Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 50
Rate this Novel
Tadbeer Episode 50
Tadbeer by Umme Hani
کامران کی نظروں سے ماہم نروس ہونے لگی تھی جو اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جیسے پہلی بار دیکھ رہا ہو ۔۔۔۔
“ش۔۔شوگر کتنی “ماہم کی زبان گھبراہٹ کے مارے لڑکھڑائی تھی
“ون سپون “
ماہم نے ایک چمچ شوگر ڈال کر سوار سمیت کپ اٹھا کر کامرام کی طرف بڑھایا اسکے ہاتھ کی کپکپاہٹ سے سوسر پر رکھے کپ میں ارتعاش سا پیدا ہونے لگا کامران نے اسکے ہاتھ سے کپ لیتے ہوئے اپنی انگلیاں ماہم کے ہاتھ سے مس کرتے ہوئے کپ پکڑا تھا ۔۔۔۔ماہم نے فورا سے ہاتھ پیچھے کر لیا۔۔۔۔پھر اپنا کپ پکڑے کافی پینے لگی ۔۔۔۔۔کافی دیر خاموشی کی نظر ہو گئے ۔۔۔۔۔
“اگر ۔مجھے کافی خاموشی سے ہی کافی پہنی تھی تو میں اکیلا بھی پی سکتا تھا ماہم “
“میں کیا بات کرو ۔۔۔۔”ماہم کامران کے بدلے رویے پر حیران تھی کامران نے گہری سانس لی
“کچھ بھی میں بھی تمہارا کزن ہوں عفان کی طرح ۔۔۔اس سے کیا باتیں کرتی ہو “
“یونہی کالج کی ۔۔۔۔اپنے سبجیکٹ کی “
“مجھ سے بھی وہی کر لو “آج ماہم کا شاید حیران ہونے کا دن تھا اس کی درینہ خواہش تھی کہ کبھی کامران اسے بات کرے۔۔۔۔ مگر سمجھ نہیں پارہی کہ بات کیا کرے اس لئے اپنے سبجکٹ اور پروفیسر کے بارے میں بتانے لگی
********………..
ماہم نے کافی ٹیبل پر رکھ دی اور میرے برابر رکھے کشن پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔میں نے پہلی بار ماہم کو غور سے دیکھا تھا بلکہ مسلسل دیکھ رہا تھا وہ بھی ٹکٹکی باندھے ۔۔۔۔۔میری نظروں سے جس قدر وہ گھبرائی ہوئی تھی ۔۔۔۔مجھے اپنی ہنسی روکنا مشکل ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔میری جتنی بھی گرل فرینڈ تھی سب ہی کونفیڈنٹ تھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پورے اعتماد سے بات کرنے والی ۔۔۔۔اس طرح کی پریشان حال لڑکی سے محبت کا ناٹک کرنا ایک
دلچسپ تجربہ تھا میرے لئے ۔۔۔۔ماہم کی زبان تک میرے سامنے لڑکھڑا رہی تھی ۔۔۔۔وہ مجھ سے کافی میں چینی کے متعلق پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔پھر تھرتھراتے ہاتھوں سے کپ میرے سامنے کرنے لگی اسکا اس قدر نروس ہونے پر میں لحظ اُٹھا رہا تھا ۔۔۔۔۔پھر میں ماہم سے ہلکی پھلکی بات کرنے لگا اپنے رویے کی معذرت کرنے لگا اب جب یہ طے تھا کہ محبت کرنی ہے تو پھر ماہم کے سامنے خود کلیر تو کرنا ہی تھا ۔۔۔۔پھر تو یہ سلسلہ جاری ہی رہا میں روز ماہم کے ساتھ کافی پینے لگا
پہلے پہل تو میں ماہم سے کالج اور اسکے سبجیکٹ کے بارے میں پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔وہ پہلے تو جھجکتی تھی مجھ سے بات کرتے ہوئے مگر پھر مجھ سے باتیں کرنے لگی ۔۔۔۔لیکن اسکی باتوں میں بچکانہ پن بہت ذیادہ تھا ۔۔۔۔۔دو تین دن تو میں اسکی دوستوں اور پروفیسروں کے قصے سنتا رہا لیکن چند دن گزرنے کے بعد میں اپنے اصل مقصد پر آ گیا ۔۔۔۔آج مجھے ماہم کی تعریف کرنی تھی ۔۔۔۔مگر کرو کیا ۔۔۔۔۔ نا شفق کی طرح اسکی رنگت سرخ وسفید تھی۔۔۔۔نا لائبہ کی طرح لمبے بال تھے ۔۔۔۔نا مریم کی طرح شوخ و چنچل اداؤں سے لبھانے والے انداز تھے ۔۔۔۔تعریف کے لئے حسن کا ہونا کسقدر ضروری ہوتا ہے اس کا احساس مجھے ماہم کو دیکھ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔مجھے یاد آنے لگا جب وہ ہمارے گھر آئی تھی تو اچھا خاصا سانولا سا رنگ تھا اس کا ۔۔۔۔ہمارا مال کھا کھا کر اب تو کافی نکھر چکا تھا ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر تو میں اسی شش وپنج میں مبتلہ رہا کہ ماہم کی تعریف کروں بھی تو کیا ۔۔۔وہ کافی کے سپ لیتے ہوئے اپنی کسی دوست کا ا قصہ سنارہی تھی اور میں اسکے چہرے پر کچھ ایسا ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا جسکی تعریف کر کے اسکی راتوں کی نیندیں اڑا سکوں ۔۔۔۔آخر کار میری نظر اسکی آنکھوں پر پڑی ۔۔۔۔ ڈارک براون سی ۔۔۔نہیں ڈراک تو نہیں تھا ۔اسکی آنکھوں کا رنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیسا برون رنگ ہے اسکی آنکھوں کا ۔۔۔کس سے تشبیہ دوں ۔۔۔ہاں شہد ۔۔۔۔اسکی آنکھیں شہد کے رنگ جیسی ہیں ۔۔۔۔۔اب میں صرف اسکی آنکھوں کو غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔ماہم اپنی باتوں میں مگن تھی جب اسکی مجھ پر نظر پڑی تو مجھے دیکھ کر خاموش سی ہو گئ ۔۔۔۔
“ماہم تمہاری آنکھیں بہت حسین ہیں” ۔۔۔۔
“جی “۔۔۔۔اسکا حیران ہونا تو بنتا تھا ۔۔۔اچانک تعریف کرنے پر سامنے والا جسے تاثرات چھوڑتا ہے ویسے ماہم کے بھی تھے
“تم نے کبھی اپنی آنکھوں کو شاید غور سے نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔شہد سے مشابہ ہیں بالکل دل میں ایک میٹھاسی اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے انہیں دیکھ کر ۔۔۔۔یا کسی دریا کی طرح گہری جس میں۔ ڈوب جانے کو جی چاہے ۔۔۔۔یا شاید ڈوبتے سورج جیسی مدھم اور میٹھی سی روشنی جیسی۔۔۔۔یا اندھیرے میں چمکتے جگنوں کی مانند ۔۔۔۔ جلتی ہوئی شمع کی طرح جس کے گرد پروانے اپنی جان گنوا دیتے ہیں یا پھر آسمان کے اس ستارے کی طرح جو چاند کے بہت قریب ہوتا ہے اور پورے آسمان میں الگ سا نظر آتا ہے” ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہم نے فورا سے آنکھیں جھکا لیں چہرے کا رنگ اڑا اڑا سالگنے لگا ۔۔۔اور جاہلوں کی طرح انگلیاں چٹخانے لگی ۔۔۔۔اسکا چہرہ سرخی مائل ہونے لگا ۔۔۔۔شاید شرم سے ۔۔۔۔میرے سارے موڈ پر پل میں پانی پھیرنے کے لئے اسکی ایسی حرکتیں کافی تھیں ۔۔۔۔۔کوئی اور لڑکی ہوتی تو میری آنکھوں میں دیکھتی رہتی ۔۔۔اور مدہوشی سے میری باتوں کو سنتی رہتی ۔۔۔۔مگر یہ لڑکی ۔۔۔۔ایک تو بڑی مشکل سے اسکے چہرے پر صرف اسکی آنکھیں ہی مجھے ایسی نظر آئیں جن کی میں تعریف کر سکتا تھا وہ بھی جھکا کر میرا پورا ٹرانس ختم کر چکی تھی
“کامی میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں ۔۔صبح کالج بھی جانا ہے “۔۔۔۔ماہم فٹافٹ کھڑی ہو گئ ۔۔۔جانے کے لئے پر تولنے لگی ۔۔۔
“بیٹھو ادھر “۔۔۔۔میرے بڑی مشکل سے بنے رومنٹک موڈ کو اس نے پل میں غارت کر کے رکھ دیا تھا ۔۔۔۔اگر میری کوئی اور دوست ہوتی تو میرا ہاتھ تھام کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک ادا سے ہنستے ہوئے پوچھتی
“چپ کیوں ہو گئے کامران پلیز اور بھی کچھ کہو “۔۔۔۔مگر یہ لڑکی تو ہوا کے گھوڑے پر سوار تھی
“نہیں مجھے نہیں رکنا ۔۔۔۔میں جا رہی ہوں” ۔۔۔۔ماہم سٹپٹاتے ہوئے اوپر کا زینہ چڑھ گئ ۔۔۔۔
“لو ہوگئ محبت ۔۔۔۔۔ستیاناس ہو ایسی محبت کا “۔۔۔۔میں غصے سے صوفے پر ٹیک لگا کر اپنا خون جلانے لگا ۔۔۔۔۔۔اس کیلئے تو وہ اسٹوپٹ عفان ہی ٹھیک ہے ۔۔۔۔جو اسے آئسکریم اور چوکلیٹ لا کر دیتا ہے ۔۔۔۔میرے ٹائپ کی یہ ہے ہی نہیں ۔۔۔۔تف ہے کامران تم پر ۔۔۔۔دل بہلانے کے لئے بھی کوئی معیار ہوتا ہے لڑکی کا۔۔۔۔۔ایک تو زبردستی کی محبت کرنا ہی عذاب پھر وہ بھی ماہم سے ۔۔۔۔۔میں خود پر ملامت کرتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔کافی دیر اپنا جی جلاتا رہا یہ بھی بہرحال سوچا کہ لعنت بھیجو ماہم اور عفان کے قصے کو مگر بلا آخر میری اندر کی حسد نے جوش مارا اور مجھے کچھ غیرت بھی دلائی کہ ہمت مرداں مدد خدا ۔۔۔۔۔ایک معمولی سی لڑکی سے کیا شکست کھانا ۔۔۔۔۔۔اگلے روز ماہم جلدی ہی اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں گھبرا رہی تھی مجھ سے ۔۔۔۔دودن تو وہ دامن بچاتی رہی ۔۔۔۔مگر یہ بھی کب تک ممکن تھا ۔۔۔۔ڈنر کے بعد وہ کچن میں جلدی جلدی سب سمیٹ رہی تھی کہ میں سب سے نظریں بچاتے ہوئے بلکل اس کے عقب میں کھڑا ہو گیا وہ سنک میں جھکی برتن دھو رہی تھی ۔۔میں نے اسکے کان کے قریب جا کر اسے دھیرے سے پکارا
“ماہم “۔۔۔میں نے تو اپنی طرف سے بڑی رس گھولنے والے انداز سے دھیرے سے اسے پکارا تھا مگر وہ بری طرح ڈر گئ تھی ۔۔۔۔اچھل کر سائیڈ پر ہو گئ۔۔۔۔ اسکے اس قسم کے ہڑبونگ پن پر میں بھی گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔
“آپ” ۔۔۔۔وہ سینے پر ہاتھ رکھے لمبے لمبے سانس بھرنے لگی مجھے اتنا غصہ اس پر آیا کہ منہ توڑنے کو دل چاہا ۔۔۔۔یہ بھلا ڈرنے کا کون سا انداز تھا
مگر عقل کا تقاضہ تھا کہ ضبط کر جاؤں ۔۔۔۔اس لئے چپ کر گیا
“میرے خیال سے میں نے تمہیں ڈرایا بلکل نہیں ہے۔۔۔۔ تم خود ہی” ۔۔۔۔
“نن۔نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔۔خیر چھوڑیں ۔۔۔۔آپ کو کوئی کام تھا “۔۔۔۔ماہم نے بات کو مدافعانہ انداز سے ختم کرتے ہوئے پوچھا
“دو دن سے کہاں غائب ہو تم” ۔۔۔۔
“کہیں نہیں یہیں ہوں ۔۔۔۔ایکچلی میرا ٹیسٹ تھا تو اسی میں بزی تھی” ۔۔۔۔وہ بہانے تراشنے لگی
“رات کو کافی بنا کر یہیں رکنا ۔۔۔۔جانا مت” ۔۔۔ میں نے دو ٹوک لہجے میں کہا تووہ پزل ہونے لگی
“لیکن کامی میرا ٹیسٹ ہے “
“تم رات کو میرے ساتھ کافی پی رہی ہو اینڈ ڈیس فائنل ۔۔””۔۔میں یہ کہہ کر رکا نہیں اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔میں ماہم سے رکنے کا کہو اور وہ نا رکے ایسا تو ممکن ہی نہیں تھا ۔۔۔۔وہ مجھ سے بہت ڈرتی تھی گھبراتی تھی میری بات بھی نہیں ٹالتی تھی ۔۔۔۔۔میں جان بوجھ کر وقت مقررہ سے کافی دیر بعد گیا ۔۔۔ماہم نیچے ہی بیٹھی تھی ۔۔۔۔کافی فلاسک میں ڈالے دو کپ رکھے شوگر پاٹ سب کچھ سینٹرل ٹیبل پر سر رکھے سورہی تھی ۔۔۔۔
اس بار میں صوفے پر نہیں بیٹھا ماہم کے برابر میں رکھے کشن پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔ماہم بے خبر سو رہی تھی ہوا سے اسکے بالوں کی چند لٹیں اسکے چہرے پر گری ہوئیں تھیں ۔میں غور سے اسے دیکھنے لگا اسکے بال لمبے نہیں تھے لیکن سلکی بہت ذیادہ تھے پھر شولڈر سے کافی نیچے تک تھے ۔۔۔میں نے اپنے ہاتھ سے اسکی لٹیں اسکے چہرے سے ہٹنے کی ابھی کوشش کی ہی تھی کہ ماہم نے موندی موندی آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا ۔۔۔پھر آنکھیں یک دم ہی پوری کھول گیں وہ ایسے پیچھے ہٹی جیسے سانپ سامنے آ گیا ہو یا اسے چار سو چالیس واٹ کا کرنٹ لگا ہو ۔۔۔۔اس کی اس قسم کی افتاد پر میں زچ ہونے لگا تھا
“یہ تم ہر وقت ہونق سی کیوں رہتی ہو افلاطونوں کی طرح اچھلنا کودنا تمجھے اچھا لگتا ہے” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ڈانٹنے پر وہ نفی ۔میں سر ہلانے لگی
“نہیں ۔۔۔۔نہیں تو “۔۔۔۔۔وہ سنبھل کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
“آپ نے اتنی دیر لگا دی ۔۔۔۔”وہ اپنے بالوں کی بکھری لٹوں کو کان کے پیچھے اڑوستے ہوئے بولی
“ہاں بس آفس کے کچھ ضروری پیپر تھے انہیں دیکھنے لگ گیا تھا “۔۔۔میں نے صاف جھوٹ بولا میں نے جان بوجھ کر اسے انتظار کروایا تھا ۔۔۔ماہم اب فلاسک سے کافی کپوں میں ڈالنے لگی ۔۔۔۔چینی ڈال کر ایک کپ میری طرف بڑھا دیا اور دوسرے کپ کو ہونٹوں سے لگائے کافی پینے لگی
“تمہارے بال بہت خوبصورت ہیں ۔۔۔۔بلکل سیاہ بالوں کی طرح ۔۔۔۔۔جو ۔۔۔۔۔”
“پلیز کامی ۔۔۔مجھے نہیں سننا “مجھے ماہم نے بیچ میں ہی ٹوک دیا
“تمہیں میری باتیں بری لگتی ہیں ماہم “۔۔۔۔ماہم کا کپ وہیں رک گیا ۔۔۔وہ نظریں چرا گئ
“نہیں” وہ جھجکی تھی
“اسکا مطلب اچھی لگی ہے” ۔۔۔۔
“میں نے یہ بھی نہیں کہا ۔۔۔۔”وہ اب بھی نروس تھی
“تو کچھ کہو نا “۔۔۔۔میں اسکے جواب کا منتظر تھا ۔۔۔۔
“کامی میں کیا کہو”۔۔۔۔۔۔اسکے نا فہم انداز پر میں کچھ دیر تو اسکی شکل دیکھتا رہ گیا ۔۔۔۔جیسے میں نے اسے کوئی بہت مشکل سوال پوچھ لیا تھا
“یہ بھی میں بتاو”۔۔۔۔میرا دل اپنا سر دیوار سے پھوڑنے کو چاہ رہا تھا ۔۔۔۔کس احمقوں کی سردار سے پالا پڑا تھا میرا۔۔۔ میں نے ضبط کر کے پوچھا
“عفان سے کیا باتیں کرتی ہو” ۔۔۔۔
“عفان سے ۔۔۔۔۔عفان مجھ ایسی باتیں نہیں کرتا ۔۔۔جیسی آپ کرتے ہیں” ۔۔۔۔وہ کچھ جھجک رہی تھی اور جھنجلائی ہوئی بھی تھی
“او کے تو کوئی اور بات کر لیتے ہیں” ۔۔۔۔میں نے فورا سے ہار مانتے ہوئے کہا
“اچھا یہ بتاؤں کیا کیا پکانا سیکھ لیا ہے تم نے “۔۔۔۔میں نارمل سی بات چیت کرنے لگا ۔۔۔۔
“سب کچھ جو عموما پکتا ہے” ۔۔۔۔
“سب سے اچھا کیا بنا لیتی ہو “۔۔۔۔
“پتہ نہیں” ۔۔۔۔
“واٹ ۔۔۔پتہ نہیں ۔۔۔تمہیں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ تم اچھا کیا پکا سکتی ہو میرے بھیجے کے علاؤہ “۔۔۔۔میں اب اسکے بے تکے جوابوں سے زچ ہونے لگا تھا ۔۔۔میری بات پر اسکی آنکھوں میں آنسوں جھلملانے لگے
“آپ کو میری بنائی ہوئی چیز پسند جو نہیں آتی” ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ اسکے آنسوں باہر کا راستہ دیکھتے میں نے اپنے لہجے کو متوازن کیا
“وہ تب کی بات ہے ماہم جب تم نے پہلی بار کچھ بنایا تھا اب تو تم دو سال سے مما کے ساتھ کچن میں کچھ نا کچھ بنا لیتی ہو اور اچھا بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔”
“لیکن آپ کو سب پرفیکٹ اچھا لگتا ہے اب مجھے نہیں معلوم میری کونسی بنائی ہوئی ڈش آپ کو اچھی لگے گی “۔۔۔۔وہ روہانسی سی ہو کر بول رہی تھی
“عفان کیا شوق سے کھاتا ہے” ۔۔۔۔میں اپنے اصل مقصد کی طرف آ گیا
“پاستا ۔۔۔بریانی ۔۔۔۔اور ٹرائفل بھی مزے سے کھاتا ہے ۔۔۔شامی کباب کی بھی فرمائش کرتا رہتا ہے اور ہاں چکن کڑھائی بھی “۔۔۔۔وہ سب کچھ یاد کر کر کے بتا رہی تھی
“یہ سب تو مجھے بھی پسند ہیں سوائے پاستا کہ ۔۔۔تم کل یہ سب میرے لئے بنا لینا” ۔۔۔۔
“سب کچھ “۔۔۔۔وہ حیرت سے پوچھنے لگی
“ہاں ۔۔۔۔کیوں مشکل ہے “
“نہیں ۔۔۔۔آسان ہے بنا لوں گی “۔۔۔۔
“او کے میرے خیال بہت لیٹ ہو چکا ہوں ۔۔۔گڈ نائٹ “۔۔۔میں ہاتھ میں بندھی گھڑی دیکھ کر کہا۔ اور اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔میں نے جان بوجھ کر ماہم سے بریانی کی فرمائش کی کیونکہ وہ عفان کو پسند تھی ۔۔۔۔اگلے روز ڈنر پر وہ ہر چیز موجود تھی جو پسند تو عفان کی تھی مگر بنی میری فرمائش پر تھی عفان نے خوشی سے اپنی پلیٹ میں بریانی ڈالی مگر کھائی اتنی رغبت سے نہیں ۔۔۔۔کھاتا بھی کیسے میں نے یہ جتا جو دیا تھا کہ بریانی میری خواہش پر بنی ہے۔۔۔۔۔جان بوجھ کر میں ماہم کو آِئسکریم کھلانے بھی لے گیا ۔۔۔۔عفان کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا تھا کہ وہ ماہم کے لئے کتنی دلی وابستگی رکھتا ہے ۔۔۔ماہم میرے ساتھ پہلی دفعہ کہیں باہر جا رہی تھی ورنہ میں نے اتنی لفٹ سے کبھی کروائی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔۔
گاڑی میں روڈ پر لاتے ہوئے میں نے جان بوجھ کر ماہم سے پوچھا
“عفان تمہیں کہاں سے آئسکریم کھلاتا ہے” ۔۔۔۔
ماہم نے ایک سستے سے پارلر کا نام لیا ۔۔۔میرے منہ کے زاویے بگڑنے لگے میں نے گاڑی ایک بہت مہنگے اور مشہور آئسکریم پارلر سے سامنے کھڑی کی ۔۔۔۔گاڑی سے اتر کر ماہم کے ہمراہ جاتے ہوئے میں جتاتے ہوئے کہا
“جانتی ہو یہ کراچی کا یہ سب سے مہنگا اور مشہور پالر ہے ۔۔۔عفان تمہیں کبھی بھی یہاں نہیں لایا ہو گا ۔۔۔یہ سب سے بیسٹ آئسکریم پارلر ہے۔۔۔۔اور اسکا معیار بھی سب سے اعلی ہے ۔۔۔۔اور کسی تھرڈ کلاس پاکستانی کا نہیں ہے ۔۔۔یو کے کی برانچ ہے ۔۔۔یہسں پر استعمال ہونے والے کپ بھی وہیں سے آتے ہیں ۔۔۔۔مجھے یہاں کا ٹیسٹ سب سے زیادہ پسند ہے ۔۔۔۔میں نے گردن اکڑا کر کہا اور سامنے ایک ٹیبل پر بیٹھ گیا ماہم میرے سامنے بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔۔ویٹر نے مینیو کارڈ میرے سامنے رکھ کر ہاتھ باندھے نہایت مہدب انداز سے میرے آڈر کا انتظار کرنےلگا۔۔۔۔میں نے ماہم سے پوچھے بغیر ہی دو اسٹرابری آئسکریم آڈر کیں
” کامی مجھے چوکلیٹ آئسکریم پسند ہے “ماہم نے جلدی سے اپنی چوائس بتائی مگر میں نے ویٹر کو جانے کا اشارہ کردیا
“او پلیز ماہم بدلو اپنی چوائس کو ۔۔۔ضروری نہیں ہے کہ عفان جو چوکلیٹ آئسکریم پسند ہے اور اس نے ہمیشہ تمہیں چوکلیٹ ہی کھلائی ہے تو تم ساری زندگی وہی کھاؤ گئ۔۔۔۔مجرا لہجہ ایک دم ترش ہو گیا
“نہیں کامی ۔۔۔عفان نے کبھی اپنی مرضی مسلط نہیں کی مجھ پر ۔۔۔مجھے ذاتی طور پر چوکلیٹ فلیور پسند ہے ۔۔۔اپ پپلیز مجھے چوکلیٹ ہی منگوا دیں ۔۔۔وک بولی تو بہت لجاجت سے تھی۔۔۔۔مگر مجھے اسکی بپکانہ ضد پر غصہ آنے لگا ۔۔۔۔
“”What a foolish you are …..why are you insist me like a child “
چپ چاپ وہ کھاؤں جو میں نے منگوائی ہے “میں دانت۔ ینچ کر سخت لہجے سے کہا ۔۔۔وہ خاموش ہوگئے اس بس خاموشی سے آئسکریم کھانے لگی ۔۔۔۔لیکن چہرے کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ مجبورا کھا رہی ہو
*******……..
کامران اب روز ہی ماہم سے کافی بنوا کر پینے لگا تھا ۔۔۔۔اور اکثر اس کے کالج کے بارے میں پوچھنے لگتا ۔۔۔۔لیکن ایک دن ماہم سے اسکی دوست کا قصہ سنتے ہوئے اسکی آنکھوں تعریف شروع کر دی ماہم کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا ۔۔۔کہ کسی نے یوں اسکی آنکھوں کی تعریف کی تھی وہ بھی مسلسل اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔پھرکامران کے لئے وہ ایسے جذبات تو پہلے سے ہی رکھتی تھی ۔۔۔۔۔لیکن یو۔ چانک سے تعریف سن وہاں رک نہیں پائی فورا سے اپنے کمرے میں آ گئ ۔۔۔۔۔کچھ دیر تو آنکھیں بند کیے اپنی تیز دھڑکنوں کو عتدال پر لانے لگی کامران کے جمعلے اب بھی اسکے کانوں میں رس گھول رہے تھے مسکراہٹ خود با خود ہی چہرے پر سجنے لگی ۔۔۔۔۔پھر ڈرسنگ کے شیشے کے سامنے کھڑی اپنے۔ چہرے کو غور سے دیکھنے لگی پھر نظر آنکھوں پر جا کر ٹہر گی ۔۔۔ وہ غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔آج سے پہلے اس نے کبھی خود اپنی آنکھوں پر غور نہیں کیا تھا ۔۔۔۔مگر اب دیکھنے لگی تھی اسے اپنی آنکھوں ویسی ہی نظر آنے لگی جیسی کامران نے بتائی تھیں ۔۔۔۔کامران کے خواب تو پہلے سے دیکھتی تھی ۔۔۔مگر اب تو خود کو دیکھنے کا انداز بھی بدلنے لگا تھا ۔۔۔۔۔اب تو کامران جہاں بھی نظر آتا ماہم اسکی نظروں اور مسکراہٹ سے دھڑکنوں کی بے ترتیبی سے کنفوژ ہونے لگتی دو دن اس نے کامران کو مزید بات کرنے کا موقع ہی نہیں دیا مگر پھر کامران نے خود اسے رات کو کافی بنا کر اپنے انتظار کرنے کا کہا ۔۔۔۔پھر کھانے پر اپنی فرمائش بھی بتائی ۔۔۔۔پورا دن اسکا کچن میں۔ ہی لگ گیا ۔۔۔صفیہ بیگم نے وجہ پوچھی تو ماہم نے کہا کہ اس کا دل چاہ رہا ہے کہ آج ڈنر اسپیشل بنائے ۔۔۔۔
ڈائنگ ٹیبل پر سب کچھ رکھتے ہوئے وہ شرمائے شرمائے کامران کو دیکھنے لگی وہ بھی ماہم کو دیکھ مسکرایا ۔۔۔۔کھانے کے بعد کامران اسے آئسکریم کھلانے لے گیا ۔۔۔۔لیکن واپسی پر ماہم کا موڈ کچھ آف تھا پہلی بار اس نے اسٹرابری آئسکریم لگائی تھی وہ بے دلی سے ۔۔۔۔لیکن پھر بھی وہ کامران سے ناراض نہیں ہو سکی ۔۔۔۔
*****……….
۔۔۔۔۔اسی طرح میں اب اپنے ہر کام کے لئے ماہم کو پکارنے لگا ۔۔۔۔میرا کمرہ واڈ روب ناشتہ ۔۔۔۔کھانا بس میں ہر فرمائش ماہم سے پوری کرواتا تھا ۔۔۔۔۔عفان زبان سے تو کچھ نہیں کہتا تھا یہ سب اُسے برا کتنا لگتا ہے لیکن یہ اسکے چہرے کے تاثرات مجھے بتا دیتے تھے ۔۔۔۔ماہم میری عادت سے واقف تھی ۔۔۔۔اس لئے میرا ہر کام وہ بڑی دلجمعی سے کرتی تھی ۔۔۔۔۔عفان کو جلانے کے چکر میں میں ماہم کا کس قدر بری طرح عادی ہو چکا تھا مجھے اس کا احساس تک نہیں ہوا ۔۔۔۔وہ ایک دن کے لئے بھی بیمار پڑ جاتی تو مجھے اپنا ہر کام دوہری مصیبت لگنے لگا تھا ۔میں اسے پکارنے لگتا بیچاری بخار کے باوجود میرے کام کے لئے بولائی بولائی پھرتی ۔۔۔
اسی طرح ماہم کے آنے والے پہلے رشتے پر میری بھر پور حمایت پر عفان نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ماہم سے اسکی مرضی معلوم کرنے کے بعد ہی بات کو آگے بڑھایا جائے ۔گا۔۔۔مجھے مما نے جب ماہم کے انکار کا بتایا تو مجھے غصہ آنے لگا اچھا خاصا بنا کچھ کیے جان چھٹ رہی تھی ماہم سے اب تو مجھے محبت کے ڈرامے کی بھی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔مگر نا جانے کیوں وہ انکار کر گئ تھی ۔۔۔۔ اسی رات کافی پیتے ہوئے میں نے ماہم سے انکار کی وجہ پوچھی
“آپ کو ہی پتہ “اسکی آنکھوں میں نمی تھی اور لہجے میں شکوہ
“۔۔ظاہر اس لئے کہ پوچھ رہا ہوں ۔۔۔میرے خیال سے یہ رشتہ بہت اچھا ہے تمہارے لئے ۔۔۔۔”
“میں اپنا جواب خالہ کو دے چکی ہوں اور مجھے اب اسبرے میں کچھ نہیں کہنا “وہ باقی کی کافی چھوڑ کر اوپر چلی گئ مجھے ماہم پر غصہ آنے لگا
۔۔۔۔اس بار ماہم کے انداز ہی نرالے تھے اس نے دو ٹوک انداز سے مجھ سے کہا کہ وہ یہاں شادی نہیں کرنا چاہتی اور میں دوبارہ اس سے اس موضوع پر بات ہی نا کرو ۔۔۔۔یہ کہہ کر وہ فوراً سے اُٹھ چلی گئ ۔۔۔۔مجھے ماہم پر غصہ تو بہت آیا مگر میں اس سے سختی سے پیش نہیں آ سکتا تھا ۔۔۔۔۔اچھا خاصا یہ اچھا موقع تھا ماہم کوعفان سے ہمیشہ کے لئے دور کرنے کا ۔۔۔۔مگر ماہم کے دوسرے رشتے کی وقت عفان بھی ہمارے ساتھ لان میں ہی بیٹھا تھا اس بار نا تو ماہم کی تعلیم ادھوری رہ جانے کا بہانہ تھا اور نا ہی کوئی اور معقول وجہ مجھے بہت اُمید تھی کہ اس بار مما پاپا ماہم کے لئے ضرور کوئی حتمی فیصلہ کریں گئے ہمیشہ کی طرح اس رشتے پر بھی میری حمایت پوری پوری اس انجان لڑکے کے حق میں تھی ۔۔۔۔عفان بظاہر تو مسج میں مصروف تھا مگر جب عفان کی متحرک انگلیاں موبائل پر چلتے چلتے یک دم رک گئیں تو مجھے بڑا سکون سا ملا۔۔۔۔اس کے چہرے پر فکرمندی دیکھ کر میرا دل قہقے لگا رہا تھا ۔۔۔۔رات دیر تک عفان کے کمرے کی لائٹ آن ہی رہیں ۔۔۔۔۔عفان کا کمرہ بند ہونے کہ آواز پر میں چونک گیا ۔۔۔۔میں نے اپنا دروازہ کھول کر دیکھا عفان نیچے اتر رہا تھا نا جانے کیوں مجھے کچھ تشویش سی ہوئی کچھ دیر بعد میں دھیرے سے نیچے اتر آیا ۔۔۔۔عفان مما پاپا کے کمرے میں داخل ہو چکا تھا دروازہ البتہ بند تھا مگر مجھے نا جانے کیوں خطرے کی گھنٹیاں سنائی دے رہیں تھیں اس لئے دروازے کے پاس کھڑا ہو کر باتیں سنے لگا ۔۔۔۔عفان نے مما پاپا کے سامنے ماہم کا نام لیا پاپا کچھ دیر تو سن کر خاموش ہو گئے ۔۔۔۔پھر جب انہوں نے یہ کہا کہ وہ میرے لئے ماہم کو پسند کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔یہ بات میرے لئے واقع غیر متوقع تھی کہاں میں اور کہاں ماہم ۔۔۔۔پاپا نےسوچ بھی کیسے لیا کہ میں اپنے لائف پاٹنر کے لئے اس بیوقوف اور مناسب سی لڑکی کا انتخاب کرو گا ۔۔۔ارے میں کامران رضا ہوں میرے انتخاب کو دیکھ کر تو لوگ دنگ رہ جائیں گئے ۔۔۔۔۔میری نخوت بھری سوچوں کا سلسلہ پاپا کی رضا مندی پرٹوٹ گیا ۔۔۔۔میں اوپر اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔سونے کی کوشش نا جانے کیوں نا کام سی ہونے لگی ۔۔۔۔۔اگر پاپا نے عفان کی شادی ماہم سے کر دی ۔۔۔۔تو ۔۔۔۔۔۔۔نہیں ماہم اسکی سب سے بڑی خوشی ہے ۔۔۔۔اور ماہم کا نا ملنا عفان کے لئے عمر بھر کا روگ ۔۔۔۔اور یہی میں چاہتا ہوں ۔۔۔۔مگر ایسا کروں کیا ۔۔۔۔۔کافی دیر کمرے میں ٹہلتے ہوئے میں بس یہی سوچ رہا تھا پاپا کو روکو کیسے ۔۔۔۔۔پھر ذہن میں آیا کہ اپنے کسی آوارہ سے دوست سے ماہم کا رشتہ کروا دیتا ہوں ۔۔۔۔ماہم پریشان رہے گی تو عفان کو کہاں چین آئے گا ۔۔۔۔۔مگر پاپا میری بات مانے گئے کیوں ۔۔۔۔۔وہ بھلا عفان کو چھوڑ کر کسی اور سے ماہم کی شادی کیوں کریں گئے ۔۔۔۔۔۔میں خود ہی حل تلاش کرتا اور پھر خود ہی اسکی تردید کر دیتا ۔۔۔۔۔انہیں تان و بانو میں نا جانے کب میری آنکھ لگ گئ
