458.7K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tadbeer Episode 37

Tadbeer by Umme Hani

صبح ماہم جلدی اٹھ گئ میری جب آنکھ کھلی وہ میرے کپڑے نکال چکی تھی ۔۔۔۔میری واچ والٹ سب ادھر ادھر سے اٹھا کر ایک جگہ رکھ رہی تھی ۔۔میی اٹھ کر اسکے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا اسے غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔اس کا ہر روپ ہی مجھے حسین لگنے لگا تھا ۔۔۔۔۔

“ہٹو آگے سے ۔۔۔نیچے جا کر ناشتہ بھی بنا ہے …. ورنہ پھر شور کرو گئے کہ لیٹ ہو گیا ہوں” ۔۔۔۔۔اسکی بات کو نظر انداز کر کے میں نے اپنے دونوں بازو اسکے شانوں پر رکھ دیے

“آئی لو یو ماہی” ۔۔۔۔وہ مجھے حیرانگی سے دیکھنے لگی

“آج دیر نہیں ہو رہی تمہیں” ۔۔۔۔وہ مجھے پیچھے دھکیلتے ہوئے بولی

“اسٹوپٹ لڑکی یہ نہیں کہتے ۔۔۔کہتے ہیں آئی لو یو ٹو عفان” ۔۔۔۔میری بات پر وہ تعجب سے آبرو چڑھانے لگی

“اوہ۔۔۔۔ اچھا ۔۔۔۔۔۔تم شاید بھول رہے ہو کہ میں کامپرومائز کر رہی ہو تمہارے ساتھ ۔۔۔۔اور اس میں یہ سب نہیں کہتے ۔۔۔۔”

“واٹ ۔۔۔تم ابھی تک اسی بات کو لیکر بیٹھی ہوئی ہو ۔۔۔عجیب بیوقوف لڑکی ہو” ۔۔۔میرا اسکی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہ رہا تھا ۔۔۔مگر وہ ہنستے ہوئے کمرے سے جا چکی تھی

“آفس میں میں نے یہ خوشخبری قاسم کو سنائی تھی وہ بیحد خوش تھا۔۔

“شکر ہے خدا کا آخر تمہیں میری ہونے والی اولاد کا خیال تو آیا “۔۔۔قاسم کی بے تکی سی بات پر مجھے تعجب ہوا

“اس بات سے تمہاری اولاد کا کیا تعلق “

“ارے دیکھوں نا عفان ۔۔۔مجھے اپنے بیٹے کی شادی تمہاری بیٹی سے جو کرنی ہے ۔۔۔تعلق تو بنتا ہے نا وہ بھی بہت گہرا” ۔۔۔قاسم کے بے تکے ہانکنے پر میں صرف افسوس ہی کر سکتا تھا ۔۔۔۔

“اور اگر میرا بیٹا اور تمہاری بیٹی ہوئی تو “۔۔۔۔میں نے الٹا جواب دیا

“تو کوئی بات نہیں باپ کی طرح بیٹا بھی اپنے سے بڑی عمر کی لڑکی سے محبت کی شادی کر لے گا سو سمپل ۔۔۔۔مگر یہ تو فائنل ہے کہ مجھے اپنے بچوں کی شادی تمہارے بچوں سے ہی کرنی ہے” ۔۔۔وہ ایسے بات کر رہا تھا جیسے پہلے سے سب طے کر چکا ہو میں نے فائل اس کے سامنے کھولی

“اب کچھ کام کی بات بھی کر لیں ۔۔۔کچھ ہی دیر میں میٹنگ ہے” ۔۔۔میں نے قاسم کی لاپروائی کو دیکھتے ہوئے کہا

“ہاں دیکھ لیتے ہیں ۔۔۔اتنی بھی کیا جلدی ہے” ۔۔۔قاسم نے فائل بند کرتے ہوئے لاپروائی دیکھائی اور کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھ گیا

“جی نہیں اٹھ کر بیٹھو ۔۔۔ابھی ڈسکشن ہو گی ۔۔۔”۔میں نے دوبارہ فائل کھول لی

قاسم کوفت زدہ منہ بنا کر مجھے دیکھنے لگا ۔۔۔۔

“مجھے تو تو لگتا ہے میرے باپ کی روح گھس گئ ہے تم میں کام کے علاؤہ کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے تمہیں ۔۔۔۔”

“بکو مت اور سیدھے طریقے سے پڑھوں اسے اگر کچھ ڈسکس کرنا ہے تو بتاؤں ۔۔۔”۔

میرے ڈانٹنے اور آنکھیں دیکھانے پر وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

*******……….*******……..*******…….******

فاریہ کی اچانک آمد پر ماہم کو حیرت ہوئی تھی ۔۔۔۔کیونکہ وہ فون کیے بغیر نہیں آتی تھی ۔۔۔فاریہ آتے ہی ماہم کے گلے لگ کر مبارک باد دینے لگی ماہم اس بات سے قطعی انجان تھی کہ وہ مبارک باد دے کیوں رہی ہے

“ماہم تم یقین نہیں کرو گی جب سے مجھے قاسم نے بتایا ہے مجھ سے تو رہا ہی نہیں گیا فورا سے تمہارے پاس چلی آئی ہوں ۔۔۔۔بہت خوشی ہو رہی ہے مجھے ۔”۔۔۔فاریہ واقع بہت خوش نظر ا رہی تھی ماہم کے گال کھنچ کر بول رہی تھی

“مگر یہ بھی تو بتاوں کہ تم خوش کس بات ہو ۔۔۔۔ہوا کیا ہے ۔”۔۔فاریہ ماہم کو متحیر ہو کر دیکھنے لگی

“میں خالہ بنے والی ہوں ۔۔۔اس لئے اور کس لئے ۔۔۔”۔فاریہ نے کہا تو ماہم سمجھی شاید فاریہ کی بہن امید سے ہے

“اوہ ۔۔۔پھر تو مجھے تمہیں مبارک دینی چاہیے ۔۔۔۔اور تمہیں تو ہما آپی کو مبارک باد دینی چاہیے” ۔۔۔۔ ماہم کی بات پر فاریہ اسے یوں انجان بنا دیکھ کر حیران تھی صفیہ بیگم بھی وہیں موجود تھیں انہوں نے بھی حیرت کا اظہار کیا ۔۔۔

“ماہم کیا تمہیں نہیں معلوم ہم کیوں خوش ہیں “

“مجھے معلوم ہے ۔۔۔ابھی تو فاریہ نے بتایا کہ وہ خالہ بننے والی ہے ۔۔۔۔ہما آپی ۔۔۔۔”

“تم یہ بتاؤں کیا کل تمہیں نرس نے کچھ نہیں بتایا تھا” ۔۔۔۔صفیہ بیگم نے ماہم کو بیچ میں ٹوک کر پوچھا

“نہیں خالہ ۔۔۔اس نے بس یہی کیا کہ بی پی لو ہے پھر ڈرپ لگا کر چلی گئ ۔۔۔۔کیوں کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔مجھے کیا نہیں بتایا نرس نے ۔۔۔۔”

“واہ کیا کہنے تمہارے بھلکڑ پن کے ۔۔۔۔ہم یہاں تمہارے لئے خوشیاں منا رہے ہیں اور تم ہی انجان ہو” ۔۔۔فاریہ تعجب سے مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔۔اور صوفے پر دھڑلے سے بیٹھ گئ

“آنٹی کیا ہو گا اس لڑکی کا ۔۔۔۔جسے خود ہی اپنا ہوش نہیں “۔۔۔۔فاریہ اب خالہ سے پوچھنے لگی

“کیا ہونا ہے مجھے تو اسکی ابھی سے فکر کھائی جا رہی ہے ذرا جو اسے اپنی پروا بھی ہو ۔۔۔۔کھانے کی ہوش ہے ۔۔۔ نا اپنی طرف توجہ ۔۔۔بس گھر کے کاموں کا خبط سوار رہتا ہے” ۔۔۔۔۔صفیہ بیگم کے گلے شکوے بھی شروع ہو چکے تھے ۔۔۔۔

ماہم بھی چپ چاپ وہی۔ صوفے پر ٹک گئ

“ماہم کیا عفان نے تم سے کچھ نہیں پوچھا یا بتایا” ۔۔۔صفیہ بیگم نے دوبارہ ماہم سے پوچھا انہیں لگا عفان نے تو ضرور بات کی ہو گی

“نہیں خالہ ۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ میں تو سو رہی تھی ۔۔۔۔پتہ نہیں ۔۔۔”

“چلو کوئی بات نہیں۔۔۔۔بس تم اپنا خیال رکھا کرو” ۔۔۔۔

“میں چائے بنا کر لاتی ہوں فاریہ کے لئے” ۔۔۔۔ماہم بہانے سے اٹھ کر کچن میں۔ آ گئ ۔۔۔پیچھے سے صفیہ بیگم نے آواز لگائی تھی

“رانی کو اپنے ساتھ لگا لینا کام پر اکیلی نا کرتی رہنا سب کچھ “

ماہم نے فریج میں سے کباب نکالے اور فرائی کرنے لگی اور دوسری سائیڈ پر چائے کے لئے پانی رکھ دیا ۔۔۔اور سوچنے لگی ۔۔۔کہ رات کو جو باتیں عفان اس سے کر رہا تھا جسے وہ خواب سمجھ رہی تھی ۔۔۔وہ سچ تھی۔ ۔۔۔پھر خالہ بھی کتنا خیال رکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔ جب سے اسے ہسپتال سے لائیں تھیں اسے اسکی ڈائٹ کے بارے میں کافی فکر مند کر رہیں تھیں ۔۔۔خود ماہم کو فریش جوس بنا کر اپنے سامنے پلایا تھا ۔۔۔کچھ دیر بعد مختلف قسم کے فروٹ کاٹ کر کھلانے لگیں ۔۔۔۔مگر پھر بھی وہ نہیں سمجھی ۔۔۔۔”واقع کس قدر احمق ہوں میں’۔۔۔۔ماہم کو خود پر افسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔چائے پیتے ہی فاریہ چلی گئ رات کے کھانے پر وہ عفان سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی اپنی گزشتہ بیوقوفی پر شرمندہ ہو رہی تھی ۔۔۔۔رات کو بھی بے مقصد کچن میں یونہی کام کرتی رہی تا کہ اوپر تب جائے جب عفان سو چکا ہو ۔۔۔ورنہ وہ کتنا مزاق اڑاتا اسکا اس بات پر ۔۔۔۔

*******………*******…….*****……********

میں ماہم کے انتظار میں جاگ رہا تھا ۔۔۔ماہم خاموشی سے آ کر بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔میں نے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے چوکلیٹ کا پیکٹ نکال کر ماہم کے سامنے رکھ دیا ۔۔۔

“تمہارے لئے ۔۔۔۔”

“وہ کس خوشی میں” ۔۔۔ماہم نے برجستہ کہا کیونکہ بنا کسی وجہ کے میں نے اسے کبھی چوکلیٹ نہیں دی تھی

“میرے باپ بننے کی خوشی میں ۔۔۔۔گو کہ تمہارا اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے مگر ۔میری خوشی کی خاطر کھا لینا “۔۔۔۔میری بات پر وہ جھنپ سی گئ ۔۔۔چوکلیٹ کا پیکٹ اٹھا کر سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔اور بیڈ پر نظریں جھکائے بیٹھی رہی میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا جھک کر اسکا شرم سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر اسے چھیڑتے ہوئے کہا

“ماہی یہ کیا یار تمہیں بھی اٹھارویں صدی کی مشرقی ٹائپ خواتین کی طرح شرم آ رہی ہے “۔۔۔۔میری بات پر وہ زچ ہوکر بولی

“عفان تنگ مت کرو۔۔۔۔ مجھے نیند آ رہی ہے سونا ہے ۔مجھے “

“ہمم۔۔۔۔سو جاؤ ورنہ کل کی طرح بہکی بہکی باتیں کرنے لگو گی ۔۔۔۔گڈ نائٹ ۔۔۔”۔میں اسے مزید تنگ نہیں کرنا چاہ رہا تھا اس لئے اپنی سائیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔۔۔ماہم بھی لیٹ چکی تھی میں اس باتیں کرنا چاہتا تھا مگر وہ میری مخالف سمت میں کروٹ لیے لیٹ گی تھی ۔۔۔جاننا چاہتا تھا کہ وہ اس سے کتنی خوش ہے ۔۔۔۔

“ماہی میں۔ بہت خوش ہوں ۔۔۔۔تم اندازہ نہیں لگا سکتی ہو میری خوشی کا جی چاہتا ہے جھوموں ناچوں گاؤ ۔۔۔۔تم خوش نہیں ہو ماہی” ۔۔۔۔مجھے بے چینی سی لا حق تھی کیونکہ ماہم نے ابھی تک اپنا کوئی ردعمل مجھ پر ظاہر نہیں کیا تھا ماہم نے فورا سے کروٹ میری جانب موڑ لی اور حیرت سے مجھے دیکھنے لگی

“یہ کیسا سوال ہے عفان “

“بس یونہی پوچھ رہا تھا تم چپ چپ سی ہو اس لئے ” ۔۔۔۔

“ایسی بات نہیں ہے میں بہت خوش ہوں ۔۔۔بس سب کچھ نیا اور الگ سا لگ رہا ہے ۔۔۔اب تک میں ایک بیٹی بن کر رہتی آئی ہوں میں نے کبھی خود کو اس گھر کی بہو تصور ہی نہیں کیا ۔۔۔۔تمہیں بھی ہمیشہ سے دوست اور کزن کی نظر سے دیکھا تھا ۔۔۔۔میں تمہیں ٹھیک سے شوہر ہی تسلیم نہیں کر پائی پھر یہ سب ۔۔۔۔مطلب عفان ۔۔۔۔۔مجھے سمجھانا نہیں آرہا ۔”۔۔۔۔وہ بات کرتے ہوئے ہچکچا رہی تھی ۔۔۔خود کو اس نئے رشتے کے طور پر قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہی تھی

“اگر تم میری رات والی باتوں سے کچھ غلط سمجھ رہے ہو تو اس وقت میں نیند میں تھی مجھے لگا جو باتیں ہمارے درمیان ہوئیں تھیں وہ خواب تھا ۔۔۔”۔ماہم خود ہی وضاحت دینے لگی ۔۔۔میں بس خاموشی سے اسے سن رہا تھا کچھ پل کے لئے ہمارے درمیان صرف خاموشی تھی وہ کچھ سوچ رہی تھی پھر مسکرانے لگی مجھے دیکھ کر بولی

“عفان تمہیں بیٹی اچھی لگتی ہے یا بیٹا ۔”۔۔۔۔اسکے اشتیاق سے بھرے اس سوال پر میں مسکرانے لگا ۔۔۔”وہ خوش تھی میرے لئے اتنا ہی کافی تھا” ۔۔۔۔۔

“مجھے دونوں پسند ہیں ۔۔۔۔میری دلی خواہش ہے کہ میرے ٹوینس بچے ہوں ۔۔۔بیٹی بیٹا دونوں” ۔۔۔۔۔میں۔ بھی اپنی دلی خواہش اسے بتانے لگا

“اچھا ۔۔۔اور انہیں سنبھالے گا کون ۔۔۔مجھے تو چھوٹے بچوں کو پکڑتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔”ماہم کی باتوں قابل غور تھی

“اوہ یہ تو بہت بڑا مسلہ ہو جائے گا ۔۔۔۔چلو سوچتے ہیں ۔کچھ ۔۔۔ہاں ایسا کریں گئے ماہی ۔۔مما پاپا کے کمرے میں ایک کاٹ لا کر رکھ دیں گئے جب تک میرے بچے کچھ بڑے نہیں ہو جاتے وہ مما پاپا کے پاس ہی رہیں گئے ۔”۔۔میرا مشورہ ماہم کو کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا

“یہ کیا بات ہوئی عفان ۔۔۔۔تم میرے چھوٹے سے معصوم اور ننھے منے بچے کو مجھ سے الگ کر دو گئے ۔۔۔شرم نہیں آئے گی تمہیں” ۔۔۔۔وہ منہ پھلائے ناراض ہونے کے لئے تیار بیٹھی تھی

“تم نے خود ہی کہا ہے کہ تمہیں پکڑنا نہیں آتا ۔۔۔۔میں اپنے بچوں کے معاملے بلکل رسک نہیں لوں گا۔۔۔۔ایسے گرا ورا دونگی میرے نازک سے بچوں کو ۔۔۔یہ غفلت میں برداشت نہیں کر سکتا اس لئے وہ مما کے پاس ہی رہیں گئے ڈس فائنل “۔۔۔۔میری بات سن کر ماہم کی پیشانی پر سلوٹیں بڑھنے لگیں بیڈ پر رکھے کش کو ماہم نے میرے منہ پر مارا میں اس قسم کے حملے پر تیار نہیں تھا س لئے بھونچکا کر رہ گیا

“اتنا لا پروا سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے ۔۔۔۔آئندہ بات مت کرنا مجھ سے” ۔۔۔۔وہ کروٹ بدل کر لیٹ گئ ۔۔۔

“اچھا بابا ۔۔تم ابھی ناراض کیوں ہو رہی ہو ۔۔۔”

“مجھے تم سے بات نہیں کرنی ہے عفان ۔۔۔۔بہت برے ہو تم”۔۔۔۔وہ۔خفگی سے بولتی ہوئی لیمپ آف کرنے لگی ۔۔۔۔

*******………*****

کامران کی ایک مہنے بعد کی شادی کی ڈیٹ فکس کو چکی تھی

مگر اس نے اتنی خوشی کا اظہار نہیں کیا جتنا کرنا چاہیے تھا ۔۔۔۔جب سے کامران نے یہ سنا تھا کہ ماہم اسپکٹو ہے اسے تو سانپ پی سونگھ گیا تھا ۔۔۔۔۔میں آفس کے لئے اپنی گاڑی باہر نکالنے لگا کامران مجھ سے پہلے اپنی گاڑی باہر نکال چکا تھا جیسے ہی میں نے اپنی گاڑی پورچ سے نکال کر گیٹ سے باہر کی کامران میری گاڑی کے پاس آکر میری فرنٹ سیٹ کے سامنے کھڑا ہو گیا

“مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے ۔۔۔وہ ترش لہجے میں بولا ۔۔۔۔اسکے چہرے پر رت جگے کے تمام تاثرات موجود تھے جیسے وہ کئی راتوں سے سویا نا ہو آنکھیں متورم بال بکھرے شیو بھی کچھ بڑی ہوئی ورنہ وہ جتنا خود کو ٹپ ٹاپ رکھنے کا عادی تھا مجھے نہیں یاد میں نے کبھی اپنی ذرا سی شیو بڑھائی ہو مگر آج وہ کچھ بکھرا سا لگا مجھے ۔۔اسکے ۔منہ سے سگریٹ کی بو مجھے اور بھی ناگوار لگی

“ابھی تو ٹائم ہی نہیں ہے میرے پاس ۔۔۔رات کو کرتے ہیں ۔”میں نے گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے کہا

“او یو بلڈی باسٹڈ ۔۔۔۔میں مزید انتظار نہیں کر سکتا ۔مجھے بات کرنی ہے تم سے تو مطلب ابھی کرنی ہے ۔۔۔کہاں چھپا رکھا ہے تم نے ماہم کو نظر تک نہیں آتی مجھے ۔وہ ۔۔۔کیا سمجھتے ہو اس طرح سے دور کر دو گئے اسے مجھ سے “۔۔۔۔کامران غصے سے لال پیلا ہونے لگا

“شٹ اپ اینڈ ڈونٹ ٹاک اباوٹ ماہم۔۔۔۔میں مزید بکواس نہیں سنا چاہتا ۔۔۔رات کو کرونگا بات تم سے “۔۔۔۔۔اسکے منہ سے ماہم کا سن ایک آگ سی دوڑنے لگتی تھی میری رگوں میں ۔۔۔۔میں پورے راستے کامران کی باتوں کو ہی سوچتا رہا ۔۔۔۔۔اب تک ماہم سے اسکی بات نہیں ہوئی تھی تو مطلب ماہم خود اس سے بات نہیں کرنا چاہتی ورنہ ماہم کے لئے یہ مشکل تو نہیں تھا ۔۔۔۔اگر کامران ماہم کو دیکھ نہیں پا رہا تو مطلب وہ خود اسکے سامنے نہیں آنا چاہتی تھی ۔۔۔۔اگر ماہم یہ سب کر رہی تھی تو صاف مطلب یہی تھا کہ وہ میرے ساتھ خوش ہے ۔۔۔۔میرے اندر کا غصہ خود با خود ہی ختم ہونے لگا میں کچھ مطمئن بھی ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔رات کو ڈنر کے بعد میں باہر لان میں چہل قدمی کرنے لگا مجھے اندازہ تھا کہ کامران مجھ سے بات کرنے یہاں ضرور آئے گا ۔۔۔۔یہی ہوا کچھ دیر میں کامران میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔میں نے اسے لان کے وسط میں رکھیں کرسیوں کی طرف چلنے کا اشارہ کیا اور خود بھی چل کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔کامران میرے سامنے بیٹھا کچھ دیر مجھے دیکھنے لگا شاید مجھ سے بات کرنے کے لئے اب اسے سوچنا پڑ رہا تھا ایک اضطراب سی کیفت اس پر طاری تھی اپنی جیب سے اس نے سگریٹ نکالا منہ میں رکھا اور لائٹر سے جلا کر سگریٹ پھونکنے لگا اس کے انداز میں بے چینی کا عنصر واضع محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔پیشانی پر آنے والا پسینہ وہ قمیض کی آستین سے صاف کر رہا تھا

“بولو کیا بات کرنی ہے تم نے” ۔۔۔میں نے بنا کسی لحاظ اور بنا کسی تمہید باندھے بات کا آغاز کیا ۔۔۔۔

“یہ کیا جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہو تم گھر پر” ۔۔۔۔وہ سگریٹ کا دھواں ہوا میں اڑاتے ہوئے بولا

“کونسی جھوٹی خبر” ۔۔۔۔میری بات پر وہ مزید تپ گیا کئ سلوٹیں اسکے ماتھے پر پڑنے لگیں ۔۔۔۔

“ماہم ۔۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔ماہم “۔۔۔۔۔وہ شاید لفظوں میں بے ترتیب ہو رہا تھا اسکا سانس پھولنے لگا تھا ۔۔۔۔

“تم کیسے اسے اپنا سکتے ہو ۔۔۔۔وہ تمہاری نہیں ہو سکتی” ۔۔۔۔آخر لفظ اس کے منہ ادا ہو ہی گئے تھے جو اسے پریشان کیے ہوئے تھے

“وہ میری ہی ہے ۔۔۔اسے میرا ہونے سے روک کون سکتا ہے ۔۔۔تم میرا ظرف آزمانا چاہتے تھے ۔۔۔دیکھ لیا ۔میرا ظرف “۔۔۔میں بڑے تسلی اور اطمینان سے جواب دینے لگا

“تم اس قدر گھٹیا بھی ہو سکتے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔تم نے زبردستی اپنایا ہو گا اسے ۔۔۔۔ورنہ وہ تمہیں قبول کر ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔وہ اب بھی مجھ سے محبت کرتی ہے” ۔۔۔اشتعال میں آ کر ۔سگریٹ اس نے منہ سے نکال کر لان کی گھاس پر پھنک کر پھنکارتے ہوئے مجھے سے کہا نا جانے کون سا گھمنڈ تھا اسے ۔۔۔ وہ پورے یقین سے گردن اکڑا کر بول رہا تھا اسکے اندھے بھروسے اور اسکی حالت پر ہنسی اور ترس بیک وقت ہی مجھے آنے لگا تھا مگرمیں نے ہنسی کو ترجعی دی ۔۔۔میں ہسنے لگا ۔۔۔۔

“چچ چچ ترس آتا ہے مجھے تم پر ۔۔۔۔۔کسے پال لیتے ہو اتنی خوش فہمیاں ۔۔۔۔ماہم تھوکنا بھی پسند نا کرے تم پر ۔۔۔اور تم محبت کی بات کر رہے ہو “۔۔۔۔

“بکو مت” ۔۔۔وہ غرایا

“بکواس تم کر رہے ہو ۔۔۔۔سمجھ نہیں آتا تمہیں۔۔۔۔ نہیں کرتی وہ تم سےمحبت ۔۔۔۔۔۔جس محبت پر اتنا اکڑ رہے تھے تم ۔۔۔۔جسے تناور درخت سمجھ رہے تھے ۔۔۔وہ تو ریت کی دیوار ثابت ہوئی ہمارے رشتے کی طاقت سے ہی گر کر ریزہ ریزہ ہوگی میری محبت کا تو سامنا کرنے کے قابل ہی نہیں ہے ۔۔۔۔یو آر فنش مائے برادر ۔۔۔۔چھوڑ دو اب یہ سب ڈرامے کرنا اپنی نائلہ کی فکر کرو ۔۔۔۔یہ نا ہو میری زندگی میں آگ لگانے کی چاہ میں کہیں تم اپنا گھر ہی نا جلا بیٹھو ۔۔۔میری بیوی مجھ سے بہت محبت کرنے لگی ہے ۔۔۔۔۔سوتے جاگتے بس میرا ہی نام ہوتا ہے اسکی زبان پر ۔۔۔۔اگر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں نے ماہم کو تم سے ملنے سے زبردستی روک رکھا ہے تو تم غلط ہو ۔۔۔۔وہ خود تمہاری شکل دیکھنا نہیں چاہتی۔۔۔۔جتنا تم ماہم کے ساتھ گھٹیا کھیل ۔۔۔کھیل سکتے تھے وہ تم کھیل چکے ۔۔۔۔اب تمہیں ہر بار منہ کی کھانی پڑے گی ۔”۔۔میں اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔کامران کے چہرے پر کئی رنگ آ کر گزر گئے تھے ۔۔۔۔جاتے ہوئے میں نے اسکا کندھا تھپتھپایا ۔۔۔۔

“خوش رہو اپنی زندگی میں اپنی نائلہ کے ساتھ “۔۔۔میں کہہ کر اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا

ماہم سو چکی تھی کمرے کی لائٹ آف تھی مگر لمپ جل رہا تھا ۔۔۔۔ لیمپ کی مدھم سی روشنی میں ماہم کے چہرے کو دیکھنے لگا ۔۔جہاں اس وقت صرف اطمینان تھا ۔۔۔۔

******/………*******………********……….

وہ عورت روز میرے سرہانے قرآن کی تلاوت کرنے لگی تھی۔۔۔۔میں۔ یہ تو نہیں سمجھ پاتا تھا کہ ان آیتوں کا مطلب کیا ہے مگر میرا دل اس آواز پر ایک عجیب سی لہہ میں دھڑکنے لگا تھا ۔۔۔۔۔میں پوری یکسوئی سے ایک ایک آیت کو توجہ سے سننے کے کوشش کرتا تھا ۔۔۔۔کچھ ہی دنوں میں مجھے اپنے اندر ایک سکون سا اترتا ہوا محسوس ہونے لگا ۔۔۔میری اضطرابی کیفیت میں ایک اطمینان سا آنے لگا ۔۔۔۔۔وہ عورت ایک ڈھیر گھنٹہ تلاوت کرتی مجھے دعا دے کر چلی جاتی ۔۔۔میرا ذہن بلکل ٹھیک سے کام کرتا تھا اس لئے غور سے سننے سے بہت سی آیات میرے ذہن میں رہ جاتی تھیں جنہیں میں بعد میں دہرانے لگتا ۔۔۔۔۔اپنے رب سے ان آیات کا واسطہ دیتے ہوئے اپنی سلامتی کی دعائیں۔ کرنے لگتا ۔۔۔۔۔۔آج مما پاپا کی آواز سن کر میں بے چین سا ہو گیا ۔۔۔مما بھی روتے ہوئے ماہم کی باتیں دہرانے لگیں ۔۔۔کہ اگر مجھے ہوش نہیں آیا تو ڈاکٹر میرا ماسک اتار دیں گئے ۔۔۔۔پاپا میرا ہاتھ تھامے رو رہے تھے اور میں اپنے اندر اپنی بے بسی پر رونے لگا تھا ۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد ہی وہ لوگ چلے گئے ۔۔۔۔اسکے کچھ وقت گزرنے بعد ہی ڈاکٹر رمشہ میرے کمرے میں داخل ہوئی لیکن اسکی آواز سے لگ رہا تھا کہ وہ کسی سے بات کر رہی ہے ۔۔

“مسٹر کامران آپکے کہنے پر میں نے آپکی فیملی سے یہ جھوٹ بول دیا ہے کہ انہیں کبھی ہوش نہیں آ سکتا ۔۔۔۔میری کوشش اب یہی ہو گی کہ میں جلد از جلد انہیں ابدی نیند سلا دوں گی۔۔۔۔انکے کمرے کے کمرے میں کچھ دن پہلے ہی خراب کروا چکی ہوں اس لئے اب کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے ۔۔۔اس لئے دس لاکھ کا چیک تیار رکھیے گا

او کے بائے “۔۔۔۔وہ کامران سے فون پر بات کر رہی تھی ۔۔۔۔یہ ڈاکٹر میرے لئے موت کا فرشتہ ثابت ہونے والی تھی ۔۔۔ایک انسانی زندگی کی قیمت دس لاکھ ۔۔۔۔میرا دل بری طرح مجروح ہوا تھا۔۔۔میری تیزی سے اپنی آنکھوں کی پتلیاں ہلانے لگا ۔۔۔اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔کافی دیر میں۔ یہی مشق دوہراتا رہا ۔۔۔ماہم اس دن کے بعد سے مجھ سے ملنے نہیں آئی تھی ۔۔۔میرا دل ایسے مچلنے لگا جیسے بنا پانی کے مچھلی تڑپتی اور مچلتی ہے