے …اس لئے ہاتھ بھی نہیں لگاؤ گئ ۔۔۔۔یعنی کہ یہ پوری آسکریم میں کھاؤں گا ۔۔۔۔واہ
یہ سوچ سوچ کر میں تو اور بھی ایکسائیٹڈ ہو رہا۔۔۔۔۔ ہوں “۔۔۔۔میں جانتا تھا چوکلیٹ آئسکریم ماہم کی کمزوری تھی اور اسوقت مجھے اسے چڑانے میں مزہ آ رہا تھا میں مزے سے آئسکریم کھانے لگا میں نے کن اکھیوں سے ماہم کو دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔مجھے خود کی طرف متوجہ پا کر اپنا رخ موڑ گئ
“ماہی سریسلی ساری آئسکریم ایک طرف اور یہاں کی چوکلیٹ آئسکریم ایک طرف۔۔۔۔ آئسکریم کم اور چوکلیٹ ذیادہ منہ میں آتی ہے ۔۔۔ہمم اور اسے خاص طور پر کھانے کا مزہ اسوقت آتا ہے جب کسی کے چھین کے کھانے کا ڈر نا ہو “۔۔۔۔۔میں مزے سے کھاتے ہوئے تبصرے بھی کر رہا تھا ۔۔۔۔۔میں نے ماہم کی طرف دیکھا تو اس کا کھلا منہ یک دم بند ہو گیا وہ بہت للچائی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
“ندیدہ کہیں کا ۔”۔۔۔وہ منہ بڑبڑائی
“مجھ سے کچھ کہا تم نے ۔”۔۔میں نے جان بوجھ کر انجان بن کر پوچھا ۔۔۔۔
“نہیں ۔۔۔۔بلکہ ہاں ۔۔۔میں نے کہا تم کیا مجھے اپنی طرح ندیدہ سمجھتے ہو ۔”۔۔ وہ جل کر بولی وہ دوبارہ کھڑی سے باہر دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔بلکہ اپنا پورارخ ہی کھڑی کی طرف کر لیا ۔۔۔۔میں نے آئسکریم اس کے سامنے کر دی ماہم نے پلٹ کر مجھے ناراض ناراض نظروں سے دیکھا۔۔۔۔پھر جھجکتے ہوئے میرے ہاتھ سے آئسکریم لیکر کھانے لگی ۔۔۔۔۔
“تم ۔۔۔۔اتنا انسسٹ کر رہے ہو تو میں نے سوچا کھا لیتی ہوں” ۔۔۔۔وہ نظریں چراتے ہوئے کھانے لگی میرے بے بے اختیار قہقے پر وہ خجل سی ہو گئ ۔۔۔۔یہ تو وہ بھی جانتی تھی کہ میں اسے انسسٹ تو ہر گز نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
“ماہی ایک اور کھاؤں گئ” ۔۔۔۔ماہم کے دل میں آنے والی خواہش کو میں نے رازداری سے اس سے پوچھا مگر وہ خاموش ہی رہی
“آئی انسسٹ ماہی پلیز ایک اور کھا لو “۔۔۔میری منت بھرے انداز پر وہ بے ساختہ ہنس پڑی ۔۔۔پھر اتراتے ہوئے بولی
“ایک نہیں دو کھاؤں گئ” ۔۔۔۔میں نے شکر کیا کہ اس کا موڈ تو بحال ہوا ۔۔۔۔واپسی پر ماہم مجھ سے ہلکی پھلکی باتیں کرتی رہی ۔۔۔۔۔جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو مما پاپا لان میں ہی بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔گاڑی سے اترتے ہی میری نظر سامنے ٹیرس پر کھڑے کامران پر پڑی جو ہاتھ میں سگریٹ لیے ہم دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ماہم نے کامران کو نہیں دیکھا تھا اس کا رخ مما کی طرف تھا میں نے دانستہ ماہم کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔نا جانے کیوں مگر میں کامران پر یہ جتانا چاہتا تھا کہ ماہم پر اب اس کا کوئی حق نہیں ہے ۔۔۔۔ شاید یہ تسلی میں خود کو دینا چاہ رہا تھا کامران اپنے کمرے میں کے اندر چلا گیا۔۔۔میں اور ماہم کچھ دیر مما پاپا کے ساتھ بیٹھے رہے ۔۔۔۔پاپا ہمیں یوں ایک ساتھ دیکھ کر بہت خوش تھے ۔۔۔۔رات کو جب ماہم اپنے کمرے میں جانے لگی تو میں نے ماہم کو روک کر بہت لجاجت سے کہا
“ماہی دو منٹ میری بات سنو گی” ۔۔۔۔
“ہاں بولو میں سن رہی ہوں ۔۔۔”
“نہیں یہاں نہیں میرے ۔۔۔۔کمرے میں “۔۔۔۔میں کچھ جھجک سا گیا کچھ دیر ماہم بھی نروس سی کھڑی رہی شاید یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ آیا وہ کھڑی رہے
یا میرے ساتھ چلے ۔۔۔میں نے اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر پیچھے ہٹ کر ماہم کو اندر جانے کی جگہ دی ۔۔۔۔میرااور ماہم کا کمرہ آمنے سامنے ہی تھا وہ ہچکچاتے ہوئے اندر داخل ہوئی میں بھی اس کے پیچھے اندر آکر اسے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے پلٹ کر کمرے کا۔ دروازہ بند کرنے لگا ۔۔۔۔ماہم وہیں کھڑی رہی ۔۔۔۔اور کچھ بوکھلائی سی بھی لگ رہی تھی
“بیٹھوں نا ماہی کھڑی کیوں ہو ۔۔”۔۔
“نہیں عفان۔ بس تم جلدی بتاؤں کیا کام کے ۔۔۔۔میں بہت تھک چکی ہوں اب آرام کرنا چاہتی ہوں” ۔۔۔۔وہ مجھے سے کترا رہی تھی ۔۔۔
“ہاں چلی جانا مجھے دو منٹ ہی تم سے بات کرنی ہے مگر یوں کھڑے کھڑے بات تو نہیں ہو سکتی” ۔۔۔۔وہ کچھ سوچتے ہوئے دھیرے سے قدم بڑھا کر بیڈ پر بیٹھ گئ۔۔۔ میں۔ بھی اسکے سامنے بیٹھ گیا اپنی جیب سے وہ مخملی ڈبیہ نکال کر اسے کھول کر دو نازک سے کنگن نکالے اور دوسرا ہاتھ ماہم کی طرف بڑھ دیا ۔۔۔ماہم نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کر لئے
“میں خود پہن لوں گی عفان” ۔۔۔۔وہ بیحد کنفوژ تھی اس لئے جھجک کر بولی لیکن میں بھی کیا کرتا دل کے ہاتھوں میں بھی مجبور تھا پھر یہ میری ذاتی خواہش بھی تھی اور حق بھی میں کیوں اپنی زندگی کے لمحات کو خوبصورت نا بناؤ ۔۔۔۔
“نہیں ماہی یہ میں تمہیں خود پہنانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔اسے تم منہ دیکھائی مت سمجھو دوستی کا ایک تحفہ سمجھ لو۔۔۔۔اور ایسے کئ گفٹ ہم پہلے بھی ایک دوسرے کو پہنا دیا کرتے تھے یاد کرو کئ بار میرے لئے خریدی ہوئی گھڑی ضد کر کے تم نے زبردستی اپنے ہاتھوں مجھے پہنائی تھی ۔۔۔۔ایسے ہی آج یہ کنگن میں تمہیں پہنانا چاہتا ہوں” ۔۔۔۔میری بات پر وہ چپ ہی رہی میرا ہاتھ اب بھی اسکے سامنے پھیلا ہوا تھا
“پلیز ماہی” ۔۔۔۔میرے ملتجی لہجے پر اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیا ۔۔۔۔اسوقت مجھے لگا پوری کائنات مجھ پر مہربان ہو چکی ہے ۔۔۔۔وہ نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔اور میرا دل اپنی خوشی پر شاد مان تھا ۔۔۔۔میرا دل چاہا وقت بس یہیں ٹہر جائے یہ لمحے طویل تر ہو جائیں ۔۔۔۔ماہم نے اپنی مرضی سے میرے ہاتھ اپنا ہاتھ دیا تھا ۔۔۔۔۔ورنہ وہ منع بھی کر سکتی تھی ۔۔۔دل خوش فہمیوں میں بلیوں اچھل رہا تھا میرے چہرے پر اتنی خوشی تھی جیسے ماہم نے خود کو میرے سپرد کر دیا ہو ۔۔۔۔میں نے اسکی نازک سی کلائی پر بہت نرمی سے کنگن پہنائے ۔۔۔۔۔۔ماہم نے فورا اپنا ہاتھ کھنچ لیا ۔۔۔۔
“کیسے لگے کنگن” ۔۔۔۔
“ہاں بہت خوبصورت ہیں ۔۔۔۔میں اب جاؤ عفان” ۔۔۔۔
“ہمم جاؤں ۔۔۔۔تھنک یو فور دس آنر” ۔۔۔۔میں نے محبت سے اسے دیکھتے ہوئے کیا وہ اٹھ کر چلی گئ ۔۔۔مگر اپنی دلفریب سی خوشبو یہیں چھوڑ گئ تھی ۔۔۔۔۔میں اسقدر خوش تھا کہ جھومنے کو دل چاہا رہا تھا ۔۔۔۔پاپا کا اندازہ بلکل درست تھا میں جیت سکتا ہوں ماہم کو اپنی محبت سے ۔۔۔۔۔۔۔
“آئی لو یو ماہم آئی ریلی لو یو۔”۔۔۔۔۔ اپنی آنکھیں بند کیے میں بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔۔میں اندر سے پر سکون اور مسرور سا ہو گیا تھا
