Tadbeer by Umme Hani NovelR50414 Tadbeer Episode 55 (Part 2)
Rate this Novel
Tadbeer Episode 55 (Part 2)
Tadbeer by Umme Hani
پاپا آفس میں ذاکر صاحب کو پورے دن کی انسٹرکشن دے رہے تھے ۔۔۔۔میں اپنے کمپوٹر پر مصروف تھا مگر میرا پورا دھیان پاپا کی طرف تھا ۔۔۔۔ذاکر صاحب کے کمرے سے نکلتے ہی پاپا نے ڈرائیور کو کال کی کے گاڑی پارکنگ ایریا سے نکال کر آفس کے سامنے لیکر آئے ۔۔۔۔اور پھر مما کو بھی فون پر ریڈی رہنے کے لئے کہا ۔۔۔۔
“صفیہ تم تیار رہنا میں بس آدھے گھنٹے تک پہنچ جاؤں گا ۔۔۔۔اور کریم سے کہنا رانی کو رات یہی رہنے دے ماہم کے پاس ۔۔۔ عفان بھی لیٹ آئے گا ۔۔۔ اور ہمیں بھی واپسی پر دیر ہو جائے گی ۔۔۔۔۔”یہ کہہ کر پاپا مجھے دو چار ضروری ہدایات دے کر چلے گئے ۔۔۔۔۔میرے پاس یہ اچھا موقع تھا ۔۔۔۔۔کئ دونوں سے میں ایسے ہی کسی ایونٹ کا منتظر تھا جہاں ماہم مما پاپا کے ساتھ نا جائے اور اکیلی گھر پر ہو پاپا کے بتائے ہوئے کام میں نے ایک گھنٹے میں نمٹائے اور ذاکر صاحب کو سر درد کا بہانہ کر کے گھر آ گیا ۔۔۔۔مین گیٹ سے گاڑی اندر پارک نہیں کی تھی باہر ہی کھڑی رہنے دی گاڑی سے اتر کر گھر کے اندر داخل ہوتے ہی میں نے کریم بابا سے پاپا کے بارے میں پوچھا
“صاحب تو جا چکے ہیں “
“اور عفان “
“چھوٹے صاحب تو ابھی نہیں آئے “
“ٹھیک ہے “
“وہ ۔۔۔۔۔صاحب جی آپ آج جلدی گھر آ گئے ۔۔۔۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا “کریم بابا کا تفشیشی انداز مجھے تپا کہ رکھ گیا
“اب مجھے اپنے ہی گھر آنے جانے کی وجہ آپ کو بتانی پڑے گی ۔۔۔”میں نے غصے سے انہیں گھورتے ہوئے کہا تو وہ نظریں جھکا گئے ۔۔۔۔۔میں اندر لاونج میں پہچا تو رانی ماہم کے اسکیچز بڑے اشتیاق سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔مجھے دیکھ کر جلدی سے اپنا دوپٹہ سر رکھ کر کھڑی ہو گئ
“اسلام صاب “
“تم اسوقت یہاں کیا کر رہی ہو گھر کیوں نہیں گئ ٫حالانکہ حقیقت سے میں واقف تھا مگر پھر بھی ماتھے پر تیوری چڑھائی سخت لہجے سے بولا
“وہ ۔۔۔۔ماہم باجی اکیلی تھیں اس لئے بڑے صاب جی نے مجھے یہی رکنے کے لئے کہا تھا ۔۔۔۔”رانی میرے لہجے سے گھبرا گئ تھی بڑی مشکل سے بولی
” اب میں آ گیا ہوں ۔۔۔۔۔تمہاری ضرورت نہیں ہے کریم بابا کو بولوں تمہیں گھرچھوڑ کر آئیں “
“پر صاب جی ۔۔۔۔وہ بڑے صاب “
“رانی کریم بابا کے ساتھ اپنے گھر جاؤ”میرے دو ٹوک انداز پر وہ سر ہلاتی ہوئی باہر چلی گئ
********………*********
ماہم صفیہ بیگم اور رضا صاحب کے ساتھ دعوت پر نہیں گئ تھی گھر پر ہی رہی اس لئے صفیہ بیگم نے چوکیدار کی بیٹی رانی کو وہیں روک لیا ماہم کے پاس ۔۔۔رانی کام سے فارغ ہو کر لاونج میں ماہم کے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔۔ماہم اپنی اسکیچز سامنے ٹیبل پر پھیلائے دیکھ رہی تھی رانی بھی وہیں کشن پر بیٹھ کر دیکھنے لگی ۔۔۔۔
“واہ بی بی جی آپ نے بہت خوبصورت تصویریں بنائی ہیں “رانی کی آنکھوں میں ستائش تھی
پھر عفان کے اسکیچ کو دیکھ کر حیران رہ گئ
“بی بی جی آپ نے۔ چھوٹے صاب کی تصویر کتنی پیاری بنائی ہے “ماہم بھی عفان کا اسکیچ پکڑے دیکھنے لگی جو اس نے عفان کو دو گھنٹے لان میں دھوپ میں بیٹھا کر بنایا تھا ۔۔۔۔
“بی بی جی کیا میری تصویر بھی بنا دو گی ۔۔۔۔”رانی کی فرمائش پر ماہم مسکرانے لگی
“کیوں نہیں رانی تم بیٹھو میں بس ابھی اوپر سے اپنی چیزیں لیکر آئی ۔۔۔۔۔ماہم چٹکی بجاتی ہوئی اوپر چلی گئ ۔۔۔۔۔۔
*****………..*******
۔۔۔۔میں نے سامنے ٹیبل پر رکھی ماہم کی اسکیچ بک اٹھائی سامنے عفان کااسکیچ دیکھ کر میں نے سارے پیپر اس زور سے پھنکے کے وہ ادھر ادھر بکھر گئے۔۔۔۔۔میں اوپر کا زینہ چڑھا تو سامنے ماہم ہاتھوں میں اسکیچ پیپر پسلز اور نا جانے کیا کیا پکڑے نیچے کی طرف ہی آ رہی تھی ۔۔۔۔مجھے دیکھ کر ٹھٹک گئ
اسے میری آمد کی توقع نہیں تھی اس لئے کچھ پریشان سی ہو گئ
“آپ اس وقت “ماہم نے حیرانگی سے پوچھا کیونکہ میں آپ ے وقت سے بہت پہلے وہاں موجود تھا
“ہاں میں اس وقت یہاں ۔۔۔۔۔چلو آؤں میرے ساتھ میرے کمرے میں”میں سخت لہجے میں کہا
“نن۔نہیں۔۔۔۔۔ہٹیں مجھے نیچے رانی کے پاس جانا ہے “ماہم نروس سی ہو گئ ۔۔۔
“اسے میں نے بھیج دیا ہے ۔۔۔۔جا چکی ہے وہ “
“آپ نے کیوں بھیجا اسے ۔۔۔۔خالہ خود اسے میرے پاس چھوڑ کر گئی تھیں “
“تمہارے سوالوں کے جواب دینے کا وقت نہیں ہے ۔میرے پاس ۔۔۔۔اس وقت گھر میں میرے اور تمہارے علاؤہ اور کوئی نہیں ہے ۔۔۔اس لئے تمہارے لئے یہیں بہتر ہے ۔۔۔جو میں کہو چپ چاپ وہی کرتی رہو “میں نے ماہم کا بازو پکڑ کر نہایت غصے سے کہا
“کامران چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔آپ نے کیوں بھیجا رانی کو ۔۔۔۔”
“ششش۔۔۔۔بہت مشکل لگتا ہے نا تمہیں عفان سے پیچھا چھڑوانا ۔۔۔آج کے بعد وہ خود ہی تمہیں چھوڑ دے گا “
“کامران چھوڑیں مجھے “وہ اپنا بازو مجھ سے چھڑوانے لگی
میں نے اس کی کوئی بات نہیں سنی اور زبردستی اسے اپنے کمرے میں لے آیا کمرے کا دروازہ بند کیا اس کے ہاتھوں سے اسکیچز اور دوسری اشیا پکڑ کر اپنے بیڈ پر رکھیں اور اسے پکڑے اپنے ڈرسنگ روم میں لے آیا
“کامران خدا کے لئے مجھے چھوڑ دیں “ماہم اب حد سے زیادہ گھبرا گئ تھی رونے لگی ۔۔۔۔
“تمہیں میری پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی ماہم آج تمہیں بتاؤں گا کہ میری بات سے اختلاف کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔”
“کامران ” وہ رقت آمیز لہجے سے بولی میں نے اپنا وارڈروب کھولا اس میں سے ایک ڈریس نکالا جو میں نے شادی کی شاپنگ کے دوران ماہم کے لئے خریدا تھا گرے کلر کی ڈیپ گلے کی شرٹ تھی ۔۔۔۔میں۔ نے وہ ماہم کے ہاتھ میں تھما دی ۔۔۔۔
“یہ میں نے تمہارے لئے خریدی تھی سوچا تھا شادی کے بعد تمہیں اس لباس میں دیکھوں گا ۔۔۔۔اینی وئے اب دیکھ لیتا ہوں۔۔۔۔۔ میں باہر جا رہا ہوں۔۔۔یہ پہن کر باہر آ جانا میں اسے ڈرسنگ روم سے اپنے روم میں لا چکا تھا
“ہر گز نہیں۔۔۔۔میں نہیں پہنوں گی “۔۔۔۔ماہم نے وہ شرٹ بیڈ پر پھنک دی ۔۔۔میں اسکی جرت پر مسکرانے لگا
“میری جان اس وقت تم انکار کی پوزیشن میں بلکل نہیں ہو بہتر ہے کہ چپ چاپ وہ کرو جو میں نے کہا ہے ۔۔۔ورنہ۔۔۔۔۔جومیں تمہارے ساتھ کرونگا وہ تم سوچ بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔۔”میں اسے دھمکا کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔
ماہم کو اپنے کمرے میں لوک کر کے جب میں باہر آیا تو کریم بابا رانی کے ساتھ اوپر ہی آ رہے تھے انہیں دیکھ کر میں گھبرا گیا ۔۔۔
جلدی سے انکے قریب آ گیا ۔۔۔۔دل میں یہ بھی خوف تھا کہ کہیں ماہم کمرے کادروازہ نا کھٹکھٹا دے اپنے ماتھے پر آنے والے پسینے کو میں نے صاف کیا
“آپ گئے نہیں ابھی تک “میں نے قدرے سنبھل کر کریم بابا سے کہا
“کامران صاحب بڑے صاحب اور بڑی بی بی جی نے خود کہا تھا کہ رانی ماہم بٹیا کے پاس رہے اسے اکیلا نہیں چھوڑنا اسے “
“تو میں کون ہوں کریم بابا کوئی غیر ہوں ۔۔۔۔”میں نے انہیں آنکھیں دیکھائیں
“نہیں مگر “وہ کچھ تذبذب سے ہوئے
“اچھا تو آپ کو میں بدمعاش لگتا ہوں جو آپ کی غیر موجودگی میں ماہم کو مار ڈالوں گا ۔۔۔۔”میں نے کڑے تیوروں سے ان سے پوچھا
“نہیں نہیں میں بھلا ایسا کیوں سوچوں گا “
“آپ جا کر رانی کو چھوڑ کر آئیں میں ہوں ماہم کے پاس “میری بات پر وہ دونوں نیچے اتر گئے میں بھی انکے پیچھے اتر کر باہر تک آیا کریم بابا اور رانی جب گیٹ سے نکل گئے تب جا کر میرا سانس بحال ہوا میں ہاتھ پر بندھی گھڑی پر نظر دوڑائی تو عفان۔ کے آنے کا وقت بھی قریب تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔میں اپنے کمرے کا دروازہ پٹنے کے انداز سے بجانے لگا ۔۔۔۔۔مجھے ہر حال میں ماہم کو عفان کے آنے سے پہلے یہاں سے لیکر جانا تھا میرا ارادہ صرف اتنا ہی تھا کہ عفان کو ماہم کے حوالے سے شک میں ڈال سکوں ۔۔۔۔۔کچھ دیر ماہم نے دروازہ کھولا وہ اسی لباس میں تھی ۔۔۔جو میں نے اسے پہنے کے لئے کہا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن وہ بے حد خوفزدہ تھی ۔۔۔۔ڈری سہمی ۔۔۔۔میری بے باک نظروں سے گھبرا کر خود میں سمٹنے لگی ۔۔۔۔۔کچھ اسکا خوفزدہ وجود اور اس پر اس کا بے باک سا لباس ۔اسے میں دیکھ کر بے خود سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔کچھ پل تو اپنی نظروں کو بلکل آزاد چھوڑ کر ماہم کو دیکھنے لگا مگر ماہم کے بہتے آنسوں اور دبی دبی سسکیاں نے میراغصہ بڑھا دیا ۔۔۔۔ماہم کو میں تقریبا کھنچتے ہوئے اپنے ساتھ گاڑی میں بیٹھا کر ہائی وے کی سائیڈ ہر لے گیا
********…….
.ماہم بہت خوفزدہ تھی ۔۔۔کمرے کا دروزہ لوک کر کے بیڈ پر بیٹھ کر رونے لگی اسکا موبائل نیچے لاونج کر صوفے پر پڑا تھا ورنہ عفان کو کال کر دیتی ۔۔۔۔کاش عفان گھر پر ابھی آ جائے اپنی بے بسی پر رونا آ رہا تھا ۔۔۔۔ماہم روتے ہوئے دعا کرنے لگی کمرے کا دروازہ پھر سے ڈھڑدھڑایا ۔۔۔۔
“ماہم جلدی کرو ” کامران کی دھاڑ پر وہ کانپ سی گیئ ۔۔۔مجبورا اسکے دیے ہوئے کپڑے پہن کر دروازہ کھول دیا ۔۔۔۔۔کامران اندر داخل ہوا سر سے پیر تک سے دیکھنے لگا وہ مزید سمٹ گئ اپنے حلیے سے شرم بھی آ رہی تھی ۔۔۔کامرن نے اپنے ڈریسنگ سے پر فیوم اٹھایا اور پورے کمرے میں اسپرے کرنے لگا ۔۔۔پھر ماہم کے کپڑوں پر بھی کرنے لگا
ماہم پیچھے ہٹ گئ
“یہ کیا کر رہے ہیں آپ “ماہم نے کامران کے ہاتھ کو پیچھے کر دیا ۔۔۔۔کامران نے ماہم کا وہی ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ زبردستی نیچے لے گیا ۔۔۔گیٹ کے باہر گاڑی کا ڈور کھولا
“چپ چاپ بنا کسی شور شرابے کے گاڑی میں بیٹھ جاؤں ورنہ انجام کی ذمہ دار تم خود ہو گئ ۔۔۔۔۔کامران کے دبے دبے کرخت لہجے پر وہ سہم کر گاڑی میں بیٹھ گی
*******……….
پورے راستے وہ روتے ہوئے بس یہی التجا کرتی رہی
“کہاں لے رہے ہیں مجھے “ماہم نے ڈرے ڈرے وفزدہ لہجے سے پوچھا
“یہاں سے بہت دور “
میری بات پر وہ بلک کر روئی اور میری منت کرنے لگی کہ میں اسے گھر واپس لے جاؤں لیکن میں سنی ان سنی کیے ونڈر اسکرین سے باہر دیکھتا رہا جب وہ بتدریج روتی رہی تو میں اسپاٹ لہجے میں بولا
” یہ اپنا رونا دھونا بند کرو سمجھی ۔۔۔۔ بہت ٹائم دیا تھا میں نے تمہیں ماہم ۔۔۔۔مگر تم عفان سے اپنی بات منوا ہی نہیں سکی ۔۔۔۔۔تم نے خود ہی تو کہاں کہ میں خود اس معاملے کو ہینڈل کرو ۔۔۔میرا طریقہ تو ایسا ہی ہے “۔۔۔۔۔میری بے حسی پر وہ سسکنے لگی
“کامران ۔۔۔۔پلیز مجھے گھر چھوڑ دو ۔۔۔۔میں بات کرو گی عفان سے اسے منانے کی کوشش بھی کروں گی “اس ملتجی لہجے سے میری منت کرنے لگی
“نہیں ماہم ۔۔۔۔اب بہت دیر ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔۔اب جو کرنا ہے مجھے کرنا ہے ۔۔۔۔۔”میں نے ماہم کوسرسے پیر تک دوبارہ دیکھا تو وہ پزل سی ہونے لگی
“کیا کرو گئے تم “وہ سہمے ہوئے پوچھنے لگی میں اسے دیکھ کر معنی خیز ہنسی ہنسنے لگا بلکہ ہنستا ہی چلا گیا ایک نظر اسکے سراپے پر ڈالی
“جانتی ہو آج تم کیسی لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔ایک دم آفت لگ رہی ہو قسم سے ۔۔۔۔۔تم سے تو نظریں ہٹانے کو جی نہیں چاہ رہا میرا ٫”میری مسکراہٹ اور باتوں سے ماہم کا چہراغصے سے تمتمانے لگا ۔۔۔۔۔وہ کھڑکی کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئ گاڑی میں اتنی تیز اسپیڈ سے چلا رہا تھا کہ وہ ڈر پوک لڑکی دروزہ کھولنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔۔ماہم کے آنسوں سسکیاں ۔۔۔۔مجھے جیسے کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔۔میں نے گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے سامنے کھڑی کر دی
“گاڑی میں موجود ٹشو بکس میں سے میں نے چند ٹشو نکال کر ماہم کی طرف بڑھائے اور سختی سے کہا
“صاف کرو اپنے آنسوں ۔۔۔۔ حلیہ درست کرو اپنا اور باہر نکلو
“نہیں مجھے کہیں نہیں جانا “ماہم روتے ہوئے بولی
“اس وقت تم مکمل طور پر میرے رحم وکرم پر ہو اس لئے ۔۔۔۔مائی ڈیر ماہم ۔۔۔تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ میری ہر بات بنا کسی چون چراں کے مانتی جاؤ۔آج میرا موڈ بہت خوشگوارہے ۔۔۔۔اگر تم نے مجھے غصہ دلانے کی کوشش کی تو بہت مہنگا پڑے گا تمہیں ۔۔۔۔میں ماہم کی طرف جھک کر بولا ماہم نے چہرہ کھڑکی کی جانب موڑ لیا ۔۔۔۔اسکے چہرے پر جھولتی ہوئی آوارہ لٹوں کو میں اپنی انگشت میں لے کر گھومانے لگا ماہم اس قدر نروس تھی کہ شاید اس سے زیادہ کیا ہوتی ۔۔۔۔۔اس وقت اسکا پورا وجود مارے خوف سے کپکپا رہا تھا ۔۔۔۔
“ک۔۔۔کا۔۔مران “میرے اس قدر قریب آنے پر وہ بے بسی سے اپنا نچلا ہونٹ کاٹتے ہوئے بولی
“جی میری جان ۔۔۔۔۔”میرے اس طرح بے باک کمنٹ پر وہ خاموش ہو گئ اور میں ہسنے لگا ۔۔۔۔
“چپ کیوں ہو گئ ماہم ۔۔۔۔بولو نا ۔۔۔۔ ویسے میں سوچ رہا ہوں اچھا ہے ہم یہیں گاڑی میں بیٹھے رہیں ۔۔۔۔۔ورنہ اندر ریسٹورنٹ میں تمہارے اتنے قریب نہیں آ سکتا ۔۔۔۔۔۔ میں نے ماہم کی لٹ چھوڑتے ہوئے کہا “میری بات پر ماہم نے اپنی سائیڈ کا ڈور کھول لیا ۔۔۔۔اور یہی میں چاہتا تھا کہ میری بات سن کر وہ گاڑی میں نہیں بیٹھی رہے گی۔۔۔۔میں بھی گاڑی سے اترنے لگا جب تک ماہم گاڑی سے نیچے اتری ۔۔۔۔میں ماہم کے پاس پہنچ گیا تھا ریسٹورنٹ میں میں اس کاہاتھ تھامے اندر داخل ہوا ۔۔۔۔۔ذیادہ رش بھی نہیں تھا ایک ٹیبل پر میں ماہم کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔میں نے دو جوس آڈر کیے ۔۔۔۔۔اور ماہم کو پوری دلچسپی سے دیکھنے لگا اب وہ چپ تھی رو نہیں رہی تھی ۔۔۔۔۔مگر اسکی بے بسی اس کی آنکھوں میں صاف نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔
“ویسے اتنی مناسب بھی نہیں ہو تم جتنا میں سمجھتا تھا اس لباس میں تو بہت حسین لگ رہی ہو “میری آر پار کرتی نظروں سے وہ زچ ہونے لگی اس لئے سخت لہجے میں بولی
“پلیز کامران حد میں رہ کر بات کرو “اسکی آنکھوں میں غصہ تھا ۔۔۔میں خباثت سے مسکرایا
“آج جس قدر تم حسین لگ رہی ہو مجھ سے یہ امید مت رکھو کہیں کسی بھی پابندی کا پاس رکھوں گا ۔۔۔۔
“کامران مجھے گھر جانا ہے “
“چلے جاتے ہیں گھر پر بھی ۔۔۔عفان کے ساتھ تو چار چار گھنٹے گزار کر آتی ہو میری باری میں گھر جانے کی بڑی جلدی ہے تمہیں “میری بات سن کر ماہم نے غصے سے اپنا رخ بدل لیا ۔۔۔۔میں نے جیب میں سے انگوٹھی نکالی جو میں نے ماہم کے لئے رونمائی کے طور پر لی تھی میں نے ماہم کا ہاتھ پکڑا تو وہ چونک کر مجھے دیکھنے لگی میں نے انگوٹھی اسکی انگلی میں پہنا دی ۔۔۔۔میری گرفت اسکے ہاتھ پر مضبوط تھی وہ اپنا ہاتھ چھڑوا رہی تھی
“یہ سب کیا ہے چھوڑیں میرا ہاتھ نہیں پہننی مجھے یہ رنگ “میں تلملا کر بولی
“تمہارے لئے ہی لی تھی ۔۔۔۔رونمائی کے تحفے کے طور پر اسے تو تمہیں ہی پہنا تھا ماہم “۔میری بات پر اسکا رنگ اڑنے لگا میں اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر لگا لیا
“یہ کیا بدتمیزی ہے کامران چھوڑو میرا ہاتھ “وہ پوری قوت سے اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی غصے سے لال انگارہ آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگی
“میری رنگ تمہارے نازک اور خوبصورت ہاتھ میں کتنی جچ رہی ہے ماہم ۔۔۔۔۔احسان مانو میرا میرے ہونٹوں نے اسکی خوبصورتی اور بڑھا دی “ماہم کی آنکھوں میں تاسف تھا ۔۔۔۔میں نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا
“میرے لئے اس سے بڑی شرمندگی اور تضحیک کوئی اور نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔”ماہم یہ کہہ کر فورا سے اٹھ کر وہاں سے باہر چلی گئ ۔۔
میری باتوں اور تعریف پر وہ تنگ آ چکی تھی اس لئے مجھے میری حد یاد دلانے لگی ۔۔۔۔۔مگر آج تو میرا دل میرے بس میں نہیں تھا دل چاہتا تھا ساری حدیں پار کردوں یہ کمزور سی لڑکی میرا بگاڑ ہی کیا سکتی ہے ۔۔۔۔۔ جتنی دور میں اسے لے آیا تھا ۔۔۔۔وہ میرے بغیر کہیں جا ہی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔اس لئے مجھے اتنی فکر نہیں تھی ۔۔۔۔۔میں نے بڑی فرصت سے اپنا جوس ختم کیا بل ہے کر کے باہر آ گیا ماہم باہر ہی کھڑی تھی آتی جاتی ٹیکسیوں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔مگر میں جانتا تھا کہ وہ اکیلی بیٹھے گی نہیں ۔۔۔۔۔نا جانے کیوں مجھے اسپر ترس سا آنے لگا۔۔۔۔۔میں نے اسے زچ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔وہ ہاتھ جوڑے میری منت پر اتر آئی میں نے اسے گاڑی میں بیٹھنے کیلئے کہا
۔۔۔۔میراارادہ بھی اسے گھر لے جانے کا ہی تھا مگر ۔۔۔۔۔بے وقت برسنے والی بارش نے ۔۔۔نا جانے مجھ میں کیسا سرور سا پیدا کر دیا تیز بارش گرجتے بادل چمکتی بجلی اور ایک لڑکی میرے برابر میں وہ بھی میرے پسندیدہ لباس کو زیب تن کیے ہوئے ۔۔۔اب میں کوئی فرشتہ تو تھا نہیں ۔۔۔بلکہ شریف انسان بھی نہیں تھا جس کا ایمان کامل اور مضبوط ہو ۔۔۔۔میرے ساتھ ایک مہکتا وجود اپنی پوری رانائیوں کے ساتھ بیٹھا تھا تو میں کیسے فراموش کر سکتا تھا دل کسی اور لہہ پر دھڑکنے لگا تھا جب جب میری ماہم پر نظر اٹھتی مجھ میں عجیب سے خماری سی چھانے لگتی صحیح ہی کہا ہے کسی نے کہ جب مرد عورت تنہا ہوں تو تیسرا شیطان انکے بیچ ہوتا ہے ۔۔۔ میرے اندر بھی اس وقت کچھ ایسے ہی جذبات ابھرنے لگے بلکہ پوری آب و تاب سے مجھ پر حاوی ہونے لگے ۔۔۔میں ایسی ہی کسی نا زینا حرکت کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔۔بادلوں کی تیز گرج چمک سے ڈر کر ماہم نے میرا ہاتھ پکڑا میری نظر اچانک ہی اس پر پڑی تھی مجھے خود کی طرف متوجہ پا کر ماہم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔مگر ماہم سے بات کرنے کا انداز اب میرا بدل چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے گاڑی ایک انجان سے راستے پر ڈال دی ۔۔۔۔سنسان سا علاؤہ اور کافی حد تک خالی بھی تھا ۔۔۔۔۔کچھ ہی دور جا کر ایک زیر تعمیر اپاٹمنٹ میں میں نے گاڑی اندر داخل کی تین تین منزلہ آدھی ادھوری بنی عمارتوں کاسلسلہ جاری ہو گیا میں نے ایک عمارت کے پاس گاڑی کھڑی
******…………
کامران ماہم کو زبردستی اپنے ساتھ ایک ریسٹورینٹ لے گیا تھا ۔۔۔۔۔مگر وہاں اسکی نا زیبا حرکتوں سے تنگ آ کر وہ اکیلی وہاں سے باہر نکل آئی تھی۔۔۔۔اول تو وہاں آبادی بہت کم تھی کیپ ملنا ہی مشکل تھی لیکن اگر اکادکا کوئی کیپ تھی بھی تو اسکے حلیے کو جن نظروں سے کیپ والا دیکھ رہا تھا وہ مزید گھبرا گئ ۔۔۔۔۔۔
“جس حلیے میں تم یہاں کھڑی ہو نا ماہم ڈارلنگ کوئی بھی تمہیں عزت کی نظر سے نہیں دیکھے گا ۔۔۔۔۔اور عین ممکن ہے کہ کیپ والا تمہیں گھر پہچنانے کے بجائے اپنے گھر لے جائے” ۔۔۔کامران اس کے عقب میں کھڑا ہو کر بولا وہ سٹپٹا سی گئ کامران اپنی مخصوص خباثت بھری ہنسی ہسنے لگا اپنی اسقدر بے بسی پر اب وہ رونے لگی تھی
“خدا کے لئے کامران مجھے گھر چھوڑ دو”۔۔۔۔وہ ہاتھ جوڑے اسکی منت کرنے لگی
“جائیں گئے نا سوئٹ ہارٹ ۔۔۔پریشان کیوں ہو رہی ہو ۔۔۔پہلے کھانا کھائیں گئے پھر آئسکریم ۔۔۔۔لیکن فلیور میری پسند کا ہو گا اپنے ہاتھوں سے کھلاؤ گا آج تمہیں ۔۔۔۔اسکے بعد ایک لونگ گ گ۔۔۔۔سی ڈرائیو لیں گئے پھر گھر جائیں گئے۔”۔۔۔۔کامران کی بے حسی عروج پر تھی ماہم کے آنسوں کا بھی اس پر کوئی اثر نہیں تھا ۔۔۔۔۔
“مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔۔مجھے صرف خالہ کے پاس جانا ہے ۔۔۔۔کامران پلیز ۔۔۔مجھے گھر جانا ہے” ۔۔۔۔۔وہ مسلسل روئے جا رہی تھی ۔۔۔آس پاس کھڑی چند گاڑیاں پارکنگ ایریا میں کھڑی تھیں ۔۔۔اور وہاں پر آنے جانے والے جو چند لوگ تھے بڑے مشکوک سے انداز میں یہ سب تماشہ دیکھ رہے تھے کامران کچھ گھبرا گیا کہ کہیں کسی اور مصیبت میں ہی نا پھنس جائے
“اچھا بند کرو یہ رونا دھونا ۔۔۔چلو بیٹھو گاڑی میں” ۔۔۔۔کامران نے سختی سے کہا مگر ماہم کے لئے یہ بھی کافی تھا کہ وہ اسے گھر لے جانے کو تیار تھا ۔۔۔۔
گاڑی چلاتے ہوئے وہ ماہم کو درشتگی سے دیکھتے ہوئے بولا
‘اگر گھر جا کر تم نے اپنا منہ کھولنے کی کوشش کی تو یہ مت بھولنا کہ میں دوبارہ ایسا نہیں کر سکتا ۔۔۔ایک لفظ بھی تم نہیں بولو گی ۔۔۔۔۔جو میں کہو گا تم بس اسی بات کی ہاں میں ہاں ملاؤ گی ۔۔۔۔ورنہ میں کس حد تک گر سکتا۔۔۔میرے خیال سے تم سمجھ سکتی ہو “۔۔۔۔کامران کی سوچ پر اسے افسوس ہونے لگا مگر اسوقت بس ایک بات اہم تھی اور وہ یہ کہ کامران اسے گھر پہنچا دے ۔۔۔۔
“مجھے ہر بات منظور ہے بس مجھے گھر پہنچا دو” ۔۔۔۔۔۔ماہم فوراسے مان گئ ۔۔۔ابھی وہ لوگ میں روڈ پر ہی پہنچے تھے کہ بادلوں کی زور دار کڑک کے ساتھ تیز بارش شروع ہو گئ ۔۔۔بارش اتنی تیز تھی کہ آن ہی آن میں سڑکیں پانی سے بھرنے لگیں ۔۔۔۔بادل کی زور دار کڑک اور بجلی کے تیز لہر سے ماہم کا دل کانپ کر رہ گیا ۔۔۔۔بے اختیار ہی اس نے کامران کا ہاتھ پکڑ لیا جو ہینڈ گیر پر تھا ۔۔۔ایک پل ہی دونوں کی نظروں کا تصادم ہوا تھا ۔۔۔۔اگلے ہی پل ماہم نے اپنا ہاتھ فوراسے ہٹا لیا ۔۔۔۔مگر کامران کی نظریں ماہم پر ہی جمی رہیں
“کیا ہوا ماہم ڈیر ڈر لگ رہا ہے ۔”۔۔۔۔۔وہ پھر سے اپنے اسی مخصوص مضحکہ خیز انداز سے ہسنے لگا ۔۔۔۔
“تو ہاتھ پکڑ لو نا سویٹی کچھ نہیں کہو گا تمہیں “۔۔۔۔۔اسکی ہنسی اسکا یوں دیکھنا ۔۔۔۔ماہم کو بوکھلاہٹ میں مبتلہ کر رہا تھا ۔۔۔۔وہ اپنا رخ کھڑی کی طرف کیے باہر دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔مگر کامران کی نظروں کی تپش اسے اپنے پورے وجود پر محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔
“ماہم کھلے بال بہت جچتے ہیں تم پر” ۔۔۔۔۔ماہم نے فورا سے بال سمیتے ہوئے کہا
“آپ پلیز گاڑی ذرا تیز چلائیں” ۔۔۔۔ماہم اس کی فضول بکواس سنا ہی نہیں چاہتی تھی مگر اسے الٹا جواب دینا اس وقت تو اسکے لئے ٹھیک نہیں تھا اس لئے بات کو بدلنے لگی
“ہمم چلا تو رہا ہوں ۔۔۔۔جانتی ہو کتنی خواہش تھی میری کہ تمہیں دلہن کے روپ میں دیکھوں ۔۔۔۔مگر ہائے ۔۔۔افسوس۔۔۔۔۔ میری قسمت “۔۔۔۔۔۔وہ گہری سانس لیتے ہوئے بولا
“کتنا کچھ کہنا تھا مجھے تم سے کیا کچھ نہیں سوچا تھا میں نے ۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔۔۔”کچھ ثانیے وہ خاموش ہو گیا ۔ایک بھر پور نظر دوبارہ ماہم پر ڈالی ۔۔۔دوبارہ اس نے کوئی بات نہیں کی ۔۔۔۔ماہم نے بھی اسی خاموشی پر سکون کا سانس لیا دل ہی دل میں وہ خیرت سے گھر پہنچ جانے کی دعائیں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔کچھ سفر طے ہوجانے کے بعد گاڑی ایک اپارٹمنٹ کی کے گیٹ کے اندر داخل ہو گئ جو ابھی زیر تعمیر تھا وہاں بہت سی تین منزلہ عمارتیں بن چکی تھیں اور کچھ ابھی بن رہیں تھیں مگر رہائش کہیں نہیں تھیں ۔۔۔۔ اس وقت وہاں ان دونوں کے علاؤہ اور کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔۔وہ کافی بڑا اپاٹمنٹ تھا ہر گلی میں چار چار عمارتوں آمنے سامنے بنی تھیں ۔۔۔۔۔کامران نے بھی گاڑی ایک ویران سی گلی میں ایک عمارت کے سامنے کھڑی کر دی بارش ابھی بھی تیز تھی۔۔۔۔کچھ پل تو ماہم سمجھ ہی نہیں پائی کہ اس نے گاڑی یہاں روکی کس مقصد کے تحت ہے ۔۔۔۔
“کامران ہم یہاں کیوں آئے ہیں” ۔۔۔۔
“نیچے اترو بتاتا ہوں تمہیں ۔”۔۔۔وہ خود بھی نیچے اتر گیا ماہم کے پوچھنے پر بھی اس نے وجہ نہیں بتائی ۔۔۔۔۔بادل نخواستہ ماہم اس تیز برستی بارش میں نیچے اتر گئ ۔۔۔۔سامنے کی اوپر جانے کے لئے سیڑیاں بنی ہوئیں تھیں ۔۔۔ماہم ان سیڑیوں کے سائیڈ پر کھڑی ہو گئ تاکہ بھیگنے سے بچ سکے ۔۔۔۔۔کامران اوپر کا زینہ چڑھنے لگا ۔۔۔۔مگر ماہم وہیں کھڑی رہی اس کا دل ایک انجانی مصیبت کے خوف سے لرز رہا تھا کامران نے جب ماہم کو وہیں کھڑے دیکھا تو غصے سے بولا
“اوپر آؤں ماہم “
“نہیں آؤں گی” ۔۔۔ہمت کر کے وہ بھی چلا کر غصے سے بولی کامران نیچے اتر کر اسکے مقابل کھڑا ہو کر درشتگی سے بولا
“تمہیں اگر گھر جانا ہے تو تم وہی کرو گی جو میں تم کہہ رہا ہوں” ۔۔۔۔
“میں کہیں نہیں جاؤں گی تمہارے ساتھ” ۔۔۔۔اس بار وہ بلند آواز میں چلا کر بولی
“تماشہ مت لگاؤں یہاں پر “۔۔۔کامران نے غرا کر کہا اور ماہم کا ہاتھ پکڑے سیڑیوں کی طرف لے جانے لگا ۔۔ماہم اس سے ہاتھ چھڑواتی رہی مگر کامران کی مضبوط گرفت سے ہاتھ چھڑوانا اس کے لئے مشکل تھا اس لئے اس نے اسکے ہاتھ پر دانت گاڑ دیے
۔۔۔اس وقت اسے اپنی عزت کی فکر تھی ذرا سی بھی کوتاہی اور غفلت اسے خود سے بھی نظر ملانے کے قابل نہیں چھوڑتی ۔۔کامران نے فورا اسکا ہاتھ چھوڑ کر ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر مارا ۔۔۔وہ دور جا کر گری تھی ۔۔۔۔
“جاہل لڑکی” ۔۔۔۔وہ اپنا ہاتھ دباتے ہوئے غصے سے غرایا وہ دوبارہ سے کھڑی ہو گئ وہ بھی اسکے قریب آ گیا
“تو تم عفان کو مجھ پر فوقیت دو گی ۔۔۔۔مجھ پر ۔۔۔۔کامران رضا فاروق پر ۔۔۔۔۔۔ماہم میں تمہیں ایسے ہی تو عفان کا ہونے نہیں دونگا ۔۔۔۔۔اس کا ہونے سے پہلے تمہیں میرا ہونا پڑے گا “۔۔۔۔کامران کی مکرو ہنسی اور باتوں سے ماہم سمجھ گی تھی کہ وہ کوئی غلط ارادہ رکھتا ہے اس کی اصلیت ماہم کے لئے نا قابل فہم تھی ۔۔۔بچپن سے ایک ہی چھت کے نیچے اور ایک ساتھ رہتے ہوئے بھی وہ کامران کے اس روپ سے نا واقف تھی ۔۔۔۔کامران نے اپنا ہاتھ ماہم کی طرف بڑھایا
*******………********……….********……….*
۔۔۔۔۔ سنسان سے اپاٹمنٹ کے سامنے گاڑی کھڑی کی اور ماہم کو اترنے کے لئے کہا بارش بہت تیز تھی ماہم نیچے اتر کر سیڑیوں کی طرف بنی چھت کے نیچے کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔میں اسے اوپر آنے کا کہا اور خود سیڑیاں چڑھنے لگا ۔۔۔۔ میں جانتا تھا کہ میں اس بے عقل لڑکی کے ساتھ کچھ بھی کر گزرو۔ یہ میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی مگر ماہم کے اگلے اقدام نے مجھے حیرت انگیز کر دیا تھا وہ نا صرف مجھ سے چلا کر بات کر رہی بلکہ اس نے مجھے میرے ہاتھ پکڑنے پر میرے ہاتھ پر اتنی زور سے کاٹا کہ بے اختیار میرا ہاتھ ماہم پر اٹھ گیا ۔۔۔۔۔وہ میرے تھپڑ کی متحمل نا تھی اس لئے کچھ دور جا کر گر گئ اس سے پہلے کہ میں اسکے پاس جاتا وہ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔مجھے بری طرح سے نوچا تھپڑ بھی مارا اور دھکا دے کر نا جانے کہاں بھاگ گئ کچھ وہاں اس قدر اندھیرا تھا کہ پل بھر میں وہ میری آنکھوں سے اوجھل ہو گئ ۔۔۔۔ویسے تو مجھے اس پر بے تحاشہ غصہ آیا ۔۔۔۔اگر اس وقت وہ میرے سامنے آتی تو میں واقع اسے چھوڑتا نہیں مگر میں نے خود پر ضبط کیا اور ماہم کو پکارنے لگا ۔۔۔۔مگر جب کافی دیر اسے پکارنے پر بھی اس نے پلٹ کر جواب نہیں آیا تو میں واقع پریشان ہونے لگا تھا اگر ماہم نا ملی تو کیا کروں گا ۔۔۔میں بار بار ماہم سے سوری کرتا رہا یہ بھی کہا میں اسے کچھ نہیں کہو گا گھر بھی لے جاؤں گا مگر وہ میری کسی بات کا جواب نہیں دے رہی تھی ۔۔۔۔۔مجھے اب اسکی فکر ستانے لگی تھی ۔۔۔۔۔میں اب بھاگ بھاگ کر ہر گلی میں ماہم کو پکارنے لگا ۔۔۔۔۔اسکی منتیں کرنے لگا ۔۔۔۔اپنے رویے پر جی بھر کر پچھتا رہا تھا ۔۔۔۔۔نا جانے وہ کہاں چلی گئ تھی ۔۔۔۔۔پاپا تو مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گئے
“ماہم فارگاڈ سیک یار باہر آؤ ۔۔۔۔بائے گاڈ کچھ نہیں کہو گا تمہیں۔۔۔۔ ماہم ۔۔۔۔۔سیدھا گھر لے جاؤں گا پرومس ۔۔۔۔باہر آؤ ماہم۔۔۔۔ تم اکیلی یہاں سے گھر نہیں جا سکتی ہو تم جانتی ہو کس قدر ویران علاقہ ہے یہ ۔۔۔۔ماہم “میں چلا چلا کر ماہم کو پکار رہا تھا سناٹے میں میری آواز دور تک گونج رہی تھی میں ہر گلی کو سہ بار دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔مگر وہ شاید یہاں کہیں نہیں تھی ۔۔۔۔میں گاڑی میں بیٹھ گیا تیزی سے گاڑی باہر لے گیا کہ اگر وہ باہر بھی نکل گئ ہے تو اتنی دور نہیں گئ ہو گی ۔۔۔ میں آس پاس ہر جگہ اسے ڈھونڈتا رہا ۔۔۔۔مگر مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ماہم چلی کہاں گئ تھی ایک تو یہ علاقہ بھی سنسان تھا پھر وہ ویسے بھی اکیلی کہیں آتی جاتی نہیں تھی ۔۔۔۔میری ذرا سی بیوقوفی سے سب گڑ بڑ ہو گئ تھی ۔۔۔پریشانی اور گھبراہٹ سے میرے پسینے بہہ رہے تھے پاپا مما کا خیال آتے ہی مجھے اپنی شامت صاف نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔کافی دیر اسے ڈھونڈنے کے بعد میں تھک ہار کر گھر پہنچا تھا جانتا تھا کہ پاپا اور عفان مجھے چھوڑیں گئے نہیں ۔۔۔۔
*******…………
۔گاڑی اندر پارک کرتے ہی عفان نے میری گاڑی کا دروازہ کھولا اور مجھے گریبان سے پکڑ کر باہر نکالا ۔۔۔۔۔میں نے یہی بہانہ بنا دیا کہ وہ میرے ساتھ آئسکریم کھانے گئ تھی راستے میں گاڑی خراب ہو گئ اس لئے میں مکینک کو ڈھونڈنے چلا گیا جب واپس آیا تا ماہم نہیں تھی ۔۔۔۔۔عفان مجھ سے پوچھنے لگا کہ میں ماہم کو کس علاقے میں لیکر گیا تھا ۔۔۔۔۔میں نے اسے گھر کے قریب ایک علاقے کا بتا دیا عفان فورا سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں پاپا کا ایس ایچ او دوست پہنچ گیا ۔۔۔۔۔میرے اوسان خطا ہونے لگے ۔۔۔۔مما کا رو رو کر برا حال تھا ۔۔۔بار بار مجھ سے ماہم کا پوچھ رہیں تھیں اور میرا جواب وہی تھا ۔۔۔۔اندر سے جان میری بھی نکلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ماہم اسوقت کہاں ہو گی ۔۔۔۔یہ سوچ سوچ کر دل میرا بھی دھل رہا تھا ۔۔۔۔پہلی بار میں ماہم کی خیریت کی دعائیں کر رہا تھا ۔۔۔۔ایس ایچ او نے پاپا اور مما کو باہر بھیج دیا ۔۔۔۔۔اور کمرے کادروازہ بھی بند کر لیا ۔۔۔۔۔میرے ہوش وحواس سب کھونے لگے تھے اندر ہی اندر ماہم کی فکر تھی اور اوپر سے سامنے کھڑے اس ایس ایچ او کی ۔۔۔۔وہ گرجدار لہجے سے مجھ سے بات کا ایک ایک پہلو پوچھ رہا تھا شاید میری ذرا سی غلطی کو پکڑنے یا میرے جھوٹ کو پکڑنے کی کوشش میں تھا شکر ہے کہ عفان آ گیا تھا ماہم بھی قاسم کے ساتھ تھی ۔۔۔اس وقت تو میں نے یہی کہا کہ جب میں مکینک کو ڈھونڈنے گیا ہو سکتا ہے ماہم قاسم اور فاریہ کو دیکھ کر انکے پاس چلی گئ ہو ۔۔۔۔بہرحال بات آئی گئی کر کے میں اپنے کمرے میں آگیا مگر کافی دیر میں یہ سوچتا رہا کہ ماہم قاسم کو ملی کیسے ۔۔۔۔اس بات کی کھوج تو میرے لئے بیکار تھی بس یہ اطمینان تھا کہ ماہم محفوظ ہاتھوں میں ہے
