Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 8
Rate this Novel
Tadbeer Episode 8
Tadbeer by Umme Hani
میں نے دروازے کو بنا دستک کے کھولا ماہم کمرے میں نظر نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔
“ماہی “۔۔۔۔۔میرے پکارنے پر وہ ٹیرس سے کمرے میں داخل ہوئی ماہم کے چہرے پر سجی مسکراہٹ دیکھ کر مجھے اپنا آپ دھواں ہوتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔مجھےلگا میں دھواں بن کر ہوا میں تحلیل ہونے لگا ہوں ۔مجھے دیکھ کر اسکی مسکراہٹ اور بھی گہری ہو گئ میرادل سلگنے لگا ۔۔۔۔
میں اس سے پوچھنے تو بہت کچھ آیا تھا مگر اب مجھے کسی بھی جواب طلبی کی ضرورت نہیں رہی تھی ۔۔۔۔ماہم کا مسکراتا چہرہ چمکتی آنکھیں اسکی دل کی شادمانی کا کھل کر اظہار کر رہیں تھیں ۔۔۔۔۔
“عفان تمہیں پتہ ہے آج میں کتنی خوش ہوں ۔۔۔۔لگتا ہے پوری دنیا مسخر کر چکی ہوں ۔۔۔۔۔۔مجھے لگ رہا ہے میں ہوا میں پرواز کر رہی ہوں۔۔۔۔۔یا کوئی حسین خواب دیکھ رہی ہوں ۔۔۔۔کامی مجھ میں انٹرسیڈ
2
تھے مجھے پسند کرتے تھے ۔۔۔مجھے یقین ہی نہیں آ رہا اپنی خوش نصیبی پر” ۔۔۔۔ماہم کی خوشی اسکے ہر انداز سے چھلک رہی تھی مگر سامنے کھڑا شخص اسکی باتیں کو کس ضبط اور دل گرفتگی سے سن رہا تھا اسے قطعی خبر نہیں تھی ۔۔۔۔
“تم ۔۔۔۔۔ماہی تم ۔۔۔۔۔کامی بھائی ۔۔۔۔کو پسند کرتی تھی ۔۔۔۔تم نے مجھ سے اس بات کا ذکر نہیں کیا ۔۔۔۔” میری زبان میرا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔۔۔۔میرے سب الفاظ میرے حلق میں پھسنے لگے تھے ۔۔۔۔۔میں لاکھڑاتی زبان سے اسے پوچھنے لگا ۔۔۔۔
“میں لڑکی ہوں اسٹوپٹ ۔۔۔۔اور لڑکیاں یہ سب کہتی اچھی نہیں لگتیں ۔۔۔۔۔ماہم میرے سر کے بال بکھیرتے ہوئی اپنی موج میں بول رہی تھی ۔۔۔۔۔پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے بیڈ پر بیٹھا دیا ۔۔۔۔
“۔مگر مجھ سے تو کہہ سکتی تھی تم ۔”۔۔۔۔مجھے لگا اچانک سے کوئی بھاپ سی اٹھتی ہوئی میری آنکھوں میں گھس گئ ہو میری آنکھوں کے کنارے نم ہونے لگے تھے
3
“یہ بات تو میں ڈر کے مارے خود سے بھی نہیں کہتی تھی عفان ۔۔۔تم سے کیا کہتی ۔۔۔۔۔پتہ ہے مجھے ڈر تھا کہ اگر کامی کو شک ہو گیا اور اس نے انکار کر دیا تو میں برداشت نہیں کر پاؤں گی” ۔۔۔۔۔وہ مجھے اپنے اندازے بتانے لگی ۔۔۔۔پھر بھر پور مسکراہٹ کے ساتھ بولی
“مگر میری چاہ سچی تھی ۔۔۔جبھی تو دیکھوں بنا مانگے ہی اللہ نے اسے مجھے دیدیا” ۔۔۔۔۔ماہم کی آنکھوں میں کچھ پا لینے کی چمک تھی ۔۔۔۔
“تم خوش ہو ۔”۔۔۔۔میں نے بہت حوصلے اور صبر آزما سے پوچھا
“خوش ۔۔۔۔۔یہ لفظ میری خوشی کے آگے بہت چھوٹا ہے عفان ۔۔۔۔بلکہ دنیا کا ہر لفظ میری خوشی کو بیان کرنے کے لئے چھوٹا اور بے معنی سا ہے ۔۔۔تمہیں معلوم ہے آسمان پر چمکتے چاند کی خواہش سب کرتے ہیں مگر اسے پانے کی کوشش کوئی کوئی کرتا ہے مگر مجھے تو لگتا ہے میرا دامن چاند تاروں سے بھر گیا
4
ہو ۔۔۔۔عفان محبت کرنا اور پا لینا وہ بھی یوں ۔۔۔۔اتنی آسانی سے ۔۔۔۔کتنا دلفریب لگتا ہے ۔۔۔۔اور میں یہ امرت گھونٹ گھونٹ پیتے ہوئے محسوس کر رہی ہوں” ۔۔۔۔ماہم کی آنکھوں میں محبت کی جوت جل رہی تھی اسکی آنکھیں جگنوں کی طرح روشن تھیں ۔۔۔۔چہرے کی بادامی رنگت کھلے ہوئے گلاب کی طرح ترو تازگی لگ رہی تھی ۔۔۔۔اسکے ہونٹوں کی مسکان سے کلیاں چٹکتی ہوئی محسوس ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔یہ سب رنگ میں ماہم کے چہرے دیکھنا چاہتا تھا اور دیکھ بھی رہا مگر یہ سب میرے لئے نہیں تھے ۔۔۔۔ میرا حق ہی کیا رہ گیا تھااس پر لحظہ بھر میں وہ مجھ سے بہت دور ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔میرا وہاں رکنا مزید میرے ضبط کا امتحان تھا جو میں اب دے نہیں سکتا تھا
5
“گڈ لک ماہی” ۔۔۔۔ یہ کہہ کر میں اسکے کمرے سے جانے لگا مگر اسکے مخاطب کرنے پر مجھے رکنا پڑا
“یہ کیا عفان میں اتنی آکسائیڈ ہو۔ مجھے اتنی باتیں کرنی ہے تم سے اور تم ہو کہ جا رہے ہو ایک تم ہی تو دوست ہو میرے ” ۔۔۔ماہم کا لہجہ پراشتیاق تھا ۔۔۔۔
“وہ ۔۔۔مجھے اپنے دوست کی طرف جانا بہت ضروری کام ہے ۔۔۔تمہاری ساری باتیں میں آ کر سن لوں گا ۔۔۔”۔میں نے نظریں چراتے ہوئے کہا اب میں اتنا با کمال ظرف کا مالک بھی نہیں تھا کہ ماہم کے منہ سے کامران کی محبت کے قصیدے سنتا میں اسکے کمرے سے ہی نہیں گھر سے بھی باہر نکل چکا تھا ۔۔۔۔بے مقصد ہی گاڑی سڑکوں پر دوڑاتا رہا ۔۔۔۔۔اب بھی ماہم کی باتیں میری سماعتوں میں گونجتی رہیں ۔۔۔۔میں اپنے دکھ اور تکلیف کواعتدال پر لانے کی سعی کرتا رہا ۔۔۔اپنے کرچی کرچی ہوئے خوابوں کو مجھے خود ہی سمیٹنا تھا ۔۔۔آبدیدہ آنکھوں سے مجھے راستہ دھنلایا ہوادیکھائی دے رہا تھا پلکیں چھپنے سے
6
آنکھوں میں ٹہرا کرب آنسوں کے ذریعے میرے رخسار بھگونے لگے ۔۔۔۔مجھے لگا کوئی گرم سیال میرے رخسار کو جھلسا رہا ہے ۔۔۔۔کیا میرے کسی عمل سے ماہی یہ احساس نہیں ہوا میں کتنا چاہتا ہوں اسے ۔۔۔۔کیوں میری محبت اسے نظر نہیں آئی ۔۔۔کیا میرے اس جذبے میں کوئی سچائی نہیں تھی۔۔۔۔شاید میں اتنی محبت نہیں کر پایا جتنی ماہی نے بھائی سے کی ہے اس لئے میری محبت بے معنی اور بے مقصد ہی رہ گئ ایسی محبت جسکی کوئی منزل نا ہو ۔۔۔۔۔میں اس ہارے کھلاڑی کی طرح تھا جیسے جیت جانے کا پورا یقین ہو اور وہ برے طریقے سے ہار جائے ۔۔۔۔۔خود کو سمجھا بجھا کر میں رات کو دیر سے گھر پہچا تھا ۔۔۔۔رات پھر مجھے نیند نہیں آئی ۔۔۔۔اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کے کانچ بری طرح میری آنکھوں میں چبھ رہے تھے ۔۔۔۔ پوری رات بس کروٹ بدل کر ہی میری گزری تھی۔۔۔۔۔دوسرے دن میں خود کو کافی سنبھال چکا تھا مما سے میں نے خود ہی کہہ دیا کہ وہ سمجھیں میں نے کبھی ماہم کے لئے ان سے بات
کی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔۔اب میں اپنی وجہ سے سب کی خوشیوں کو برباد تو نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔کچھ ہی دنوں میں منگنی کی تیاریاں بھی شروع ہو گئیں ۔۔۔۔۔
*******……….********………*******………..***
7
جب میں نے قاسم کو کامران کی منگنی کی خبر سنائی تو وہ کچھ متحیر سا رہ گیا
“کامران کی منگنی تمہاری کزن ماہم سے ۔۔۔۔ “
“ہاں تم ضرور آنا قاسم” ۔۔۔۔۔میں نے خود کو فائل دیکھنے میں مصروف ہی رکھا
“مگر یار” ۔۔۔۔۔قاسم کچھ کہتے کہتے رک گیا پھر کچھ سوچ کر لاپروائی سے بولا
“۔۔۔۔خیر ٹھیک ہے ۔۔۔۔آ جاؤں گا “۔۔۔قاسم نا جانے کیا کہتے کہتے بات بدل گیا تھا میں جاننے کا متجسس بھی نہیں تھا ۔۔۔۔
دوسرے ہی روز مما نے ناشتے کے دوران ہی کامران سے کہا کہ وہ ماہم کے ساتھ جا کر منگنی کا ڈریس لے آئے
8
“مگر مما اسکی کیا ضرورت ہے ابھی کچھ دن پہلے ہی تو ماہم دعوت پر پہنے کے لئے ایک ڈریس لائی تھی اور وہ اس نے پہنا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔وہی پہن لے گئ” ۔۔۔۔کامران نے لا پروائی سے جواب دیا نا جانے کامران کے چہرے پر مجھے کوئی خوبصورت رنگ نظر نہیں آئے تھے جو اس خوشی کے موقع کی مناسبت سے ہونے چاہیے تھے بلکہ اسکے چہرے پر ماہم کے نام پر وہی کوفت اور بیزاری ہی تھی جو ہمیشہ رہتی تھی جیسے وہ یہ سب مارے بندھے کر رہا ہو ۔۔۔۔۔۔۔
“مگر کامی وہ ماہم کو خود پر اچھا نہیں لگا تھا اور پھر وہ انگیجمنٹ پاڑی کے لئے سوٹ ایبل بھی نہیں ہے ۔۔۔۔وہ تو بس سمپل سا ہے ۔”۔۔۔مما نے کامران کی بات کی تردید کرتے ہوئے کہا
“اس دن تو وہ خود تیار ہوئی تھی اس لئے اچھا نہیں لگا ہوگا مگر پارلر سے تیار ہونے پر بہت اچھا لگے کا ۔۔۔۔تمہارا کیا خیال ہے عفان “
9
میں اپنی ہی سوچوں میں گم با مشکل نوالے حلق میں اتار رہا تھا ۔۔۔۔کامران کا یوں مجھ سے رائے مانگا مجھے عجیب بھی لگا اور برا بھی
“یہ آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں یہ سوال تو آپکو ماہی سے کرنا چاہیے” ۔۔۔۔میرے لہجے میں تندی برس رہی تھی ماہم بس خاموش ہی بیٹھی رہی کچھ نہیں بولی
“کیوں بھئ تم سے کیوں نا پوچھو تم بھائی ہو میرے گھر کے فرد ہو سب کے ساتھ ساتھ تمہیں بھی مشورہ دینا چاہیے ۔۔۔۔کیوں کیا تم ہماری خوشی میں شامل نہیں ہو” ۔۔۔۔۔کامران کا طنز میں ڈوبا انداز مجھے اندر تک سلگا گیا تھا ۔۔۔۔
“ہاں بھئ عفان مشورہ تو سب کو ہی دینا چاہیے ۔۔۔”۔پاپا نے بھی کامران کی تائید کی
“مجھے ایسی چیزوں کا کوئی تجربہ نہیں ہے” ۔۔۔۔میں یہ کہہ کر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔
******……..*******………*******…….******
10
منگنی کا دن بھی آن پہنچا ۔۔۔۔۔میں نے کوئی خاص تیاری نہیں کی تھی نا ہی شیو بنائی نا ہی ٹھیک سے ڈریس آپ ہوا ۔۔۔ بس سفید شلوار قمیض پر بلیک واسکٹ پہن لی ۔۔۔۔۔۔دل اتنا ملول اور مغموم تھا کہ کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا پھر میرازخم بھی تازہ تھا ۔۔۔۔دل کے گھاوں سے اب بھی خون رستا ہوا محسوس ہوتا تھا ۔۔۔۔۔بے دلی سے ڈریسنگ کے سامنے بال پر برش کیااور برش ڈریسنگ پر پھنک کر بلیک سنڈل پہن کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔ماموں اور ممانی بمہ اپنی دونوں بیٹیوں کے گھر پر ہی پہنچ چکی تھیں ۔۔۔انہوں نے ہال میں ہمارے ساتھ ہی جانا تھا ۔۔۔۔ لاونج میں ممااور پاپابھی ریڈی ہو چکے تھے بس ایک کامران یونہی گھوم رہا تھا ۔۔۔۔۔
“مما یہ ماہم کہاں ہے ۔۔۔۔میری شرٹ کے ساتھ ٹائی میچ کیوں نہیں کی اس نے “۔۔۔۔۔کامران اوپر کی سیڑیوں سے ہی نیچے جھانکتے ہوئے چلا کر پوچھنے لگا ۔۔۔۔
11
“آئے ہائے آپاں… آج تو ماہم کو بخش دیتی ۔۔۔۔اب کیااپنی منگنی پر بھی وہ ہی موصوف کی تیاری کروائے گی غذب خدا کا” ۔۔۔۔ممانی کی زبان ایک بار جو چلنا شروع ہوتی تو روک کون سکتاتھا ۔۔۔۔مما کو کامران پر غصہ آرہا تھا جسے گھر آئے مہمان کا بھی لحاظ نہیں تھا ۔۔۔
ایک ٹائی خود نہیں نکال سکتا تھا ۔۔۔۔۔
“تم جاؤں اپنے کمرے میں میں آتی ہوں “۔۔۔۔ممااٹھ کر اوپر جانے لگیں ۔۔۔۔کامران اب بھی وہیں کھڑا ممانی کو کھا جانے والے انداز سے دیکھ رہا تھا
“مما میں ماموں اور انکی فیملی کو ہال میں لے جاتا ہوں ۔۔۔آپ کو شاید ابھی وقت لگے گا ۔۔””۔۔کیونکہ جتنی دیر ممانی وہاں رہتیں کچھ نا کچھ بولتی ہی رہتیں مجھے یہی حل نظر آیا
“نہیں عفان تم ماہم کو پارلر سے پک کر کے ہال میں لے جاؤ ۔۔۔۔منور ماموں ممااور پاپا کے ساتھ ہال چلے جائیں گئے “۔۔۔کامران کا یوں مجھ پر حکم چلانا بھلا میں کیوں برداشت کرتا
12
“ماہی کو آپ پک کر لیجیے گا بھائی ۔۔۔۔۔”میرے صاف انکار پر وہ بھبک کر بولا
“مجھے دیر ہو جائے گی ۔۔۔۔تمہہں مسلہ کیا ہے آخر ۔۔۔۔۔کیا پہلے کبھی ماہم کے ساتھ کہیں آتے جاتے نہیں تھے ۔۔۔۔وہ تند لہجے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا ۔۔
“عفان تم ماہم کو لے کر جاؤں ہال میں ۔۔اس نواب زادے کی تیاری ایک گھنٹے سے پہلے ختم نہیں ہو گی ۔۔۔۔۔منور اور نزہت ہمارے ساتھ چلے جائیں گئے ۔”۔پاپا بھی بگڑے موڈ سے گھڑی دیکھتے ہوئے کہنے لگے
میں بغیر کسی حجت بحث کے ماہم کو لینے چلا گیا ۔۔۔۔۔وہ تیار ہو چکی تھی گاڑی میں بیٹھتے ہی مجھے دیکھنے لگی آج دل کی شدید خواہش پر بھی میں نے نظر اٹھا کر بھی ماہم کو نہیں دیکھا مجھے ڈر تھا کہ کہیں پتھر کا نا جاؤں ۔۔۔۔یا میری دلی آزردگی میرے چہرے سے عیاں نا ہو جائے ۔۔۔پھر مجھے اپنے تاثرات چھپانے میں ایسا کوئی کمال بھی حاصل نہیں تھا میری نظر سامنے ونڈر اسکرین پر تھی ۔۔۔۔۔ماہم کے بیٹھتے ہی میں نے گاڑی اسٹاٹ کر دی کچھ دیر تو وہ بھی خاموش رہی بار بار مجھے دیکھ رہی تھی شاید میری چپ پر پریشان تھی کیونکہ میں سفر کے دوران مسلسل باتیں کرنے کا
13
عادی تھا
“عفان ۔۔۔۔”
“ہمم”
“۔۔ادھر دیکھو میری طرف ۔۔۔بتاوں نا میں کیسی لگ رہی ہوں ۔۔””۔۔ماہم نے پر امید نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا میں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔میری نظر اب بھی ونڈر اسکرین پر تھیں۔۔۔
“۔۔۔۔بتاؤں نا عفان پتہ ہے نا کامران کا ۔۔۔۔انہیں پسند تو آؤں گی نا میں ۔۔۔۔”ماہم نروس تھی
” تم انہیں پسند ہو جبھی تم سے منگنی کر رہے ہیں” ۔۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ میری تسلی بخش جمعلے ہی اسے مطمئن کر سکتے ہیں پھر میں نے ایک سرسری سی نظر ماہم پر ڈالی ۔۔۔۔میری پسند کے لائٹ پیچ کلر پر ہلکے سے نفیس کام کے لباس میں ہلکے
14
سے میک اپ اور لائٹ سی جیولری پہنے وہ نازک سی لڑکی مجھے کیسی لگ رہی تھی میں چاہ کر بھی بتا نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔۔اپنے دل میں اٹھنے والی ٹیس میرے دل میں ہی دبی رہ گئ تھی ۔۔۔۔
“سب کچھ ٹھیک ہے ماہم ۔۔۔۔بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔”۔ میری بات سن کر اسکے چہرے پر چھائی پریشانی جھٹ سے غائب ہو گئ اور ایک اطمینان بھرا سانس اسنے لیا
“تم نے یہ کہہ کر میری ساری ٹینشن دور کر دی ہے اگر میں تمہیں اچھی لگ رہی ہوں تو کامران اور باقی سب کو بھی اچھی لگو گی “۔۔۔۔۔اب وہ پر سکون سی ہو کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ہال کے اندر جاتے ہی پھولوں سے سجی راہداری پر ماہم کرن اور کشف کے ہمراہ اسٹیج تک چلی گئ جہاں کامران پہلے سے اسکا منتظر تھا ۔۔۔بلیک پینٹ کوٹ پہنے وہ بھی کافی ہینڈسم لگ رہا تھا اور موڈ بھی کافی خوشگوار تھا ۔۔۔۔۔۔میں بس ہال کے انٹرس میں ہی کھڑارہ گیا ۔۔۔ماہم کو دیکھ کر کامران کھڑا ہو گیا مگر اس نے آگے بڑھ کر اس کا
15
ہاتھ تھام کر اسٹیج پر نہیں بیٹھایا ۔۔۔وہ کشف اور کرن کے ساتھ ہی اسٹیج کی سیڑیاں چڑھتے ہوئے کامران کے ساتھ بیٹھ گئ ۔۔۔۔ماہم کے چہرے پر آنے والے خوبصورت رنگ میں محویت سے دیکھنے لگا ۔۔مجھے لگا قوس قضا کے سب رنگ اسکے چہرے پر بکھیرے ہوئے اسے دلکش بنا رہے ہیں اسکی وہ چمکتی خوبصورت آنکھوں میں اتنی چمک تھی کہ میں نے اپنی نظریں ماہم سے ہٹا لیں مجھے ڈر تھا کہ کہیں میری نظر ماہم کو نا لگ جائے ۔اپنے کندھے پر ہاتھ کا دباؤ محسوس کرتے ہی میں اپنے وژن سے باہر نکل کر پلٹ کر اپنے عقب کی طرف دیکھا تو قاسم کھڑامسکرارہا تھا مجھ سے گلے ملا ۔۔۔۔پھر میں اسی کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔۔جہاں میں بیٹھا تھا کامران اور ماہم مجھے سامنے ہی نظر آ رہے تھے خاندان اور دیگر خواتین اب ان دونوں کے ساتھ بیٹھ کر تصاویر بنوارہیں تھیں ۔۔۔۔میں قصدا بھی وہاں نہیں گیا وہاں ہونے والی ہر رسم میرے لئے بے معنی تھیں ۔۔۔۔
16
۔انگوٹھی کی رسم کے وقت سب قریبی رشتےدار اسٹیج پر ہی منڈلاتے نظر آ رہے تھے
“تم نہیں جاؤ گئے عفان “۔۔۔۔۔انگوٹھی کی رسم میں شامل ہو جاؤں سب انتظار کر رہے ہوں گئے تمہارا ۔۔””۔قاسم نے مجھے وہیں جمے بیٹھے دیکھ کر کہا۔مگر مجھ میں کہاں اتنا حوصلہ تھا کہ اپنے سامنے ماہم کو کسی اور کے نام کی انگوٹھی پہنے دیکھتا ۔۔۔اپنے جلے ہوئے دل سے میں نے قاسم کو جواب دیا
“کون سی میری منگنی ہے جو میرے نا جانے سے فرق پڑے گا ۔۔۔۔اور ویسے بھی اتنے ہجوم میں میں کیا گھستاپھرو ۔”۔۔۔میں نے بے دلی سے اسٹیج پر بڑھتے ہوئے رش کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر بعد کرن بھاگتے ہوئے میرے پاس آئی اور ہانپتے ہوئے بولی
“عفان بھائی آپ کو سب اسٹیج پر بلارہیں ہیں” ۔۔۔۔یہ کہتے ہی وہ جس تیزی سے میرے پاس آئی تھی اسی رفتار سے واپس اسیٹج کے ہجوم میں گم بھی ہو
17
گئ ۔۔۔۔میں قاسم کو اکسکیوز کرتا ہوا وہاں سے اٹھ کر اسٹیج پر چلا گیا بے دلی سے مما کے برابر میں کھڑا ہو گیا سب کی شوخ بھرے جمعلوں پر ماہم اور کامران دونوں مسکرا رہے تھے مجھے دیکھتے ہی کامران میری طرف متوجہ ہو کرخاطب ہوا
“کہاں سے تم عفان ۔۔۔۔میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی پر میرا ہی بھائی موجود نہیں ہے ۔۔۔تمہیں تو سب سے پہلے یہاں ہونا چاہیے تھا” ۔۔۔۔۔کامران کا محبت اور اپنایت بھرا انداز میری سمجھ سے باہر تھا کہاں تو اسے میرے ہونے نا ہونے سے کبھی فرق نہیں پڑا تھا اور آج ایسے ریایکٹ کر رہا تھا جیسے میرے بغیر اسکی ہر خوشی ادھوری ہو میں تعجب سے اسے دیکھنے لگا
“اب وہاں کھڑے کیا کر رہے ہو ۔۔۔ادھر آؤں ہمارے پاس آ کر بیٹھوں “۔۔۔۔کامران تو مجھے آج حیران کرنے پر تلا ہوا تھا ۔۔۔۔کامران کے پاس تو پاپا بیٹھے تھے البتہ
18
ماہم کے پاس جگہ خالی تھی ابھی ابھی کشف اسکے پاس سے اٹھ کر سائیڈ پر جا کر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔مجبورا مجھے ماہم کے برابر میں بیٹھنا پڑا ۔۔۔۔اسکی نازک سی کلائیوں پر گلاب اور کلیوں کے گجروں کی مہک مجھےاپنے اندر اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔مما نے انگوٹھی ماہم کو پکڑائی ماہم نے شرماتے اور لجاتے ہوئے کامران کے ہاتھ میں پہنادی۔۔۔ماہم کے ہاتھ میں کامران کا ہاتھ دیکھ کر میرے دل کی جو کیفیت تھی وہ میں ہی جانتا تھا مجھے لگ رہا تھا کہ میری بہت قیمتی چیز مجھ سے چھن گی ہے۔۔۔۔سب کی ہوٹنگ اور تالیاں شروع ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔ماہم نے فورا اپنا ہاتھ پیچھے کھنچ لیا ۔۔۔۔پاپا نے ایک مخملی ڈبیہ کامران کو دی تا کہ وہ بھی ماہم کو رنگ پہنا دے کامران کے مخملی ڈبیہ کھول کر نازک سی رنگ نکال کر میری طرف بڑھا دی ۔۔۔۔میں نا سمجھی کے عالم میں کامران کو دیکھنے لگا
19
“میری طرف سے یہ انگوٹھی تم ماہم کو پہناؤں گئے ۔۔۔تا کہ تمہیں بھی ماہم جیسی دلہن ملے ۔”۔۔۔میں حیران پریشان کامران کو دیکھنے لگا وہاں موجود سب ہی اسی کیفیت کا شکار تھے ۔۔۔مگرچوک مسکرا رہا تھا
“میں کیسے پہناسکتا ہوں ۔۔۔۔یہ کیاحماقت ہے بھائی منگنی آپ کی ہے تورسم بھی آپ کو کرنی چاہیے ۔۔۔”۔میں تن کر بولا کس قدر غیر مناسب حرکت تھی
“یہ کیا فضول حرکت ہے کامران ۔۔”۔ پاپا دبے دبے غصے سے بولے
“ارے اس میں اتنا ہائپر ہونے والی کیا بات ہے ۔۔۔۔میں تو چاہتا ہوں عفان کی بیوی بھی بلکل ماہم جیسی ہو” ۔۔۔۔کامران ابھی غیر سنجیدگی سے بول رہا تھا
“اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے ۔۔۔۔ایک انگوٹھی پہنانے سے ماہم عفان کی تھوڑی ہو جائے گی میری ہی رہے گی ۔۔۔تمہیں تو پتہ ہے عفان مجھے ایڈونچر بہت پسند ہے اچھا ہے سب کو میری منگنی مدتوں
20
یاد رہے گی ۔۔۔۔سب کچھ بہت یونیک سا جو ہو گا ۔۔۔اب پکڑو یہ رنگ اور پہناؤں ماہم کو ۔۔”۔۔۔۔کامران کا ہاتھ اور اس میں موجود رنگ مجھے جیسے منہ چڑھاتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔۔کامران کی مسکراہٹ اور اس قسم کا گھٹیا مزاق میرا دل چاہا اٹھ کر اس کا منہ توڑ دوں ۔۔۔۔۔۔وہاں اسٹیج پر موجود سبھی لوگوں کی بھنبھناہٹ اور تمسخرانہ ہنسی پر پاپا کا چہرا سرخ ہونے لگا ۔۔۔ مگر کامران لا پرواساسب لوگوں کو دیکھ کر مخاطب ہوا
“بھئ اگر میری جگہ میرا بھائی میری منگتر جو رنگ پہنا دے تو آپ لوگوں کو اعتراض تو نہیں ہو گا ۔۔۔۔”۔سب لوگ کامران کو عجیب عجیب نظروں سے دیکھنے لگے مگر بہرحال بولے کچھ نہیں بس نفی میں گردنیں ہلانے لگے
21
“لو بس کسی کوئی اعتراض نہیں ہے اب پکڑو یہ رنگ اور اپنی بھابی کو پہنا دو “۔۔۔۔کامران کا تضحیک بھرا لہجہ سن کر میں غصہ ضبط کر کے اٹھنے لگا تو مما میرے سر پر ہی کھڑی تھیں میری طرف جھک کر بولیں کہ
“تم ہی پہنا دو رونہ مزید تماشہ بن جائے گا” ۔۔۔۔۔میں نے بے دلی سے کامران کے ہاتھ سے رنگ لی ۔۔۔۔ ماہم کے دھواں ہوتے ہوئے چہرے کو بس ایک لحظہ ہی دیکھا ۔۔۔۔اسوقت سب سے بری حالت اسی تھی ماہم کی زندگی کا یہ دن اسکے لئے کتنا اہم تھا یہ میں جانتا تھا ۔۔۔۔ماہم نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا جو بری طرح لرز رہا تھا ۔۔۔۔میں نے ماہم کا ہاتھ بنا چھوئے انگوٹھی بہت احتیاط سے اس کے ہاتھ میں پہنا دی ۔۔۔۔۔لیکن پھر وہاں رکا نہیں فورا سے وہاں سے اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔کامران کی اس حرکت پر سب بھی اس سے خائف تھے
******………*******……..********……..******
22
ماہم کی منگنی جیسے ہوئی تھی ۔۔۔۔جو کچھ کامران نے کیا تھا ۔۔۔۔ماہم کے گمان میں بھی نہیں تھا ۔۔۔۔بلکہ کسی کے بھی گمان میں نہیں تھا ۔۔۔۔۔اسٹیج پر کامران کے ساتھ بیٹھے اپنا آپ کتنا خاص لگ رہا تھا ماہم کو ۔۔۔۔پھر کامران کی سرگوشی میں کہے شوخ جمعلوں سے وہ جھنپ سی گئ تھی۔۔۔۔۔مگر رسم کے وقت کامران کی کی جانے والی حرکت نے ماہم کے جذبات پر اوس ڈال دی تھی ۔۔۔۔۔کتنی خواہشات تھیں ماہم کے دل میں اس رسم کے حوالے سے ۔۔۔۔۔عفان سے انگوٹھی پہنتے ہوئے اسکے ہاتھ بری طرح کپکپا رہے تھے ۔۔۔۔سامنے کھڑے لوگوں کی شاکی نظریں چہ میگوئیاں کو رضا صاحب اور صفیہ بیگم نے کیسے ضبط کیا یہ وہی۔ جانتے تھے ۔۔۔۔۔نزہت بیگم کی جو تقریر شروع ہوئی کہ کھانا لگنے پر ہی وہ چپ ہوئیں
23
“اے ہائے غصب خدا کا ۔۔۔ایسی منگنی نا ہم نے دیکھی نا ہی کبھی سنی بھیا ۔۔۔۔۔۔۔ارے دیور بھی کبھی بھابھی کو انگوٹھی پہناتا ہے ۔۔۔۔۔آپاں کامرام کے تیور۔مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگتے ۔۔۔۔۔نظر رکھو اپنے بیٹے پر ۔۔۔۔ “
“ایسی بات نہیں ہے نزہت ۔۔۔کامران کی اپنی مرضی شامل ہے ۔۔۔بس اجکل کے بچے اپنی خوشی اپنے انداز سےمنانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔صفیہ بیگم شرمندہ تو تھی مگر بات کو سنبھالنے لگیں
“رہنے بھی دیں آپاں ۔۔۔۔۔نزہت نے الٹا ہاتھ مارا
“ہائے میری بچی کیسے پل میں رنگ فق لگنے لگا ہے ماہم کا ۔۔۔۔۔انگوٹھی پہنتے ہوئے کیسے ہاتھ کانپ رہے تھے اسکے ۔۔۔۔لگ رہا تھا ابھی رو دے گی ۔۔۔۔۔ہائے عالیہ کاش کہ تم زندہ ہوتیں” ۔۔۔۔۔نزہت بیگم نے ڈوپٹے کے کنارے سے آنکھوں کے کنارے پونچے جیسے آنکھوں میں آئی نمی صاف کی ہو مگر یہ سب ڈرامہ ہی تھا ۔۔۔۔
24
“نزہت۔۔۔۔ ماہم مجھے بھی اپنی بیٹی کی طرح عزیز ہے تم کیوں بات کیوں نیا رخ دے رہی ہو ختم کرو اس بات کو ۔۔۔۔۔ کھانا لگ گیا ہے ۔۔۔کہوں تو یہی۔ ٹیبل پر لگوا دوں” ۔۔۔۔۔صفیہ بیگم نے موضوع بدلتے ہوئے نزہت کا موڈ بھی بحال کرنا چاہا
“بھوک تو بلکل نہیں ہے ۔۔۔پر ایسا کریں یہیں لگوادیں۔۔۔۔۔اب زہر مار کر کے دو لقمے تو اندر ڈالنے ہی پڑیں گئے ۔۔۔۔۔۔ورنہ ماہم کا اترا چہرہ دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آ رہا ہے ۔۔۔۔نزہت بیگم کا ڈرامائی انداز پھر سے شروع ہو چکا تھا
اچھا میں ابھی لگواتی ہوں ۔۔۔۔۔صفیہ بیگ نے سکھ کا سانس لیا اور آٹھ کر سرو کروانے والے ویٹر کو ٹیبل پر کھانا لگوانے کے لئے کہا اور خود ماہم کے پاس جا کر بیٹھ گئیں جو گم صم بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔کامران اٹھ کر اپنے دوستوں میں۔ جا کر بیٹھ چکا تھا کھانا بھی انہیں کے ساتھ خوش گپیاں لگاتے ہوئے ایسے کھا رہا تھا ۔۔۔۔جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو ۔۔۔۔۔صفیہ بیگم کو کامران پر غصہ تو بہت تھا مگر ضبط کیے ماہم کو بہلا کر کھانے پر اصرار کرتی رہیں ۔۔۔مگر اس نے ایک دو نوالوں کے سوا کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔۔۔عفان تو
25
انگوٹھی پہناتے ہی ایسا غائب ہوا کہ پھر پورے ہال میں نظر ہی نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔رات کو ماہم سونے کے لئے لیٹی تو گزرا ہوا منظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا
کیا ایسی ہوتی ہے منگنی جیسے میری ہوئی ۔۔۔کتنے آرام سے کامران نے اپنی خواہش کو ترجعی دی ایک پل کے لئے یہ نہیں سوچا کہ مجھ پر کیا گزرے گئ۔۔۔۔۔۔ماہم ہاتھ میں پہنی ہوئی انگوٹھی کو غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
کتنی خواہش تھی میری کہ کامی اسے مجھے اپنے ہاتھ سے پہناتے ۔۔۔۔۔میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے رکھتے انکے ہاتھ کا لمس میں نا جانے کتنے دن تک اپنے ہاتھ میں محسوس کرتی ۔۔۔۔۔مگر نہیں ۔۔۔۔۔کیوں نہیں سوچا انہوں نے کہ میں کتنا ہرٹ ہوئی ہوں ۔۔۔۔۔میں بھی بات نہیں کروں کامی سے ۔۔۔انکے کام بھی نہیں کروں گی ۔۔۔۔جب تک وہ مجھ سے معذرت نہیں کر لیتے ۔۔۔۔۔۔ماہم شاہد خود کو بہلا رہی تھی ورنہ یہ تو وہ بھی جانتی تھی کہ کامران جھکنا نہیں جانتا
